لبرل اخلاقیات میں مساوات، آزادی اور انصاف کا مقام

تمام انسان رتبے ، حقوق اور صلاحیت میں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ ہر انسان کو پیدائش میں شناخت کے کچھ رنگ ملتے ہیں۔ کوئی شہر میں پیدا ہوتا ہے تو کوئی گاﺅں میں۔ کوئی امیر کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو کوئی غریب کے گھر میں جنم لیتا ہے۔ انسان جنس کے اعتبار سے مرد یا عورت ہونے پر اختیار نہیں رکھتے۔ ہم اپنے رنگ ، قد اور خدوخال پر اختیار نہیں رکھتے۔ ہم پیدائش کے وقت یہ فیصلہ

Read more

غیرت مند ٹولے اور بے غیرت بریگیڈ کی کہانی

ہمارے ملک میں قدیم اور جدید کی کشمکش میں مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی آئی ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے مرد اور کلرک کے استعارے ایجاد کئے تھے۔ انہیں شکوہ تھا کہ ڈبل روٹی کھا کر خوشی سے پھول جانے والا کلرک جب گھر آتا ہے تو اس کی سکول میں پڑھانے والی بیوی اسے مناسب طریقے سے روٹی پیش نہیں کرتی۔ عبد الماجد دریابادی کبھی خود کو مسٹر کہتے تھے اور پھر مولانا کہلائے۔ ہماری شاعری میں ملا کے استعارے

Read more

پاکستان کے بانی کون تھے اور قبضہ گروپ کون؟

پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا احترام کسی اختلاف سے ماورا ہے۔ البتہ کچھ حلقوں نے قائد اعظم کی ایک تصویر بنا رکھی ہے، قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کی تاریخ کا ایک خاص نقشہ انہوں نے تیار کر رکھا ہے۔ اور انہیں اصرار ہے کہ قائد اعظم کو پان سیگرٹ کی دکانوں پر چسپاں اشتہاری تصاویر کی مدد سے پہچانا جائے۔ تاریخ کا صرف وہی بیان درست تسلیم کیا جائے جس میں ان قدوسی ہستیوں

Read more

دلیل قتل نہیں ہوا کرتی: مکمل متن

  عزیزان گرامی قدر، صحافی اقتدار کے کھیل میں فریق نہیں ہوتا اور اقدار کی کشمکش میں غیرجانبدار نہیں ہو سکتا۔ صحافی کو اس سے غرض نہیں کہ عوام کس جماعت اور کس رہنما کو ووٹ کی امانت سونپتے ہیں۔ صحافی کا کام یہ دیکھنا ضرور ہے کہ ووٹ کا عمل شفاف تھا یا نہیں؟ آئین کی بالادستی برقرار ہے یا نہیں؟ ریاست شہریوں کا تحفظ کر رہی ہے یا نہیں؟ عدالت میں انصاف ہو رہا ہے یا نقشہ نویسی؟

Read more

غیرت، پسماندگی اور احساس گناہ میں تعلق

پاکستان میں غیرت کے نام پر تشدد اور قتل کی معروف وجوہات کیا ہیں؟ ایک خاتون اپنی مرضی سے شریک حیات کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں۔ اسے غیرت کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ ایک خاتون خاندان کی طرف سے زبردستی شادی کی مزاحمت کرتی ہیں تو اسے غیرت کے اصولوں سے انحراف کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ کسی خاتون کے اخلاقی کردار کے بارے میں افواہوں کو غیرت کے منافی تصور کیا جاتا ہے۔ کوئی خاتون اپنے شوہر

Read more

چوہدری نثار کے مشورے، ناجائز تقرری اور غیر کفو منصب

اگلے روز ایک دوست نے از رہ تلطف درویش کے حافظے کی تحسین کی۔ ذرہ نوازی پر اظہار تشکر تو کیا لیکن اپنی کوتاہ علمی کا احساس اس قدر گہرا ہے کہ خجالت ہی کا ساماں ہوا۔ یہ جو لکھنے میں ادھر ادھر کے واقعات جنگل کے اندھیرے میں چہار سو سے یورش کرتے ہیں، یہ حافظہ تھوڑی ہے، یہ تو تلوؤں کے چھالے ہیں، جگر میں بھالے ہیں، بھیروں کی بندش میں درد کے جھالے ہیں۔ 1558 میں مرنے

Read more

فواد چوہدری کا عزم جواں اور خبر پہ اختیار کا موسم

ہرگاہ کہ اقبال کا مصرع اولیٰ پڑھنا دریں حالات ناخوشگوار نتائج کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، معمولی تحریف سے مصرع ثانی ہماری مطلب براری کر سکتا ہے۔ مغرب میں مگر (اصول) مشین بن جاتے ہیں۔ بانگ درا کے اس فکاہیہ قطعے کے دوسرے حصے میں شاعر مشرق نے کیا پتے کی بات کہی ہے۔ رہتا نہیں یاں ایک بھی پلے اپنے، واں ایک کے تین بن جاتے ہیں۔ مغرب اور مشرق میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وہاں فرد

Read more

شجرہ کیسے گم ہوتا ہے؟

ہندوستان اور پاکستان تقسیم ہوئے تو سرحد کے دونوں طرف بہت سا ادب تخلیق ہوا۔ منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی سے لے کر ناصر کاظمی، منیر نیازی، کملیشور، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، خدیجہ مستور، قرة العین حیدر اور عبداللہ حسین تک ایک طویل فہرست ہے جس میں اس عہد ساز واقعے کے سیاسی، معاشرتی، نفسیاتی زاویے کھنگالے گئے۔ 1971ء میں پاکستان دو لخت ہوا تو ہمارے ادب میں حیران کن طور پر بہت کم ردعمل سامنے آیا۔ نامعلوم

