افسرانہ مزاج کی درجہ بندی اور کینیڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ یقین کریں نا کریں ان کینیڈا والوں کو افسری کرنے کا ذرا سا بھی سلیقہ نہیں آتا۔ اور کچھ شعبوں میں اچھے ہوں تو ہوں مگر افسرانہ مزاج کی اگر کوئی بین الاقوامی درجہ بندی مرتب ہو تو یہ کہیں آخری نمبروں پر ہی پائے جائیں گے۔ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ کم از کم اپنے مینیجرز کو ہی، پاکستان کا ایک آدھ چکر لگوا دیا جائے، کہ ہمیں جن افسران کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کے رویے نے مایوس ہی کیا۔

بھئی اگر کام بھی ہم سے زیادہ ہی کرنا ہے، مسائل بھی ہم سے زیادہ سنبھالنے ہیں، ہمارے ہر دفع بلانے پر دوڑے چلے آنا ہے تو کاہے کی منیجری آپ کی؟ ایک ذرا سی بہتر تنخواہ کے لالچ میں ہی افسر بنا جاتا ہے کیا؟ اصل ہوتا افسر کا دبدبہ، اس کی آن، بان اور شان۔ افسر گزرے اور اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے دو چار افراد کا لاؤ لشکر نا ہو تو کیسے کوئی پہچان پائے وہ کتنا عالی مرتبت ہے؟ اگر افسر کی مسکراہٹ آپ کو نہال نا کرے اور اس کی خامشی آپ پر دہشت نا طاری کر سکے تو ایک عام کولیگ اور اس میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟

آپ خود سوچیں کہ بطور ایک سچے پاکستانی، ہمارے دل پر کیا گزرتی ہو گی جب ہم سب رات نو بجے چھٹی کر کے گھر چلے جاتے ہیں مگر بیچارہ مینیجر رات دس بجے تک رک کر ہمارا چھوڑا کام سمیٹے یا ہماری روز مرہ کی غلطیوں کو درست کرے؟ ایسا باس کس کام کا جس کے ماتحت تو دس منٹ دیر سے بھی آ سکیں مگر اسے ہمیشہ وقت کی پابندی کر کے باقیوں کے لیے مثال قائم کرنا پڑے۔ کیا بتائیں کتنا برا لگتا ہے ہمیں، جب سمجھیں کہ درجہ چہارم کا ملازم، بیسویں گریڈ کے انتونیو کو کہتا ہے، کہ آتے آتے ذرا وہ پرنٹ آؤٹ بھی لیتے آنا۔ اور انتونیو بھی چہرے پر کوئی شکن لائے بنا فوراً لا دیتا۔

اب دیکھیں، ہم بھی کیسے گستاخ ہو گئے ہیں کہ کسی سابقے لاحقے کے بنا اپنے افسر کا نام لے رہے۔ ساری عمر افسر کو صاحب، جناب، سر جی یا یس باس پکارنے کے بعد کیسا مشکل تھا صاحب کے سیدھے نام سے پکارنا۔ ہم نے تو تنگ آ کر انتونیو بھائی یا اس کے خاندانی نام، مسٹر لوکا سے پکارنے پیشکش بھی کی تھی مگر جواب ملا کہ صرف انتونیو ہی کافی ہے۔

ہمارے ملک تو طریقہ ذرا مختلف ہے۔ کہیں کہیں میرٹ پر بھی افسر لگا کرتے ہیں مگر یہاں اور بھی طریقے ہیں، آپ کچھ نا کیجئے نوکری پر پڑے پڑے عمر رسیدہ ہو جائیں تو بھی افسر، آپ کے پاس اچھی سفارش ہو تو کسی حقدار کو دھکا دیں اور بن جائیں افسر، اگر آپ میں خوشامد اور چاپلوسی کی اچھی خصوصیات ہیں تو بڑے صاحب کے تلوے چاٹ کر چھوٹے صاحب بن جائیے۔ اب ان تمام راستوں سے گزر کر جب کوئی کرسی پر بیٹھتا ہے تو ایک انجانا سا خوف ہمیشہ اس پر طاری رہتا ہے کہ جیسے اس نے کسی کو دھکیلا ہے ویسے کوئی اسے دھکا دے کر کرسی چھین نا لے۔

