گھر، لڑکے اور بُوٹ
محمد جمیل اختر
Read moreمحمد جمیل اختر
Read moreاحمد سلیم سلیمیؔ
Read moreراجہ بشارت صدیقی
Read moreتصوّر حسین خیال
Read moreشام کے جھٹ پٹے میں، مکان جہاں میں رہائش پذیر ہوں، اس مکان کی تیسری منزل کی چھت پر ابابیلیں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ آخر اپریل کی شاموں میں ہوتا ہے جب خنکی ذرا سی بڑھتی ہے اور آپ کی طبیعت میں بے نام سی ترنگ بجنے لگتی ہے۔ موٹر وے سے پہلے بجلی گھر کے بڑے بڑے کھمبوں کے اوپر سے اڑتے ہوئے پرندوں، اردگرد موجود گھروں کی چھتوں پر آخری کاموں کو سمیٹتی پھرتی خواتین اور گلیوں
Read moreعامر مشتاق
Read moreمحمد بلال
Read moreعادل شیخ
Read moreمنظر نقوی
Read moreمظفر احمد مشتاق
Read moreفیضان قادری
Read moreاظہر تھراج
Read moreناول تخلیق کرنا ایک نئی زندگی تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔ زندگی بھی ایسی جس کو کوئی ”بج“ نہ لگا ہو یعنی ہر طرح سے مکمل۔ ہمارے یہاں مگر اس بات پر غور بہت کم ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ چونکہ اپنی فطرت میں ’شعر اور شاعری زدہ معاشرہ‘ ہے اس لیے نثری فن کی باریکیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتا ہے۔ پھر بھی بعض لکھنے والے ایسے ہیں جو کہانی کے پلاٹ، موضوع، زبان ، اسلوب اور محاورے کی
Read moreملک ابوذر منجوٹھہ
Read moreانسان کے لیے اس کی زندگی میں بعض اشیاءاسے بے حد عزیز ہوتی ہیں۔ وہ انہیں عزیز از جان رکھتا ہے۔ وہ ان کے بارے میں ہر کسی کوبتاتا پھرتا ہے۔ یہ ہوتا مگر تب تک ہے جب تک وہ اپنے آپ سے محبت کرتا رہتا ہے۔ دیگر انسانوں سے محبت کے عوض ہی اسے اپنے آپ سے محبت کی سرشت حاصل ہوتی ہے۔ بات مگر ہو رہی تھی ان اشیاءکی، جنہیں انسان بہت اہمیت دیتا ہے۔ یقینا آپ میں
Read moreساحر علی
Read moreحماد گیلانی
Read moreاطلس کریم کٹاریہ
Read moreکہا گیا ” مستنصر حسین تارڑ، اس عہد کے بڑے اور اہم لکھنے والے ہیں“۔ اس میں خیر شک شبہے کی گنجائش موجود نہیں۔ اس بات کو تقویت مگر تب ملتی ہے جب یہ بات ایک ایسے لکھنے والے کے بارے میں کی جا رہی ہو جو بیک وقت اپنی ذات اور شخصیت کی بے شمار پہچانیں رکھتا ہو۔ وہ ناول نگار ہو، کہانی کار ہو، ڈرامے لکھتا ہو، ڈراموں میں کام کرتا رہا ہو، ٹیلی ویژن کے صاحب طرز
Read moreعاطف نثار نجمی
Read moreمعیز مبین
Read moreشہزاد سلیم عباسی
Read moreمولانا سید وجاہت
Read moreثوبیہ امبر
Read moreامتیاز احمد بلوچ
Read moreلاہور شہر علم و ادب ہے۔ اپنے دامن میں علمی و ادبی ورثہ لیے لاہور صدیوں سے تشنگان فکر و نظر کی پیاس بجھاتا چلا آرہا ہے۔ لاہور سینہ گیتی پر ایک استعارے کے سمان جیتا جاگتا چلا آیا ہے۔ اپنی عظیم تہذیبی اور ثقافتی روایات لیے۔ گو احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ درانی سے لے کر طالبان اور داعش کی جانب سے خون کی ندیاں بہائے جانے کے باوجود، لاہور ہر صبح پرندوں کی چہکاروں، پھولوں کی مہکاروں
Read moreالماس حیدر نقوی
Read moreکچھ ایسے ملازمین کی ضرورت ہے جو مظاہر فطرت اور عناصر فطر ت میں روزمرہ ہونے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھتے ہوں۔ کیا برا ہے۔ اگر یہ ملازمین باقاعدہ تنخواہ دار ہوں اور ان کے کام کرنے کے باقاعدہ اوقات کار مقرر ہوں۔ ان کے فرائض میں شامل ہو کہ وجود فطرت میں پیدا ہونے والے بحرانوں اور تبدیلیوں کے حوالے سے ہفتہ وار اعداد و شمار سامنے لائیں تاکہ ہم جو فیکٹریوں، کارخانوں یہاں تک کہ گھر کے باورچی
