پہلا کشکول، جو خالی لوٹا دیا گیا

گزشتہ کالم میں، میں نے پاک امریکہ تعلقات کے باب میں ٹرومین ڈاکٹرائن کا ذکر کیا تھا۔ اس ڈاکٹرائن کی روشنی میں امریکہ جنوبی ایشیا میں مضبوط اتحادیوں کی تلاش میں تھا۔ اس ضرورت کے پیش نظر امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک طرح کی سٹریٹجک پارٹنر شپ کا آغاز ہوا، جس کے تحت پاکستان نے سویت یونین اور کمیونسٹ نظریات کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کا فصلہ کیا۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے

Read more

ٹرومین ڈاکٹرائن اور پاکستان

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ شکل کو سمجھنے کے لیے ان تعلقات کی ابتدا اور ان کے تاریخی ارتقا کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تاریخ پاکستان اور اس پورے خطے میں امریکی مفادات اور اس کے زیر اثر خارجہ پالیسی کی تفہیم کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی کی امریکی سیاست اور جنوبی ایشیا میں امریکہ مفادات کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اس وقت کی

Read more

چے گویرا اور عوام کی طویل ترین محبت

پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار کی ویب سائٹ پر چے گویرا کی ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان بھی ہیں۔ یہ تصویر غالباً انیس سو پینسٹھ میں چے کے دورہ پاکستان کے دوران کراچی ائر پورٹ پر لی گئی تھی۔ یہ مشہور مارکسسٹ لیڈر کا پاکستان کا دوسرا دورہ تھا۔ پہلی بار چے گویرا انیس سو انسٹھ میں پاکستان آئے، جب وہ مشرق وسطی اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک کے دورے پر تھے۔ بہت لوگوں

Read more

تاریخ و ثقافت کی بقا کیسے ممکن ہے

گزشتہ کالم میں میں نے کیوبا کے عجائب گھروں کا ذکر کیا تھا۔ ان عجائب گھروں کی وجہ سے کیوبا کو آرٹ کا پاور ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔ کیوبا کے سفر کے دوران میری ٹورسٹ گائیڈ ایلیسیا نے جب ہوانا شہر کے نقشے پر مجھے عجائب گھر دکھائے تو مجھے ایسا لگا کہ اگر ہم ان میں سے صرف آدھے عجائب گھر ہی دیکھنا چاہئیں، تو اس کے لیے کئی دن بلکہ ہفتے درکار ہوں گے۔ ہوانا شہر میں

Read more

کیوبا: پرانے گھروں اور نئے خیالات کا دیس

گزشتہ دنوں میں نے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے مسائل اور ان کے حل کے تناظر میں کیوبا کی ان شاندار کامیابیوں کا ذکر کیا تھا، جو اس نے ان شعبوں میں حاصل کی ہیں۔ کیوبا میں خواندگی کی شرع سو فیصد کے قریب ہے، اور اس ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں، جس کو صحت کی تمام سہولیات میسر نہ ہوں۔ اس سے پہلے میں نے کیوبا کے سفر کے دوران اس ملک کے نظام صحت

Read more

کیوبا کے سفر سے جڑی یادیں اور نظام تعلیم

گزشتہ کالم میں میں نے پاکستان میں سیلاب کے تناظر میں کیوبا کے سیلاب سے جڑی یادوں کا تذکرہ کیا تھا۔ میں نے کیوبا کے چند ایک سفر کیے ہیں، اور ان سفروں کا مقصد صرف تفریع کبھی نہیں رہا۔ یہ سفر بنیادی طور پر مطالعاتی مقصد کے لیے رہے ہیں۔ سفر کے دوران میری مکمل توجہ کا مرکز یہ سوال رہا ہے کہ کیوبا کا سیاسی و معاشی نظام کیسے کام کرتا ہے؟ یہ نظام اپنانے کی وجہ سے

Read more

ریاست، سیلاب اور سمندری طوفان

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے مناظر دیکھ کر مجھے کیوبا یاد آیا۔ کئی برس قبل مجھے کیوبا میں سمندری طوفان، سیلاب اور تیز ہواؤں کی تباہ کاریوں کا بڑے قریب سے مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ میں کیوبا ایک ایسے وقت میں پہنچا تھا، جب یہ ملک ایک خوفناک سمندری طوفان کے اثرات سے نکلنے کی جد و جہد میں تھا۔ یہ سمندری طوفان ارما کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ یہ سمندری طوفان کیوبا کے شمالی ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔

Read more

افغانستان میں اچھی خبر کی تلاش

افغانستان ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ گزشتہ دنوں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے قابل کو ایک خط لکھا ہے۔ ایک صفحے کے اس رسمی خط میں فارن آفس نے حکومت افغانستان کو کہا ہے کہ وہ مولانا مسعود اظہر کو تلاش کر کہ گرفتار کریں۔ پاکستان کے ایک معاصر انگریزی روز نامے میں شائع ہونے والی اس خبر پر اس اخبار کے بقول پاکستان کی وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے سے انکار

Read more

سیلاب اور جادوئی فارمولا

قدرتی آفات کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ یہ آفات ماحولیاتی تباہی کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ پاکستان میں سیلاب عذاب خداوندی یا انسانی گناہوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان لغزشوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہے، جن کی وجہ سے انسان نے اپنے ارد گرد کے ماحول کو تباہ و برباد کر کہ رکھ دیا ہے۔ آج ہزاروں لوگ اس سیلاب کی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ تباہی یہاں پر ختم نہیں ہو گی۔ آگے

Read more

گلابی لہر کیا ہے؟

پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات لاطینی امریکہ سے مختلف نہیں، لیکن یہاں ابھی تک کسی گلابی لہر کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی ہر پارٹی، جس کی کوئی ”عوامی فالونگ“ یا پارلیمنٹ میں سیٹ ہے، وہ کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار میں شریک ہے، اور اقتدار کی برکات سے استفادہ کر رہی ہے۔ مرکز میں درجن بھر سے زائد پارٹیاں شریک اقتدار ہے۔ ان کے خلاف حزب اختلاف کا کردار

Read more

بارش اور سیلاب سے جڑے خیالات

ماحولیاتی تباہی ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا اظہار کئی سالوں سے پاکستان میں موسمی شدت کے مختلف مظاہر سے ہو رہا ہے۔ غریب اور بے وسیلہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان مظاہر کا شکار ہو چکی ہے۔ ماحولیاتی تباہی کا اظہار کبھی گرمی کی شدید لہر کی شکل میں ہوتا ہے۔ کئی جنگلات میں آگ کی شکل میں نظر آتا ہے، جو لاکھوں درختوں اور جنگلی حیات کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔ کبھی گلیشیر پگھلنے اور

Read more

کینیڈا پاکستان مکالمہ

گزشتہ دنوں میلونی جولی اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت ہوئی۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ جولی نے بلاول بھٹو کو پاکستان کا وزیر خارجہ منتخب ہونے پر مبارکباد دی ۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیر بحث آئے۔ کینیڈا کے لیے اس خطے میں دلچسپی کے کئی امور ہیں۔ اس وقت کینیڈا کی فوری دلچسپی وہ افغانی ہیں، جن سے امریکی انخلا کے وقت کینیڈا نے امیگریشن دینے اور کینیڈا لانے

Read more

آزادی کا جشن منائیں مگر؟

گزشتہ ہفتے پاکستان اور ہندوستان نے اپنی اپنی آزادی کا جشن بنایا ہے۔ یہ جشن گزشتہ پچھہتر برسوں سے ہر سال باقاعدگی سے بنایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوش و خروش میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ تر تقریبات سرکاری سرپرستی میں ہوتی ہیں، اور شہری علاقوں تک محدود ہوتی ہے۔ گاہے غیر سرکاری تقریبات بھی ہوتی ہیں، جن میں زیادہ کاروباری اور تجارت پیشہ لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دیگر تقریبات کی طرح