Read more

ون یونٹ، اٹھارہویں ترمیم اور دل خانہ خراب کی باتیں

بہت دنوں سے خواہش مچل رہی ہے کہ کچھ زلف کی، رخسار کی بات کی جائے۔ کچھ کنار آب رکناباد و گلگشت مصلیٰ کی حکایت ہو۔ بلبل کہن سالہ اگر اب بھی خوبان چہار دہ سالہ کا ذکر نہیں کرے گا تو رنگا رنگ بزم آرائیوں کی داستان ان کہی رہ جائے گی۔ برہمن کے بت طعنہ دیں گے کہ سیماب کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمر…. یہ اور ایسی ان گنت آرزوئیں سرطاق رکھی ہیں لیکن پت جھڑ کے

Read more

Collaborator کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟

روایت کا تسلسل ایک جمے ہوئے معاشرے کا اشارہ دیتا ہے۔ انتظامی بندوبست، اقدار اور علمی اظہار کے سانچے موجود ہوتے ہیں۔ پیداوار، ہنر اور فنون کی اصطلاحات کا معنی متعین ہوتا ہے۔ مفادات کا توازن استوار ہوتا ہے۔ سطح آب پر گہرے پانیوں جیسا ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ سترہویں صدی کے انگریزی شاعر جان ڈن کو ستاروں کی اتھل پتھل بھی معصوم دکھائی دیتی تھیBut trepidation of the spheres, though greater far, is innocent. ٹھیک دو سو برس بعد

Read more

اسلامی جمعیت نے مجھ پر تشدد نہیں کیا

درویش گریجویشن کی تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا۔ آوارہ خیالی کی کہانیاں گوجرانوالہ سے لاہور پہنچ چکی تھیں۔ مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے۔ جوانی میں کچھ گرم جوشی اور بہت سی نادانی ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کالج ایک ٹیلے پر تعمیر کیا گیا معبد ہے۔ درویش اسے ودیا سر پکارتا ہے۔ یہاں سے کچھ میل دور امرت کا تالاب تھا۔ اسے امرت سر کہتے تھے۔ امرتسر اب بہت دور چلا گیا ہے۔ ودیا سر لاہور

Read more

رحم دل شہزادہ، بے خبر بادشاہ اور مقتول ہرکارہ

عبداللہ حسین کے ناول ’اداس نسلیں‘ کا مسودہ اشاعتی ادارے ’نیا ادارہ‘کے مالک چوہدری نذیر احمد کے پاس رکھا تھا۔ ایک کے بعد ایک صاحب علم کی رائے چلی آ رہی تھی کہ اردو ادب میں ایک معجزہ تخلیق کیا گیا ہے۔ ادھر چوہدری نذیر احمد کا ذہن کاروباری تھا۔ سعادت حسن منٹو کی آنکھیں دیکھ رکھی تھیں۔ کہنے لگے کہ ناول کی ضخامت ساڑھے چھ سو صفحے ہے اور مصنف کی عمر کل تیس برس ہے جس کی کوئی

Read more

مجھے غصہ کیوں نہیں آتا؟

ماہ و سال کی منزلیں اونچ نیچ سے عبارت ہیں۔ کچھ دکھ انسانی بساط سے ماورا ہوتے ہیں۔ اب مٹھی سے گرتی سانس کی ریت کو کوئی کیسے روک سکتا ہے؟ موت برندا بن کے جنگلوں میں اونچی گھاس اور غدار دلدلوں میں چھپا ایک درندہ ہے جو ایک ایک کر کے ہمارے دوست چھین لیتا ہے۔ جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر / وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ ایک روز یہ درندہ ہمیں بھی اٹھا

Read more

وجاہت مسعود کا مسترد شدہ کالم

آج کل ہم کسی قدر سخت موسموں سے گزر رہے ہیں لیکن ہوا میں عجیب مانوس کیفیت ہے۔ ٹھیک چالیس برس پہلے بھی ایسا موسم اترا تھا۔ تب ڈاکٹر انور سجاد نے ایک مختصر سا ناول "خوشیوں کا باغ ” لکھا تھا۔ اس ناول کا بنیادی استعارہ پندرہویں صدی کے ڈچ مصور بوش کی شہرہ آفاق میورل سے لیا گیا تھا۔ باکمال نثر نگار اکرام اللہ نے ایک ناول "گرگ شب” کے عنوان سے لکھا تھا۔ ناول پڑھنے کی زحمت

Read more

پوسٹ کارڈ کا پھٹا ہوا کونا

ہندوستان میں 1857 کے غدر سے پہلے ڈاک اور تار کا بندوبست قائم ہو چکا تھا۔ دلی اور لکھنؤ جیسے مقامات پر محصور برطانوی سپاہ کی کامیابیاں تار کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات کی مرہون منت تھیں۔ آدھی صدی بعد پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو اس میں پندرہ لاکھ ہندوستانی سپاہی شریک تھے۔ قریب 75ہزار ہندوستانی جوان گھر واپس نہیں لوٹ سکے۔ یہ نیلم اور مرجان فرانس کی خندقوں اور گیلی پولی کے میدانوں کی مٹی میں مل

Read more

چھاتہ بردار سیاست اور کلدیپ نیئر کی راکھ

5 اکتوبر 2018 کی سہ پہر برصغیر پاک و ہند میں امن کے استعارے کلدیپ نیئر کی راکھ لاہور میں دریائے راوی کے سپرد کر دی گئی۔ درد مندوں کی ایک مختصر سی ٹولی واہگہ بارڈر سے راوی کے کنارے پہنچی۔ ایک چھوٹی سی کشتی میں بمشکل دس افراد سوار تھے۔ آئی اے رحمان کو کون نہیں جانتا۔ کرامت علی کی خدمات پانچ دہائیوں پر محیط ہیں۔ فارق طارق اور تنویر جہاں پیادے کا دستہ ہیں مگر عمر عزیز کے

