محبت کے سروں میں گندھی لوریاں اور ان کے سماجی اثرات

اب تو وقت یاد نہیں شاید رات آٹھ یا نو بجے کا عمل رہا ہو گا۔ بہن کا گھر کہ جہاں میں اپنی آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ دو دن کے لیے رہنے آئی تھی۔ اور اس کو سلانے کی کوشش میں مصروف۔ ملگجے اندھیرے میں پھولوں اور دوسرے درختوں سے لدے گھر کے سامنے والا حصہ، اور میرے دونوں بازوؤں کے گھیرے میں، نیند سے بے چین، بے سکون آٹھ ماہ کی بیٹی اور میری لوری۔ گو میں ایسی سریلی نہیں مگر مامتا کا تو اپنا ہی سر ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ اس دن میرا انتخاب ایسی لوری تھا کہ جو میں اسے بہت زیادہ نہیں سناتی تھی۔ یہی وجہ ہوگی کہ بیٹی پہ لوری اثر نہیں کر رہی تھی۔ اس کی نیند سے بے کل آنکھیں، خوابوں کی وادی میں جانے سے گریزاں اور بے چین تھیں۔ تب اچانک مجھے خیال آیا دوسری لوری کا۔ جو اکثر میرا انتخاب رہی تھی اور جس کا آغاز اس طرح ہے۔

Read more

نک میرا ”ہیرو“ کیو ں ہے؟

نک سے اپنے بھرپور عشق کے اظہار میں مجھے قطعاً کوئی عار نہیں۔ وہ میرا ہیرو ہے اور میرے دل کے بہت نزدیک اگر اس کی خاموش شریر مسکراہٹ میرا جی موہ لیتی ہے تو ہزاروں کا مجمع دم سادھے اس کی سنجیدہ متاثر کن گفتگو کا ایک ایک لفظ سنتا ہے۔ اور ہاں اکثر تو نک میری ملازمت کے اوقات میں میرے منشیات کے عادی کلائنٹ کی تھراپی کے دوران کمپیوٹر کے اسکرین پہ بھی موجود ہوتا ہے۔ عسرت

Read more

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی نادیہ مراد باسی طہ کون ہیں؟

نادیہ مراد کا تعلق عراق کے شمال میں واقع ضلع سنجر، (جس کی سنجر پہاڑیاں عراق اور شام کے درمیان سرحدی خط کھنچتی ہیں ) میں بسے گاؤں ”کوجو“ سے ہے۔ کردوں پہ مبنی اس گاؤں کی آبادی کا بنیادی ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور جہاں کے لوگوں کی زندگی سادہ، امن پسند اور پرسکون تھی۔ 1993؁ء میں پیدا ہونے والی نادیہ کا شمار گاؤں کی ان خوش نصیب لڑکیوں میں تھا جنہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ تعلیم

Read more

صدیوں کی غلامی، نسلوں کا المیہ

ایسا نہیں کہ تاریخ کی کوکھ سے خوشیوں نے کبھی جنم ہی نہیں لیا۔ لیکن مسرتوں کے لمحات اکثر وقت کی ڈیوڑھی پہ اپنا نشان ثبت کیے بغیر سرعت رفتاری سے گزر جاتے ہیں۔ ٹھہرجانے والے تو دکھ اور اذیت کے لمحات ہوتے ہیں جو تاریخ کے سینے پہ زہریلے ناگ کی طرح پھن پھیلائے اس وقت تک لوٹتے رہتے ہیں۔ جب تک انسانیت ان کے زہر کا تریاق نہ تلاش کرلے۔ ریاست ہاے متحدہ امریکہ میں ایفرو امریکنوں کی

Read more

آدھی گواہی سے پورے ووٹ تک

آج کی تاریخ تک کورونا کی جان لیوا وبا نے دنیا کے تیرہ لاکھ افراد کو شہر خموشاں میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ ان مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد امریکی شہریوں کی ہے، اس کے باوجود نومبر 2020ء میں ہونے صدارتی انتخابات نے ملک میں زندگی کی رمق سی پیدا کر دی ہے۔ مستقبل کے صدر، نائب صدر اور بقیہ نمائندوں کو چننے اور ووٹ دینے کا حق عوام میں طاقت پیدا کرتا ہے۔ یقیناً جمہوریت کا تقاضا

Read more

ہو سکتا ہے آپ میرے شوہر سے شادی کرنا چاہیں

وہ ستمبر کی آٹھ تاریخ تھی، سال 2015 ؁ ء اور مقام تھا شکاگو۔ 49 سالہ ایمی کروس روسنتھل کو پیٹ میں تکلیف محسوس ہوئی۔ جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کچھ دیر بعد وہ اپنے شوہر جیسن کے ساتھ ایک ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں تھی۔ چند گھنٹوں کے ٹیسٹ کے بعد پتہ چلا کہ جس درد کو وہ اپینڈکس کا درد سمجھ رہے تھے وہ دراصل بچہ دانی کا کینسر تھا۔ یہ خبر محبت سے بھرپور جوڑے کے لیے دلخراش تھی۔ جنہوں نے اب تک شادی شدہ زندگی کے چھبیس سال بہترین رفیق بن کے گزارے۔

Read more

دکھ کی دھوپ میں مسافرت

اب تو بہت سال ہو گئے، میرا بلاوا امریکا کے اردو اخبار ”اردو ٹائمز“ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا، جس کے لیے میں کئی سال سے کالم لکھ رہی تھی۔ یہ پروگرام نیویارک میں تھا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہوٹل کے جس کمرے میں مجھے ٹھہرایا گیا، وہاں میرے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی ایک اہم صحافی اور شاعرہ بھی تھیں۔ راز داری کے لیے ہم ان کا فرضی نام شہلا تصور کر لیتے ہیں۔ بہت محنتی، مثبت سوچ کی حامل، زندہ دل اور خوش لباس۔

کسی نے بتایا کہ وہ ایک گلوکار کی اہلیہ ہیں، جن کا بہت سال قبل جوان سالی میں اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ بد قسمتی سے انتقال کے وقت وہ وطن اور گھر والوں سے کوسوں دور اور تنہا تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا، کیوں کہ یہ سب میرے علم میں نہ تھا۔ مگر میری یاد کے جگنو میں ان کے شوہر کا ایک خوبصورت اور مقبول گانا مستقل جھلملا رہا تھا۔

Read more

ویران آغوش اور مامتا کا کرب

( 9 تا 15 اکتوبر بچے کو کھو دینے سے آگہی کے ہفتے کی مناسبت سے لکھی گئی تحریر)

(روداد: منیژے وقاص)

تحریر: گوہر تاج

مشی گن ڈیٹرائیٹ، امریکا

تقریباً دو سال قبل میری بھتیجی اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے تجربے سے گزری، اسی طرح جس طرح دنیا کی تمام مائیں گزرتی ہیں۔ زمانے حمل کی مشکلات اور پیدائش کا دکھ جو ہر ماں کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کے وہ بچہ دنیا میں چند سانسیں ہی مستعار لایا تھا۔ ماں نے اولاد کے اس دکھ کو اپنے اندر ہی اندر پنپنے دیا اور کسی اظہار کے بجائے بس ایک چپ سادھ لی۔ تمام سوشل میڈیا سے کٹ کے اور بیٹے کی یاد میں بس کے۔

Read more

ڈاکٹر شیرشاہ سید کی نئی کتاب: ”امراض سے آگہی اور ہسپتالوں کی تاریخ“

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلا یا ہوگا اس شعر کو پڑھ کر مجھے ڈاکٹر شیرشاہ سید کی آبلہ پائی یادآجاتی ہے جوبطور معالج اورادیب حالات کی آندھی اور مخالف ہوا کے سامنے مسلسل علم و آگہی کا چراغ جلانے میں کوشاں ہیں۔ ”نہ ستائش کی تمنا اور نہ صلہ کی پرواہ“ پہ عمل پیرا انسان دوست شیر شاہ سیدمسلسل اپنی تحریروں سے علم و آگہی کے سلسلہ کو دراز

Read more

سماج میں ریپ کلچر کس طرح نمو پاتا ہے؟

یہ ایک اتفاق ہی جانئیے کہ ہائی وے پہ ہونے والے ریپ کے واقعہ سے محض ایک دن قبل میں امریکی چینل کے مشہورپروگرام ”ڈیٹ لائن“ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پروگرم میں قتل کی وارداتوں کو حل کرکے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی سچی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس دن کی کہانی ایک ایسی نوجوان لڑکی کی تھی کہ جس کو رات میں ہائی وے پہ ڈیوٹی پہ تعینات پولیس نے روکا اور پھر ریپ

