میڈیا سے نظر انداز ہوئی عام شہریوں کی مشکلات

گزرے ہفتے کے آخری دو دنوں کے دوران چند تقاریب اور دوستوں کے کھانوں میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ وہاں موجود سرکار کے نمائندوں سے گفتگو ہوئی تو وہ اس امر کی بابت مطمئن سنائی دئے کہ تحریک انصاف 26 نومبر کے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد اس شہر میں لمبے عرصے کیلئے دھرنے پر بیٹھ نہ سکی۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے انہیں ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے یہ شہر چھوڑنے کو مجبور کر دیا۔ جن

Read more

اسلام آباد پر چڑھائی اور جوابی کارروائی

میری ڈھیٹ ہڈی غیروںکے طعنے سننے کی عادی ہوچکی ہے۔عزیز از جان صحافی دوست بھی لیکن جب یہ سوچنا شروع ہو جائیں کہ پیمرا کے لائسنس کے ذریعے چلائے ٹی وی چینل اور حکومت سے ملے ڈیکلریشن کی بدولت چھاپے اخبار میں سچ بتاناممکن ہی نہیں تو دل گھبرا جاتا ہے۔ بات قواعد و ضوابط کی لگام میں بندھے میڈیا کی محدودات تک محدود رہتی تو نظر انداز کردی جاتی۔ پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ برسوں سے آپ

Read more

’تلنگے‘ انقلاب نہیں لایا کرتے

عاشقان عمران ان دنوں اس مشتعل شخص جیسا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جو گدھے سے گرنے کا ذمہ دار کمہار کو ٹھہرا دیتا ہے۔ ”انقلاب“ برپا کرنے کی خاطر ان عاشقان کو 24 نومبر کے دن اسلام آباد محترمہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پورلائے تھے۔ پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہی ”کارروان انقلاب“ کا یہاں کی ”پلس“ سے مقابلہ شروع ہوگیا۔ میرے اور آپ کے دیے ٹیکسوں سے خریدے پنجاب کی پولیس نے پشاور سے

Read more

بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی مشکلات

یہ بات تحریک انصاف کے پرستاروں کو سمجھانا بہت مشکل ہے کہ اسلام آباد میں داخلے کے بعد ڈی چوک کے بہت قریب پہنچ جانے کے باوجود بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور منگل کی رات ”محاذ جنگ“ چھوڑ کر پیر سوہاوہ کی پہاڑی سے ہری پور کی جانب ”فرار“ ہو گئے تو وجہ اس کی حکومت کا خوف نہیں تھا۔ پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری یا خدانخواستہ کسی پرتشدد حملے کے بجائے ان دونوں کو خوف اپنے

Read more

کاش معاملات یہاں تک نہ پہنچتے

  سرکار مائی باپ نے ہمارے اذہان کو مفسد خیالات سے محفوظ رکھنے کے لئے گزشتہ کئی مہینوں سے ان دنوں ایکس کہلاتے ٹویٹر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ میں کئی برسوں سے یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے کی علت میں مبتلا ہوں۔ ڈالروں کی ادائیگی سے اپنے اکاﺅنٹ کو مستند بھی بنوالیا تھا۔ سرکار نے ٹویٹر کو لیکن مستقلاًبند بھی نہیں کیا۔ کبھی کبھار اس تک رسائی ممکن بنادی جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو میں بچوں کی

Read more

ریاست کے دائمی اداروں کو شاید اب ”کچھ نیا“ کرنا پڑے

تحریک انصاف کے ناقدین کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ پیر کی صبح تک اسلام آباد میں بے پناہ ہجوم کے ساتھ داخل نہ ہونے کے باوجود عاشقان عمران خان نے اتوار کے روز اپنی قوت کا قابل ستائش مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ ہی نہیں یورپ کے کئی شہروں میں بھی اپنی بھرپور موجودگی کو ثابت کیا۔ بات ابھی تک مگر اس سوال پر رکی ہوئی ہے کہ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ ایک بڑے لشکر

Read more

ریاست بمقابلہ عمران خان اور دو نمبر انقلابی

اتوار 24 نومبر2024ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ریاست بمقابلہ عمران خان کے عنوان سے 2022ء کے اپریل سے جاری مقابلے بتدریج حق و باطل کے معرکوں میں بدلنا شروع ہو گئے۔ آج کے دن وہ نظر بظاہر ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہوں گے۔ سادہ ترین الفاظ میں ریاستی زعم اور سیاستدان کی ضد کے مابین مقابلہ ہے۔ سیاستدان کو گمان ہے کہ پاکستانی عوام کی بے پناہ اکثریت دل وجان سے اس کی فدائی ہے۔

Read more

عمران خان یا ایک بے قابو بحران

جان کی امان پاتے ہوئے سرکار مائی باپ کی خدمت میں عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ عمران خان اب سیاستدان کا نام نہیں رہا۔ اپنے تئیں ایک بحران کا عنوان بن چکا ہے جس سے بچاﺅ کی صورت ہمارے مائی باپ ڈھونڈنے میں قطعاً ناکام ہو رہے ہیں۔ میری بات پر اعتبار نہیں تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم اپنے دوستوں اور عزیزوں سے رابطہ کیجیے۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کے قریبی جاننے والوں

Read more

”فائنل کال“ میں ”محفوظ راستہ“ فراہم کرنے کی خواہش

عاشقان عمران نے نہایت لگن سے پاکستانیوں کی اکثریت کوقائل کردیا ہے کہ پیمرا کے دئے لائسنس کے ساتھ چلائے ٹی وی چینلوں پر نظر آنے والے تمام صحافی اور اینکر بکاﺅ ہیں۔ سچ جاننا ہے تو ان جی دار افراد صحافیوں سے رجوع کرو جو یوٹیوب چلاتے ہیں۔ اخبارات میں جو چھپتا ہے اس پر نوجوان نسل ویسے ہی توجہ نہیں دیتی۔ ہماری آبادی کی ایک مخصوص (اگرچہ محدود) تعداد اب بھی اخبارات میں لکھے مضامین وکالم ہی بہت

Read more

”آخری دھاوے“ میں نرمی کا عندیہ؟

منگل کی صبح اٹھ کر عادتاََ یہ کالم لکھنے سے قبل گھر آئے اخبارات کے پلندے پر سرسری نظر دوڑائی۔ اردو کے ایک اخبار کی لیڈ سٹوری نے چونکا دیا۔ صفحہ اوّل پر چھپی یہ خبر انصار عباسی نے لکھی تھی۔ موصوف میری طرح عملی رپورٹنگ سے کنارہ کش نہیں ہوئے۔ چوندی چوندی خبروں کی تلاش میں جتے رہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین رابطہ ہوا ہے۔ اس کی بدولت کوشش ہو

Read more

ہم محدود آمدنی والوں کے بجلی اور گیس کے مسائل

رواں مہینے کا آغاز ہوا تو میری بیوی نے یہ انکشاف کرکے مجھے چونکا دیا کہ ہمارے پاس روزمرہّ کی ضروریات پر خرچ کے باوجود کچھ رقم بچ گئی ہے۔ جو رقم بچی وہ ہزاروں میں تھی مگر لاکھ روپے سے کم۔ سوال اٹھا کہ اسے مناسب انداز میں کیسے خرچ کیا جائے۔ ہم جیسے محدود آمدنی والے افراد روزمرہّ اخراجات سے بچ جانے والی رقم کو اس انداز میں خرچ کرنا چاہتے ہیں جو زندگی آسان بنانے میں مددگار

Read more

اسلام آباد دھرنا کے لئے بانی پی ٹی آئی کی ” فائنل کال”

عمران خان کے اندازِ سیاست کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود ایک حقیقت کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں اور وہ یہ کہ موصوف ”آتشِ عشق“ میں بے خطر کودنے کے عادی ہیں۔ عقل کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی بدولت ان کے کئی اقدامات کو میں نے سیاسی اعتبار سے کئی بار خودکش شمار کیا۔ وزارت عظمیٰ سے تحریک عدم اعتماد پر گنتی کی وجہ سے فراغت کے بعد ان کا قومی اسمبلی سے اپنی جماعت کو باہر

Read more

میرے ذہن میں اٹکا ’سسٹم‘ کا لفظ

گزرے ہفتے کی رات نیند نہیں آرہی تھی۔ سرہانے نیو یارک ٹائمز رکھا تھا۔ اسے اٹھا لیا۔ وہاں سپین کی ایک معروف ناول نگار کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ صبح اخبار پڑھتے ہوئے میں نے اسے نظرانداز کردیا تھا۔ وجہ اس مضمون کی سرخی تھی جو عندیہ دے رہی تھی کہ وہ سپین میں آئے سیلاب کے بارے میں ہے۔ حال ہی میں آئے اس سیلاب نے بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ سینکڑوں گھر اس