Read more

غیر جبری گمشدگیوں کے کچھ اعلانات

خبر کی منڈی میں مندے کا رجحان ہے۔ وجہ یہ کہ حکومت، ریاستی ادارے اور اہل صحافت کچے دھاگے سے بندھے ایک ہی صفحے پہ رکھے ہیں اور اس صفحے پر اس تیزی سے دھول جم رہی ہے کہ سراج اورنگ آبادی یاد آتے ہیں۔ نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی، جو رہی سو بے خبری رہی…. ادھر ادھر سے چھوٹے چھوٹے کنکر تالاب میں گرتے ہیں اور نشان چھوڑے بغیر گمنامی کے پانی

Read more

جواد نظیر اور خبر سے خوفزدہ لوگ

جواد نظیر مر گیا۔ کیا اس اطلاع میں خبر کا پہلو پایا جاتا ہے؟ جواد نظیر اعلی پائے کا نیوز ایڈیٹر تھا۔ اچھا نیوز ایڈیٹر خبر پر ایک نظر ڈال کر سونگھ لیتا ہے کہ اس خبر کے پس منظر میں کون سی خبر ہے اور اس کے بعد کیا خبر آئے گی۔ جواد نظیر کی موت میں خبر نہیں۔ صحافت کے افق پر گردوغبار کی آلودگی نمودار ہوتی ہے تو پاکستان کی صحافت ٹھیک اسی طرح ایک بڑے صحافی

Read more

اقبال کا ایک شعر اور منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘

لاہور سے گرینڈ ٹرنک روڈ پر راولپنڈی کی طرف روانہ ہوں تو کوئی 22 کلومیٹر کی مسافت پر مریدکے کا قصبہ واقع ہے۔ یہاں سے داہنی طرف ایک سڑک نکلتی ہے جو ناروال سے گزرتی ہوئی شکر گڑھ تک پہنچتی ہے۔ کوئی تیس برس گزرے، اس سڑک پر بار بار سفر کرنے کا موقع ملا کیونکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے رزق کا دانہ اس خطے میں رکھ دیا تھا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جہاں دانہ ہو، وہاں

Read more

کوئلوں پر ڈیم فول مہریں اور آرٹیکل چھ کی اشرفی

جلوس شاہی کے چالیس دن مکمل ہوئے۔ جالب نے کہا تھا، اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری / دو روز میں ہم پہ جو یہاں بیت چکی ہے۔۔ حکایت کہنے کا وقت تو خیر جب آئے گا، تو کہنے والے بہت کچھ سنائیں گے۔ ہمارے ساتھ المیہ ہی یہ رہا ہے کہ جب بات کہنے سے کچھ فائدہ ممکن ہو تو زبان بندی کر دی جاتی ہے اور جب ایک مدت گزرنے کے بعد اذن اظہار ملتا ہے

Read more

عوامی سیاست کے خیمے میں مُلا کا اونٹ کیسے داخل ہوا؟

برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد ان کی علمی، تکنیکی اور انتظامی برتری نے مذہبی پیشواؤں کے علمی تبحر، سیاسی بصیرت اور انتظامی اہلیت کا پول کھول دیا۔ مذہبی پیشواؤں نے صدیوں سے علم، حکمرانی اور تقسیمِ وسائل پر آسمانی احکامات کی من مانی تشریح کا قفل لگا کر انسانی امکان کا راستہ مسدود کر رکھا تھا۔ ان تبدیلیوں نے مذہبی پیشواؤں میں ماضی کے جاہ و حشم کے احیا کی خواہش بیدار کی۔ یورپی نوآبادکاروں کی آمد نے

Read more

مریم کی معصومیت، عیسیٰ کا تخت اور چاندی کے تیس سکے

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اکیسویں صدی کے اٹھارہویں برس میں ستمبر کی 14 تاریخ ہے۔ صبح کے ساڑھے چار بجے ہیں۔ پاکستان کی قومی ایرلائنز کا ایک طیارہ بحیرہ عرب کے اوپر محو پرواز ہے اور اس طیارے میں ایک تابوت ہے۔ تابوت میں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، دنیا سے رخصت ہونے والوں کے جسد خاکی رکھے جاتے ہیں۔ ہم سب کو ایک روز دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ موت زندگی کی حتمی حقیقت ہے۔

Read more

شناسا رات ہے اور بے چراغ گلیاں ہیں

ہم تین دوست تھے۔ سون سکیسر سے گلباز خان آفاقی، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے چوہدری ظہور احمد اور تیسرا یہ درویش بے نشاں، سر تا سر گمنام، سکونت آشفتگی۔ شعر کی چٹیک مشترکہ بنائے دوستی تھی اور وہ جو حافظ نے کہا تھا….کہ خالی از خلل است۔ لطف یہ کہ شعر خوانی میں تینوں نے اپنا ایک رنگ پیدا کیا تھا۔ گلباز آفاقی ہاتھ کی تیسری اور چوتھی انگلی میں سستا سگریٹ دبا کر مٹھی بھینچ لیتے اور اس خارا

Read more

کیا جنرل شجاع پاشا نے میمو گیٹ اسکینڈل پر آصف علی زرداری سے معافی مانگی؟

یکم اور دو مئی 2011ء کی درمیانی رات ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور اس حملے میں امریکی فوج کا پاکستان کی حدود میں آ کر کامیابی سے کارروائی کر کے نکل جانا پاکستان کی ریاست بالخصوص فوج کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوبامہ نے پاکستانی وقت کے مطابق قریب صبح آٹھ بجے اسامہ کی موت کا اعلان کیا ۔ اس کے فوراً بعد اس وقت کے پاکستانی

Read more

نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کی کتنی ملاوٹ ہے؟

دریا اپنے طویل سفر میں طرح طرح کے مقامات سے گزرتا ہے۔ تنگ وادیوں سے گزرتے ہوئے شوریدہ موجوں کو سنگلاخ پہاڑوں سے سر ٹکرانا پڑتا ہے۔ میدانی علاقے سے گزرتے ہوئے دریا کا پاٹ چوڑا ہو جاتا ہے۔ موجوں میں ٹھہراﺅ آجاتا ہے اور وہ سہج سبھاﺅ سے کھیتوں کھلیانوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ دریا سے بہت سے ذیلی دھارے اور آبی شاخیں بھی پھوٹتی ہیں۔ تاریخ کے دریا پر کشتی چلانے کی بنیادی مہارت یہی

