ریاستی ستونوں کے مابین سنگین ہوتی کشاکش

منگل اور بدھ کے روز سینٹ کے جو اجلاس ہوئے انہیں پارلیمان ہاﺅس جاکر نہیں دیکھا۔ لیپ ٹاپ کھول کر براہِ راست نشریات کی بدولت کارروائی کا مشاہدہ بھی نہیں کیا۔ محض ”تازہ ترین“ جاننے کے ارادے سے ٹی وی کھولا تو ہر نیوز چینل پر منگل کے روز سینیٹر فیصل واوڈا صاحب کی جانب سے ہوئی طولانی تقریر براہِ راست دکھائی جارہی تھی۔ واوڈا صاحب دبنگ آدمی ہیں۔ ٹی وی کیمروں کے روبرو گفتگو کے ذریعے ناظرین کی توجہ

Read more

رﺅف حسن پر حملے سے پیدا ہوتے وسوسے

ان دنوں منیر نیازی کے بتائے”حرکت تیز تر“ والے ہیجان کی زد میں ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی کونسے موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ”روز کی روٹی روزی“ کمانے کا بندوبست کروں۔ رات سونے سے قبل تاہم اکثر یہ طے کرلیتا ہوں کہ صبح اٹھتے ہی فلاں موضوع پر ہر صورت لکھ دیا جائے۔ ارادے پر عمل پیرائی کے بعد اسے دفتر بھجوادیتا ہوں۔ صبح چھپا کالم پڑھتے ہی مگر احساس ہوتا

Read more

ملتان کا ضمنی انتخاب اور فارم 47 والی کہانی

لاہور کے ٹیکسالی دروازے سے اٹھے ہمارے خطے کے یکا و تنہا ملامتی شاعر شاہ حسین نے بہت سادگی سے یہ حقیقت بیان کر رکھی ہے کہ ’’تخت‘‘ مانگنے سے نہیں ملا کرتے۔ تحریک انصاف مگر اس حقیقت کا کماحقہ ادراک نہیں کر پائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے میری دانست میں اسے عملی سیاست کے ٹھوس تقاضوں سے بے اعتنائی کی جانب دھکیلنا شروع کردیا ہے۔ وہ سیاسی اعتبار سے ایک ’’متوازی دنیا‘‘ میں رہنا

Read more

ایرانی صدر کو حادثہ اور ذہن میں اٹھتے وسوسے

صحافی کی بنیادی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے غالب کی بیان کردہ ”ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا“ والی بے اعتنائی میسر نہیں ہوتی۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی اہم واقعہ ہو جائے تو اس کے بارے میں جلد از جلد سب کچھ جان لینے کی تڑپ جان کھپا دیتی ہے۔ حقائق کی تلاش تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے اہم واقعہ کے ممکنہ مضمرات بھی اندیشہ ہائے دور دراز کی صورت اختیار کرتے ہوئے

Read more

ذاتی پریشانی کا سبب بننے والا ایک واقعہ

طویل وقفے کے بعد ہفتے کے روز وطن عزیز کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف نے اپنے دل میں جمع ہوئی چند باتوں کو مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان باتوں کو بیان کرنے کا انداز اگرچہ ’بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے‘ والی کیفیت کی نمائندگی کرتا سنائی نہیں دیا۔ دکھی دل میں جمع ہوئے غبار کی تھوڑی نکاسی تھی۔ اپنے دل میں جمع ہوئے بے تحاشا سوالات کے جواب وہ نظربظاہر اب تک ڈھونڈ

Read more

عدلیہ اور پارلیمنٹ میں بڑھتی تلخیاں

عدلیہ اور ریاست کے طاقتور ترین ادارے کے مابین تلخیاں اور بدگمانیاں شدید سے شدید تر ہورہی ہیں۔ ان کے تعلقات کو معمول پر لانا مجھ دو ٹکے کے رپورٹر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر حوالے سے بے اختیار عوام کی اکثریت کے لئے ممکن ہی نہیں۔ کتابوں میں پڑھ رکھا ہے کہ جدید ریاستوں کے باسی ”شہری“ کہلاتے ہیں۔ ان کے چند بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ ان کا تحفظ ریاست کا اولیں فرض ہے۔ وہ یہ فرض نبھانے

Read more

پارلیمنٹ کی ”اجنبی“عمارت

پارلیمان میں ہوئی کارروائی کے براہِ راست مشاہدے کے بعد تبصرہ آرائی میرے لئے پہلی محبت کی مانند ہے۔ اس کے بغیر خود کو ”صحافی“ کہلوانے میں بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ اسی باعث کرونا کے دنوں میں بھی ”پندار کے صنم کدے“کو بقول غالب ویران کئے ہوئے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں جاتا ر ہا ہوں۔ وہاں باقاعدگی سے جانے کی بدولت ہی میں نے دیگر کئی ساتھیوں سے بہت پہلے بھانپ لیا کہ عمران حکومت کے خلاف

Read more

حادثہ ایک دَم نہیں ہوتا

حادثہ ایک دَم نہیں ہوتا 9مئی 2024 ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھنے بیٹھ گیا۔ دس سے زیادہ منٹ گزرچکے ہیں اور ذہن میں ابتدائی کلمات بھی مرتب نہیں ہوپارہے۔ 9مئی کی مناسبت سے ”موقع بھی ہے“ والا خیال چاہ رہا ہے کہ آج سے ایک برس قبل ہوئے ان واقعات کو یاد کیا جائے جو بالآخر ”سانحہ“ کہلائے۔ مذکورہ واقعات نے ریاست کے طاقتور ترین ادارے کو وطن عزیز کی ایک مقبول ترین کرشماتی شخصیت کا بدترین

Read more

”چاچا خواہ مخواہ“

انسان فطری طور پر انا کا غلام ہے۔ اس سے نجات کے لئے صوفیا چلے کاٹتے اور اکثر کنوؤں میں الٹے لٹک جاتے تھے۔ صوفیا سے مختص ریاضتوں سے گزرے بغیر میں اکثر بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دل کی کمینگی مگر ہر دوسرے دن انگڑائی لے کر بے نقاب ہوجاتی ہے۔ منگل کے روز بھی ایسے ہی ہوا۔ فوج کے حتمی ترجمان۔ ڈی جی آئی ایس پی آر۔ کی پریس کانفرنس تھی۔ ٹی وی

Read more

فراموش کردہ سانحہ اوجڑی کیمپ آج کے تناظر میں

ہوش سنبھالتے ہی اپنے معاشرے کو انسان دوست بنانے کی خواہش میں جو خواب دیکھے تھے ان میں سے ایک بھی سچا ثابت نہیں ہوا۔ جس تمنا نے سب سے زیادہ بے چین رکھا وہ حکومتوں کو عوام کے چنے نمائندوں کے روبرو جواب دہ بنانا تھا۔ اس تناظر میں بقول صوفی تبسم ”سوبار چمن مہکا- سوبار بہار آئی۔“ انجام میں لیکن …”دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی۔“ بہت کم لوگوں کو یاد رہ گیا ہوگا کہ 1988ء

Read more

نیٹ فلیکس کا ایک نیا ڈرامائی سلسلہ

یقین مانیں ملکی سیاست کے بارے میں کچھ ’نیا‘ لکھنے کی گنجائش محدود سے محدود تر ہو چکی ہے۔ ’سیاسی‘ موضوعات پر خود کو دہراتے ہوئے مجھ جیسے قلم گھسیٹ اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئے فریقین میں سے کسی ایک کے ذہن پر چھائے تعصبات و غصے ہی کو بھڑکائے چلے جا رہے ہیں۔ جن کلیدی وجوہات نے ہماری سیاست کو جامد کر رکھا ہے ان کے بارے میں کھل کر لکھنے کی جرات میسر نہیں۔ وہ نصیب

Read more

"کون دیکھتا ہے”۔

یہ زعم تو عرصہ ہوا دل سے نکال چکا ہوں کہ میرے لکھنے یا بولنے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ مجید امجد نے یہ حقیقت اپنے ایک شعر میں بیان کررکھی ہے جوایک گلی سے روز گزرنے اور بالآخر وہاں سے نہ گزرنے کے دیکھنے والوں کے فقدان کا ذکر کرتا ہے۔ ”کون دیکھتا ہے؟“ والا سوال۔ دیگر افراد سے لاتعلقی اور بے اعتنائی کا ماحول جہاں ہر فرد اپنی فکر معاش میں الجھا ہوا ہے۔ اپنی محدودات دریافت کرلینے

