بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی


میں نے اپنا ایک گرو چن لیا جس کا نام تھا حاجی بشیر۔ جب ہندوستان اور پاکستان بنا، تب وہ انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئی تھی وہ اردو اسپیکنگ تھی۔ وہ پڑھی لکھی تھی اور جہاں کہیں شادی بیاہ یا بچہ پیدا ہوتا وہ خیرات لینے وہاں پہنچ جاتی۔ جبکہ میں بہت کم جاتی تھی۔ اس کا اس قدر احترام کیا جاتاتھا کہ اس کی چارپائی پر گرو کے سوا کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے شاگرد نیچے فرش پر بیٹھتے تھے۔

اس دور میں ان چیزوں کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا۔ اور ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے گرو کے ساتھ شادی بیاہ کے موقع پر بدھائی وغیرہ لینے کے لیے چلی گئی جس کا میرے گھر والوں کو بھی معلوم ہوگیا۔ ان دنوں ہم اشرف کالونی محمود آباد میں رہتے تھے۔ ایک دن مجھے میرے والد نے فون کیا اور کہا کہ تم کسی دن گھر پر آجاؤ۔ میں نے سنا ہے کہ تم اپنے گرو کے ساتھ جانے لگے ہو اور تمھاری ڈریسنگ بھی بہت خوبصورت ہوتی ہے۔

ہم نے لوگوں کی زبانی تمھاری بہت تعریف سنی ہے۔ اس لیے ایسا کرو کہ تم کسی دن اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر اسی حلیے میں گھر پر آجاؤ۔ ان دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی تھی۔ میں نے چھوٹے بھائی کو ساتھ لیا اور اپنے گرو کے پاس گئی۔ میرے گرو نے حسب معمول میرے چھوٹے بھائی کو بہت پیار کیا پھر مجھ سے پوچھا کہ آج کہاں کی تیاری ہے؟ میں نے اپنے گرو کو جواب دیا کہ آج میرے پپا نے مجھے گھر پر بلایا ہے۔ میرے گرو نے مجھ کہا کہ پاگل مت بنو، اپنے سر کے بال لپیٹو اور ٹوپی سر پرپہن کر سادہ کپڑوں میں چلے جاؤ، اس حلیے میں جانا اچھا نہیں ہوتا۔ ہم ان چیزوں سے گزر چکے ہیں۔ میں نے کہا میں ضرور جاؤں گی۔ گرو نے کہا جیسی تمھاری مرضی، ہمارا کام تھا تمہیں سمجھانا۔

غرض میں نے رکشہ پکڑا اور سیدھی اپنے والد کے گھر پر پہنچ گئی۔ گھر پر پہنچ کر مجھے ایک بڑا دھچکا سا لگا۔ وہاں میری شادی شدہ بہنیں اور ان کے شوہر بھی آئے ہوئے تھے۔ میرے بھائی بھی موجود تھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب چھٹی منانے آئے ہیں۔ میں نے سب کو سلام دعا کی، امی نے مجھے دیکھا تو بہت پریشان ہوگئیں۔ میری بہنیں مجھ سے مل کر خوش بھی نظر آرہی تھیں لیکن تھوڑی سی پریشان بھی لگ رہی تھیں۔ غالباً انھیں آگے رونما ہونے والے حالات کا علم تھا۔

غرض میں نے ان سب سے سلام دعالی اور اپنی امی کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔ میرے والد نے کہا کہ آج میں نے آپ سب کو اس لیے بلایا اور اکٹھا کیا ہے تاکہ دکھا سکوں کہ اس کی (یعنی میری) فیلڈکیا ہے۔ مجھے اپنے والد کی یہ بات سن کر بے حد خوشی محسوس ہوئی کہ میرے باپ نے مجھے مکمل آزادی دے دی ہے۔ میرے والد نے یہ بھی کہا کہ 240 گز کا بنگلہ ہے وہ میں نے اس کے نام پر کر دیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے کاغذات پردستخط کرنے کے لیے کہا، میں نے دستخط کردیے۔ میں بے حد خوش تھی کہ پا پا نے بنگلہ بھی میرے نام کردیا ہے۔

میرے بڑے بھائی نے میرے والد سے کہا کہ پا پا آپ ایک بار پھر سوچ لیں! جواب میں انھوں نے کہا کہ میں کیا سوچوں۔ تم لوگ تو لڑکے ہو اپنا کماتے ہو اپنا کھاتے ہو، تمھاری بہنوں کی شادی ہوچکی ہے صرف یہ باقی رہ گیا ہے۔ کل کو ہماری آنکھیں بند ہوجائیں اور کوئی اسے گھر میں گھسنے دے، کوئی نہ گھسنے دے، کوئی اس سے بات کرنا چاہے یا نہ کرنا چاہے۔ سو گھراس کا ہوگا اس کی مرضی ہوگی کہ تمھیں وہاں رہنے دے یا نہ دے۔ تم اس کے ساتھ اپنا اخلاق اچھا رکھو۔