Read more

روبی بریجز: چھ سالہ سیاہ فام بچی جس نے امریکہ کی تاریخ بدل دی

چودہ نومبر 1960 ء امریکہ کی تاریخ کا یادگار دن تھا جب امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیو آرلینز میں واقع ولیم فرنٹز ایلیمنٹری کے باہر کم از کم دو سو افراد کا مشتعل ہجوم جو والدین اور اس اسکول کے کمسن بچوں پہ مشتمل تھا اسکول کے باہر احتجاجی نعرے لگا رہا تھا۔ ٹو فور سکس ایٹ ۔ ۔ ۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو انٹیگریٹ two four six eight، we don ’t want to integrate ان کا کہنا تھا

Read more

آٹزم میں مبتلا بچے کی والدہ سے گفتگو

ہم نے مسز شازیہ سلام سے ان کے بیٹے کے متعلق طویل گفتگو کی جو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا ہے۔ مسز شازیہ سلام کی عمر 45 سال ہے اور ان کی تین اولادیں ہیں۔ طارق ان  کی دوسرے نمبر کی اولاد ہے کہ جن کی تشخیص تین برس کی عمر میں ہوئی۔ شازیہ سلام کے دوسرے دو بچے نارمل ذہنی استعداد کے حامل ہیں۔ شازیہ سلام اور ان کے میاں عامر سلام کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دونوں

Read more

کمرہ نمبر 101 میں کیا ہوا؟

آج میں ایک صاحب کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہو گی۔ لیکن ان کاکہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر

Read more

کمرہ نمبر ایک سو ایک میں کیا ہوا؟

آج میں ایک شخص کی زندگی کی کتاب کا ایک اہم باب دہرا رہی ہوں۔ ان کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر رہے ہیں جس طرح بیالیس قبل وہ کراچی کی بستی شاہ فیصل کالونی میں واقع بارہ دری، مردانہ ہوسٹل کے کمرہ نمبر ایک سو ایک میں گزرے تھے۔ باوجود اس کے کہ وہ اس کو بیان کرتے ہوئے شدید ذہنی کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اوپر بیتے اس ٹراما کو بیان کریں تاکہ اور بہت سے لوگوں کی مدد ہو سکے۔

Read more

کیا دل واقعی ٹوٹ جاتا ہے؟

امریکہ میں میری پہلی عارضی ملازمت ایک نرسنگ ہوم میں تھی جو میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ اتنے معمر افراد کو ایک چھت تلے زندگی کے اختتامی سفر کو طے کرتے دیکھنا میری زندگی کے اس تجربے سے یکسر مختلف تھا جو میں نے پاکستان میں گزاری تھی۔ جہاں عموماً مشترکہ خاندانی نظام کے تحت بزرگوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گو اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے اور لوگ سینیر سینٹرز میں اپنے بزرگ داخل کرکے اکثر بھول

Read more

آزاد امریکہ کے قید خانے اتنے آباد کیوں ہیں؟

جب میری ملازمت امریکہ کی ایک جیل میں بطور منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ کے ہوئی تو کرم فرمائی کے دعویدارایک حضرت نے کچھ تمسخر اور کچھ طنز سے فرمایا، ’’ضرور کام کیجیے وہاں۔ تاکہ آپ کے سوشل ورک سے متعلق آئیڈیلزم کا نشہ تو اترے‘‘۔ میں نے اس ملازمت کو کچھ خوف اور بے یقینی کے عالم میں شروع کیا۔ مگر آج میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ ملازمت میری زندگی کا سب سے

Read more

اک عہد بے مثال۔ ۔ ۔ مہدی حسن خاں صاحب

مہدی حسن صاحب کی زندگی کے مختلف ادوار کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ماحول اور حالات نے ان کی شخصیت کی تشکیل پہ کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ مثلاً آٹھ برس کی عمر میں ماں کے انتقال کے بعد ان کی گود کی گرمی کی جگہ سروں کی نرمی نے لے لی جو انہیں باپ اور چچا کی سختی سے دی گئی موسیقی کی تربیت نے عطا کی مگر محض سروں کی تعلیم نہیں تھی بلکہ

Read more

حسن نثار کے بیٹوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

اس سال اپریل میں مشہور پاکستانی صحافی حسن نثار، جو جنگ گروپ اور جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں، کے بیٹوں کی انتہائی غصہ اوردشنام سے بھرپور ویڈیو وائرل ہوئیں۔ گو چہرے مہرے اور حلیہ کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ حسن نثار جیسے خوش لباس اور صحتمند شخص کے بیٹے ہیں، مگر دو باتوں کی وجہ سے اس حقیقت کو قبول کرنے میں تامل نہیں ہوا۔ ایک تو ان کے شناختی کارڈزپہ درج کوائف اور

Read more

امریکہ میں درد کش ادویات کا استعمال اور موت کی وبا 

(دوسرا اور آخری حصہ ) بات امریکہ میں افیون اور اس سے بننے والی منشیات سے ہونے والی اموات کی وباءسے شروع ہو کر افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی طویل جنگ تک پہنچی ہے کیونکہ اس نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خون آشام جنگوں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی ملک کا دوسرے پہ حملہ کا مقصد اس کے وسائل پہ قبضہ اور تسلط قائم کرناہے۔ اس وقت دنیا میں تیل اور ہتھیاروں

Read more

جب میری بیٹی جنس بدل کر بیٹا بنی

فرزانہ میری ایسی دوست ہے جس کی فرزانگی، علم دوستی اور خلوص و محبت نے مجھے اس وقت سے ہی اپنا بنا لیا تھا جب میں ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ اب گزشتہ سات سالوں سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ریاستوں میں رہتے ہیں، ہمارے درمیان قربت اور اعتماد کا رشتہ ابھی بھی برقرار ہے۔ جبھی تو اس نے کچھ سال قبل مجھے وہ ای میل لکھی جو کوئی اپنے با اعتماد دوست کو ہی لکھ سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ کے متعلق جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہوگا۔

اس نے لکھا۔ ”اب جبکہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کسی اور سے یہ بات پتہ چلے کہ میری بیٹی فرحین ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ٹرانس جینڈر ہے۔ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر ہے، بالخصوص فرحین کے لیے کیونکہ ابھی وہ طبی تجزیے، سرجیکل اور قانونی مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسے ایک لڑکی سے لڑکا بننے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ویسے ابھی وہ تعلیم کے مراحل میں بھی ہے۔ گو ہم خاندانی پرائیویسی پہ یقین رکھتے ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سچی اور شفاف زندگی گزاریں۔“

Read more

امریکہ میں درد کش ادویات کا استعمال اور موت کی وبا۔ کیوں اور کیسے؟

کچھ سالوں قبل میڈیا میں ایک سنسنی خیز تصویر بڑی وائرل ہوئی جس میں کار کی اگلی سیٹ پہ نیم مردہ والدین بیہوش حالت میں پڑے تھے اور ان کا چار سالہ بچہ خوفزدہ حالت میں پچھلی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ اس کے والدین ہیروئن اوور ڈوز (overdose) کا شکار ہوئے تھے۔ یہی نہیں اس وقت امریکہ جیسے خوشحال ملک میں قانونی اور غیر قانونی درد کش ادویات سے مرنے والوں کی کہانیوں کا دفتر سا کھل گیا۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق 2018 میں 128 روزانہ اموات محض ڈرگ اوور ڈوز کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔

Read more

آصف فرخی: ایک مانوس اجنبی

جب سے آصف کے ساری دنیا کو جُل دے کر دنیا سے گزر جانے کی خبر سنی ہے دل اسی طرح اداس ہے جیسے کوئی گھر کا فرد روٹھ کے چلا گیا ہو، ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتے توڑ کے۔ حالانکہ ان کی موت سے قبل باوجود کئی برس کی خط وکتابت کے وہ مجھے ذاتی طور پہ اتنے قریب محسوس نہیں ہوئے کہ میں ان سے بے تکلف دوستی کا رشتہ استوار کرتی۔ ان کی حیثیت میرے لیئے ہمیشہ

Read more

ایفرو امریکیوں کا دم کیوں گھٹتا ہے؟

یہ تین سال پہلے کی بات ہوگی میں کام سے واپس آ رہی تھی۔ دوسری جانب مقابل سڑک کے سے پولیس کی گاڑی آ رہی تھی۔ میں نے کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی تھی لیکن سنسان اور سفید نژاد آبادی کی اکثریت کے علاقے میں مجھے جانے کیوں لگا کہ یہ پولیس والا پلٹ کے ٹریفک ٹکٹ دینے کی غرض سے میری گاڑی روکے گا اور یونہی ہوا۔ اس نے پیچھے سے آکر بتیاں دکھائیں۔ جو گاڑی روکنے کا