Read more

سپریم کورٹ سے سیاسی مسائل کے حل کی طلب

منگل کی صبح روزمرہّ فرائض کو جلدی سے نبٹا کر ٹی وی کھول لیا۔ سپریم کورٹ میں اس روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 معزز صاحبان کے لکھے ایک خط کے حوالے سے اٹھے سوالات پر غور کیلئے چھ رکنی بنچ نے بیٹھنا تھا۔ جو کارروائی ہوئی اسے آغاز سے انجام تک بہت غور سے دیکھا اور سنا۔ اس کالم کے ذریعے تبصرہ آرائی کو مگر جی نہیں چاہ رہا۔ بنیادی وجہ بزدلی ہے جو رزق کی خاطر روایتی

Read more

محلاتی سازشوں کی ”ملامت“

پیر کی شام ایک طویل وقفے کے بعد جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے ذہن پر چھائے خیالات سے عوام کو آگاہ کیا۔ اندھی نفرت و عقیدت سے مغلوب اذہان گمبھیر ترین مسائل کے یک سطری حل ڈھونڈنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ مولانا کے خطاب سے محض ایک نکتہ اخذ کریں گے اور وہ یہ کہ شہباز حکومت کو عوامی تائید حاصل نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی نگاہ میں

Read more

اسحاق ڈار کا بطور نائب وزیراعظم، عجلت میں ہوا تقرر

نام نہاد ”حالاتِ حاضرہ“ پر تبصرہ آرائی سے عرصہ ہوا اکتا چکا ہوں۔ پڑھنے والوں کی اکثریت مگر عمر تمام سیاسی اور خارجہ امور پر رپورٹنگ سے ”کالم نگاری“ کی طرف آئے مجھ ایسے قلم گھسیٹ سے ”اندر کی خبر“ یا سینہ پھلا کر بیان ہوئے تبصروں کی خواہاں رہتی ہے۔ کئی بار ارادہ باندھا کہ سیاسی معاملات کو قطعاََ نظرانداز کرتے ہوئے محض کتابوں اور فلموں کے بارے میں لکھ کر اس کالم میں ”نئے پکوان“ متعارف کروائے جائیں۔

Read more

پی ٹی آئی کا پی اے سی کی سربراہی کے ساتھ مسخرہ پن۔

ہمارے سیاستدان اور ان کے اعمال پر نظر رکھنے والے مجھ جیسے تبصرہ نگاروں کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام کیلئے منتخب پارلیمان کی اہمیت کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ اب تک سمجھ ہی نہیں پائے ہیں کہ پارلیمان اور اس کے اداروں کو متحرک وفعال بنائے بغیر ریاست کے دیگر اداروں کو عوام کے روبرو جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ آج بھی وہ دن مجھے اچھی طرح یاد ہیں جب جنرل ضیاء کے سفاکانہ

Read more

علی امین گنڈا پور کی ”سیاسی پہچان“ اور اٹھتے سوالات

روایتی صحافت کا مددگار ہونے کے بجائے سوشل میڈیا اس کے زوال کا کلیدی سبب بن ر ہا ہے۔”بکاﺅ“ یا فرسودہ صحافت کی موت میرے لئے فکرمندی کا باعث نہیں۔اصل خوف یہ لاحق ہورہا ہے کہ ”صحافت“ کا خاتمہ معاشرے کو حقیقی مسائل سے بیگانہ بنارہا ہے۔سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر چسکے سے کہیں زیادہ”نفرت“ بکتی ہے۔ نفرت فروشی کی خاطر سوشل میڈیا پر چھائے افراد نامور لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں گند ڈھونڈنے اور اسے پبلک کے روبرو

Read more

عاشقانِ عمران خاں کی مایوسی کے عکاس ضمنی انتخابات کے نتائج

پیر کی صبح چھپے کالم میں تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کی تھی کہ اتوار کے دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی ہوئی جن نشستوں پر ”ضمنی انتخاب“ ہونا ہیں ان کے بارے میں ”تخت یا تختہ“ والا ماحول نہیں بن رہا۔ پنجابی محاورے والا ”ٹھنڈ  پروگرام“ ہے۔ اتوار کی شام پولنگ مکمل ہوجانے کے بعد میرے اندازے درست ثابت ہوئے۔ چند مقامات پر سخت مقابلے کی فضا یقینا نظر آئی۔ نارووال کے صوبائی اسمبلی والے حلقے میں

Read more

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات

اتوار 21 اپریل 2024ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ سیاسی اعتبار سے آج کا دن بہت اہم ہونا چاہیے تھا۔ ’ہونا چاہیے تھا‘ میں نے اس لیے لکھا کیونکہ مجھے ایسا ہوا نظر نہیں آرہا۔ مزید لکھنے سے قبل پسِ منظر یاد کرلیتے ہیں کہ آج ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلیوں کی 16 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں۔ ملکی سیاست میں ’ضمنی انتخاب‘ کسی زمانے میں اہم ترین واقعہ

Read more

بانی تحریکِ انصاف کو "جیل کی حقیقت” سمجھانے کی کوشش۔

جب سے بانی تحریک انصاف کے خلاف اڈیالہ جیل میں مختلف سنگین الزامات کے تحت بنائے مقدمات کی سماعتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے راولپنڈی اور اسلام آباد کے معدودے چند رپورٹروں کو ان تک رسائی کی اجازت نصیب ہوتی ہے۔ ان سماعتوں کا بلاناغہ مشاہدہ کرنے والے دو رپورٹروں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہوں۔ ان کی زبانی یہ علم ہوتا رہا کہ کرکٹ کے اساطیری کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ”کپتان“ جیل کی زندگی سے اداس وپریشان نہیں

Read more

خط غربت کی جانب بڑھتے ایک کروڑ انسانوں کا مستقبل؟

نام لینے سے گریز ہی بہتر۔ چند مہینوں سے مگر اپنے سے بہت سینئر چند صحافیوں کے کالم غور سے پڑھ رہا ہوں۔ عمر کے آخری حصے میں وہ مجرموں کی طرح اعتراف کررہے ہیں کہ عمر بھر صحافت کی نذر کرنے کے باوجود وہ ”سچ“ دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ ”سچ“ اگر جان بھی گئے تو اسے بیان کرنے کی ہمت نصیب نہ ہوئی۔ اپنے گناہوں کے اعتراف کے بعد وہ اپنی ہی عمر کے سیاستدانوں پر لعنت ملامت

Read more

گندم کی بمپر کراپ اور آٹے کا بحران

گزشتہ ہفتے کے آخری کالم میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر کے آخری حصے میں جی مچل رہا ہے کہ اپنی مادری زبان کے بجائے اردو یا انگریزی میں لکھنے کی مشقت سے نجات پائی جائے۔ پنجابی میں کالم نہ سہی کسی اور صنف میں بھی تخلیقی اظہار کے لیے اس زبان کے کلاسیکی ادب سے رجوع ضروری ہے۔ اس ضمن میں وارث شاہ کی ہیر کا بغور مطالعہ بھی درکار ہے۔گھر پہ رکھا ہیر کا مستند

Read more

اِدھر اُدھر کی بے تکی باتیں۔

ستارہ شناسوں سے سنا ہے کہ ابلاغ کا حاکم سیارہ ان دنوں عالم رجعت میں ہے۔میں اس ”خبر“ پر اعتبار کرنے کو مجبور ہوں۔ یہ کالم لکھنے کے لئے جب بھی قلم اٹھایا روانی میں ایک ہی نشست میں مکمل کر لیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے مگر دو سے زیادہ بار ابتدائی پیراگراف پسند نہیں آئے۔ اس کے بعدبھی لکھے ہوئے کاغذ پھاڑ کر دوبارہ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ صحافت کے شعبے میں چالیس برس گزرنے کو ہیں۔ آغاز

Read more

اپریل کی سفاکی اور استحکام نامی شئے کا فقدان

بدھ کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ 2024ء کے اپریل کی آج 3تاریخ ہے۔ اپریل سے یاد آیا کہ اس مہینے کا آغاز ”اپریل فول“سے ہوتا ہے۔ انگریزی کا مگر ایک بہت ہی تخلیقی شاعر تھا۔ نام تھا اس کا ٹی ایس ایلیٹ۔ اس کی ایک مشہور نظم کی ابتدائی سطر اپریل کو ظالم ترین مہینہ قرار دیتی ہے۔ 4 اپریل 1979 کا سوچتا ہوں تو ایلیٹ درست سنائی دیتا ہے کیونکہ اس دن ذوالفقار علی بھٹو

Read more

پاکستان اور بھارت کے عدالتی نظام سے بالا تر کوئی تو ہے

پاکستان اور بھارت کو ”جدید“ کہلاتے ریاستی نظام کے خدوخال 1947ء میں دو الگ الگ ملک بن جانے کے باوجود مشترکہ طور پر ورثے میں ملے ہیں۔ ”نظام عدل “ ان میں نمایاں ترین ہے۔ بنیاد اس کی برطانوی سامراج نے رکھی تھی۔ آج سے تقریباً150سال قبل تعزیرات ہند مرتب ہوئی تھی۔ اس میں تیارکردہ قوانین کے لئے ضابطہ فوجداری بھی تیار ہوا۔ اس کے علاوہ وہ قوانین بھی متعارف ہوئے جو کاروباری لین دین اور وراثت وغیرہ سے تعلق