یا آپ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اس کی قابلیت نہیں رکھتے تو بھی ایسے میں آپ اپنی نا اہلی اور خوف کو چھپانے کے لیے اپنا رعب اور دبدبہ طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ آپ اہل لوگوں کی بجائے ہر وقت خوشامدیوں میں گھرے رہیں۔ اور پھر وطن عزیز میں ہم ایسے شاہینوں کی کمی بھی نہیں جو ایمانداری سے دفتر کو پورا وقت دینے کی بجائے افسر کی ذاتی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں چاہے اس میں دوگنا وقت کیوں نا خرچ ہو جائے۔

مگر کیا کریں ہم نے اسی ماحول میں پرورش پائی اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی اسی اصول خوشامد پر گزاری تو سوچیں کتنا مشکل ہے یہاں نئے طریقوں پر ملازمت کرنا۔ پچھلے سال کی بات ہے کہ نئی نئی ملازمت کے دوران اپنے ڈیڑھ سو کلو کے اسسٹنٹ مینیجر ڈیوڈ کو اس کی مردانہ وجاہت کا احساس دلا ہی رہے تھے کہ پیچھے سے ایک کولیگ نے چھیڑا کہ آپ دونوں گپیں ہانکنے آئیں ہیں؟ مجھے لگا کہ ابھی وہ آگ بگولہ ہو کر اس ناہنجار کو اوقات یاد دلا دے گا مگر الٹا وہ ہنستے ہنستے اس سے پوچھ رہا تھا کہ کوئی ضرورت تو نہیں آن پڑی کسی کام کے لیے؟

پھر دیکھا تو صرف کام یا فیصلہ سازی کے عمل کے علاوہ سب ہی ایک دوسرے کے لیے برابر ہیں۔ سب کی ایک جیسی عزت نفس اور سب ایک دوسرے کو برابر اہمیت دیتے۔ وہی مینیجرز جن سے مذاق لگا رہتا کام کے ایسے ماہر کہ جب کبھی مشکل پڑی، چٹکیوں میں حل کر دیتے۔ ہم ابھی بھی مایوس نہیں ہوئے کہ سفارش یہاں پردیس میں بھی چلتی ہے اور یہ دعویٰ ہر جگہ اور ہر افسر کے لیے تو نہیں کر سکتے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی مگر اب تک کی پیشہ ورانہ زندگی میں اہلیت اور انسان دوستی کا تناسب زیادہ ہی پایا۔

ہم نے جب موجودہ نوکری کا آغاز کیا تو کسٹمر ریلیشنز کا شعبہ بالکل نیا تھا، اب بات چیت تو ہمارے لیے کبھی مسئلہ نہیں تھی کہ ساری عمر باتوں کا ہی کھایا، مگر صرف گفتگو مسائل کا حل نہیں تھی، ایسے میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے گزشتہ مینیجر نے پہلے چند ماہ تک جس طرح ہر سافٹ ویئر اور ہر مسئلے سے نمٹنے کا مکمل طریقہ سمجھایا یوں لگا کہ ہم افسر مقرر ہوئے ہیں اور انہیں ہماری نوکری کے لیے رکھا گیا ہو۔ ان کے جانے سے امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جو آئے شاید وہ سارے حساب برابر کر دے۔

مگر پالیٹ نامی ہماری موجودہ مینیجر بھی افسری مزاج سے عاری نکلی۔ بھئی ہمارا کام تھا ہم نے کر دیا اب بات بات پر شکر گزار ہونے والی کون سی بات ہے؟ کرنا ہے تو خود پر فخر کرو جو ایسے اونچے رتبے پر پہنچی، یہ کیا ہر جگہ اپنی ٹیم پر فخر کا اظہار کرتی پھرتی؟ پھر کبھی چھٹی والے دن ضرورت پڑنے پر کال کر دے تو آواز میں ذرا تحکم کا تڑکا لگائیے، یہ منت سماجت بھرے لہجے میں کیا بلانا؟ اس پر اگر کوئی آنے سے منع کر دے تو بھی ماتھے پر شکن نہیں۔ خیر یار دوست سمجھاتے ہیں کہ شکر مناؤ کہ اب جو ہماری عادتیں بگڑ چکی ہیں وہ کسی اصلی اور نسلی افسر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply