ناکام ریاست کسے کہتے ہیں؟

”امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری قوت ہی نہیں ’بلکہ اس کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی کمزور ملک کو اپنی خواہشات کے حساب سے ڈھالنے کی قوت موجود ہے۔ جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے‘ اس قوت کا دوسرے ممالک کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی اخلاقی اصول موجود نہیں ہے۔“ یہ حقیقی الفاظ نوم چومسکی کے ہیں۔ جو حد درجہ قابل احترام ’لائق فلسفی اور امریکی سیاسی دانشور ہے۔ نوم چومسکی امریکا

Read more

ہم قومی مفادات کے سب سے بڑے دشمن ہیں!

جیری اسٹون سے میری واقفیت بالکل واجبی سی ہے۔ آسٹن میں رہنے والا جیری ایک اسپتال میں معمولی سی نوکری کرتا ہے۔ درمیانے سے وسائل کے ساتھ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے۔ ملاقات مکمل طور پر اتفاقیہ تھی۔ ایک دن طے ہوا کہ ہفتے یعنی چھٹی والے دن‘ دونوں شام کو کسی کافی شاپ میں جا کر کافی پئیں گے۔ بتاتا چلوں کہ جیری کو کرنٹ افیئرز جاننے اور پڑھنے کا جنون ہے۔ پاکستان اور دیگر ہمسایہ

Read more

الیکٹیبلز کی ہارس ٹریڈنگ پر کاری ضرب کا موقع

مختار رانا حد درجہ تعلیم یافتہ انسان تھے۔ کینٹ یونیورسٹی لندن سے بین الاقوامی امور میں پوسٹ گریجویٹ اور اس سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ مزدوروں کے مسائل اور ان کو حل کرنے کا جنون انھیں لائل پور لے آیا۔ بائیں بازو کی سیاست سے گہرا شغف تھا۔ شہر کی ایک متوسط آبادی میں ”پیپلز اکیڈمی“ قائم کی جس کا بنیادی کام تعلیم و تدریس تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو، مختار رانا کے خیالات سے

Read more

میرا ووٹ کدھر گیا؟

2018 کا الیکشن جولائی میں ہوا تھا۔ حد درجہ گرمی اور حبس والا دن۔ میرا ووٹ لائل پور میں درج تھا۔ آج بھی وہیں ہے۔ وجہ صرف یہ کہ اپنے آبائی شہر سے کسی صورت تعلق نہیں توڑ سکتا۔ فیصل آباد سے نکلے ہوئے دہائیاں بیت چکی ہیں ’مگر کسی اور شہر سے وہ وابستگی بن ہی نہیں پائی جو اس قصبہ سے قائم ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لیے لاہور سے پولنگ اسٹیشن پہنچا۔ گرین ٹاؤن جسے پرانے لوگ راجہ

Read more

صرف ایک ووٹ

چار مارچ اٹھارہ سو ایک ( 1801 ) کا دن عام سا تھا۔ کسی قسم کی کوئی اہم بات نہیں تھی۔ برصغیر میں مغل دور ختم ہو رہا تھا اور برطانیہ بڑی مضبوطی سے سونے کی چڑیا پر قابض ہو رہا تھا۔ مگر ’اسی برس‘ بلکہ اسی دن یعنی مارچ کی چار تاریخ کو امریکا میں ایک منفرد کام ہو رہا تھا۔ گھوڑے پر سوار عام سے کپڑوں میں ملبوس تھامس جیفرسن ’امریکی صدر بننے کا حلف اٹھا رہا تھا۔

Read more

پرندے اور شکاری

لاہور کا لارنس گارڈن ’دنیا کے باغات میں حد درجہ ممتاز ہے۔ ایک سو چالیس ایکڑ کے اس خوبصورت ٹکڑے پر سیر کرنا بذات خود ایک نایاب تجربہ ہے۔ دو دہائیاں‘ یہاں پیدل پھرتا رہا۔ حتیٰ کہ ایسے محسوس ہونے لگا کہ یہ خطہ سبز میرے وجود ہی کا حصہ ہے۔ وجہ صرف یہ کہ سبزہ و گل تو بہتات سے موجود ہیں ہی ’پر اس کے علاوہ وہ ہزاروں پرندے بھی جو یہاں کے اصل مکین ہیں۔ رنگ برنگے