Read more

”ڈیپ سٹیٹ“ کا تصور اور ٹرمپ کے ممکنہ عزائم

جمعرات کی رات کچھ دیر چلنے کے بعد میرا ٹویٹر اکاﺅنٹ دو روز تک بند رہا۔ اس کے بند ہونے سے جو کوفت محسوس ہوا کرتی تھی بتدریج ختم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اس امر کو شکست خوردہ ذہن کے ساتھ تسلیم کر لیا ہے کہ ہماری مائی باپ سرکار ٹویٹر (جسے اب ایکس کہا جاتا ہے) کی وقتاً فوقتاً مگر طویل بندش کے ذریعے ہمارے طفلانہ اذہان کو مضر خیالات سے محفوظ رکھے گی۔ امن وامان کا تحفظ

Read more

دہشت گرد عناصر کی تخریب کاری اور بلوچ عوام

ریاست کے طاقت ور اداروں ہی کو نہیں بلکہ چند عزیز ترین دوستوں کو بھی بلوچ نوجوانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے کی کوشش میں کئی برسوں تک ناراض کرتا رہا ہوں۔ معاملات مگر اب گھر میں بیٹھ کر لفظوں کی جگالی کرنے والوں کی خیالی دنیا سے قطعاً مختلف ہو چکے ہیں۔ ہفتے کی صبح کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکہ ہوا۔ اس کی ذمہ داری بھی ایک کالعدم تنظیم نے اپنے سر لے لی ہے۔ دعویٰ کیا ہے

Read more

ٹرمپ کی تاریخی کامیابی کے پسِ پردہ ٹھوس وجوہات

نہایت عاجزی اور ایمان داری سے بدھ کی صبح لکھے کالم کے ذریعے اعتراف کر چکا ہوں کہ نام نہاد ”معروضی حالات“ کا ”غیر جانب دارانہ تجزیہ“ کرنے کے عادی ہوئے مجھ جیسے پرانی وضع کے صحافی یہ حقیقت بروقت بیان کرنے میں ناکام رہے کہ ڈونلڈٹرمپ اور اس کی جماعت 5 نومبر 2024ء کے دن ہوئے انتخاب کی بدولت تاریخ ساز کامیابیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دعویٰ ہو رہا ہے کہ ہمارے برعکس سوشل میڈیا حقائق کو بہتر

Read more

قصّہ پنجوتھا صاحب کے ’اغوا‘ کا

ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہونے کے باوجود میں سادہ لوح اس گماں میں مبتلا ہوگیا تھا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم متعارف کروالینے کے بعد حکومتی اتحاد کو وقتی سکون نصیب ہوجائے گا۔ اس کے دوران حکومت ملکی معیشت پر کامل توجہ مبذول رکھتے ہوئے سیاسی استحکام کا حصول بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ میری خوش گمانی کا اہم سبب عزت مآب یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تعیناتی بھی تھی۔ میں ان سے آج تک کسی سماجی

Read more

قاضی فائز عیسیٰ سے بدسلوکی، دوسرے ججوں کے لئے وارننگ

بدھ کے روز جس شخص سے بھی ملاقات ہوئی پریشانی کے عالم میں اپنا فون کھول کر مجھے برطانیہ کے شہر لندن میں سپریم کورٹ کے حال ہی میں ریٹائر ہوئے چیف جسٹس صاحب کے ساتھ ہوئے سلوک کی ویڈیوز دکھانا شروع ہوجاتا۔ یہ سب دکھاتے ہوئے سوال یہ بھی پوچھا جاتا کہ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کو کیا ہو گیا ہے۔ عرصہ ہوا کج بحثی سے جند چھڑانے کی عادت اپنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ صبر مگر

Read more

انقلاب کے منتظر افراد کو کسی نئے ”تنکے“ کی ضرورت

ساری زندگی صحافت کے سوا کچھ نہیں کیا اور اس دھندے کو ”گنگا“ کی طرح سمجھتے ہوئے اس میں ہاتھ گیلے کرنے سے ہمیشہ پرہیز ہی برتا۔ بدقسمتی مگر یہ ہوگئی کہ اکتوبر2011ء میں ہمارے ”ذہن سازوں“ نے عمران خان صاحب کی صورت ایک ”دیدہ ور“ تلاش کرلیا۔ خان صاحب 1996ء کے برس سیاسی میدان میں وارد ہوئے تھے۔ کئی دوستوں کی وجہ سے ان تک رسائی نصیب ہو گئی۔ میں انتہائی عاجزی سے انہیں اور ان کے پرخلوص دوستوں

Read more

بے چَینی اور ’کچیچی‘

ماہرین سے سنا ہے کہ کسی موذی نشے کے شکار افراد اپنی طلب کے مطابق ”خوراک“ لئے بغیر پہلے اداس اور پھر بے چین ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات ان کی بے چینی دیوانگی میں بدل جاتی ہے۔ خود کو اذیت دینے کے علاوہ بے شمار افراد چھوٹے جرائم سے آغاز کرتے ہوئے قتل وڈاکہ جیسی سنگین وارداتوں کا ارتکاب بھی شروع کر دیتے ہیں۔ برائے مہربانی میری بات سن کر حیران نہ ہو جائیے گا۔ پیر کی سہ پہر

Read more

سموگ میں ڈوبا لاہور

گزشتہ ہفتے جمعرات سے اتوار تک تین راتیں اور چار دن لاہور میں رہا ہوں۔ میری بہن کی بیٹی کی شادی تھی۔ اپنے خاندان کا بڑا ہونے کی وجہ سے میری اس شادی سے متعلق ہر تقریب میں شرکت لازمی تھی۔ میرے دیرینہ قاری اگرچہ اس حقیقت سے اب تک بخوبی آگاہ ہوچکے ہیں کہ میں گزشتہ کئی برسوں سے لاہور جانے سے گھبراتا ہوں۔ بارہ دروازوں کے اندر بسے میرے بچپن کا شہر اب نودولتیوں سے مختص ثقافت کی

Read more

میرا آئندہ کوئی خبر نہ ڈھونڈنے کا ارادہ

جمعرات کی صبح جو کالم چھپا ہے اس میں اپنی دانست میں اس خاکسار نے ایک اہم ”خبر“ دینے کی کوشش کی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آئین میں 26 ویں ترمیم پاس ہوجانے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت کو خیال آیا کہ آئین کی بے شمار شقوں میں ترامیم ہوئی ہیں۔ سیاست میں لیکن لوگ حقائق سے تاثر کو زیادہ اہم گردانتے ہیں۔ تاثر کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے خیال یہ آیا کہ خلق خدا کی اکثریت تو

Read more

تحریک انصاف کی جسٹس منصور علی شاہ سے ”محبت“ کا انجام

رات بے خوابی میں کروٹیں لیتے گزری ہے۔ ممکن ہوتا تو کالم لکھنے سے گریز کرتا۔ یوں مگر کام چوری ہو جاتی۔ قلم اٹھاتے ہی لیکن منیر نیازی کا ایک شعر یاد آیا ہے۔ بے خوابی کی وجہ سے ماﺅف ہوئے ذہن سے اگر ایک آدھ لفظ مذکورہ شعر میں آگے پیچھے ہوجائے تو معاف کردیجئے گا۔ بہرحال جو شعر ذہن میں آیا ہے وہ ہر اس شخص کے مرجانے کا اعلان کرتا ہے ”میں جس سے پیار کرتا ہوں۔“

Read more

میری "پادری” مشہور ہونے کی حسرت

کسی ٹی وی شو میں شریک ہوتا ہوں تو میرے نام کے نیچے ٹی وی سکرین پر ”سینئر تجزیہ کار“ لکھا جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ جی ہاں عمر تمام صحافت کی نذر کر دی۔ انتہائی لگن سے کوشش یہ بھی رہی کہ بطور صحافی تنخواہ کے علاوہ دیگر ترغیبات و سہولیات سے گریز ہی اختیار کئے رکھوں۔ عمران خان کے کسی ایک عاشق کے سامنے مگر آپ میرا نام لیں گے تو وہ مجھے ”لفافہ“ پکارے

Read more

26 ویں آئینی ترمیم۔ ریاستی بندوبست کا جوابی وار

تحریک انصاف کا کوئی ایک سینیٹر توڑے اور اسے ”شو“ کئے بغیر حکومت نے اتوار کی شام ایوان بالا سے آئین میں 26 ویں ترمیم کا پیکیج منظور کروا لیا تو میں تھکن سے چور ہواگھرلوٹ آیا۔ بستر پر لیٹنے کے باوجود مگر سونا نصیب نہ ہوا۔ سینٹ کے بعد حکومت منظور ہوئی ترمیم قومی اسمبلی میں لے گئی۔ اسے وہاں سے منظور کروانے میں کئی گھنٹے صرف ہوئے۔ اس کالم کے باقاعدہ قاری بخوبی جانتے ہیں کہ میں ذاتی