Read more

اظہار کی آزادی یعنی…. ایک حرف کہ کشتنی

سبحان اللہ۔ ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ ایسے مبارک وقتوں میں سانس لینا نصیب ہوا۔ اگرچہ اس طور پر سانس لینے کے بارے میں شاعر نے کیا اچھا کہا تھا آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ جیسے دہری دھار کا خنجر چلے راولپنڈی میں آٹھ گھنٹے پر محیط بریفنگ سے ہر خاص و عام کو معلوم ہو گیا کہ منتخب حکومت اور ادارے ایک ہی صفحے پر ہیں۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے اس اہم اجلاس کا

Read more

پاکستان ودھوا آشرم نہیں ہے

نومنتخب وزیر اعظم کا قوم سے پہلا خطاب سن لیا۔ ستر منٹ پر محیط اس تقریر کا پہلا تاثر مایوسی اور اضطراب ہے۔ مرکز اور تین صوبوں میں حکومت قائم کرنے والی جماعت کے قائد کا فکری زاد سفر اس قدر محدود اور سیاسی بصیرت کا ایسا پایاب ہونا تشویش ناک ہے۔ بھٹو صاحب نے 20 دسمبر 1971 کی رات پاکستانیوں سے پہلی بار بحیثیت سربراہ مملکت خطاب کیا تھا۔ ہماری تاریخ میں اس سے زیادہ گمبھیر مرحلے کا تصور

Read more

اٹھارہ اگست، انتقال اقتدار اور جمہوریت کی آزمائش

جب یہ کالم اخبار میں چھپ کر آپ تک پہنچے گا تو اٹھارہ اگست، 2018ءکا سورج طلوع ہو چکا ہو گا، نومنتخب حکومت کا پہلا دن۔ ٹھیک دس برس پہلے، اٹھارہ اگست 2008 کی دوپہر فوجی آمر پرویز مشرف نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ایک دن کم نہ ایک دن اوپر، پاکستان میں تیسری مسلسل جمہوری حکومت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہم میں سے بہت سوں کو یاد ہو گا کہ اٹھارہ اگست 2008 کو اپنی الوداعی

Read more

پرانے پاکستان سے بابائے قوم کے نام آخری مکتوب

آج یوم آزادی ہے۔ اتفاق سے اس برس یوم آزادی عین ان دنوں میں پڑا ہے جب نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کی پندرہویں قومی اسمبلی کا افتتاح ہو گیا ہے اور اگلے دو چار روز میں نئی حکومت پوری طرح سے ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ اکیس کروڑ کے اس ملک میں بہت سی آنکھوں میں امید کے دیے جھلملا رہے ہیں۔ آوازوں میں اعتماد ہے، وعدوں پہ اعتبار ہے۔ کسی

Read more

مدیر "ہم سب” کے خلاف بے بنیاد اشتعال انگیزی کی کوشش

میرا نام  وجاہت  مسعود ہے۔ میں 1988 میں صحافت سے منسلک ہوا۔ انگریزی اور اردو زبانوں میں پرنٹ ، الیکٹرانک اور آن لائن جرنلزم  سے وابستہ رہا ہوں۔ فکری طور پر نیشنل عوامی پارٹی کی روایت سے تعلق رکھتا ہوں جسے فروری 1975ء میں خلاف قانون قرار دیا گیا۔ 1986 عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے نام سے بحال کی گئی تو میں اس جماعت میں شامل ہوا۔  1989ء میں عوامی نیشنل پارٹی آئی جے آئی میں شامل ہوئی

Read more

میں ایک ناکام تجزیہ کار کیسے بنا؟

برادر محترم سہیل وڑائچ کے کالموں کا مجموعہ ’پارٹی از اوور‘ نظر نواز ہوا۔ کالم پڑھ رکھے تھے۔ دوبارہ سے پڑھے۔ اور اتفاق دیکھیے، کتابی صورت میں دانش کے یہ موتی عین ان دنوں میں پڑھے جب ملک بھر میں ایک نئی ضیافت کی چاندنی بچھائی جا رہی تھی، شمع دانوں میں روشنی کا اہتمام کیا جا رہا تھا، فیض عام کی مدح میں ساز سُر کئے جا رہے تھے۔ بلوچستان کے صادق اور ڈیرہ اسماعیل خان کے امین مل

Read more

فتح مبین کی شاخوں پہ انگلیوں کے نشاں

یہ فتح مبین کی گھڑی ہے۔ اگرچہ تاریخ کا تفصیلی فیصلہ آنے میں ابھی وقت لگے گا کہ اصل میں جیت کس کی ہوئی ہے اور کس کی ہار۔ جشن کے نقارے پر دن رات کے آٹھوں پہر چوٹ لگ رہی ہے. مہتابیاں پھوٹ رہی ہیں، خانہ زادوں اور نمک پروروں کا جو طائفہ تاریخ میں چوک پہ مٹھائی بانٹتا رہا ہے، آج کل ٹی وی کیمرہ دیکھتے ہی وفور مسرت سے رقص کناں ہو جاتا ہے۔ یہ حیرت اپنی

Read more

برلن، لاہور اور ہماری گلی

پانسہ پھینکا جا چکا ہے۔ صف بندی ہو چکی۔ ٹھیک دس برس پہلے 18 اگست 2008ءکے فورا بعد جو بساط بچھائی گئی تھی، اس کے مہرے چال در چال اپنی جگہ بدلتے اب وہاں پہنچ چکے، جہاں کوئی چاہے بھی تو بازی پلٹنا مشکل ہے۔ 1984ءمیں یوسف کامران کی موت پر جاوید شاہین نے ایک نظم لکھی تھی، آخری دو مصرعوں میں نشتر رکھ دیا تھا۔ ’میں اگر دشت بلا ہی کو الٹنا چاہوں، کون روکے گا مجھے گھر جو

