ساتویں بیٹی کی آخری چیخ

اس وقت میری عمر کچھ زیادہ نہ رہی ہو گی۔ یہی کوئی سات آٹھ برس مگر لگتا ہے، جیسے بیتے ہوئے کل کا واقعہ ہو۔ کراچی کی چلچلاتی گرمیوں کی تپتی دُپہر اور حیدر چچا کے مکان کا نیم پختہ آنگن کہ جس کی سفید چونے سے لپی دیواروں سے تقریباً ہم آغوش کچی کیریوں سے لدھا آم کا گھنا درخت۔ قریب ہی دیوار پہ چڑھی لجائی، چنبیلی کی نازک بیل جس کی دھیمی خوش بو میں ضم ہوتی کیریوں

Read more

ڈاکٹر علی شریعتی

آج امتِ مسلمہ ایک دورِ پرآشوب سے گزر رہی ہے، تیرگی ایسی ہے کہ سجھا ئی نہیں دیتا۔ سالہا سال سے جہالت، تنگ نظری، فرقہ وارانہ تعصب کی فصل کو اگانے والے ذلتوں اور محرومیوں کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ شدید نا امیدی اور یاسیت کے اس عالم میں میرا جی چاہتا ہے کہ ایک ایسے شخص کی سچائی، روشن خیالی، فہم و زکاوت کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کروں کہ جس نے اپنے عہد کے یزیدیوں سے بطریقِ

Read more

حسینی برہمن کون ہیں ؟

محرم کے مہینے میں مسلمان جہاں اپنی روایتی عزاداری کرتے ہیں۔ وہاں ہندوستان کے ہندو بھی روایتی جوش و خروش سے امام حسین (ع) کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں۔ مثلا اندرا پردیش میں لوگ تلگو میں غمگین کلام پڑھتے ہیں۔ راجھستان میں ہندو کربلا کی داستان کو تمثیلی انداز میں مجمعے کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور امامِ حسین (ع) کی شہادت کا منظر پیش کرنے کے بعد ماتمی جلوس نکلتا ہے۔ اور یزید کے ظلم پر برملا اظہار

Read more

بیگم صالحہ مرزا سے گفتگو جن کا بچہ آٹزم میں مبتلا ہے

(قارئین یہ انٹرویو تقریبا ایک سال قبل لیا گیا تھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد بیگم صالحہ کا حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال ہو گیا) گذرتے وقت کی مسلسل کروٹوں کے ساتھ بیتی یادیں دھندلا جاتی ہیں، لیکن کچھ مناظر نگاہوں میں ٹھہر سے جاتے ہیں۔ میری یاد میں بھی ایک ایسا ہی منظرِ زندہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ کراچی میں رہنے والا ایک خاندان ہے کہ جس کے چھوٹے بڑے کئی افراد ایک کم سن

Read more

بینا سے نابینا: سماجی کارکن ڈاکٹر فاطمہ شاہ

میٹرک میں گولڈ میڈل حاصل کرنے اور لیڈی ریڈنگ میڈیکل کالج دہلی، بھارت سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بطور سرجن عملی زندگی کی ابتدا۔ شادی کے بعد گھریلو زندگی کی ترجیح اور پھر ڈاکٹر ہونے کے باوجود الرجی کے ساتھ موتیا کے باعث بینائی سے محروم ہونے والی حوصلہ مند خاتون ڈاکٹر فاطمہ شاہ کی کہانی۔ انھوں نے (1914 تا 2002) نابینا ہونے کے بعد ایک نئے عزم سے زندگی گزاری اور دنیا بھر سے اپنی سماجی خدمات پہ تحسین

Read more

زندگی کو زندہ رکھنے والا جرات مند شاعر اور صحافی: احفاظ الرحمن

مجھے بالکل اچھی طرح تو یاد نہیں کہ پہلی بار میں نے کب احفاظ الرحمن کو روبرو دیکھا، لیکن رسالہ ”آدھی دنیا“ (محنت کش عورتوں کے لیے شائع ہونے والا رسالہ) کے توسط سے ان کی اہلیہ مہناز رحمن، جو خود اہم صحافی ادیبہ اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں، سے درستی اور قربت نے میرا احفاظ الرحمن سے غائبانہ تعارف ضرور کروا دیا تھا۔ کچھ برسوں بعد ایک آدھ بار ہلکی پھلکی ملاقات بھی ہوئی اور بس اس کے بعد ہم