Read more

تعلیمی جادوگر

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا چھوٹا بیٹا شاہنواز بھٹو ’کیڈٹ کالج حسن ابدال داخل ہوا۔ قانون تھا کہ فرسٹ ائرکے طالب علموں کو علیحدہ کمرہ نہیں دیا جائے گا۔ بھٹو صاحب کا طوطی پورے ملک میں بولتا تھا۔ شاہنواز کو عمر ونگ میں کمرہ ملا۔ ضابطے کے مطابق اس کے دو روم میٹ اور بھی تھے۔ بالکل عام کیڈٹس کی طرح سادہ سی چارپائی جس پر فوم نہیں تھا ’چھوٹی سی الماری‘ ایک عام سی اسٹڈی ٹیبل اور کرسی ’تمام

Read more

عوامی مسائل کون حل کرے گا؟

اس وقت ملک میں جو سیاسی کہرام برپا ہے۔ مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔ دراصل پاکستان میں اس وقت پالیٹکس نہیں بلکہ پاور پالیٹکس (Power Politics) ہو رہی ہے۔ مطلب یہ کہ چند شخصیات کی ذاتی لڑائی ہے جو بھرپور طور پر صرف اور صرف ان کی ذات سے منسلک ہے۔ اس امر کو چھپانے کے لیے بیانات ’پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز کی ایسی گرد اڑائی جا رہی ہے کہ کسی کو سچ کا پتہ نہ چل جائے۔

Read more

ایک بالٹی والا وزیراعظم

نوے برس کے ضعیف آدمی کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔ مالک مکان کو پانچ مہینے سے کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا۔ ایک دن مالک مکان طیش میں کرایہ وصولی کرنے آیا ۔ بزرگ آدمی کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا۔ سامان بھی کیا تھا۔ ایک چار پائی ‘ ایک پلاسٹک کی بالٹی اور چند پرانے برتن ۔ پیرانہ سالی میں مبتلا شخص بیچارگی کی بھرپور تصویر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھاتھا۔ احمد آباد شہر کے عام سے

Read more

سرمایہ کاری صرف خواب ہے!

2018 کا الیکشن ہو چکا تھا۔ عمران خان ملک کے وزیراعظم بن چکے تھے۔ لگتا تھا کہ ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ معلوم ہوتا تھا کہ پاکستان میں خان صاحب ایک ایسی جوہری تبدیلی لائیں گے کہ ترقی کے عرصے سے بند دروازے یک دم اس قوم پر کھل جائیں گے۔ اس ماحول میں یورپ میں عرصہ سے مقیم ایک انتہائی زیرک تاجرنے باہمی دوست کے ذریعے رابط کیا۔ خیر بات چیت شروع ہو گئی۔ وہ تاجر پاکستانی نژاد

Read more

جی ٹی روڈ کا والی وارث کون ہے؟

چند دن پہلے ایک سماجی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے جہلم جاناپڑا۔ جی ٹی روڈ پر سفر کرنے کا اتفاق بہت عرصے بعد ہوا تھا۔ جہلم تک موٹروے کا بھی کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ سیالکوٹ موٹروے سے کسی جگہ پر راستہ جہلم کی طرف بھی جاتا ہے۔ پر سمجھ نہ پایا۔ لہٰذا جی ٹی روڈ پر سفر کرنا لازم ٹھہر پڑا۔ اندازہ تھا کہ دو ڈھائی گھنٹے میں جہلم پہنچ جاؤں

Read more

بیرون ملک سفر اور کورونا کی جھوٹی رپورٹ کی بلیک میلنگ

دوماہ پہلے کووڈ کا زور تھوڑا سا ٹوٹ رہا تھا۔ مگر ائر لائنز کی طرف سے اڑتالیس گھنٹے کی مدت میں کورونا کاٹیسٹ ہونا ضروری تھا۔ دنیا کی تمام فضائی کمپنیاں اس اصول پر من و عن عمل پیرا تھیں۔ ویسے آج کل یہ مدت مزید کم کر کے چوبیس گھنٹے کر دی گئی ہے۔ بہر حال نیویارک سے واپسی پر کورونا ٹیسٹ کے بغیر سفر ممکن نہیں تھا۔ انٹرنیٹ پر ٹیسٹ کرنے والے سینٹر کو تلاش کیا۔ جس فلیٹ

Read more

وڈیوگیمز اور اپنے پورے خاندان کو قتل کرنے والا بچہ

زین، لاہور کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبہ کاہنے کا رہنے والا ہے۔ اسے ہر وقت وڈیو گیمز کھیلنے کا جنون تھا۔ گھنٹوں کمرے میں بند نت نئی گیمز کھیلنے میں مشغول رہتا تھا۔ گھر والوں سے ملنا جلنا بھی واجبی سا تھا۔ کم عمر تھا اور اس کی پوری زندگی اب موبائل پر وڈیوگیمز پر مرکوز ہو چکی تھی۔ اسکول میں کیا ہو رہا ہے۔ تعلیمی نتائج کیونکر اتنے نیچے جا چکے ہیں۔ وزن تیزی سے کیسے بڑھ چکا

Read more

بچے کا سیاسی مستقبل سنور جائے گا!

