نواز شریف کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟

زندگی ایک نعمت ہے۔ ہونے اور نہ ہونے کا ایک وقفہ ہے جو بن مانگے عطا ہوا، جس میں ہری گھاس، ٹھنڈے پانی، آسودہ دھوپ اور بارش کی پھوار جیسی لطافتوں کا لمحوں میں پرویا ہوا ایک منظر سا آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ اور پھر وہی جو مجید امجد نے کہا تھا۔ میں کل ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا؟ زندگی وقت کے جس منطقے میں ملے، زمیں کے جس ٹکڑے پر نصیب ہو، جینے والے کا

Read more

عاصمہ جہانگیر سے ملالہ یوسف زئی کے کشمیر تک

آج آپ کو ایک راز کی بات بتائی جائے۔ درویش کالم لکھنے سے پہلے ہاتھ منہ دھونے کا التزام کرتا ہے۔ یہ ایک علامتی فعل ہے۔ لکھتے ہوئے انسانی زندگی کی غلاظتوں، محرومی کی بے بسی، تشدد کی درندگی، اقتدار کی لغویت، ظلم کے ننگ، جبر کی جہالت اور جہالت کی کم مائیگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ لکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ فعل پر توجہ رکھے اور جہاں تک ہو سکے، کمینگی کا ارتکاب کرنے والوں کی ذات

Read more

شعر دولخت اور کالم بے ربط کیسے ہوتے ہیں؟

دوسری جنگ میں جرمن قبضے کے بعد فرانس کے بے شمار شہری جان بچا کر ادھر ادھر نکل گئے۔ ایک جلاوطن مصنف نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ زیر زمیں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے فرانسیسی زبان میں اگلے اسٹیشن کی آمد کا اعلان سنائی دیتا تھا تو بے اختیار آنسو نکل پڑتے تھے۔ جس نے آئرلینڈ کے جنگلوں میں زمیں پر بچھے چوڑے پتوں کے فرش پر محبت کرنے والوں کی آہٹ نہیں سنی، وہ جیمز جوائس کو کیسے سمجھے گا؟ کبھی امین مغل سے پوچھیے گا کہ 35 برس کی بے وطنی کے بعد چونا منڈی کی گلیاں خواب میں کس رنگ سے ظاہر ہوتی ہیں؟

Read more

اسم ضمیر غائب اور قومی گرامر کے دیگر مسائل

اس سے پہلے کہ آوازوں کا رزق چھن جائے، قلم کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، کیمرا ضبط کر لیا جائے، آنکھ پر پردہ ڈال کر نظر کی حد لگا دی جائے، مشاہدے اور بیان میں ربط ختم ہو جائے، واقعے اور گواہی میں کار سرکار کی خلیج حارج ہو جائے، مفاد کی مقراض سے قطع و برید کے بعد بچ رہنے والا ادھورا موقف سیل بلا کے تھپیڑوں کی مانند زبانوں پر جاری ہو لیکن دلوں کی کھیتیاں خشک

Read more

مہوش حیات کے مہذب لباس پر بھی بے جا تنقید: پاکستان کی خدائی فوجدار نسل چریا ہو گئی

معروف اداکارہ مہوش حیات نے انسٹا گرام پر اپنی کچھ تصویریں شیئر کی جسے دیکھ کر پاکستان کا سوشل میڈیا طبقہ بھڑک اٹھا اور اداکارہ کو شدید اور بے سروپا تنقید کا نشانہ بنا دیا۔ تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی اداکارہ مہوش حیات نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر مداحوں سے شیئر کی۔ اس تصویر کو دیکھ کر پرستاروں نے ان کے لباس کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ اس وقت اداکارہ مہوش حیات امریکا

Read more

عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

پاکستان کے 22 کروڑ باشندوں کو انسانیت کے معاشی، سیاسی اور علمی اثاثوں سے اپنا حصہ لینا ہے اور یہ ہدف اسلام آباد میں کسی کٹھ پتلی کھیل کا حصہ بننے سے حاصل نہیں ہو گا۔ ہمارے پاس آئین کی کتاب ہے، پاکستان کے باصلاحیت شہری ہیں اور ہماری پشت پر تاریخ کا گراں مایہ سیاسی سرمایہ ہے۔ ہمیں دھرنے کی نہیں، دستوری پیش قدمی کی ضرورت ہے۔

 

Read more

محترم چیف جسٹس: اے گل تازہ بہت دیر لگا دی تو نے

ہم تاریخ کے جھٹپٹے میں ہیں۔ اندھیرے اور روشنی کے کھیل میں وہ نقطہ جہاں دونوں وقت آن ملا کرتے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مگر مشکل ہے کہ ہم دن کا سفر ختم کر کے ایک طویل رات میں داخل ہو رہے ہیں یا رات کٹ رہی ہے اور بھور اجالا اپنی چھب دکھلانے کو ہے۔ اگر رات آن پہنچی تو اس رات کی آنکھوں میں شناسائی بہت ہے؛ اور اگر دن نکلنے کو ہے تو صف دشمناں کو خبر

Read more

ڈنمارک کی ریاست: جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا

ہم میں سے کون ہے جس نے شیکسپیئر کا شہرہ آفاق ڈرامہ ہیملٹ نہیں پڑھا۔ ڈنمارک اور ہمسایہ ملک ناروے کی ریاستوں میں جھگڑے کی ایک تاریخ چلی آ رہی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف خون بہانے کی روایت قائم ہو چکی ہے۔ کچھ مدت ہوئی، ناروے کا بادشاہ مارا گیا تھا اور حال ہی میں ڈنمارک کا تاجدار قتل ہوا ہے۔ قاتل نے مقتول کی بیوہ سے شادی کر لی ہے اور تخت پر قابض ہو گیا ہے۔ قتل

Read more

اپنا اپنا چھ ستمبر

آج چھ ستمبر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس برس یوم دفاع کو یکجہتی کشمیر سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ 8 اگست 1965 کو پیر پنجال کی پہاڑیوں سے شروع ہو کر 10 جنوری 1966 کو تاشقند کی میز پر ختم ہونے والی جس لڑائی سے یہ دن منسوب ہے، اس کی چنگاری کشمیر کے چناروں ہی سے پھوٹی تھی۔ خیر یہ تو ہوتا ہے۔ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت۔ اور اب تو ایسا زمانہ آن لگا کہ

Read more

سچا میڈیا، دوٹوک نوجوان اور خاموشی کی سازش

گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں چودہ کروڑ افراد پیدا ہوئے۔ انہوں نے طلبا یونین کی شکل نہیں دیکھی۔ یہ ضیا الحق کو مجاہد، بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک، نواز شریف کو بزنس مین، خورشید شاہ کو میٹر ریڈر اور اچکزئی کو غدار سمجھتے ہیں۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ اردو کے نصاب، تاریخ کی کتاب اور اسلامیات کے قاعدے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جغرافیہ اس نسل نے نہیں پڑھا۔ یہ نسل دانشور کو گالی اور کتاب کو وقت کا زیاں سمجھتی ہے۔

گلی گلی میں خوش خوراکی کے انوکھے انوکھے ٹھکانے دریافت کرتی ہے۔ پورے سال میں چند ہفتوں کی جبری پابندی چھوڑ کر شادیوں کا سیزن مناتی ہے۔ جگاڑ میں اس نسل نے درک پایا ہے۔ یہ نسل تبدیلی چاہتی ہے۔ نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے۔ چند سال پہلے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پلکوں میں جگہ دیتی تھی۔ اب عمران خان کے جاں نثاروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دو ٹوک نسل ہے۔ سوشل میڈیا میں کوئی بات پسند نہ آئے تو بلا تامل مخاطب کو صیغہ واحد میں دشنام لکھتی ہے، کبھی کھلی گالی دیتی ہے اور کبھی گالی کی عام فہم تشریح۔

Read more

سوال کی تنہائی اور ہجوم کی اطاعت

ہم ان دنوں ایک طرفہ آزمائش سے دوچار ہیں۔ بظاہر بلند بانگ نعروں کا شور ہے، عشروں سے سیکھا ہوا پامال آموختہ ایک بیزار کن تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق کے کچھ نیم تاریک گوشے لمحے بھر کو روشن ہوتے ہیں اور پھر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ حکومت کے کچھ ارکان کو غیر ذمہ دار گیڈر بھبھکیوں کا مورچہ سونپا گیا ہے۔ کچھ کو ہدایت ہے کہ غیرمحسوس طور پر تصویر کے حقیقت سے قریب