Read more

چھے فاضل ججوں کے مشترکہ خط پر اٹھتے دوطرفہ سوالات۔

پیمرا کے قواعد وضوابط کے تحت چلائے ٹی وی چینلوں پر ”حساس“ موضوعات کو زیر بحث لانا ان دنوں پل صراط پر چلنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ مجھ جیسے بے ہنر افراد زندہ رہنے کے لئے مگر بولنے اور لکھنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ دریافت ہی نہیں کرپائے۔عمر کے اس حصے میں بھی آ چکے ہیں جہاں کوئی اور وسیلہ اختیار کرنا ممکن نہیں رہا۔ اپنی اوقات میں رہتے ہوئے رزق کمانے کا فریضہ نبھائے جا رہے ہیں۔

Read more

”کب ٹھہرے گا درد اے دل“

اندھی نفرت و عقیدت نے ہمیں واقعتاً دیوانہ بنا دیا ہے اور میڈیا اس تقسیم کو بھڑکاتے ہوئے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میری بات پر اعتبار نہیں تو ذرا سوچیں کہ پیر کے دن رات گئے تک ریگولر اور سوشل میڈیا پر کون سی کہانی زیر بحث رہی۔ آپ کی آسانی کے لئے بتا دیتا ہوں کہ پیر کے دن سب سے زیادہ زیر بحث رہی کہانی لاہور کے ایک ایسے تعلیمی ادارے سے متعلق

Read more

قصّہ جونیجو کی وزارتِ عظمیٰ کا

اتوار کے روز گھر آئے اخبارات پڑھتے ہوئے انگریزی اخبار ”ڈان“ کے سنڈے ایڈیشن تک پہنچا تو خوش گوار حیرت ہوئی۔ اس کے صفحہ اوّل پر ایک کتاب کے اقتباسات چھپے تھے۔ کتاب کا عنوان تھا: ”مائی ڈئر جناح“۔ مصنف اس کے سلمان فاروقی تھے۔مصنف کا نام دیکھتے ہی میں چونک گیا۔ آپ میں سے چند لوگوں کو یاد ہوگا کہ سلمان صاحب 1980ء کی دہائی کے وسط سے بہت بااثر افسر مشہور ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اسلام آباد

Read more

سوشل میڈیا پر کنٹرول کا ماحول

ٹویٹر جب ایکس (X) ہوا تو اس کے نئے مالک نے اصرار کیا کہ جس پلیٹ فارم کو اس نے خریدا ہے وہ مجھ جیسے یاوہ گو افراد کو لوگوں کے روبرو دانش مند بناکر پیش کرتا ہے۔کسی معاملے پر ہم کچھ لفظ لکھیں تو پڑھنے والوں کا خاص گروہ انہیں شیئرز اور لائیکس کے ذریعے مزید لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ بتدریج ایسے لوگوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے جو آپ کے خیالات کا بے تابی

Read more

"اچھی خبروں” کے ذکر کا نہ ہونا

لوگوں کو بہلانے کیلئے نہیں بلکہ اپنے پریشان دل کو تسلی دینے کیلئے کئی دنوں سے ”اچھی خبر“ سننے کو بے قرار رہتا ہوں۔ کسی جانب سے مگر حرف تسلی سننے کو نہیں مل رہا۔وہ دوست جو دنیا کی بہترین اور مشہور یونیورسٹیوں سے علم معیشت کی ڈگریاں لے کر وطن لوٹے ہیں، معاشیات کی مبادیات سے نابلد مجھ جاہل کو سادہ ترین الفاظ میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مہنگائی ایک گانے والی ”پارٹی“ کی طرح ابھی

Read more

ذہن میں آیا "خلفشار”

جان کی امان پاتے ہوئے اپنے دل ودماغ میں گزشتہ کئی روز سے اٹکا ایک خیال آج کے کالم میں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ جو خیال میرے دل ودماغ کو جکڑے ہوئے ہے اس کے اظہار سے قبل نہایت عاجزی سے اصرار یہ بھی کرنا ہے کہ ذاتی طورپر میں اس سے ہرگز متفق نہیں۔ محض ایک خیال ہے جو دل ودماغ میں گردش کئے چلے جارہا ہے اور میں درحقیقت اسے بیان کرنے کے بعد اس سے جان چھڑانا

Read more

ہم کیا، ہماری صحافت کیا

تقریباََ ایک ہفتہ قبل خبر آئی تھی کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے گردونواح سے دہشت گردی پر نگاہ رکھنے والے حکام نے چند لوگوں کو جدید اسلحہ سمیت گرفتار کیا ہے۔ بعدازاں معلوم یہ بھی ہوا کہ گرفتار شدگان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ تعداد ان کی تین تھی۔ تفتیش کے دوران مگر ان تینوں نے حکام کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کا گروہ فقط تین افراد ہی پر مشتمل نہیں۔ دیگر لوگ دائیں بائیں ہوگئے ہیں۔اس

Read more

آصفہ کو خاتونِ اوّل بنانے کا عمدہ فیصلہ

پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں عام انسانوں کی بے پناہ اکثریت اپنے حکمرانوں سے اکتاچکی ہے۔ مذکورہ اکتاہٹ کے برجستہ اور مسلسل اظہار کے لئے ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارم بھی میسر ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹ فلیکس جیسی سٹریم سروسز کی بدولت ہمیں ایسی فلمیں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں جو برطانیہ جیسے ملکوں کے شاہی خاندان پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔ اس کے علاؤ ”ہاؤس آف کارڈز“ نامی سیریز نے امریکی صدر کے وائٹ ہاؤس

Read more

صدر زرداری کی حلف برداری

تقریباً تین برس قبل صحافیوں کے ”نگہبانوں“ نے محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی ایک گفتگو اپنے پسندیدہ چینل کو ”لیک“ کردی تھی۔ مذکورہ لیک آج کی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ان دنوں کے وزیر اطلاعات پرویز رشید سے ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگ تھی۔ اس کے آشکار ہونے سے لوگوں کو پتہ چلا کہ ہفتے کے پانچ روز یہ کالم لکھ کر لوگوں کو اخلاقیات اور اصولوں کی بابت بھاشن دینے والا نصرت جاوید بذاتِ خود حکمرانوں سے ”ٹوکریاں“ لینے

Read more

سیاست دان دیگر اداروں کے بجائے پارلیمان میں فیصلے کریں

آپ میں سے کافی لوگ جائزیاناجائز وجوہات کی بنا پر محمود خان اچکزئی کو سخت ناپسند بھی کرتے ہوں گے۔ موصوف کو لیکن میں 1990ء سے بطور صحافی کئی بار تنہائی میں ملا ہوں۔ ان کے ساتھ ہوئی ملاقاتوں میں انہیں وطن عزیز میں پارلیمانی نظام حکومت کو مضبوط تر بنانے کی تڑپ میں مبتلا پایا۔ مذکورہ تڑپ کا پہلی بار احساس مجھے 1993ء کے آغاز میں ہوا تھا۔ وہ برس شروع ہوتے ہی اسلام آباد کے طاقت ور حلقوں

Read more

تاریخ کو "درست کرنا”، محض شاعری ہے

محترمہ بے نظیر بھٹو سے بطور صحافی جو رشتہ استوار ہوا اس کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری میرا احترام کرتے ہیں۔ عمر کے فرق کی وجہ سے ہم دونوں کے مابین بے تکلفی ممکن نہیں۔ موصوف کے ساتھ تنہائی میں ہوئی چند ملاقاتوں کے بعد مگر میں اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ موصوف کئی حوالوں سے وطن عزیز کی موجودہ سیاست کے لئے ان فٹ ہیں۔بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ نیک طینت انسان ہیں اور دل

Read more

میری سادگی اور اندیشہ ہائے دور دراز

بارہ دن گزر گئے۔ جمعہ کا روز تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ سے قبل سانس لینے کے نظام کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے بھاپ لینے کی تیاری کی تھی۔ اس کے لئے ابلتے پانی کی جو کیتلی میز پر رکھی منہ لپیٹتے ہوئے الٹ گئی۔ پانی کے چھینٹے بارود کی صورت دونوں پاﺅں اور ٹانگوں پر گرے۔ درد سے چیختا کراہتا کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی بجائے دیسی ٹوٹکوں سے علاج ڈھونڈتا رہا۔ چھالے مگر

