کیا مسئلہ کشمیر پر ہمدردیاں بدل رہی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ایسا حل طلب مسئلہ ہے جس پر کشمیریوں کے علاوہ بھارت اور پاکستان میں بسنے والے شہری بھی اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے پاس اس مسلے کو مذاکرات کی میز تک لانے سے پہلے۔ تصادم انگیز بیانات اور کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔ جن کو وقتا فوقتا اک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ان کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سب کے باوجود دونوں ممالک کے پاس کشمیر پر اپنی اپنی ایک سرکاری پالیسی بھی ہے۔ جس پر پچھلے 37 سالوں سے دونوں جانب خوب منجن بک رہا ہے۔ اس بیچ کشمیری تیل کی گھانی پر تیل لینے بھیج دیے گئے ہیں اور انہیں ہمیشہ سے یہی کہا گیا ہے کہ مرنے کے لیے تیار رہو۔ کشمیر کا نام آتے ہی یہ بات لازمی طور پر ذہن میں گردش کرتی ہے کہ اس مسئلے پر پاکستان کے موقف میں کئی بار تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ بھارت ایک ہی راگ الاپتا رہا ہے۔

یہاں انسانی حقوق سے جڑے اس مسلے پر سیاست کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی برابر جاری رکھا گیا۔ اور ادھر تم ادھر ہم کے پیش نظر شملہ لاہور کراچی ایگریمنٹ کے علاوہ کارگل اور اب پانچ اگست کا سانحہ ہو چکا ہے۔ جس پر کشمیریوں کے پاس رد عمل میں مزید انسانی جانوں کا ضیاع، بیواوں کی مزید ٹولیاں اور مزید یتمیوں کا انبار لگوانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن کشمیر پر اٹوٹ انگ اور شہ رگ کا راگ اب اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔

موجودہ پاک بھارت کشیدگی جس کی بنیاد ہمیشہ کی طرح کشمیر ہی ہے۔ پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ ریاست جموں کشمیر سے آرٹیکل 073 کے خاتمے سے اک بار پھر زوروں پر ہے۔ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاست کو جیل میں تبدیل کیے جانے کے خلاف اسلام آباد کے ایوانوں سے متضاد آوازیں بلند ہوئیں جن سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بھلا ہو عالمی میڈیا کا جس نے معاملہ وقتا فوقتا اٹھایا۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے صدائے احتجاج بلند کی تو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود چین پہنچے۔

رسمی کارروائی کے بعد چین سے درخواست کی گئی کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کے مسقل رکن ہونے کا حق ادا کیا جائے۔ پاکستان کی جانب سے بھی اقوام متحدہ کو کشمیر کے مسلے پر ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی گئی۔ بعد ازاں چین کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا۔ اس اجلاس سے دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور محصور ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے عوام کچھ حد تک پر امید تھے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید اب کہ کچھ بھلی ہو۔

لیکن اکثر امیدیں جیسی تھیں ویسا ہی نتیجہ آیا سلامتی کونسل نے یہ فرمان تو جاری کیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اور پاکستان اور بھارت دوطرفہ مذکرات اور اپنے درمیان کیے گئے گزشتہ معائدوں کے پیش نظر اس معاملہ کو حل کی جانب لے جائیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بڑے پانچ ممالک جنھیں پی فائیو کہا جاتا ہے (امریکہ برطانیہ روس چین فرانس) کی مرہون منت ہے۔ اور یہ کونسل وہی کرتی ہے جس میں ان پانچ مستقل رکن ممالک کی ترجیحات پر کوئی آنچ نہ آتی ہو۔ اس لیے ایسا ہی ہوا یہ انسانی حقوق کا علمبردار ادارہ کشمیر پر جاری کرفیو کی ذمہ دار بھارتی حکومت کی کوئی سرزنش نہ کر سکا۔ اور کشمیر گیند کی صورت اک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیاں پھینک دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر اکتفا کرتی نظر آئی کہ دونوں ممالک اپنے سابقہ معاہدوں کی رو سے اس مسئلہ کا پر امن حل تلاش کریں۔ تو گویا کچھ ہوا ہی نہیں؟ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کیا گیا۔ جو شملہ معاہدہ کو تحلیل کرنے دینے کے لیے کافی تھا۔ چین مستقل رکن ممالک کی نظریں اس شملہ معاہدہ کی جانب کیوں نہ مبذول کرا سکا۔ شملہ معایدہ کی رو سے تو دونوں ممالک کو کشمیر کی متنازعہ حثیت برقرار رکھنا تھی۔