Read more

افریقی غلاموں کی نجات دہندہ: ہیریٹ ٹب مین

ایک سیاہ فام لڑکی نے آزادی کا خواب دیکھا اور برسوں غلامی میں جکڑے رہنے کے بعد بھی اپنے اس خواب سے دستبردار نہ ہوئی اس نے 28 سال کی عمر میں آزاد ہونے کے بعد اپنے جیسے غلاموں کو آزادی دلانے کا عہد کیا اور اپنے مقصد کے لیے ڈٹ گئی۔ اس کی گرفتاری پر انیسویں صدی کے وسط میں 40 ہزار ڈالر کا انعام رکھا گیا۔ 93 برس کی عمر میں بھی اپنے مقصد سے دستبردار نہ ہونے

Read more

کلٹ گروپس کیوں اور کیسے بنتے ہیں؟

انسانی تاریخ کی یادداشت سے بھلا ایک دن میں ہونے والی نو سو سے زیادہ افراد کی اجتماعی خودکشی کا واقعہ کیسے محو ہو سکتا ہے کہ جب اٹھارہ نومبر 1978 کو اپنے مذہبی پیشوا جم جونز کے کہنے پہ اس کے ماننے والوں نے سائنائڈ ملا مشروب پی کر موت کو گلے لگا لیا۔ کیونکہ وہ ان کے مسیحا اور پیغمبر کا درجہ رکھتا تھا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے جم جونز کا تعلق ایک ایونجلسٹ گروپ سے تھا، جہاں اس نے چند لوگوں سے اپنے گروپ (جو بعد میں پیپلز ٹیمپل کہلایا) کو شروع کیا اور بتدریج اپنی کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پہ ایک قابل تعظیم رتبہ حاصل کر لیا۔

اس کا دعوی تھا کہ وہ ذہنوں کو پڑھتا اور اس پر یقین رکھنے والوں لوگوں کو شفایاب کرتا ہے۔ اس نے انسان دوستی اور رنگ و نسل کی بنیاد پہ انسانی تفریق کو رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گروپ میں اکثریت معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ایفرو امریکیوں کی تھی۔ جم جونز ایٹمی جنگ کے خوف کے پیش نظر یہ گروپ امریکہ سے ساؤتھ امریکہ چلا گیا جہاں جم نے انہیں ”گیانا“ کے جنگلات میں واقع جیمز ٹاؤن میں یوٹوپیا (تصوراتی مقام) کا وعدہ کیا تھا۔

Read more

جبر کے دور میں پھیلی وبا کی کہانی

وہ عجب نوعیت کا مرض تھا کہ جو شہر میں وبا کی صورت پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ مزے کی بات تو یہ تھی کہ اس کی علامات اور دوسرے امراض کی طرح نہ بخار تھا نہ کھانسی نہ چکر، وہ تو بس ایک کیفیت تھی جو ہر متاثر کنندہ کے ذہن پہ طاری ہوجاتی اور جب وہ کیفیت اپنے عروج پہ ہوتی تو بندہ جس کیف و اضطراب کے عالم سے گزرتا وہ شاید وہ ہی جانتا۔ اس کے

Read more

مائیں بننے والی حاملہ عورتوں پہ کرونا کی وبا کے اثرات

علینا میری بہت ہی عزیز بھانجی ہے۔ تازہ گلاب کی مانند خوبصورت اور شاداب۔ بائیس سال کی عمر میں شادی کے بعد وہ امریکہ سے کینیڈا اپنے سسرال چلی گئی، جہاں سے کلینکل سائیکالوجی میں ایم اے کے بعد آج کل اپنی زندگی کے اہم مگر پیچیدہ ترین تجربے سے گزر رہی ہے۔ اس کے وجود میں ایک ننھی کلی چٹک رہی ہے یعنی وہ ماں بننے والی ہے۔ خبر مسرت سے بھر پور سہی مگر کرونا وبا نے جہاں عام لوگوں کو ان دیکھے خوف سے آشنا کیا وہاں علینا جیسی پہلی مرتبہ ماں بننے والی لڑکیوں پہ مزید خوف اور پریشانی طاری ہے۔ میں نے اس سلسلے میں علینا سے اس کے نئے تجربہ اور کرونا وبا کے خدشات اور محسوسات سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ اس کے جوابات کی تخلیص کچھ یوں ہے۔

Read more

خواتین بہتر حکمران ثابت ہوئی ہیں یا بدتر؟

”عورتیں ناقص العقل ہیں، عقل کے بجائے جذبات سے کام لیتی ہیں۔ عورتوں سے گھریلو کام تو کروا لو مگر اعلیٰ سطح کا انتظام ان کے بس کی بات نہیں“ ۔ یہ اور اس قسم کے اور بھی بہت سے مفروضات ہیں جو مردوں کے ذہن کی ہی اختراع نہیں بلکہ خودعورتیں بھی اپنی صنف کے متعلق ایسے منفی مفروضات سن کر اس پر آمناوصدقنا ایمان لے آئی ہیں۔ یہ سادہ سی نفسیات کی بات ہے کہ آپ کو کوئی مستقل یقین دلاتا رہے کہ یہ کام تمہارے بس کا روگ نہیں تو بالآخر آپ اس پر ایمان لے آتے ہیں اوراس کام کی کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

Read more

کتاب کا نام: علم و آگہی کا سفر: قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ

مصنف: ڈاکٹر شیر شاہ سید مبصر: گوہر تاج مشی گن، ڈیٹرائٹ، امریکہ پچھلے دنوں جو کتاب زیرِ مطالعہ رہی وہ دلچسپ اور متحرکن قسم کی معلومات سے مزین ”علم و آگہی کا سفر“ (قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ) ہے۔ جس کے مصنف ڈاکٹر شیر شاہ سید ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی مصنف نے دنیا کی قدیم جامعات کی تاریخ کو اردو زبان میں مرتب کرنے کا بیڑا اٹھایا ہو۔ دقیق تحقیق اور انتھک مطالعہ کا حاصل اس کتاب

Read more

ویت نام نے سپر باور امریکہ کے مقابلہ میں کرونا وبا کی جنگ کیسے جیتی؟

ویسے تو میری کیا مجال کہ میں ایک عظیم سپر پاور امریکہ کا مقابلہ ویتنام جیسے معمولی ملک سے کروں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج یعنی اٹھائیس اپریل کی رپورٹ کے مطابق کم ترقی یافتہ اور کم وسائل والے ملک ویتنام میں کرونا وبا سے مرنے والوں کی تعداد صفر ہے۔ اس کے 270 متاثرین تھے جن میں سے 225 صحتمند ہو کے گھر جا چکے ہیں۔ اور اب ملک لاک ڈاؤن کی حالت سے بتدریج نکل رہا ہے۔

Read more

کرونا کی وبا ’سپر پاور‘ امریکہ کی ترقی بے نقاب کرتی ہے

مجھے یاد ہے کہ جب سوشل ورک میں ایم ایس پروگرام کی ایک کلاس میں پروفیسر نے کلاس کے اختتام پہ پوچھا کہ آخر اس کورس نے ہم طلبا کو کیا دیا تو میرا جواب تھا۔ ”مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری آنکھوں کی سرجری ہوئی ہے اور میں پٹی اترنے کے بعد ہر شے واضح طور پہ دیکھنے کے لائق ہوئی ہوں۔ محض سفید اور سیاہ نہیں بلکہ ہر شے کو اس کے اصل رنگ میں“۔ آج میں

Read more

گوہر تاج کا اسلوب: احفاظ الرحمٰن

گوہر تاج ہماری ایک جانی پہچانی لکھاری ہیں۔ پاکستان کے علاوہ امریکا اور کینیڈا میں بھی ان کی تحریریں بہت مقبول ہیں۔ ان کا موضوع ہمارے ”سازِ دل“ کے تار میں نہ صرف غیر معمولی ارتعاش کا سبب بنتا ہے، بلکہ یہ ہمارے احساس کی دنیا پر نقش ہو جاتا ہے، اس لیے کہ وہ جسمانی اور ذہنی غموں کی بھٹی میں سلگتے با حوصلہ لوگوں کی کہانیاں ہمیں بہت پر اثر انداز میں سناتی ہیں۔ وہ بڑی مستقل مزاجی

Read more

احفاظ الرحمن۔ زندگی کو اپنے قلم سے زندہ رکھنے والا جرات مند صحافی سوئے عدم چلا

میں کچھ دنوں سے بہت بے چین تھی۔ ہر کچھ دنوں بعد ایک بے قراری کے سے عالم میں مہناز رحمن کو پیغام بھیجتی۔ ”احفاظ بھائی کیسے ہیں“؟ اور مایوس کن سا جواب سن کر بے چینی بڑھ جاتی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ زندگی کو اپنی جرات مند شاعری سے زندہ رکھنے والا منفرد شاعر اور سورج کی سی توانائی رکھنے والا صحافی اپنی آخری آرام گاہ کی جانب رواں ہے۔ احفاظ الرحمن جو باوجود بظاہر سخت نظر آتے تھے