Read more

”پاپا“ ناجی صاحب

غلطی سے انہیں گفتگو کی روانی میں ”ناجی صاحب“ پکارتا تو خفا ہوجاتے۔ میز پر ہاتھ پٹختے ہوئے بلند آواز سے یاد دلاتے کہ ”میں تمہارا پاپا ہوں“ اور پاپا اب دنیا میں نہیں رہے۔ ان سے پہلی ملاقات آج بھی دل ودماغ پر نقش ہے۔ 1970ء کے ابتدائی ایام تھے۔ وہ ہفت روزہ ”شہاب“ کے مدیر تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہورکے دو دوستوں کے ساتھ میں اس ہفت روزے کے دفتر ان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ ہم وہاں

Read more

شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لئے آصف زرداری کا کردار

بھاگ دوڑ کی عمر نہیں رہی۔ یہ کالم لکھنے اور ٹی وی سکرینوں پر گفتگو کے لئے بنیادی طور پر اپنے تجربے کے علاوہ ٹویٹر جسے اب ایکس کہا جاتا ہے پر انحصار کرتا ہوں۔ گزشتہ چار دنوں سے مذکورہ پلیٹ فارم مگر پاکستان میں سنگدل محبوب کی طرح تھوڑی دیر کو اپنی جھلک دکھا کر غائب ہوجاتا ہے۔ ٹویٹر تک رسائی میں تعطل کے اذیت دہ وقفوں کی بابت ایک طویل کالم بھی لکھا تھا۔ وہ چھپ گیا تو

Read more

تحریک انصاف کا سنی اتحاد کونسل میں ادغام؟

میری عاجزانہ رائے میں تحریک انصاف کو محض خواتین اور اقلیتوں کے لئے مختص نشستوں کے حصول کے لئے خود کو سنی اتحاد کونسل میں تقریباً مدغم ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ بہتر یہی تھا کہ تحریک انصاف کی حمایت سے 8 فروری کے روز منتخب ہوئے اراکین قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھالینے کے بعد ”انصاف پارلیمانی گروپ“کی حیثیت میں اپنا وجود منواتے۔ تحریک انصاف کے سیانے مگر بتا رہے ہیں کہ تحریک انصاف نے ”فی الوقت“

Read more

ٹویٹر کی بندش سے کیا حاصل ہو گا؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستان کے حالات نے دل ودماغ کو اکثر پریشان ہی رکھا۔ اس کے باوجود صحافت شروع کرنے کے پہلے دن سے ہمیشہ اس امید کے ساتھ مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا کہ اچھے دن یقینا آئیں گے۔ سچی بات یہ بھی ہے کہ کم از کم رواں صدی کے آغاز تک ہماری حکومتوں اور افسر شاہی کے چند افراد میری دی خبروں کے بارے میں فکر مند ہوکر جس مسئلے کا ذکر ہوا، اس کے

Read more

عمران خان نے حکومت سازی کی بس مِس کیوں کی؟

انتخابی نتائج آنے کے فوری بعد عمران مخالف جماعتیں ہکا بکا رہ گئیں۔ پیپلز پارٹی کو اس انتخاب سے سندھ کے علاوہ کسی اور صوبے سے خاطر خواہ نشستیں ملنے کی امید نہیں تھی۔ بلاول بھٹو زرداری اس کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے تقریباََ ہر بڑے صوبے کے کسی شہر یا قصبے میں جاتے رہے۔ اپنی توانائی کو یوں انہوں نے آئندہ انتخاب میں سرمایہ کاری کی طرح خرچ کیا۔ بنیادی پریشانی نواز شریف کے نام سے

Read more

تحریک انصاف عاشقانِ عمران خان کو مزید آزمائش میں نہ ڈالے

میں ہرگز سمجھ نہیں پارہا کہ پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ میں بدلنے کے دعوے دار 8 فروری کی رات سے ”فتح مکہ“ کے بعد برتی فراخ دلی دکھانے سے کیوں گھبرارہے ہیں۔ کوئی پسند کرے یا نہیں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عاشقان عمران گزری جمعرات کی صبح اپنے خاندانوں سمیت گھروں سے نکلے۔ روز انتخاب سے چند گھنٹے قبل وہ نہایت لگن سے یہ جان چکے تھے کہ ان کے حلقے میں قیدی نمبر 804 کا حمایت یافتہ امیدوار

Read more

آٹھ فروری کے یومِ انتخاب کے بعد ؟

کالم کے اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل اپنے دیرینہ قارئین کی خدمت میں دست بستہ عرض کرنا ہے کہ منگل کی صبح اٹھ کر نیا کالم لکھنے کے بجائے میں سامان سفر باندھے اسلام آباد سے چند دنوں کے لئے لاہور روانہ ہو چکا ہوں گا۔ 8 فروری کے یوم انتخاب کے لئے ٹی وی چینل کی خصوصی نشریات میری توجہ کا مرکز رہیں گی اور ان میں شرکت کے لئے ہمہ وقت پاکستان کے تمام شہروں میں

Read more

آٹھ فروری کے یومِ انتخاب کے بعد؟

کالم کے اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل اپنے دیرینہ قارئین کی خدمت میں دست بستہ عرض کرنا ہے کہ منگل کی صبح اٹھ کر نیا کالم لکھنے کے بجائے میں سامان سفر باندھے اسلام آباد سے چند دنوں کے لئے لاہور روانہ ہو چکا ہوں گا۔ 8 فروری کے یوم انتخاب کے لئے ٹی وی چینل کی خصوصی نشریات میری توجہ کا مرکز رہیں گی اور ان میں شرکت کے لئے ہمہ وقت پاکستان کے تمام شہروں میں

Read more

خان اور ان کے ساتھیوں کی مشکلات کا سفر شروع

جو شخص یہ بات تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ بانی تحریک انصاف کو ہماری اصلی تے وڈی سرکار عبرت کا نشان بنانے کو تلے بیٹھی ہے وہ ناقابل علاج حد تک متعصب ہے۔ یہ لکھنے کے بعد تسلیم یہ بھی کرنا ہوگا کہ اپریل 2022 میں حکومت گنوانے کے بعد عمران خان اپنے وعدے کے مطابق ”خطرے ناک“ سے ”خطرے ناک“ ہونا شروع ہو گئے۔کامل ایک برس تک انہوں نے امریکہ میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید

Read more

بشریٰ بی بی کی بنی گالا منتقلی پر یاد آتے "داغِ دِل”

اندھی نفرت وعقیدت نے ہماری اکثریت کو بوکھلا دیا ہے۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کی عادت نہیں رہی۔سچ کیا ہے اسے جاننے کی تڑپ بھی معدوم ہو چکی ہے۔ بدھ کی صبح احتساب عدالت کے جج بشیر صاحب نے بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کو غیر ملکی سربراہان سے ملے قیمتی تحائف کو مبینہ طورپر ذاتی استعمال کے لئے توشہ خانہ سے سستے داموں خریدنے کے علاوہ چند نایاب اشیاءکو بازار میں بیچنے کے الزام میں سنگین سزائیں

Read more

میری اتوار کی ”آوارہ گردی“

اتوار کے دن اپنے گھر سے باہر کئی گھنٹے گزارے ہیں۔ ”آوارہ گردی“ اس کی وجہ نہیں تھی۔ ریٹائرڈ ہوا رپورٹر گھر سے اس لئے باہر آیا کیونکہ اس روز تحریک انصاف کے امیدواروں کو اپنے حلقوں میں متحرک ہونے کا حکم صادر ہوا تھا۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے ذریعے یہ حکم صادر کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف نے واضح الفاظ میں یہ اعلان بھی کر دیا کہ تحریک انصاف کا نامزد کردہ جو امیدوار اپنے حلقے

Read more

تحریک انصاف تھائی لینڈ اور مصر کی حالیہ تاریخ کا ضرور جائزہ لے

کئی مہینوں سے اس کالم میں تواتر سے دہرائے چلے جارہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر مچایا شوروغوغا ”وقت قیام“ ٹھس ہو جاتا ہے۔ اس کی بدولت جو ”ذہن سازی“ ہوتی ہے وہ لوگوں کو اپنے دل یا ہم خیالوں کی محافل میں چند اعمال کو برا تصور کرنے تک محدود رہتی ہے۔ یہ لکھنے کے بعد اعتراف یہ بھی کرنا ہو گا کہ سوشل میڈیا کی محدودات میرے کوتاہ ذہن نے دریافت نہیں کی تھیں۔ ان کا علم مجھے

Read more

پی ٹی آئی کے تراشے مفروضے

صحافت کا ایک مسئلہ چند بھاری بھر کم اصطلاحات بھی ہیں۔انہیں کچھ دانشور گہری تحقیق کے بعد ایجاد کرتے ہیں۔ صحافی مگر انہیں ”امرت دھارا“ نامی شربت کی طرح تقریباََ ہر معاملے کی تفہیم کے لئے استعمال کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایک اصطلاح ہے Youth Bulge میں اس کا سادہ ترین اردو متبادل ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ مذکورہ اصطلاح کا لہٰذا خلاصہ بیان کرنا ہوگا۔ یہ اصطلاح بنیادی طورپر ان ماہرین سماجیات نے متعارف کروائی تھی جو

