بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی
کیا ان سے یہ کہوں گا کہ میرا ایک بیٹا ہیجڑا ہے یا کھسرا ہے؟ یا کوئی میری اولاد کی تعلیم سے متعلق سوال پوچھے تو میں ان کو بخوبی جواب دے دوں گالیکن تیرے بارے میں میں کیا بتاؤں؟ جوتمھارا جواب ہوگا میں ان لوگوں کو وہی جواب دے دوں گا۔ میں خاموش کھڑی رو رہی تھی اور اپنے والد اور اپنے بڑے بھائی سے کہہ رہی تھی کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے صرف معافی چاہیے۔ ٹھیک ہے یہ میری غلطی ہے اس غلطی پر آپ لوگ مجھے معاف کردیں۔ آج کے بعد میں آپ کے گھر کبھی نہیں آؤں گی۔ میرا آپ میں سے کسی سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں روتی ہوئی اپنے گھر سے باہر آگئی آنسو میرے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ باہر آتے ہی میں نے ایک رکشہ پکڑا اور سیدھے اپنے گرو کے پاس آگئی۔
گرو ایک تجربہ کار شخص تھا اور وہ اپنی زندگی میں ان چیزوں، مراحل اور کیفیات سے گزر چکا تھا۔ اور اس کے چہرے بشرے سے یہ بھی ظاہر نہیں ہو پاتا تھا کہ گروکھسرہ ہے یا لڑکی۔ لوگ اسے ”اماں“ مخاطب کرتے تھے۔ گرو سب پر نظر رکھتا تھا اور ہماری حرکات و سکنات کو بغور مشاہدے میں رکھتا تھا۔ جب ہم لوگ ایک دوسرے سے مستی مذاق میں ایک حدسے گزر جاتے تھے تو گرو ہمیں ٹوکتا اور کہتا کہ خبردار حد پار نہ کرو۔ یہ کہنے کے بعد گرو دوبارہ ڈائجسٹ پڑھنے میں مشغول ہوجاتا تھا۔
میں واحد تھی جسے گرو فرش کے قالین کے بجائے اپنے پاس پلنگ پر بٹھاتا تھا۔ گرو نے پوچھا کہ سناؤ گھر گئی تھیں گھر میں تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ جواب میں میں نے کہا کہ بہت اچھا سلوک ہوا۔ میرے باپ نے 240 گز کا بنگلہ بھی میرے نام لکھ دیا۔ جبکہ میرا بھائی تو مجھ سے سڑا جا رہا تھا۔ گرو نے میرے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ بیٹا کھانا کھاؤ گے؟ جواب میں میرے چھوٹے بھائی نے جواب دیا کہ ہاں دادی میں کھانا کھاؤں گا۔
(میرا چھوٹا بھائی گرو کو دادی کہہ کر مخاطب کرتا تھا) اس وقت کمرے میں ہم صرف تین لوگ یعنی میں، چھوٹا بھائی اور گرو موجود تھے۔ میرے گرو اٹھے اور فریج میں سے آٹا نکال کر روٹی بنانی شروع کردی۔ میں شیشے میں اپنے بال سنوارنے میں لگ گئی اور میں نے اپنے آپ کو بہت خوش ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن گرو میری جانب دیکھے جارہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ روٹی بنانے میں بھی مشغول تھی۔
میرے چہرے کی کیفیات کو بھانپتے ہوئے اس نے یہ شعر پڑھا۔
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو
یہ سن کر میں اپنے ضبط پر قابو کھوبیٹھی اور زاروقطار رونے لگی۔ مجھے روتے دیکھ کر میرے گرو نے روٹی میرے چھوٹے بھائی کو تھمائی اور میرے قریب بیٹھ کر میرے آنسو پونچھنے لگی اور گلے سے لگا لیا۔ اور مجھے سمجھانے لگی کہ ماں باپ جو بھی بولتے ہیں وہ بچے کی بہتری کے لیے ہی بولتے ہیں ان کا مقصد بچے کا نقصان ہرگز نہیں ہوتا۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آخر مجھے بھی تو بتاؤ کہ ہوا کیا؟ میں نے جواب میں کہا کہ میرے باپ نے اس طرح مجھے پانے گھر بلواکر ذلیل کیا ہے۔
اپنے ہاتھوں میں نوٹو ں کی گڈیاں پکڑ کر مجھے کہا کہ سب کے سامنے ڈانس دکھاؤ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے۔ اور یہ سب کچھ میرے باپ نے میری بہنوں اور بہنوئیوں کے سامنے کیا۔ یہ سن کر گرو نے کہا کہ تیرے باپ نے کچھ غلط تو نہیں بولا۔ اور اگر تمھارا باپ بہت برا ہوتا تو تمھارے لیے الگ فلیٹ کیوں لے کر دیتا۔ میں نے اپنے گرو کو جواب دیا کہ تم سب بڈھے ایک جیسے ہوتے ہو۔ میرے باپ نے میرے گھر میں میری بہنوں اور بہنوئیوں کے سامنے مجھے ذلیل کیا اور سب کے سامنے مجھے ناچنے پر مجبور کیا۔
اب میں اتنی تو بے شرم نہیں ہوں جو اپنے بہنوئیوں کے سامنے ناچوں یا اپنی ماں بہنوں کے سامنے ناچوں۔ گرو نے جواب دیا کہ تم ہمارے سامنے بے شرمی کی تو بات کرو ہی نہیں اگر ہم بے شرمی یا شرم کا لحاظ کرنا شروع ہوجائیں تو ہماری تو روزی روٹی ہی بند ہوکر رہ جائے گی۔ بہت سے لوگ الٹی کھوپڑی کے بھی ہوتے ہیں لیکن جب ان کے گھر اولاد ہوتی ہے تو ہم ان کے گھر بھی جاتے ہیں۔ کوئی ہمارے ساتھ غلط حرکتیں بھی کرتے ہیں ہم جب گھر سے نکلتی ہیں تو شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر نکلتی ہیں۔
