بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی


اب بات وہیں پر آجاتی ہے پچاس علماء کا فتویٰ آگیا ہے کہ کوئی مرد خواجہ سرا عورت سے بھی شادی کرسکتا ہے اور عورت خواجہ سرا مرد سے بھی شادی کرسکتا ہے۔ یہ 2010 ء کی بات ہے۔ میں مولویوں سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ نے دین اسلام اب آکر پڑھا ہے؟ بھائی اگر بندیا رانا کی اس وقت عمر پچاس سال کے لگ بھگ ہے۔ اگر آپ یہ بات پہلے بتا دیتے تو میں تو سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کرلیتی، اور آج میرا بھی شوہر ہوتا۔ میں کیوں اتنے سالوں سے احساس کمتری کا شکار ہوکر ہراسگی میں پھنسی رہی اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ایک بات میں آپ کو بتادوں کہ میں ان علمائے کرام کی بے حد عزت کرتی ہوں جن کے پاس دین اسلام کا حقیقی علم ہے۔ لیکن جس کمیونٹی کے لیے آپ فیصلہ صادر فرما رہے ہیں اگر آپ اس کمیونٹی کو اپنے پاس نہیں بٹھاتے ہیں تو وہاں کلیش پیدا ہوتا ہے۔ اب بہت سارے خواجہ سرا خوش ہوکر میرے پاس آئے اور کہا کہ واہ یہ فیصلہ تو ہمارے حق میں آگیا۔ میں نے ان سے کہا کہ اب تو آپ لوگ خوش ہوناں۔ اب اگر میں ایک تصویر لڑکی کی بنادوں تو کیا لڑکا اس سے شادی کرلے گا؟

نہیں کرے گا۔ بھائی میرے خواجہ سرا تو نام ہی ادھوری چیز کا ہے۔ نہ ہم شادی کرسکتے ہیں نہ بچے پیدا کرسکتے ہیں، نہ کچھ اور کر سکتے ہیں تو پھر کوئی دوسرا ہم سے شادی کیوں کرے گا؟ یہ سلسلہ اگر ایسے شروع ہوجائے تو کوئی بھی ٹی ٹی میرے سر پر رکھ کر مجھ سے نکا ح پڑھوا لے گا۔ میں ایسی صورت میں کیا کرسکتی ہوں کیونکہ میں تو ایک قسم کی جائیداد بن کر رہ جاؤں گی۔ میں نے خواجہ سراؤں سے کہا کہ آپ اگر چاہیں تو اس فیصلے کے حق میں اپنے موقف کو پیش کرسکتے ہیں لیکن میں تو اس فیصلے کے خلاف ہوں۔

یہ تو آپ لوگوں کا شو ق ہے لیکن آپ کا مستقبل کیا ہوگا؟ آپ کہیں رومال کہیں لوگ غبارے بیچتے ہوئے نظر آئیں گے یا گھروں میں جھاڑو پونچھا لگاتے ہوئے نظر آؤ گے۔ کسی کے بچے گودوں میں کھلاتے ہوئے نظر آؤ گے، یا ہانڈی چولھے میں نظر آؤ گے۔ ابھی جو آپ لوگ لہراتی، بل کھاتی پھرتی نظر آرہی ہو ناں، کہ جہاں دل چاہا بیٹھ گئیں جہاں دل چاہا اٹھ کھڑی ہوئیں تو پھر بندہ تو آخر بندہ ہی ہوتا ہے ناں، وہ بولے گا کہ تو میری بیوی ہے، سیدھی ہوجاؤ، یہاں روڈ پر کھڑی کس کے ساتھ باتیں کررہی ہو، پھرآپ کہو گی دفعہ مارو ہم تو نہیں کرتے شادی۔

2014 ء راگنی نام کی ایک لڑکی جو ڈاکو منٹری بنانا چاہتی تھی، اپنی ماں کے ساتھ میرے پاس آئی اور کہا کہ کوئی بھی خواجہ سرا اس کے ساتھ بات کرنے پر تیار نہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آج تک کیا آپ نے ہم کھدڑوں کے لیے بھی کوئی کام کیا ہے۔ ہم لوگ اگر کبھی کسی لڑکے کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے چلے جائیں تو آدھی رات کو ہماری تلاشی لی جارہی ہوتی ہے، منہ پر تھپڑوں کی برسات کی جاتی ہے، خواجہ سرا کو زبردستی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کیا جا رہا ہوتا ہے۔