Read more

پی ٹی آئی کی صفوں سے لوگوں کی تلاش

دنیا کے بے شمار افراد کی طرح میں بھی طویل عرصہ اس گماں میں مبتلا رہا کہ انٹرنیٹ کی بدولت متعارف ہوئے پلیٹ فارم ہمیں وسیع القلب بنانے کے علاوہ دیگر ممالک کے زیادہ قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ پلیٹ فارموں نے مگر ہمیں بطور فرد خود پرستی میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ہم اپنے ذہنوں کو کشادہ کرنے کے بجائے

Read more

مہمان صحافیوں کو ہماری زندگی سے روشناس کرانے کی منصوبہ بندی؟

صحافت کے شعبے میں دس سال گزار دیے تو 1985ء کی آخری سہ ماہی سے اس قابل شمار ہونا شروع ہو گیا کہ عالمی کانفرنسوں کی رپورٹنگ کر سکوں۔ اس ضمن میں آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ہوا تھا۔ اس میں شرکت کے لئے وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے ہمراہ جانے والے وفد میں شامل تھا۔ اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط اور روایات پر نہایت لگن سے گرفت حاصل کرنے کی کوشش

Read more

سیاسی جماعتوں کی خیبر پختونخواہ سے بے نیازی

صحافت کے شعبے میں ذرا قدم جما لئے تو افغانستان میں ”جہاد“ شروع ہوگیا۔ اس کے بارے میں میرا دل شکوک و شبہات سے بھرارہا۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ ”جہاد“ کے سرپرست جنرل ضیا الحق تھے جنہوں نے جولائی 1977ء میں مارشل لاءلگانے کے بعد صحافیوں کی زباں بندی کیلئے ایسے منصوبے بنائے جن میں ہمارے چند ساتھیوں کو برسرعام کوڑے مارکر ”عبرت کا نشان“ بنانے کا عمل بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں 1980ء کی دہائی کے آغاز

Read more

’پانچ سو وکلا کا احتجاجی غول‘

”احتجاجی“ غول سے گھبرا کر ہمارے ایک چیف جسٹس، سجاد علی شاہ جن کا اِسم گرامی تھا، عدالت چھوڑ کر اپنے چیمبر تشریف لے گئے تھے۔ حالانکہ وہ ایسے ”دلیر“ جج تھے جنہوں نے اپنے ایک پیشرو نسیم حسن شاہ کے لکھے ”تاریخی“ فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جس فیصلے سے انہوں نے اختلاف کیا اس کے ذریعے اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں نواز شریف کی پہلی حکومت اور ان دنوں کی قومی اسمبلی بحال کردی

Read more

انتظار ہی میں عافیت ہے

”خبر“ ان دنوں پارلیمان کے ایوانوں یا حکومتی دفتروں میں نہیں بنتی۔ ”تاریخ ساز“ فیصلہ سازی کا مرکز بلکہ اب کئی برسوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان بن چکا ہے۔ آغاز اس کی مرکزیت کا افتخار چودھری کے دنوں سے ہوا تھا۔ موصوف کو چند فائلیں دکھا کر جنرل مشرف نے اپنے طاقت ور ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھ  کر استعفیٰ دینے کو مجبور کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے ”انکار“ کردیا۔ اس کے بعد جو ہوا حالیہ تاریخ ہے۔

Read more

ریاست کا ’جگا‘ بننے کا فیصلہ

نہایت دیانت داری سے بدھ کی رات سونے سے قبل ارادہ یہ باندھا تھا کہ جمعرات کی صبح اٹھ کر جو کالم لکھنا ہے اس کے ذریعے قوم کو ”مبارکباد“ دوں گا کہ عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ -آئی ایم ایف- ایک بار پھر پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے رضا مند ہوگیا ہے۔ مختلف اقساط میں ہمیں آئندہ تین برسوں کے دوران مجموعی طورپر 7 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملے گی۔ اس رقم کو مگر ”امدادی“

Read more

شنگھائی کانفرنس اور اکثریتی فیصلہ پر عملدرآمد کا سوال

شام 7 بجے سے رات کے بارہ بجے تک ریموٹ کے بٹن دباتے ہوئے ”حالاتِ حاضرہ“ کو زیر بحث لاتے کسی بھی ٹی وی شوپر رکیں تو گماں ہوتا ہے کہ ہماری قوم ان دنوں آئین پاکستان کی ہر شق پر عملدرآمد ہوتا دیکھنے کو بے چین ہے۔ اسے یہ فکر بھی لاحق ہوچکی ہے کہ عدالتی فیصلوں کا دل وجان سے احترام ہو۔ عدالتی فیصلوں پر عمل پیرائی کو بے چین نظر آتی میری قوم مگر بھول چکی ہے

Read more

ناقابلِ عمل ہوا ہمارا تحریری آئین

گزشتہ دو برس سے تقریباََ ہر روز کافی نوجوانوں سے یہ طعنے سننا پڑتے ہیں کہ میری نسل کے لوگ موقعہ پرست، بزدل اور منافق تھے۔ یہ خصلتیں ہماری نسل میں موجود نہ ہوتیں تو وطن عزیز ایوب،یحییٰ، ضیاء اور پرویز مشرف کے لگائے مارشل لاﺅں کی زد میں نہ آتا۔ سمجھا سمجھا کر تھک چکا ہوں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بطور دیدہ ور نمودار ہونے کے وقت میں ماں کی گود سے اتر تو گیا تھا مگر

Read more

بانی پی ٹی آئی کا ’مارو یا مرجاﺅ‘ والا پیغام؟

قارئین کی خاطر خواہ تعداد گلہ کررہی ہے کہ میں یہ طے کرنے سے گریز اختیار کرتا نظر آ رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا لاہور میں ہوا جلسہ کامیاب تھا یا نہیں۔ شکوہ ان کا بلاجواز نہیں۔ اس ضمن میں میری جانب سے اختیار کردہ اجتناب بھی لیکن بلاسبب نہیں۔ دماغ عموماً ضرورت سے زیادہ منطقی انداز میں سوچتا ہے۔ اسی باعث تحریک انصاف کے لاہورمیں ہوئے جلسے پر غور کرتے ہوئے بنیادی سوال یہ اٹھاتا ہوں کہ اسے

Read more

وفاق کی تمام اکائیوں کے مابین اتحاد کی ضرورت

کمرے میں لگا اے سی بند کردوں تو حبس سانس نہیں لینے دیتا۔ چلاؤں تو ہڈیوں میں درد ہونے لگتا ہے اور یہ سلسلہ اسلام آباد میں میرے ساتھ گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ہے۔ اسی باعث جمعرات کی صبح اٹھا تو جسم میں درد کے ساتھ بخار بھی تھا اور اس کی وجہ سے کالم نہ لکھ پایا۔ جمعہ کی صبح اسے اخبار اور ’نوائے وقت‘ کے ویب ایڈیشن سے غائب ہوا دیکھ کر کئی مہربان پریشان ہو گئے۔

Read more

پارلیمان کو دور سے سلام

بلاول بھٹو زرداری ذاتی طورپر مجھے بہت عزیز ہیں۔ ان کی سیاست کو بطور صحافی زیر بحث لانے سے گریز کوترجیح دیتا ہوں۔ انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی نشانی سمجھتے ہوئے جذباتی تعلقات ہی پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔ منگل کی شب حامدمیر کے شو میں تفصیلی گفتگو کے بعد وہ مگر اے آر وائی کے وسیم بادامی کو بھی ”وضاحتیں“ دیتے سنائی دیئے۔ ”وضاحتیں“ کا لفظ میں نے سوچ بچار کے بعد لکھا ہے۔ اسے لکھنے کے بعدبھی

Read more

آئینی ترامیم کے لئے حکومت کی ڈھونڈی "جگاڑ”

اپریل 2022ء میں عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نون) نے دیگر سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے حکومت سنبھالی تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گئی۔ مذکورہ ہدف کے حصول کے لئے عالمی معیشت کے نگہبان آئی ایم ایف سے رجوع کرنا لازمی تھا۔ اس کے دروازے پر دستک دی تو وہ پاکستان کو یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ اس کی معیشت سنبھالنے کے

Read more

علم اور معلومات میں فرق اور آئینی ترمیم

انگریزی شاعری کو بے شمار نئے زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے والا نقاد وشاعر ٹی ایس ایلیٹ بہت عرصے تک مجھے سمجھ ہی میں نہیں آیا۔ ویسے بھی شاعری میرے لیے غالب کے بعد فیض سے ہوتی ہوئی منیر نیازی پر ختم ہوچکی تھی۔ کچھ عرصے کے لیے میں نے بلھے شاہ سے بھی کچھ سیکھنا چاہا۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ کسی بھی زبان میں ہوئی شاعری کو اس کی گہرائیوں سمیت سمجھنا میرے بس کی بات نہیں۔ بہرحال