Read more

پی ٹی آئی قائد کی اتوار کی ”حکمتِ عملی“

منگل کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھتے وقت میں ہرگز آگاہ نہیں تھا کہ عمران خان کس شدت سے اپنے حامیوں کو آنے والے اتوار کے دن ”سڑکوں پر نکلنے“ کا حکم دے رہے ہیں۔ اسی باعث میں نے مستقبل کے بجائے ماضی سے رجوع کرتے ہوئے جولائی 2018 ء کے مہینے پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس ماہ نواز شریف اپنی ا ہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز صاحبہ سمیت لندن سے لاہور تشریف لائے تھے۔

Read more

تحریک انصاف کے لئے میرا مخلصانہ مشورہ

شہباز شریف 1990 ء کی دہائی سے اکثر میرے پھکڑپن کا نشانہ رہے ہیں۔ جولائی 2017 ء کے مہینے میں لیکن تقریباً ہر روز میری تنقید کی زد میں رہے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کے بڑے بھائی نے اس مہینے بیگم کلثوم نواز شریف صاحبہ کو بستر مرگ کے سپرد کرتے ہوئے اپنی دختر کے ہمراہ پاکستان لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ ان دونوں کو احتساب عدالت نے سپریم کورٹ کی ایماء پر بنائے مقدمات میں بدعنوانی کے

Read more

احسن اقبال اور دانیال عزیز میں مقامی سیاست کے تنازعات

مجھے گماں ہے کہ اس کالم کے مستقل قاری ابھی تک یہ دریافت کرچکے ہوں گے کہ جن سیاستدانوں سے میرے کسی نہ کسی وجہ سے ذاتی رشتے اور روابط بہت گہرے ہوں میں ان کے بارے میں لکھنے سے گریز کو عادتاً ترجیح دیتا ہوں۔دانیال عزیز چودھری کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ چودھری انور عزیز مرحوم میرے اور میری بیوی کے حتمی بزرگ تھے۔ دانیال ان کا فرزند اور سیاسی وارث ہے۔اس کے باوجود جن دنوں وہ

Read more

ہمیں اب چوکس و محتاط رہنا ہو گا

سوشل میڈیا پر چھائے بڑھک بازوں نے بدھ کی صبح سے اودھم مچا رکھی ہے۔حکومت پاکستان کو مسلسل طعنہ زنی سے اکسایا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے منگل کی شام ہمارے بلوچستان کے ایک دور افتادہ گاﺅں پر پھینکے میزائلوں کا ”منہ توڑ جواب“ دے۔ جو پاکستانی ادلے کے فوری بدلے کے بجائے سوچ بچار سے تیار کی حکمت عملی کے ذریعے خاطر خواہ جواب کا مشورہ دے رہے ہیں انہیں ”ایرانی لابی“ کے ترجمان ٹھہرایا

Read more

کرنٹ افیئرز چینلز کے محرک بابر ایاز

ضیا الدین صاحب کے بعد بابر ایاز میرے لئے وہ آخری سینئر رہ گئے تھے جن کی صورت اخبار کے لئے لکھتے یا ٹی وی کے لئے بولتے ہوئے ہمیشہ ایک نگہبان یا مانیٹر کی طرح ذہن میں رہتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہو جانے کے بعد بتدریج اپنے ذہن میں آئے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی سکت سے محروم ہوچکے تھے۔ ٹیلی فون پر براہِ راست رابطہ کرنے

Read more

سوال پوچھنے سے عاری نون لیگ کی ”سپاہ ٹرول“

تحریک انصاف کی نقالی میں صحافیوں کو قصیدہ گو منشیوں کے گروہ میں تبدیل کرنے کو بے چین مسلم لیگ (نون) کے سوشل میڈیا پر چھوڑے غول کو خدارا کوئی سمجھائے کہ اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کو قائل کریں کہ تحریک انصاف کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو رہی۔ قاضی فائز عیسیٰ نواز شریف کو چوتھی بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھانے کو بے چین نہیں۔ اہم ترین یہ پیغام بھی اجاگر کرنا پڑے گا کہ پاکستان کے تین

Read more

تحریک انصاف کی "ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے” والی لچک

جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ تحریک انصاف ان دنوں ریاستی عتاب کا نشانہ نہیں وہ متعصب اور دروغ گو ہے۔ یہ بات لکھنے کے بعد یاد یہ بھی دلانا ہو گا کہ چند ہی سال قبل تک نواز شریف کی مسلم لیگ بھی ویسی ہی مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہے جو ان دنوں تحریک انصاف کا مقدر ہوئی نظر آ رہی ہے۔مسلم لیگ (نون) سے قبل ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی جولائی

Read more

مبینہ "بندوبست” پر عمل درآمد کا وقت

کسی بھی ملک میں جمہوریت کے قیام اور اس کی نشوونما کے لئے لازمی ہے کہ وہاں کی سیاسی جماعتیں مقامی سطح پر ابھرے کارکنوں کی پالیسی سازی کے عمل میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ ہونہیں پایا۔برطانوی دور کے زمانے سے متعارف ہوئی ”جمہوریت“ کی بدولت چند خاندان ابھرے جنہیں ہم ”موروثی سیاستدان“ پکارتے ہیں۔ وہ کرشماتی یا عوام میں مقبول رہ نما کی قیادت میں قائم ہوئی”سیاسی جماعت“ میں شامل ہوجاتے ہیں۔اس کا ٹکٹ

Read more

اب ”شکایتیں کیسی“ ؟

اسلام آباد میں مقیم سفارت کاروں سے میری گزشتہ دس سالوں سے بہت ہی کم ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ رواں صدی کی پہلی دہائی تک اگرچہ روزانہ ہی تین سے چار سفارتکاروں سے روابط کے ذریعے ”خبر“ تلاش کرنے کی مجبوری لاحق ہوتی تھی۔ بہرحال اچھا وقت تھا۔ گزر گیا۔ ان دنوں سفارتکاروں کی سرگرمیاں فقط میڈیا کی بدولت نگاہ میں آتی ہیں۔ مذکورہ پیمانے سے جائزہ لیتے ہوئے بتدریج یہ محسوس کر رہا ہوں کہ برطانیہ کی پاکستان تعینات ہوئی

Read more

تاحیات نا اہلی ختم کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ

پیر کے روز بالآخر سپریم کورٹ سے اس فیصلے کا ا علان ہو گیا جو حیران کن نہیں بلکہ متوقع تھا۔ گزرے برس کے 21 اکتوبر کے دن نواز شریف کی طویل وقفے کے بعد لندن سے اسلام آباد اور بعد ازاں لاہور آمد نے عندیہ دے دیا تھا کہ انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب پر چوتھی بار بٹھانے کی کاوشوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ ”تاحیات نا اہلی“ تھی جو ثاقب نثار

Read more

انٹرنیٹ سے محرومی کا میرا رات کا قلق

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی بار جی چاہا کہ ہماری ریاست کے حتمی فیصلہ سازوں سے جان کی امان پاتے اور پاؤں رگڑتے ہوئے یہ عرض کروں کہ عمران خان کی تحریک انصاف کے مقابلے میں پراپیگنڈہ کے محاذ پر آپ بری طرح پٹ رہے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے لیکن دل میں مچلتی خواہش کو نظرانداز کرتا رہا کہ حکمرانوں کو رضا کارانہ مشورے دینا میرا فرض نہیں ہے۔ صحافتی کیرئیر کے بیشتر برس میں نے ویسے بھی ہر

Read more

پاکستان کو مسخروں کا ملک ثابت نہ کریں

زندگی سے گھبرائے اور پریشان ہوئے افراد کو وقتی خوشی اور دل لگی کے لئے انٹرنیٹ پر میسر ہے ”ٹک ٹاک“ ۔ یہ ایپ اسے استعمال کر نے والوں کو عملی زندگی کی پیچیدگیاں بھلانے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ ہمارے چند معزز اراکین سینٹ بھی مذکورہ ایپ کے علت کی حد تک عادی ہوچکے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے گزرے جمعہ کے دن انہوں نے یکسو ہو کر ”وفاق کی علامت“ تصور ہوتے

Read more

کاغذات نامزدگی کے استرداد کی بنیادی "غلطیاں”۔

8 فروری 2024ء کے انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مند تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی تھوک کے حساب سے مسترد کر دئیے گئے ہیں۔ آئندہ دس دنوں تک مسترد شدہ کاغذات والے عدالتوں سے انصاف کی دہائی مچائیں گے۔ میرے وہمی ذہن کو اگرچہ یہ خدشہ لاحق ہے کہ انصاف کے خواہاں افرا د کی کثیر تعداد انتخابی ریس سے باہر رکھی جائے گی۔ ذاتی طورپر میں تحریک انصاف کے صف اوّل کے رہ نماﺅں کے بغیر