اس پر کبھی کام کیا ہے؟ تم تو اپنی ڈاکو منٹری فلم امریکہ میں چلاؤ گی یہاں تمہاری ڈاکو منٹری فلم نہیں چلے گی۔ مجھے آپ کے کام سے کیا لینا دینا۔ میری یہ بات سن کر راگنی کہنے لگی کہ جب آپ اتنی بات کرتی ہو تو آپ اپنا ایک ادارہ کیوں نہیں بنا لیتیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں میں اس سے پہلے ایک ادارے والے کے پاس گئی تھی۔ ان لوگوں نے مجھ سے جانتی ہو کیا بولا؟ راگنی نے پوچھا کہ کیا بولا؟ میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ ہیجڑوں پر کام نہیں کرتے۔ میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ لوگ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ کیا آپ لوگ بھی یہ شوق فرمانا شروع ہوگئے ہیں۔ کیا آپ کی بھی ان کے ساتھ سیٹنگ ہوگئی ہے۔

راگنی کی ماں نزہت قدوائی نے کہا کہ میری یہ بیٹی اپنی ڈاکو منٹری فلم مکمل کرے گی اور چلی جائے گی۔ لیکن میں ویف کی ممبر ہوں، میں آپ کا ساتھ دوں گی۔ میں آپ کو ویف کی ممبر بھی بنا لیتی ہوں آپ ہمارے ساتھ کام کریں اور آپ اپنا ایک الگ ادارہ کیوں نہیں کھول لیتیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ یہاں باتیں تو ہر کوئی آکر بنا لیتا ہے لیکن حقیقی ساتھ کوئی بھی نہیں دیتا۔ آپ ڈیفنس میں رہتی ہو سب سے پہلے تو میں آپ کا گھر دیکھوں گی کیونکہ ڈاکومنٹری فلم بنانے کے بعد آپ کہیں غائب ہوجائیں یا مجھے پہچاننے ہی سے انکار کر بیٹھیں کہ میں کون تو کون۔ نزہت آپا بولیں ٹھیک ہے آج شام کو ہمارے گھر آپ کی دعوت ہے، میرے ڈرائیور نے آپ کا یہ گھر دیکھ لیا ہے، شام کو میں اپنی گاڑی کے ساتھ ڈرائیور کو بھیج دوں گی آپ اس کے ساتھ ہمارے گھر تشریف لائیے۔

غرض شام ہوئی تو وعدے کے مطابق ڈرائیور گاڑی لے کر آگیا۔ میں اس کے ساتھ ڈیفنس ان کے گھر گئی۔ ان کے ساتھ کھایا پیا مجھے ان لوگوں کی صحبت بہت اچھی لگی۔ غرض میں نے ان کی ڈاکو منٹری فلم میں کام کرنے کی ہامی بھر لی راگنی نے میرے نام پر ”بندیا چمکے گی“ کے عنوان سے ڈاکومنٹری فلم بنائی۔ میں نے اس ڈاکو منٹری فلم میں ہر چیز بیان کردی۔ جیسے ہمارے ہلکے ہلکے بال ہوتے ہیں، ہلکی ہلکی مونچھیں ہوتی ہیں یا کسی کے گھر بچہ پیدا ہونے پر بھدائی لینے کس طرح جاتے ہیں اور کس طرح بھدائی لیتے ہیں۔

راگنی ایسی طبیعت کی حامل تھی کہ ایک مرتبہ صبح چھ بجے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ میں سوتے سوتے اٹھی اور اس سے کہا کہ کیا مصیبت ہے بھئی۔ یہ تو ایک فری کا عذاب مجھ پر نازل ہوگیا ہے تمہاری صورت میں۔ راگنی مجھ سے کہنے لگی کہ یہی چیز تو میں دکھانا چاہتی ہوں کہ تم جب سوکر اٹھتی ہو تو کیسی لگتی ہو۔ مرتی کیا نہ کرتی۔ یہ سردیوں کے دن تھے اس ڈاکو منٹری کو پورا کرنے میں دس سے پندرہ دن لگ گئے اس دوران ہم نے ایک اور خواجہ سرا کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلیا۔