Read more

ضمیر کی آوازیں اور سیاسی قیدی؟

دنیا میں جب سیاسی قیدیوں کی بات ہوتی ہے تو بڑے بڑے نام ذہن میں آتے ہیں۔ ان میں نیلسن مینڈیلا، موہن داس کرم چند گاندھی، یا حالیہ تاریخ میں انک سانگ سوچی جیسے نام ابھرتے ہیں۔ بالکل ہی تازہ ترین تاریخ میں بیلا روس، چین یا نکاراگوا اور جنوبی سوڈان کے کچھ قیدی، جن کو قید تنہائی میں رکھا گیا، یا پھر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنے کے باوجود ان قیدیوں کو

Read more

وزیر امور کشمیر، وائسرائے ہند نہ بنیں

یہ ایک مایوس کن پریس کانفرنس تھی۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس کی۔ یہ پریس کانفرنس آزاد کشمیر کے ایکٹ انیس سو چوہتر میں مجوزہ پندرہویں ترمیم کے تناظر میں ہوئی تھی۔ قمر زمان کائرہ ایک بھلے مانس آدمی ہیں۔ کئی لوگ ان کو انسان دوست اور دانشور قسم کا آدمی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کائرہ صاحب اس موضوع

Read more

حرف انکار، ضمیر اور آزاد عدالت

ہمارا ایک سب سے بڑا مسئلہ ”کنفیوژن“ ہے۔ دنیا کے ہر بڑے مسئلے پر ہمارے ہاں کنفیوژن پا یا جاتا ہے۔ اس کنفیوژن کا شکار صرف عوام ہی نہیں، بلکہ دانش ور، حکمران اشرافیہ، اکیڈمیا، سکا لرز اور لیڈرز بھی ہیں۔ اس کنفیوژن کی بے شمار مثالیں ہیں۔ ایک بڑی مثال سیکولر ازم ہے۔ دنیا بھر کے جمہوری ممالک اور بڑی زبانوں کی ڈکشنریوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سیکولر ازم کا مطلب مذہبی رواداری ہے،

Read more

تاریخ کا تاریک پہلو اور کشمیری قیدی۔

کشمیر کی تاریخ بہت قدیم اور عظیم ہے۔ قابل فخر ہے۔ مگر اس تاریخ میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اور ہر عمل قابل فخر نہیں۔ خواہ یہ حکمران طبقات کی طرف سے سرزد ہوا ہو، یا عوام نے اسے سر انجام دیا ہو۔ دنیا کی دیگر قوموں اور قومیتوں کی تواریخ کی طرح کشمیر کی تاریخ میں بھی بہت سارے ایسے عوامل اور واقعات ہوئے ہیں، جن پر کوئی بھی کشمیری فخر کے بجائے شرمندگی محسوس کرتا ہے، افسوس

Read more

نیا عالمی نظام اور اسلامی سوشلزم

پاکستان کا معاشی اور سیاسی بحران ایک مقامی مسئلہ ہے، لیکن یہ مسئلہ عالمی معاشی و سیاسی نظام کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو عالمی سرمایہ داری نظام کے بحران اور مسائل سے الگ کر کہ نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس وقت نیو ورلڈ آرڈر یا نئے عالمی نظام کے تحت دنیا کے مختلف ممالک کی اکثریت نیو لبرل ازم کے معاشی و جمہوری تصورات کے تابع ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ

Read more

نیا معاشی نظام اور اسلامی سوشلزم

پاکستان میں مغربی سرمایہ داری نظام کے متبادل معاشی نظام کی بحث بہت پرانی ہے۔ اور یہ بات صرف بحث کی حد تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہاں متبادل معاشی نظام کے نفاذ کی عملی کوشش بھی ہوتی رہی۔ اس باب میں نظام اسلام کے ناز سے لے کر اسلامی سوشلزم تک مختلف تصورات زیر بحث آتے رہے۔ پاکستان میں اسلامی سوشلزم کے تصورات کا جائزہ لینے سے پہلے اس کے تاریخی پس منظر

Read more

نئے عالمی نظام کی ضرورت

یہ اس سال کی سب سے اہم ترین ملاقات تھی۔ یہ ملاقات اس سال فروری میں بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں سن دو ہزار بائیس کے سرمائی اولمپکس کے آغاز سے کچھ دیر پہلے، دونوں رہنماؤں نے پانچ ہزار تین سو الفاظ پر مشتمل ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اس اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے تعلقات کا احاطہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا

Read more

وی۔ آئی۔ پی ازم

بہت عرصہ پہلے میں نے وی آئی پی ازم پرایک کالم لکھا تھا۔ میں نے اس کالم میں کینیڈا کے ایک شہر کی ایک تاریخی شخصیت کا ذکر کیا تھا، جو عوام میں بہت مقبول تھی، اور کینیڈا کے ایک شہر مسی ساگا کی گیارہ بار مئیر منتخب ہو چکی تھی۔ اس وقت میں لنچ ٹائم پر ایک مہمان دوست کے ساتھ مسی اس شہر کے ایک ریسٹورانٹ میں گیا۔ ویٹرس نے ہمیں کونے والی میز پر بٹھا دیا۔ میں

Read more

ایاز امیر: آزاد سوچ اور اظہار کے حق پر حملہ

جناب ایاز امیر پر حملہ افسوسناک ہے۔ یہ پاکستان میں آزاد سوچ رکھنے والے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے طویل سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ یہ عقل، دانش اور اظہار رائے کے حق پر حملہ ہے۔ یہ حملہ اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ اس سماج میں سچ کا اظہار آج بھی بہت بڑا چیلنج ہے، اور سچ بولنے والا غیر محفوظ ہے۔ اظہار کی آزادی کے سوال پر پاکستان کا آئین بلکہ واضح ہے۔ یہ آئین اظہار

Read more

دولت کی منصفانہ تقسیم ناگزیر کیوں ہے؟

معاشی اصطلاح میں افراط زر وہ شرح ہے، جس کے مطابق کسی ملک میں ”گڈ اینڈ سروسز“ یعنی اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک میں افراط زر بڑھنے یا کم ہونے کا انحصار دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک عالمی معاشی حالات و واقعات، اور دوسرا کسی ملک کے اپنے داخلی معاشی، سیاسی حالات اور حکومت کی پالیسیاں جو حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے یا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کرتی ہے۔ افراط

Read more

نئے نظام کی تلاش

گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ ستر سال کے ناکام معاشی و سیاسی تجربات کے بعد اب پاکستانی دانش وروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متبادل نظام پر غور کریں۔ لیکن یہ متبادل نظام یا نظریہ تصوراتی اور خیالی نہیں بلکہ عقلی اور منطقی سائنسی سوچ پر مبنی ہونا چاہیے۔ گزشتہ ستر برسوں کے دوران پاکستان میں ہر معلوم نظام آزمایا جا چکا ہے۔ حکمران طبقات وقتاً فوقتاً اسلام سے لے کر سوشلزم تک ہر

Read more

صرف خواہشات سے تبدیلی ممکن نہیں

پاکستان میں تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ یہ رکاوٹ نظام میں تبدیلی کی ضرورت کو تسلیم کیے بغیر سماج میں انقلابی تبدیلی کی خواہش ہے۔ تاریخی تجربہ تو یہ ہے کہ فرسودہ نظام کو بدلے بغیر کسی بھی ملک میں ایک نئے اور ترقی پسند سماج کا قیام ممکن ہی نہیں۔ گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ جو قومیں سرمایہ داری اور لبرل ازم کو ایک مقدس نظام قرار دے کر

Read more

پاکستان میں نظام کیسے بدل سکتا ہے؟

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اپنا اپنا منشور ہے۔ اس منشور کی بنیاد پر ہر جماعت اپنی الگ شناخت رکھتی ہے، اور اپنے وجود کی جو اذیت پیش کرتی ہے۔ اس اعتبار سے ان جماعتوں کا کوئی مشترکہ ایجنڈا نہیں۔ مگر ایک بات جس پر سب کا اتفاق رائے ہے، وہ موجودہ نظام ہے، جسے عرف عام میں سرمایہ داری نظام یا نیو لبرل ازم کا نام دیا جاتا ہے۔ اس وقت حکمران اتحاد اور حزب مخالف کی

