بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی


ہماری بات کے اختتام پر وہ سینیٹرز جن کو ہمارے بل پر اعتراض تھا، انھوں نے ہمارے بل کو نہایت عزت اور احترام سے وصول کیا۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ سر اب آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ جواب میں ان لوگوں نے ہم سے کہا کہ آپ لوگ یہ سوچ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں کہ ہم آپ کے بل کو منظور کروانے کی پوری کوشش کریں گے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہمارا بل سینیٹ سے بھی منظور ہوگیا اور اس کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا۔

س: آپ نے اپنی گفتگو میں لفظ ٹی جیز استعمال کیا اس کے کیا معنیٰ ہیں؟

ج: دیکھیں پہلے لوگ خود کو خواجہ سرا کہلواتے تھے لیکن آج کل انگلش میں اسے ٹی جیز کہا جاتا ہے۔ یعنی ٹرانس جینڈر۔ دیکھیں پہلے شناختی کارڈ جب بنتے تھے تو اس پر لکھا جاتا تھا مرد خواجہ سرا، عورت خواجہ سرا، خنسا خواجہ سرا۔ لیکن اب ڈال دیا ہے ایکس۔ ہم لوگ تو مغرب کی نقل ہی کرتے ہیں یورپی ممالک میں خواجہ سرا کے خانے میں جنس کے خانے میں ایکس ڈال دیتے ہیں۔ وہاں کی نقالی کرتے ہوئے یہاں بھی جنس کے خانے میں ایکس ڈال دیا ہے۔

س: خواجہ سراؤں کے مذہبی عقائد کے بارے میں بتائیں؟

ج: دیکھیں میری بات سنیں خواجہ سرا کے نمائندے کی حیثیت میں آپ کو یہ بات بتارہی ہوں کہ ہم خواجہ سراؤں کا تو یہ عقیدہ ہے کہ جو خواجہ سرا مولا علیؑ کو نہیں مانتا وہ ہمارے نزدیک خواجہ سرا ہی نہیں ہے۔ ہم خواجہ سراؤں میں جو سکھ یا ہندو خواجہ سرا ہوتے ہیں اگر اللہ کی کرم نوازی سے ان کو اپنا گھر ملتا ہے تو وہ مولا علیؑ کے نام کا علم لگاتے ہیں۔ نیاز بھی کرتے ہیں، نذر بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک مولا علیؑ ہی کی ذات ہے جن کی ایک پوری تاریخ ہے اور جنھوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

میرے مولاؑ کی بڑی شان ہے، کیونکہ انھوں نے بہت سی جنگیں لڑیں۔ دیکھیں مولائیوں کا ایک ایسا گروہ ہے جن کے جلوس، جن کی مجلسوں اور جن کی امام بارگاہوں میں اگر ہم چلے جاتے ہیں تو وہ ہم سے یہ نہیں پوچھتے کہ آپ لوگ کون ہیں؟ آپ سنی ہیں یا شیعہ ہیں؟ ہم لوگ نیاز بھی دیتے ہیں، نذر بھی دیتے ہیں اور پیروں اور درباروں کوبھی بہت مانتے ہیں۔ ہم خواجہ سرا، وہاں صرف اپنے لیے دعائیں مانگنے کے لیے نہیں جاتے، اپنے لیے بہت کم دعائیں مانگتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے زیادہ مانگتے ہیں۔

س: آپ کی ورتھ (علاقہ) کون سی ہے؟

ج: میرا علاقہ محمود آبا د، جونیجو ٹاؤن، سی ویو اور کلفٹن ڈیفنس ہے۔ ہمارے سوا ان علاقوں میں کوئی دوسرا بدھائی لینے نہیں آسکتا۔ اگر کوئی آئے گا بھی تو وہ میرے شاگردوں کا شاگرد ہی ہوگا۔ ہمارے علاقے میں اگر کوئی دوسرا خواجہ سرا داخل ہوجائے تو ہماری برادری بیٹھتی ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ یا

تو یہ رول (قانون) ختم کردو اور جس خواجہ سرا کا دل چاہے وہ کہیں بھی، کسی بھی جگہ پر جاکر بدھائی وصول کرسکتا ہے۔ اور یا پھر اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور اسے دوسرے خواجہ سرا کے علاقے میں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔ ہم لوگوں میں جونئیر اور سینئیر کا بہت خیال رکھا جاتا ہے اور سینئیرخواجہ سراؤں کا بہت ادب و احترام کیا جاتا ہے۔

س: آپ نے 2013 ء کے انتخابات میں حصہ لیا یہ تجربہ کیسا رہا؟

ج: 2013 ء میں میں نے الیکشن میں حصہ لے لیا۔ میں نے تو یہ سوچ کر الیکشن میں حصہ لیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہم خواجہ سراؤں کو بھی معاشرے کے دیگر افراد کی طرح برابر کے حقوق دیے ہیں۔ سو میں اس الیکشن میں حصہ ضرور لوں گی۔ میری ساتھی مجھ سے کہتی تھیں کہ جب تم الیکشن میں جیت جاؤ گی تو اپنے مد مقابل فلانے شخص کو تم گالیاں دینا۔ میں نے کہا بھئی میں کسی بندے کو بھلا کیوں گالیاں دوں گی۔ میری ان لوگوں کے ساتھ کوئی لڑائی جھگڑا تو ہے نہیں۔