Read more

حوالدار حکم داد اور ایوب دربدر ایک ہی یونٹ کے سپاہی ہیں

یہ انتخابات 2018 سے پہلے آخری کالم ہے۔ کہر آلود چوٹیوں اور دھند میں لپٹی گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے ہم ملکی تاریخ کے گیارہویں عام انتخابات تک آ پہنچے ہیں۔ روایت کے مطابق بنی اسرائیل دو ہزار برس تک صحرا میں بھٹکتے رہے تھے۔ ہماری آزمائش کا آٹھواں عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوی تھا کہ انہیں خالق کائنات نے چنیدہ گروہ قرار دیا ہے۔ ہمارے امتحان کی کوئی الوہی وجہ معلوم نہیں سوائے اس کے کہ

Read more

عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے

انتخابات میں آٹھ روز باقی ہیں۔ الیکشن مہم پر احتساب، غیر سیاسی دستکاری، ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور نگران بندوبست کی ساکھ پر منڈلاتے سوالات چھائے ہیں۔ نواز شریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ پاکستان واپس آ کر جیل چلے گئے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ملک کی جمہوری طاقتیں انتخابات کی شفافیت اور پولنگ کے دوران بے قاعدگیوں کے نتیجے میں ممکنہ انتشار اور عدم استحکام پرتشویش میں مبتلا

Read more

انتخاب 25 جولائی، غیرسرکاری اور حتمی نتیجہ 13 جولائی

آنکھ نے جب بھی رستہ چاہا، پہنچی چھت کے جالے تک۔ آنکھ، ظاہر ہے، بصیرت کا استعارہ ہے۔ تار عنکبوت کہلانے والے چھت سے لٹکے مکڑی کی جالے سے زیادہ بے بضاعت اور کمزور کیا شے ہو سکتی ہے؟ لیکن اس کی طاقت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب کوئی طاقتور شے مکڑی کے جال میں پھنس جائے۔ بانگ درا کی کچھ نظموں کو بچوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ اقبال کی فن کارانہ فریب کاری تھی۔ شجر کی

Read more

جولائی کا الٹرا ساؤنڈ اور اگست کا بلیک باکس

25  مارچ 1969 کی شام تھی۔ اسلام آباد میں ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم ہوئے چار برس گزرے تھے۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن کی نشریات شام ڈھلے شروع ہوتی تھیں اور رات کے پہلے پہر میں ختم ہو جاتی تھیں۔ نشریات ختم ہونے کے بعد ٹیلی ویژن کے اہل کار حسب معمول بڑے دروازے کے پاس کھڑے گھروں کو روانہ ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اچانک قیمتی گاڑیوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ ٹیلی ویژن اسٹیشن میں داخل

Read more

کرپشن کا سوال

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو لاحق کرپشن مالی ہے یا فکری؟ انتظامی ہے یا سیاسی؟ یہ امر تو طے ہے کہ اس ملک میں رہنے والوں کا حال اچھا نہیں۔ ان کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہم ان کے ذہنوں کو تعلیم کی دولت نہیں دے سکے۔ انہیں روزگار کا تحفظ نہیں دے سکے۔ اس ملک کے قوانین اچھے نہیں۔ عورتوں کے لیے اور قانون ہے جب کہ مردوں کے

Read more

فحش اداریہ، گونگا منشور اور سیاسی سائیڈ پروگرام

تین نومبر 2007ءکو سابق محسن قوم پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ آئین معطل کر دیا گیا۔ عدالتوں کے اختیارات سلب کر لیے، اس فرمان شاہی کے ساتھ ایک ضمیمہ اہل صحافت کے نام بھی منسلک تھا۔ حکومت کو اختیار مل گیا کہ جو اخبار یا چینل ناپسندیدہ ٹھہرے، اسے ایک ماہ کے لیے بند کیا جا سکے نیز یہ کہ ایک کروڑ روپیہ جرمانہ کیا جائے۔ معمول کے مطابق اگلی شام میں انگریزی اخبار کے دفتر پہنچا۔

Read more

نواز شریف کو سزا کب سنائی گئی؟ خصوصی تجزیہ

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دس برس قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو بھی مختلف مدت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وکیل صفائی خواجہ حارث کے دلائل پر غور و فکر کے بعد چھ جولائی 2018ء کی سہ پہر سزا سنائی

Read more

محکمہ زراعت آصف زرداری سے ناراض کیوں ہوا؟ خصوصی تجزیہ

عام انتخابات میں صرف تین ہفتے باقی ہیں لیکن پورا ملک بے یقینی کے بحران سے دوچار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے گزشتہ برس "آپریشن گیٹ نواز” کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے نہ صرف یہ کہ متبادل منصوبہ بندی پر پوری توجہ نہیں دی بلکہ آئندہ سیاسی منظر کی تفصیلات میں بھی بہت سے امکانات پر غور نہیں کیا گیا۔ 28 جولائی 2017 کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت نے یکے بعد دیگرے

Read more

تانگہ سوار فرشتے، جیپ بردار جنات اور احسن تقویم مخلوق

  فروری 1997ء کے انتخابات ہونا تھے۔ ایوان صدر میں فاروق لغاری بیٹھے تھے۔ میر مرتضی بھٹو قتل ہو چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو حکومت برطرف کی جا چکی تھی۔ برطرفی کے صدارتی حکم کی فرد جرم میں مرتضی بھٹو کے قتل کا بھی ذکر تھا۔ تب سرے محل کی ملکیت زیر بحث تھی اب ایوان فیلڈ پراپرٹی کی ملکیت کا فیصلہ آنا ہے۔ بے نظیر حکومت کی برطرفی کو عدالت عظمی کے سات میں سے چھ ججوں نے درست