Read more

آزاد ملک میں بات کہنے کی ضمانت لازم ہے

پاکستان میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا سوال بڑا پیچیدہ ہے۔ اس باب میں صرف انسانی حقوق کے علم برداروں اور صحافیوں کو ہی شکایات نہیں، بلکہ بسا اوقات خود وہ لوگ بھی شکوہ کرتے نظر آتے، جو مقبول سیاست دان ہیں، اور ان کا شمار حکمران اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ جب وہ بر سر اقتدار ہوتے ہیں، تو ان کو پاکستان دنیا کا آزاد ترین ملک نظر آتا ہے، جس میں ہر شخص کو اظہار

Read more

یا سین ملک کا مقدمہ اور عالمی عدالت انصاف

آج کل یاسین ملک کا مقدمہ عدالت انصاف میں لے جانے کے باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ باتیں کرنے والوں میں سرکاری شخصیات کے علاوہ غیر سرکاری شخصیات اور تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ قانون کے اس ادنی طالب علم نے بین الاقوامی قانون کے چند جانے پہچانے ماہرین، جن میں چند ایک یونیورسٹی پروفیسر بھی شامل ہیں سے سوال کیا کہ عالمی عدالت کا دائرہ اختیار کیا ہے؟ اور کیا یاسین ملک کا مقدمہ عدالت انصاف میں اٹھایا جا سکتا

Read more

امریکہ میں پھیلتی انتہاپسندی اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا ایک تحفہ ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بے آواز لوگوں کی توانا آواز بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن بعض حالات میں یہ نعمت ایسے خوفناک نتائج دے رہی ہے، جس کی توقع کوئی نہیں کر رہا تھا۔ یہ حالات وہ ہیں، جن میں سوشل میڈیا دائیں بازوں کی انتہا پسندی کے ہاتھ میں ایک طاقتور ہتھیار بن کر سامنے آیا ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوا ہے کہ سوشل

Read more

لانگ مارچ کے بعد کیا ہو گا؟

ہجوم کی حکمرانی کسے کہتے ہیں۔ ہجومی حکومت کیا ہوتی ہے۔ انبوہ گردی کیا ہے۔ مابوکریسی اور اوکلوکریسی جیسی اصطلاحوں اور الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ یہ ساری اصطلاحیں اردو کے سیاسی لٹریچر میں مشکل اور اجنبی سی لگتی ہیں، مگر موجودہ حالات سے ظاہر ہے کہ اب پاکستان میں عوام اور دانش وروں کو مجبوراً ان اصطلاحوں کے بارے میں جاننا پڑے گا۔ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی یہ اصطلاحات عام ہو رہی ہیں۔ ان کے بارے میں

Read more

کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں خفیہ قبائل ہیں؟

پاکستان میں سیاست جدید قبیلہ پرستی کی ایک شکل بن چکی ہے۔ یہاں سیاسی پارٹیاں، اب سیاسی پارٹیاں نہیں رہی ہیں، بلکہ جدید سیاسی قبائل کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہ ایک نئی اور مایوس کن صورت حال ہے۔ مگر اس کی خطرناکی کا ادراک بہت کم لوگوں کو ہے۔ اس صورت حال کی گمبھیرتا کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جو نفسیاتی ساخت اور رویے بن چکے ہیں وہ کسی طرح

Read more

سری لنکا اور پاکستان کی کہانی میں کیا فرق ہے

سری لنکا ہمارے خطے کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اس کی کل آبادی بائیس ملین ہے۔ پاکستان سے اس کا کوئی تقابل نہیں۔ رقبے اور آ بادی کے اعتبار سے پاکستان اس سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس نسبتاً بڑی معیشت اور طاقتور فوج ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان میں بہت سارے معاملات میں مماثلت بھی ہے۔ یہ مماثلت دونوں ملکوں کو در پیش موجودہ معاشی بحران سے جھلکتی ہے۔ دونوں کو عالمی قرضوں کی

Read more

سمندر پار پاکستانیوں کو پیغام کیا ہے

سمندر پار پاکستانیوں سے سابق وزیر اعظم کے وڈیو خطاب کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ ”حقیقی آزادی“ کے خواب کی تکمیل کے لیے ان کا دوبارہ اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ اس آزادی کو دو پہلو ہیں۔ خارجی اور داخلی۔ خارجی پہلو ”امریکی بالا دستی“ سے آزاد ہونا ہے۔ امریکہ کے باب میں انہوں نے دو چیزوں کی وضاحت کی ہے۔ ایک یہ کہ امریکہ دنیا میں جن حکومتوں کو ناپسند کرتا ہے، ان کے خاتمے کے لیے سازش

Read more

مذہبی کارڈ اور توہین مذہب کا مقدمہ

نئی حکومت سے عوام کو ہمیشہ نئے انداز حکمرانی کی توقع ہوتی ہے۔ پاکستان میں حالیہ تبدیلی کے بعد عوام کو بھی یہی توقع تھی۔ لیکن اس باب میں ان کے ابتدائی اقدامات نے ہی عوام کو مایوس کیا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے حکمران اشرافیہ ماضی کے تلخ تجربات اور غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتی۔ حال ہی میں حکومت نے حزب مخالف کے رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کے الزامات کے تحت مقدمہ کام کیا ہے۔

Read more

امریکی مراسلے میں نیا کیا ہے

امریکی مداخلت اور سازش پر حال ہی میں ہونے والی عام بحث کے دوران جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو یہ بتایا گیا کہ جس مراسلے کو آپ سازش قرار دے رہے ہیں ایسے مراسلے معمول کی بات ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ کیا ایسے مراسلے واقعی معمول کی بات ہے؟ یہ جاننے کے لیے اس باب میں امریکہ کی پرانی سرکاری دستاویزات کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ دستاویزات اب ”ڈی کلاسیفائیڈ“ ہو چکی ہیں۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت

Read more

اظہار رائے کی آزادی

پاکستان میں سیاہ قانون بنانے اور ان کو بدلنے کی جدو جہد کی تاریخ پرانی ہے۔ یہ قوانین نئی نئی شکلوں میں سامنے آتے رہتے ہیں، اور ان کے خلاف جدو جہد کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اطلاعات کی نئی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وہ قانون جو عوام کے اظہار رائے کے آئینی حق کی نفی کرتا ہو، ایسا کوئی سیاہ قانون نہیں بنایا جائیے گا، اور نہ ہی ایسے کسی قانون پر عمل

Read more

میرے مولا دے دے آزادی

میرے مولا دے دے آزادی۔ ہم چھین کے لیں گے آزادی، تیرے بندے مانگیں آزادی۔ آزادی کا یہ نعرہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہوتا ہوا، گلیوں اور محلوں میں پہنچا۔ اور اب حالیہ سیاسی بحران کے دوران پاکستان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں اس کی گونج سنائی دی۔ اقتدار سے بے دخل ہونے والی جماعت تحریک انصاف کے پر جوش ممبران نے یہ نعرہ بلند کیا۔ اس کی گونج پارلیمان اور اسلام آباد کے ایوانوں میں سنائی دی۔ مگر یہ ممبران

Read more

روس یوکرین جنگ کا ہم پر کیا اثر پڑے گا؟

کچھ دانش وروں کا خیال ہے کہ یوکرین پر روسی حملے نے دنیا میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ رد عمل میں کئی مغربی حکومتوں کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا اعلان ہوا ہے۔ روس کے خلاف یہ مشترکہ رد عمل اس عالمی اتحاد کو مضبوط کر سکتا ہے، جو روس اور چین کے خلاف جمہوریتوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اس طرح شاید آنے والی نسلوں کے لیے ”آزاد دنیا“ کو محفوظ بنانے

