وہ شخص نہیں تھا

کہنے کو وہ اک شخص تھا لیکن شخص نہیں تھا۔ کوئی فرشتہ، کوئی درویش، کوئی دانا معلوم نہیں کیا تھا۔ مجازاً وہ بڑا بھائی تھا لیکن حقیقتاً اک نایاب اور قابل بھروسا دوست تھا۔ عمر کا ایک بہت بڑا گیپ ہونے کے باوجود اس سے ہم جولیوں اور ہم عمروں جیسی گپ شپ رہتی۔ ایسی باتیں جو ماں سے کرنی ہوتی ہیں میں اسی سے کرتا تھا۔ میں کالج سے گھر آتا تو اس کی جپھی میری پورے ہفتے کی

Read more

لب جو ۔ میر تقی میر نمبر

میر تقی میر اردو ادب کی ایک قد آور اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ ان کے فکر و فن کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ تھما نہیں ہے۔ گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل کا تحقیقی و تخلیقی ادبی مجلہ "لب جو” ، میر تقی میر نمبر 2023 منظر عام پر آ چکا ہے۔ "لب جو” کے پہلے بھی کئی خاص شمارے ہیں جن میں 1۔ سانگلہ ہل نمبر 2۔ پاکستان گولڈن جوبلی نمبر

Read more

"خواب سراب” اور یوسا کا فن

صاحبِ کتاب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن ایک اچھی تخلیق منظر عام پر لانے سے نام پیدا کیا جاسکتا ہے۔ عمارہ علی کی کتاب ”خواب سراب“ کا فنی و تکنیکی تجزیہ، ؛ یوسا کے تصور فن کے تناظر میں ؛ پڑھی جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ عمارہ علی لیکچرار اردو ہیں اور ان دنوں اردو میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں۔ کتاب ہذا ان کے ایم۔ فل کا مقالہ ہے جسے بہت عرق ریزی سے لکھا گیا

Read more

مصر کا قدیم ادب

سائنس آنکھوں سے دیکھتی ہے، عملی طور پر مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے، اس کے بعد وہ یقینی صورت حال میں داخل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ”ادب“ نظریات اور تخیل پر بھی بھروسا کر لیتا ہے۔ ان دونوں باتوں کا نچوڑ یہی ہے کہ ادب اور سائنس ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اگر ایک سائنس کا سٹوڈنٹ تخیلاتی دنیا میں چھلانگ لگا دے تو وہاں وہ خیالات و نظریات کو غلط ثابت کرتا ہے، ایک ایسی دنیا آباد کر

Read more

مرد کی بنیادی سوچ

عورت اور مرد اپنی ذمے داریوں کے لحاظ سے دو مختلف بشری سائے ہیں۔ مرد کی کچھ ذمے داریاں اسے مسلسل ایک حصار میں لیے رکھتی ہیں۔ وہ پیدا ہوتا ہے تو اہل و عیال کو نظریاتی پختگی اور دلی سکون ملتا ہے کہ ایک سہارا مل گیا ہے۔ پہلے دن سے سوچ لیا جاتا ہے کہ پیدا ہونے والا بڑا ہو کے ہمارے دوزخ بھرے گا اور کام دھندے میں لگ جائے گا۔ سکول جانے لگتا ہے تو اس

Read more

ڈاکٹر ظہیر عباس: میری نظر میں

راقم نے اردو ادب میں ایم۔ اے بطور پرائیویٹ امیدوار کیا۔ ایم۔ اے کی ڈگری لے لینے کے بعد پتا چلا کہ میرا تو ابھی تک اردو کا تلفظ ہی درست نہیں ہے، جب ایک چیز کو درست پڑھا ہی نہ جا سکے تو وہ چیز پلے کیسے پڑے گی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ اردو کی دوسری منزل تک جانا قدرے دشوار تھا۔ دو تین سال مسلسل کوشش کے بعد اردو کسی حد تک پڑھنی آ گئی۔ اسی دوران لائیبریری

Read more

بیگمات کے آنسو

خواجہ حسن نظامی کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کی نثر میں سادگی کا ذائقہ اور تصوف کی خوشبو بہرحال پائی جاتی ہے۔ بلکہ نثر میں تصوف کے حوالے سے ان کا نام فہرست میں سب سے پہلے آتا ہے۔ ”بیگمات کے آنسو“ میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عیال کی غمگین کہانیاں ہیں۔ اس خاندان کے در بدر ہونے کے قصے ہیں۔ 1857 کے غدر کے بعد ان شہزادیوں کے بے گھر ہونے کو آنسوؤں

