انتظار صاحب، آنسو اور معذرت

انتظار صاحب کی آنکھوں میں آنسو؟ ان کے ہونٹوں پر معافی کے الفاظ؟ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ آنکھوں دیکھی کہتا ہوں نہ کانوں سُنی۔ بلکہ اس کے لیے نیا محاورہ گھڑ لینا چاہیے، آنکھوں پڑھی۔ میں نے یوں پڑھا۔ اور پھر شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا واقعی؟ بے یقینی کے سے عالم میں اس صفحے کو دیکھتا گیا اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس صفحے پر آننتھ مورتی کا نام لکھا

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

(یہ تحریر یکم فروری 2016 کو انتظار حسین کی رحلت سے چند گھنٹے قبل لکھی گئی۔ افسوس کہ یہ دعا بھی در ایجاب سے چند ہاتھ دور غبارِ رہ کی صورت تحلیل ہو گئی) ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں

Read more

نرناری

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) مدن سندری کتنی خوش تھی کہ دیوی نے اس کی سن لی، نہیں تو بھیا اور پتی دونوں ہی کو وہ کھو بیٹھی تھی۔ بھیا جب سدھارنے لگا تو اس کی خوب بلائیں لیں۔ گوپی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، دعا دی، دعا لی، اور چلا گیا۔ گوپی کے چلے جانے کے بعد بھی مدن سندری دیوی کے گن گاتی رہی، دھا ول اس کی ہاں میں ہاں

Read more

ہندوستان سے ایک خط

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) عزیز از جان سعادت و اقبال نشان برخوردار کامران طول عمرہ بعد دعا اور تمنائے دیدار کے یہ واضح ہو کہ یہ زمانہ خیریت تمہاری نہ معلوم ہونے کی وجہ سے بہت بے چینی میں گزرا۔ میں نے مختلف ذرائع سے خیریت سے خیریت بھیجنے اور خیریت منگانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ایک چھٹی لکھ کر ابراہیم کے بیٹے یوسف کو بھیجی اور تاکید کی کہ اسے فوراً کراچی

Read more

قدامت پسند لڑکی

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) وہ چست قمیض پہنتی تھی اور اپنے آپ کو قدامت پسند بتاتی تھی۔ کرکٹ کھیلتے کھیلتے اذان کی آواز کان میں پہنچ جاتی تو دوڑتے دوڑتے رک جاتی، سرپہ آنچل ڈال لیتی اور اس وقت تک باؤلنگ نہیں کرتی جب تک اذان ختم نہ ہوجاتی۔ یہ اس لڑکی کا ذکر ہے جو مہاتما بدھ کی پیرو تھی اور تیسوں روزے رکھتی تھی۔ پکچر کا پروگرام ہو یا کرکٹ کا میچ، روزہ

Read more