Read more

قرنطینہ کارنر سے ایک خط … بنام نادرہ مہرنواز

پیاری نادرہ! آپ نے میری بیماری کا سن کر جس پریشانی کا اظہار کیا اس پہ مجھے محبت کے معجزوں پہ یقین کچھ اور بڑھ گیا ہے۔ اور یقیناً یہ معجزہ ”ہم سب“ کی ویب سائٹ کی وجہ سے ممکن ہوا جس نے دنیا میں اردو بولنے والے کتنے ہی لوگوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ آج اس بیماری سے دو بدو ہوے تقریباً دو ہفتے ہورہے ہیں۔ گو ہرلمحہ کچھ نہ کچھ صحت مندی کی جانب ہی سرک رہا ہے۔

Read more

سوچیے کہ اگر دنیا میں صابن نہ ہوتا تو آج کیا ہوتا؟

جب سے کرونا کی وبا نے دنیا میں شورش مچا رکھی ہے، صابن سے کم ازکم بیس سیکنڈز تک ہاتھ دھونے کی ہدایت پہ دنیا کی اکثریت عمل پیرا ہے۔ آخر جان کی حفاظت کا معاملہ جو ٹھہرا۔ لیکن کرونا کی وبا کے حوالے سے صابن ہی نہیں سوپ اوپرا کی اہمیت بھی دو چند ہوگئی ہے۔ ذہنی دباؤ اور انگزائٹی سے نپٹنے کے لئے لوگ گھروں میں بیٹھ کرمختلف قسم کے نئے اور پرانے سوپ اوپرا دیکھ کر اپنا

Read more

مجھے اپنی ماں سے نفرت ہے

یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ جب میں جیل میں منشیات کے عادی افراد کی تھریپسٹ کی حیثیت سے ملازمت کر رہی تھی۔ ابھی تین بجنے یعنی نوکری کا وقت ختم ہونے میں پورا ایک گھنٹہ باقی تھا کہ جوزف آ گیا۔ میں پانچ فٹ قد کی مختصر سی عورت اپنی کرسی پہ بیٹھی ہوئی اور وہ چھ فٹ چار انچ کا لمبا چوڑا سفید نژاد یورپین مرد اپنے پورے قد سے میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ ”پلیز بیٹھ

Read more

وبا کے دنوں میں تجدید وفا

شمس الرحمن اپنی چھوٹی سی دکان کا تقریباً سارا حلال گوشت بیچنے کے بعد ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا تھا۔ ایک ایک کر کے علاقے کی تمام دکانوں کے شٹرز بند ہورہے تھے۔ تیس سال کے عرصے میں اس نے بھلا کب دن کے کسی بھی پہر میں اپنے شہر ”ہیمٹریمک“ کو ایسا سنسان اور اجاڑ دیکھا تھا جیسے وہ زندہ لوگوں کی بستی نہیں بلکہ لا شوں سے پٹا شکست خوردہ جنگ کا میدان ہو جہاں قبرستانکا سناٹا اور

Read more

دو آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستان کی بیٹی: شرمین عبید چنائے

26 فروری 2012 پاکستان کے لئے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس دن اکیڈمی ایوارڈ کی تاریخ میں ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں پہلی بار ایک پاکستانی عورت کانام بھر پور تالیوں کی گونج میں پکارا گیا۔ ”بہترین شارٹ دستاویزی فلم“ سیونگ فیس ”کے لیے شرمین عبید چنائے“۔ روایتی پاکستانی لباس پہنے ریڈ کارپٹ پر محوِ خرام فخر سے اپنا ایوارڈوصول کرتے ہوئے شرمین نے اپنے والدین، دوستوں اور ساتھی کام کرنے والوں کا شکریہ

Read more

حمیرہ بچل کی کہانی جس نے علم کی روشنی پھیلانے کا خواب دیکھا

کامیابی حاصل کرنے کے لیے خواب دیکھنا اور ان کی خوبصورتی پر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر آنکھوں میں سپنوں کا رتجگا نہ ہو تو روشن صبح کی نوید بھلا کیونکہ ممکن ہو؟ حمیرہ بچل ایسی ہی ایک سچی اور غیر معمولی لڑکی کا نام ہے کہ جس نے غربت کی گود میں آنکھ کھولی مگر اپنے نا مساعد حالات کے باوجود بڑی جراتمندی سے علم کی روشنی پھیلانے کا نہ صرف سپنا دیکھا بلکہ اپنی انتھک محنت، ثابت

Read more

مارچ جاری رہے گا!

کچھ ماہ قبل تک میں ڈرامہ نویس خلیل الرحمن قمر کو بالکل نہیں جانتی تھی۔ البتہ کچھ عرصہ قبل ان کے ڈرامے کے حوالے سے کافی شوروغوغا اٹھا کیونکہ بین السطور ذہین افراد ان کے ذہن کے فتور کو بھانپ رہے تھے۔ اعتراض یہ کہ ان کی جانب سے کچھ ایسے جملے ”بری عورتوں“ پر پھینکے گئے کہ طبیعت متلا گئی بلکہ سچ پوچھیں تو ان کی سوچ سے وابستہ ڈیپریشنوں نے ذہن سُن کر دیا۔ قلم جکڑ سا گیا

Read more

نسلی تفریق کے قوانین (جم کروز لاز): امریکی تاریخ کا سیاہ باب

کچھ میری عادت ہے بات کی گہرائی میں جانے کی۔ لہٰذا اکثرحال کے رویہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ماضی کی گلیوں میں چلی جاتی ہوں۔ جہاں بہت ہی کمسنی میں راگ الا پتی کچھ ایسی یادیں ہیں جو آج بھی بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ شاید یہ بازگشت آپ کی یادوں کا بھی حصہ ہو کہ جب کراچی میں کم عمر معصوم بچے بنا سوچے سمجھے با جماعت بظاہر مہمل لیکن درحقیقت زہریلے کلمات الاپ

Read more

ریکھا: جنسی استحصال، ناکام محبت، شوہر کی خود کشی اور اداکاری کی معراج میں گم پہیلی

آج میں ایک ایسی انسان کی کہانی گوش گزار کر رہی ہوں جس نے دکھوں سے نبرد آزمائی کے لیے مدافعتی عمل کے طور پہ اپنی زندگی کو حقیقت سے زیادہ فینٹیسی میں گزارا ہے۔ اور یہ جیون کہانی ہے بالی ووڈ کی کوئن، کئی ایوارڑز بشمول پدما شری ایوارڈ کی حامل، پرکشش اور گلیمرس اداکارہ ریکھا کی۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں۔ کسی نے کہا وہ حسین ساحرہ ہے، ہرنی جیسی چال تو مورنی کی

Read more

فیسٹیولا فاونڈیشن، بیمار عورتیں اورمسیحا ڈاکٹر شیرشاہ

آج بات شروع ہوگی اشرفی کی بے بسی کی کہانی سے۔ گو اس کے ماں باپ غریب تھے مگر بیٹی کا نام انہوں نے اشرفی رکھا تھا۔ جس کی کم عمری میں شادی ہوئی۔ جب ماں بننے کی گھڑی آئی تو وہ چار دنوں تک درد میں تڑپتی رہی کیونکہ بچے کا سر پھنس گیا تھا۔ اور معاملہ دائی کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ گھر والے اسے کلینک لے گئے۔ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ اس دن سے اشرفی کو

Read more

کیا ”می ٹو“ تحریک مردوں کے ہاتھوں عورتوں کے جنسی استحصال کے خلاف ہی ہو؟

یہ سن ہے 2006ء کا کہ جب پہلی بار نیویارک کے غریب علاقے کی رہنے والی، شہری حقوق کی علمبردار ترانہ برک نے سوشل میڈیا مائی اسپیس پہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف ”می ٹو“ (یعنی میں بھی) کی آواز بلند کی۔ وہ کم عمری میں بار بار جنسی استحصال کے تجربہ سے گزری تھی۔ اس کی تحریک کا مقصد اپنی خاموشی توڑ کے جنسی استحصال سے بچاؤ اور اس سے متعلق آگہی پیدا کرنا تھا۔ تاہم اکتوبر

Read more

ایک ملکہ کی سواری واپس جاتی ہے

”امی میری گاڑی کو کیا ہوگیا۔ یہ نہیں چل رہی“۔ میرا چار سالہ بیٹا اپنی خوبصورت آنکھوں میں آنسو بھر کے تازہ بہ تازہ امریکہ سے آئی گاڑی اپنی انتہائی نان ٹیکنیکل ماں کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ جیسے اس کی ماں کے پاس جادو کی چھڑی ہو۔ اسے تو نہیں لیکن مجھے پتہ ہے ہمارے گھر میں یہ چھڑی کس کے پاس ہے۔ میں اماں کی جانب گاڑی بڑھا دیتی ہوں۔ وہ جائےنماز لپیٹتے ہوئے کہتی ہیں ”رکھ

