جب مہدی حسن موٹر مکینک بنے

موسیقار عظیم خان ٹال والے :۔ مہدی حسن خان صاحب نے اپنے مستری بننے کی تفصیل کچھ اس طرح سے بیان کی کہ ایک دفعہ ان کے ابا نے انہیں بتایا کہ ”ہمارے پاس جو رقم اور زیورات تھے، وہ ہم بیچ کر کھا چکے ہیں۔ اب صرف دس ہزار روپے رہ گئے ہیں۔ لہذا…

Read more

انگزائیٹی ڈِس آرڈرز کیا ہیں؟

ہم میں سے کون ہو گا جو روزمرہ کی زندگی میں خوف اور پریشانی کی کیفیت سے نہ گزرا ہو۔ مثلاً بچپن میں اماں سے دور اسکول میں داخل ہونے کی ہراسانی۔ امتحان سے قبل کی پریشانی، پھر نوکری ڈھونڈتے وقت انٹرویو دینے کا خوف، بڑے ہجوم کے سامنے تقریر کرنے کی گھبراہٹ اور کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت تذبذب اور گھبراہٹ۔دیکھا جائے تویہ وہ کیفیات ہیں کہ جن سے ہم نپٹتے ہی رہتے ہیں۔ یہ نارمل زندگی کا حصہ ہیں۔ درحقیقت تھوڑی سی پریشانی، تھوڑا سا خوف ہمیں پرخطر حالات سے نپٹنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلاً ہم تقریر کی کئی بار پریکٹس کرتے ہیں۔ انٹرویو کے لیے ممکنہ سوالات کے جوابات تیار کرتے ہیں اور امتحانوں کے لئے پہلے سے اس کی تیاری کا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ وقتی پریشانیاں یا چیلنجز ہمارے ذہن اور جسم پہ اثر انداز تو ہوتے ہیں مگر وقتی طور پہ، مستقل طاری نہیں رہتے۔

Read more

عظیم گلوکار مہدی حسن خان صاحب کی داستان ِ حیات

ابتدائی دور:۔ تقریباً سات دہائیوں سے بھی قبل کا ذکر ہے کہ راجھستان (انڈیا) کے نامور گویوں کے گھرانے کا چھ سالہ کم سن بچہ جو اپنے والد استاد عظیم خاں کا منہ چڑھا تھا بڑے زعم میں اپنے باپ سے مخاطب ہوا۔ اجی آپ کیا گاتے ہیں میں بھی گا سکتا ہوں۔ میں ایک ”خیال“ بنا کر لایا ہوں۔ (موسیقی کی ایک قسم) پوچھنے پہ اس بچہ نے ”پوربی زبان“ میں اپنا تین تال پہ بنایا ہوا خیال سنایا۔

تو جارے بگلا جا
آوت ہے بڈھا تیرا
اڑا۔ وٹ ہے بگلا

اس کا الاپا راگ سن کر کلاسیکی موسیقی کے استاد باپ نے بلاتاخیر اسی دن سے اولاد کو اپنی شاگردی میں لے کر باقاعدہ موسیقی کی تعلیم شروع کر دی۔

اپنے والد استاد عظیم خاں اور چچا اسماعیل خاں کی زیرِ تربیت ”قدرتی طور پر سروں کی بیش بہا دولت سے مالا مال“ یہ بچہ مُسلسل ریاض سے ایک دن اپنے کمال کو پہنچا اور موسیقی کی دنیا میں گائیکی (بالخصوص غزل کا) ”بے تاج شہنشاہ“ قرار پایا۔

Read more

کھانے کا زیاں اور عالمی بھوک

” اگر ان کے پاس روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟ “ یہ تاریخی جملہ فرانس کی ملکہ میری انتونیئت سے منسوب ہے جو کہ اس نے محل کے باہر بھوک سے بلبلاتے اور روٹی کا نعرہ لگاتے مجمع کو دیکھ کر حیرانی اور معصومیت سے ادا کیا۔ لگتا یہ ہے کہ…