Read more

نظریاتی نعرے میں سوال کی سرگوشی

ٹھیک 80 برس پہلے اواخر اگست کے یہی دن تھے۔ نازی جرمنی کا وزیر خارجہ ربن ٹراپ اشتراکی روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچا۔ جہاں اس نے سوویت وزیر خارجہ مولوٹوف کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے کہ جرمنی اور سوویت یونین ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ نظریاتی سوچ رکھنے والوں کے لئے حیران کن تھا۔ ہٹلر نے اپنی سیاست کی بنیاد ہی اشتراکیت دشمنی پر رکھی تھی۔ دوسری طرف سوویت یونین فاشزم کا کٹر

Read more

راجہ صاحب کی غیرت جاگ گئی

ملتان میں عدالت کے باہر بھائی نے بہن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔شہید محبت کا جرم اپنی مرضی سے شادی کرنا تھا۔ راجن پور کی کلثوم کے  سترہ سالہ بھائی نے پستول سے وہ بھیجا ہی اڑا دیا جس سے محبت کا اکھوا پھوٹا تھا۔ محبت مار دی اور غیرت کی تاریخ میں ایک ہندسہ بڑھا دیا۔ عورت فاؤنڈیشن والوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں عورتوں پر تشدد کے 7852  واقعات رپورٹ کیے

Read more

منحرف صحافی کو عاصمہ جہانگیر کیوں یاد آئیں؟

درویش بے نشاں کو ادارہ ’جنگ‘ کے پیشہ ورانہ بندوبست کی بدولت اور عملہ ادارت کے ذمہ دار ارکان کی شفقت کے طفیل آپ جیسے نکتہ رس پڑھنے والوں تک رسائی کا موقع ملا۔ ہفتے میں دو بار اس نعمت سے استفادہ کرتے آٹھ برس گزر گئے۔ درویش کی قلم کاری کی مدت تیس برس سے کچھ زیادہ ہے۔ طبعاً عقب نشین ہوں اس لئے کہ حاشیہ نشینی کا ذوق نہیں۔ اس دوران مختلف چھوٹے بڑے اداروں سے واسطہ رہا۔

Read more

حق خود ارادیت اور حق رائے دہی: منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی (غیر سنسر شدہ کالم)

فیض صاحب کو در حاجت روا سے دو دولتیں ودیعت ہوئی تھیں۔ ایک تو درد کی نعمت تھی۔ درد بھی ایسا کہ ہر بن مو سے ٹپکنا چاہے۔ اور پھر ضبط کی بے کراں صلاحیت۔ حسرت صاحب نے تو اپنی دھن میں کہ دیا، یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا۔ فیض صاحب کی دونوں سے آشنائی تھی۔ سینے میں قید بسمل کی تڑپ کیسی ہی جانگسل کیوں نہ ہوتی، دیکھنے والا صرف یہی جان پاتا کہ

Read more

راجہ صاحب ظفر محمود کا گھر ڈھونڈتے ہیں

قبلہ گاہی ظفر محمود کی قدم بوسی ایک مدت سے واجب تھی۔ خیال تھا کہ آج شام پیر و مرشد کی زیارت کی جائے۔ بارش کے بعد زمیں ابھی کسی قدر گیلی تھی۔ لاہور میں بارش اور اس کے متعلقات ایک نعمت کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ چھینٹا پڑتا ہے تو باراں کی خوشی سے زیادہ یہ احساس دل کو آ لیتا ہے کہ بھٹکا ہوا بادل ادھر آ نکلا ہے، دو گھڑی برس کے غائب ہو جائے گا۔

Read more

سیاست میں وراثت بے نامی جائیداد نہیں ہوتی

دنیا کے رنگ نیارے ہیں۔ نیلی چھتری والے نے ہمیں جہاں رنگ و بو میں بھیجتے ہوئے اہتمام کیا کہ آنکھ کھولتے ہی فیلڈ مارشل ایوب خان کے سنہری دور کی بہار دیکھنا نصیب ہو۔ کانوں میں سیاست کے لئے حرف دشنام کی صدا درا ہو۔ ہماری نسل روایتی داستانوں کا وہ شہزادہ تھی جسے پیدا ہونے کے بعد چودہ برس تک نیلے آسمان کی جھلک، بارش کی بوند اور پھول کی خوشبو سے دور رکھا جاتا تھا۔ جیسا کہ

Read more

اردو صحافت کا آرٹ بکوالڈ اور ضمیر کے دست فروش

ہم میں سے کون ہے جو آرٹ بکوالڈ کو نہیں جانتا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی صحافت میں نصف صدی تک آرٹ بکوالڈ کا نام گونجتا رہا۔ نیویارک کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والے آرٹ بکوالڈ کا کالم بیک وقت 500 اخبارات میں شائع ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے جملے۔ بظاہر راہ چلتے میں اٹھائے گئے موضوعات مگر چونکا دینے والا بیان اور دل کو لگتے ہوئے نتائج۔ وہ طنز کے نوکیلے نشتروں پر مزاح کی شکر چھڑک

Read more

خبردار! ضمیر کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے

لکھنے والوں میں ایک دوسرے سے ان کہا تعلق ہوتا ہے۔ کوئی بھلے اپنے پندار میں تسلیم نہیں کرے لیکن لکھنے والوں کو ایک دوسرے کی تحریر سے رہنمائی ملتی ہے۔ کہیں اپنی کسی رائے کی تصدیق ہونے سے حوصلہ بڑھتا ہے تو کہیں کسی اختلافی رائے سے نئے زاویے روشن ہوتے ہیں۔ کسی تحریر سے بات کہنے کا کوئی ڈھب سجھائی دیتا ہے تو کسی کمزور تحریر سے انتباہی نکات معلوم ہوتے ہیں۔ ذاتی زاویے سے لکھی صحافتی تحریروں

Read more

جمہوریت پسند دوستوں سے چند گزارشات

نہایت احترام سے عرض کرنے دیں کہ مجھے محترم ناصر اقبال خان کی تحریر پر کچھ نیک نیت لیکن جذباتی احباب کے تبصروں سے سخت اختلاف ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی سیاست میں غیر ذمہ دارانہ لب و لہجے اور ذاتیات کی حد تک اترنے والی دشمنی نما مخالفت کا جو چلن شروع ہوا ہے اس نے صرف ایک گروہ ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ قوم کا اجتماعی مزاج اب اپنے سیاسی مخالفین

Read more

یہ معیشت کا نہیں، سیاست کا بحران ہے

وزیر اعظم عمران خان وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر فرماتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے تو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ کلام الملوک ملوک الکلام۔ بادشاہ سلامت کا فرمان اعلیٰ ترین کلام، حتمی دلیل اور برہان قاطع ہوتا ہے۔ محترم وزیر اعظم، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، منتخب سربراہ حکومت ہیں۔ ان کے دست راست محترم شیخ رشید ہمیں وقفے وقفے سے مطلع کرتے ہیں کہ وزیر اعظم کی پشت پر کیسے کیسے لشکر جرار صف آرا

Read more

وزیر اعظم مغالطوں کے الجھاوے میں – غیر سنسر شدہ کالم

صحافی پردہ چاک کرنے کی سستی خوشی کے لئے نہیں لکھتا۔ خالق کائنات نے سورہ آل عمران میں فرمایا۔ ہم تمہارے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں۔ صحافی دنوں کے اس گرداب کا کیف و کم بیان کرتا ہے۔ عزت اور ذلت کے نیوتے دینے والوں کو یاد دلاتا ہے کہ زمیں نے سورج کے گرد ایک اور چکر مکمل کیا اور 25 جولائی آن پہنچی۔ ایک برس پہلے اس روز عام انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ رواں برس 25 جولائی

Read more

انی کنت من الظالمین سے عشائے ربانی تک

منیر نیازی نے کہا تھا، رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا / فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت۔ منیر نے اس اشارے سے روشنی پانے والوں کے لئے فکر کی شرط رکھی۔ ہم ایسے درماندہ تو تفکر کی استطاعت نہیں رکھتے، ہمیں تو فکر مندی کی صلیب بخشی گئی۔ درد کی سولی پر کھینچا گیا۔ اس نیند میں سونے والوں کا ملال بخشا گیا جو اب بیدار نہیں ہوں گے۔ گلی میں اس کی