Read more

عدالتی فیصلوں کی تاریخ کیا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرار داد پیش ہونے کے بعد ملک کی سیاست ایک ڈرامائی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، اس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کا قرارداد کے بارے میں رولنگ آئین و قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔ حزب مخالف نے عدالت میں یہ عرض

Read more

عمران خان کے لیے تلخ تجربات کا سبق کیا ہے

پاکستان کی سیاست نمک کی کان کی طرح ہے، جس میں مل کر سب نمک ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ بے نظیر کو آکسفورڈ سے جانتے تھے، وہ جب اس بے نظیر بھٹو سے ملے، جو پاکستان کی وزیر اعظم بن چکی تھی تو انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی بے نظیر بھٹو ہے، جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک طالب علم رہنما تھی، اور سیاست میں آدرش پسند تھی۔ بے نظیر کی آکسفورڈ کی ایک حیرت زدہ

Read more

حکومت میں تبدیلی سے عوام کو کیا ملے گا؟

اسلام آباد میں کیا ہونے والا ہے؟ یہ ایک واضح اور دو ٹوک سوال ہے، لیکن کوئی سنجیدگی سے اس کا واضح جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔ البتہ حکومت اور حزب اختلاف کے پاس اس کا دو ٹوک جواب ہے، جو وہ کئی دنوں سے عوام کو دے رہے ہیں۔ حزب مخالف کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف جو قرارداد انہوں نے قومی اسمبلی میں پیش کی ہے، وہ سو فیصد کامیاب ہو گی۔ حکومت

Read more

کشمیر فائل میں کیا ہے؟

آج کل ”کشمیر فائل“ نامی فلم پر بڑا شور و غوغا ہے۔ اس پر تبصرے اور تجزیے ہو رہے ہیں۔ مجھ ایک دو چینلز پر اس فلم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے پر جوش رد عمل پر مجھے حیرت ہوئی۔ یہ رد عمل منفی بھی تھا، اور مثبت بھی۔ جو لوگ اس فلم کو پسند کرتے ہیں وہ اس کو بے عیب الہامی دستاویز کی طرح منوانا چاہتے ہیں،

Read more

ریاستوں کی کہانی کا نیا موڑ

گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ برصغیر کی آزادی اور تقسیم کے وقت ہندوستان اور پاکستان دونوں ریاست جموں کشمیر کو اپنے اپنے ساتھ میں ضم کرنے کے لئے کوشاں تھے، لیکن مہاراجہ ہری سنگھ اس وقت تک دونوں میں سے کسی کی بھی الحاق کے لیے تیار نہیں تھے۔ دوسری طرف انگریزوں نے انیس سو سنتالیس کے قانون آزادی ہند میں برصغیر سے انگریزوں کے انخلا کی قانونی بنیاد واضح کر دی تھی، اور اس

Read more

کیا پوٹن مشرق کا ہیرو ہے؟

روس اور یوکرین کا مسئلہ ہمارے عہد کا تازہ ترین المیہ ہے۔ اس موسم بہار میں اور شاید اس کے بعد بھی آنے والے کئی موسموں میں اس المیے پر بات ہوتی رہے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ طویل ہو کر ماضی کی جنگوں کی طرح خوفناک انسانی تباہی و بربادی کا باعث بنے گی اور نئے المیے جنم دے گی؟ یا ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں فریقین اس تنازعے کا جلد از جلد

Read more

شاہی ریاستوں بارے مسلم لیگ کی پالیسی کیا تھی؟

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ سردار پٹیل نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ہندوستان کی شاہی ریاستوں سے بھری ہوئی ٹوکری کی فرمائش کی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن یہ فرمائش پوری کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ لیکن تقسیم کے وقت اس ٹوکری میں تین سیب کم تھے۔ ان تین کے علاوہ ہندوستان کے ساتھ وہ تمام ریاستیں شامل ہو چکی تھیں، جن کی کانگرس خواہش کر سکتی تھی۔ ان ریاستوں میں حیدر آباد، جونا گڑھ اور جموں کشمیر شامل نہیں

Read more

ریاستوں سے بھری ٹوکری کا قصہ

خطے میں مستقل تصادم کی وجہ تنازعہ کشمیر ہے۔ جب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہو جاتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ اس انٹرویو پر ایک معاصر نے طویل ادا ریہ لکھا، جس میں اخبار نے وزیر اعظم کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کو برصغیر کے لوگوں کے

Read more

گیارہ فروری : مقبول بٹ کی یاد میں کیا کیا جائے

مقبول بٹ کے بارے میں کالم لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ کالم کی تنگ دامانی آڑے آتی ہے۔ جو کچھ میں مقبول بٹ کے بارے میں لکھ سکتا ہوں۔ یا لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے ایک ضیغم کتاب بھی کم پڑھ سکتی ہے۔ خیالات کا ایک ریلا ہے، جس کے سامنے انسان اپنے اپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ مقبول بٹ ان محدودے چند افراد میں سے ہیں، جن کے دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ جو

Read more

جب مسئلہ کشمیر سرد خانے کی نذر ہوا

گزشتہ دنوں میں نے ان ہی سطور میں معاہدہ شملہ کے باب میں عرض کیا تھا کہ اکہتر کی جنگ کے نتائج کی وجہ سے پاکستان دفاعی پوزیشن پر چلا گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جنگ کے بعد بھارت سے واضح طور پر تصادم کی جگہ مفاہمت کی پالیسی کا اعلان کر دیا تھا۔ کشمیریوں کے حق خود ارادی پر بھی انہوں نے نئی پالیسی اپنا لی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صرف پاکستان اکیلا کشمیریوں کی حق

Read more

شملہ میں کیا ہوا تھا؟

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ تاشقند کے بعد شملہ معاہدے میں مسئلہ کشمیر سنجیدگی سے زیر غور آیا تھا۔ معاہدہ شملہ ایک سیدھا سادہ امن معاہدہ تھا۔ اس معاہدے پر پاکستان اور بھارت نے ریاست ہما چل پردیش کے ہل اسٹیشن شملہ میں دو جولائی انیس سو بہتر کو دستخط کیے۔ یہ ایک انتہائی مختصر اور جامع معاہدہ تھا، جس میں دونوں ممالک نے اپنے تمام اختلافات کا حل پر امن طریقے سے حل کرنے کا عزم کیا۔

Read more

تاشقند کی اصل کہانی کیا تھی؟

تاشقند پر آج تک بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ اس واضح اور دو ٹوک دستاویز کو ایک پر اسرار دستاویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کوئی اسے کشمیر پر سودے بازی یا سرنڈر کہتا ہے۔ کوئی اسے پاکستان کی فتح قرار دے دیتا ہے، کوئی اسے بھارت کی شکست۔ اور کچھ لوگ یہاں تک جاتے ہیں کہ بھارت کی اس شکست کو وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو معاہدے کے فوراً بعد دل کا دورہ

Read more

جب ایوب خان نے جنگ بند کرنے کا فیصلہ کیا

گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ بائیس ستمبر انیس سو پینسٹھ کا دن ایک بڑے فیصلے کا دن تھا۔ صرف کشمیری عوام ہی نہیں، چین، سوویت یونین، امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت دنیا یہ جاننا چاہتی تھی کہ پاکستان اور بھارت اس دن جنگ بندی کی ”ڈیڈ لائن“ پر کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ایوب خان کو امریکہ کی طرف سے واشگاف انداز میں بتا دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے بائیس ستمبر کو جنگ

Read more

جب ایوب خان کو سرخ چین سے تعلق توڑنے کو کہا گیا

گزشتہ کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ پینسٹھ کی جنگ میں چین کی دھمکی نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سترہ ستمبر انیس سو پینسٹھ کو وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”میں اس ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج صبح چین کی حکومت کی طرف سے ہمیں یہ الٹی میٹم ملا ہے کہ ہم تین دن کے اندر اندر تبت میں چین کی طرف کی سرحدی علاقے سے