Read more

شاہ محمود قریشی کے ساتھ”بہیمانہ” سلوک

شاہ محمود قریشی سے دوستی نہیں دیرینہ شناسائی ہے۔ بسااوقات ان کے چند سیاسی فیصلوں کو میں نے سخت ترین الفاظ کے استعمال سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ جبلی سیاستدان ہوتے ہوئے انہوں نے مگر ایک حرف شکایت بھی مجھ تک نہیں پہنچایا۔ جب بھی ملے گرم جوش قربت ہی کا احساس دلایا۔ بدھ کے روز ان کی پولیس کے ہاتھوں ہوئے سلوک کی جو وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں انہیں نظرانداز کرنے کا لہٰذا مجھ میں

Read more

باوقار پاکستانی ریاض کھوکھر کی رحلت

کچھ شخصیات زندگی سے اتنی بھرپور ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ گزرے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے آپ موت کا تصور ہی بھلا دیتے ہیں۔ ریاض کھوکھر صاحب بھی ایسے ہی ایک فرد تھے۔منگل کے روز ان کے انتقال کی خبر آئی تو دل بیٹھ گیا۔ ذہن میں امڈے یادوں کا انبار ریاض صاحب کی وجاہت وتوانائی کو ناقابل تسخیر ہی محسوس کرتا رہا۔آخری ملاقات ان سے توانائی سے سرشار ایک اور دوست سینیٹر انور بیگ کی رسم قل

Read more

ریاست و حکومت کی اپنا ”سودا“ بیچنے میں ناکامی

حق بات یہ ہے کہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعے دروغ گوئی ہی ”فروخت“ کی جا سکتی ہے۔ خلق خدا کی بے پناہ اکثریت اپنے ہاں مسلط اشرافیہ سے خوش نہیں۔ نسلوں کی محرومی نے اسے یہ طے کرنے کو مجبور کر دیا ہے کہ ان کے حکمران غاصبوں کا ٹولہ ہیں۔ وہ منافع خور سیٹھوں کے کارندے ہیں۔ عوام کی بھلائی کا نہیں سوچتے۔ انہیں محض سنہرے خواب دکھاتے ہیں۔ غاصب حکمرانوں سے نجات

Read more

تحریک انصاف کی انتخابات کے لیے حکمت عملی

8 فروری 2024ء کے انتخاب کے لیے اتوار کی شام کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا عمل مکمل ہوا تو میرے وسوسوں بھرے دل میں خدشہ ابھرنا شروع ہو گیا کہ تحریک انصاف انتخابی عمل کو درحقیقت احتجاجی تحریک میں بدلنا چاہ رہی ہے۔ اسے یقین ہے کہ مقتدر کہلاتی قوتیں عمران خان کو اقتدار میں لوٹتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتیں۔ ان سے جند چھڑانے کے لیے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف کے ساتھ کچھ ’بندوبست‘بھی طے ہوچکا ہے۔

Read more

پی ٹی آئی کے ساتھ پنجابی محاورے والا "ہتھ”

انتخابی حرکیات کا دیرینہ اور سنجیدہ طالب علم ہوتے ہوئے میں کئی ہفتوں سے عاشقانِ عمران خان کو خبردار کئے چلے جارہا تھا کہ ”کھمبے کو بھی کھڑا کردیں گے تو …“والے مغالطے میں نہ رہیں۔ یہ بات سو فیصد درست کہ عمران حکومت کو اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں جو حکومت قائم ہوئی اس نے پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے نام پر ہمارے عوام کی اکثریت کو

Read more

سرفراز بگتی کا ”سب پہ بھاری“ سے مک مکا

گزشتہ جمعہ کی سہ پہر اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں فارمیسی کی دکان سے آنکھوں میں ڈالنے والے قطرے خریدکر باہر نکلا تو بہت عرصے بعد ایک شفیق بزرگ سے ملاقات ہو گئی۔ جنرل مشرف کا اقتدار ختم ہونے تک وہ اہم ترین سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومت کا ”باریاں لینا“ انہوں نے متحرک سرکاری افسر کے طور پر بھگتا ہے۔ ”اصل خبر“ رکھنے

Read more

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر الیکشن کمیشن کا شش و پنج؟

گزرے جمعہ کی شام ”ہنگامی سماعت“ کے ذریعے سپریم کورٹ نے یقینی بنادیا ہے کہ 8 فروری 2024ء کے دن عام انتخاب کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ذاتی طورپر مجھے ایسے ہی فیصلے کی امید تھی اور اس ضمن میں ”ہنگامی سماعت“ کے لئے جوانداز اپنایا گیا اس نے بھی مجھے حیران نہیں کیا۔جمعرات کی شام سے مگر ذہن میں ایک ”سوال“ اٹکا ہوا ہے۔ میں چاہتا تو ہفتے کے آخری دنوں میں رپورٹر

Read more

پاکستان تحریک انصاف کے ’نادان دوست‘

انگریزی کا ایک محاورہ متنبہ کرتا ہے کہ جہنم کے راستے بظاہر ’نیک نیتی‘ سے کیے فیصلوں کی بدولت ہی گریز کے قابل نہیں رہتے۔ ہماری اشرافیہ کے چند عناصر اور ان کی خواہشوں کو ’تجزیہ‘ کی صورت بیان کرنے والے ’صحافی‘ بھی اکثر ’نیک نیتی‘ ہی سے وطن عزیز کو مصیبتوں کی جانب دھکیلتے رہے ہیں اور اس ضمن میں اپنی تاریخ سے حوالوں کا ذکر شروع کروں تو کالم نہیں کتاب لکھنا پڑے گی۔ بہتر یہی ہے کہ

Read more

دہشت گردوں اور ان کے افغان سرپرستوں کے لئے تنبیہی پیغام کی ضرورت

کئی دنوں سے گھنٹوں تنہائی میں بیٹھا سنجیدگی سے سوچنا شروع ہو گیا ہوں کہ مجھے محاورے والا گلاس ہمیشہ خالی ہی کیوں نظر آتا ہے اگرچہ وہ آدھا بھرا بھی ہوتا ہے۔ گلاس کو آدھا بھرانہ دیکھنے والوں کو فطرتاً امید سے محروم تصور کیا جاتا ہے۔اس کلیے کا بھی لیکن مجھ پر اطلاق نہیں ہوتا۔ عمر بھر طاقت ور لوگوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی صحافت کی ہے۔ اس کی وجہ سے کئی مشکل دنوں کا بھی سامنا

Read more

کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے ملک کا ”اٹوٹ انگ“ ٹھہراتے فیصلے کے بعد وطن عزیز میں مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سیاستدانوں کی بڑھک بازی معمول تصور کرتے ہوئے نظرانداز کی جاسکتی تھی۔پریشان کن حیرت مگر مجھے اس وقت ہوئی جب پاکستان کی وزارت خارجہ سے عمر بھر وابستہ رہے چند ریٹائرڈ افسر اپنے تبصروں میں ہمیں یقین دلاتے رہے کہ ”عالمی ضمیر“ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا۔مذکورہ فیصلہ

Read more

سوشل میڈیا پر چھائے”ذہن ساز”۔

طبیعت غالب کی طرح اس طرف مائل نہیں ہوتی۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ سازشی تھیوری ہی بکتی ہے۔ مجھ ایسے لوگ بے وقوف ہیں جنہیں استادوں نے ”خبر“ دینے سے قبل اس سے براہِ راست متعلق کم از کم تین افراد سے تصدیق تلاش کرنے کی مشقت میں مبتلا کیا۔ خبر کے سو فیصد درست ہونے کے اعتماد کے باوجود مصر رہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے زبان وبیان ”امکان“ کی فضا برقرار رکھیں کیونکہ آخری لمحات میں برسوں

Read more

نواز شریف کا چھان بین کا مطالبہ

  نواز شریف کے بارے میں ریگولر اور سوشل میڈیا کے ذریعے تاثر یہ پھیلنا شروع ہو گیا ہے کہ ان سے منسوب، پل میں تولہ پل میں ماشہ، والا بلغمی مزاج ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں تاحیات نا اہل ہو جانے کے بعد وہ اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ 2017 ء میں، مجھے کیوں نکالا، کا سوال اٹھاتے ہوئے لاہور پہنچے تھے۔ بعد ازاں، ووٹ کو عزت دو ، کی دہائی

