خوش آمدید، خوشامد، آرزو اور ماتم


\"wajahat\"اگر تعریف ہی کرنا ٹھہرا تو خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔ اتنی بڑی کائنات بنائی، کہکشائیں تخلیق کیں اور ایک کہکشاں میں ہماری زمین کا ذرہ رکھ دیا۔ اور پھر مٹی کے اس تودے پر اپنی تخلیق کے جوہر دکھانا شروع کئے، کیسی کیسی صورتیں بنائیں، رنگ بھرے، آوازیں بنائیں، خیال کی رنگا رنگی پیدا کی، اور پھر اس زمین پر کوئی آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر کا ٹکڑا ہم آپ کو عنایت کیا اور پھر یہاں انبالے سے ایک شاعر بھیجا، ناصر کاظمی جس نے بتایا کہ \”یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا، زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے\”…. تو آج کچھ بات زمین کے بوجھ کی ہو جائے۔ شاید دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو۔ آج گلہ کر لیں کہ پھر التفات کا عالم رہے، رہے، نہ رہے…. اقرار کر لیں کہ خلش مٹ جائے۔ خدا نہ کرے کہ کسی کو شکوہ ہو، غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے۔ کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا۔۔۔ سبک سر ہو کر کچھ کہنا ہے کہ ندامت سے سبک سری پائیں۔ مگر پہلے کچھ ذکر ان کا جنہیں ناصر کاظمی نے یاد کیا…. وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے…. روشنی کا ذکر ہوگا تو اقبال کا نام آئے گا۔ بانگ درا میں ایک ہیرے کی کنی رکھی ہے۔

میں نوائے سوختہ در گلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بو

میں حکایت غم آرزو ، تو حدیث ماتم دلبری

آرزو کی ایک حکایت 1857 سے چلی آ رہی ہے۔ انگریز کے مخبر نے پرچہ لگایا کہ گھر گھر چپاتی بٹ رہی ہے۔ سمندر پار سے آنے والا گورا صاحب چپاتی کیا جانتا، محاورہ کیا سمجھتا؟ منشی لوگ سے پوچھا کہ چپاتی کب بٹتی ہے؟ ہندوستانی لوگ اس سے کیا مطلب نکالتا ہے؟سفید پوش کو حکم بھیجنا کافی ہوگا یا وفادار لوگ کو حاضری پر بلایا جائے؟ منشی صاحب نے بتایا کہ صاحب چپاتی پیغام رسانی کا ہندوستانی طریقہ ہے، کہا کچھ نہیں جاتا، پیغام پہنچ جاتا ہے کہ فتنہ فساد کے لئے کمر باندھی جائے۔ 1857 ہم نے نہیں دیکھا، چپاتی بٹنے کی کہانی ظہیر دہلوی نے لکھی تھی۔ ریشمیں رومال کی تاریخ ہم نے اقبال شیدائی کے قلم سے پڑھی۔ شان خدا ہے کہ پھر ہم ایسے بے ہنر اخبار میں پہنچ گئے۔ دو نام حافظے کے سنگ مزار پر کندہ ہیں۔ میجر رشید وڑائچ اور ملتان کا ادنیٰ کارکن حاجی ظہور احمد۔ بیس برس پہلے ہمارے ملک میں چپاتی نہیں بٹتی تھی۔ یہیں لاہور کے گلبرگ 3 میں میجر رشید وڑائچ کی چھت پر ایک قد آدم بل بورڈ ظاہر ہوجاتا تھا۔ وقت کے سپہ سالار کی پروقار شبیہ ہوتی تھی اور جلی قلم میں فریاد ہوتی تھی، مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔۔۔ ملتان کے ادنیٰ کارکن حاجی ظہور احمد کا خوشامدی اشتہار میاں نواز شریف کے نام اخبارات میں باالتزام چھپتا رہا۔ بھائی رضی الدین رضی روایت کرتے ہیں کہ 12 اکتوبر 1999 کی رات بھی حاجی ظہور احمد اپنا اشتہار منجانب ادنیٰ کارکن اٹھائے اخبار کے دفتر پہنچے، ایک صحافی نے سمجھایا کہ وزیراعظم کی شام سے کوئی خبر نہیں ہے۔ سری لنکا سے ایک جہاز کو آنا ہے، ابھی فضاؤں میں ہے۔ آپ کا اشتہار شائع کرنا قرین مصلحت نہیں۔ حاجی ظہور احمد عقل سے ایسے پیدل نہیں تھے۔ کوئی پون گھنٹے بعد نیا اشتہار لئے سر پر پہنچ گئے۔ جنرل صاحب کو خوش آمدید کہا تھا، میاں نواز شریف کے نام طعن و دشنام کی دوچار سطریں تھیں اور اشتہار منجانب حاجی ظہور احمد (ادنیٰ کارکن) تھا۔