Read more

زلمے خلیل زاد کا پاکستان بارے ٹویٹ

جمعرات کی صبح آنکھ کھلی تو اتفاقاً میرے موبائل فون پر ٹویٹر اکاﺅنٹ کام کر رہا تھا۔ نیند پوری نہ ہونے کے باوجود ٹویٹر کے فعال ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تازہ ترین جاننے میں مصروف ہوگیا۔ سکرین پر انگوٹھا چلاتے ہوئے مگر اس پیغام پر رک گیا جو ایک مشہور افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد نے لکھا تھا۔ زلمے جسے پیار سے اس کے دوست ”زیل“ پکارتے ہیں میری ذاتی رائے میں ایک چلا ہوا کارتوس ہے۔ امریکہ

Read more

”ازخود بازیاب“ ہوئے گنڈاپور کی داستان

سیاست کا گورکھ دھنداسمجھنے کے حوالے سے جب ہوش سنبھالا تو 1970ء کی دہائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس کے شروع ہوتے ہی مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ میری نسل اس جدائی کے حقیقی اسباب سمجھنے میں ناکام رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو اس کے بعد سویلین ہوتے ہوئے بھی ”چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر“بنے۔ اس سے قبل یہ عہدہ جنرل یحییٰ خان کے پاس تھا۔ انہیں ”ادارے“ ہی نے استعفیٰ دینے کو مجبور کیا۔ بھٹو صاحب ان

Read more

حکومت کا تحریک انصاف کو سبق سکھانے کا ارادہ

”صحافت“ کے حوالے سے اگر خود کو ان دنوں کا ”بطل حریت“ ثابت کرنا ہے تو سینہ ٹھوک کر یوٹیوب پر بیٹھ جائیں اور گریبان پھاڑنے کا ڈرامہ رچاتے ہوئے دنیا کو بتائیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ”پہلی بار“ پولیس نے ”منتخب نمائندوں“ کو گرفتار کرنے کے لئے پارلیمان کا گھیراؤ کیا۔ جن معزز اراکین پارلیمان کی گرفتاری مقصود تھی انہوں نے اپنا ”آئینی حق“ استعمال کرتے ہوئے گزرے اتوار کے دن اسلام آباد کے نواحی سنگ جانی کے

Read more

پی ٹی آئی کا بنگلہ دیش میں چلائی تحریک دہرانے کا ارادہ

2022ء کے آغاز سے اس کالم میں لکھے چلے جا رہا ہوں کہ وطن عزیز میں ”صحافت“ ہی نہیں بلکہ ”سیاست“ بھی نہیں ہورہی۔ حکمران اشرافیہ انگریزی زبان والے رولز آف گیم طے کرنے میں قطعاً ناکام ہے۔ پارلیمان،عدلیہ ا ور انتظامیہ ریاست کے ”ستون“ تو ہیں مگر ایک دوسرے کے ”ہم قامت“ نہیں۔ ان میں سے ایک نے اپنی بالادستی 1950ء کی دہائی شروع ہونے کے چند ہی ماہ بعد ثابت کردی تھی۔ محض قلم کی طاقت والے ستون

Read more

آئی سی 814: نیٹ فلیکس کا ڈرامائی سلسلہ

’بازارِ یوٹیوب‘ کے اگر پھیرے لگاتے رہیں تو وہ جان لیتا ہے کہ آپ کن موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میرے بارے میں بھی یہ پلیٹ فارم دریافت کرچکا ہے کہ مجھے بھارتی میڈیا میں زیر بحث آئے موضوعات کے بارے میں صحافیوں کے ایک مخصوص گروہ کے خیالات جاننے کی خواہش لاحق ہے۔ یہ صحافی میری نگاہ میں اندھی نفرت وعقیدت والی تقسیم سے بالاتر رہتے ہوئے معاملات کو روایتی صحافت کے متعارف کردہ زاویوں ہی سے دیکھنے کی

Read more

پاکستان پر مسلط ”پراکسی جنگ“

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے اچانک اٹھ کر ایک مختصر خطاب کیا۔ ان کی تقریر میرے اندازے کے مطابق 8 سے 9 منٹ تک محدود رہی۔ اس کا ایک ایک لفظ مگر ملکی سیاست کے بارے میں مضطرب ہر شخص کے لئے قابل غور ہونا چاہیے۔ اہم ترین پہلو یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ بدھ کے روز مولانا کی تقریر دو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد برسرعام

Read more

اختر مینگل کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

ہم پاکستانیوں میں سے شاید بہت ہی کم لوگوں کو علم ہو گا کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے حامی نوجوانوں میں سب سے مقبول نعرہ کیا ہے۔ ان کی آسانی کے لئے بتائے دیتا ہوں کہ نعرہ ہے :”جو پارلیمان کا یار ہے- غدارہے-غدار ہے“۔ سادہ ترین پیغام اس نعرہ میں یہ مضمر ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب میں حصہ لینے والے بلوچ اپنی دھرتی کے ”غدار“ ہیں کیونکہ وہ آئین پاکستان کے تحت قائم ہوئے

Read more

گارڈین میں’ اہتمام سے چھپوایا گیا‘ مضمون

بچپن میں جو کہانیاں سنی تھیں اکثر ایسے شہروں کا ذکر کرتیں جہاں روزمرہّ زندگی اچانک ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کا سبب سحر یا کسی نیک بزرگ کی دی بددعا ہوتی۔ سحر کا توڑ ڈھونڈنے میں کامیاب افراد جو عموماًشاہزادے ہوتے ان کہانیوں کے ہیرو تھے۔ کسی نیک بزرگ کی بددعا سے منجمد زندگی کو بحال ہوتا بتانے والی کہانی میں نے کبھی نہیں سنی۔ بچپن میں سنی یہ کہانیاں نویں جماعت تک پہنچتے ہی بھول بھال گیا۔ ذہن

Read more

عمران خان کی جیل کی کنجی کس کے پاس ہے؟

’کپتان‘ تو اپنے مداحین کی نگاہ میں اب بھی’ڈٹ‘ کے کھڑے ہیں۔ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کو مگر انھوں نے ’آئین بچانے‘ کی خاطر حکومت سے مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے۔ ’حکومت‘ کا ذکر چلا تو میرے جھکی ذہن میں فوراً یہ سوال اٹھا کہ ’کون سی حکومت‘؟ شہباز شریف کی سربراہی میں جو حکومت ہمیں ان دنوں وفاق میں نظر آرہی ہے تحریک انصاف اور اس کے حامی اسے ’فارم 47‘ کی بنیاد پر بنائی

Read more

چند حکومتی فیصلوں پر پیپلز پارٹی کی ”اچانک“ حیرانی

اسلام آباد آئے مجھے ڈیڑھ سال گزرگیا تو ایک روز اچانک خیال آیا کہ لاہور سے یہاں منتقل ہوجانے کے بعد ایک بار بھی بتی نہیں گئی۔ میرے بچپن میں لوڈشیڈنگ متعارف نہیں ہوئی تھی۔ ہفتے میں لیکن کم از کم ایک بار ہمارے گھر میں دو سے تین گھنٹے تک بجلی میسر نہ ہوتی۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی کہ گھروں کو بجلی پہنچانے والی لائنیں قیام پاکستان سے قبل بچھائی گئی تھیں۔ ان کے ذریعے جو بجلی

Read more

ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی شروع ہوئی

ملکی سیاست پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بنیادی طورپر رزق کمانے کے لئے ہفتے کے پانچ دن اس کالم کے ذریعے تبصرہ آرائی کی مشقت میری مجبوری ہے۔ یہ مجبوری اکثر مجھے اب قوم یاجوج ماجوج کی یاددلانا شروع ہوگئی ہے۔ قوم یاجوج ماجوج کا ذکر کیا ہے تو ذہن میں برجستہ یہ سوال امڈ آیا کہ ہماری نوجوان نسل کا کتنے فی صد اس قوم پر مسلط ہوئے عذاب سے واقف ہے۔ اگر ان کی اکثریت قوم یا جوج

Read more

سپریم کورٹ کی تشکیل و اختیار سے متعلق’قضیے‘ کا آغاز

وطن عزیز میں جمہوری سیاست نہیں حکمران اشرافیہ کے مختلف ستونوں اور دھڑوں کے مابین اختیارات پر کامل گرفت کی جنگ چل رہی ہے۔ جنگ شاید مناسب لفظ نہیں کیونکہ اس میں ایک میدان جنگ ہوتا ہے جس میں اترے فریقین کی شناخت دشوار نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں گزشتہ کئی دنوں سے مگر جو یدھ برپا ہے وہ بنیادی طورپر بند کمروں میں تیار ہوئی سازشوں کے ذریعے ہمارے سامنے آتا ہے۔ فریقین بذات خود میدان میں نہیں اترتے۔ دوسرے