Read more

تاریخ وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی

قلم اٹھاتا ہوں تو قد آدم سے کچھ زیادہ قامت رکھنے والے وہ مہربان چہرے آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں جو اب نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ اس سے رات کا اندھیارا دور نہیں ہوتا اور دن کی بے آبرو فحاشی کی خجالت کم نہیں ہوتی مگر یہ حوصلہ ضرور ملتا ہے کہ آنے والے کل کی جستجو میں آج کی تاریکی سے کشمکش ہمارے پرکھوں کی امانت ہے۔ اب دیکھئے، کہنا تو یہ تھا کہ دار و رسن کا

Read more

سیزر کی بیوی اور احتساب کی اندر سبھا

2006 میں ’دوسروں کی زندگیاں‘ (The Lives of Others) کے عنوان سے بننے والی فلم نے تہلکہ مچا دیا۔ یہ فلم مشرقی جرمنی کے خفیہ ادارے سٹاسی (Stasi) کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر اپنے ہی شہریوں کی زندگی میں مداخلت کی کہانی ہے۔ نظریے کے نام پر ریاست کو کیسے زوال آتا ہے، کار سرکار میں کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، فرد پر کیا عذاب اترتے ہیں۔ بظاہر قانون اور ضابطے کی بے داغ چادر تلے جرم اور بدعنوانی کے دھبے کیسے نمودار ہوتے ہیں۔ معیشت کیسے تباہ ہوتی ہے، تمدن کی سانس کیسے گھٹتی ہے؟

Read more

جبر کی سائنس اور مزمل گھڑی ساز کی ماں

سیاسی استحکام کے بغیر معیشت کی گاڑی نہیں چلتی۔ دوسرے یہ کہ ریاست کی قوت سے سیاسی نقشہ بنایا یا بگاڑا جا سکتا ہے، معیشت زور زبردستی کی منطق نہیں مانتی۔ اور تیسرے یہ کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر سیاسی بندوبست میں شفافیت کی کھنک پیدا نہیں ہوتی۔ رہی کرپشن اور احتساب کی دو دھاری تلوار، تو دیکھیے صاحب، ہم نادار ضرور ہیں لیکن ہماری ایک سیاسی تاریخ ہے۔ ایک تمدنی روایت ہے۔ ہم دزدیدہ آنکھ سے اجنبی خلوت کی عیب شماری نہیں کرتے۔

Read more

زین العابدین، بنگال کا قحط اور امرتیا سین

بنگال میں قحط کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا تھا۔ ہر ہفتے اوسطاً ایک لاکھ افراد بھوک اور غذائی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں موت کے منہ میں جا رہے تھے۔ سنہرے بنگال کے ندی نالوں اور چنچل سنتھالی کنیاﺅں کی تصویر کشی کرنے والا ایک پچیس سالہ مصور ڈھاکہ کی ایک سڑ ک پر جا رہا تھا۔ سڑک کے کنارے اس نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔ ٹیگور کی رومان پسندی کا

Read more

عمران حکومت اور آرتھر کوئسلر کی فراموش شدہ کتاب

الحمدللہ! آج یکم جولائی ہے، نئے مالی سال کا پہلا دن۔ قومی اسمبلی نے وسیع تر قومی مفاد پر مکمل عبور رکھنے والی دانشمند قیادت کی نفیس، ماہرانہ اور فیصلہ کن رہنمائی میں جو بجٹ منظور کیا ہے، وہ آج سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ اہل پاکستان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، خارجی اور داخلی صورت حال ہر زاویے سے امید افزا ہے، توانائی کا ایک خوشگوار احساس قوم کے رگ و پے میں دوڑ رہا ہے۔ کاروباری

Read more

کیا دو قومی نظریہ ختم ہو گیا؟

موضوع ایسا سنگین ہے کہ فیض صاحب کے دل آویز، نرم خو، ملال انگیز لہجے سے بات نہیں بنے گی۔ فیض صاحب نے گردش لیل و نہار کی کٹھنائیوں کے لئے ضبط حال کا جو نسخہ اختیار کیا تھا، اس کا خمیر علم، ایقان، ریاضت اور نگہ دور رس سے اٹھا تھا۔ دھوپ اور سویرے کی ایسی راس رچانا فقط آرزو کی بات نہیں، اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں۔ پس منظر پر غور فرمائیے۔ بغاوت کا

Read more

لیاقت علی خان کو کس نے قتل کیا؟

سولہ اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کے استقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔ مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔

Read more

میثاق معیشت قوم کے سود و زیاں کا سوال ہے

بے شک سب تعریفیں اسی ذات بے ہمتا کو زیبا ہیں جو ہم بائیس کروڑ خطا کے پتلوں کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرتی ہے اور اپنی فیض رسانی کے چشمہ حیواں سے حمید گل مرحوم و مغفور کا نعم البدل عطا کرتی ہے۔ بے شک انسان خسارے میں ہے کہ شکوہ بے جا کا عادی ہے اور نہیں سمجھتا کہ وسیع تر قومی مفاد کی فہم وہ نعمت عظمیٰ ہے جو سینہ گیتی پر رینگنے والے آب و گل

Read more

شبیر احمد عثمانی ۔۔۔۔ خواب اور وصیت کے درمیان

درویش نے ہماری تاریخ میں تنگ نظری کی مثالیں دیتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کا ذکر کیا تو ایک محترم بھائی کو سخت اختلاف ہوا۔ اپنے رد عمل میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قائداعظم نے وصیت کی تھی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ قائداعظم کی اس وصیت کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ دینے کی البتہ زحمت نہیں کی گئی۔ شبیر احمد عثمانی صاحب کے عقیدت مندوں میں اس قسم

Read more

مجھے فحاشی سے گھن آتی ہے

دیکھیے، چشم فلک نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ درویش جیسا فاسق فرتوت اور فاجر کہنہ سال فحاشی کے خلاف قلم اٹھائے۔  ثم العجب کہ ایسی بستی میں جہاں بزعم خود فحاشی سے نبرد آزما اہل حق کا ایک لشکر جرار بفضل تعالیٰ ہمارے درمیان نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ اس کے نعرہ ہائے خارا شگاف سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ خدائی فوجداروں کا یہ جم غفیر قمیص کی آستین ایک انچ سرک جانے پر،

Read more

ہماری ترقی کے راستے میں حائل تین رکاوٹیں

ویلہم رائخ نے ایک مزے کی کتاب لکھی تھی، ’فاشزم کی اجتماعی نفسیات‘ ۔ 1933 ءمیں شائع ہونے والی یہ کتاب بظاہر فاشزم کے خلاف فکری بنیادیں فراہم کرتی ہے لیکن اس کتاب کا ایک اہم حصہ نچلے متوسط طبقے کی نفسیات، خاص طور پر متوسط طبقے کی نجی اقدار اور سیاسی ترجیحات کے مابین تعلق بیان کرتا ہے۔ خوفناک غربت اور بے انتہا دولت کے درمیانی ایک سفید پوش منطقہ پایا جاتا ہے۔ یہاں دو وقت کی روٹی کا

Read more

ہرے بھرے شاہ کا مزار اور پانچ ہزار پاکستانیوں کی لاشیں – مکمل کالم

وفاقی وزیر فیصل واڈا کہتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے اور ملکی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ پانچ ہزار پاکستانیوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ سوال کیا گیا کہ آئین اور قانون کی روشنی میں وہ یہ کارنامہ کیسے انجام دیں گے۔ عالی مقام وزیر نے جواب میں سخت افسوس ظاہر کیا کہ آئین اور قانون ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ نیز یہ کہ اگر قانون و آئین کی پیروی کی گئی تو ان کی بیس نسلیں بھی

Read more

اظہر جعفری کو خاموش ہوئے دو برس بیت گئے ۔۔۔ تصویر بولتی ہے

  ہماری نسل پاکستان بننے کے کچھ برس بعد پیدا ہونے والوں میں سے تھی۔ آزادی جمہوریت کا وعدہ تھا۔ ایک خواب تھا، یہ امید تھی کہ ہم زندگی سے خوشی، تخلیق اور محبت کا وہ حصہ پا سکیں گے جو انسان ہوتے ہوئے ہمارا حق تھا۔ ہماری نسل نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ خواب جھوٹا پڑ گیا۔ ایک بڑی اڑچن یہ تھی کہ غیر ملکی حکمرانوں سے لڑنا