Read more

جینی کی کہانی

اپنا بھاری بھرکم بیگ سنبھالے جب میں ایجنسی میں داخل ہوئی تو ایک آواز میرا پیچھا کر رہی تھی۔ ”مسز امام کیا تمھارے کیس لوڈمیں مزید کسی کلاینٹ کی گنجائش ہوگی؟ “ میں نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی۔ ایک یوریپین نژادلڑکی، جٹ سیاہ لمبے بالوں کی عین کانوں کے اوپر کس کے بندھی، سینے پہ جھولتی دو چوٹیاں، چشمہ کے اندر سے جھانکتی زندگی سے بھر پور ذہین آنکھیں جن میں سچائی

Read more

کیا ٹینشن کا اثر شکمِ مادر میں پلنے والے بچوں پہ ہوتا ہے؟

پہلے زمانے میں تجربہ کار بڑی بوڑھیاں حاملہ عورتوں کو خوش رہنے، مثبت سوچنے اور اچھی غذا کا مشورہ دیتی تھیں لیکن ان کی باتوں کی صداقت کی گواہی کے لیے عرصہ تک سائنسی تجربات نہیں ہوئے تھے۔ پچھلے چالیس پچاس سالوں میں علمی میدان میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ اور ان میں ایک شعبہ نیورو سائنس کا بھی ہے جس کا ادراک ہرحاملہ عورت اور متعلقہ افراد کو ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ پڑھیں۔

مایا کی کہانی: جب مایا نے اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ پاکستان سے امریکہ نقل مکانی کی تو ایک ننھی روح اس کے بطن میں پروان چڑھ رہی تھی۔ اپنے وطن میں خود مختاری کی پراعتماد زندگی گزارنے والی مایا کے لیے امریکہ ایک قید خانے سے کم نہیں تھا۔ محبت سے بلانے اور ساتھ دینیکا وعدہ کر نے والے بھائی اور بھابی کا رویہ سوہانِ روح تھا۔ حاملیت کے دور میں یوں بھی جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات میں آنسؤں کا ایک ریلا تھا جو امڈ پڑتا تھا کہ جس پر بند باندھنا مایا کے اختیار سے باہر تھا۔

Read more

عزم و ہمت کا پیکر: مریم احمد

مجھے نہیں پتہ کہ میری صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟ کیونکہ جب میں پیدا ہوئی تو میرے جسم پر مکمل ہاتھوں کی بجائے صرف اس کے نشان تھے۔ سب نے میری ماں کو مشورے دیے کہ بچی کو اپنے جسم سے دور رکھو، اپنا دودھ نہ پلاؤ، افیون کھلا دو۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح میں کود ہی مر جاؤں گی۔ ان کی نظر میں ایک معذور بچی کا مر جانا ہی بہتر تھا۔ اسی پریشانی میں کسی

Read more

انیتا غلام علی

کراچی کے پرہجوم علاقے میں جہاں گاڑیوں کے ہارن، خوانچہ والوں کی پکار اور طوطے کی مدد سے قسمت کا حال بتانے والوں کے باعث کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی، بس اسٹاپ سے کچھ دور پہلے اسٹیل گرے رنگ کی گاڑی رکتی ہے۔ گاڑی چلانے والی خاتون کو پہچان کر آٹھ دس سال کا بچہ یوں بھاگ کر آتا ہے جیسے صرف اسی انتظار میں تھا۔ آنکھوں میں چمک، ہاتھ میں صفائی کا کپڑا لیے وہ جانفشانی سے گاڑی

Read more

لفظوں کے بازی گر اردو شاعر ڈاکٹر منیب الرحمٰن سے گفتگو

مجھے ڈیٹرائیٹ میں منعقد ہونے والی شعری نشستوں میں شرکت کا بارہا موقع ملا۔ جہاں اکثر دادِ تحسین اور واہ واہ کے شور و شین میں جب ایک شاعر کے نام کا بصد احترام اعلان کیا جاتا ہے تو ایک لمحہ کو ان کے استقبال میں خموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اور تب ایک اکہرے جسم کا ایک شخص پروقار انداز سے مائیک کی جانب محوِ خرام ہوتا ہے۔ اور اپنی خوبصورت غنائیت اور ڈرامائی تاثر سے بھرپور آواز میں

Read more

بچے، تتلی، پھول” کے آئینے میں شہر لیاری”

پچھلے دنوں مجھے ایک اہم اور متاثر کن کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب چھپی تو 1997 میں تھی مگر میرے ہاتھ حال ہی میں لگی۔ کتاب کا نام ہے "بچے، تتلی، پھول”۔ اور اس کے شاعر کا نام نور محمد دانش ہے کہ جو ادبی دنیا میں نون میم دانش کے نام سے مشہور ہیں۔ ایک سوشل ورکر ہونے کے ناتے مجھے اس کتاب کی نظموں کے تمام موضوعات نے متاثر کیا۔ لیکن ایک نظم لیاری نے اس

Read more

مسرتوں سے بھرپور بڑھاپے کے چودہ اصول

اکثر لوگ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد زندگی سے بیزاری، قنوطیت اور مایوسی کی مالا جپنے لگتے ہیں۔ جیسے خانگی اور ملازمتی ذمہ داریوں کی تکمیل کے ساتھ زندگی کی معنویت بھی اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ جاپان سے درآمد شدہ دو الفاظ اپنی گرہ سے باندھ لیں۔ 1۔ اکی گائی (Ikigai) یعنی زندگی میں مقصدیت 2۔ موئی (Moai) ایسے سماجی گروہ کا باہم میل جول جن کے شوق مشترکہ ہوں۔ ان دونوں الفاظ

Read more

میدانِ کربلا کا پہلا شہید، حضرت حر ؑبن یزید تمیمی

وہ عجب وقتِ بے اماں تھا، کربلا میں لمحہ لمحہ اترتی تیرگی، پیاسی بنجر زمین پہ محاصرہِ کاروانِ حسینی۔ خیموں سے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال معصوم بچوں کی العطش العطش کی صدائیں، ٹھاٹھیں مارتے، ایڑیاں رگڑتے بے بس فرات کا بہاؤ اور لیلائے شب پہ تنی بے کراں سوگواری کی چادر۔ ایسے میں آلِ رسولؐ کے خیموں سے دور ایک شخص کسی گہری سوچ میں غلطاں متفکر و بے چین ہے۔ یہ مضمحل شخص فوجِ کوفہ کا

Read more

سید محمد باقر: یاد یار مہرباں آید ہمے

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ ناصر کاظمی کے اس مصرع کے حوالے سے مجھے ایک ایسی شخصیت یاد آ رہی ہے جو میرے لئے بظاہر بالکل اجنبی تھی مگر جن کی انسان دوستی نے مجھے حیران کر دیا۔ 2011 کو برس تھا اور اگست کا مہینہ تھا۔ میں ایک شادی میں شرکت کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں تھی۔ میرے شوہر کا فون آیا کہ کوئی بزرگوار ہیں جو کینیڈا سے فون کررہے ہیں اور

Read more

چھ فٹ کے مرد میں چھپا ننھا ٹیڈی بئیر

ہفتہ گزر گیا جونسن کی موت کی خبر ملے۔ اس حساب سے مجھے اپنے غمگین جذبات کی چادر کو ایک جانب لپیٹ کر آگے سرک جانا چاہیے تھا۔ جس ادارے میں بطور تھریپسٹ کام کرتی ہوں، وہ منشیات کے عادی افراد کو تھرپی فراہم کرتا ہے۔ علاج کے بعد لوگ نشہ سے پاک ہو کر پھر دوبارہ نشہ کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کچھ جانسن کی طرح اوور ڈوز(Over Dose)  یعنی منشیات کی مقدار کی زیادتی کے

Read more

عامر خان ایک ”حقیقی ہیرو“

ہندوستان کی فلمی صنعت کا جادو بھی کیا غضب کا ٹھہرا ہے کہ جس نے سالہا سال سے اپنی رنگین، چکا چوند کرنیوالی جھلملاتی روشنیوں، متحرک اور دلفریب دنیا کے سحر میں کروڑوں عوام کو جکڑا ہوا ہے۔ پردہ سکرین پر غیر حقیقی دنیا بسائے، ناممکن کو ممکن بنانے والے خوبرو ہیرو اورہیروئین ملک کی غریب اور روزمرہ کے مسائل سے جھونجتی غریب عوام کو کچھ گھنٹوں کے لئے ہی سہی دکھ اور پریشانیوں سے آزاد کر دیتے ہیں، ایسا