Read more

جب بھٹو نے خالی ہاتھوں بھارت سے لڑنے کا اعلان کیا

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ چار ستمبر انیس سو پینسٹھ کو امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات میں بھارت وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے یہ شرط رکھی تھی کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی قبول کرنے کی صورت میں دنیا بھارت کو مسئلہ کشمیر پر بات کرنے پر مجبور نہیں کرے گی۔ دوسری طرف پاکستان کا یہ سخت اصرار تھا کہ مسئلہ کشمیر پر بات کیے بغیر جنگ بندی کا تصور کرنا ہی نا ممکن ہے۔ جنگ کے

Read more

جب شاستری نے بھٹو سے جان چھڑانے کی خواہش ظاہر کی

امریکہ کی طرف سے ”انتظار کرو اور دیکھو“ کی پالیسی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان یکم ستمبر انیس سو پینسٹھ کو باقاعدہ ”فل سکیل“ جنگ چھڑ چکی تھی۔ لیکن جب امریکہ سے ثالثی کی درخواستیں ہونے لگیں، اور انڈیا و پاکستان دونوں نے اصرار شروع کیا تو صدر جانسن نے دونوں ملکوں میں مقیم اپنے سفارتکاروں سے کہا کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ دونوں ملکوں کا جنگ بندی کے بارے میں کیا موقف ہے، اور سیکورٹی کونسل

Read more

جب امریکی صدر نے شاستری کا دورہ منسوخ کر دیا

چند دن قبل ان سطور میں عرض کیا تھا کہ رن آف کچھ کے تنازع پر صدر ایوب نے صدرلنڈن جانسن کو خط لکھا کہ وہ بھارت کو یاد دلائیں کے اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ  بھارت کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے  گا۔ جواب آں غزل کے طور پر لال بہادر شاستری نے تئیس مئی انیس سو پینسٹھ کو صدر جانسن کے نام اپنے خط میں پاکستان پر جارحیت کا الزم لگایا، اور کہا کہ

Read more

جب ایک خفیہ خط نے نہرو کی کشمیرپالیسی بدل دی

bashani2000@yahoo.com گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ مئی انیس سو چوسٹھ میں شیخ عبداللہ کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے دوران اچانک ایک ایسا واقعہ ہوا، جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر ایجنڈے سے اتر کر پس منظر میں چلا گیا۔ یہ واقعہ پنڈت جواہر لال نہرو کی اچانک موت تھی۔ پنڈت نہرو کی موت اگرچہ غیر متوقع نہیں تھی۔ وہ پانچ ماہ سے سخت علیل تھے۔ اس علالت کے دوران انہوں نے ایک  بار

Read more

جب ایک قیدی کو کشمیر پر ثالث بنا دیا گیا

پچھلے دنوں عرض کیا تھا کہ انیس سو چوسٹھ کے موسم سرما میں سیکورٹی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث کے دوران صرف پاکستان میں ہی نہیں، بھارت میں بھی بڑی حساسیت اور بےچینی تھی۔  بیس فروری انیس سو چوسٹھ کو بھارت سے امریکی سفیر نے ایک ٹیلی گرام سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیا۔ اس ٹیلی گرام میں کہا گیا کہ سیکورٹی کونسل میں کشمیر پر ہونے والے مباحثے سے بھارتی سرکار اور عوام میں غم و غصے کی ایک

Read more

بر صغیر کے جسم پر رستا ہوا زخم

چند دن پہلے عرض کیا تھا کہ پاکستان نے انیس سو چوسٹھ میں اچانک مسئلہ کشمیر سکیورٹی کونسل کو ریفر کر دیا تھا۔  اس نئے قدم نے امریکا کو سخت ناراض کر دیا تھا۔ امریکی سفارتی حلقوں میں اس ناراضی کا کھلا اظہار بھی کر دیا گیا تھا۔    دوسری طرف دنیا کی دوسری بڑی سپرطاقت سوویت یونین کی طرف سے مخالفت اور ویٹو کا خطرہ  بھی موجود تھا، چونکہ سویت یونین ابھی تک مسئلہ کشمیر کو برصغیر میں سامراجی مداخلت قرار دینے کی

Read more

کینیڈا میں غریب کسے کہتے ہیں؟

کینیڈا ایک امیر ملک ہے۔ اس کا شمار دنیا کے سات بڑے خوشحال صنعتی ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں رہائش، خوراک اور صحت جیسے زندگی کے بنیادی مسائل بڑی حد تک حل کیے جا چکے ہیں۔ اس ملک میں دولت ہے۔ استحکام ہے۔ ایک خاص ترتیب ہے، سلیقہ ہے۔ یہاں بنیادی مسائل نہیں رہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سماج مکمل طور پر مسائل سے پاک ہو چکاہے۔ ایک ترقی یافتہ سماج کے طور پر یہاں اب حکمرانوں

Read more

جب مسئلہ کشمیر چو این لائی کے دورے کا شکار ہوا

چند دن پہلے عرض کیا تھا کہ صدر جے ایف کینیڈی مسئلہ کشمیر کے حل کا پر جوش حامی تھا۔ لیکن انہوں نے جو "سٹیٹس کو” کی بات کی مسئلہ کشمیر عملی طور پر اس کا شکار ہو گیا۔  اور آج تک اس کا شکار ہے۔ کینیڈی کی موت کے فورا بعد امریکی حکام کے لیے پاکستان چین تعلقات کا آغاز بہت بڑی دلچسپی اور تشویش کا باعث بن گیا۔  یہ مسئلہ امریکہ کے لیے ایک چیلنج بن گیا، جس کی وجہ

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار” سے "کھوئے ہوئے صفحات” تک”

کھوئے ہوئے صفحات ڈاکٹر بلند اقبال کی تازہ ترین تخلیق ہے۔ یہ ایک شہکار ناول ہے، جو ایک جرمن عورت کی کہانی بیان کرتا ہے، جو نازی جرمنی کے مظالم کا شکار ہو کر پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔ لیکن یہ صرف ایک عورت کی آپ بیتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک پورے زمانے کی کہانی ہے، جس میں کروڑوں لوگ رنگ، نسل، عقیدے اور دیگر تعصبات کا شکار ہوئے۔ یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔

Read more

جب کینیڈی نے پنڈت نہرو کے بازو مروڑے

گزشتہ دنوں ان ہی سطور میں یہ عرض کیا تھا کہ سن انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ کے بطن سے جنم لینے والے حالات و واقعات نے صدر ایوب اور دیگر پالیسی سازوں کو پریشان کر دیا تھا۔ امریکہ کے ساتھ مضبوط رشتہ استوار کرنے کے لیے آج تک ان لوگوں نے جو محنت کی تھی، وہ رائگاں جاتی نظر آ رہی تھی۔ ان کو اپنی بر سہا برس کی بنائی ہوئی پالیسی بے کار ہوتی نظر آ

Read more

جب امریکہ نے پاکستان کو کشمیر پر حملے سے روک دیا

کچھ دن پہلے ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ صدر کینیڈی کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد مسئلہ کشمیر پر صدر ایوب سخت قسم کی بے چینی اور پریشانی میں مبتلا ہو گئے تھے۔ مسئلہ کشمیر اور پاکستان انڈیا تعلقات کے باب میں ان کے ذہن میں کئی قسم کے خوف اور اندیشے سر اٹھا رہے تھے۔ مستقبل میں پیدا ہونے والی کسی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے کچھ پیشگی اقدامات

Read more

جب امریکی صدر نے ثالثی کی پیشکش واپس لی

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ کراچی میں آٹھ دسمبر کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خوش امیدی کے اظہار کے بعد جب صدر آئزن ہاور بھارت کے لیے روانہ ہوئے تو پاکستان میں اس حوالے سے رجائیت پسندی اپنے عروج پر تھی۔ مگر صد آئزن ہاور جب دلی پہنچے تو وہاں کا ماحول دیکھ کر لگتا تھا کہ امریکہ بھارت کا دنیا میں سب سے قریب ترین اتحادی ہے۔ امریکی صدر کو اکیس توپوں کی