Read more

دکھیارے

اس ناول میں آپ بیتی کا عنصر موجود ہے۔ راوی کے بیانیے میں دو چیزیں قاری کو جا بجا نظر آتی ہیں۔ ایک تو راوی کی ہر تحریر میں ان کی آپ بیتی موجود ہوتی ہے، دوسری چیز لکھنوی تہذیب و معاشرت کی عکاسی ہے۔ اس کہانی کا آغاز ہی راوی نے ماں اور بڑے بھیا کی موت سے کیا ہے۔ راوی یہاں پر اپنے حالات زندگی قاری کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ وہ اس قدر اکیلے ہو چکے ہیں

Read more

انیس اشفاق کی نثر اور تنقید

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے اچھی طرح واقف ہے۔ انیس اشفاق نے اردو ادب کے سبھی چشموں سے پانی پیا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ناول نگار، افسانہ نگار، محقق اور نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مترجم اور شاعر ہیں۔ شاعری میں انہوں نے اپنی والدہ محترمہ سے اصلاح لی۔ وہ انہیں شعر پڑھنا سکھاتیں اور انہیں چھوٹی چھوٹی تقریریں لکھ کر دیتیں۔ تقریر کے دوران ان کا تلفظ بھی درست کرواتی

Read more

الطاف گوہر حیات اور ادبی خدمات

ممتاز سکالر، دانشور، ادیب اور بیوروکریٹ الطاف گوہر کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کے سیاسی کالموں اور ادبی تحریروں نے ایوانوں اور زندانوں میں اپنی روانی کو جاری رکھا۔ ادب، سیاست اور صحافت میں ان کا کردار ہمیشہ متحرک رہا ہے۔ ان کی شاعری اور تنقیدی کاوشوں میں ان کے ماضی الضمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کو میرا جی اور الطاف گوہر کی بدولت ہی نمایاں اور برحق مقام حاصل ہوا۔ تنقید میں

Read more

چکنی روٹی

رضیہ کی زندگی میں یہ مسلسل ساتواں قحط تھا۔ وہ چالیس سالوں میں کئی چھوٹے بڑے قحط دیکھ چکی تھی مگر موجودہ ”آٹے کا قحط“ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یکسر مختلف تھا۔ اس کی شادی محض آنکھوں کا دھوکہ تھا یعنی اس کا جسم ایک جھونپڑی سے دوسری جھونپڑی میں منتقل کیا گیا تھا، خوشیاں، غم، سوچ اور تمدن ابھی بھی پہلے جیسے ہی تھے۔ اس کا خاوند (محکوم) بندر ناچ سے روزی روٹی کماتا تھا اور کئی کئی

Read more

خبر اور اس کے اجزائے ترکیبی

خبر کو انگریزی میں نیوز NEWS کہتے ہیں اور NEWS سے مراد نارتھ، ایسٹ، ویسٹ اور ساؤتھ ہے۔ یعنی کہ خبر وہ اطلاع ہے جو آپ کو چاروں اطراف سے معلومات بہم پہنچائے۔ خبر بنانا اور حاصل کرنا ایک نہایت مشکل امر ہے اس کے لیے ایک اخبار نویس کے پاس قابلیت اور مہارت ہونی چاہیے۔ ایک ماہر اخبار نویس ہی بہتر جانتا ہے کہ کس اطلاع کو خبر بنایا جا سکتا ہے یا کس چیز کو نئی شے بنا

Read more

خبر اور اس کے اجزائے ترکیبی

خبر کو انگریزی میں نیوز NEWS کہتے ہیں اور NEWS سے مراد نارتھ، ایسٹ، ویسٹ اور ساؤتھ ہے۔ یعنی کہ خبر وہ اطلاع ہے جو آپ کو چاروں اطراف سے معلومات بہم پہنچائے۔ خبر بنانا اور حاصل کرنا ایک نہایت مشکل امر ہے اس کے لیے ایک اخبار نویس کے پاس قابلیت اور مہارت ہونی چاہیے۔ ایک ماہر اخبار نویس ہی بہتر جانتا ہے کہ کس اطلاع کو خبر بنایا جا سکتا ہے یا کس چیز کو نئی شے بنا

Read more

عبدالعزیز خالد کی منقبت نگاری، ایک جائزہ

صاحب کتاب ہونا ایک ایسا خواب ہے جس کی تکمیل کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا انتظار لاحق رہتا ہے۔ مذکورہ کتاب عنایت ہوئی تو طبیعت کی ناسازی کی بنا پر سوچا کہ مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اس کے حروف سے نظریں گزاروں گا۔ وجہ یہ تھی کہ ایسی کتابیں ”تحقیقی مقالات“ کی صورت میں جنم لیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ کی زینت بن جاتی ہیں۔ یا تو یہ قاری پر بے وجہ کی اکتاہٹ