Read more

حکومتی اتحادیوں کا’تخت یا تختہ‘ والا ذہن

اتوار کی شام حکومت نے پیر کی سہ پہر پانچ بجے بلائے قومی اسمبلی کے اجلاس کے لئے تین صفحات کا ایجنڈا جاری کیا۔ آئین میں کسی بھی نوعیت کی ترمیم کا ارادہ اس میں ظاہر نہیں ہوا۔ اتوار کے روز لکھے کالم کو دفتر بھجوانے کے بعد مگر میرے اندر عرصے سے مردہ ہوا رپورٹر اطمینان سے نہیں بیٹھا۔ بارہا یہ خیال ستاتا رہا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت فی الوقت نظر بظاہر موجود نہیں۔ اس کے

Read more

چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ اور آئین میں ترمیم

متعدد بار اس کالم میں آندرے میر نامی محقق کا ذکر ہوا ہے۔ وہ روس کا صحافی تھا۔ اپنے ملک میں آزادیِ صحافت سے محروم محسوس کیا تو کینیڈا منتقل ہوگیا۔ یہاں کچھ برس گزار دینے کے بعد دریافت کیا کہ ’صحافت‘ نام کی شے کینیڈا جیسے ملک میں بھی موجود نہیں رہی۔ صحافت چھوڑ کر تحقیق کو راغب ہوا اور ٹھوس اعدادوشمار جمع کرنے کے بعد ان کے تجزیے میں مصروف ہوگیا۔ بالآخر نتیجہ یہ نکالا کہ ہم ’مابعدازصحافت‘

Read more

فیض حمید کی مبینہ نامزدگی روکنے سے عام آدمی پر ٹوٹتے عذاب

بنگلہ دیش کے بعد تھوڑی تحقیق کی بدولت میں نے ایک اور ملک بھی دریافت کر لیا ہے۔ اس ملک میں بھی ”نظام کہنہ“ نے نہایت دیدہ دلیری سے حال ہی میں نوجوانوں کے خوابوں کو عملی شکل کی صورت اختیار کرنے نہیں دی۔ ذکر اس ملک کا فی الحال موخر کررہا ہوں۔ آپ چاہیں تو یہ کالم چھپنے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھے تبصروں کے ذریعے اس ملک کا نام لکھ سکتے ہیں جس کا ذکر بنگلہ دیش

Read more

”انقلاب“ کی نظامِ کہنہ کے ہاتھوں ناکام ہونے کی ایک اور مثال

اس کالم کے ذریعے مجھے دو نمبری مجمعہ بازوں کی طرح ”ہر مرض کا علاج“ فراہم کرتے ” کشتے بیچنے کی عادت نہیں۔ پاکستانی سیاست کو عالمی تناظر میں رکھے بغیر سمجھنے کی کوشش بھی میری دانست میں کنوئیں کے مینڈک والا رویہ ہے۔ حالات کو مگر تاریخ اور دیگر ممالک کی مثالوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش ہوتو سوشل میڈیا پر مسلط ہوا ”انقلابیوں“ کا انبوہ مجھ بڈھے کو لکھنے سے ریٹائر ہونے کے مشورے دینا شروع ہوجاتا

Read more

بنگلہ دیش میں”نظامِ کہنہ”کو ملیامیٹ کرنے کا ٹوٹتا خواب

حسینہ واجد ہی نہیں مجھے اس کے والد شیخ مجیب الرحمن بھی پسند نہیں تھے۔ ناپسندیدگی کی وجہ جبلی تھی۔ آج بھی لاہور کی وہ دوپہر یاد ہے جب 1969ء کے ابتدائی ایام میں ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن ایک ہی طیارے میں بیٹھ کر کراچی سے میرے شہر آئے تھے۔ دونوں کو ان دنوں کے صدر ایوب خان نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ پاکستان کے پہلے فوجی آمر اس کانفرنس کے انعقاد

Read more

ایک گرفتاری سے جڑی کہانیاں

جس گرفتاری کا ان دنوں ہر محفل میں ذکر ہورہا ہے وہ ہماری تاریخ کی ”اس“ ادارے سے وابستہ رہے کسی فرد کی پہلی گرفتاری نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے چند ہی برس بعد اکبر نام کے اعلیٰ ترین افسر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی اہلیہ بیگم نسیم جہاں بھی ان کے ساتھ گرفتار ہوئیں۔ بعدازاں بریگیڈئر سے میجر تک کے 20 کے قریب افسر بھی گرفتار ہوئے۔ ان میں سے چند وعدہ معاف گواہ بن گئے اور ”پنڈی

Read more

عوامی بصیرت ملک کی بہتری کی ضامن بن سکتی ہے

14 اگست 2024ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ یہ سطر پڑھنے کے بعد آپ یہ سوچیں گے کہ نیند سے بیدار ہوتے ہی قلم اٹھا لیا تھا۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ منگل کی شب 6 بجے کے قریب ہمارے گھر کی بتی چلی گئی تھی۔ ٹی وی شو کرنے کے بعد سوا نو بجے گھر لوٹا تو میرا گھر ہی نہیں پوری گلی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ بجلی غائب ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے

Read more

آئین کے تقاضے کی یاد دہانی

اگر چاہیں تو آپ آج کے کالم کا ابتدائیہ دیکھنے کے بعد مزید پڑھنے سے اجتناب برت سکتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں سپریم کورٹ کے اکتوبر میں متوقع چیف جسٹس صاحب کے اس ”پیغام“ پر تبصرہ آرائی سے گریز کا فیصلہ کرچکا ہوں جو انہوں نے اسلام آباد میں ہوئی ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ سپریم کورٹ کے ہر حکم کی اطاعت آئین کا تقاضا ہے۔ آئین کے

Read more

ارشد ندیم کی کامیابی اور ریاست کی سرپرستی

گزشتہ کئی برسوں سے ہم کوئی ’اچھی خبر‘ سننے کو بے چین تھے۔ ایسی خبر جو ہمیں بطور پاکستانی فخر محسوس کرنے کا موقع فراہم کرے۔ اولمپک گیمز میں میاں چنوں سے ابھرے ارشد ندیم نے نیزہ پھینک کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ سونے کا تمغہ جیت کر وطن لوٹا۔ اس کی جیت نے ہمیں یاد دلایا کہ جیولن تھرو یا نیزہ اچھالنا بھی عالمی سطح پر ایک اہم کھیل تصور ہوتا ہے اور پاکستان اس کھیل میں نمایاں

Read more

”کرشمہ ساز“ کی مشکل سے مشکل تر ہوتی زندگی

اپنے تئیں عقل کل ہوئے مجھ جیسے لفظ فروش ٹی وی سکرینوں کے ذریعے آپ میں ”علم“ بانٹتے ہوئے رائی کا پہاڑ بناتے ہیں۔ پانی میں پنجابی محاورے والی مدھانی ڈال کر اسے بلوتے ہوئے کوئی لذیذ یا سود مند شے نکالی نہیں جاسکتی۔ ہم ڈھٹائی سے مگر اس میں مصروف رہتے ہیں۔ کار بے سود میں مصروف رکھنے کے لئے بنیادی کمک ورسد ہمیں ایک کرشمہ ساز کی جانب سے فراہم ہوتی ہے۔ 1996ء میں وہ نیا پاکستان تشکیل

Read more

ہمارے مضطرب معاشرے میں سفید پوشوں کا ٹوٹتا بھرم

آپ میں سے جو لوگ دیگر افراد کو ”خوش حال“ دِکھتے ہیں گزشتہ چند مہینوں سے ایسے تجربے سے یقینا گزرے ہوں گے اور وہ یہ کہ قریبی جاننے والوں میں سے چند نے آپ سے رابطہ کیا۔ اِدھر ادھر کی گفتگو کے بعد تھوڑا حوصلہ پکڑا تو بجلی کا بل یا بچوں کی فیس ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے کچھ رقم ادھار مانگ لی۔ میرے ساتھ یہ تجربہ اگرچہ نہیں ہوا ہے۔ وجہ اس کی

Read more

حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کا بھارتی میڈیا کا بیان کردہ پس منظر

سوشل میڈیا پر چھائے تبصرہ نگاردورکی کوڑیاں لاتی ترجیحات کے ذریعے سازشی کہانیاں ایجاد کریں تو حیرت نہیں ہوتی۔ نفسیاتی اور سماجیاتی علوم کے مختلف پیمانوں سے ہنر ابلاغ کا جائزہ لینے والے عرصہ ہوا سمجھا چکے ہیں کہ ”خبر“ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سودا وہی بکتا ہے جو اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے گروہوں میں سے کسی ایک کے دلوں میں موجود تعصبات کو جائز و واجب ٹھہراتے ہوئے انہیں مزید بھڑکانے کے لئے ”خبر“ اور