Read more

جب آئزن ہاور نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا وعدہ کیا۔

پچاس کی دہائی کے اواخر میں جنوبی ایشیا میں امن کے سوال اور مسئلہ کشمیر پر امریکی پالیسی نے ایک نیا موڑ لیا تھا۔ اس پالیسی کا اظہار اس وقت کے عالمی طاقت ور حلقوں کی اس مسئلے پر باہمی گفتگو، خطوط کے تبادلے اور ٹیلی گراہم وغیرہ کی شکل میں موجود دستاویزات سے ہوتی ہیں، جن کو اس وقت بہت سختی سے خفیہ رکھا گیا۔ اس کی ایک مثال کراچی کی ایک میٹنگ کی یاداشت ہے، جو کراچی سے

Read more

جب مسئلہ کشمیر کو سیٹو میں جانے سے روکا گیا

پچاس کی دہائی میں مغرب کا اہم ترین اتحادی ہونے کے ناتے پاکستان مسئلہ کشمیر پر مغرب سے کیا فوائد اٹھا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں بہت زیادہ توقعات پیدا ہو چکی تھیں۔ اس سلسلے میں بھارت میں بھی کئی خدشات اور خوف جنم لے رہے تھے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اس باب میں خود مغربی اتحادی کیا سوچتے تھے۔ اس سوال کا جواب ہمیں ایک ٹیلی گرام سے ملتا

Read more

کشمیر سرد جنگ کے بھنور میں کیسے پھنسا؟

میں نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ انیس سو سنتالیس سے لے کر انیس سو پچاس تک کشمیر پر امریکی پالیسی ایک سست رفتار ارتقائی عمل سے گزرتی رہی۔ ایک طویل مشق کے بعد بالآخر انیس سو اکیاون میں ریاست ہائے امریکہ نے جنوبی ایشیا میں اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا آغاز کیا۔ اس فیصلے کے بے شمار محرکات تھے۔ لیکن جن عوامل نے امریکہ کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دی ان میں اس سوچ کا

Read more

ہیری ٹرومین کی کشمیر پالیسی کیا تھی؟

اگست انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم سے کچھ ماہ پہلے تک امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ بر صغیر کی تقسیم اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حکومت برطانیہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ امریکی صدر ہیری ٹرومین کی پالیسی یہ تھی کہ برصغیر میں طاقت کی منتقلی حکومت برطانیہ اور برصغیر کے مختلف سیاسی گروہوں اور جماعتوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ برطانیہ اس خطے میں اپنے طویل تجربے، وسیع اثر و رسوخ اور قریبی روابط کی

Read more

خروشیف کی کشمیر پالیسی کیا تھی؟

میں نے گزشتہ کسی کالم میں پچاس کی دہائی میں کشمیر کے سوال پر سویت یونین کی پالیسی کا جائزہ لیا تھا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ سٹالن کی پالیسی لاتعلقی پر مبنی تھی، اور شروع میں اس سپر طاقت کی طرف سے بر صغیر کی سیاست اور مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اس بارے میں آہستہ آہستہ سویت پالیسی میں ارتقا ہوا۔ پچاس کے اوائل میں لاتعلقی کی جگہ تشویش نے لینی شروع کی۔ وقت

Read more

کشمیر پر سٹالن کیا سوچتا تھا؟

میں نے گزشتہ کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ پچاس کی دہائی میں دنیا کی تقسیم اور صف بندی امریکہ اور سوویت یونین کے گرد گھومتی تھی۔ اس صف بندی میں تیسری دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک اپنی اپنی خواہشات اور ضروریات کے تحت شامل ہوتے تھے۔ اس دور میں پاکستان ایشیا کا واحد ملک تھا، جو بیک وقت بغداد پیکٹ اور سیٹو جیسے دو عالمی معاہدوں میں شامل ہو گیا تھا۔ ان معاہدوں میں شمولیت نے پاکستان

Read more

ماضی کے تجربات کا سبق کیا ہے؟

گزشتہ دنوں میں نے ان ہی سطور میں اس بات کا جائزہ لیا تھا کہ امریکہ کا دنیا میں بطور سپر پاور ابھار صرف فوجی طاقت وجہ سے نہیں تھا۔ اس کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار معاشی اور ثقافتی تھے۔ امریکہ نے ان ہتھیاروں کا استعمال بڑی چابک دستی سے کیا۔ اس نے دنیا میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے ایک وسیع حکمت عملی اختیار کی۔ مالی وسائل خرچ کیے۔ فوجی

Read more

کیا امریکہ پسپائی کے لیے تیار ہے؟

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے عالمی سطح پر ایک سپر پاور کا مقام حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے جن عناصر پر بھروسا کیا، ان میں سے ایک اہم ترین عنصر اس کی بے پناہ معاشی طاقت تھی۔ اس بے پناہ معاشی طاقت کا اظہار دوسری چیزوں کے علاوہ غیر ملکی امداد کی شکل میں ہوا۔ اس امداد کو عرف عام میں ”یو ایس فارن ایڈ“ کہا جاتا ہے۔ اس بیرونی امداد سے مراد وہ دولت ہے،

Read more

امریکی دانش ور ناراض کیوں ہیں؟

کچھ امریکی دانش ور افغانستان کے باب میں اپنی ریاست کے حالیہ اقدامات اور حکمت عملی پر سخت ناراض ہیں۔ ان کی ناراضی بے وجہ نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کشی کا بنیادی اور آخری مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں کو ختم کیا جائے۔ لیکن آگے چل کراس مقصد کے حصول کے لیے اس وقت کی مقامی افغان

Read more

آزاد سمندر اور سرد جنگ: چین اور امریکہ مقابل

سال دو ہزار سترہ کے موسم خزاں میں فلپائن کے شہر منیلا میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے میزان جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو ایبی تھے۔ یہ بہت اہم میٹنگ تھی۔ مگر منیلا شہر کے لیے یہ عام سا دن تھا۔ یہاں روز مرہ کی زندگی رواں دواں تھی۔ کسی نے اس میٹنگ کا خاص نوٹس نہیں لیا، اور نہ ہی یہ میٹنگ مقامی یا عالمی اخبارات میں ہیڈ لائنز بنا سکی۔ اور تو خطے پر گہری نظر

Read more

کینیڈا کے انتخابات، کیا انتخابات ہیں؟

کینیڈا میں انتخابی مہم اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی۔ اگلے ہفتے اکیس ستمبر پولنگ کا دن ہے۔ خاموشی سے انتخابی مہم مکمل ہوئی۔ اور خاموشی سے نو منتخب حکومت اپنا کام شروع کر دے گی۔ ہم لوگ جو انتخابات کو حق و باطل کا معرکہ سمجھتے ہیں، ہمیں یہ انتخابات حقیقی نہیں لگتے۔ ہم جیسے پس منظر رکھنے والے لوگوں کے انتخابات کے باب میں بڑے تلخ تجربات ہیں۔ ہمیں تو یقین ہی نہیں ہو رہا کہ انتخابات

Read more

شدت پسندی کے نئے ہمدرد کون ہیں؟

طالبان کی طرف سے افغانستان پر کنٹرول کے بعد دنیا بھر سے مختلف الخیال لوگوں کی طرف سے ان کے خلاف آوازیں بلند ہوئی ہیں۔ ان میں بے شمار دانش ور، شاعر ادیب، فنکار اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات شامل ہیں۔ اس مخالفت کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو طالبان کا ماضی ہے۔ ماضی میں افغانستان میں انیس چھیانوے سے سن دو ہزار ایک تک جو طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی،

Read more

مسئلہ کشمیر: بامعنی گفتگو اور با مقصد پالیسی کی ضرورت

اگست دو ہزار سولہ کے آخری ہفتے میں نے یہ کالم لکھا تھا۔ فیس بک نے یادوں کے ذخیرے سے یہ کالم نکال کر پیش کر دیا۔ پانچ سال پہلے یہ کالم میں نے آزاد کشمیر کے اس وقت کے نئے صدر کے حلف اٹھانے کے موقع پر لکھا تھا۔ اتفاق سے گزشتہ دنوں بھی آزاد کشمیر میں بیرسٹر سلطان نے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ اس موقع پر مجھے یہ پرانا کالم پڑھ کر لگا کہ