Read more

پریم پنتھ

محبت تم سے کی میں نے تمھارے بے وفا ہوتے اگر تم با وفا ہوتے تو میں نے کیا کیا ہوتا ”پریم پنتھ“ محبت کے مسلک یا راستے کو کہتے ہیں۔ کتاب بنام ”پریم پنتھ“ ڈاکٹر محمد نواز کنول کی مرتبہ کتاب ہے، جس میں انہوں نے عبدالعزیز خالد کی پنجابی شاعری کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ادب کے قاری کے لیے سہولت کا کام کیا ہے۔ عبدالعزیز خالد شاعر ہفت زبان، ماضی قریب کی ایک ایسی ہستی ہیں

Read more

پیٹرولنگ پولیس کا آنکھوں دیکھا حال

پولیس کسی بھی ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کی ضامن ہوتی ہے۔ پیٹرولنگ پولیس پنجاب پولیس کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ اس کا قیام 2004 میں عمل میں آیا اور اس وقت پورے صوبہ پنجاب میں 350 سے زائد پیٹرولنگ پولیس کی چوکیاں آپریشنل ہیں۔ سب سے خوبصورت اور حیران کن بات یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے ڈی۔ پی۔ اوز کی مشاورت سے بلیک سپارٹس پر چوکیوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی اور جن شاہراؤں پر

Read more

اداریہ نویس اور ایڈیٹر کے اوصاف

بنیادی طور پر یہ تینوں اشخاص ایک جیسی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ذمہ داریوں کے لحاظ سے ایک معمولی تفاوت رکھتے ہیں۔ اگر اس معمولی تفاوت کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ان تینوں افراد میں ایک گہرا صحافتی ربط بھی موجود ہے۔ اسی ربط کی بناء پر ان کے فرائض، ذمہ داریاں اور اوصاف تقریباً ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ مجموعی طور پر اگر ان کے اوصاف پر بات کی جائے تو کئی ایک خوبیاں ایسی ہیں

Read more

میں۔ ۔ ۔ ابن آدم

سائنس اور ادب کو ہمیشہ سے ایک دوسرے کی ضد مانا جاتا ہے کیوں کہ سائنس اس چیز کو تسلیم کرتی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے جبکہ ادب اس شے پر بھی اعتقاد رکھتا ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ کوئی سائنس دان صاحب تخیل ہو سکتا ہے لیکن جب ہم سائنس کو بطور علم دیکھتے ہیں تو وہ وجود کو چھو کر دیکھتی ہے اور پھر اسے تسلیم کرتی ہے۔ ادب کسی چیز

Read more

سنہری روبوٹ

حاکم جس گھر کی دائیں طرف خشکی کے ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھا تھا وہ گھر کبھی مکمل طور پر اس کی دسترس میں تھا۔ اس گھر کے درودیوار، چھتیں اور فرش حتی کہ تمام چیزیں جن سے مل کر کوئی گھر یا گھونسلہ بنتا ہے اس کی اپنی تھیں۔ ماضی کی ایک دھندلی سی فلم حاکم کے ذہن کو مفلوج کرنے ہی لگی تھی کہ اچانک اس نے سامنے پتے کھاتے ہوئے درختوں کو دیکھا۔ درختوں کا اس طرح

Read more

کہانی کے موضوع کی تلاش

کائنات کے ذرے ذرے میں افسانہ نگار کے لیے ان گنت، بے شمار موضوع بکھرے پڑے ہیں۔ مظاہر قدرت، سمندر، پہاڑ، جنگل اور ان سب میں پھیلی ہوئی زندگی خدا کی پیدا کی ہوئی عجیب سے عجیب جاندار اور بے جان چیزیں ہاتھی، گھوڑے، اونٹ، گائے، بکریاں، کتا، بلی، طوطا، مینا، سانپ، بچھو اور ہر طرف رینگنے والے کیڑے مکوڑے پھر ان سب پر حکمرانی کرنے والا انسان، دوسرا انسان، تیسرا انسان، اس طرح دنیا کے بے شمار انسان اور

Read more

انیس اشفاق کی شخصیت اور فن

انیس اشفاق عہد جدید کے ناول نگار، افسانہ نگار، شاعر، مترجم، خاکہ نویس، سفر نامہ نگار، نقاد اور محقق ہیں۔ انہوں نے لکھنو کے ایک پرانے محلے بزازے میں 1950 ء میں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم ماں کی گود سے نصیب ہوئی۔ ان کی ماں ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں اور انیس اشفاق کا تلفظ اور لب و لہجہ درست کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وہ انیس اشفاق کو تقاریر لکھ کر دیا کرتیں اور شیشے کے