Read more

سپریم کورٹ کے دو فاضل ججوں کی اختلافی رائے پر کاروباری حلقوں کی بے نیازی

پیر کی صبح جو کالم چھپا ہے اسے اتوار کے روز بستر سے اٹھنے کے بعد لکھا تھا۔ دفتر بھجوا دیا تو اسلام آباد کو لاہور سے ملاتے موٹروے پر سفر کے لئے روانہ ہو گیا۔ جس تقریب میں شرکت لازمی تھی وہاں تک پہنچنے کے لئے مگر موٹروے سے اتر کر بھی مزید تین گھنٹے درکار تھے۔قصہ مختصر سات گھنٹوں میں سفر ختم ہوا تو جسم توانائی سے کامل محروم ہو چکا تھا۔ نہایت ڈھٹائی سے اگرچہ ایک مہمان

Read more

سوشل میڈیائی فدائیوں کے ریٹائرمنٹ کے مشورے

سوشل میڈیا پر کالم پوسٹ ہوجائے تو اس کے نیچے کمنٹ لکھنے والوں میں ہمیشہ تین یا چار افراد زیر بحث آئے موضوع کو قطعاً نظرانداز کرتے ہوئے یاد فقط یہ دلاتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ نام کی بھی ایک شے ہوتی ہے۔ مجھ جیسے قلم گھسیٹ کو اس کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اخبار کے لیے لکھنے اور ٹی وی پر بولنے سے گریز اختیار کرلینا چاہیے۔ ابتداً ایسے تبصروں کو سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد بھلادیا کرتاتھا۔ بتدریج

Read more

اسماعیل ہانیہ کی پاسداران انقلاب کے قلب میں شہادت کا معمہ

عقل کا ضرورت سے زیادہ غلام ہوتے ہوئے سازشی تھیوریوں سے مجھے شدید الجھن ہوتی ہے۔ کبھی کبھار مگر کچھ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جن پر غور کرتے ہوئے ”سازش“ ڈھونڈنے کو مجبور ہو جاتا ہوں۔ بدھ کی صبح سے بھی ایسی ہی الجھن میں مبتلا ہوں۔ اسرائیل نے جارحانہ دیدہ دلیری سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت کے ایک ”محفوظ ترین“ ریسٹ ہاﺅس میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک جدید تر میزائل

Read more

ہنیہ کی شہادت سے عالمی جنگ والے پیدا ہوتے خطرات

مسلسل چار دنوں سے یہ طے کر لینے کے بعد ہی سوتا ہوں کہ صبح اٹھ کر کون سے موضوع پر لکھنا ہے۔ آنکھ کھلتی ہے تو مگر احساس ہوتا ہے کہ نام نہاد ”حالاتِ حاضرہ“ پر لکھنے والے کو فوری طور پر ایک اور موضوع پر تبصرہ آرائی کرنا ہوگی۔ بدھ کی صبح اٹھ کر بھی سونے سے قبل طے کیے موضوع کو نظرانداز کرنا پڑا ہے۔ بدھ کی صبح آنکھ کھلی تو واٹس ایپ کے ذریعے کئی دوستوں

Read more

دائروں میں سفر سے مفلوج ہوئے ذہن

جانے کئی دہائیوں سے ہم دائروں میں سفر کر رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مگر مسئلہ یہ ہوجاتا ہے کہ وحشت ودہشت کے جس مقام سے ہم گزرچکے ہوتے ہیں عین اسی مقام پر لوٹتے ہیں تو وحشت ودہشت مزید ناقابل برداشت ہوجاتی ہیں۔ کئی مہینوں تک ہم اس مقام پر حواس باختہ ہوئے حالت سکوت میں گھرے نظر آتے ہیں۔ مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے لوگوں کو قتل پر اْکسانا بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ رواں صدی کی

Read more

"فائروال” سے ممکنہ نتائج کی توقع؟

پاکستان تحریک انصاف وطن عزیز کی پہلی جماعت تھی جس نے اپنا پیغام یا بیانیہ سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا کی منطق مگر یہ تقاضا بھی کرتی ہے کہ اپنے موقف سے متفق نہ ہونے والوں کو پراپیگنڈہ کا ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح بکاﺅ،بدکردار اور منافق ثابت کیا جائے۔ ناقدوں کی نشاندہی اور کامل نفرت پر مبنی مذمت کے بغیر ”دیدہ ور“ بنائے شخص کو

Read more

’نیوٹرل‘ ہونے کا مشورہ اور جماعت اسلامی کا دھرنا

ہماری صحافت اب تھڑے بازوں کی گپ شپ میں بدل چکی ہے اور اِن دنوں مقبول ترین موضوع یہ طے کرنا ہے کہ اپریل 2022ء سے ’میر جعفروصادق‘ کو مسلسل للکارنے والوں نے عمر ایوب خان کے ذریعے صلح کا پیغام کیوں دیا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اٹھایا سفید جھنڈا شاید نظرانداز کر دیا جاتا۔ ان کے صلح جویانہ پیغام کے دوسرے روز مگر بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان صاحبہ کی اپنے بھائی سے اڈیالہ

Read more

ہمارے کسانوں سے حکومتی بے رخی

یورپ کے کئی ملکوں میں گزشتہ دوتین برسوں کے دوران کسانوں کے بھرپور احتجاج ہوئے۔ اکثرمقامات پر وہ اپنے کھیتوں سے اگائی اجناس کی ”پہاڑیاں“ بنا کر جلاتے رہے۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ بازار میں ان کی قیمت اس خرچ کے برابر بھی نہیں تھی جو مذکورہ اجناس پیدا کرنے پر صرف ہوا تھا۔ فرانس میں کسانوں کی ایسی ہی تحریک بعدازاں بے روزگاروں اور کم آمدنی والوں کے دلوں میں جمع ہوئے غصے کے ساتھ مل

Read more

بائیڈن کی دستبرداری اور ٹرمپ کی قسمت

امریکی صدر بائیڈن نے بالآخر ”جرم ضعیفی“ تسلیم کرتے ہوئے خود کو رواں برس کے نومبر میں ہونے والے انتخابی مقابلے سے دست بردار کر لیا ہے۔ دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے اس نے نائب صدر کملاہیرس کو ڈیموکریٹ جماعت کی جانب سے ٹرمپ کے مقابلے پر کھڑا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے اس کی تجویز مان لی تب بھی ہیرس ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں نہایت کمزور امیدوار ثابت ہوگی۔ اتوار کی رات سونے سے

Read more

ہماری خوشیاں کیوں روٹھ گئیں

شہباز حکومت کو ایک بنیادی حقیقت کا احساس تک نہیں ہورہا اور وہ یہ کہ خلق خدا کی اکثریت کے خیال میں وہ فروری 2024ء کے انتخابات کی بدولت ہی برسراقتدار نہیں آئی۔ عام آدمی اس کے اقتدار کے دنوں کا شمار اپریل 2022ء سے کرتا ہے جب عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ 2022-23ء اور 2023-24ء کے مالیاتی سالوں کے بجٹ اسی حکومت نے تیار کئے تھے۔ رواں برس کے جون میں

Read more

مارکیٹ میں بکتے سودے میں نظر انداز ہوتے دہشت گردی کے محرکات

خیبر پختونخواہ کے چند صحافی دوست جن کی دیانت اور قوت مشاہدہ کو میں سنجیدگی سے لیتا ہوں گزشتہ کئی ہفتوں سے بہت پریشان ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مختلف آپریشنوں کے دوران ان سے روابط استوار ہوئے تھے۔ وہ اس امر کو سراہتے کہ جوانی کے ایام گزر جانے کے باوجود میں اسلام آباد سے نکل کر ان مقامات تک پہنچ جاتا جو”خطرناک“ تصور ہوتے تھے۔ برسر زمین موجود رہ کر وہاں کے حالات کو ان دوستوں کی معاونت

Read more

تحریک انصاف پر پابندی کی ”بڑھک“

میرے اور آپ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کے لئے پریشان کن خبریں تھیں دو۔ ایک نے آگاہ کیا کہ ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں اوسطاً پانچ سے سات روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ نام نہاد ”فکسڈ چارجز“ بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو بجلی ہم خریدیں گے اس کی اجتماعی قیمت پر مختلف النوع ٹیکس بھی عائد ہوتے ہیں۔ یوں ماہانہ اعتبار سے جو کمائیں گے اس کا 15 سے

Read more

زخمی ٹرمپ کا "میگا” کا نعرہ

اتوار کی صبح اٹھ کر امریکی صدر بائیڈن کے ”خللِ دماغ“ سے اس کالم کا آغاز کرتے ہوئے میرے وہم وگماں میں یہ امکان دور دور تک موجود نہیں تھا کہ پیر کی صبح اٹھنے کے بعد لکھے کالم کا آغاز بھی ایک اور سابق امریکی صدر کے ذکر سے کرنا پڑے گا۔ جی ہاں ذکر ٹرمپ کا ہے جو ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچا ہے۔ اپنے معاشرے میں اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم بھڑکانے میں وہ

