اقدار مشرقی و مغربی نہیں ہوتیں

مجھ کند ذہن کو جو چند چیزیں شاید کبھی سمجھ میں نہ آسکیں ان میں بچپن سے اب تک گھر سے ریاست تک گونجنے والا یہ جملہ بھی ہے ’’یہ بات ہماری روایات و رواج و مشرقی اقدار کے خلاف ہے ’’ یا‘‘ دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ ہمیں اپنی اقدار سے محروم کر کے…

Read more

فلسطینی درجہ سوم کے شہری بھی نہیں

ہم اپنے ہی مسائل میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ کنوئیں سے باہر کیا ہو رہا ہے یہ جاننے کی نہ تو فرصت ہے نہ ہی کوئی خاص دلچسپی۔پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے دنیا کی توجہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے قتلِ عام کی جانب ہے۔اس عدم توجہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقِ وسطی میں…

Read more

دنیا کی سب سے خطرناک عورت

یہ 38 برس کی عورت ہم سب کے لیے مسلسل سنگین نظریاتی اور اخلاقی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔ اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ملحد و بے باک عورت بے دین و بے لگام مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے اندازوں کو گذشتہ نو دن سے لگاتار کچوکے لگا رہی ہے۔ یہ عورت…

Read more

دراصل عالمی یومِ خواتین ہی فحاشی ہے

آٹھ مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ میں بہت کم کسی ریلی میں جاتا ہوں مگر کراچی میں فرئیر ہال کے سبزہ زار پر ہونے والے جلسے میں یوں شریک ہونا پڑا کیونکہ ’’ذرا ہٹ کے ’’ کے لیے عورت مارچ میں کیا ہوتا…

Read more

ہٹلر باہر نہیں میرے اندر ہے

اسٹیریو ٹائپنگ کے ویسے تو ڈکشنری میں کئی مطالب ہیں مگر انسانی تعلقات کے پس منظر میں اس کا مطلب ہے کسی بھی رنگ، نسل، مذہب، قوم، طبقے اور علاقے کو من حیث المجموعی بلا تحقیق منفی انداز میں دیکھنا اور دکھانا اور پھر ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لینا اور اسے حق الیقین جان کے آگے بڑھانا۔

کرائسٹ چرچ کے دہشت گردانہ قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یہ سانحہ اسٹیریو ٹائپنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے سبب اسلامک فوبیا پھیل رہا ہے۔ مجموعی کردار کشی اور پروپیگنڈے کے منفی اور پرتشدد نتائج نکل رہے ہیں۔

Read more

آخر کتنے مسلمان، ہندو، یہودی، کرسچن حیوان ہیں؟

پہلی ڈھارس اور جرات وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کی طرف سے آئی۔ واردات کے چند منٹ بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے بھرائی آواز میں کہا ’اس دھشت گردی کا شکار وہ تارکینِ وطن ہیں جنہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا۔ہاں یہ ان کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصہ ہیں۔جس شخص نے اس بدترین جرم کا ارتکاب کیا وہ ہم میں سے نہیں۔آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یہ حملہ اس لئے ہوا کہ ہم یک رنگی کے بجائے نسلی و سماجی رنگا رنگی پر یقین رکھتے ہیں۔براہ کرم حملہ آور کی پرتشدد وڈیوز اور اس کے تحریری جواز کو آگے نہ بڑھائیں ۔تاکہ اس پرتشدد سوچ کو آکسیجن نہ مل سکے۔‘اس سانحے میں سے پہلا ہیرو میاں نعیم رشید ابھرا جو دوسرے نمازیوں کو بچانے کے لئے حملہ آور باڈی بلڈر برینٹن ٹارانٹ سے لپٹ گیا۔ نعیم رشید اور ان کا بیٹا طلحہ کرائسٹ چرچ کے شہیدوں میں شامل ہیں۔

Read more

نیوزی لینڈ میں قتلِ عام

پچاس نمازیوں کا قتلِ عام جن جن ممالک میں ممکن ہے۔ کل تک ان میں نیوزی لینڈ بہرحال شامل نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ کی پچاس لاکھ آبادی میں ایشیائی تارکینِ وطن کی تعداد آج بھی بارہ فیصد سے زائد نہیں اور ان میں بھی مسلمان محض ایک اعشاریہ دو فیصد ہیں۔