Read more

پروفیشنل جیلسی

مغرب کی تقلید کو ہم نے ہمیشہ فریضہ اول سمجھا ہے۔ اس کا لباس، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، رومانس اور گالیاں یہاں تک کہ پوری مغربی تہذیب کو ہم نے اپنے نرم اذہان میں جگہ دے رکھی ہے۔ انگریز نے نوآبادیات کا جو بیج بویا تھا ہم آج بھی اسے پانی دے رہے ہیں۔ اس کے بچھائے ہوئے جال میں ہم نے خود کو اپنے ہاتھوں سے دھکیلا ہے۔ رہن سہن کے طریقے اپنائے، اس کی تعلیمی پالیسیاں اپنائیں، اس

Read more

زین عرف گوری

نیوز کاسٹر کی نوکری چھوڑے اسے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ وہ مختلف بیماریوں کی زد میں آ گیا۔ بیماری کی حالت میں مریض کا گھر کی چار دیواری میں قید ہونا بھی کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔ زین عرف گوری اب گھر بار کی سہولتوں سے محروم، درباروں پر زندگی کے باقی ماندہ دن بھنگ بوٹی سے تشنگی مٹاتے ہوئے گزار رہا ہے۔ وہ ڈھول کی تھاپ پر زندگی کا رقص کچلتے کچلتے پچاس سال کا ہو

Read more

ڈاکٹر محمد نواز کنول کی کتاب: دانہ ہائے ریختہ

ڈاکٹر محمد نواز کنول کی کتاب: دانہ ہائے ریختہ ؎ محبت تم سے کی میں نے تمہارے بے وفا ہوتے اگر تم باوفا ہوتے تو میں نے کیا کیا ہوتا دنیا میں جتنے بھی شاعر، نثر نگار، نقاد اور مترجم گزرے ہیں، انہیں بائیں بازو کے نام نہاد نقادوں نے خوب لتاڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ روایت پوری دنیا میں موجود ہو گی لیکن مجھے بالخصوص یہ روایت برصغیر میں زیادہ جانبدار یا غیر جانبدار محسوس ہوئی۔ صورت حال

Read more

کتاب دل

کہتے ہیں کہ شاعروں کو الہام ہوتا ہے۔ اکثر شاعر تو آورد سے بھی کام لیتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ الہام یعنی آمد اور آورد ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اسی آمد اور آورد کے تناظر میں ہی افلاطون نے شاعروں پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ، شاعر لوگ عوام اور معاشرے کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کی مثالی ریاست میں شاعروں کے لیے جگہ نہیں ہوگی۔

Read more

رومی اور اقبال میں فکری روابط

پیر رومی خاک را اکسیر کرد از غبارم جلوہا تعمیر کرد علامہ اقبال بر صغیر کے وہ شاعر، مفکر اور مصلح ہیں جنہوں نے اپنے خیالات اور انقلابی افکار کے لیے بیک وقت اردو، فارسی اور انگریزی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی شاعری اردو اور فارسی جبکہ خطبات وغیرہ انگریزی زبان میں موجود ہیں۔ ان کا فکر و فلسفہ محض شاعرانہ خیال یا فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ سب کچھ منطق و دلائل کا طواف کرتا ہوا نظر

Read more

ڈیفینس کی طوائف

اس نے ماضی کی تلخ یادوں کو روندنے کے لیے ایک بہت بڑا کش لگایا۔ اس آخری کش نے اس کے گلے کو فوری پکڑ لیا۔ وہ مسلسل کھانسے جا رہی تھی۔ وہ جس فٹ پاتھ پر بیٹھی تھی وہ بارش کی وجہ سے بہت گیلا ہو چکا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف تیز رفتار گاڑیاں اپنی دھن میں بھاگ رہی تھیں اور اتنے شور میں بھی اس کے کانوں میں سناٹا تھا۔ اسے چرس پیتے ہوئے لگ بھگ آٹھواں

Read more

شیخوپورہ کے معروف شیخو

1922ء میں ضلع کا درجہ پانے والا شیخوپورہ تاریخی، سیاسی اور علمی و ادبی لحاظ سے ایک قابل اہمیت شہر ہے۔ جب ہم پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور میں زیر تربیت تھے، تو اکثر ڈرل اور لاء انسٹرکٹرز ہمیں از راہ تفنن ڈاکو، لڑاکے، بہادر اور جنگجو کہہ کر مخاطب کرتے، اس طرح کے القابات سن کر ہمارا سینہ چوڑا ہوتا اور ایک ہاتھ خود بخود مونچھوں کی طرف بڑھ جاتا۔ دور دراز علاقوں راجن پور، ڈی جی خان، ملتان،