Read more

سیاست دانوں سے نفرت کرنے والوں کے نام

اللہ تعالیٰ نے کھیوڑہ کے نمک اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے علاوہ بھی پاکستان کو نوع بنوع نعمتیں بخشی ہیں۔ سہیل وڑائچ کے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک نہایت بالغ نظر خاتون فرماتی ہیں: ” جب آپ سیاستدانوں سے الفت جتا رہے ہوتے ہیں یا ان کی تعریف میں اپنے قیمتی لفظ استعمال کرتے ہیں،  مجھے کافی امیچور لگتے ہیں۔” اگرچہ ڈاکٹر شاہد مسعود، عارف حمید بھٹی، صابر شاکر، چوہدری غلام حسین، حسن نثار، اوریا مقبول جان اور مبشر

Read more

عمران خان کا حقیقی دشمن کون ہے؟

پاکستان 70 برس سے سیاسی افراتفری کا شکار ہے۔ آزادی کے بعد پہلے آٹھ برس میں 22 صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں یا انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ کسی ایک صوبائی حکومت کے خاتمے میں عدم اعتماد کا دستوری طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ اس دوران پانچ حکومتیں مشرقی بنگال اور آٹھ حکومتیں سندھ میں توڑی گئیں۔ پنجاب اور صوبہ سرحد کو یہ سعادت چار چار مرتبہ نصیب ہوئی۔ ایوب مارشل لاء تک سات وزیر اعظم تبدیل

Read more

خوشیوں کے باغ سے بوش کے جہنم تک

وقفہ عمر کا وہ حصہ آن لگا ہے جہاں حیرت آنجہانی، خبر ناگہانی اور دل اوراقِ خزانی ہو جاتے ہیں۔ انور سجاد کے رخصت ہونے کی اطلاع ایسے پہنچی جیسے اجل دیدہ قیدیوں کو خوشیوں کے اس باغ کی جھلک دکھائی دے جس کی کھوج میں نکلنے والے پندرہویں صدی کے ڈچ مصور بوش کے جہنم میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ انور سجاد کے مختصر مگر چھریرے بدن میں بجلیاں بھری تھیں، وہ خیال کا برق انداز، لفظوں کا مصور

Read more

نکلنا درویش کا بستی سے اور ملنا ایک گیانی سے

دیس میں عید کا روز تھا۔ ہلال عید کی بے معنی بحث جاری تھی، غریب کا آٹا گیلا تھا، زور آور کی کمان چڑھی تھی، قیدی بندی خانوں میں تھے اور نقال رنگ رنگ کا بہروپ دھارے راج سنگھاسن پر رونق دیتے تھے۔ پرجا روٹی کے ٹکڑے کی فکر میں تھی اور زورآور گلی کوچوں میں سنکھ پھونکتے تھے۔ اللہ اللہ! اس دیار میں ہمارے پرکھوں نے ہند کا بٹوارا دیکھا، چند برس ہی گزرے تھے کہ ہم نے دیس

Read more

بوڑھے جہازی کے گلے میں لٹکتا مردہ پرندہ

وبا کے موسم میں محبتوں کا ذکر کیسے کیا جائے۔ صاحب احتساب کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ واللہ! حکومت وقت کو وبا سے تشبیہ نہیں دی۔ اہل حکمت وبا اور روگ میں فرق کرتے ہیں۔ خبریں ہیں کہ لاڑکانہ اور اس کے نواح میں ایڈز کے سینکڑوں مریض دریافت ہوئے ہیں۔ اگرچہ بتایا گیا ہے کہ معصوم سندھی بچوں میں ایڈز کے جراثیم آلودہ سرنجوں کے ذریعے منتقل ہوئے ہیں تاہم لاڑکانہ کے ایک غیرت مند شخص نے ایڈز کی

Read more

قائد اعظم، تین جون 1947: نہ مولوی، نہ اسلامی نظام، خالص آئینی سمجھوتہ

تین جون 1947 کی سہ پہر ہو چکی تھی۔ ہندوستان کے آئینی بحران میں شامل تمام فریقوں کے درمیان آئینی سمجھوتے پر اتفاق  ہو چکا تھا۔ ہندوستان کی تقسدیم ہونا طے پا گئی تھی۔ اور یہ بھی اتفاق ہو گیا تھا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبے ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کئے جائیں گے۔ تین جون 1947 کی شام آل انڈیا ریڈیو پر مرکزی رہنماؤں کو اس منصوبے کی منظوری کا اعلان کرنا تھا۔ پروٹوکول کے مطابق وائسرائے لارڈ

Read more

بزنجو صاحب لیونڈ برژنیف سے بڑے رہنما کیسے بنے؟

بلوچتان کے نقشے پر نظر ڈالیے۔ پاکستان کے قریب آدھے رقبے پر پھیلی ہوئی اس وفاقی اکائی کی وسط مشرقی سرحد پر ضلع خضدار نظر آئے گا۔ ٹھیک سو برس پہلے خضدار کے گمنام قصبے نال میں غوث بخش بزنجو نام کا ایک لڑکا پیدا ہوا جس نے کوئٹہ، کراچی اور علی گڑھ سے تعلیم پائی۔ 1938 میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اگست 1989 میں وفات پائی۔ پچاس برس کی سیاسی زندگی میں دس سال سے زیادہ مدت قید

Read more

وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات میں ہندو قوم پرستی کی علمبردار بھارتیہ جنتا پارٹی نے 303 نشستیں جیت لیں۔ بھارتی دستور کے مطابق حزب اختلاف کا درجہ پانے کے لئے 55 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 52 سیٹیں جیتنے والی کانگریس سرکاری طور پر حزب اختلاف کا درجہ بھی حاصل نہ کر سکی۔ زعفرانی لبادوں میں ملبوس، ماتھے پر تلک سجائے، کنول کی مذہبی علامت پر ووٹ کی مہر لگانے والے بھارتی ووٹر خوش ہیں، راہل گاندھی نے انتخابی

Read more

جسٹس (ر) جاوید اقبال کے توتا مینا اور جاوید چوہدری کی داستان گوئی

ان دنوں پاکستان میں جاوید نامہ (جدید) لکھا جا رہا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال بات کرتے ہیں اور جاوید چوہدری بیان کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آئی ایم ایف کا وفد آئی ایم ایف کے سابق اہل کاروں سے مذاکرات کرتا ہے۔ محترم جاوید چوہدری نے رواں مہینے کی 16 اور 17 تاریخ کو روز نامہ ایکسپریس میں "چیئرمین نیب سے ملاقات” کے عنوان سے دو کالم تحریر کئے۔ 17 مئی کو نیب  نے ایک پریس ریلیز کے

Read more

افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق نہیں تھا !

ضیا الحق کی رخصتی کے بعد نواز شریف پاکستان کے سیاسی منظر پر اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھے۔ انہیں پنجاب کی وزارت خزانہ اور پھر وزارت اعلیٰ تک تو ضیاالحق خود لائے تھے لیکن آئی جے آئی کے قیام اور نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی مسند تک لے جانے کا منصوبہ اسلم بیگ، حمید گل اور غلام اسحاق خان کا تھا۔ نواز شریف کے پس پشت اسٹیبلشمنٹ بھی تھی، طاقتور کا اشارہ پا کر نشان زدہ چھتری پر اترنے والے سیاسی کبوتر بھی تھے، درمیانہ کاروباری طبقہ بھی تھا، بھٹو کی نیشنلائزشن کے ڈسے ہوئے سرمایہ دار بھی تھے، آمریت کے سائے میں پرورش پانے والی بیوروکریسی بھی نواز شریف کا ساتھ دے رہی تھی۔

Read more

بہروپ نگر کی سواریاں اور تبدیلی کا ڈبہ – مکمل کالم

ہم نے آزادی کی پہلی چار دہائیوں میں سالانہ 6 فیصد کی شرح نمو برقرار رکھی، فی کس آمدنی دوگنا ہو گئی۔ اور غربت کی شرح 48 فیصد سے 18 فیصد تک لے آئے۔ اس دوران ہم نے جنگیں بھی لڑیں، آمریت بھی بھگتی، آئین شکنی سے بھی شغف رکھا، ملک بھی دو لخت کیا لیکن اچھے دنوں کی شاخ پر امید کا پتا سرسبز رہا۔ چلتی گاڑی سے ہمارا ڈبہ تب کٹا جب ہم نے شراکت اقتدار کے نام پر جمہور کی رائے سے کٹھ پتلی تماشا شروع کیا۔ 1988 سے 1999 تک کے دس برس ہمارا عشرہ زیاں کہلائے ۔