Read more

اسکرپٹ، دستکاری اور دیگر مصنوعات کا گوشوارہ

پانچ برس گزرے ایسے ہی روشن دن تھے، مئی کا سورج آگ برسا رہا تھا۔ گیارہ تاریخ کو عام انتخابات منعقد ہونا تھے۔ نجی ٹیلیوژن چینلز پر انتخابات کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کے لیے الیکشن سٹی سجائے جا رہے تھے۔ ملکی افق پر دو بڑے مسائل درپیش تھے۔ دہشت گردی اپنے عروج پر تھی۔ کم از کم تین سیاسی جماعتوں، اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف دہشت گرد طالبان کی دھمکیاں گولیوں کی تڑتڑاہٹ

Read more

سحاب قزلباش کی محبت اور عمران خان کی آزمائش

انتخاب کا میلہ سج چکا۔ امیدواروں کی کم و بیش حتمی فہرستیں سامنے آ گئیں۔ ٹکٹوں کے لین دین پر لے دے جاری ہے۔ ایک ہنگامہ سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو درپیش ہے۔ ادھر انتخابی مورچوں میں کسی کو اسٹبلشمنٹ ، بیانیہ، معیشت، خارجہ پالیسی، سول بالا دستی اور جمہوریت جیسے سوالات سے غرض نہیں۔ جمہوریت کے بارے میں چوٹی زیریں کے جمال لغاری کی گل افشانی ہم نے سن لی۔ سندھ میں آغا سراج درانی کے مثانے اور

Read more

درون خانہ صداقتیں اور آف شور امانتیں

ترقی یافتہ دنیا کے بیشتر دریا ایسے شفاف ہیں کہ گہرے پانیوں کی تہہ میں پڑے پتھر کا رنگ تک صاف نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں دریا ہو یا ندی نالے، گدلے پانیوں سے ہمارا زیادہ واسطہ رہا ہے۔ بات یہ کہ ہم اصول اور زمینی حقیقت میں تعلق نہیں سمجھتے۔ ہم نے ریل گاڑی سے جے ایف 17 تھنڈر اور ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر تک کا سفر سائنسی فکر اور ٹیکنالوجی کا رشتہ سمجھے بغیر طے کیا ہے۔

Read more

پاکستان میں مادام تساؤ کا کوئی میوزیم نہیں

مادام تساؤ اور ان کے مومی مجسموں کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ اٹھارہویں صدی کے فرانس میں پیدا ہونے والی میری تساؤ نے چھوٹی عمر ہی میں سوئٹزرلینڈ کے ایک ڈاکٹر سے مجسمہ سازی سیکھ لی تھی۔ روسو، والٹیئر اور رابسپیئر جیسی قدآور شخصیتوں کے مومی مجسمے بنائے۔ انقلاب فرانس میں کچھ مدت کے لئے قید رہی، سزائے موت کا حکم تھا۔ کسی طور بچ نکلی۔ یورپ کے مختلف ملکوں میں گھومتی پھری، بالآخر برطانیہ کو مسکن بنایا۔ 1836ء

Read more

ہمارے سیاسی کارکن

کسی معاشرے کا قیمتی ترین سرمایہ اس کے اہل دانش، فنکار اور سیاسی کارکن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی رہنماﺅں کی کمی نہیں اور نہ انہیں تشہیر کی ضرورت ہے۔ سو آج ذکر سیاسی کارکنوں کا ہو گا کہ ایں شکستہ بہایاں متاع قافلہ اند۔ پاکستان میں کچھ سیاسی کارکن بڑی اور کامیاب سیاسی جماعتوں کا حصہ بنتے ہیں اور کچھ چھوٹی چھوٹی گمنام اور مستقل حزب اختلاف میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکن ہوتے ہیں۔ تاہم یہ طے

Read more

خطرہ موروثی سیاست سے نہیں، جمہوری میراث سے ہے

آج ایک ٹیڑھے موضوع سے واسطہ ہے۔ موروثی سیاست، الیکٹ ایبل سیاست دان اور جمہوری ثقافت کے خدوخال پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے جمہوری ارتقا میں 2018کے انتخابات ایک آزمائش کے طور پہ سامنے آ رہے ہیں۔ کیا ہم ان سوالات کا بالغ سیاسی شعور کے ساتھ جواب دے پائیں گے؟ اس سنگلاخ زمین میں قافیہ پیمائی سے پہلے ایک بزرگ کو یاد کرتے ہیں۔ 1946ء کے انتخابات میں مظفر گڑھ سے ایک نسبتاً گم نام

Read more

گل سے کوئی کہے کہ شگفتن سے باز آ

سلطان ناراض ہے۔ جلال پادشاہی کھلے اظہار کی اجازت نہیں دیتا لیکن چتون کہے دیتی ہے کہ تاحد نگاہ پھیلی سلطنت مفتوحہ اور مملکت محروسہ میں کہیں کہیں مزاحمت کے منطقے بدستور موجود ہیں۔ یوں تو یوں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ محل سرا کی منڈیروں پر خوش رنگ پرندوں کے غول یوں اتر رہے ہیں گویا دسمبر 2011 کی یاد تازہ ہو گئی جب چالیس روز کی مختصر مہم میں اصحاب زہد و ورع کے ایک پورے

Read more

پاسٹرناک کی اولگا، املتاس کے پھول اور جمہور کا فیصلہ

سورج کی تپش دھرتی کو جھلس رہی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ ملال میں ہیں کہ املتاس پر ان گنت پیلے پھولوں کی بہار چند روزہ ہے، ادھر لکھنے والے کا دل وسوسوں کی سیخ میں پرو کر انگاروں پر رکھ دیا گیا ہے۔ 2018ء عجیب برس ہے۔ غم ہو، خوشی ہو، کچھ تو ہو، فانی بدایونی کو بھی یہی افسوس تھا کہ مغموم نہیں، مسرور نہیں۔ وجہ عرض کیے دیتا ہوں، امید، خوشی، ملال اور زیاں تو کتاب میں لکھے