Read more

بائیڈن کا خلل ِ دماغ اور مخصوص نشستوں کا فیصلہ

امریکی صدر بائیڈن کا بڑھاپا ٹرمپ کے مخالفین کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ انہیں خوف لاحق ہے کہ یوکرین کے صدر کو جس کا ملک ان دنوں روس کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے ”پوٹن“ پکارتے ہوئے بائیڈن نے اپنا ”خللِ دماغ“ عیاں کردیا ہے۔ اس کے بعد وہ اگر رواں برس کے نومبر میں صدارتی انتخاب لڑنے کو بضد رہا تو اس کے بے شمار حامی بھی پولنگ بوتھ پر جانے کو آمادہ نہیں ہوں گے۔ یوں

Read more

ریاست کو میسر”دام شنیدن”۔ مشتری ہوشیار باش

  مخبر کو غالب نے فرشتہ سے تشبیہ دی تھی اور دکھ بھرے دل سے حیرت کا اظہار صرف اس امر پر کیا کہ ”آدمی کوئی ہمارا“ شاعر کے کردہ یا ناکردہ گناہوں کی رپورٹ لکھتے وقت آس پاس موجود تھا یا نہیں۔ غدر/جنگ آزادی کے دنوں میں فسادِ خلق سے گھبرا کر اپنے گھر میں محصور ہوئے غالب یہ بھی نہ طے کرسکے کہ ”کلیسا“ یا ”کعبہ“ میں سے کس کے آگے سرجھکائیں۔ ”کلیسا“ اور ”کعبہ“ یاد رہے یہاں

Read more

اور اب سوشل میڈیا کو "ریگولیٹ” کرنے کی تیاری

کسی کرشمہ ساز کو بے تحاشہ ملکی مسائل کا یک وتنہا مداوا ثابت کرنے کے لئے لازمی ہے کہ اس معاشرے کے تمام اداروں کی ساکھ کو ”نظام کہنہ“ کا نمائندہ ٹھہراتے ہوئے تباہ وبرباد کردیا جائے۔ وطن عزیز میں ایسے عمل کا آغاز اکتوبر 2011ء میں ہوا تھا۔ لاہور کے مینارِ پاکستان تلے ایک جلسہ منعقد ہوا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے کرکٹ سے سیاست میں آئے عمران خان نے خود کو باریاں لینے والے آصف علی زرداری اور

Read more

ایران، برطانیہ اور بھارت میں تبدیلی پر ہمارے”ذہن سازوں” کی توقعات

برطانیہ کے بعد ایران کے صدارتی انتخابات بھی ہوگئے تو ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ کا ایک گروہ نہایت حسرت سے پاکستانیوں کو یاد دلانا شروع ہو گیا کہ حال ہی میں برطانیہ اور ایران کے علاوہ بھارت بھی انتخابی عمل سے گزرا ہے۔ ان تینوں ملکوں میں بقول ”ذہن سازوں“ کے ”قدامت پرست اور آمرانہ مزاج“ کی جماعتوں اور افراد کو شکست ہوئی۔ وہاں کے عوام ”جاگ اٹھے“ اور ”بہتر لوگ“ اقتدار میں لے آئے۔ پاکستان

Read more

وزیراعلیٰ پنجاب کا پروٹوکول اور عوامی مشکلات

واقعہ عام سا ہے۔ ہجومِ رعایا کا زرہ ہوئے میرے اور آپ جیسے لوگوں کے ساتھ ایسے واقعات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہوا کرتے ہیں۔ میرے ساتھ ہوئے واقعہ نے البتہ بہت کچھ سوچنے کو مجبور کردیا۔ جمعہ کی شام سے چند لمحے قبل پیش آیا تھا اور اتوار کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے اسے دل ودماغ سے نکالنا چاہ رہا ہوں۔ لاہور میں ایک خاندانی تقریب تھی۔ اس میں شمولیت لازمی تھی۔ اپنے خاندان کا سینئر رکن

Read more

طالبان کی نئی حیران کن چال

پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سیاسی معاملات پر تبصرہ آرائی کرنے والوں کی اکثریت افغان طالبان کو محض جنونی جنگجو شمار کرتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پائی ہے کہ ان کے چند رہ نما سفارت کاری کے ہنر پر رشک آمیز گرفت کے حامل ہیں اور بسااوقات میڈیا کے ذریعے ایسی چال چل دیتے ہیں کہ بندہ حیران ہو جاتا ہے۔ روایتی میڈیا کے ناظرین وقارئین کی اکثریت گزشتہ چند برسوں سے افغانستان کوبھلاچکی ہے۔ ان

Read more

امریکی کانگرس کے بعد اقوامِ متحدہ بھی۔۔۔۔؟

اپنے مخالفین کی نااہلی اور کاہلی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عاشقان عمران خان پراپیگنڈہ کے محاذ پر کامیابی و کامرانی کے جھنڈے بلند کئے چلے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے اس ایوان سے جو ہماری قومی اسمبلی جیسا ہے حال ہی میں بے پناہ اکثریت سے ایک قرارداد منظور ہوئی جو پاکستان میں 8 فروری 2024ء کے روز ہوئے انتخابات کی شفافیت کے بارے میں تلخ سوالات اٹھاتی ہے۔ بانی تحریک انصاف مذکورہ قرارداد کی منظوری کی بابت بہت

Read more

مہنگائی کے خلاف برجستہ اور فطری احتجاج کی لہریں

سو طرح کی پابندیوں میں جکڑا پاکستان کا نام نہاد ”مین سٹریم میڈیا“ اس امر پر توجہ ہی نہیں دے رہا کہ خیبر سے گوادر تک پاکستان کے بیشتر شہروں میں مختلف مقامات پر بجلی کے گھریلو صارفین ٹولیوں کی صورت جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ”بجلی کے بل – نامنظور“ مذکورہ ٹولیوں میں واحد نعرہ کی صورت بلند ہوتا ہے۔ پولیس بے ساختہ انداز میں جمع ہوئی ان ٹولیوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اکثر مقامات پر

Read more

تنخواہ داروں کا کچومر نکالتا بجٹ اور وزیر خزانہ کا اطمینان

اتوار کی رات نیند آنے سے قبل یہ بدخبری آگئی تھی کہ پٹرول کی قیمت میں 7روپے 45پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اضافے کا یہ اعلان جولائی 2024ء سے شروع ہونے والے مالی سال کیلئے بنائے بجٹ کی منظوری کے فوری بعد ہوا ہے۔ اس بجٹ نے میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والوں کے علاوہ روز کی روٹی روز کمانے والے دیہاڑی دار کے روزمرہّ استعمال کی تقریباً ہر شے کی قیمت سیلز ٹیکس کے نفاذ سے بڑھا

Read more

نظامِ کہنہ کی محافظ قوتیں اور معراج محمد خاں

منیر نیازی کی بیان کردہ ”حرکت تیز تر“ کے ساتھ دائروں میں گھومتی سیاست کرنے والوں سے عرصہ ہوا اکتا چکا ہوں۔ کئی بار ارادہ باندھا کہ اب فقط کتابوں یا نیٹ فلیکس کے ذریعے میسر ہوئی فلموں کے بارے میں لکھا جائے۔ ذہن کے نجانے کس گوشے میں لیکن یہ خیال بیٹھ چکا ہے کہ میرے قارئین کی کثیر تعداد فقط سیاسی معاملات پر ہی میری رائے جاننے کی خواہش مند ہے۔ اتوار کی صبح اٹھتے ہی شاید مجھے

Read more

عمران خاں کی سائفر کہانی اور امریکی کانگرس کی قرارداد

امریکی ایوان نمائندگان ہماری قومی اسمبلی جیسا ہے۔ اس کے 85 فی صد اراکین اگر باہمی اختلافات بھلاکر کسی معاملہ کی حمایت میں متحد ہو کر کوئی قرارداد منظور کریں تو اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گوگل کھول کر کالم کی روانی میں رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتا۔ فقط یادداشت کی بنا پر یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ غالباً نائن الیون کے بعد پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان کی اتنی بڑی تعداد نے جماعتی اختلافات سے بالاتر

Read more

سوشل میڈیا کی پھیلائی ”باخبری“

سوشل میڈیا کا سرسری مشاہدہ آپ کو اس گماں میں مبتلا کردیتا ہے کہ دورِ حاضر کے انسان ”باخبر“ ہی نہیں بلکہ دنیا کو درپیش مسائل کے بارے میں بے حد فکرمند بھی ہیں۔ مقامی اور عالمی مسائل کبھی ٹویٹر اور اب ایکس کہلاتے پلیٹ فارم اور یوٹیوب چینلوں کی بدولت مسلسل اجاگر ہورہے ہیں۔ ایسی ”باخبری“ کی مجھے ہوش سنبھالتے ہی شدید خواہش لاحق ہوگئی تھی۔ سوال مگر اب یہ اٹھانا شروع ہو گیا ہوں کہ سوشل میڈیا نے

