ساتویں بیٹی کی آخری چیخ
اس وقت میری عمر کچھ زیادہ نہ رہی ہو گی۔ یہی کوئی سات آٹھ برس مگر لگتا ہے، جیسے بیتے ہوئے کل کا واقعہ ہو۔ کراچی کی چلچلاتی گرمیوں کی تپتی دُپہر اور حیدر چچا کے مکان کا نیم پختہ آنگن کہ جس کی سفید چونے سے لپی دیواروں سے تقریباً ہم آغوش کچی کیریوں سے لدھا آم کا گھنا درخت۔ قریب ہی دیوار پہ چڑھی لجائی، چنبیلی کی نازک بیل جس کی دھیمی خوش بو میں ضم ہوتی کیریوں
Read more
