Read more

بلند اقبال کا ناول ”ٹوٹی ہوئی دیوار”: نفسیاتی اور نظریاتی تجزیہ

(یہ میرے ایک تجزیاتی مضمون کا خلاصہ ہے جو دو سال قبل کینڈا میں مقیم ڈاکٹر بلند اقبال کی ناول‘‘ٹوٹی ہوئی دیوار’’کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔ اس دن ان کے والد حمایت علی شاعر کی سالگرہ کا جشن بھی منایا گیا جو ایک محبتی اولاد کا اپنے عظیم والد کے لیے عقیدت کا اظہار تھا۔ یہ ناول بلند اقبال کی انسان دوستی، امن پسندی اور دوراندیشی کا بولتا ثبوت اور ان کی والد کی سکھائی قدروں کا امین بھی

Read more

ذہن کا شیرازہ بکھرنا۔ شیزوفرینیا

ستر اور اسی کی دھائی میں پروین بابی کا شمار بالی وڈ کی مقبول ترین اداکاراوں میں تھا۔ شوخ و چنچل، گلیمر سے بھر پور، بے باک ہیروئن۔ باوجود شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ جانے کے، وہ بتدریج پردہ اسکرین سے غائب ہوتی چلی گئی۔ پچاس سے زیادہ فلموں میں کام کرنے اور ہزاروں پر ستاروں کے ہجوم میں گھرنے والی پروین ایک دن اپنے فلیٹ میں تنہا مردہ حالت میں پائی گئی۔

Read more

بچوں کا ادب اور مسعود احمد برکاتی کی سرپرستی

” بچے قوم کامستقبل ہوتے ہیں“ بظاہر مختصر سا یہ جملہ ہمیں ایک اہم ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ اگر ہم ملت کا مستقبل اچھا دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے نونہالوں کو بہترین تعلیم وتربیت دینا ہمارا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ ایسے ہی کہ جس طرح اچھے پھل دار مضبوط درخت کے لئے اعلی معیار کے بیج ہی نہیں زرخیز زمین اور جانفشانی سے کی گئی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ قوم کے بچے بھی ان بیجوں کی مانند ہیں جو ہم سے بہترین ذہنی، تخلیقی، اخلاقی اور سماجی نشو ونما جیسی اہم ذمہ داریوں کے متقاضی ہیں۔

Read more

مہدی حسن کی گائیکی ۔۔۔ باد نوبہار چلے

اردو غزل کی گائیکی کی تاریخ مہدی حسن کے بغیر رقم نہیں ہو سکتی۔ ان کا منفرد انداز گلشنِ غزل میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند تھا۔ ان کی نرم مدھر آواز اور پیچیدہ راگوں میں گائی غزلوں میں سُروں کا اتار چڑھاؤ اور لفظوں کی ادائیگی نے ان کو فن کی بلندیوں پر پہنچا کر ادارے کی سی حیثیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورمیں کہ جب استادبرکت علی خان، بڑے غلام علی، بیگم اختر جیسے گائیکوں

Read more

مستری مہدی حسن سے عظیم گلوکار مہدی حسن تک

مہدی حسن صاحب نے حالات سے شاکی ہونے کی بجائے اپنے زور بازو پر بھروسا کیا اور سخت محنت کر کے کثیر العیال گھرانے کی پرورش کی، لیکن اب ان کی محنت کے ثمر کا وقت آن پہنچا تھا۔ جس زمانے میں مہدی حسن صاحب سرگودھا کے منصوبہ سے فارغ ہوئے، وہ مالی طور پر خوشحال تھے۔ اسی زمانے میں انہیں کراچی سے ٹیلیگرام اور خط ساتھ ساتھ ملا جو موسیقار رفیق انور کی طرف سے تھا۔ جو بہت پڑھے

Read more

جب مہدی حسن موٹر مکینک بنے

موسیقار عظیم خان ٹال والے :۔ مہدی حسن خان صاحب نے اپنے مستری بننے کی تفصیل کچھ اس طرح سے بیان کی کہ ایک دفعہ ان کے ابا نے انہیں بتایا کہ ”ہمارے پاس جو رقم اور زیورات تھے، وہ ہم بیچ کر کھا چکے ہیں۔ اب صرف دس ہزار روپے رہ گئے ہیں۔ لہذا اب پرسوں سے لکڑیوں کے ٹال کی دکان کھولنی ہے۔ “ اس دن مہدی حسن صاحب نے اپنے باپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو

Read more

انگزائیٹی ڈِس آرڈرز کیا ہیں؟

ہم میں سے کون ہو گا جو روزمرہ کی زندگی میں خوف اور پریشانی کی کیفیت سے نہ گزرا ہو۔ مثلاً بچپن میں اماں سے دور اسکول میں داخل ہونے کی ہراسانی۔ امتحان سے قبل کی پریشانی، پھر نوکری ڈھونڈتے وقت انٹرویو دینے کا خوف، بڑے ہجوم کے سامنے تقریر کرنے کی گھبراہٹ اور کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت تذبذب اور گھبراہٹ۔دیکھا جائے تویہ وہ کیفیات ہیں کہ جن سے ہم نپٹتے ہی رہتے ہیں۔ یہ نارمل زندگی کا حصہ ہیں۔ درحقیقت تھوڑی سی پریشانی، تھوڑا سا خوف ہمیں پرخطر حالات سے نپٹنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلاً ہم تقریر کی کئی بار پریکٹس کرتے ہیں۔ انٹرویو کے لیے ممکنہ سوالات کے جوابات تیار کرتے ہیں اور امتحانوں کے لئے پہلے سے اس کی تیاری کا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ وقتی پریشانیاں یا چیلنجز ہمارے ذہن اور جسم پہ اثر انداز تو ہوتے ہیں مگر وقتی طور پہ، مستقل طاری نہیں رہتے۔

Read more

عظیم گلوکار مہدی حسن خان صاحب کی داستان ِ حیات

ابتدائی دور:۔ تقریباً سات دہائیوں سے بھی قبل کا ذکر ہے کہ راجھستان (انڈیا) کے نامور گویوں کے گھرانے کا چھ سالہ کم سن بچہ جو اپنے والد استاد عظیم خاں کا منہ چڑھا تھا بڑے زعم میں اپنے باپ سے مخاطب ہوا۔ اجی آپ کیا گاتے ہیں میں بھی گا سکتا ہوں۔ میں ایک ”خیال“ بنا کر لایا ہوں۔ (موسیقی کی ایک قسم) پوچھنے پہ اس بچہ نے ”پوربی زبان“ میں اپنا تین تال پہ بنایا ہوا خیال سنایا۔

تو جارے بگلا جا
آوت ہے بڈھا تیرا
اڑا۔ وٹ ہے بگلا

اس کا الاپا راگ سن کر کلاسیکی موسیقی کے استاد باپ نے بلاتاخیر اسی دن سے اولاد کو اپنی شاگردی میں لے کر باقاعدہ موسیقی کی تعلیم شروع کر دی۔

اپنے والد استاد عظیم خاں اور چچا اسماعیل خاں کی زیرِ تربیت ”قدرتی طور پر سروں کی بیش بہا دولت سے مالا مال“ یہ بچہ مُسلسل ریاض سے ایک دن اپنے کمال کو پہنچا اور موسیقی کی دنیا میں گائیکی (بالخصوص غزل کا) ”بے تاج شہنشاہ“ قرار پایا۔

Read more

کھانے کا زیاں اور عالمی بھوک

” اگر ان کے پاس روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟ “ یہ تاریخی جملہ فرانس کی ملکہ میری انتونیئت سے منسوب ہے جو کہ اس نے محل کے باہر بھوک سے بلبلاتے اور روٹی کا نعرہ لگاتے مجمع کو دیکھ کر حیرانی اور معصومیت سے ادا کیا۔ لگتا یہ ہے کہ جدید ٹیکنیک سے لیس یہ دنیا آج بھی ایسے ہی دوانتہائی مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے۔ بھوک اور فاقہ مستی سے بدحال سسک سسک کر

Read more

سابق گورنر پنجاب کا بیٹا اور تیزاب سے جھلسنے والی بیوی کی خودکشی

14 مئی 2000 تاریخ اور دوپہر ڈھائی بجے کا عمل۔ فاخرہ یونس نیپئیر روڈ، کراچی میں واقع اپنی ماں کے گھر بے خبر سو رہی تھی، تب اچانک ہی اس کا شوہر بلال کھر اونچی آواز میں ”فاخرہ۔ فاخرہ۔ اٹھو۔ “ کہتا ہوا داخل ہوتا ہے۔ پہلے وہ فاخرہ کے سر کے بالوں کوپیچھے سے پکڑ کر اس کا منہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے وہ زبردستی کچھ پلانا چاہ رہا ہو لیکن اس کے بعد وہ اسی تیزاب