Read moreارسٹھ برس بیت گئے اور اب انہترواں برس جاری ہے۔ ہمارے کار پردازان مملکت’خیالی منصوبوں‘ کے ایک ایسے گھوڑے کی تیاری میں لگے ہیں جس کے شکل و صورت حاصل کرتے ہی اس پر سوار جب اپنے ہاتھ میں لی ہوئی جادو کی چھڑی گھمائے گا تو ایسے ایسے معجزے رونما ہوں گے جن کی نظیر ہمیں رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ اردو کے صاحب اسلوب ادیب شفیق الرحمن نے ’حماقتیں‘ میں ایک جگہ لکھا ہے۔ ”جناب آج میں
Read moreعابد محمود
Read moreسردار پرویز محمود
Read moreکسی بھی ریاست میں آگے بڑھنے، ترقی کی رفتار اور انسانی برادری میں باعزت مقام کے حصول کی پیمائش اس میں بسنے والے افراد کے معاصر رجحانات کے ذریعے باآسانی کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی کہ اس ریاست کے افراد مجموعی ترقی کے سفر میں اپنے آپ کو کہاں رکھتے ہیں۔ کیا وہ اس سفر میں دوسروں کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہیں یا پھر کنارے پر بیٹھے ایک تماشائی کے طور پر۔ شریک سفر لوگوں کی غلطیوں اور
Read moreسید وارث علی شاہ
Read moreاصغر خان عسکری
Read moreماضی کی بہ نسبت، آج ہم آزادی محسوس کرتے ہیں بطور ایک پاکستانی شہری کے۔لیکن یہ عجیب طرح کی آزادی ہے کہ چاروں طرف بے حسی کا موسم رقصاں رہتا ہے۔ ماضی میں جب ایک قید، ایک گھٹن کے احساس کے ساتھ جیتے تھے تب بھی یہ بے حسی موجود تھی۔ ایک پرچھائی، ایک سائے کی مانند۔ تاہم ہم پاکستانی مبارک باد کے مستحق قرار پاتے ہیں کہ قریب قریب سات دہائیوں کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہمیں آزادی
Read moreعبدالرحمٰن عاجز
Read moreملک محمد شہباز
Read moreملک محمد سلمان
Read moreپچھلے کچھ دنوں میں جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں میلان کنڈیرا کا ناول ’بقائے دوام‘ ایک ولندیزی ادیب فریدرک ولیم فان ایدن کا ناول ’موت کی ٹھنڈی جھیلیں‘ اور معروف صحافی، دانشور اور ناول نگار احمد بشیر کی زوجہ محمودہ احمد بشیر کی یادداشتوں پر مشتمل ایک مختصر مگر نہایت دلچسپ کتاب ”میں اور احمد بشیر، خون کی لکیر“ شامل ہے۔ پہلے دونوں ناولوں کے اردوتراجم نہایت جامع اور خوبصورت طور پر کیے گئے ہیں۔ اپنے اندر نئی
Read moreاطہر مسعود وانی کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے رینجرز کے کراچی میں علیحدہ تھانے قائم کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار دیے جانے کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں۔ سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے بنچ کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم کی طرف ان کے بارے میں دیے گئے کچھ جملوں کی بنا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے
Read moreذیشان یٰسین شیرازی
Read moreنعیم اقبال
Read moreعبدالکریم کریمی (گلگت)
Read moreکسی معاشرے میں انسانی حقوق کا شعور اس کی سیاسی ثقافت اور جمہوری تجربے سے بندھا ہوا ہوتا ہے، پاکستان میں سیاسی ثقافت روز اول سے کمزور رہی ہے معروف معنوں میں جمہوری اداروں کی حقیقی بالادستی کبھی قائم نہیں ہوسکی جمہوری عمل کی عدم موجودگی میں انسانی ترقی کا معیار ناگزیر طور پر انحطاط و کا شکار ہوتا ہے انسانی ترقی کے بنیادی اشارے کیا ہیں : تعلیم ،صحت عامہ ،شہری سہولتیں انفرادی آزادیاں اور فیصلہ سازی میں عوام
Read moreپانچ سال پہلے 15 فروری کو عرب بہار کی آڑ میں مغربی طاقتوں نے لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور لیبیا کے تیل اور سونے کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے باغیوںکی شورش برپا کی تھی اور باغیوں کی مدد کے لئے ایسی تباہ کن بمباری کی تھی کہ لیبیا کے شہر کے شہر کھنڈر بن کر رہ گئے۔ کئی ہزار افراد ہلاک ہوگئے ، پانچ لاکھ سے زیادہ لیبیائی جو پورے افریقہ میں سب سے
Read more