Read more

ترقی اور تباہی میں فرق ضروری ہے

دنیا اس وقت ماحولیاتی تباہی سے بچنے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔ اس باب میں بے شمار ہنگامی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان میں ایک بڑا قدم پن بجلی کے ڈیم توڑنے اور ان کی جگہ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی رہی ہے۔ اس ماحول میں آج بھی کچھ ملک پن بجلی کے وہ ڈیم بنانا چاہتے ہیں، جو دنیا ماحول کو بچانے

Read more

شدت پسندی اور یوٹوپیا؟

افغانستان سے فوجی انخلا پر امریکی رائے عامہ خوش ہے مگر انخلا کے طریقہ کار پر لوگوں کو شدید اعتراض ہے۔ اس پر کئی دانش ور اور رائے ساز لوگ غصے میں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انخلا کے اس طریقہ کار کی وجہ سے امریکہ کی مالی اور جانی قربانی رائیگاں گئی ہے۔ اس انخلا سے امریکہ کا بطور واحد سپر پاور غرور خاک میں مل گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے ویت نام کی طرح کا زخم قرار

Read more

ترقی اور اجتماعی خود کشی میں کیا فرق ہے؟

دنیا پن بجلی کے ڈیم توڑنے کے فکر میں مبتلا ہے۔ ہم پن بجلی کے نئے ڈیم بنانے کے بارے میں فکر مند اور پر جوش ہیں۔ اوپر سے عوام میں اسے اپنا عظیم ترین کارنامہ بنا کر پیش کرتے ہیں، اور ان کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ہمارا یہ بھی دعوی ہے کہ ہم دنیا سے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں، اور ماحولیات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ دنیا اس وقت ماحولیاتی

Read more

افغانستان: نئی سازشی تھیوری کیا ہے؟

افغانستان کے بارے میں اس وقت کئی کانسپیریسی تھیوریاں گردش کر رہی ہیں۔ ایک تھیوری یہ ہے کہ طالبان کی یک دم اور حیرت انگیز پیش قدمی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان خفیہ ڈیل ہو چکی تھی۔ اس تھیوری کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے، تو بہت سارے حقائق سامنے آتے ہیں، جن کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان محبت و نفرت کی ایک طویل تاریخ

Read more

افغانستان: کون ہیرو اور کون ولن ہے؟

افغانستان میں امریکی ناکامی کے اسباب کیا تھے؟ یہ وہ سوال ہو گا، جو شاید آنے والی نسلوں کے نصاب میں شامل ہو گا، اور ہر امتحان میں تاریخ کے طالبعلم سے پوچھا جائیے گا۔ طالب علم کے لیے یہ دنیا کی تاریخ کا آسان ترین سوال ہو گا۔ طالب علم وہ چند وجوہات پیش کردے گا، جو اس ملک میں بیس برسوں کی لڑائی کے بعد امریکی پسپائی اور ناکامی کا باعث بنیں۔ تاریخ دان اپنی اپنی مرضی، نظریات

Read more

آزادی اور جشن آزادی؟

ان دنوں ہر طرف جشن کا ساماں ہے۔ پاکستان اور ہندوستان اپنی اپنی آزادی کا جشن بنا رہے ہیں۔ یہ جشن گزشتہ چوہتر سال سے باقاعدگی سے بنایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جوش و خروش میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ جشن آزادی بالکل بجا، مگر یہ جشن بناتے ہوئے ان دونوں ملکوں میں اس بات پر بھی غور ہونا چاہیے کہ ہم جس آزادی کا جشن بنا رہے ہیں وہ کیا واقعی

Read more

سفید ہاتھی سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟

جو بائیڈن مصروف آدمی ہیں۔ ان کے بوڑھے کندھوں پر دنیا کی طاقتور ترین ایمپائر کا بوجھ ہے۔ صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مسائل ہی نہیں، دنیا کا ہر بڑا مسئلہ ان کی توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ خواہ دنیا میں جنگ و امن کا سوال ہو، ماحولیاتی تبدیلی اور تباہی کا مسئلہ ہویا دنیا کے بڑے معاشی و سیاسی فیصلے ہوں، امریکی صدر کو ان مسائل کے بارے میں آگاہ رہنا پڑتا ہے، اور فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ظاہر

Read more

کیا پاکستان میں عورت کی حالت مغرب سے بہتر ہے؟

وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر چار ماہ بعد اپنی بات کی وضاحت کی۔ کہانی کا آغاز اس سال اپریل میں ہوا۔ پاکستانی عوام سے براہ راست ٹیلی فون کالز کے دوران وزیر اعظم نے جنسی جرائم کی وجوہات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئیے فرمایا کہ پاکستان میں ”ریپ“ کے واقعات میں اضافے کی وجہ فحاشی اور عریانی میں اضافہ ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے خلاف پاکستان کی سول سوسائٹی میں بہت بڑا رد عمل ہوا۔ ہر

Read more

امریکی دانشور کیا سوچتے ہیں؟

نیویارک یونیورسٹی میں مباحثہ ہو رہا تھا۔ مباحثے کے دو مقرر تھے۔ ہر مقرر کو صرف سترہ منٹ کا وقت ملا تھا۔ اس قلیل وقت میں ایک مقرر نے ثابت کرنا تھا کہ سوشلزم ہمارے دور کا سب سے بہترین معاشی نظام ہے‘ دوسرے مقرر نے دلائل دینے تھے کہ سرمایہ داری ہی موجودہ دور میں سب سے اعلی ترین معاشی نظام ہے۔ دونوں کوئی عام مقرر نہیں تھے۔ یہ دونوں امریکہ کے جانے پہچانے سکالرز اور پروفیسرز تھے۔ دونوں

Read more

آزاد کشمیر انتخابات: نوشتہ دیوار کیا ہے؟

آزاد کشمیر انتخابات اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہار جیت کی پیش گوئیاں جاری ہیں۔ ایک عام آدمی سے بات ہوئی، جس کی معلومات اس باب میں خیرہ کن ہیں۔ موصوف کو ہر حلقے کے ہر چھوٹے بڑے امیدوار کے نام، ان کے ذرائع آمدن، معاشی حیثیت، ماضی کی سیاسی وابستگیاں، یہاں تک کہ تین پشتوں تک ان کا شجرہ نسب تک یاد ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ان کا تجزیہ اور نتائج کے بارے میں

Read more

تشدد کے خلاف قانون، پولیس کے لیے چیلنج؟

پاکستان میں حال ہی میں ایک قابل تعریف بل پاس ہوا ہے۔ یہ حراست میں تشدد کے خلاف ایک بہترین بل ہے۔ مگر کسی نے اس بل کو اہمیت نہیں دی۔ نہ تو اخبارات نے اس پر سرخیاں جمائیں، اور نہ ہی اس کی توصیف میں لکھاریوں نے کالم لکھے۔ استشنا کے طور پر البتہ ایک آدھ اخبار نے اس پر اداریہ لکھا جو قابل تحسین ہے۔ اس طرح کے موضوعات پر عموماً کالم اس لیے نہیں لکھے جاتے کہ ان کو زیادہ مقبولیت نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا پر ”لائیک“ نہیں آتے۔ اس سے کوئی معاشی یا سیاسی فائدہ نہیں ہوتا۔

Read more

تصویر کا دوسرا رخ کیا ہے

کچھ امریکی دانشور ہماری اس دنیا کی نئی تصویر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نئی تصویر مکمل طور پر حقیقت کی عکاس نہیں، مگر طاقت ور حلقوں میں مقبول ہے۔ اس سال موسم بہار کے آغاز میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی نئی تصویر کو حقیقت تسلیم کیا ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ یہ دنیا بنیادی طور دو متحارب دنیاوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف جمہوری دنیا ہے۔ دوسری طرف مطلق العنان حکومتیں یا شخصی حکمرانیاں ہیں۔ ہم ان دو دنیاوں کے درمیان نقطہ تصریف پر کھڑے ہیں۔