کئی تبصرے باز فوراً یہ نکتہ نکالنے میں لگ گئے ہیں کہ اگر قاتل ایک سفید فام آسٹریلین ہونے کے بجائے عرب یا جنوبی ایشیائی نژاد نیوزی لینڈر یا آسٹریلین ہوتا اور مسجد کے بجائے کسی چرچ میں قتلِ عام ہوتا تو اس وقت آک لینڈ سے یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز تک اور برسلز سے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک تک ایک سفارتی و میڈیائی صفِ ماتم بچھ چکی ہوتی اور اس سانحے کو نیوزی لینڈ کا نائن الیون قرار دیتے ہوئے بہت سے ممالک اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرنے کے لیے بیٹھ چکے ہوتے اور لندن سے سڈنی تک انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست اور نیو نازی چیخ چیخ کر گلا بٹھا چکے ہوتے کہ یہ کسی ایک قاتل کا فعل نہیں بلکہ اس کے پیچھے پورا ایک نظریہ اور عدم برداشت کے خمیر سے گندھی مذہبی سوچ ہے وغیرہ وغیرہ۔

Read more

جو گن نہیں گائیں گے مارے جائیں گے

بات صرف حب الوطنی تک رہے تو بہت اچھا ہے ۔مگر بات کم بخت رہتی نہیں ہے۔ حب الوطنی کے بے ضرر بیج سے جو کونپل پھوٹتی ہے وہ بڑھتے بڑھتے قوم پرستی میں بدل جاتی ہے اور پھر یہ قوم پرستی جنونیت کے گھنے درخت کی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ جس کی عدم برداشتی چھایا تلے اور آس پاس کوئی اعتدالی و عقلی پودا پنپ نہیں پاتا۔اور پھر اس جنونیت کی شادی نظریاتی تنگ نظری سے ہو جاتی ہے اور اس شادی سے جنگ کا آتشیں دیوتا جنم لیتا ہے جو سارا جنگل اور چرند پرند درند بھسم کردیتا ہے اور پھر اس راکھ سے زندگی دوبارہ جنم لیتی ہے اور کچھ عرصے بعد پھر یہی زندگی اپنے فطری تساہل کے سبب اغوا ہو کر پھر اسی گھن چکر میں پھنستی چلی جاتی ہے کہ جس میں پھنس کر وہ بھسم ہوئی تھی۔

Read more

لسانی احساسِ برتری یا احساسِ کمتری؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ خوف کس بات کا ہے؟ اگر علاقائی زبانیں اتنی ترقی یافتہ ہیں کہ وہ اپنا ادب اور میڈیا پیدا کر رہی ہیں تو پھر انھیں قومی زبان کا درجہ کیوں نہیں ملنا چاہیے۔ جب بھی اس طرح کی کوشش ہوتی ہے تو ملکی بقا خطرے میں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں اور پاکستانیت اور اس کا تشخص لرزنے لگتا ہے۔ یہ بات بہت آرام سے نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ پاکستان کسی بادشاہت کا نہیں بلکہ وفاق کا نام ہے اور اس وفاق نے پاکستان تشکیل دیا ہے نہ کہ پاکستان نے وفاق بنایا۔

بیشتر دنیا میں اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بچے کو اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق ہے اور اگر مادری زبان اس قابل نہیں کہ اس میں تعلیم ہو سکے تو یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس زبان کو معدومی و پسماندگی سے بچاتے ہوئے ایک زندہ جدید زبان کے درجے تک لائے۔

Read more

اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر سکتا ہے

چھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو موقر پاکستانی انگریزی اخبار ڈان میں سرل المیڈا کی سٹوری شائع ہوئی۔ جس میں دو اکتوبر کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی روداد بیان کی گئی تھی جس کی صدارت وزیرِ اعظم نواز شریف نے کی تھی۔ اجلاس میں چند وفاقی وزیر و مشیر، سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری، پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر نے شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے بریفنگ دی کہ پاکستان تیزی سے سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اہم دارلحکومتوں میں پاکستان کے موقف کو غیر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مطالبات ہیں کہ مولانا مسعود اظہر، جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ، حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کئے جائیں۔ چین نے اگرچہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملے میں اقوامِ متحدہ میں ٹیکنیکل ہولڈ لگا رکھا ہے مگر چین اس کے پیچھے کی منطق جاننا چاہتا ہے۔جیسے ہی یہ رپورٹ شائع ہوئی اسلام آباد کے مقتدر ایوانوں میں سراسمیگی پھیل گئی۔ کس نے اندر کی باتیں لیک کی ہیں اس کا پتہ چلایا جائے؟ ایک ہی دن میں وزیرِ اعظم ہاؤس، وزارتِ اطلاعات اور چیف منسٹر ہاؤس لاہور سے بیک وقت پانچ تردیدیں سامنے آئیں۔ ڈان کی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ ایک تحقیقی کمیٹی بنا دی گئی جس میں حساس اداروں کی بھی نمائندگی تھی۔ تین سویلینز یعنی پرنسپل انفارمیشن سیکرٹری راؤ تحسین، وزیرِ اطلاعات پرویز رشید، مشیر خارجہ طارق فاطمی سے استعفے لے لیے گئے۔ نامہ نگار سرل المیڈا کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی

Read more