ستر سال پہلے ایک دن!
ہمارے بزرگ، جو اب سوائے ایک چچی کے کوئی باقی نہیں رہے، اگست کے مہینے میں عجیب حرکتیں کرنے لگتے تھے۔ واضح رہے کہ جملہ بزرگ نہایت معزز اور معقول تھے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار نبھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ جس محلے میں یہ لوگ آ کے ٹھہرے، اس کا نام سمادھانوالا تھا، غالباً کسی کی سمادھ ہو گی وہاں۔
ہمارے چچا جانی مرحوم کو ایک بار یہ خیال آ گیا کہ بازار میں بنے بنائے پرچم درست ناپ کے نہیں۔ کسی پہ چاند تارہ غلط سمت میں بنا ہے اور کسی پہ سفید اور سبز کا تناسب بے ڈھب ہے۔ اس خیال نے ایک کھلبلی سی مچا دی۔
Read more




