اسی بارے میں: ۔  میاں صاحب بس کریں اب استعفی دے دیں

میجر رشید وڑائچ 2009 میں انتقال کر گئے، ظہور احمد (ادنیٰ کارکن) بھی کئی برس پہلے رخصت ہوگئے۔ اگر خدا مہلت دیتا تو آج میاں نواز شریف کے پہلو میں نظر آتے۔ کوہ قاف کی چوٹیوں سے نمک کی کان تک، دستکاری کے بہت سے نمونے رکھے ہیں۔ خدا کی زمین ایک ادنیٰ کارکن کے لئے ایسی تنگ تو نہیں ہوسکتی۔ اور صاحب بینر کس نے لگائے ہیں؟ بینر کیوں لگائے ہیں؟ آپ کے سوالات بہت سادہ ہیں یا آپ کا حافظہ خراب ہو رہا ہے۔ بادام کی نئی فصل سے چند دانے نہار منہ چبایا کریں۔ دماغ روشن ہوتا ہے، آنکھوں میں طراوت اترتی ہے۔ ابھی اپریل 2014 کا آخری ہفتہ گزرے زیادہ برس نہیں ہوئے۔اسلام آباد کے انہی کھمبوں پر بینر آویزاں ہوئے تھے، مضمون یہی تھا، چہرے مختلف تھے۔ لاہور میں ایک ریلی موٹر سائیکل سواروں نے نکالی تھی۔ ملتان میں ایک جلوس اہل کتاب مسیحی رہنماؤں نے نکالا تھا۔ ساہیوال کے بلدیہ چوک سے گوجرانوالہ کے ٹھاکر سنگھ دروازے تک محب وطن چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں نکلے تھے۔ لاہور کا ایک صحافی کراچی کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہا تھا۔ تب کسی نے نہیں پوچھا کہ بینر کس نے لٹکائے ہیں؟ قائد حزب اختلاف محترم سید خورشید شاہ پہلوانی کے جوہر دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آستینیں چڑھانے والوں میں بینر اتارنے کی ہمت نہیں ہے۔ خورشید شاہ زور والے ہیں، عامیوں کی مجال نہیں کہ بڑے سائیں کے سامنے آواز اٹھائی جائے مگر پوچھنا واجب ہے کہ صاحب دسمبر 2011 میں حسین حقانی اسلام آباد کے کس گھر میں روپوش رہے تھے؟ یہ آستین چڑھانے کا سوال نہیں، قوم کے چاک گریبان کی حکایت ہے، رنگ اڑنے کا ماتم ہے، خوشبو کے رخصت ہونے کا نوحہ ہے، سیاسی رہنماو ¿ں کو چپاتی بٹنے پر طعنہ زن ہونا زیب نہیں دیتا۔ جمہوریت کا سوال خطابت کی چک پھیری نہیں ہے۔ جب چپاتی بٹتی ہے تو خبردار رہنا چاہئے کہ تابوت کا رخ کس طرف ہے، گرجا کی گھنٹی میں کس کے لئے اجل کا پیغام ہے؟ پاکستان ایک بہت بڑی قوم ہے اوروفاق کی اکائیوں کا نازک توازن آئین میں قائم کیا گیا ہے۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ کی بات اپنی ہی دستار سے فٹ بال کھیلنا ہے۔ منصب کا احترام قائم کرنا چاہئے، منصب کے احترام میں قوم کا احترام ہے۔ جمہوریت میں حزب اختلاف ممکنہ حکومت ہوتی ہے، فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، احتساب کا اختیار عوام کو ہے۔ حزب اختلاف کو حق ہے کہ حکومت کی نا اہلی کی نشاندہی کرے، ناکامیوں کا پردہ چاک کرے اور عوام کو بتائے کہ حزب اختلاف کے متبادل لائحہ عمل سے امن و امان میں کیا بہتری آئے گی۔ معیشت کس طرح ترقی کرے گی، غربت کس طرح دور ہوگی۔ اقتدار کو کسی طرح زیادہ شفاف کیا جائے گا۔ دیکھئے، دو لفظ بلا ارادہ چلے آئے۔ متبادل اور شفاف۔۔۔ سمجھنا چاہئے کہ آئین کی بالادستی کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ حکومت کے اقدامات کو شفاف ہونا چاہئے لیکن حکومت کے شفاف ہونے کے لئے سیاسی مکالمے کا شفاف ہونا بہت ضروری ہے۔ جب خوشامد کا بینر لگتا ہے، خوش آمدید کا اشتہار چھپتا ہے، انہدام کی بات کی جاتی ہے تو سیاسی عمل سے شفافیت رخصت ہوجاتی ہے۔ سیاست شفاف نہیں تو احتساب بھی شفاف نہیں ہوسکتا۔ شفاف سیاست کے لئے ضروری ہے کہ متبادل آئین کے متن میں موجود ہو۔ جمہوریت میں دو ہی امکان ہیں، ملک کا آئین ہے یا عیار کی زنبیل ہے۔ جمہوریت کے کھیل میں گیند آئین کی حدود سے باہر نہیں گرنی چاہئے۔ ایسا ہوتا ہے تو شاعر کو \”حلقہ گردن کی گرفت\” لکھنا پڑتی ہے۔ اقبال کے ایک شعر سے بات چلی تھی، اختتام میں بھی کچھ دل آسائی کی بات ہونی چاہئے۔ چراغ حسن حسرت چھوٹی بحر میں گہری بات کہتے تھے۔ حالات حاضرہ کا کوئی عکس اس میں جھلک دے تو بینر لگانے والوں سے معلوم کیجئے گا۔ کسی کالم نویس سے پوچھئے گا، کسی اینکر سے دریافت کیجئے گا، ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں….

اسی بارے میں: ۔  تیسری جنگ عظیم غیر ریاستی عناصر سے ہوگی!

دل بلا سے نثار ہوجائے

آپ کو اعتبار ہوجائے

قہر تو بار بار ہوتا ہے

لطف بھی ایک بار ہوجائے

یا خزاں جائے یا بہار آئے

یا خزاں ہی بہار ہوجائے

دل پہ مانا کہ اختیار نہیں

اور اگر اختیار ہوجائے

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