Read more

ڈاکٹر فیصل سعید کو معذوری نے کامیابی پانے سے نہیں روکا

تندی باد مخالف سے نہ گھبرانے والے ڈاکٹر فیصل سعید سے گفتگو ڈاکٹر فیصل سعید بچپن ہی میں پولیو کا شکار ہو گئے مگر اپنی زندگی میں حائل مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کینیڈا میں رہائش پزیر ہیں اور ایک اعلی عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ ان سے یہ انٹرویو 2015 میں لیا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین بھی اس ملاقات سے محظوظ

Read more

’بیمارستان‘ سے ’ گرین زون تھیرپی ‘ تک۔

ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا پہلی بار ٹیلی فون سے رابطہ 2009ء میں اس وقت ہوا جب ان کی ویب سائٹ کی چھان پھٹک نے مجھے قائل ہی نہیں بلکہ مجبور کر دیا کہ شمالی امریکہ میں بسنے والے جنوبی ایشیائی مہاجرین کی ذہنی صحت کے حوالے سے ان سے گفتگو کی جائے۔ واضح رہے کہ ان کا نام نفسیاتی امراض کے ماہر معالج کے طور پر معتبر گردانا جاتا ہے۔ گو ڈاکٹر خالد سہیل سے براہِ راست فون پر

Read more

لالہ کا پھول۔۔۔ جو مرجھا گیا

(اپنی دوست اور صحافی لالہ رخ حسین کی یاد میں) اس کو دیکھیں تو یہ احساس ہوتا تھا کہ جیسے فضا میں دھنک کے رنگ بکھر گئے ہوں، بے ساختہ ہنسی کی جلترنگ سی بج اٹھی ہو۔ اور جیسے موسم کی پہلی بارش کے بعد مٹی کی سوندھی سی خوشبو پھیل گئی ہو۔ پھر ایسی نتھری دلکش فضا میں شاخ پہ جھومتے سرخ لالہ کے پھول کا تصور کریں۔ اپنی پنکھڑیوں میں چاہت اور خلوص کے گہرے رنگ سمیٹے مسکرا

Read more

برہنہ لاش پر سرخ گلاب کا تولیہ

وہ دن میں کبھی بھی نہیں بھول سکتی کہ جب دسمبر کی یخ بستہ برفیلی صبح ٹیلی فون کی گھنٹی سے میں ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔ فون کسی پولیس آفیسر کا تھا جو مجھے سپاٹ آواز میں زرینہ کی موت کی خبر دے رہا تھا۔ میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی، ریسیور ہاتھ میں کانپنے لگا، مجھے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ خوف اور صدمے کے مارے میرے منہ سے کوئی بات نہیں نکل رہی تھی۔

Read more

گدھے کی سواری سے وزارت تعلیم کی کرسی تک

  ( 2 اکتوبر 1934 تا 8 اگست 2014۔ انیتا غلام علی کے انتقال کے بعد ان کی سالگرہ پر لکھی گئی تحریر) یہ سال 2013ء کی بات ہے، جولائی کا مہینہ دوپہرکا وقت، میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے دفتر میں ایک ایسی شخصیت کے سامنے بیٹھی ہوں جو ہمیشہ ہی مجھے اپنے دل کے قریب محسوس ہوئی ہیں۔ جن سے میری قربت کا رشتہ پل دو پل کی بات نہیں بلکہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ طویل عرصے پر

Read more

کافی میں کیفین کی کارستانیاں

میں اپنے ساتھی تھرپسٹ میتھیو کے ساتھ ایک ایسے ادارے میں کام کرتی ہوں کہ جو منشیات کے عادی افراد کو گروپ اور انفرادی تھرپی فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ مشی گن ڈپارٹمنٹ آف کر یکشن (Michigan Department of Corrections:MDOC) کی ماتحتی میں کام کرتا ہے۔ تھرپی کے کام سے جتنی بھی الفت سہی، ایک مقام ضرور آتا ہے کہ وہ اسٹرس کا سبب بن سکتا ہے۔ سب ہی افراد اپنے طور پر اس کام کے اسٹرس سے نپٹنے کے