Read more

روشن آرا بیگم کا تانپورہ اور صحافی کی خاموشی

ہم عصر کی تعریف ذرا مشکل ہوتی ہے۔ چشمک کا پہلو موجود نہیں ہو تب بھی خود رائی آڑے آتی ہے۔ آج مگر ایک جملہ اپنے کالم میں حامد میر نے ایسا لکھ دیا کہ تعریف کیے بن چارہ نہیں۔ انشا ا للہ خان نے کہا تھا، اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا۔ حامد میر تو خالص پنجابی نہیں، کشمیری نژاد ہیں مگر کیا کیجئے ہمارے سب دریا کشمیر سے نکلے ہیں۔ پنجاب کی مٹی کشمیر کے چشموں سے

Read more

عمران خان کی آسان حکومت اور راہِ وفا شعاراں

اچھے انسانوں کو یاد کرنا بذات خود نیکی ہے۔ اس سے دھوپ کی تپش کچھ کم ہو جاتی ہے اور باد و باراں کے خیال سے دل میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ استاذی منیر لاہوری ہمیں پنجابی پڑھاتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے انگریزی چوزوں میں مادری زبان کی محبت جگانا آسان نہیں تھا۔ منیر لاہوری کا بوٹا سا قد تھا اور لب و لہجے میں لاہور کی گھلاوٹ۔ علم کے کومل سروں میں پنجابی ادب کی پرتیں کھولتے چلے

Read more

سپر سائنس روحانیت اور چاند دیکھنے والی رانی توپ – مکمل کالم

انتظار حسین کا ناول بستی ہماری تاریخ کی پہلی تین دہائیوں کا آشوب بیان کرتا ہے۔ اس ناول کی اختتامی سطروں میں لہجے کی غیرمتعین کیفیت میں قوم کے الجھاؤ، فرد کی بے چینی اور سوچ کی نظربندی کی تصویر کھینچ دی ہے۔ سنیے: ’کاکے، بشارت ایسے ہی وقت میں ہوا کرتی ہے، جب چاروں طرف…. ‘ کہتے کہتے رکا، پھر سرگوشی میں بولا، ’یہ بشارت کا وقت ہے‘۔ ہمارے ملک میں بحران ختم ہوتا ہے اور نہ بشارت کا

Read more

بھلے مانس لوگوں کی بستی میں وبا کا موسم

دو روز پہلے یکم مئی تھا، دنیا بھر کے ان اربوں انسانوں کا دن جو ہاتھ پاؤں کی مشقت سے روزی کمانے کا جتن کرتے ہیں۔ جن کے ہاتھ دن رات کی محنت سے چوب خشک کی تصویر بن گئے ہیں، جن کے کندھے زندگی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے شل ہو گئے ہیں، جن کے پاؤں اونچی چٹانوں اور نشیبی گھاٹیوں سے گزرتے گرد وغبار کے مستقل سانچے میں ڈھل گئے ہیں، جن کی آنکھوں میں برسوں کی اچٹی ہوئی

Read more

چاندی کی کڑاہی، دیگ اور برقعہ

(پاکستان تحریک لبیک کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری کے معافی نامے کی خبر آئی تو درویش کو اپنی بارہ برس پرانی ایک تحریر یاد آ گئی جو لال مسجد اسلام آباد کے آپریشن سے کوئی چار روز قبل 7 جولائی 2007ء کو بی بی سی اردو پر شائع ہو ئی تھی۔ کتنے زمانے گزر گئے۔ زمانے کا دستور وہی ہے۔ اہل منبر و محراب کے شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں۔ عشق کے دردمند حسب معمول راندہ درگاہ ہیں۔

Read more

دلی کے امیرزادے اور قومی انحطاط

مرزا فرحت اللہ بیگ جدید اردو نثر کے بانیوں میں سے ہیں۔ 1883 میں پیدا ہوئے اور 1947 میں انتقال ہوا۔ مرزا صاحب کی شاہکار تحریر ’نذیر احمد کی کہانی‘ ہے۔ ہمارے ہاں اسکول کے نصاب میں اس سوانحی خاکے کا ایک دلچسپ اقتباس شامل کیا جاتا ہے لیکن اس طویل تحریر کا ایک نہایت سبق آموز حصہ ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس فراموش ٹکڑے میں ڈپٹی نذیر احمد غدر کے مشاہدات بیان کرتے ہیں۔ 1857 کے واقعات

Read more

بادشاہ کے ضمیر بردار اور خاموشی کی ثقافت

آج استاذی پروفیسر حمید احمد خان کی ایک روایت سے بات شروع کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے ’علامہ اقبال کے ہاں ایک شام‘ کے عنوان سے 10 نومبر 1937 کی ایک نشست کا احوال لکھا تھا۔ اقتباس ملاحظہ کیجئے :  ’علی بخش نے آ کر مہر صاحب اور سالک صاحب کے آنے کی اطلاع دی۔ مدیران ”انقلاب“ کے آتے ہی گفتگو کا رخ سیاسیات کی طرف پھر گیا۔ ان دنوں تھوڑا ہی عرصہ پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک

Read more

راگ بدعنوانی سے راگ نااہلی تک

سیاست ایک منہ زور دریا ہے جس میں ہر لمحہ نئی لہریں اٹھتی ہیں، بھنور بنتے ہیں، امکان پیدا ہوتے ہیں، کچھ موجیں اگلے منظر کا حصہ قرار پاتی ہیں اور کچھ نشان چھوڑے بغیر گم ہو جاتی ہیں۔ صحافتی تجزیہ دراصل لہروں کی اس چلت پھرت کی خبر اور دریا کے مجموعی بہاؤ پر نظر میں توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی کو دعویٰ ہو کہ وہ مستقبل کی ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کر سکتا ہے تو اسے

Read more

The Empire Strikes Back

بالآخر وہ مرحلہ آن پہنچا بلکہ پلک جھپکنے میں گزر بھی چکا جس کی پیش گوئی جولائی 2018 کے آخری ہفتے میں بھی کی جا سکتی تھی۔ 18 اپریل کو بارہ گھنٹے کے مختصر وقفے میں جو ہوا، اسے عملی طور پر تحریک انصاف حکومت کے قریب قریب فلمی سیٹ کا انہدام سمجھنا چاہیے۔ آج کے خلاف معمول انگریزی عنوان میں جارج لوکاس کی 1980 میں بننے والی سٹار وار سیریز کی فلم کا اشارہ تو بالکل واضح ہے، لیکن دراصل مجھے پاکستان میں زندہ و توانا صحافت کے استعارے خالد حسن کی کتاب یاد آئی تھی جو اسی عنوان سے 1988 میں شائع ہوئی۔ خالد حسن نے 29 مئی 1988 کے واقعات کو مقتدرہ کے جوابی حملے سے تعبیر کیا تھا۔

Read more

ہمارے بحران کی مثلث اور فیثا غورث

حکیم فیثا غورث ایک جید مسلمان سائنسدان تھے۔ کم از کم نام سے تو یہی معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے نصاب میں لکھا ہے کہ تاریخ میں جو بھی اچھا ہوا، وہ یا تو مسلمانوں نے کیا یا مسلمانوں سے استفادہ کیا گیا۔ یہ کلیہ ٹھیک اسی طرح درست ہے جیسے یہ قول زریں کہ دہشت گرد مسلمان نہیں ہوتا۔ فیثا غورث کے ضمن میں البتہ تقویم کی الجھن پائی جاتی ہے کہ موصوف 570 قبل مسیح میں پیدا

Read more

کمرے میں ہاتھی اور متجسس صحافی- مکمل کالم

قریب ایک سو برس قبل ہمارے ہاں جدید تعلیم یافتہ ادیبوں کی پہلی کھیپ تیار ہوئی تو انگریزی ادب کے علاوہ فرانسیسی اور روسی ادب کا بھی چرچا ہوا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ادبی جریدے ہمایوں نے مئی 1935ء میں روسی ادب نمبر اور ستمبر 1935ء میں فرانسیسی ادب نمبر شائع کیے۔ ان دونوں شماروں کی تدوین میں مولانا حامد علی خان کی معاونت سعادت حسن منٹو کر رہے تھے۔ اسی رجحان کو آگے بڑھتے ہوئے اپریل 1936ء میں