Read more

تاریخ کی پیش گوئی کب پوری ہو گی؟

جنرل ضیاالحق اور ان کے رفقا نے پانچ جولائی 1977ءکو اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن جسٹس یعقوب علی خان سے مشاورت کر کے فیصلہ کیا گیا کہ آئین کو منسوخ کرنے کی بجائے تعطل میں ڈال دیا جائے۔ فضل الہی چوہدری اگست 1973 سے صدر چلے آ رہے تھے۔ آئین کے تسلسل کی نمائشی نشانی کے طور پر چوہدری فضل الہی کو صدارت کے منصب پر برقرار رکھا گیا۔ چوہتر سالہ فضل الہی چوہدری کا پارلیمانی تجربہ نصف صدی

Read more

قائداعظم کا نیا پاکستان دیکھ

قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں اسلامیان ہند نے پاکستان حاصل کر لیا تو خواب کی کھیتی پر بہار آگئی۔ یہ خوش خبری موسم گرما کی آندھی کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف پھیل گئی۔ ہمارے قصبے تک بھی پہنچی۔ لڑکے بالے مارے خوشی کے گلی کوچوں میں نکل آئے۔ ہم میں سے جنہیں پاکستان ٹائمز پڑھنے کا موقع ملا وہ انور علی کے ننھا سے ضرور واقف ہیں۔ یوں سمجھئے کہ درجنوں ننھے ناچتے گاتے گلیوں میں نکل

Read more

چار اعشاریہ نو ارب ڈالر کی کرپشن اور ستر برس کا خسارہ

برادرم یاسر پیرزادہ کی علمیت سے جان ضیق میں ہے۔ ہم سادھو سادھارن لوگ ہیں، علم ریاضی میں ہمیں کبھی دعوی نہیں رہا، ہر قسم کا جبر پشت ہا پشت سے برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں البتہ الجبرے کی سہار نہیں رکھتے۔ سپاہ گری کا پیشہ ہمارے لئے باعث عزت رہا ہے۔ دوسرے کھیت کاشت کریں، بستیاں تعمیر کریں، بیوپار کریں، باغ سنواریں، ہم گھوڑے کی پشت پر تلوار سونتے وارد ہوں گے، کچھ برباد کیا، باقی سمیٹ کر

Read more

جادوگر نے لال ٹوپی سے کبوتر نکالا

بھائی اس حکایت کو کان لگا کر سنو۔ یہ کہانی نہیں، کتھا نہیں، داستان نہیں، یہ بزرگوں کی نصیحت ہے۔ فقیر اسے خلق خدا کے فائدے کے لیے عام کرتا ہے۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے کہ ہمارے شہر میں ابتلا کا موسم اترا تھا۔ خرابی کا وقت ہمارے شہر میں اکثر آتا تھا۔ مائیں بچوں کو گھروں میں روک لیتی تھیں۔ گل گوتھنے بچے کلکاریاں مارنا بھول جاتے تھے۔ گبھرو جوان، رگ رگ میں شوخی شرارت بھری تھی

Read more

ریاستی موقف اور انحراف کا کانگو وائرس

میاں نواز شریف نے ملتان میں ایک آدھا ادھورا جملہ بول کر اپنی سیاست ڈبو لی ہے نیز یہ کہ پاکستان کے ریاستی موقف سے انحراف کر کے قومی وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ریاستی موقف کے پشتینی کاریگر اس لطیفہ غیبی پر بے حد خوش ہیں۔ سہمے ہوئے پھیپھڑوں میں حب وطن کی آکسیجن بھر گئی ہے، بیان پہ بیان اور کالم پہ کالم اس تیزی سے نازل ہو رہے ہیں جیسے افطاری کے وقت حلوائی ترتراتے ہوئے

Read more

ہجرت کے آداب اور تاریخ کی چک پھیری

ہماری تاریخ تو گویا بیوہ کی جوانی ٹھہری، موسموں کے آنے جانے میں اس دکھ کا مداوا تو ممکن نہیں جو پس عمر رواں ٹھہرا ہوا ہے۔ کچھ وقفے البتہ ایسے ضرور مل جاتے ہیں جہاں، بقول فراق گورکھپوری، ذہن سانس لیتا ہے۔ تاہم آج کل قوم اوبھی اوبھی سانسیں لے رہی ہے۔ یاد رہے کہ حالات کا تقاضا ان دنوں یہ بھی ہے کہ سانس لوں تو فضا کو دھواں دھواں نہ کروں۔ اس لئے پہلے کچھ ذکر ڈاکٹر

Read more

غداری کی فرد جرم یا نمک حرامی کا نوحہ

ایک اچھا صحافی فرمان کے تابع ہوتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا کہ صحافی کی قوت شامہ ایسی حساس ہونی چاہئیے کہ صاحب حکم کی منشا سمجھ سکے۔ کان کی تربیت ایسی ہو کہ لان میں اگتی گھاس کی آواز بھی سن سکے اور آنکھ ایسی عقاب کہ پریس ریلیز اور ٹویٹ میں الجھ کے نہ رہ جائے، اپنے دانہ ہائے رزق پر نظر رکھے۔ ممنوعہ موضوع سے گریز کرے اور جہاں اذن اظہار ملے، ایسی

Read more

طوفان کے مرکز میں…. خاموشی کا کانسرٹ

”ٹی ہاؤس میں ایک تختی نصب کر دی گئی۔ ’حضرات سیاسی گفتگو سے اجتناب کریں‘۔ شام کو میں ٹی ہاؤس پہنچا تو معمول کے خلاف خاموشی کا سماں تھا۔ باتیں ہو رہی تھیں مگر احتیاط کے ساتھ۔ کوشش تھی کہ مارشل لا کو موضوع بحث نہ بنایا جائے۔ مگر پھر یوں ہوا کہ کسی نے مارشل لا پر کوئی اڑتا سا تبصرہ کیا۔ کسی نے گول مول فقرہ کہا۔ کسی نے اشاراتی انداز میں کوئی بات کی۔ رفتہ رفتہ حجاب