Read more

وسوسہ، وہم اور توہماتی عمل

او سی ڈی (Obsessive Compulsive Disorder) ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے۔ آئیے حقیقی زندگی کی کچھ مختصر کہانیاں پڑھیں تاکہ اس مرض کو سمجھنے میں مدد ملے۔ اسماء کا چار سالہ بچہ اپنی ماں کے رخسار پہ گن کر چار دفعہ پیار کرتا ہے۔ اسے خوف ہے کہ اگر ایسا نہ ہواتو اس کی ماں بیمار ہو جائے گی۔ اسماء کی صفائی پسندی اور سلیقہ مندی گھر والوں کے لئے مصیبت بن گئی ہے۔ اس کے کپڑوں کے ہینگرز

Read more

عظیم شاعرہ مایا اینجلو کا بچپن، جنسی تشدد اور ٹراما سے رہائی

امریکہ کی مشہور شاعرہ، ادیبہ اور انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مایا اینجلو کا کہنا ہے۔
” ایک ان کہی داستان کو اپنے اندر رکھنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں۔ “

مجھے اس جملے کی سچائی اور طاقت کا اندازہ ان کی شہرہ آفاق کتاب ( میں جانتی ہوں پنجرہ میں قید چڑیا کیوں گاتی ہے۔ I Know Why the Caged Bird Sings) پڑھ کر ہوا۔ کئی سال قبل پڑھی اس کتاب کا اثر مجھ پر وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ آگہی اور تجربہ کا وہ سفر ہے جو میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے طے کیا۔ مایا اینجلو نے کل سات سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ جو کہ ان کی تین سے سترہ سال کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

Read more

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر : (Post Traumatic Stress Disorder)

انسانی تاریخ میں ایک دوسرے سے نفرتوں کے نتیجے میں بہیمانہ ظلم و ستم ہے تو جنگ و جدل کی وحشتیں بھی، قدرتی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب اور طوفان ہیں تو قحط سالی کے نتیجہ میں بھوک کی عفریت کا سامنا بھی، سرعت رفتاری سے سرپٹ دوڑتے وقت میں ٹیکنالوجی نے دنیا کو ”عالمی گاؤں“ کی صورت میں بہت قریب کر دیا ہے۔ مگر اس قربت کے باوجود محبت، امن آشتی کے بجائے نفرت کا بھیانک خونخوار اور درندہ صفت

Read more

جسم پر بنے ٹیٹوز کیا کہتے ہیں؟

میں امریکہ کی ریاست مشی گن کے قید خانے میں بطور تھراپسٹ کام کرتی ہوں اور منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتی ہوں۔ یہ وہ افراد ہیں جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے نتیجہ میں سزائیں کاٹ کر مزید چھ ماہ کے لئے تھیراپیٹک کمیونٹی میں علاج اور آزاد کمیونٹی میں بسنے کی تربیتی معیاد پوری کر رہے ہیں۔میں جیل کی اس فضا میں ہر روز سینکڑوں افراد کو گہرے نیلے لباس میں ملبوس دیکھتی ہوں۔ جن کی قمیضوں کی آستینوں پر نارنجی رنگ کی پٹیاں انہیں کچھ اور ممتاز کر دیتی ہیں۔ یہ مخصوص لباس جہاں انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے وہاں ایک اور مماثلت بھی ان کے درمیان مزید تعلق کا سبب بنتی ہے۔ اور وہ ہے تقریباً ہر فرد کے جسم پہ بنے ٹیٹوز (Tatoos) ۔

Read more

پاکستان میں ہر روز منشیات کے ہاتھوں سات سو افراد کی موت

مجھے وطنِ عزیز پاکستان کو خیر باد کہے خاصا عرصہ ہو رہا ہے اب تو کئی یادیں دھندلا سی گئی ہیں لیکن نہیں بھولتا تو وہ بد ہئیت منظر کہ جب میرے شہر کراچی کی چوڑی شاہراہوں کے کنارے فٹ پاتھوں پہ، پُلوں کے نیچے، سنسان علاقوں میں دنیا جہان سے بے خبر اپنے سروں کو کمبل سے ڈھانپے، گندے حلیوں میں ملبوس منشیات کے عادی افراد چرس کا دھواں چھوڑ رہے ہوتے اور یا پھر اپنے ہاتھوں کو ہیروئن

Read more

بچوں کی معالج خصوصی اور انسانی حقوق کی علمبردار: ڈاکٹر حبیبہ حسن

وہ 1978 / 79 میں جنرل ضیا الحق کی آمریت کا سیاہ دور تھا، کہ جب صحافیوں پہ کوڑے برسانے کی گھناؤنی روش کا آغاز ہوا۔ تاہم تمام تر زیادتیوں کے باوجود خواتین محاذ ِعمل کی جانب سے محنت کش خواتین کی جدوجہد کی بقا کے لئے کراچی سے رسالہ ”آدھی دنیا“ پوری جراتمندی سے ہر ماہ بڑے اہتمام سے شائع ہو رہا تھا۔ رسالہ کی ادارت مہناز رحمن (جو پاکستان میں حقوقِ انسانی کے حوالے سے بڑا نام ہیں

Read more

دلوں کا فاتح ۔ شیر شاہ سید

(ڈاکٹر شیر شاہ سید کی سالگرہ ( 26 مارچ) کے موقع پر لکھی ایک تحریر) شیر شاہ سے میری دوستی کی مسافت طویل ہے۔ جس کو برسوں میں شمار کیا جائے تو عدد لگ بھگ اتنا کہ جہاں بالعموم عورتیں اپنی عمر بتانے سے گریز کرنے لگتی ہیں۔ یعنی ساڑھے تین دھائی سے بھی کچھ اوپر۔ عمر بڑھ جائے تو ظاہری رنگ و روپ کچھ گہنا سا جاتا ہے لیکن پرخلوص دوستی اپنے جوبن پہ ہوتی ہے۔ اعتماد کا بیج

Read more

شکستہ تعبیر

سوانح عمری ادب کی وہ صنف ہے جس نے مجھے ہمیشہ ہی متحیر کیا۔ عظیم شخصیات کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں، آدرشوں کی تکمیل کے لئے ان کی حوصلہ مندی اور استقامت کو میں شوق اور استعجاب کے عالم میں ڈوب کر پڑھتی ہوں۔ بھلا ہیرے کی تراش خراش کا عمل کسے نہیں پسند۔ ایسا نہ ہو تو بھلا کیسے پتہ چلے کہ گوتم بدھ نے شہزادے کا لبادہ تج کے عام لوگوں کے دکھ سکھ سے ناطہ کیوں جوڑا، سچ کے شیدائی، مجسم سوال سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟انقلابی چی گویرا نے سرمایہ داری اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کی شمعیں کیوں فروزاں کیں؟ مارکس نے دنیا کے محنت کشوں کو یکجائی کا پیغام کیوں دیا؟ یہ تو محض چند مثالیں ہیں۔ میں ان عظیم شخصیات کی جن کی زندگیوں نے ثابت کیا کہ سچ اور حق پہ کھڑی بنیادوں کو ابدیت اور معنویت حاصل ہے۔ زندگی تو سب ہی گزار لیتے ہیں لیکن دوام تو ان کو حاصل ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

Read more

ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والیدنیا کی پہلی معذور لڑکی ارونیما سنہا

یہ واقعہ بارہ اپریل 2011 کا ہے جب چوبیس سالہ ارونیما سنہا (Arunima Sinha) جو قومی سطح پہ کھیلنے والی والی بال کی چیمپئین بھی تھی، اپنی ملازمت کے امتحان کے سلسلے میں لکھنو سے دلی جانے والی ایک ٹرین میں سوار ہوئی۔ لیکن اس کو علم نہیں تھا کہ اس سفر میں اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا امتحان درپیش ہو گا۔ ایک ایسا حادثہ جو اس کی تمام تر ہمتوں اور حوصلوں کو چیلنج کرے گا۔ ہوا یہ کہ رات کے وقت چار پانچ غنڈہ نما چوروں نے اس کے گلے میں پڑی سونے کی زنجیر چھیننے کی کوشش کی۔

Read more

آزادی صحافت سے عورتوں کے حقوق کی جدوجہد تک: مہناز رحمن سے ایک گفتگو

عورت فاؤنڈیشن کیا ہے؟ عورت فاونڈیشن ایک قومی غیر منافع بخش غیر سرکاری تنظیم ہے۔ 1986 میں قائم ہونے والی اس آرگنائزیشن کے بانیوں میں نمایاں نام شہلا ضیا (مرحومہ) اور نگار احمد کا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ملکی سطح پر ہر طبوے میں بالخصوص پسماندہ اور مظلوم خواتین میں آگہی پھیلانا ہے۔ فاؤنڈیشن کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے جب کہ پانچ دفاتر علاقائی اور صوبائی سطح پہ کراچی، پشاور، لاہور، کوئٹہ اور گلگت میں کام