Read more

چین اپنا یار ہے، اس پر جان نثار ہے

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے حال ہی میں اپنی تشکیل کی صد سالہ تقریبات منعقد کی ہے۔ صد سالہ جشن میں شرکت کے لیے چین نے دنیا بھر کی پانچ سو زائد سیاسی پارٹیوں کو زوم کے ذریعے شرکت کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی۔ اتنی بڑی تعداد میں دعوت کا مطلب تھا کہ گویا دنیا بھر میں کسی قابل ذکر پارٹی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی استشناء تھا تو وہ خود چین کی

Read more

گورباچوف نے امریکہ کو کیا مشورہ دیا تھا؟

امریکہ نے بگرام کا اڈا خالی کر دیا۔ امریکی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا جا چکا۔ امریکی مان چکے کہ اب افغانستان میں ان کا قیام بے معنی ہے۔ اس صورت حال پر تبصروں و تجزیوں کی بھرمار ہے۔ مجھے اس موقع پر ایک امریکی لکھاری سٹیوکول کا ایک مضمون یاد آتا ہے، جو اس نے اس موضوع پر اس سال موسم بہار میں لکھا تھا۔ یہ مضمون ”دی نیویارکر‘‘ میں چھپا تھا۔ کول لکھتا ہے کہ سن دو

Read more

کیا قانون مکڑی کا جالا ہے؟

قانون مکڑی کا وہ جالا ہے، جس میں کیڑے مکوڑے تو پھنستے ہیں، مگر بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ یہ مقولہ عموماً افلاطون اور دیگر یونانی فلسفیوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مگر زیادہ مستند روایات کے مطابق یہ مقولہ کچھ یوں ہے کہ تحریری قوانین مکڑی کے جالے کی طرح ہوتے ہیں، وہ غریب اور کمزور کو پکڑتے ہیں، لیکن امیر اور طاقت ور ان کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ یہ بات چھ صدی

Read more

انگریزی زبان، لباس اور احساس کمتری

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فرما یا ہے کہ انگریزی بولنا اور مغربی لباس پہننا فخر کی بات نہیں، بلکہ احساس کمتری کی نشانی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب دنیا میں انگریزی کو جدید علوم کے حصول کا بنیادی ذریعہ اور کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس باب میں دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف عوامی جمہوریہ چین کی مثال

Read more

غیر پارلیمانی زبان سے گالی تک

پاکستان کی پارلیمان میں جو کچھ ہوا بہت افسوسناک ہے۔ کچھ ”عزت ماب“ اراکین کی دوسرے ”عزت ماب“ اراکین کی یوں عزت افزائی کا عمل عام لوگوں نے حیرت و افسوس سے دیکھا۔ کئی رائے دہندگان کو اپنے فیصلے اور انتخاب پر پشیمانی اور ندامت ہوئی۔ دنیا بھر میں پارلیمان اور قانون ساز اسمبلیاں اپنے اندر بحث و مباحثے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط طے کرتے ہیں۔ یہ قواعد و ضوابط تب سے بنتے آرہے ہیں، جب سے یہ

Read more

نئی سرد جنگ کا اعلان

جی سیون کے تازہ ترین اجلاس سے ماضی کی سرد جنگ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ماضی کی سرد جنگ کی اصطلاح سے بہت لوگوں کے ذہنوں میں بڑی خوفناک تصاویر ابھرتی ہیں۔ ان تصاویر میں ایک طرف امریکہ میں میکارتھی ازم کے زیر اثر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر ہونے والے حملے اور جبر کے مناظر ہیں، دوسری طرف سویت یونین میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں کی زبان بندی، قید و و بند اور جلاو وطنی کے قصے ہیں۔ ماضی کی اس سرد جنگ کا تصور کرتے ہیں تو کیوبا میزائل بحران جیسی کہانیاں یاد آتی ہے، جب دو سپر پاورز کے درمیان جنگ کے خوف کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے اپنے گھروں کے پچھواڑوں میں پناہ کے لیے مورچے بنا لیے تھے۔

Read more

کینیڈا میں نفرت انگیز جرائم میں اضافہ کیوں؟

کینیڈا کے شہر لندن میں نفرت انگیز جرم کا واقعہ ایک ہولناک واقعہ ہے۔ اس پر شدید ردعمل ہوا ہے۔ یہ رد عمل مقامی اور عالمی سطح پر یکساں ہے۔ اس واقعے کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن مذمت اور افسوس کے اظہار کی کوئی شدت بھی اس جانی نقصان کی تلافی نہیں ہے، جو ایک بے رحم سفاک شخص نے کیا ہے۔ رد عمل کی کوئی شکل بھی اس خاندان میں واحد بچ جانے والے

Read more

آزاد کشمیر: انتخابات میں چیلنجز کیا ہیں؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ اٹھائیس لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔ روایتی سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔ حسب سابق ٹکٹوں کی تقسیم پر خرید و فروخت اور ہیرا پھیری کے الزامات عام ہیں۔ بہت سارے امیدواروں کو یہ شکوہ ہے کہ مقابلے کے لیے میدان مساوی نہیں ہے۔ دولت اور سرمائے کی چمک نمایاں ہے۔ اربابِ اختیار سمیت سب کی دلچسپی کا مرکز ”الیکٹیبلز‘‘ ہیں۔

Read more

پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی

پاکستان کے حوالے سے حق آزادی رائے کا سوال آج کل پھر زیر بحث ہے۔ یہ سوال کچھ گزشتہ کچھ عرصے سے کچھ صحافیوں پر ہونے والے حملوں، ان کے اغوا سے اٹھا۔ رد عمل کے کے طور پر صحافیوں کے مظاہرے سے حامد میر اور دیگر صحافیوں کی تقاریر سے اس بحث میں دلچسپی بڑھی ہے۔ اس تناظر میں عام آدمی کے لیے بھی یہ سوال دلچسپی کا باعث بنتا جا رہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی آخر ہے کیا چیز، اور اس باب میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ کسی صحافی کو کیا کہنے کی آزادی ہونی چاہیے؟ اور اسے کیا کہنے سے روکا جا سکتا ہے؟

Read more

سیکس ورکرز یا جنسی مزدور کا عالمی دن

چند دن قبل دنیا بھر میں ”سیکس ورکرز“ یا جنسی مزدور کا دن منایا گیا ہے۔ اس دن کے پس منظر میں فرانس کے ایک شہر لیون میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ دو جون انیس سو پچھتر کو رونما ہوا تھا۔ اس دن فرانسیسی عورتوں کے ایک گروہ نے شہر کے ایک بڑے چرچ پر قبضہ کر لیا۔ عورتوں کا یہ گروہ ”سیکس ورکرز“ یعنی جنسی مزدوروں پر مشتمل تھا۔ اس گروہ میں سو سے زائد عورتیں شامل تھیں۔ ان عورتوں نے اپنے پیشے اور مزدوری کی غیر انسانی حالت زار کی طرف ارباب اختیار کی توجہ مبذول کرانے کے لیے یہ اقدام کیا تھا۔

Read more

مساوات کا خواب ادھورا کیوں ہے؟

حال ہی میں ایک جج صاحب نے فرمایا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ عدم مساوات ہے۔ یہ اہم اعتراف ہے، مگر اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عدم مساوات پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں موجود ہے۔ یہ عدم مساوات پاکستان کی سڑکوں، گلیوں اور بازاروں واضح نظر آتی ہے، اور اپنی موجودگی کا اعلان کرتی ہے۔ یہ عدم مساوات صرف ارباب اختیار یا خوش قسمت طبقات کو نظر نہیں آتی‘ ورنہ اعدادوشمار دیکھیں جائیں تو برس

Read more