Read more

نارووال میں اسکائی لیب اور ہمالیائی مخلوق کے نقوش پا

موضع چکری تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے سیاستدان چوہدری نثار علی خان علم سیاست میں میرے جیسے ان گنت طالب علموں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کی شخصیت میں چھوٹو رام، چوہدری شہاب الدین، چوہدری خلیق الزماں اور مشتاق گورمانی جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کی صفات یکجا ہو گئی ہیں۔ پرانے زمانے میں سیاست دان بیان جاری کیا کرتے تھے۔ سیاسی رہنما کے بیان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ

Read more

جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار

کچھ عرصہ قبل مجھے گجرات یونیورسٹی میں جانے کا موقع ملا۔ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع گجرات یونیورسٹی ایک صوفی درویش حافظ حیات کی درگاہ کے احاطے میں واقع ہے۔ نشست کے اختتام پر ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ایک سوال کیا۔ سوال میں اس قدر اخلاص تھا کہ مختصر طور پر یہی عرض کی کہ میں اپنا نقطہ نظر لکھ کر پیش کروں گا۔ سوال کرنے والی خاتون صحافت اور ابلاغیات کی استاد پروفیسر ثوبیہ عابد

Read more

پراگ میں معلق فرائیڈ، منقسم پارلیمنٹ اور کیپٹن صفدر

حسن مجتبیٰ سے بالمشافہ ملاقات نہیں رہی۔ کوئی پندرہ برس پہلے انہیں پڑھنا شروع کیا۔ لکھا ہوا لفظ ایسی کیفیات بھی بیان کر دیتا ہے جو روبرو ملاقات میں اوجھل رہ جاتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ظفر یاب احمد ، سیدہ دیپ ، حیدر رضوی اور جوہر میر والے قبیلے سے ہیں۔ پتا ٹوٹا ڈال سے، لے گئی پون اڑا۔ ہمیں تو ابھی امین مغل اور منور مسعود کی وطن بدری کا ملال نہیں بھولا۔ پیدا کئے تھے چرخ نے

Read more

گیارہ نکات جو عمران خان بھول گئے

عمران خان بنیادی طور پر مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ولولے کی بھی ان میں کمی نہیں۔ 29 اپریل کی شام وہ آئندہ انتخابات کے لیے باقاعدہ طور پر میدان میں اتر آئے۔ اس جلسے میں شریک افراد کی تعداد پر بحث لاحاصل ہے۔ پاکستان میں جلسوں اور انتخابی نتائج میں مطابقت کی روایت نہیں ہے۔ عمران خان نے اس جلسے میں گیارہ نکات پیش کیے۔ عام توقع تھی کہ پاکستان کی قسمت بدلنے کا دعوی کرنے والا رہنما ملک کو

Read more

میکسم گورکی ، نظریاتی ریاست اور قومی مفاد

فیض نے کہا تھا ، یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم۔ فیض صاحب سے پہلے ژاں پال سارتر نے فرانس پر نازی قبضے کے دوران کہا تھا کہ ہم کبھی اس قدر آزاد نہیں تھے جتنا آزاد ہم نے خود کو جرمن قابض فوج کی موجودگی میں مزاحمت کے دوران پایا۔ دانش کا امتحان یہی ہے کہ حاکمیت جب اپنے آہنی پنجے ظاہر کرے تو سر جھکانے سے انکار کر دیا جائے۔ آمریت انسانی امکان کی نفی کا نام

Read more

خلق خدا کی ، ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا

الحمدللہ، ملک کے حالات معمول پر ہیں۔ بلوچستان میں نہ صرف یہ کہ فراری اور سرمچاری بغاوت کچل دی گئی ہے بلکہ جمہوریت کے بنتے بگڑتے نقشے میں بلوچستان کو کلیدی اہمیت حاصل ہو گئی ہے جیسا کہ ہر باشعور نے سینٹ کے انتخابات میں بچشم خود ملاحظہ کیا۔ پختون خوا میں امن بحال ہو چکا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ کی تعمیر جاری ہے جب کہ بندوبستی علاقوں میں پشاور کی میٹرو تعمیرات کی تاریخ میں ایک نیا

Read more

میشا شفیع کی طرف سے جنسی ہراسانی کا الزام اور "ہم سب” کا موقف

معروف اداکارہ، گلوکارہ اور ماڈل میشا شفیع صاحبہ نے پاکستان کے ایک معروف گلوکار اور اداکار محترم علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے ایک فورم پر الزام لگایا ہے کہ علی ظفر نے ایک سے زائد بار انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے تاکہ

Read more

چوہدری الکٹا بول کی روئی آگ کیوں پکڑتی ہے؟

مشتاق احمد یوسفی نے "زرگزشت” میں کہیں لکھا ہے کہ بینک کے اہلکار قرضہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ منڈی میں بھاؤ گرنے پر سیٹھ کی روئی آگ تو نہیں پکڑتی؟ ہوتا یوں ہے کہ سیٹھ گدیلے والا نے بینک سے قرض لیا، مال گودام میں رکھوایا، منڈی میں بھاؤ گرے تو اللہ کی قدرت کہ روئی کو آگ لگ گئی۔ سیٹھ نے دیوالیہ نکال دیا۔ قرض بے باق ہو گیا۔ جملہ مال اسباب کا بیمہ پہلے

Read more

پارٹی از ناٹ اوور

گذشتہ برس بائیس جون 2017 کو برادر محترم نے ایک موقر معاصر میں کالم لکھا۔ عنوان تھا، پارٹی از اوور۔ اس کالم میں خبر دی گئی تھی کہ فیصلہ کرنے والوں نے مئی 2013 میں بچھنے والی بساط لپیٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اگست 2017ءمیں کسی بھی وقت کوچ کا نقارہ بجا دیا جائے گا۔ اس کالم پر بہت لے دے ہوئی۔ صحافی کو اپنی خواہشیں بیان کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ واقعہ خوش گوار ہو یا بدشگونی

Read more