71ء کی شکست میں جنرل نیازی کا کردار (دوسرا حصہ)

میجر جنرل فضل مقیم نے جنگ کے فوراً بعد "قیادت کا بحران” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ جنرل صاحب نے برسراقتدار فوجی جنتا کو غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا مثلاً جنرل یحییٰ، جنرل حمید، جنرل گل حسن، جنرل پیرزادہ، جنرل عمر اور جنرل مٹھا وغیرہ۔۔۔ لیکن یہ قیادت کا بحران نہیں تھا۔ پاکستان کو 1971 میں بھی طرز حکومت کے بحران کا سامنا تھا۔ نصف درجن فوجی کمانڈروں کو نام زد کرنا حقیقی مسئلے کی نشان دہی نہیں

Read more

71ء کی شکست میں جنرل نیازی کا کردار (پہلا حصہ(

1 ہم نے پاکستان میں ریاست اور جنگ کے اصول دھندلا دیے ہیں۔ ہمیں آزادی کے موقع پر جو فوج ملی تھی اس کے بہت سے سپاہیوں نے دوسری عالمی جنگ میں یورپ، برما، سنگاپور اور شمالی افریقہ کے محاذوں پر جنگ لڑی تھی۔ ہم جنگ کے اصول سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ ہماری ایک سے زیادہ مرتبہ جنگ ہوئی۔ جنگ کے دوران بھی دونوں ملکوں نے اس معاہدے کی پابندی کی کہ ایک دوسرے کے شہریوں

Read more

71کی جنگ اور جنرل نیازی کی عظیم دانشمندی

  1971  میں میرے چھوٹے سے گاؤں کے اکلوتے پرائمری سکول میں بچوں اور بچیوں کی کل تعداد ساٹھ کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ اور جب بنگال میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو میرے گاؤں کے اکیس نوجوان لاپتہ تھے۔ "لاپتہ” ہونا شہید ہونے سے کہیں بہتر تھا۔ اس میں زندگی کی امید تھی۔ لیکن پھر بھی صف ماتم پورے گاؤں میں بچھی تھی۔ پورا گاؤں غم مین ڈوبا ہوا تھا۔ تمام لوگ لا پتہ فوجی نوجوانوں کے بخیریت

Read more

جنرل نیازی کا پستول اور قومی مفاد

دسمبر کی ایک رات تھی۔ صلاح الدین کمپنی کے لان کے باہر پوری پلاٹون کھڑٰی تھی۔ عمومی طور پہ سردیوں میں اس طرح کا اجتماع، موزے، جوتے اور قمیض سے بے نیاز ہوا کرتا ہے مگر ہمیں حکم تھا کہ پی ٹی کٹ، پل اوور، ٹریک سوٹ اور جتنے کپڑے اس کے اوپر پہنے جا سکتے ہیں، پہنے جائیں تا کہ وزن کم کرنے میں مدد مل سکے۔  جونہی سینئیر جنٹلمین کیڈٹ نے کارپورل کو تمام لوگوں کے حاضر ہونے کی خبر سنائی۔  طویل قامت کارپورل میں کوئی اور ہی روح حلول کر گئی۔ وہ گرجے

Gen Niazi s pistol is still at Indian Military Academy. Who will bring it back?

(جنرل نیازی کا ریوالور بھارت کی ملٹری اکیڈمی مین رکھا ہے۔ تم میں سے کون اسے واپس لائے گا؟)

Read more

خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی

(آرمی پبلک سکول کے اس حوصلہ مند بچے کی کہانی جو چہرے پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد اس کی شناخت ہوئی اور اس کے گھر والوں کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے)۔

مردہ خانے میں جگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بچوں کی لاشیں برآمدے میں رکھی گئی تھیں۔
ہر لاش سفید چادر سے چھپائی گئی تھی۔ اس وقت آرمی پبلک سکول کے حملے میں مارے گئے تقریبا 80 بچوں کی لاشیں ایک قطار کی صورت میں پڑی تھیں۔

Read more

کیا ہمارے بچے اب 16 دسمبروں سے محفوظ ہیں

یہ ڈھاکہ اور پشاور والے 16 دسمبر کے قومی سانحے ہمیں کیوں دیکھنے پڑے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جو ہم نے مکمل سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنے آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا ہو۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ ہی بیرونی ہاتھ کا بہانہ استعمال کیا اور اپنے اندر کبھی نہیں جھانکا۔ جو پاکستان اور پاکستانی بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار تھے وہ اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ ہی نہ کر سکے کہ اپنی غلطی تسلیم کر پاتے،

Read more

آرمی پبلک سکول حملہ: ’وہ ایسا منظر تھا جسے شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘

منیب نے کہا کہ تین سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان تلخ یادوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کو تین سال پورے ہوگئے ہیں۔ اس واقعے میں بچ جانے والے بیشتر طلبا آج بھی ان دل دہلا دینے والے یادوں سے خود کو نہیں چھڑا سکے ہیں بلکہ زیادہ تر ذہنی مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول

Read more