خود کو ”با اختیار“ دکھانے کے لئے ڈٹے ہوئے ہمارے وزیراعظم

نواز شریف صاحب ”سزا یافتہ مجرم“ ہوتے ہوئے بھی جس انداز میں بیرون ملک روانہ ہوئے اس نے تحریک انصاف کی بیس کو یقینا بوکھلادیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب بھی اس کے باعث یہ سوچنے کو مجبور ہوئے کہ ”اصل فیصلے“ شاید کہیں اور ہورہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ چند اقدامات کے ذریعے وہ خلقِ خدا کو یہ پیغام دیں کہ وزیرا عظم ہی وطن عزیز میں ریاستی طاقت کا اصل مرکز ومحور ہوا کرتا ہے۔ آئین میں صراحت سے ”چیف ایگزیکٹو ’قرار دیا منصب ہے۔

Read more

مجھے بھانڈ ہی رہنے دو

”آموں کی پیٹی“ میں ہوئے ایک تاریخ ساز دھماکے کو ذہن میں رکھتے ہوئے محمد حنیف نے انگریزی کا ایک حیران کن ناول لکھ دیا۔ موصوف کا شمار دورِ حاضر کے ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جن کے ہنر سے میں حسد میں مبتلا ہوں۔ باتوں باتوں میں ”حساس“ موضوعات پر وہ جو کچھ کہہ…

Read more

’’مڈل مین ‘‘کے بغیر کاروبار چلانے کی تھیوری

افغانستان میں استعمال ہونے والی فارسی جسے وہاں کے باسی’’ دری‘‘ پکارتے ہیں خوب صورت محاوروں سے مالا مال ہے۔ان محاوروں کے پیچھے کئی قصے ہیں جو اساطیری کرداروں سے وابستہ ہیں۔ایسے ہی محاوروں میں ایک ’’رحمِ ازبک‘‘ کی حقیقت عیاں کرتا ہے۔قصہ اس سے متعلق چنگیز خان سے منسوب ہے۔ مشہور ہے کہ وہ…

Read more

’’خدمت کو عزت دو‘‘ والا کامیاب ہوتا بیانیہ

ذاتی حوالوں سے میرے لئے جنرل ضیاء کا دور بہت تکلیف دہ رہا۔طویل بے روزگاری۔پری سنسر شپ کی اذیت۔جوانی کے خمار میں لیکن ڈھٹائی برقرار رکھی۔ 1981میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی۔اس کی وجہ سے ریاستی جبر میں ذرا نرمی ٓآئی۔اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہوئے بھارتی انتخابات کی کوریج نے صحافتی کیرئیر کو…

Read more

خدارا! عدالت کو کسی کا فریق نہ بنائیں

یہ بات تو بہت پرانی ہوگئی کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ آج کے مابعداز حقائق (Post Truth)دور میں مستقل اُبلتے ہیجان کی وجہ سے یہ سوچنے کو مجبور ہورہا ہوں کہ شاید سیاست کے دماغ میں یادداشت کا خانہ بھی نہیں ہوتا۔ یہ فقط لمحہ موجود کے بارے میں سیاق وسباق پر…

Read more

نواز شریف کے ’’بھٹو‘‘ بننے کا دھڑ کا اور فضل الرحمان کا پلان بی

میں تو غالبؔ کی نقالی میں عرصہ ہوا اپنے گھر تک محدود ہوچکا ہوں۔پرانی دلی کی گلی قاسم جان کے ایک شکستہ مکان میں محصور ہوئے وہ دوستوں کو خط لکھ کر دل کا بوجھ اُتار لیا کرتے تھے۔میرے لئے اُردو اور انگریزی کے کالم ہیں اور انہیں لکھنے کی وجہ سے روزمرہّ کے دال…

Read more

’’قانون سب کے لیے برابر‘‘ بنانے کی جستجو

ہاتھوں سے لگائی گرہیں ہیں۔ انہیں کھولنے کے لئے اپنے دانت استعمال کرنے کو مگر کوئی تیار نہیں ہے۔ نواز شریف سے اندھی نفرت میں مبتلا لوگوں کے علاوہ ہمارے لوگوں کی بے پناہ اکثریت تسلیم کرتی ہے کہ 70سال کی عمر کو چھوتے سابق وزیر اعظم ان دنوں سخت علیل ہیں۔دل کی بیماری انہیں…

Read more

کرتار پور راہداری ’’تاریخ‘‘ بن گئی

ریڈ کلف کی وجہ سے 1947میں پنجاب جس انداز میں تقسیم ہوا اس کی بدولت گزشتہ ستر برسوں سے ہمارے ضلع نارروال کے کرتارپور کی طرف دیکھتے ہوئے راوی کے اس پار بسے بھارتی سکھ ’’ہوئے درشن دیدار‘‘ کی دُعا مانگا کرتے تھے۔ یہ دُعا کئی اعتبار سے صدیوں تک بھٹکے یہودیوں کی اس فریاد…

Read more

کشمیریوں کی کسمپرسی میں کرتارپور راہداری کا افتتاح

کرتارپور راہداری کی تعمیر اور اس کا بھارت کی سکھ برادری کے لئے کھولنا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل۔اس کالم میں اس کی بابت اگرچہ میں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔’’خوف فسادِ خلق‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’حساس‘‘ سوالات اٹھانے سے گریز والی ’’احتیاط‘‘۔ اس ہفتے کا آخری…

Read more

شہباز شریف ’’برادر یوسف‘‘ ہرگز نہیں

مولانا فضل الرحمن کے ’’آزادی مارچ‘‘ سے آج گریز کا ارادہ ہے۔ٹھوس معلومات تک رسائی کے بغیر جو دکھائی دے رہا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے تئیں اس موضوع پر کافی ’’تجزیہ‘‘ بگھارچکا ہوں۔ریگولر اور سوشل میڈیاکی پھیلائی چسکہ فروشی کے سبب ’’تجزیہ‘‘ مگر آج کی صحافت میں آئوٹ آف فیشن ہوچکا ہے۔…

Read more