مئی 2020 میں کورونا ’پوری دنیا کو لپیٹ میں لے چکا تھا۔ متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن ہو چکا تھا۔ زندگی کافی حد تک مفلوج تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے بھی کتراتے تھے کیونکہ کووڈ اس وقت عذاب کی طرح انسانی جانوں پر حملہ آور تھا۔ پوری دنیا میں خوف و ہراس کی فضا تھی۔ تمام ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی سماجی میل جول پر پابندی تھی۔ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن لگ چکا تھا۔ پورا

Read more

ہندوستان ایک دہشت گرد ملک ہے!

ہردوار، دہلی سے صرف ڈیڑھ سو میل دور ہے۔ سترہ دسمبر 2021 سے لے کر انیس دسمبرتک ہردوار میں ایک ہندو کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اسٹیج پر موجود تمام مقررین نے ہندو مت میں مقدس رنگ یعنی گہرے ہلدی والے رنگ کے کپڑ ے پہن رکھے تھے۔ جو ایک کھلے تہبند اور اس کے اوپر ایک چادر پر مشتمل تھے۔ دراصل یہ ہندو جوگیوں اور مذہبی شدت پسندوں کا لباس ہے۔ زعفرانی رنگ کوئی مسئلہ ہے نہ ہی یہ لباس۔

Read more

کاروباری کامیابی کا سپیڈ منی رجسٹر

ایک دوست جس کا تعلق وسطی پنجاب کے مشہور شہر سے ہے، کوئی دس برس پہلے ایک چھوٹی سی ٹیکسٹائل مل کھول لی۔ ایک ڈیڑھ برس کاروبار سمجھنے میں لگا۔ پھر کارخانہ چلنا شروع ہو گیا۔ خوشحالی بھی آ گئی۔ گاڑی بھی بڑی اور قیمتی خرید لی۔ اچانک کاروبار حد درجہ بدحالی کا شکار ہو گیا۔ ہر سرکاری ادارہ چیل کی طرح اس کے کارخانے پر یلغار میں مصروف کار ہو گیا۔ شاید ماس کی تلاش تھی۔ بینک سے قرضہ

Read more

سیاسی خواب کی تعبیر!

مسئلہ سیاست کا ہے ہی نہیں۔ بلکہ اس مشکل کا تو کار زار سیاست سے دور دور کا تعلق نہیں ہے۔ اصل مصیبت تو وہ توقعات تھیں جو موجودہ وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے سے تقریباً دس برس پہلے عام لوگوں کے ذہنوں میں نقش کر ڈالی تھیں۔ اس امر سے بھی کوئی انکار نہیں کہ عوامی جلسوں میں تقریر کرنا عمومی طور پر غیرسنجیدہ عمل ہوتا ہے۔ ہر ایک کو علم ہوتاہے کہ جلسوں میں تقاریر عوام کا دل لبھانے

Read more

کفار کی ٹیلی اسکوپ

25 دسمبر کو سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے۔ اسی سال یعنی 2021 کی گزارش کر رہا ہوں۔ دنیا میں سنجیدہ ترین لوگوں نے اسے کرسمس کا سب سے عظیم تحفہ قرار دیا ہے۔ حقیقت میں یہ پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا نایاب گفٹ ہے جو آنے والی دہائیوں میں شاید تمام علوم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ کائنات کے رموز و اسرار کو بدل سکتا ہے۔ انسانی زندگی میں وہ انقلاب برپا کر سکتا ہے

Read more

نواب واجد علی کم از کم منافق نہیں تھا!

اودھ، برصغیر کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک تھی۔ انگریز اس خطہ کو ہندوستان کی ملکہ کہتے تھے۔ باغات، زرخیز زمین، اناج کی بے پناہ پیداوار ریاست کو بقیہ تمام برصغیر سے ممتاز کرتی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اودھ کی عسکری اہمیت سے بھی واقف تھی۔ انھیں اس امیر حکومت کے لیے ایک ایسابادشاہ درکار تھا جو صرف برائے نام ہو۔ جس کے پاس کوئی اختیار نہ ہو مگر وہ صرف اور صرف تخت نشین رہے۔ ذہن میں یہی

Read more

ثاقب نثار اور مسلم لیگ نون کی کشمکش (قسط اول)

