گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں چودہ کروڑ افراد پیدا ہوئے۔ انہوں نے طلبا یونین کی شکل نہیں دیکھی۔ یہ ضیا الحق کو مجاہد، بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک، نواز شریف کو بزنس مین، خورشید شاہ کو میٹر ریڈر اور اچکزئی کو غدار سمجھتے ہیں۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ اردو کے نصاب، تاریخ کی کتاب اور اسلامیات کے قاعدے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جغرافیہ اس نسل نے نہیں پڑھا۔ یہ نسل دانشور کو گالی اور کتاب کو وقت کا زیاں سمجھتی ہے۔
گلی گلی میں خوش خوراکی کے انوکھے انوکھے ٹھکانے دریافت کرتی ہے۔ پورے سال میں چند ہفتوں کی جبری پابندی چھوڑ کر شادیوں کا سیزن مناتی ہے۔ جگاڑ میں اس نسل نے درک پایا ہے۔ یہ نسل تبدیلی چاہتی ہے۔ نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے۔ چند سال پہلے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پلکوں میں جگہ دیتی تھی۔ اب عمران خان کے جاں نثاروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دو ٹوک نسل ہے۔ سوشل میڈیا میں کوئی بات پسند نہ آئے تو بلا تامل مخاطب کو صیغہ واحد میں دشنام لکھتی ہے، کبھی کھلی گالی دیتی ہے اور کبھی گالی کی عام فہم تشریح۔
Read more