Read more

حالی کی حب الوطنی

حالی خوش قسمت تھے کہ انہیں غالب اور سر سید جیسے جید حضرات کی مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ مزاج کے اعتبار سے وہ معتدل تھے اور بات بات پر بھڑک اٹھنا انہیں نہیں آتا تھا۔ تاہم ان کے ہاں قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبات وافر ہیں۔ حالی ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کی حالت زار پر کڑھتے تھے اور اسی کے نتیجے میں ان کے قلم سے مسدس حالی جیسی کتاب سامنے آئی۔ اس

Read more

سرخ بھیڑیا

آزادی پور گاؤں ایسی جگہ پر تھا کہ اس کے آس پاس مزید کوئی شہر یا دیہات موجود نہیں تھا۔ وہاں کے باسیوں کی روزی روٹی کھیتی باڑی سے پوری ہوتی تھی۔ خوش قسمتی سے گاؤں کی پچھلی طرف دو میل کے فاصلے پر ایک ریلوے اسٹیشن موجود تھا۔ گاؤں کے اکثر جوان دو میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے وہاں مسافروں کو پانی مہیا کرتے اور اس کی مزدوری وصول کرتے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی

Read more

باشعور طبقہ اور قوم

قومیں اتنی آسانی سے نہیں بنا کرتیں۔ ایک قوم بننے کے لیے اجتماعی شعور، جرات مندانہ فیصلوں، بلند خیالی، مدبرانہ سوچ، اخوت، جذبے، بے خوفی، استقامت اور ذہنی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بحیثیت قوم ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم پکی نالیوں اور سڑکوں سے آگے کبھی دیکھ ہی نہیں سکے۔ ہمیں پکی نالیوں، سڑکوں اور بازاروں کے علاوہ روزگار کی مصیبتوں میں جکڑ کے رکھا گیا۔ ہم دور تک دیکھنے کی صلاحیت سے ہمیشہ محروم رہے ہیں۔

Read more

لیکچرر اردو کیسے بنا جائے

بہتر سے بہترین کی خواہش انسان کا فطری جذبہ ہے۔ نچلے درجے کے ملازمین کے علاوہ ایسے لوگ جو عرصہ دراز سے بے روزگار ہیں، ان کی بھی خواہش انہیں بے چین رکھتی ہے کہ، وہ جلد از جلد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گورنمنٹ کالج میں لیکچرر منتخب ہو جائیں۔ لیکچرر بننے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت ایم۔ اے ہے۔ جبکہ طلباء کی اکثریت ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی کرچکی ہوتی ہے۔ فیس بک اور

Read more

گل بدن

آج وہ آٹھ سال کا ہو چکا تھا۔ والد کی قبر کا اسے آج ہی پتا چلا تھا۔ اس سے پہلے اس نے نہ ہی اپنے والد کو دیکھا تھا اور نہ ہی ان کی قبر کو ۔ وہ پانچ بہنوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کی پیدائش پر اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا تھا۔ اس کے حصے میں آنے والی گیارہ ایکڑ زمین پر

Read more

امراؤ جان ادا: فکری تناظر میں

مرزا رسوا نے اس ناول کو کسی محدود نقطہ نظر کے تحت نہیں لکھا۔ یہ ناول ایک لحاظ سے اپنے عہد کے لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو واضح کرنے کے لیے اس میں جو کردار دکھائے گئے ہیں ان کے افعال و اعمال سے اس معاشرت کے اوہام و عقائد، میلانات و رجحانات اور افکار و خیال کی آئینہ داری ہوتی ہے۔ چنانچہ کرداروں کے عمل ہی سے سروکار نہیں رکھا گیا بلکہ مصنف

Read more

جنگل کا کردار

اس کردار کو ابھی شہر میں آئے چند دن ہی گزرے تھے، کہ رات کی خاموشی میں اسے باگھ کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دیتی اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا۔ پھر باقی تمام رات اسے اللہ اللہ کر کے گزارنی پڑتی۔ ایک رات وہ خواب کی وادیوں میں یوں گم ہوا کہ اس نے خود کو اسی جنگل میں پایا، جہاں سے اس نے شہر کا رخ کیا تھا۔ اس جنگل میں وہ ان جڑی بوٹیوں کی تلاش میں