اگر میں الیکشن جیت جاتی تو گلیوں بازاروں سے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ختم کرواتی۔ پینے کے پانی کے ساتھ سیوریج اور گٹر کی جو لائنیں ملی ہوئی تھیں، ان کو درست کرواتی۔ کے ایم سی ہاسپیٹل کی حالت درست کرواتی۔ اب یہ دیکھیں کہ چنیسر گوٹھ میرا حلقہ انتخاب تھا۔ میری ورتھ بھی ہے جبکہ سڑک پار کرکے ڈیفنس کا علاقہ بھی ہے۔ آپ ڈیفنس میں کتوں کا اسپتال دیکھ لیں اور ہمارے حلقے کا انسانوں کا اسپتال دیکھ لیں، ان کے کتوں کا اسپتال ہم انسانوں کے اسپتال سے بہتر ہے۔

میرے حلقے میں سرکاری اسکولوں کی یہ حالت ہے کہ اسکول کی بالائی منزلوں پر شراب کی بوتلیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں گدھے باندھے جاتے تھے ہیں میرا خیال ہے کہ ان اسکولوں میں آج بھی گدھے ہی بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں ان گدھوں کو اسکولوں سے باہر نکلواتی، پینے کے صاف پانی کا انتظام کرواتی۔ میری لڑائی ان محرومیوں اور نا انصافیوں کے ساتھ تھی۔

س: آپ کو کتنے ووٹ ملے؟

ج: گیارہ سو۔ درحقیقت جیتی تو میں تھی اس حلقے سے۔ چار سال بعد معلوم ہوا کہ اس حلقے میں دھاندلی ہوئی تھی۔ دوران الیکشن مجھے موبائل فون پر دھمکیاں دی جاتی تھیں مجھے کھسرے اورہیجڑے کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا ساتھ ہی کہا جاتا کہ تم رزلٹ نہیں دیکھ پاؤ گی۔ میں کبھی کسی کے گھر سوتی تو کبھی کسی کے گھر رات گزارتی۔ مجھے تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں نے کسی کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہو۔ زندگی میں میری کبھی اتنی بے عزتی نہیں ہوئی جتنی الیکشن کے دوران مجھے ذلت سہنا پڑی۔

ہمارے پاس روپیہ پیسا تو تھا نہیں۔ گھروں میں روٹی پکانے کے بعد جو آٹا بچ جاتا ہم لوگ اس کی لئی (دیسی ساختہ گوند) بنا کر باہر پوسٹر چپکانے جاتے تھے۔ سول سوسائٹی میں سے کسی نے ہم کو پانچ ہزار دے دیے کسی نے ہمیں دس ہزار دے دیے کسی نے دو ہزار دے دیے۔ پھر کسی ہوٹل پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تھے۔ اگر ہماری جیبوں میں پیسے کم ہوتے تو کم کھانے یعنی صرف ایک پلیٹ منگوالیتے اور اسی میں سے تھوڑا تھوڑا کھا لیتے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اس طرح یہ مشکل اور کٹھن وقت کاٹا یہ الگ بات ہے کہ اس دوران مجھے اٹھارہ لاکھ روپے تک کی آفر بھی کی گئی تھی کہ آپ الیکشن میں ہمارے حق میں بیٹھ جائیں۔

اور کچھ لوگ بھی اس سلسلے میں مجھ سے بات کرنے آئے۔ وہ لوگ کہتے کہ اگر با الفرض آپ جیت جاتی ہو تو پھر؟ میں جواب دیتی کہ اگر میں جیت گئی تو میں سب سے پہلے آپ پارٹی والوں کو بلواؤں گی اور یہ کہوں گی کہ مل کر کام کرتے ہیں۔ آپ لوگ اپنا منشور پیش کریں۔ اگر آپ جیت گئے تو میں سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دوں گی اور اپنا منشور پیش کروں گی، میری تو کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ٹی وی چینلز پر جب الیکشن کے سلسلے میں ٹاک شوز پروگرام ہوتے تھے تو میرے ساتھ کوئی بھی سیاست دان بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔

وہ انتہائی سخت وقت تھا میں نے وہ سخت وقت جیسے تیسے گزار لیا۔ میرا موقف یہ تھا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو ایک عام بندہ تو کرسکتا ہے لیکن خواجہ سرا نہیں کرسکتا۔ 2014 ء میں مجھ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے مجھے موبائل پر فون کرکے دھمکی دی گئی کہ آپ ایچ آئی وی پر کھل کر بات کرتی ہیں، کنڈوم اور لبریکینٹ پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ آپ سیکس پر بات کرتی ہیں، آپ نے تو خواجہ سراؤں کو سیکس ورکر بنا کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8

3 thoughts on “بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

  • 14/05/2020 at 9:37 شام
    Permalink

    Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
    logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch

  • 14/05/2020 at 9:46 شام
    Permalink

    بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.

  • 16/05/2020 at 1:29 شام
    Permalink

    نرک

    آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

    یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔

    یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔

    آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔

    آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔

    اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔

    پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔

Comments are closed.