Read more

انتخابات موخر کرانے کی نہ تھمنے والی خواہشات

چند ہفتے قبل عزت مآب چیف جسٹس صاحب نے اٹارنی جنرل کو مجبور کیا کہ وہ صدرِ پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کے مابین پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ان دونوں کو عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے پر رضا مند کریں۔ بالآخر 8 فروری 2023ء کی تاریخ طے ہوگئی۔ اس کا اعلان ہوگیا تو چیف جسٹس صاحب نے مذکورہ تاریخ کو پتھر پر لکھی تحریر ٹھہرایا۔ صحافیوں کو حکم دیا کہ وہ انتخابات کی بابت خدشات بھری افواہیں

Read more

جیل میں کپتان سے آٹھ صحافیوں کو گفتگو کا موقع

بہت دیر کے بعد فقط آٹھ صحافیوں کو پیر کے روز عمران خان کے ساتھ  گفتگو کا موقعہ مل گیا۔ اڈیالہ جیل میں ان کے خلاف سائفر کیس کے حوالے سے جاری کارروائی اس کا سبب ہوئی۔بہت دیر کے بعد نصیب ہوئے اس موقع کو مگر میرے نوجوان ساتھیوں نے میری ناقص رائے میں ”کام کی بات“ نکالنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔ سوشل میڈیا پر بنائے اپنے اکاﺅنٹ اور وہاں چلائے پیغامات کے ذریعے بنیادی پیغام فقط یہ دیتے

Read more

دانیال عزیز کے مسلم لیگ (ن) سے جدائی کے سفر کا آغاز

دانیال عزیز کی سیاست کا میرے لئے بطور صحافی ”جائزہ“ لینا تقریباً ناممکن ہے۔اس ضمن میں سب سے زیادہ دِقت ان دنوں محسوس ہوئی جب وہ جنرل مشرف کے دور میں تشکیل دیے نیشنل ری کنسٹرکشن سے وابستہ ہوکر ”نیا جمہوری نظام“ کھڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ عسکری حلقوں میں افلاطون تصور ہوتے جنرل نقوی مذکورہ ادارے کے سربراہ تھے۔ذاتی طورپر وہ ایک مہذب اور خلیق انسان تھے۔ ان سے چند ملاقاتوں کے بعد مگر اندازہ ہوا کہ

Read more

امریکی عالی دماغ ڈاکٹر ہنری کسنجر کی وفات

جمعرات کی صبح اٹھ کر اخبار میں چھپے کالم کو سوشل میڈیا پر لگانے کے لئے لیپ ٹاپ کھولا تو ہنری کیسنجرکے انتقال کی خبر ملی۔ امریکہ کی سامراجی حیثیت برقرار بلکہ اسے مزید توانا بنانے کے لئے موصوف نے حالیہ تاریخ میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس کے بے تحاشا کائیاں دماغ نے 1960 کی دہائی کے اختتامی برسوں میں کمال ہوشیاری سے دریافت کر لیا تھا کہ روس اور چین کئی حوالوں سے متحارب سلطنتیں رہی ہیں۔

Read more

خان صاحب کے پارٹی چیئرمین کے لئے نااہل ہونے کی ان کے ”گھر“ سے گواہی

جو سیاست دان انتخاب سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈے اسے اس دھندے میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمارے ہاں مگر ”دونمبری“ رویوںکی بھرمار ہے۔ مارچ 1977ء میں عام انتخاب ہوئے تو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد میں جمع ہوئی نو سیاسی جماعتوں نے انہیں بدترین دھاندلی کا مظہر بتایا۔ دھاندلی کے خلاف تحریک چلی جس کی بدولت بھٹو نئے انتخاب کو رضا مند ہوگئے۔تب اصغر خان اور ولی خان جیسے قدآور سیاستدانوں نے پیپلز پارٹی کی

Read more

’کہنہ‘ کا متبادل؟

آصف علی زرداری کی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو کے ذریعے تھوڑی چھیڑچھاڑ کے بعد دوبئی میں باپ اور بیٹا بختاور بھٹو زرداری کے گھر مل چکے ہیں۔آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے مابین وہاں جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیلات سے ہم بے خبر ہیں۔ فقط ایک تصویر منظر عام پر آئی ہے جو فخر سے بیان کرتی ہے کہ باپ اور بیٹے کیلئے خاندان اور اس کی یکجہتی اولیں ترجیح کے حامل ہیں۔سیاست سمیت دیگر

Read more

آصف علی زرداری کا کلیدی پیغام

ٹی وی شو کی میزبانی یا کالم نویسی کی چھابڑی لگا کرمجھ جیسے روز کی روٹی روز کمانے والے چسکے دار موضوعات کی تلاش میں رہتے ہیں۔آصف علی زرداری کا شکریہ۔جمعرات کی شام جیو ٹی وی کے مقبول ترین اینکر حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ ان کے فرزند بلاول بھٹو زرداری کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے لئے ابھی مزید ”ٹریننگ“ درکار ہے۔ ”بابوں“ کو برا بھلا کہنے کے بجائے

Read more

غزہ پر بمباری میں وقفہ اور نام نہاد مسلم امہ

نام نہاد ’مسلم امہ‘ اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف نہ کرنا چاہے تو میرے پاس اس کا علاج موجود نہیں۔ بلھے شاہ والی’مکدی گل‘ مگر یہ ہے کہ غزہ کی پٹی پر گزشتہ 48 دنوں سے مسلسل جاری وحشیانہ بمباری میں یہ کالم چھپنے تک جو ’وقفہ‘ شروع ہوگا اس کا اصل کریڈٹ مسلم یا عرب ملکوں کی کسی تنظیم کو نہیں ملے گا۔ مزید لکھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں نے جان بوجھ کر

Read more

نظامِ کہنہ کی حامی قوتیں اور عمران خان

تحریک انصاف کی میری دانست میں فی الوقت اولیں ترجیح عدالت سے یہ سہولت حاصل کرنا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات جیل میں نہیں بلکہ کھلی عدالتوں میں چلائے جائیں۔ وہاں پیش ہونے کے لئے وہ جیل سے لائے جائیں تو تمام ٹی وی چینلوں کا ائیرٹائم ان کی ذات تک محدود ہوجائے۔عدالت میں بلائے جانے سے قبل اور پیشی کے بعد جیل روانہ ہوتے ہوئے وہ صحافیوں سے گفتگو کریں۔ ان میں ادا ہوئے خیالات شام سات

Read more

بے موسمی بارشوں سے نقد آور اجناس کی تباہی

کاشت کاری سے میرا یا دور پرے کے رشتے داروں کا بھی نسلوں سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اسلام آباد کے نواح میں میری بیوی کو البتہ اراضی کا ایک ٹکڑا وراثت میں ملا جو 20 سال قبل ایک گاﺅں کا حصہ شمار ہوتا تھا۔گزشتہ چند برسوں سے مگر اراضی کے اس ٹکڑے کے گرد مکانات تعمیر ہونا شروع ہو گئے۔ اب وہاں جاتا ہوں تو سیمنٹ کی دیواروں اور تین منزلہ مکانوں کے نرغے میں گھرا محسوس کرتا ہوں۔

Read more

اوریجنل اور غیر اوریجنل کے مابین فرق

  تقریباََ دو ہفتے قبل ایک دوست کے ہاں رات کے کھانے کے لئے مدعو تھا۔ وہاں چند سفارت کاروں کے علاوہ نہایت پڑھے لکھے دوست بھی موجود تھے۔ گفتگو کا رخ مقامی سیاست کے بجائے عالمی حالات کی جانب مڑ گیا۔ تمام مہمان اس حقیقت کے بارے میں فکر مند تھے کہ پہلی جنگ عظیم سے قبل کے دور کی طرح دنیا ایک بار پھر انتشار کا شکار ہورہی ہے۔ مختلف ا قوام تاریخ کا یرغمال ہوئی جدید ترین

Read more

گوہر ایوب کی ثابت قدمی اور ہماری سیاست و صحافت کا چلن

گوہر ایوب خان کے انتقال کی خبر سنی تو پہلے افسوس اور بعد ازاں یہ خیال بہت دیر تک ذہن میں سمایا رہا کہ کچھ شخصیات کے بارے میں ان سے ملے بغیر ہی آپ شدید تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گوہر صاحب کے ساتھ میرا ایسا ہی سلسلہ رہا تھا۔ ہوا یوں کہ میرا گھرانا اور پرانے شہر لاہور میں اس کے دوست ایوب خان کے شدید مخالف تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اندرون شہر کے خوش

Read more

”اجتماعی دانش“ سے رہنمائی کے طلبگار ہمارے سیاستدان

2008 ءکے انتخابات ہو گئے تو ان کے نتائج کی بدولت نو برس تک ہمارے مائی باپ رہے جنرل مشرف استعفیٰ دینے کو مجبور ہوئے۔ مجھ سادہ لوح نے اس کی وجہ سے فرض کر لیا کہ وطن عزیز بالآخر ”شاہراہ جمہوریت“ پر گامزن ہو گیا ہے۔ نئی پارلیمان کے قیام کے چند ہی ماہ بعد مگر جنرل مشرف کے برطرف کیے چیف جسٹس افتخا رچودھری کو بحال کرنا پڑا۔ چیف جسٹس کے منصب پر لوٹنے کے بعد موصوف نے