Read more

مدفن کی تلاش

میرے دوستوں جیسے استاد ڈاکٹر ظہیر عباس کا پہلا افسانوی مجموعہ ’مدفن کی تلاش‘ عکس پبلیکیشنز سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں کل آٹھ کہانیاں ہیں جن میں ”کردار کا ماتم“ ، ”مدفن کی تلاش“ ، اجنبی شہر میں ”،“ قافلہ ”،“ مزدور منڈی ”،“ ساجو کی ماں کی۔ ”اعمال نامہ“ اور الجھے رشتے شامل ہیں۔ ظہیر عباس موجودہ دور کے فکشن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھے لکھاری کو ایک اچھا

Read more

مدفن کی تلاش

میرے دوستوں جیسے استاد ڈاکٹر ظہیر عباس کا پہلا افسانوی مجموعہ ’مدفن کی تلاش‘ عکس پبلیکیشنز سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں کل آٹھ کہانیاں ہیں جن میں ”کردار کا ماتم“ ، ”مدفن کی تلاش“ ، اجنبی شہر میں ”،“ قافلہ ”،“ مزدور منڈی ”،“ ساجو کی ماں کی۔ ”اعمال نامہ“ اور الجھے رشتے شامل ہیں۔ ظہیر عباس موجودہ دور کے فکشن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھے لکھاری کو ایک اچھا

Read more

مراثیِ انیس میں دریا کے رنگ

کربلا کا منظر نامہ جن عناصر و اجزاء سے ترتیب پاتا ہے، ان میں دریا کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یہ دریا اس زمین پر واقع ہے جہاں آسمان سے آگ برستی ہے لیکن اس کی ترائی میں ہوا معتدل اور موسم خوشگوار ہے۔ یہاں پہنچ کر بدن کو جھلسا دینے والی گرمی سے جگر کو ٹھنڈک اور جسم کو سکون ملتا ہے۔ اسی لیے سب کی نگاہ اسی کی طرف جاتی ہے۔ واقعہ کربلا میں دریا کے نمایاں رہنے

Read more

فکشن کی تنقید کا المیہ

ڈاکٹر وارث علوی کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔وہ ایک منجھے ہوئے اور نڈر نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد اصلاح اور حقائق پر مبنی بات کرنا ہوتا ہے۔اردو ادب کا خاصا رہا ہے کہ اس میں ہر دور میں ایسے لوگ سامنے آئے جن کی چپقلشیں بڑی دل آویز رہی ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی ” افسانے کی حمایت میں ” اور وارث علوی کی ” فکشن کی تنقید کا

Read more

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 ء

ٹیم پاکستان کی سلیکشن سے لے کر آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہارنے تک کی کہانی انتہائی دلچسپ رہی۔ سلیکشن پر کئی سوالات اٹھائے گئے اور بالآخر عین وقت پر درست فیصلے کر کے ٹیم پاکستان کو مضبوط بنایا گیا۔ انڈیا کے خلاف پہلے ہی میچ میں ٹیم پاکستان نے جیت کا تسلسل اپنایا اور اپنے گروپ کے سارے میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلے درجے پر نظر آئی۔ ٹیم پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نظر آیا کہ وہ دونوں گروپس میں زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

Read more

طاؤس چمن کے پنجرے

فرش آراء اور حیدر علی نے جو طاؤس چمن کی طرز پر چبوترہ بنوایا تھا ، اب اس کی وسعت اور خوبصورتی میں اضافہ ہو چکا تھا ۔ اس کی دیکھ بھال اور انتظام کا ذمہ ، اب فرش آراء اور حیدر علی کی بیٹی فرحت آراء نے اٹھا رکھا ہے ۔ حیدر علی اور فرش آراء زندگی کے آخری ایام میں داخل ہو چکے ہیں ۔ طاؤس چمن کی طرح اس چبوترے میں بھی چالیس مینائیں ہیں ۔ ان

Read more

نمبر لے لو نمبر

ہمارا زمانہ بھی عجیب تھا۔ انٹر میڈیٹ میں 60 فی صد نمبرز آنے پر، محض چند ساعتوں میں، پورے محلے میں خبر پھیل جاتی کہ فلاں کے بیٹے یا بیٹی نے 60 فی صد نمبرز لیے ہیں۔ 70 فی صد نمبرز لینے پر گھر والوں کا سینہ چوڑا ہو جاتا کہ ہماری اولاد کافی ذہین ہے اور اگر کوئی 80 فی صد نمبرز لینے میں کامیاب ہو جاتا تو اسے پورے گاؤں کا ذہین ترین اور فطین بچہ یا بچی سمجھ کر اس کے گیت گائے جاتے۔ گھر والے اس کے قصیدے سنتے سناتے نہیں تھکتے تھے۔ یہ خبر جان بوجھ کر اپنی برادری اور رشتہ داروں میں راتوں رات پھیلا دی جاتی کہ فلاں کے بیٹے یا بیٹی نے 80 فی صد نمبرز لیے ہیں۔ اس کے عوض اسے بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے کوئی چھوٹے موٹے تحفے تحائف بھی عنایت کیے جاتے۔