لیکن بھارت کا یہ اقدام اس معاہدے کو ختم کر چکا ہے اب کس معایدے کے تحت مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو دور میں گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کیا گیا تھا۔ جس پر ابھی پاکستان کی ریاست سے ممکنہ طور پر سوال ہونا باقی ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان بھی متنازعہ مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ نے تو معاملہ اپنے ہاں سے رفع کر دیا۔ اب بات اک بار پھر پاکستان اور بھارت کے گلے پڑ چکی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے تک ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ اور موجودہ کشیدہ حالات میں تو بات چیت بالکل ممکن نہیں۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد بھارتی مستقل مندوب نے بھی مذاکرات شروع ہونے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن اس سب کے بعد کشمیری جو جنگ بندی لائن کے دونوں جانب بس رہے ہیں اور ساری دنیا میں بھی آباد ہیں ان کی امیدیں پانی ہو چکی ہیں اور ان کی ترجیحات بھی بدلنے کی ڈگر پر ہیں۔

مقبوضہ ریاست جمو ں کشمیر کی متنازعہ حثیت میں بھارت کی جانب سے تبدیلی کیے جانے پر کشمیری مملکت پاکستان سے کسی موثر اقدام کی توقع رکھ رہے تھے۔ لیکن اسلام آباد کے ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن آپس میں گتھم گتھا رہیں۔ جس کے بعد وہاں موجود مختلف رویوں کے باعث کشمیریوں کی ہمدردیاں بدلنا شروع ہوئیں۔ جنگ جو کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے قوم کو اک بار پھر اس کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کی جانب سے بھی کئی ایسے بیانات سامنے آئے جس میں کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنے کی صلاح دی گئی۔

جس کے بعد دن میں خواب دیکھنے والے کئی لوگوں کی خوش فہمیاں دور ہو گئیں۔ عید کے روز مظفر آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گفتگو نے بھی مایوسیاں بڑھائیں۔ متنازع زندگی گزارنے والے بابے بھی اب کشمیر پر کسی آپشن کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ جن لوگوں نے کشمیر کو متنازعہ بنتے دیکھا جو کبھی کسی مخصوص سوچ کے مطابق جی رہے تھے۔ وہ فکر اب تبدیل ہونا شروع ہوئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت جس قدر جرات سے بھارتی اقدام کے خلاف کھڑی ہوئی اس کے نتیجے میں انہیں پابند سلاسل کیا گیا ہے اس میں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے لیے سبق تو ہے ہی لیکن اس قدر جبر کے ماحول میں یہ رویہ قابل ستائش تھا جو مقبوضہ وادی کی قیادت کی جانب سے سامنے آیاہے۔ ٓ

آزاد کشمیر میں قوم پرست سیاسی جماعتوں کا اتحاد بھی بن چکا ہے جنھوں نے جنگ بندی لائین توڑنے کی کال دے رکھی ہے۔ ایسے میں وفاق نواز سیاسی جماعتیں بھی اپنی اپنی حاشیہ برداری کے ساتھ اک پیج پر بمشکل کھڑی ہوئی ہیں۔ لیکن کشمیری عوام اک بحران سے گزر رہے ہیں جسے قیادت کا فقدان کہا جا سکتا ہے۔ تو ایسے میں آزاد کشمیر میں رہنے والے عوام بھی ممکنہ طور پر کچھ سبق سیکھ رہے ہیں اور صرف یہاں ہی نہیں دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے پاس اب ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی کے لیے کسی ہمدرد سے کوئی توقع نہیں ہے۔

5 اگست سے پہلے ہمدردیاں اور تھیں, اب اور ہیں۔ کشمیر میں رہنے والے اس دیس کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ باز گشت بھی ہے کہ ہم خون سے لتھڑی اپنی تحریک کسی کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔ تو موجودہ صورتحال جس میں لگاتار یہی موقف ہے کہ منہ توڑ جواب دیں گے یہ کریں گے اور وہ کریں گے ایسے میں دریائے جہلم کے اس پار رہنے والے باسی سوچنے پر مجبور ہیں۔ چونکہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بار ہا یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے۔

تو ایسے میں کشمیریوں کا پہلا سوال تو ادھر ہی رہا کہ مجموعی طور پر ریاست جموں کشمیر کا کیس لڑنے والا وکیل اپنے کیس میں کمزور کیوں ہوا؟ اور اب آزاد کشمیر بچانے کے لالے پڑے ہیں؟ کشمیر کی شناخت پر حملہ پانچ اگست کو ہو چکا ہے۔ جس پر سبکی کے سوا کچھ نہیں ملا؟ کیا اب آزاد کشمیر پر بھی کارروائی کے بعد آپ کا اگلا رد عمل دیکھنے کو ملے گا؟ کیا اس وقت تک ہمدردیاں تبدیل نہیں ہو جائیں گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •