شہزادے کی موت

شہزادے کی اس موت کی اطلاع مجھے اخبار سے ملی۔ ورنہ شاید میں اس سے بے خبر رہتا۔ بہت دن سے اس طرف سے گزرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے میں نہیں دیکھ سکا کہ شہزادے کی لاش سڑک کے ساتھ ڈھیر پڑی ہے، اس کا ملبہ اور اینٹ گارا اٹھایا جارہا ہے۔…

Read more

آنسوؤں سے دُھلنے والا شہر

”وہ کہنے لگیں، اس شہر کو ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ “ میں نے یہ جُملہ سنا اور میں دنگ رہ گیا۔ جیسے کسی نیزے کی انی میرے سینے پر چُبھ گئی۔ محفل کا لحاظ کیے بغیر میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ ہاں، یہ جُملہ قرۃ العین حیدر نے کہا تھا، میرے…

Read more

اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔ یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے…

Read more

ہیرلڈ مر گیا، ہیرلڈ زندہ باد!

دروازہ کھلتے ہی سب کچھ ایک تعزیت میں بدل گیا۔ جیسے میں ملاقات کے لیے نہیں، ماتم کے لیے آیا ہوں۔ کراچی کی کتنی ہی پرانی اور بہت دیکھی بھالی جگہیں دیکھتے دیکھتے اس طرح بدل گئی ہیں کہ اب وہاں جانے کا مطلب اپنے آپ کو اجنبی میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ ہارون ہائوس…

Read more

وادیِ عشق و من ۔ چراغ کے لے کہاں سامنے ہوا کے چلے

بام دنیا میں ایک مہمان خانہ مل گیا۔ استور اب میرا انتظار کر۔ فی الحال تو میں یہیں رکا جاتا ہوں۔ گھر سے استور جانے کے لیے نکلا تھا۔ جادو کے سے اثر والے نام کی جگہ، اس کی عجیب سی کشش تھی۔ وہاں جارہا ہوں، سب سے یہی کہا تھا، سب کو یہی بتایا…

Read more

پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

جس کا کوئی انتظار نہ کر رہا ہو۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی ایک سرخوشی کا احساس میرے سارے بدن میں دوڑ گیا۔ خوشی جو دست برداری سے حاصل ہوئی۔ میرے قدموں کی چال دھیمی ہوگئی۔ کندھے پر لٹکا ہوا بستہ بھی جیسے لہرانے لگا۔ رکتا رکاتا میں آگے بڑھنے لگا۔ غسل…

Read more

آزاد پرندوں کی رُکتی نہیں پرواز

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ان پر یہ مصرعہ ٹھیک بیٹھتا تھا۔ کوئی ان کے لیے پڑھتا تو رحیم بخش آزاد شاید خوش ہوتے۔ اس لیے کہ اس کا پہلا لفظ حق تھا۔ حق جس کی خاطر جدوجہد ان کی زندگی کا دوسرا نام تھا۔ مگر پھر مغفرت کے ذکر پر وہ ہنس…

Read more

کبوتر کیسے اُڑ گیا جمیل نقش؟

کبوتر کیسے اڑ گیا؟ نور جہاں سے پوچھے جانے والے اور مستقبل کے شہنشاہ جہاں گیر کے سوال کا جواب یہ تھا کہ ایسے اڑ گیا۔ کبوتر اڑ گیا اور اب اس کی پرواز کو فضا کی پہنائیوں میں تلاش کرتے رہ جائیے۔ یہی سوال جمیل نقش سے پوچھنے کو جی چاہ رہا ہے کہ…

Read more

بیٹی کی “قندیل”۔۔۔ گویا دبستاں کھل گیا

ایسی باتیں اچانک ہوتی ہیں۔ جیسے کوئی قندیل آنکھوں کے سامنے جل اٹھے۔ اور اس کے پیچھے پیچھے ایک نئی دنیا کے نظارے۔ یوں ہوا کہ برق سی لہرائی، پھر ہزاروں صفحے ہوا کے ساتھ اُڑنے لگے۔ کتابوں کی جلد کھُل گئی اور وہ ترتیب سے لگے کتب خانوں کی الماریوں سے باہر نکل کر سامنے آنے لگیں،…

Read more

آشیانہ ڈھونڈتا ہے

ایک اکیلا شہر میں۔ پہلے وائلن کی نوک دار آواز بلند ہوتی ہے۔ اس کے بعد موسیقی کے ساتھ ایک بھاری، گونجیلی آواز جو نغمے سے زیادہ اپنی شکست کی آواز معلوم ہوتی ہے اور ہوا کے ساتھ بہنے لگتی ہے۔ آب و دانہ ڈھونڈتا ہے۔ آشیانہ ڈھونڈتا ہے۔ ایک پورا منظر اس آواز کے…

Read more