یہ بات میرے بھائی کو بہت ناگوار گزری جس پر میرے والد نے ان سے کہا کہ تم اپنی زبان بند رکھو۔ یہ گھر میری ملکیت ہے میں اس کا مالک ہوں، یہ میری مرضی ہے کہ میں یہ گھر کسی کے بھی نام کروں۔ اور میں نے یہ گھر اب اس کے نام کردیا ہے۔ اس دور میں ایک ایک روپے کے نوٹ چلا کرتے تھے۔ والد نے سو سوروپے کی گڈیاں نکالیں اور سب کے ہاتھوں میں ایک ایک گڈی دینا شروع کردی۔ میں حیران ہوگئی۔ اس زمانے میں سونی کے ٹیپ ریکارڈر آتے تھے جس میں کیسٹ چلتی تھی باڈی اس کی لکڑی کی ہوتی تھی اس کی آواز بہت اچھی ہوتی تھی۔

انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمھیں کس کے گانے بہت پسند ہیں، میں نے جواب دیا کہ نورجہاں کے، انھوں نے میری والدہ سے کہا کہ اچھا نورجہاں کے گانے لگاؤ۔ ساتھ ہی مجھ سے کہا کہ چلو اٹھو اور اپنی پر فارمنس دکھاؤ۔ مجھے ایک دھچکا سا لگا کہ میری بہنیں، میرے بہنوئی، میرے بھائی بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے سامنے پرفارم کرکے دکھاؤں۔ میں نیچے قالین پر بیٹھ کر رونا شروع ہوگئی میں نے اپنے پا پا سے کہا کہ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔

میرے پا پا نے کہا کہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہمیں بھی تو پتا چلے کہ تمھارے اندر کتنا آرٹ ہے؟ کتنی کوالٹی ہے؟ اور تم رو کیوں رہی ہو؟ تم اپنے گرو کے ساتھ غیروں کی محفلوں میں جا کر ناچ، گا لیتی ہو وہاں تمھیں شرمندگی محسوس نہیں ہوتی، ہم تو سب تمھارے اپنے ہیں۔ اپنوں کے سامنے ناچنے میں تمھیں شرمندگی کیوں محسوس ہورہی ہے؟ جب دوسروں کے سامنے تمھارا کوئی پردہ نہیں ہے تو ہمارے سامنے بھی کوئی پردہ نہیں ہونا چاہیے۔

ذرا ہم بھی تو دیکھیں کہ تمہارے اندر کتنا فن ہے؟ میں نے روتے ہوئے اپنے والد سے کہا کہ نہیں پا پا یہ نہیں ہوسکتا۔ مجھے بنگلہ بھی نہیں چاہیے۔ یہ سن کر میرا بڑا بھائی جو سامنے بیٹھا ہوا تھا بہت خوش ہوا اس نے طنزیہ طور پر کہا کہ ہاں ہاں اب یہاں بھی تو کنجر خانہ شروع کرو ناں اور بورڈ بھی لگواؤ۔ میں چپ تھی، میں نے اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آج کے بعد میرا آپ کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ میں جارہی ہوں۔

میرے والد نے مجھے رکنے کا حکم دیا اور کہا کہ دو منٹ رک کر میری بات سن کر جاؤ اور اپنے ساتھ گھر کے یہ ڈاکومنٹس (کاغذات) لے کر جاؤ۔ میں نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میرے والد نے کہا کہ اچھا میری ایک بات سن کر جاؤ۔ اللہ نے آپ کو ہاتھ پاؤں بھی دیے ہیں۔ جہاں تک تم نے پڑھا ہم نے پڑھا دیا۔ تم نے تعلیم پر دھیان نہیں دیا۔ مدرسے میں تم نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کردیا کہ وہاں تمھیں مولوی صاحب مارتے ہیں ہم نے تمھیں تمھاری مرضی کے مطابق جینے کی اجازت دے دی۔

تمھیں اللہ نے ہر چیز سے نوازا تم اپنی موجودہ فیلڈ میں بھی اپنی مرضی سے گئی ہو۔ میں تمھیں کھسرا یا ہیجڑا نہیں بول رہا نہ تمھیں برا کہہ رہا ہوں کیونکہ ہیجڑوں کو تو ہم اپنے گھر میں بلوا کر ان سے دعائیں کرواتے ہیں۔ مگر مجھے صرف میری ایک بات کا جواب دے کر جاؤ۔ اگر میرا کوئی عزیز یا رشتہ دار مجھ سے میری اولاد سے متعلق سوال پوچھے کہ تمھارا فلاں بیٹا کیا کام کرتا ہے تو میں ان کو جواب دے دوں گا کہ میرا فلاں بیٹا یہ کام کرتا ہے اور فلاں وہاں کام کرتا ہے لیکن اگر کسی نے مجھ سے تمھارے متعلق سوال کردیا تو میں کیا جواب دوں گا؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8

3 thoughts on “بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

  • 14/05/2020 at 9:37 شام
    Permalink

    Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
    logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch

  • 14/05/2020 at 9:46 شام
    Permalink

    بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.

  • 16/05/2020 at 1:29 شام
    Permalink

    نرک

    آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

    یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔

    یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔

    آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔

    آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔

    اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔

    پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔

Comments are closed.