تجسس ضرور تھا کہ ایک فعال سیاسی جماعت کے اکابرین، تمام لفظی اسلحہ، خنجر اور تلواریں لے کر سابقہ چیف جسٹس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ یکہ بعد دیگرے منفی بیانات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ تو یہ شخص، ثاقب نثار خاموش کیونکر ہے۔ سوائے ایک پختہ بیان کے، کہ اس سے منسوب آڈیو، مختلف تقاریر کو جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ریٹائرڈ جج کوئی بات کیوں نہیں کر رہا۔ انھیں ذہنی سوالات کے

Read more

ہم اتنے پسماندہ کیوں ہیں؟

کارلاٹکر امریکی شہر ہوسٹن میں 1959 میں پیدا ہوئی۔ ماں باپ کی باہمی خانگی زندگی از حد خراب تھی۔ بچپن ہی سے کارلا نے گھر میں لڑائی جھگڑے اور فساد کے علاوہ کچھ نہیں دیکھاتھا۔ منفی ماحول نے اس پر حد درجہ نفسیاتی اثر ڈالا۔ دس برس کی عمر میں سگریٹ اور منشیات استعمال شروع کر دیں۔بچپن ہی سے عصمت فروشی کے پیشہ سے وابستہ ہو گئی۔ عین جوانی میں اس سے دو قتل ہو گئے۔ ٹکر نے ایک ہتھوڑے

Read more

خواتین تو قبروں تک میں محفوظ نہیں ہیں!

وسطی پنجاب کے ایک ضلع میں گزشتہ برس چند لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ مقامی قبرستان میں خواتین کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے یہ بالکل تازہ تازہ کھودی گئی ہوں۔ یہ کیفیت مردوں کی قبروں پر نہیں ہوتی تھی۔ پچیس فروری 2020 کو ایک خاتون فوت ہوئی تو حسب روایت اسے پوری تعظیم سے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

دو تین دن کے بعد جب لواحقین قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے تو وہاں حالات دیکھ کر ان کا خون منجمد ہو گیا۔ قبر مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی اور اس میں خاتون کی ڈیڈ باڈی موجود نہیں تھی۔ رشتہ داروں اور عزیزوں کو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ اپنی عزیزہ کی لاش کو قبرستان میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ انھیں کچھ بھی نہ مل سکا۔ رشتہ دار خاتون کی لاش مکمل طور پر غائب تھی۔

قبرستان کے اندر ہی ایک خستہ حال کمرے میں گورکن رہتا تھا۔ سب دوڑے دوڑے اس کے گھر چلے گئے۔ گورکن اس وقت گھر پرموجود نہیں تھا۔ کافی دیر آوازیں دینے کے بعد ایک شخص اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ خاتون کی برہنہ لاش موجود ہے۔ اور ایک بدبخت شخص اس سے جنسی زیادتی کر رہا ہے۔ تمام رشتہ دار اندر آ گئے۔

Read more

سیاست، صاحب اور سانپ

صاحب کا بڑے عرصے بعد فون آیا کہ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ بلکہ دو ہفتے سے یہاں پر ہیں۔ میرے لیے یہ بڑے تعجب کی بات تھی کیونکہ وہ پاکستان دو تین دن سے زیادہ رکتے نہیں تھے۔

حد درجہ امیر آدمیوں میں سے اکثریت، پاکستان میں آنا اور قیام کرنا بہت مختصر سا رکھتی ہے۔ بہرحال صاحب نے کہا کہ دو تین دن کے لیے لاہور آؤں گا۔ ملاقات ضرور ہو گی۔ ٹھیک چار دن پہلے ان کے فارم ہاؤس میں طے شدہ وقت پر پہنچا۔ تو باہر کسی بھی ملاقاتی کی گاڑی موجود نہیں تھی۔ خاموشی ہی خاموشی تھی۔ صاحب کے تمام ملازم غیر ملکی ہیں۔

Read more

پاکستان میں طالبانی نظام چاہنے والوں کے نام

چند برس پہلے سرکاری سطح پر الجزائر جانے کا اتفاق ہوا۔ شمالی افریقہ میں واقع یہ ملک کافی عرصہ تک فرانس کی کالونی رہاہے۔ وہاں فرانسیسی زبان عمومی سطح پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک مکمل سرکاری طرز کا دورہ تھا۔ قاعدے اور ضوابط کے مطابق وہاں کی وزارت خارجہ نے تمام وفد کو دوپہر کے کھانے پر مدعوکیا۔ یہ حد درجہ قرینے اور شائستگی سے بھرپور ضیافت تھی۔ الجزائر کے اعلیٰ افسران جن میں مرد اور خواتین

Read more