Read more

پاکستان میں دولت کی تفریق کیوں؟

پاکستان کی آزادی سے آج تک، 71 برسوں میں ملک کی اکثریت کی غربت اور اقلیت کی امارت نے قدم جمائے ہوئے ہیں جس سے مجھے بچپن میں پڑھی سنڈریلا کی طلسماتی کہانی کا خیال آتا ہے۔ غریب، محنتی، محبوب، پھٹے پرانے کپڑے پہنے مسکین سنڈریلا جو بادشاہ کی دعوت پر جانے کیلئے جادو کے زور سے نہ صرف خوش لباس و حسین دوشیزہ میں تبدیل ہو جاتی ہے بلکہ شادی کے متمنی شہزادے کا دل بھی چرا لیتی ہے۔

Read more

میجر ڈپریشن: وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج

ہم اکثر اپنی روزمرہ زندگی میں ”ڈپریشن‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور اداسی و مایوسی کی کیفیات کو بآسانی ڈپریشن کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں، مثلاً خاندان میں کسی سے رنجش ہوگئی، بچے کا نتیجہ خراب ہورہا، کوئی بیمار پڑ گیا یا کوئی اور بات، حالانکہ یہ کیفیات عارضی ہوتی ہیں اور اپنے وقت سے چلی جاتی ہیں تاہم افراد جو حقیتقاً اس مرض میں مبتلا ہیں اور اکثر اپنی کیفیت کی سنگینی سے آگاہ ہی نہیں ہوتے

Read more

اقبال مہدی، عظیم مصور جو نہ رہا

میرے مہمان خانے میں آتش دان کے عین اوپر دیوار پر ایک بہت ہی خوبصورت فن پارہ آویزاں ہے۔ پین ورک (Penwork) سے بنی ایک دلکش، الہڑ، معصوم سی لڑکی کا سراپا، اپنے علاقائی لباس اور زیور سے آراستہ، آنکھوں میں استعجاب کہ جس میں سفید و سیاہ رنگوں کے باوجود انسانی زندگی کا ہر رنگ بولتا نظر آتا ہے اور جو ہر آنے والے کی نظروں کو مقناطیس کی مانند کھینچ لیتا ہے، جب کوئی مصور کا نام پوچھتا

Read more

بھوک کے خلاف صف آراء ’’کھانا گھر‘‘ کی منتظمہ پروین سعید سے گفتگو

’’کبھی میں سوچتی ہوں کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جادوئی چھڑی ہو کہ جس کی مدد سے کوئی غریب بھوک سے نہ مرے کہ اس بھوک میں بہت درد ہے اور اس میں کراہت، بدکرداری اور بداعتمادی بھی ہے‘‘۔یہ بناوٹ سے پاک نرم آواز مگر تلخ لہجہ میں اپنے شدید دکھ کا اظہار کرنے والی پروین سعید ہیں جو گزشتہ 14 سال سے ’’کھانا گھر‘‘ جیسا فلاحی ادارہ چلا کر محنت کش غریبوں کی بھوک مٹانے کا فریضہ

Read more

بچوں میں ڈس لیکسیا (Dyslexia) کا مرض کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کریں؟

جب میں نے کہانی کی آخری سطر پڑھ کر کتاب بند کی اور 11 سالہ حمید کی آنکھوں میں جھانکا تو اس کی شفاف، سیاہ اور روشن آنکھوں میں خوشیوں کے کئی رنگ جھلک رہے تھے۔ دو سال قبل امریکہ عراق جنگ کی ہولناکیوں کو جھیل کر امریکہ آنے والے حمید کی آنکھوں میں علمی ترقی کے خواب دیکھنے کا ہنر پوری آب و تاب سے زندہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسکول کے تدریسی اوقات میں دو