Read more

کوئٹہ میں ”بندوبستِ دوامی“ کے کرشمے

سوشل میڈیا پر چھائے لونڈے لپاڑوں کا غول غالباً درست ہی سوچتا ہے اور وہ یہ کہ عمر بڑھنے کے ساتھ میرا دماغ بھی ضعف کا شکار ہو چکا ہے۔ معاملات کو منطقی انداز میں دیکھنے کے قابل نہیں رہا۔ جس عالم میں وقت نے بالآخر پہنچا دیا ہے اسے مگرانہونی تصور نہیں کرنا چاہیے۔ ہنر تحریر کے حوالے سے میں فقط قلم گھسیٹ ہوں۔ زبان پر گرفت نہایت کمزور ہے۔ گرائمر کے قواعد سے بھی قطعاً لاعلم ہوں۔ میرے

Read more

اسحاق ڈار طالبان کو بسانے والوں پر برہم

پیر کی شام سینٹ کے اجلاس سے دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار صاحب نے مجھے حیران وپریشان کر دیا۔ موضوع ان کے خطاب کا نگران حکومت کی افغان پالیسی تھی۔ اسے تاریخی پس منظر میں ر کہ کر بیان کرنے کے بجائے وہ غصے سے مغلوب ہوئے یہ سوال اٹھاتے رہے کہ ”وہ کون تھا“ جو اگست 2021 ءمیں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاءکے بعد اس ملک میں کئی برسوں سے مقیم افغان طالبان کے ہم عقیدہ

Read more

”جہاد“ کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ

چند روز قبل انگریزی روزنامہ ڈان کا سنڈے ایڈیشن پڑھتے ہوئے اچانک دریافت ہوا کہ اردو میں افغان جہاد سے جڑے معاملات پر حال ہی میں ایک کتاب لکھی گئی ہے۔ ”جنگ نامہ“ اس کتاب کا عنوان ہے اور اسے ہمارے دوست سید فخر کاکاخیل نے لکھا ہے۔ موصوف کی لکھی کتاب پر تبصرہ پڑھتے ہی میں نے کاکاخیل کو فون کیا۔ میری دانست میں کتاب لکھ کر اس نے خود کو چھپارستم ثابت کیا ہے۔ ستائش کا مستحق وہ

Read more

ٹرمپ کا بیان کردہ سفید جھوٹ

امریکہ کا بھرپور مسخرے پن کے ساتھ صدر رہا ڈونلڈ ٹرمپ ویسے بہت کائیاں ہے۔ پنجابی محاورے والا بھولا تو ہے ”مگر اتنا بھی نہیں“ ۔ امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ یادریں دولت اس کے رویے سے سخت پریشان ہے۔ وہ سنجیدگی سے یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا اختیار کردہ رویہ دنیا کے واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے طویل المدت مفادات کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی باعث اقتدار سے فراغت کے بعد ٹرمپ پر کڑی نگاہ

Read more

فواد چودھری کے لیے ”انسانی حقوق“ وغیرہ کی دہائی

بارہا اس کالم میں ہارے ہوئے شخص کی طرح اعتراف کیا ہے کہ رزق کمانے کی مجبوری ہے۔ وگرنہ ہم کیا ہماری صحافت کیا۔ بارہا دہرائے اعتراف کے باوجود طعنہ زنی کے عادی چند افراد گزشتہ تین دنوں سے مجھے سوشل میڈیا پر پھیلائے چند پیغامات میں مسلسل ٹیگ (Tag) کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو مذکورہ پیغام طعنے کی صورت بھیجا جا رہا ہے وہ اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران جمہوری نظام اور انسانی حقوق کے ”چمپئن“ تصور کیے

Read more

9 مئی کے واقعات پر لعنت بھیجتے راولپنڈی کے "اپدیشک”

عدنان حیدر ایک ہونہار نوجوان ہیں۔ انجینئرنگ سے فلم سازی کے علاوہ دیگر کئی شعبوں میں بھی مہارت کے حصول کے لئے کئی ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں۔ ”انجام“ فی الوقت البتہ میرے ساتھ ایک ٹی وی شو کی میزبانی کی صورت ہوا ہے۔ میری دلی تمنا ہے کہ خود کو ہر فن مولاکے جنون میں مبتلا رکھنے کے بجائے موصوف کسی ایک شعبے میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے پر توانائی مرکوز کردیں۔اس خواہش میں اکثر انہیں ڈانٹنے کو بھی مجبور ہو

Read more

گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ اور طلب و رسد کابہانہ

بہت مہارت سے ہمیں گزشتہ ہفتے کا آغاز ہوتے ہی یہ امید دلائی گئی تھی کہ اکتوبر کا مہینہ ختم ہونے کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ چند امیدپرستوں نے اس ضمن میں متوقع کمی کو 20 روپے کے عدد کے ساتھ بیان بھی کردیا تھا۔ پٹرول کی قیمت میں مزید کمی کے بجائے لیکن اب ہمارے لئے گیس کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کی صورت نیا عذاب مسلط کردیا گیا ہے۔سرما کا آغاز ہوتے ہی ہمارے

Read more

نگرانوں کی متعارف کرائی مہنگائی کی نئی لہر

موسم کے سرد ہوتے ہی نگران حکومت نے میرے اور آپ کے گھروں تک پہنچائی گیس کی قیمت میں ہوشربااضافہ کر دیا ہے۔ فرض کیا آپ ماہانہ اس مد میں چار ہزار روپے ادا کیا کرتے تھے تو اب کم از کم آٹھ ہزار روپے کی ادائیگی کیلئے تیار رہیں۔آمدنی جبکہ میرے اور آپ جیسے محدود تنخواہ والوں کے لئے ویسی کی ویسی ہی رہے گی۔مہنگائی کی یہ نئی لہر اس حکومت نے متعارف کروائی ہے جسے انگریزی میں Caretaker

Read more

فلسطین پر فیض کی 40 سال قبل کی سوچ

1980ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں اپنے انتقال سے چند ماہ قبل فیض احمد فیض کچھ روز کے لئے اسلام آباد آئے۔ گارڈن کالج راولپنڈی کے مقبول اور شفیق پروفیسر خواجہ مسعود صاحب ان کے دیرینہ دوست تھے۔ وہ انگریزی روزنامہ ”مسلم“ کے لئے ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے۔اسے دفتر پہنچانے آئے تو فیض صاحب کو بھی ہم سے ملاقات کے لئے اپنے ہمراہ لے آئے۔ ان دنوں شام کی قیادت میں چار عرب ملکوں نے ایک اتحاد

Read more

"عظیم تر روس” کا احیا؟

اپنے سے مختلف خیالات رکھنے والوں کی اندھی نفرت سے مغلوب ہوئے ہم پاکستان کو دورِ حاضر کے تناظر میں چانچنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ دنیا وہی ہی ہے جیسے مثال کے طور پر 1990 کی دہائی میں تھی جب سوویت یونین پاش پاش ہوکر محض روس تک سکڑگیا تھا اور دنیا ایک نئے نظام کے تابع ہو گئی جسے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نام دیا گیا۔ اس آرڈر یا نظام نے امریکہ کو

Read more

طالبان اور پاکستان میں بدگمانیوں کا ازالہ کیسے ہوگا؟

افغانستان نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو پیر کے روز ہوئے ورلڈ کپ کے ایک میچ میں تاریخی شکست سے دو چار کیا۔ کرکٹ کا شیدائی نہ ہونے کے باوجود میں افغان ٹیم کی مہارت،اعتماد اور نظم سے بہت متاثر ہوا۔ ”رنگ“ میں لیکن جلد ہی ”بھنگ“ ڈل گئی۔ جو مقابلہ ہوا اس کی بدولت مین آف دی میچ قرار پائے افغان کھلاڑی کا نام غالباََ ابراہیم زدران تھا۔انعام وصول کرنے وہ سٹیج پر آیا تو اپنی جیت کو افغان

Read more

عوام کے لئے ”عدم اطمینان کا موسم“

درد فیض احمد فیض کے ہاں ”دبے پاؤں“ آیا کرتا تھا مگر اس کے ہاتھ میں موجود چراغ روشنی کی لو سے ”سرخ“ ہوتا۔ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کی بدقسمتی مگر یہ ہے کہ جو مصیبت ہمارا نصیب بن جاتی ہے وہ چوروں کی طرح کامل اندھیرے میں نازل ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ہمیں پٹرول کی قیمت میں 40 روپے کی کمی کا اعلان کرنے کے بعد نوید سنائی گئی کہ ”اچھے دن“ آنے کو ہیں۔

Read more