اب ہر بندہ تو ہماری عزت نہیں کرسکتا ناں یا ہر بندہ بے شرم بھی نہیں ہوتا ناں۔ مجھے اپنے گرو کی یہ باتیں سن کر غصہ آگیا۔ میرے قریب ہی میرا چھوٹا بھائی روٹی کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسے ٹہوکا دیا اور کہا کہ اٹھ یہاں سے چلیں۔ میں نے اپنے گرو سے کہا کہ تم سب ایک جیسے ہو اور آج کے بعد میرا آپ سے بھی رشتہ ختم ہے۔ کیونکہ مجھے اس حالت میں تسلی دینے کی بجائے آپ الٹا میرے گھروالوں کی سائیڈ لے رہی ہو۔ میرے گرو نے جواب دیا ”Never Mind“ یہ تمھارا اپنا گھر ہے۔ تمھارا دل چاہے تو آؤ اور اگر تمھارا دل نہیں چاہتا تو بے شک نہ آؤ۔ لیکن پھر بھی یہ تمھارا گھر ہے۔
واپس پہنچ کر میں گم سم رہنے لگی اور کسی کے گھر آنا جانا بھی موقوف ہوگیا۔ اختر کالونی میں میری ایک گرو بھائی رہتی تھی۔ ایک دن مجھے ا س کی کال آئی۔ اور اس نے مجھے بتایا کہ ایک ڈرامے میں ایکسٹرا رول کی آفر آئی ہے۔ کیا تم یہ رول ادا کرنے کے لیے تیار ہو؟ اس کے جواب میں میں نے انکار کردیا اور کہا کہ ڈرامے میں ایکسٹرا رول کے طور پر تم ہی کام کرو۔ میں تو نہیں کرتی ایکسٹرا رول۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میری بات تو سن لو۔ میں نے کہا اچھا بتاؤ۔ جواب میں اس نے کہا کہ ابھی تو ڈرامے کے لیے وہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ سلیکٹ کریں گے۔ مجھ سے آٹھ دس لوگ ان لوگوں نے مانگے ہیں۔ ایک تو تم پریشان بہت رہتی ہو۔ تم ایسا کرو کہ میرے گھر آجاؤ۔ ہم دوچار گھڑی بیٹھ کر ہنسیں گے بات چیت کریں گے، اس طرح تمہارا دل بھی بہل جائے گا۔
آخر کار میں نے ڈرامے میں کام کرنے کی ہامی بھرلی غرض میرا ڈرامہ مکمل ہوکر ٹی وی پر چلا اور بے حد مقبولیت حاصل کرنے لگا۔
س: گریا کیا ہو تا ہے؟
ج: دیکھیں جو گریا ہوتا ہے وہ ایک قسم کا دوست ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو جو پیار جو محبت اپنے بہن بھائیوں سے نہیں ملتا، اپنے ماں باپ سے نہیں ملتا، ہم اس پیار اور اس محبت کی توقع گریا سے کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا دوست ہوتا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے سکھ دکھ کی باتیں شئیر کرسکتے ہیں۔ اب اگر میں حسین ہوں میں خوبصورت ہوں اور میرا دوست جس کے پاس میں بیٹھ رہی ہوں، جس سے اپنے دکھ سکھ کی باتیں کررہی ہوں جو میرے اوپر خرچہ کررہا ہے، اب اگر وہ مجھ سے پیار کرنا شروع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مجھے استعمال تو کرے گا، میرے ساتھ ریپ تو کرے گا۔
اب اس خواجہ سرا کی بھی مجبوری ہوگئی۔ جویہ سوچتا ہے کہ یہاں ہر حلالی حرامی آتا ہے یہ میرا دوست طاقت ور ہے یہ میرا دفاع کرے گا، میرا یہ دوست میرے ساتھ بیٹھے گا تو اس کی وجہ سے کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ کوئی میرے ساتھ زور زبردستی کرے یا مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنائے اور نہ ہی کوئی میرے ساتھ بد معاشی کرسکے گا۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے کوئی بات چھپی نہیں رہتی اب تو خواجہ سراؤں پر تشدد ان کا قتل ان سے غنڈہ گردی کی خبریں فوراً منظر عام پر آجاتی ہیں پھر لوگ تعجب سے پوچھتے ہیں کہ خواجہ سرا کا قتل ہوگیا ہے!
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں





Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch
بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.
نرک
آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔
یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔
آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔
آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔
اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔
پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