چڑیا اُڑ گئی

حکومت کا گرنا سنبھلنا، سیاسی جوڑ توڑ، چوری اور سینہ زوری کے واقعات، پولیس کی نامعلوم افراد سے آنکھ مچولی، موبائل فون کی چھینا جھپٹی، دن دہاڑے کی لوٹ مار، کوڑا کچرا، تجاوزات کا انہدام، ملبہ، سڑکوں کی بدحالی، پانی اور بجلی کا فقدان ___ کراچی کے واقعات خبروں کا موضوع بنتے رہے یہاں تک…

Read more

ملبے کا مالک

شہر کے رواں پیش منظر میں ایک اور اضافہ ہوا ہے۔ بدرنگ، بے ڈھب، آڑی ترچھی عمارتوں کے درمیان اور ٹوٹی پھوٹی ادھڑی مگر بے حد مصروف سڑکوں کے دونوں طرف جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ پتّھر، روڑے، سیمنٹ کے ٹوٹے ہوئے بلاک، اینٹیں، اینٹ کا چورا، بُھربھری ریت کی ڈھیریاں۔ یہ…

Read more

الطاف فاطمہ سے گفتگو

کہیں کہیں کسی گھرانے میں ایک بہن ہوتی ہے، خاموش طبع، مدہم، گہری اور ذمہ دار۔ بولنا ہے تو ضرورت کے برابر اور نیچی آواز میں۔ مانو، گھر میں ایک سایہ سا موجود ہے۔ مگر یہ کہ سب کام پورے۔ تعلیم بھی حاصل کی۔ سب کی خدمت کی۔ سب سے محبت کی۔ سب کے کام آئی۔ کئی نسلوں کو تعلیم دی۔ کسی سے دشمنی نہیں رکھی۔ کسی جھگڑے میں نہیں پڑی۔ سب کے دکھ میں روئی۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہوئی۔ بظاہر چپ کی چادر تلے دنیا کو غور سے دیکھا اور یہاں رہنے کا حق کہانیوں کی صورت میں ادا کیا۔ ناول لکھے۔ نواسی برس کی عمر گزار کر ایک روز چپکے سے رخصت ہو گئی۔ الطاف فاطمہ ہم پاکستان والوں کے لئے کچھ ایسی ہی تھیں۔ اب چلی گئی ہیں تو گھر والوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ جسے سب سے کم سوچا تھا، اسی نے زندگی کا حقیقی حق ادا کیا۔ ایسے لگتا ہے گویا گھر کی ایک دیوار گر گئی۔

Read more

ذکیہ مشہدی: کہانی سے ملاقات

ذکیہ مشہدی نے لکھنؤ یونیورسٹی سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم پائی، کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، شفیع مشہدی سے شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد لکھنے کے ارادے کو ایک طویل عرصہ تعویق میں رکھا۔ پختہ عمر میں قلم سے تجدید کی۔ کم لکھا ہے مگر جو لکھا، وہ کاغذ پر…

Read more

نورانی نور ہر بلا دور

کراچی میں اب دیواروں پر لکھے نعرے بھی قابل اعتبار نہیں رہے۔ نہ جانے کون راتوں رات آ کر ایسی باتیں لکھ جاتا ہے تو ہمارے آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی ہیں۔ پھر ایک نئی حیرت کے ساتھ ہم ٹیلی وژن کے بہت سارے چینلز پر وہی ایک خبر گھومتی ہوئی دیکھتے ہیں کہ کراچی میں وال چاکنگ۔ جو لکھ دیا گیا ہے اسے نوشتۂ دیوار سمجھیے۔ لیکن کراچی والوں کے دل کا حال جاننا ہو تو بس، رکشا اور ٹرک پر لکھی ہوئی عبارتیں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہر دوسری یا تیسری بس کے پیچھے لکھا ہوا نظر آئے گا:

نورانی نور ہر بلا دور
یا پھر یوں لکھا ہوگا:
جیے شاہ جبل میں شاہ

Read more

امیر علی ٹھگ، تاریخ اور افسانہ کے سنگم پر

رسوائی کا افسانہ عام طور پر عمر کی مدّت سے لمبا ہوتا ہے۔ زندگی کی کتاب سے ورق خشک پتّوں کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتے جاتے ہیں، لیکن بعض ناموں کے ساتھ رسوائی کی ایک ایسی داستان وابستہ ہو جاتی ہے جو ان کی موت کے وقفے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ امیر…

Read more

تیرا نہ میرا گھر

’’تو پھر یسوع مسیح  نے جواب دیا کہ لومڑیوں کے لیے بھٹ ہیں اور ہوا میں اُڑتے پھرنے والے پرندوں کے لیے آشیانے لیکن آدمی کے بیٹے کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے جہاں اپنا سر ٹکا سکے۔۔۔‘‘ (میتھیو 8:20) انجیل مقدس کے یہ الفاظ میں نے مدّتوں پہلے پڑھے تھے۔ پھر بھول بھال گیا۔…

Read more

سنہری معبد کا شہر

جو لوگ ٹوکیو دیکھ کر چلے جاتے ہیں، انھیں جاپان کی روح دکھائی نہیں دیتی۔ اس کام کے لیے ان علاقوں کو دیکھنا لازم ہے جو اس قدیم روح سے قریب ہیں، کیوٹو ان میں سے ایک ہے۔ سویا مانے مجھے بتاتے ہیں۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر ہم شہر کی سڑکوں پر چل رہے…

Read more

دو بوڑھوں کی تصویر

ایک تصویر میری آنکھوں کے سامنے آئے جا رہی ہے۔ آنکھوں کے راستے سے جیسے ذہن میں چپک گئی ہے۔ میں اس کو بار بار جھٹکتا ہوں، ایک آدھ لمحے کے لیے وہ دور ہو جاتی ہے مگر پھر واپس چلی آتی ہے۔ آنکھوں میں جم کر رہ گئی ہے۔ جیسے خون جم جاتا ہے۔…

Read more

حلیم کا خدا حافظ!

پہلے خدا حافظ کا خدا ہی حافظ ہوا، اب اس کی باری ہے۔۔۔ لیکن چھوٹتے ہی اس چیز کا نام کیسے لکھ دوں، کوئی پکار اٹھے گا کہ ابتداء ہی بدعت سے کی ہے۔ اس کا بھلا سا نام ہے۔ کسی چیز کا نام بھول جائے تو کیسی الجھن ہوتی ہے۔ شکل ذہن میں آرہی ہے، تصویر…

Read more