Read more

سوال پوچھنا کیوں ضروری ہے؟

چینی کہانی ہے ’’جو شخص سوال پوچھتا ہے محض پانچ منٹ کیلئے ہی بے وقوف گردانا جاتا ہے لیکن جو بالکل سوال ہی نہیں کرتا وہ عمر بھر کیلئے بے وقوف رہتا ہے۔‘‘ گویا زندہ ذہنوں میں کرید اور جستجو کا عمل شعور کے ارتقا کے سفر پر مائل رکھتا ہے۔ سوال پوچھنے والوں میں دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذہن کے دریچے نئے افکار کی آمدو رفت کیلئے کھلا رکھتے ہیں۔ خود آگہی کے

Read more

کچھ بچے نچلے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟

سالہا سال شعبہ تعلیم سے وابستگی کے دوران مختلف عادات و مزاج کے طالب علم میرے مشاہدے کا حصہ رہے ہیں۔ وہ طلبا بھی کہ جو تادیر ایک جگہ بیٹھ کر توجہ سے استاد کی بات سن سکتے ہیں اور انھیں اپنی حرکتوں پر قابو رہتا ہے اور اس کے بر خلاف وہ بھی کہ جنھیں دیر تک بیٹھنا مشکل، استاد کی بات توجہ سے سننا دشوار اور پھر ان کی ہدایات پر عمل کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ ایسے

Read more

”بولی وڈ‘‘ میں معذوری کے موضوع سے متعلق بننے والی چند فلموں کا ذکر

کچھ دہائیوں قبل جب میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے انڈیا گئی تو یہ منظر میرے لئے خوشگوار حیرت کا باعث تھا کہ جب لوگ صبح 8 بجے بڑے جوش و خروش سے سینما ہالوں کا رخ کرتے کیونکہ یہی وہ زمانہ تھا کہ جب آمریت کے نمائندہ ضیاء الحق نے اسلام کا بول بالا کرنے کا آہنی عزم کیا تھا اور پاکستانی فلمی صنعت انحطاط پذیر تھی۔ اسٹوڈیوز میں الو بولنے لگے تھے اور اس صنعت سے وابستہ لوگ

Read more

زچگی کے بعد طاری ہونے والا ڈپریشن خطرناک ہو سکتا ہے

20 جون 2001ء کے دن کا سورج اپنی تمام تر تابناکیوں کے ساتھ امریکہ کی ریاست ٹیکساس (ہیوسٹن) میں طلوع ہوا تھا لیکن کسے خبر تھی کہ اس روشن دن کو ایک روح فرسا خبر، اداس اور تاریک دن میں تبدیل کردے گی۔ اس شب امریکہ کے ٹی وی اور ریڈیو سے یہ خبر آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ پانچ بچوں کی ماں نے اپنے جگر گوشوں کو خود اپنے ہاتھوں سے پانی کے ٹب میں ڈبو کر

Read more

بُلنگ، خودکشی اور فلم ”اے ڈیتھ ان دا گنج‘‘

بچپن کے اس واقعہ کو بیتے ہوئے اب تو کئی دہائیاں گزر گئیں۔ میں پانچویں جماعت کی نٹ کھٹ کھلنڈری سی بچی تھی۔ سب ہی بچے اسی طرح ہی کے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی سنگت میں ہنستے مسکراتے ہرن کی طرح چوکڑیاں مارتے لیکن میری ہم جماعت نسرین فاطمہ بالکل بھی ایسی نہ تھی۔ وہ ہلکے سے لنگ کے ساتھ جب کبھی بھاگتی تو سب ہنس پڑتے۔ کوئی اسے پارٹنر بھی نہ بناتا کہ اس کی موجودگی کی وجہ

Read more

پٹیالہ گھرانے کے نامور گائیک استاد حامد علی خان سے ایک گفتگو

یہ ذکر ہے ڈیئر بورن، مشی گن (امریکہ) کی ایک یادگار رات کا جب برصغیر کے ایک نامور کلاسیکی موسیقار و گلوکار سُروں کی ادائیگی کا فریضہ عبادت کی طرح ادا کررہے تھے۔ سامعین محفل ہمہ تن گو ش تھے۔ فضا میں سُروں کا فسوں سر چڑھ کر بول رہا تھا اور لاگی رے توسے لاگے نجر سیاں لاگے کے خوبصورت بول کی تکرار جاری تھی۔ روح پرور موسیقی کی اس محفل کو سجانے والے فنکار پٹیالہ گھرانے کے وہ

Read more