Read more

مرحوم کا سایہ

چھوٹا باپ کی قبر کی ڈھیری پہ دونوں ہاتھ پھیلائے مغموم بیٹھا تھا۔ قبرستان میں سوائے گورکن کے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ باپ کو مرے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا۔ اچانک اس کے کانوں میں اک نامانوس آواز پڑی، بیٹا! یہ پھول رکھ لو۔ چھوٹے نے سر اٹھا کے بابا جی کی طرف دیکھا۔ بابا جی عمر میں ستر کے لگ بھگ معلوم ہو رہے تھے۔ سفید داڑھی، سفید لباس، سفید دستار، ہاتھ میں چھڑی، چہرے کی رنگت

Read more

ڈاکٹر ظہیر عباس میری نظر میں

راقم نے اردو ادب میں ایم۔ اے بطور پرائیویٹ امیدوار کیا۔ ایم۔ اے کی ڈگری لے لینے کے بعد پتا چلا کہ میرا تو ابھی تک اردو کا تلفظ ہی درست نہیں ہے، جب ایک چیز کو درست پڑھا ہی نہ جا سکے تو وہ چیز پلے کیسے پڑے گی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ اردو کی دوسری منزل تک جانا قدرے دشوار تھا۔ دو تین سال مسلسل کوشش کے بعد اردو کچھ کچھ پڑھنی آ گئی۔ اسی دوران لائبریری کی

Read more

ماں جی

  شہر یار گورنمنٹ کالج میں سترہویں سکیل میں لیکچرار ہو چکا تھا۔ آج اس کی پہلی کلاس تھی، اس نے تعارفی لیکچر پر ہی اکتفا کیا۔ ڈائس بورڈ پہ رکھی ڈائری میں سے آج پھر سو کا نوٹ برآمد ہوا تھا۔ یہ برآمدگی اسے پچیس سال پیچھے ماضی میں لے گئی۔ وہ پرائمری کا اسٹوڈنٹ تھا اور اسے بے حد خوشی ہوتی جب کلاس میں اچانک اس کی کسی کتاب میں سے پانچ یا دس کا نوٹ برآمد ہوتا۔

Read more

نیرنگ خیال، اقبال نمبر 1932ء

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف علامہ اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور مصلح ہیں کہ جنہوں نے اپنے خیالات اور انقلابی افکار کے اظہار کے لیے بیک وقت اردو، فارسی اور انگریزی زبان کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری اردو اور فارسی میں جبکہ خطبات اور مقالات انگریزی زبان میں موجود ہیں جبکہ انہوں نے مکاتیب اردو زبان میں لکھے۔ ان کا فکر و فلسفہ

Read more

نوآبادیاتی آزادی

آج تک ہم نے اپنی آنے والی نسل کو آزادی کے بارے میں بس اتنا ہی آگاہ کیا ہے کہ آزادی کیا ہوتی ہے، آزادی کا مطلب کیا ہوتا ہے، آزادی کا مفہوم کیا ہوتا ہے، آزادی کی اقسام کتنی ہوتی ہیں، اور آزادی کا لفظ پانچ حروف سے مرکب ہے۔ آزادی کے لفظی معنی و مطالب سے تو آگاہ کر دیا لیکن کیا ہم اصطلاحی طور پر آزادی اور غلامی کا فرق اپنی نسل نو کے نرم و نازک اذہان میں پیدا کر سکے؟

Read more

ناصر کاظمی اور”پہلی بارش“

ناصر کاظمی جن کو میر ثانی بھی کہا جاتا ہے 8 دسمبر 1925 کو انبالہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کے آغاز میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے گھر کی فضا اور اس ادبی ماحول کا ہے جس میں ناصر نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری۔ کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ناصر کی والدہ کو شاعری سے گہرا شغف تھا اور وہ فن شاعری سے بخوبی واقف تھیں۔ ناصر نے اپنی ماں کی گود سے ہی شاعری کا درس لیا۔ ناصر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں :

Read more

یکساں نصاب تعلیم

کچھ دن سے ایک خبر ہیڈ لائنز کی زینت بنی ہوئی ہے کہ 2 اگست سے پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کر دیا جائے گا۔ یہ وہ خبر ہے کہ جسے سننے کے لیے ہر کان ترس رہا تھا۔ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیشہ سے ہمارے ملک میں ناقص تعلیمی پالیسیاں بنتی رہی ہیں۔ ہر سال نصابی تبدیلیاں سرزد ہوتی رہی ہیں۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں دو قانون ہیں۔ ایک قانون امیر کے لیے اور ایک غریب کے لیے۔ بالکل اسی طرح تعلیم بھی دو طرح کی تھی۔ امیر طبقے کے لیے اعلی درجے کا اور مہنگا، نصاب اور تعلیمی سسٹم تھا، جبکہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے نصاب بھی متوسط اور ناقص تھا۔

Read more

بیٹی کے معاملے میں ہم اتنے مضطرب کیوں؟

لاکھوں سال سے مادری اور پدری نظاموں اور خاندانوں کی جنگ چل رہی ہے۔ کبھی عورت جیت گئی کبھی مرد۔ شروع میں عورت شکار کر کے لاتی اور مرد کو کھلاتی۔ ایسے میں عورت کو خاندان میں ایک فوقیت رہی۔ پھر مرد نے کھیتی باڑی کے اوزار تیار کر لیے اور محض اسی بنیاد پہ وہ فوقیت حاصل کر گیا۔ اسلام سے قبل بیٹی کو زندہ دفن کر دیا جاتا۔ پھر ظہور اسلام ہوا تو عورت ( بیٹی ) کی

Read more

” قومی ترانہ“ تاریخ کے آئینے میں

00 کسی بھی آزاد ملک، قوم اور ریاست کی پہچان اس کے قومی پرچم اور قومی ترانے سے ہوتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہی اس کے نصب العین، تشخص اور نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 7 برس گزر چکے تھے اور پاکستان کے پاس آئین کی طرح قومی ترانہ بھی نہیں تھا۔ شہنشاہ ایران پہلی دفعہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے تو ملکی و قومی پالیسی سے ہٹ کر بغیر ترانہ بجائے ان

Read more

سلوٹیں

نرملا کی دلہن بننے کے بعد پہلی ہی صبح تھی کہ وہ بستر کی سلوٹوں کو ٹٹول رہی تھی۔ بوڑھا وکیل ( گھوڑے بیچ کے سویا تھا ) جس نے نرملا کو کنواری ہی رہنے دیا۔ نرملا کے چہرے پر ایک دائمی اداسی نمایاں تھی۔ اس کے خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔ نرملا 40 سال کی ایک بھری ہوئی عورت تھی لیکن اس کی نفسانی امنگوں کا خون کرنے کے لیے اسے 60 سال کے وکیل کے سپرد کر

Read more

ہماری بنیادی ضروریات اور ( اڈ۔ ایگو۔ سپر ایگو)

انسانی وجود کو زندہ رہنے کے لیے بہت ساری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک بھی عدم دستیاب ہو تو انسانی وجود کے ذروں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ انسان اس قدر کمزور، مایوس، مضطرب اور کاہل ہو جاتا ہے کہ وہ کار زندگی کو بجا لانے کے ساتھ ساتھ عبادات کو سرانجام دینے میں بھی کوتاہی برتنے لگ جاتا ہے۔

Read more

منٹو وارث علوی کی نظر میں

سعادت حسن منٹو کی شخصیت میں دلچسپی کا آغاز ان کے نام ہی سے ہو جاتا ہے۔ شروع میں سب ہی کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ منٹو کیا ہے۔ بلونت گارگی لکھتے ہیں۔ ”بہت عجیب نام تھا۔ منٹو جیسے لارڈ منٹو، پنٹو۔ یا ومٹو، بہت نقلی یا مضحکہ خیز! منٹو کے نام میں سعادت حسن کی پوری ادبی اور غیر ادبی شخصیت سمٹ آئی تھی۔ منٹو کو بھی اس کا احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں :  ”اور یہ بھی

Read more

اردو شاعری کا ارتقا

تھا عرش پہ اک روز دماغ اردو پامال خزاں آج ہے باغ اردو غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغ اردو اردو زبان کے پہلے شاعر مسعود سعد سلمان کا تعلق لاہور کی دھرتی سے تھا، حافظ محمود شیرانی (محقق اول) نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے پہلے شاعر مسعود سعد سلمان ہی تھے، علاوہ ازیں امیر خسرو نے اپنے دیوان ”غرۃ الکمال“ کے دیباچے میں اس بات کا

Read more