Read more

سیاست کا اینٹی ہیرو اور بکاؤ صحافت

موسم بدل رہا ہے، اس سادہ جملے سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ سردی ختم ہو چکی اور گرمی کی آمد آمد ہے۔ یہاں موسم کی جس تبدیلی کی طرف اشارہ ہے، وہ قومی تمثیل کے پہلے سے لکھے ہوئے اسکرپٹ کا اگلا ایکٹ ہے۔ کھیل کا ایک حصہ ختم ہوا۔ پردہ گر چکا۔ پردے کے پیچھے کرسیاں گھسیٹے جانے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ نئے منظر کا سازوسامان طے شدہ مقامات پر رکھنے والے اہل کاروں کے قدموں

Read more

عورت مارچ اسما عزیز کے لئے تھا

گزشتہ ماہ آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے متعدد شہروں میں عورت مارچ کے عنوان سے ریلیاں نکالی گئیں۔ ان اجتماعات میں ہماری وہ مائیں اور بہنیں بھی شریک تھیں جنہوں نے چالیس برس قبل ضیا الحق کے استبدادی اور امتیازی قوانین کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ اب اس نسل کے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔ پاکستان کی ان بہادر بہنوں کے بالوں کی سفیدی ہمارے اجتماعی ضمیر میں روشنی کا نشان

Read more

عمران حکومت اور بحران کے گہرے ہوتے سائے

خدا خیر کرے، میر تقی کے اتباع میں نامرادانہ زیست کرتے ہیں۔ چنانچہ ان دنوں میں جگر مراد آبادی کا یاد آنا ایک دلچسپ اشارہ ہے۔ بات اتنی ہے کہ ادھر شہباز شریف کا نام اس فہرست سے خارج کر دیا گیا جس کے آوارہ نصیبوں کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں ہوتی۔ ادھر میاں نواز شریف کو طبی بنیاد پر چھ ہفتے کے لئے ضمانت پر رہائی مل گئی۔ یہی نہیں، آصف علی زرداری کو بھی دس اپریل

Read more

گھوٹکی کی دو ہندو بچیاں اور اکیس سوال

22 مارچ کو قوم یوم پاکستان منانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور ہندو ہم وطن ہولی کی خوشیوں کے انتظار میں تھے۔ اچانک خبر آئی کہ ضلع گھوٹکی کے تعلقہ دہڑکی سے رینا اور روینا نام کی دو کم عمر ہندو بچیاں 20 مارچ سے لاپتہ ہیں۔ ان بچیوں کے مبینہ اغوا کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدعیت میں تب درج کیا گیا جب علاقے کی ہندو برادری احتجاج میں سڑکوں پر نکل آئی۔ پھر خبر ملی کہ

Read more

ہماری خرابی کی پانچ صورتیں

ناصر کاظمی نے کہا تھا، گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے…. اور کیوں نہ ہوں، میر تقی کے لفظوں میں دلوں کی آگ بجھ گئی ہے، سوختہ جان افسردہ ہیں۔ ابھی 23 مارچ گزرا۔ یہ صدمہ اپنی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے کہ 1956 میں یوم جمہوریہ کے عنوان سے جشن طرب کی جو روایت شروع کی تھی، اسے دو برس بعد یوم پاکستان کی مقبول مگر محل نظر اصطلاح بخش دی گئی۔ یوم پاکستان کا سرنامہ تو

Read more

وزیر اعظم عمران خان کی دیانتداری پر کوئی شک نہیں: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کینیڈا میں فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی دیانت داری پر کوئی شک نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دیامر بھاشا ڈیم کو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز کینیڈا میں ڈیم فنڈ ریزنگ کی تقریب ہوئی جس میں بیرون ملک پاکستانیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب

Read more

جیسنڈا آرڈرن کو فون کرنے والوں نے بہاولپور میں تعزیت نہیں کی

ہمارے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے خصوصی حساسیت رکھنے والے حلقوں کو گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی بہت فکر ستا رہی تھی، اب ان سے کچھ سوالات پوچھنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کے استاد پروفیسر خالد حمید کے قتل کی ایف آئی آر درج ہونے میں نو گھنٹے کیوں لگے؟ استاد کو سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران سرکاری درس گاہ میں قتل کیا گیا۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کے

Read more

بالآخر ایک اسلامی ملک دریافت ہو گیا

گزشتہ ہفتے کرائسٹ چرچ میں ایک نسل پرست شخص کی دہشت گردی سے پچاس معصوم انسان اپنی جان سے گئے لیکن اس سانحے سے روشنی کی ایک کرن بھی برآمد ہوئی۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی تحسین و توصیف سے بھرے پڑے ہیں۔ وجہ یہ کہ اس سانحے کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے جس اخلاص سے اپنے ملک کے مسلمان شہریوں کی ڈھارس بندھائی، مظلوم گروہ سے

Read more

ہم کس سے مخاطب ہیں؟

مئی 1940 میں فرانس پر جرمن قبضے کے بعد برطانیہ کے ساڑھے تین لاکھ فوجی گھیرے میں آ گئے۔ شکست خوردہ اتحادی لشکر ڈنکرک کے ساحلوں پر بے یار ومدد گار پڑا تھا۔ یقینی بات تھی کہ چند روز میں تعاقب کرنے والی جرمن فوج ان برطانوی فوجیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دے گی جن کے پاس اسلحہ باقی تھا اور نہ صف بندی کی کوئی صورت۔ ایک طرف سمندر تھا اور دوسری طرف جرمن ٹینکوں

Read more

کشمیر کی آزادی کے دو ستارے : اداکارہ شمیم آرا اور شیخ رشید احمد

14 فرروری کو پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کا درجۃ حرارت اتنا بڑھا کہ معاملہ فضائی جھڑپوں تک جا پہنچا۔ سرحدی علاقوں میں دونوں طرف سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات تو اب بھی جاری ہیں، تاہم یکم مارچ کو گرفتار شدہ بھارتی پائلٹ ابھے نندن کی واہگہ بارڈر پر حوالگی کے بعد سے اشتعال کا بدترین مرحلہ گزر چکا۔ اب سرحد کے دونوں طرف سستی وطن دوستی کا بازار سجے گا۔ جہاں بے

Read more

روشن نظر سے لکھی ایک کتاب کا احسان

گزشتہ برس یہی رخصت ہوتے جاڑوں کے دن تھے جب مجھے برادر فاروق عادل کی کتاب ’جو صورت نظر آئی‘موصول ہوئی۔ قومی اور انفرادی سطح پر یہ بارہ مہینے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے امید کی کھیتیاں روندتے رہے۔ عدالتوں میں سنائے جانے والے فیصلوں سے حرف قانون کی پاسداری کی خوشبو گم ہوتی رہی۔ سڑکوں پر شہریوں کا احترام مجروح ہوتا رہا۔ اخبار میں لکھے لفظ سے ضمیر کی آزادی بخش طراوت

Read more

بے نظیر، اٹل بہاری اور خالد حسن کے ماکوندو میں بارش کی دعا

کرنل مارکیز ایک اکتا دینے والی طویل لڑائی کی کمان کر رہا ہے۔ اس کا دل اپنے خواب کے شہر ماکوندو میں اٹکا ہے۔ اس کی آنکھ میں اس محبوب لڑکی ازابیل کا سراپا بسا ہے جو صحن میں بندھی رسی پر دھلائی کے کپڑے لٹکاتے ہوئے تیز ہوا سے باتیں کیا کرتی تھی۔ وقت نے کرنل مارکیز کو ازابیل کے بھائی سے جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ ایک شام تار گھر میں کھڑا کرنل اپنے ہیڈ کوارٹر سے اطلاعات

Read more

بنگلہ بھاشا آندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی

قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد صرف ایک دفعہ مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ 4فروری 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے’‘اردو اور صرف اردو“ کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ قائداعظم کے بے پناہ شخصی احترام کے باوجود بنگالی طلبا کے گلے سے احتجاج کی بے ساختہ چنگھاڑ برآمد ہوئی۔ جناح صاحب کی طویل سیاسی زندگی میں کم ہی ایسا ہوا تھا کہ انھیں کسی عوامی اجتماع میں کھلم کھلا

Read more

جلالت مآب ابو حمار کی عظمت کے سو برس

ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی تصنیف ’جاوید نامہ‘ میں مرشد بے مثل جلال الدین رومی کی رہنمائی میں آسمانوں کا سفر کیا۔ اس تخیلاتی سفر میں شاعر بے بدل نے مختلف شخصیات سے ملاقات کے پردے میں فلسفے، سیاست اور تمدن پر اپنے گراں قدر خیالات بیان کئے۔ جاوید نامہ میں اقبال نے اپنے لئے ’زندہ رود‘ کا لقب اختیار کیا یعنی وہ تیز نگاہ جو افلاک کے اسرار کی کھوج میں زندہ روانہ ہوا اور زندہ واپس آیا۔ اقبال

Read more

پاکستان کا عمرانی بحران کس طرف؟

گزشتہ اگست میں قائم ہونے والی حکومت کو چھ مہینے مکمل ہو گئے۔ یہ مدت بے سمتی، بے چینی، نا اہلی، عدم اعتماد اور افراتفری سے عبارت رہی۔ چھ برس کی غوغا آرائی اور ریشہ دوانیوں کی مدد سے قائم ہونے والی حکومت کا رنگ و روغن اکھڑ گیا ہے۔ کشتی کے تختے بری طرح ہل رہے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ گہرے پانیوں کی طرف بڑھتی ناؤ کو کس گھاٹ اترنا ہے۔ سیاسی صورت حال یہ ہے کہ

Read more

مولانا مودودی نے پاکستان میں بھی قائد اعظم کی مخالفت کی

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کچھ احباب کا موقف ہے کہ جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کے برعکس جماعت اسلامی مطالبہ پاکستان کی مخالف نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کا موقف تو یہ تھا کہ مسلم لیگ کے پاس وہ مردان کار موجود نہیں ہیں جو اس نصب العین کو حاصل کر سکیں۔ انہی دو نکات پر بات کر لیتے ہیں۔ کیا جماعت اسلامی قیام پاکستان کی حامی تھی؟ دوسرے یہ کہ جن مسلم لیگی رہنماﺅں کی بصیرت، اہلیت

Read more

ہمارے قومی اخلاق کا دامن صد چاک

  جوانی میں جوالا مکھی کی کیفیت تو ہوتی ہے۔ یہ حادثہ درویش بے نشاں پر بھی گزرا۔ حالات کی کچھ بے مہر گردشوں کے باعث جوار بھاٹے میں ایسی غیر معمولی تند و تیز لہریں اٹھیں کہ کشتی اگر غرق آب نہیں ہوئی تو اسے محض اتفاق ہی کہنا چاہیے۔ معاشرے میں فرد سے زیادہ قوت ہوتی ہے۔ ہمہ وقت تلوار علمکیے رہنا جلد یا بدیر حادثے پر منتج ہوتا ہے۔ دریا کی روانی کو اس سے کیا غرض

Read more

منظور اعجاز کی خود نوشت: پرہجوم کشتی اور خالی گھونسلہ

  ڈاکٹر منظور اعجاز نے اپنی خود نوشت ’جنڈریے: تن دیساں تیرا تانا‘ (My Life: Let me weave thy matrix) کے عنوان سے پنجابی زبان میں لکھی ہے۔ منظور اعجاز ہمارے ملک کی تادم تحریر تاریخ میں سب سے زرخیز اور توانا نسل کے نمائندہ رکن ہیں۔ تقسیم کے ارد گرد پیدا ہونے والی نسل جسے مڈ نائٹ چلڈرن کہا گیا، جس نے ساٹھ کی خواب آور دہائی میں اپنے سیاسی شعور کی آبیاری کی، ملک کو دو لخت ہوتے

Read more

جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار (2)

صرف چند دہائیاں پہلے تک انسان دماغی امراض کے وجود سے بھی ناآشنا تھے۔ دماغی خلل یا عوارض کو شیطان کی کارستانی قرار دیتے تھے۔ 1974 تک خود لذتی کو طب کی کتابوں میں ایک مرض کے طور پہ پیش کیا جاتا تھا۔ ان گنت زندگیاں ہم نے احساس گناہ میں مبتلا کر دیں۔ انسانی تاریخ میں عقلمند لوگوں نے کبھی جنسی امور پر غور و فکر کو غلط نہیں سمجھا۔ زیادہ دور نہ جائیے، لاکھوں اور کروڑوں برس کی

Read more

صدارتی نظام، اٹھارہویں ترمیم کا کانٹا اور ملکی سلامتی

اگر کوئی کہے کہ صدارتی نظام کی افواہوں میں صداقت نہیں نیز یہ کہ حکومت اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ردوبدل کا ارادہ نہیں رکھتی تو اس پر یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ حکومت کے سرکردہ ارکان مثلاً فواد چوہدری، فیصل واوڈا اور زرتاج گل ایک سے زائد بار اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بارے میں تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ فروری 2018 میں حقیقی اقتدار کے سرچشمے سے خبر دی گئی تھی کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم چھ

Read more

قانون کا درخت اور ہماری خود رو جھاڑیاں

کیا ہم واقعی جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالادستی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جسٹس رستم کیانی ایسے موقع پر کہا کرتے تھے ’ملک پنچایتی نظام کی طرف جا رہا ہے، آپ بھی اس کے ساتھ ہو لیں۔ میں البتہ یہیں بیٹھنا چاہوں گا‘ ۔

Read more

کنور دلشاد مثالوں کے انتخاب سے رسوا ہوئے

آج کے روز نامہ دنیا میں میں کنور دلشاد صاحب لکھتے ہیں "سویلین اور عسکری قیادت کے بارے میں مثبت سوچ کی بجائے ان کے بارے میں منفی تاثرات کو بعض حلقے بہت زیادہ ہوا دیتے ہیں۔ دونوں طرف سے کچھ انتہا پسند حلقے ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رعایت نہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ان باتوں کا فوری تدارک کریں کیونکہ ان کی کابینہ میں بعض وزرا بھی افواج پاکستان کے بارے میں وہی باتیں

Read more

آئین کو اونگھ نہیں آتی

چیف جسٹس ہردلعزیز اپنا سنکھ پھونک کے رخصت ہوئے۔ نقیبوں نے عہد نو کے نقارے پہ چوٹ کی۔ نامزد قاضی القضاۃ کا جلوس، جلال پادشاہی اور سطوت اختیار کے جلو میں نمودار ہوا۔ آواز نفیری اور تاشے کی دم بہ دم بلند ہوتی جاتی ہے۔ درویش بے نشاں نے اپنی بانسری ہونٹوں سے الگ کر کے زنبیل میں رکھ لی اور گردش ایام کے تماشے میں محو ہوا۔ ایک آزمائش ختم ہوئی، ایک امتحان باقی ہے۔ شہر افسوس کے گلی

Read more

ایئر مارشل اصغر خان کا بعد از مرگ اعزاز

آئیے کچھ دل کی باتیں کر لیں۔ پھر التفات دل دوستاں رہے، نہ رہے۔ آزادی کے بعد سات عشروں میں پاکستان کے شہریوں کی خوب منجھائی ہوئی۔ عوض طرب کے گزشتوں کا ہم نے غم کھینچا۔ جاننا چاہیے کہ شمال مغربی ہندوستان میں جدید سیاسی روایت کمزور تھی۔ جنوب اور مشرقی ہندوستان میں سیاسی اور تمدنی ارتقا ایک صدی آگے تھا۔ ٹھیک وہی ایک صدی جو جنگ پلاسی (1757) اور ہندوستان پر غیرملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی آخری کوشش

Read more

صبح کے خوش نصیب اور کٹا ہوا ڈبہ

نئے برس کی پہلی رات تھی۔ پچھلے برسوں کے ساتھی کہیں روشنیوں کی جڑاؤ چھت تلے آوازوں کی کھنکھناتی گھنٹیوں میں نئے سال کی چاپ سن رہے تھے۔ درویش اکیلا بیٹھا امروز و فردا کے غموں سے کھیلتا رہا اور پھر رات کے کسی آخری پہر میں آنکھ موند لی۔ اس سے پہلے کہ اس رات کے واقعات کا کچھ بیان ہو، ایک معروضہ یہ کہ رات، نیند اور خواب سے درویش کا زندگی بھر عجیب مچیٹا رہا ہے۔ رات

Read more

ہمارا قومی وقار کیسے تباہ ہوا؟

پاکستان کو غیر ملکی حکمرانی سے آزادی حاصل کیے 70 برس مکمل ہوگئے۔ اس دوران دنیا کے بیشتر خطوں میں ترقی کے قابل رشک نمونے سامنے آئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک کھنڈر میں تبدیل ہونے والا یورپ صرف بحالی اور تعمیر نو کے عمل ہی سے نہیں گزرا بلکہ اس نے علمی اور معاشی ترقی کی نئی منزلیں طے کی ہیں۔ سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں اشتراکی آمریت سے نجات حاصل کر لی گئی ہے۔ایشیا اور

Read more

اجنبی پہاڑ اور اجلا دریا: ہمیں رہائی کی سوچنا ہے

نئے پاکستان میں نئے سال کا پہلا کالم ہے۔ نئی راتیں ہیں نرالا چاؤ…. سیدھے پاؤں کی ایڑی مگر وہاں گھوم کے رہ جاتی ہے جہاں جنگل کی ایک پراسرار گپھا سے ناصر کاظمی کی صدا سنائی دیتی ہے، جو قافلے تھے آنے والے، کیا ہوئے…. قریب ہی پھولوں کے ایک کنج سے فیض کے گیان کی بازگشت سنائی دیتی ہے، آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار…. قدرے کھردرا تاثر یہ ہے کہ یہاں فیض صاحب

Read more

زیاں کے دفتر میں ایک برس اور لکھ لیا

ٹھیک تیس برس قبل یہی دسمبر کے آخری دن تھے۔ لاہور ایک گلزار شہر ہے۔ نور الدین سلیم جہانگیر کی چشم فسوں ساز کی پتلی نور جہاں نے بے سبب نہیں کہا تھا، لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم۔ لاہور میں ہر دوسرے کوس پر کسی خاموش کوچے میں ایک تمثال دار ٹکڑا ایسا ملتا ہے جس کی ایک ایک اینٹ پر تاریخ لکھی ہے۔ صفانوالہ چوک سے سینٹ انتھونی کے گرجے تک کوئی فرلانگ بھر کا ایسا ہی

Read more

کچھ اختر مینگل اور فواد چوہدری کے حق میں

صحافت ایک کڈھب پیشہ ہے۔ جن بلاؤں کو میر سنتے تھے، ان کو اس روزگار میں دیکھا۔ میر نے تو خیر چھوٹی بحر کے مصرعے میں روزگار کے لفظ کو سمندروں کی وسعت بخش دی ہے لیکن اگر کسی عامل صحافی سے پوچھیں تو وہ غریب یہی کہے گا کہ صحافت کا پیشہ نیم روزگار اور بے روزگاری کے معین وقفوں سے عبارت ہے۔ روزگار کی تہمت صحافت پر رکھنا مشکل ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ صحافی کبھی سابق

Read more

کچھ ذکر محمد انور خالد کا ….

محمد انور خالد کی شاعری نے مجھے دفعتاً 1996 میں اپنی گرفت لے لیا تھا۔ پھر شاعر سے کچھ خط و کتابت بھی ہوئی۔ اگست 2005 میں یہ نعمت ہمیشہ کے لئے اوجھل ہو گئی۔ 2006ء کے اواخر میں علی افتخار جعفری کی غزل پسند آئی تو فروری 2014ء میں علی بھی بچھڑ گئے۔ اب کسی زندہ شاعر سے محبت کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ فروری 2015 میں ایک کالم محمد انور خالد کی نذر کیا تھا۔ اس میں ایک

Read more

میلان کنڈیرا، کیکٹس کی فوٹوگرافی اور بونسائی آرٹ

نومبر 1989 کے تاریخ ساز موسم سرما تک یورپ میں چیکوسلاوکیہ کے نام سے ایک ملک پایا جاتا تھا۔ 1918 میں قائم ہونے والی ریاست چیکوسلاوکیہ 1948 سے 1989 تک سوویت یونین کے زیردست وارسا بلاک کا حصہ رہی۔ 1989 کے جمہوری انقلاب کے بعد یہاں کے رہنے والوں نے پرامن طریقے سے یکم جنوری 1993 کو چیک ریپبلک اور سلاوک ریپبلک کے نام سے دو علیحدہ ریاستیں قائم کر لیں۔ 40 برس پر محیط اشتراکی تجربے میں اس ملک

Read more

وجاہت مسعود کا غیر مثبت کالم جو چھپ نہیں پایا

اس برس 25 اگست کو احمد فراز کو رخصت ہوئے دس برس ہو گئے۔ خواہش تھی کہ آج کی عرضداشت کا آغاز احمد فراز کی ایک شہرہ آفاق نظم کی پہلی سطر سے کیا جائے۔ یوں بھی احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز اب ایوان بالا میں حزب اقتدار کے قائد ہیں۔ گویا جنگ کشمیر 1948 کے سپاہی احمد فراز کی پاکستان دوستی پر مہر تصدیق ثبت ہو چکی۔ بایں ہمہ، فراز کی نظم کا مصرع اولیٰ، اگرچہ برمحل ہے،

Read more

سیاست اور منٹو۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا مجموعہ ’رتی، ماشہ، تولہ‘ ان کی وفات کے بعد 1956 ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ایک دلچسپ افسانہ ’گاف گم‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ منٹو عمر کے آخری برسوں میں علامتی اظہار کی طرف مائل تھے۔ عام طور سے اس ضمن میں ان کے افسانے ’پھندنے‘ کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ’گاف گم‘ کی علامتی معنویت بھی قابل غور ہے۔ اس افسانے میں حامد نامی ایک ادیب اپنے ٹائپ رائٹر

Read more

اینٹی ہیرو سیاست کا فاعل کیسے گم ہوتا ہے؟ 

سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا مجموعہ ’رتی، ماشہ، تولہ‘ ان کی وفات کے بعد 1956ءمیں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ایک دلچسپ افسانہ ’گاف گم‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ منٹو عمر کے آخری برسوں میں علامتی اظہار کی طرف مائل تھے۔ عام طور سے اس ضمن میں ان کے افسانے ’ پھندنے‘ کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ’گاف گم‘ کی علامتی معنویت بھی قابل غور ہے۔ اس افسانے میں حامد نامی ایک ادیب اپنے ٹائپ رائٹر سے

Read more

شاد عارفی کا ایک مصرع اور عمران حکومت

ارادہ تو یہی تھا کہ شاد عارفی کا مصرع ابتدا ہی میں لکھ دیا جائے۔ خدشہ مگر یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان، فواد چوہدری اور فیصل واڈا جیسے فاضل وزرا شاد عارفی کی سطر میں الجھ کر جائیں گے۔ اتنی دھول اڑے گی کہ گرد کی موٹی تہہ میں دب کر اصل بات کھاد بن جائے گی۔ آج صبح خبر آئی ہے کہ کنونشن سینٹر میں عمران خان کی دیسی مرغیوں، انڈوں اور دیگر مال مویشی کے ذکر سے

Read more

شہریوں کے خلاف ٹارچر انصاف کا قتل ہے

یہ امر طے ہے کہ تشدد کی ہر صورت قابل مذمت ہے اور اس سے انسانی معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ایذا رسانی تشدد کی ایسی صورت ہے جس کے اثرات عمومی تشدد سے کہیں زیادہ گمبھیر اور دور رس ہیں۔ ٹارچر کا بدترین نتیجہ تو یہ ہے کہ یہ شہریوں اور ریاست کے مابین عمرانی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں نے ریاست کو اپنے تحفظ کے لیے وسائل اور اختیارات امانت کے طور پر دیے

Read more

میثاق جمہوریت میں کیا خرابی ہے؟

تری جانب سے دل میں وسوسے ہیں۔ ان دنوں ہم پاکستان میں نیا پاکستان (جدید ایڈیشن) کا تجربہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ بدخواہ بے پرکی اڑاتے ہیں کہ یہ تو سید پرویز مشرف کے متعارف کردہ بندوبست کا احیا ہے تاہم ایسے غیر سنجیدہ عناصر کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے ہردلعزیز وزیر اعظم نے مثال دینے کے لئے پرویز مشرف کے سنہری دور کا ذکر کیا ہوتا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں،

Read more

تاریخ کا قرض بڑھتا جا رہا ہے

معاملات نازک بھی ہیں اور حد درجہ اذیت ناک بھی۔ طاقت کے کھیل میں ایسے مقامات بھی آتے ہیں جہاں دلیل کو خاموش کر دیا جاتا ہے، اصول کو جلا وطن کر دیا جاتا ہے اور ضمیر کو کمرے سے نکال دیا جاتا ہے۔ دلیل کی توانائی کا سرچشمہ تاریخ ہے۔ تاریخ کے دو حصے ہیں۔ ایک جو گزر چکا اور دوسرا جسے ابھی ظہور پذیر ہونا ہے۔ دلیل بظاہر بے دست و پا ہو سکتی ہے لیکن وہ تاریخ

Read more