Read more

سابق گورنر پنجاب کا بیٹا اور تیزاب سے جھلسنے والی بیوی کی خودکشی

14 مئی 2000 تاریخ اور دوپہر ڈھائی بجے کا عمل۔ فاخرہ یونس نیپئیر روڈ، کراچی میں واقع اپنی ماں کے گھر بے خبر سو رہی تھی، تب اچانک ہی اس کا شوہر بلال کھر اونچی آواز میں ”فاخرہ۔ فاخرہ۔ اٹھو۔ “ کہتا ہوا داخل ہوتا ہے۔ پہلے وہ فاخرہ کے سر کے بالوں کوپیچھے سے…

Read more

وسوسہ، وہم اور توہماتی عمل

او سی ڈی (Obsessive Compulsive Disorder) ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے۔ آئیے حقیقی زندگی کی کچھ مختصر کہانیاں پڑھیں تاکہ اس مرض کو سمجھنے میں مدد ملے۔ اسماء کا چار سالہ بچہ اپنی ماں کے رخسار پہ گن کر چار دفعہ پیار کرتا ہے۔ اسے خوف ہے کہ اگر ایسا نہ ہواتو اس کی…

Read more

عظیم شاعرہ مایا اینجلو کا بچپن، جنسی تشدد اور ٹراما سے رہائی

امریکہ کی مشہور شاعرہ، ادیبہ اور انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مایا اینجلو کا کہنا ہے۔
” ایک ان کہی داستان کو اپنے اندر رکھنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں۔ “

مجھے اس جملے کی سچائی اور طاقت کا اندازہ ان کی شہرہ آفاق کتاب ( میں جانتی ہوں پنجرہ میں قید چڑیا کیوں گاتی ہے۔ I Know Why the Caged Bird Sings) پڑھ کر ہوا۔ کئی سال قبل پڑھی اس کتاب کا اثر مجھ پر وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ آگہی اور تجربہ کا وہ سفر ہے جو میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے طے کیا۔ مایا اینجلو نے کل سات سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ جو کہ ان کی تین سے سترہ سال کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

Read more

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر : (Post Traumatic Stress Disorder)

انسانی تاریخ میں ایک دوسرے سے نفرتوں کے نتیجے میں بہیمانہ ظلم و ستم ہے تو جنگ و جدل کی وحشتیں بھی، قدرتی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب اور طوفان ہیں تو قحط سالی کے نتیجہ میں بھوک کی عفریت کا سامنا بھی، سرعت رفتاری سے سرپٹ دوڑتے وقت میں ٹیکنالوجی نے دنیا کو ”عالمی گاؤں“…

Read more

جسم پر بنے ٹیٹوز کیا کہتے ہیں؟

میں امریکہ کی ریاست مشی گن کے قید خانے میں بطور تھراپسٹ کام کرتی ہوں اور منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتی ہوں۔ یہ وہ افراد ہیں جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے نتیجہ میں سزائیں کاٹ کر مزید چھ ماہ کے لئے تھیراپیٹک کمیونٹی میں علاج اور آزاد کمیونٹی میں بسنے کی تربیتی معیاد پوری کر رہے ہیں۔میں جیل کی اس فضا میں ہر روز سینکڑوں افراد کو گہرے نیلے لباس میں ملبوس دیکھتی ہوں۔ جن کی قمیضوں کی آستینوں پر نارنجی رنگ کی پٹیاں انہیں کچھ اور ممتاز کر دیتی ہیں۔ یہ مخصوص لباس جہاں انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے وہاں ایک اور مماثلت بھی ان کے درمیان مزید تعلق کا سبب بنتی ہے۔ اور وہ ہے تقریباً ہر فرد کے جسم پہ بنے ٹیٹوز (Tatoos) ۔

Read more

پاکستان میں ہر روز منشیات کے ہاتھوں سات سو افراد کی موت

مجھے وطنِ عزیز پاکستان کو خیر باد کہے خاصا عرصہ ہو رہا ہے اب تو کئی یادیں دھندلا سی گئی ہیں لیکن نہیں بھولتا تو وہ بد ہئیت منظر کہ جب میرے شہر کراچی کی چوڑی شاہراہوں کے کنارے فٹ پاتھوں پہ، پُلوں کے نیچے، سنسان علاقوں میں دنیا جہان سے بے خبر اپنے سروں…

Read more