ایک جانب امداد کی اس خبر پر چہرے پر دوڑتی ہوئی اطمینان کی اس لہر کو صاف دیکھا جاسکتا ہے تو دوسری جانب بے خبری کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کی حکومت کے سب سے بڑے عہدے پر متمکن فرد کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ چین میں موجود مسلمان کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چین کی ریاست اپنے ملک میں چند لاکھ مسلمانوں کو انسان سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے اور وہ برس ہا برس سے ظلم و جور کی چکی میں پیسے جارہے ہیں۔ چین جو اب پاکستان کے اندر داخل ہی ہو چکا ہے اور امداد کے بہانے انگلی پکڑتے پکڑتے اب پہنچا پکڑنے کے قریب ہو گیا ہے، جب وہ اپنے اندر بسنے والے مسلمانوں کو ہی انسان ماننے کے لئے تیار نہیں تو مستقبل میں وہ ہمارے ساتھ کیا کر سکتا ہے اگر اس بات کی سنگینی کا اب ادراک نہ کیا گیا تو پھر آنے والے وقتوں میں چین کی دست برد سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔
اسی انٹرویو میں چین میں مبینہ ریاستی جبر کا شکار اویغور مسلمانوں کے بارے میں ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں چین میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں تفصیل سے علم نہیں ہے لیکن وہ یہ ضرور کہیں گے کہ چین نے پاکستان کا مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا ہے۔ وزیر اعظم نے جو جواب بھی دیا ہے وہ بہت نا مناسب سا لگتا ہے۔ ایک جانب تو ملک کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کے مسلمانوں کی جانب سے ان کی لاعلمی خود ایک حیرت والی بات ہے اور دوسری جانب یہ کہنا کہ کہ کچھ بھی ہو اس وقت اہمیت امداد کی ہے ناکہ اس بات کی کہ وہ اپنے مسلمانوں کے ساتھ کس قسم کا رویہ رکھے ہوئے ہے۔
Read more