اس بے چاری کو بھی میں کچھ نہ کچھ معاوضہ دیتی رہتی تھی۔ پھر ہم نے ایک فیملی کو راضی کیا کہ ہم ان کے گھر بدھائی لینے جائیں کہ کیسے بدھائی وصول کی جاتی ہے۔ غرض ڈاکو منٹری مکمل ہوگئی اور راگنی اس ڈاکومنٹری کے ساتھ امریکہ روانہ ہوگئی لیکن اس وقت تک میں نزہت کے ساتھ عورت فاؤنڈیشن جوائن کر چکی تھی۔ میرا ویف میں بھی آنا جانا شروع ہوچکا تھا۔ ویف والوں نے مجھے اپنی تنظیم کا ممبر بنا لیا یہ مجھے بہت اچھا لگا۔ راگنی کی بنائی گئی ڈاکو منٹری امریکہ میں سپر ہٹ ہوگئی۔

2014 ء میں نے، نزہت قدوائی آپا اور راگنی نے مل کر سوچا کہ ہمیں ایک ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ ہم نے اس نئے ادارے کا نام ”Gender Interactive Alliance“ ”جیا“ تجویز کیا۔ اب میں نے یہ محسوس کیا کہ کراچی کے خواجہ سراؤں کے ساتھ جس قسم کے مسائل درپیش آتے ہیں وہ دیگر علاقوں کے خواجہ سراؤں کو پیش آنے والے مسائل سے مختلف ہیں یا دوسرے الفاظ میں سندھ کے خواجہ سراؤں کو ہم سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8

3 thoughts on “بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

  • 14/05/2020 at 9:37 شام
    Permalink

    Akhtar baluch ne hamesha ki taran apne qarien ko aik anoke mozo ka intkjab Kia hy bindia Rana or in ke kabile se wabasta
    logo ki Zindagi ko apne parne waloun ke samne kholi ketab ki taran khol ke samne Rakh Diya hy weldone Akhtar baluch

  • 14/05/2020 at 9:46 شام
    Permalink

    بہت ذبردست کاوش ہے سر، یہ ہمارے معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات ہیں جن کو عام طور پر حکومت، میڈیا اور عوام تینوں ہی عرصہ دراز سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، امید ہے کہ اس انٹرویو کی بدولت عوام کو آگہی ہوگی کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے میں دیگر افراد کی طرح ہر شعبہ ذندگی میں اپنا موثر کردار ادا کر رہے ہیں.

  • 16/05/2020 at 1:29 شام
    Permalink

    نرک

    آج اختر بلوچ بھائی کا انٹرویو جو انہوں نے "بندیا رانا” سے لیا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

    یہ ہمارے معاشرے کا وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس میں اللہ کی بنائی ہوئی وہ مخلوق جو زمانے کے ظلم و ستم اٹھا رہی ہے، جن کو ہر کوئی ناپسندیدہ سمجھتا ہے، کوئی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ہمارے معاشرے میں موجود تیسری جنس کا تذکرہ ہے، ان کا رہن سہن، ان کے مسائل، طور طریقے وغیرہ۔

    یہ اختر بلوچ کا کمال ہے جو معاشرے میں بکھرے ہوئے مختلف طبقات کی زندگیوں کے دکھی گوشوں کو سامنے لاتے ہیں۔

    آج سے چند برس قبل ہم نے ایک خاتون نسیم انجم کو آرٹس کونسل میں دیکھا جو اپنا طبع شدہ ناول "نرک” اہل علم و ادب کو دے رہی تھیں، ان کا موضوع بھی تیسری جنس پر تھا۔ ہمارے خیال میں اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی ناول نہیں لکھا گیا، ہم کو بھی یہ ناول مل گیا، اس میں کردار و واقعات اور ان پر گزرنے والے حالات کا احاطہ بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے، اہل علم و ادب نے اس ناول کو کافی سراہا تھا۔

    آج پھر سے اختر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھا تو اس طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا اندازہ ہوا۔

    اب حکومت نے ان کی بہتری کے اقدامات کئے ہیں جس میں شناختی کارڈ کا اجرا، تعلیم یافتہ امیدوار کے لئے نوکریاں وغیرہ شامل ہے۔

    پہلے وقتوں میں تو یہ ناچ گا کر اپنے اخراجات پورے کرلیا کرتے تھے، لیکن بدلتے حالات کے بعد اب یہ سگنلز پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ کچھ دے دینا چاہیئے، ہم کو تو ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آرہا ہے جب ہم اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہے تھے سگنل پر گاڑی رکی تو یہ آئے اور بڑے مزے سے کہا ارے وحید مراد کچھ دیتے تو جاؤ، ہم نے پیسے تو دے دیئے لیکن ہماری بیگم بہت محظوظ ہوئیں اس بات پر۔

Comments are closed.