Read more

خیر کی بجائے شر بھڑکانے والی ہماری تاریخ

پیر کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ جب سے صحافت میں قدم رکھا ہے وطن عزیز کو ہمیشہ ”مشکل حالات“ میں گھرا پایا۔ مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے متعدد تحاریک کا بطور صحافی نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ شہری حقوق کا دائمی گرویدہ ہوتے ہوئے ان میں اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ ڈالنے کی کوشش بھی کی۔ وہ تحاریک مگر نظر بظاہر اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب ہو گئیں تو ملک پہلے

Read more

عوام پر نئی مہنگائی مسلط کرنے کا "باریکی” سے تیار ہوا منصوبہ

ہم میں سے بہت پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بہت دنوں بعد سمجھ آئے گی کہ بدھ کی شام پیش ہوا سالانہ بجٹ بنیادی طور پر ”ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے“متوسط طبقے کو سفید پوشی سے محروم کرنے کا سفاک منصوبہ ہے۔ روزمرہّ زندگی کی بے تحاشہ اشیائے صرف پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ مہنگائی کا ناقابل برداشت سیلاب برپا کرے گا۔ غریبوں کی زندگیاں مزید اجیرن اور تنخوار دار طبقے سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس

Read more

مزید دو لاکھ گدھے اور ’’بھیڑ چال‘‘

بدھ 12 جون 2024ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ آج سہ پہر مسلم لیگ (نون) کی تیسری حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کرنا ہے۔ اصولی طورپر یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے ممکنہ بجٹ کے خدوخال پر غور درکار تھا۔ مطلوب مشق سے مگر اجتناب کو ترجیح دے رہا ہوں۔ بنیادی وجہ اس کی یہ حقیقت ہے کہ معاشیات کی مبادیات سے بھی نابلد ہوں۔ قومی اقتصادی سروے کے ذریعے منگل کی سہ پہر جو اعدادوشمار

Read more

"دوسرے” کو ٹکنے نہ دینے کا ہمارے دِلوں میں موجزن جذبہ

پیر کی صبح چھپے کالم میں تفصیل سے بیان کیا تھا کہ گزشتہ جمعرات کرکٹ کے کھیل سے عدم دلچسپی کے باوجود میں ورلڈ کپ کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے مابین ہوا میچ دیکھنے کو مجبور ہوا۔ پاکستان کی مذکورہ میچ میں شکست نے جی اداس کردیا۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ برسوں سے کرکٹ کھیلنے والی ٹیم جس نے اس کھیل کو عمران خان سمیت بے شمار ریکارڈ ساز کھلاڑی دیے ہیں، امریکہ کی نووارد ٹیم

Read more

امریکی کرکٹ ٹیم کے مقابلے میں ہماری ناکامی

اتوار کی صبح دیر سے اٹھنے کی عادت ہے۔ آج معاملہ مگر مختلف ہے۔ میری بیٹیوں نے شام کو نیویارک میں ہونے والاپاک-بھارت کرکٹ میچ دوستوں سمیت دیکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے بڑی سکرین کرائے پر لی گئی ہے۔ جسے لگانے کو مناسب جگہ کے تعین کی بحث جاری رہی۔ بعدازاں گھر کے مرکزی کمرے کا سارا فرنیچر ملازموں کے ہمراہ مل کر ’تماشائیوں‘ کے لیے جگہ بنائی جارہی ہے۔ میچ کے دوران مشروبات اور

Read more

خود پسند اشرافیہ کے عاجزی اختیار کرنے کے دن

بھارت کے حالیہ انتخاب نے میری دانست میں بنیادی پیغام یہ دیا ہے کہ اپنے تئیں ”دطیوتا“ ہوئے سیاسی رہ نماﺅں کے آمرانہ رویوں سے نجات کا راستہ جمہوری نظام کے ذریعے ہی نکالنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں کلیدی کردار سیاست دانوں ہی کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ وہ شہر شہر جاکر عوام سے براہِ راست رابطے کے ذریعے انہیں متحرک کرتے ہیں۔ اپنے مخالف سیاستدانوں سے نجات کے لئے کسی دوسرے ادارے یعنی عدلیہ یا ریاست کے طاقتور

Read more

مودی کا ”اب کی بار چار سو پار“ کیوں نہ ہو سکا

دنیا میں جسے ”مین سٹریم میڈیا“ کہا جاتا ہے بھارت میں اس کے نمائندہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی اکثریت نریندر مودی کی سرپرستی میں مختلف دھندوں کے اجارہ دار ہوئے سیٹھوں نے خرید رکھی ہے۔ ان میڈیا ہاﺅسز سے آزاد منش صحافیوں کو چن چن کر فارغ کروادیا گیا۔ نوکری سے فراغت بھی ان کی ”جاں بخشی“ یقینی نہ بناپائی۔ سوشل میڈیا پر چھائے ہندوانتہا پسندوں نے انہیں بدی کی علامتیں ہی بنائے رکھا۔ ویسا ہی سلوک جو

Read more

اب کس سے "آزادی” مطلوب ہے؟

واشنگٹن میں 2022ء کے موسم بہار کے دوران تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہم افسر نے مبینہ طورپر ایک ”دھمکی آمیز پیغام“ دیاتھا۔ پیغام ملتے ہی فرض شناس سفیر نے سائفر کے ذریعے اسے اسلام آباد بھجوادیا۔ پیغام اپنی منزل تک پہنچا تو سابق وزیر اعظم نے اس کی بابت دہائی مچا دی۔ پاکستان کے شہر شہر جاکر یہ تاثر پھیلایا کہ امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ ان کی آزاد منش پالیسیوں سے ناراض

Read more

شہباز شریف کا دورہ چین اور سی پیک پر چینی دانشوروں کے وسوسے

  جس صبح یہ کالم چھپے گا اس وقت وزیر اعظم پاکستان دورہ چین پر روانہ ہونے کے قریب ہوں گے۔قومی اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرنے سے چند ہی روز قبل ہوئے اس دورے سے ریاست وحکومت پاکستان کو بہت توقعات ہیں۔ امید باندھی جا رہی ہے کہ اس کے دوران کچھ ایسے معاہدوں پر اتفاق ہوجائے گا جو وطن عزیز کی فوری اور طویل المدت اقتصادی مشکلات کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔محدود آمدنی کا حامل پاکستانی

Read more

بانی تحریک انصاف کی نقصان کے "ازالے” کی کوشش

عاشقان عمران خان اپنے قائد کو بہت سادہ شمار کرتے ہیں۔ ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے لیکن میں ان کا بطور سیاستدان 1996ء سے بغور جائزہ لینے کو مجبور تھا اور میرا مشاہدہ ان کے حوالے سے پنجابی کا وہ محاورہ یاد دلاتا ہے جو ایک سادہ دکھتی دوشیزہ کو بالآخر یہ اعلان کردینے کو اکساتا ہے کہ وہ ”بھولی تو ہے مگر اتنی بھی نہیں“۔ بدھ کی سہ پہر سے بانی تحریک انصاف کے حوالے سے یہ فقرہ یاد

Read more

1998  کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا پس منظر

ہر صحافی کی طرح میری بھی یہ خواہش تھی کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد اپنی ڈائری میں لکھے چند واقعات اور موضوعات پر غور کرتے ہوئے کتاب کے بعد کتاب لکھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاﺅں۔ میری لکھی کتابیں ”دھماکہ خیز انکشافات“ کا مجموعہ تصور ہوں۔ ہائے افسوس رزق کی ضرورت نے روزانہ کالم لکھنے اور اب ٹی وی پر آواز لگانے سے مہلت ہی نہیں دی۔ مہلت مل جاتی تو شاید میری پہلی یا دوسری کتاب فقط

Read more

طلعت صاحب کی رحلت اور میرا پچھتاوا

عرصہ ہوا طلعت حسین صاحب سے فون پر بھی بات نہیں ہوئی تھی۔ اتوار کی سہ پہر لیکن ان کی رحلت کی خبر ملی تو یادوں کا انبار جمع ہونا شروع ہو گیا۔ ان سے ملاقات سے کئی برس قبل تعارف ان کی ذات سے نہیں بلکہ آواز سے ہوا تھا۔ آٹھویں جماعت پہنچ جانے کے بعد اتوار کے دن دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کی اجازت مل چکی تھی۔ جو بھی فلم دیکھنے جاتے وہاں سب سے پہلے ”پاکستان

Read more

عام آدمیوں کے سوالات اور قائدین کی بے نیازی

اپریل 2022ء میں عمران حکومت قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کی بدولت فارغ ہو گئی تو سابق وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق ’مزید خطرے ناک‘ ہوگئے۔ شہر شہر جاکر جلسوں سے ’میر جعفر وصادق‘ کے خلاف خطاب کے علاوہ انھوں نے سوشل میڈیا کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے ایک طاقتور بیانیہ تشکیل دینا شروع کردیا۔ ان کے مخالف سیاستدانوں نے مذکورہ بیانیہ کی شدت اور دور رس اثرات پر توجہ ہی نہ دی۔ میں البتہ اس

Read more