Read more

نینسی نے رابرٹ کو کیوں قتل کیا؟

تیرہ مئی 2004 کی شام مجھے لونگ ایکڑ ایلیمنٹری اسکول فارمنگٹن ہلز (مشی گن) کی جانب سے فون پہ اطلاع دی جاتی ہے کہ اسکول کی چوتھی جماعت کی ٹیچر نینسی سیمین کے شوہر رابرٹ سیمین کا قتل ہو گیا ہے۔ پولیس کے اندازے کے مطابق یہ قتل دس مئی کو ہوا ہے۔ اور یہ کہ اس وقت نینسی پولیس کی حراست میں ہے۔ یہ اسکول ڈسٹرکٹ کا قاعدہ ہے کہ کوئی بھی اہم اطلاع وہاں کے ملازمین کو ضرور دی جاتی ہے۔ اس وقت میں لونگ ایکڑ ایلیمنٹری اسکول میں ان مہاجر گھرانے کے بچوں کی تعلیم و تدریس میں معاونت کے ذمہ دار عملہ کے طور پر کام کر رہی تھی، کہ جو امریکہ میں نووارد ہونے کے سبب انگریزی سے کم واقف ہیں۔

نینسی سے میرا روز ہی سامنا ہوتا تھا۔ دبلی پتلی، مناسب نقوش رکھنے والی سفید فام پانچ فٹ دو انچ کی عورت۔ ابھی پرسوں ہی کی تو بات تھی۔ جب میں اس کی کلاس کے ایک بچے کو لینے گئی تھی۔ نینسی اپنی کلاس کے بچوں کو سائنسی تجربہ سکھا رہی تھی۔ ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔ میں نے سوچا اگر اس نے قتل کیا ہوتا تو وہ کس طرح اسے اطمینان سے پڑھا رہی ہوتی۔ میرا خیال تھا کہ یہ محض الزام ہے۔ نینسی اس قتل کی مرتکب ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ بالکل ناقابل یقین بات ہے۔ تاہم جلد ہی نینسی کا نام رابرٹ کے قاتل کی حیثیت سے ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں میں گردش کر رہا تھا۔ کیونکہ نینسی نے اس قتل کے ارتکاب کا اقرار کر لیا تھا۔

Read more

نابینا افراد کے لئے بریل طریقہ تعلیم کا موجد: لوئی بریل

سورج کیوں نہیں نکلا؟ آتش دان میں آگ کیوں نہیں جل رہی؟ پانچ چھ سالہ ننھا لوئی اپنے گھر والوں سے اس قسم کے سوالات کرتا رہتا تھا جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ اس بچے کی دنیا اب بالکل اندھیری ہو گئی تھی۔ وہ مکمل نابینا تھا۔ لیکن کسے خبر تھی کہ اندھیری دنیا میں گم یہ بچہ بڑا ہو کر اپنے بریل طریقہ تعلیم سے پوری دنیا کے نابینا لوگوں کی زندگیوں کو علم

Read more

معذور افراد کی دیکھ بھال یا تیمارداری کے بارے میں۔۔۔

شادی کے دو سال بعد جب یاسمین کو حاملہ ہونے کی نوید ملی تو وہ اور اس کا شوہر عامر خوشیوں سے سرشار تھے۔ حمل کے زمانے میں اس کی صحت ٹھیک اور الٹرا ساؤنڈ نارمل تھے۔ مگر جب بچی کی پیدائش ہوئی تو اس کے خوشیوں سے بھرپور سپنے چھناکے سے ٹوٹ گئے۔ بچی بصارت سے محروم تھی وہ ایک موروثی بیماری کا شکار تھی۔ یاسمین پہلے تو گم سم سی ہو گئی۔ پھر جب یقین آیا تو پھوٹ

Read more

سفید برف، سرخ کوٹ اور میرا باپ

اس دن خاصی برف پڑی تھی۔ جیل کے آہنی مرکزی دروازہ سے وہ عمارت، کہ جہاں میں بطور تھراپسٹ کام کرتی ہوں، چلتے ہوئے میرے دھنستے پاﺅں برف کی دبیز مگر نرم سفید تہہ پر جوتوں کے نشانوں کی لمبی لکیر بناتے رہے۔ عمارت کی راہداری میں دیکھا تو میری نظر آئی۔ وہ یہاں جیل میں سوشل ورکر کا کام کرتی ہے۔ وہی شکست خوردہ، بوجھل قدموں کے ساتھ چلتی، چہرے پر طاری ازلی اُداسی سمیٹے، حلیے میں بھی معمول

Read more

سماجی تبدیلی کی خواہاں باکمال فنکارہ: ثانیہ سعید

اسٹیج، تھیٹر اور ٹی وی کی دنیا میں فنِ اداکاری کے افق پر کئی ستارے ابھرے، جھلملائے اور پھر شہابِ ثاقب کے مانند ٹوٹ کے گم ہوئے مگر جس ستارے کو ہم تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل جگمگاتا دیکھ رہے ہیں اس کی تابناکیوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس محنتی، باشعور، سماجی تبدیلی کی خواہاں، سچی اور باکمال فنکارہ کا نام ہے ثانیہ سعید۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ کراچی میں مختصر

Read more

ذہنی دباؤ انسانوں کو خاموشی سے قتل کرتا ہے

چین کے اڑتالیس سالہ ڈاکٹر لی جین جنہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، سرکاری اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اس عہدہ کی قیمت شدید ذہنی دباؤ ور اسٹریس تھا۔ جس کا تذکرہ انہوں نے کسی سے نہیں کیا اور نہ ہی اپنی صحت سے متعلق مسائل سے نپٹنے کے لئے کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی انہیں فرصت تھی۔ ایک دن وہ رات گئے اپنی رپورٹ تیار کرتے رہے جو اگلی صبح میٹنگ میں پیش

Read more

کچھ ذکر نیپالی شاعرہ، ناول نگار اور کالمسٹ جھمک کماری کا

یہ کہانی ایک ایسی بہادر لڑکی کی ہے جو نہ بول سکتی ہے۔ اور نہ چل سکتی ہے۔ مگر قدرت نے اس کو بہترین ذہن دیا ہے۔ اپنی سوچوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لیئے وہ قلم کو پاؤں کے انگوٹھے اور انگلی کے ساتھ پھنسا کر تیزی سے کاغذ پر لکھتی ہے۔ اس جرات مند اور ذہین ادیبہ کا نام ہے جھمک کماری۔جس نے نیپال کا سب سے بڑا ادبی ’’مدن پالیکر ایوارڈ (2011) حاصل کیا ہے۔ اس نے

Read more

کیا معذور لڑکیوں کو شادی کی ضرورت نہیں ہوتی؟

دیکھا گیا ہے کہ جب معذور افرادکی ضروریاتِ زندگی کے حوالے سے گفتگو ہو تو بات عموما تعلیم، ملازمت، استعمال کی اشیا اور عمارتوں میں داخل ہونے کی دشواری تک ہی اٹک کے رہ جاتی ہے۔ جذباتی اور جنسی آسودگی، زندگی کے ساتھی کا چناؤ اور شادی شدہ زندگی کی ضرورت کے بابت گفتگو تو کہیں دور ہی رہ جاتی ہے۔ بالخصوص اگر معاملہ معذور لڑکیوں کا ہو۔ پچھلے دنوں میرا فوزیہ لونی سے فیس بک کے توسط سے رابطہ

Read more

عزم و ہمت کا پیکر، مریم احمد

مجھے نہیں پتہ کہ میری صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے ؟کیونکہ جب میں پیدا ہوئی تو میرے جسم پر مکمل ہاتھوں کی بجائے صرف اس کے نشان تھے۔ سب نے میری ماں کو مشورے دیے کہ بچی کو اپنے جسم سے دور رکھو، اپنا دودھ نہ پلاؤ ، افیون کھلا دو۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح میں خود ہی مر جاؤں گی۔ ان کی نظر میں ایک معذور بچی کا مر جانا ہی بہتر تھا۔ اسی پریشانی میں

Read more

علی فرزان کی ماں مسکراتی ہے

(یہ تحریر حقیقی زندگی کے واقعات سے اخذ کی گئی ہے اور اس کے کرداروں کے بھی حقیقی نام استعمال کیے گئے ہیں۔ ) اصباح سے میری ملاقات پاکستان میں ایک دعوت میں ہوئی تھی۔ خوش مزاج، جاذبِ نظر اور چمکتی ہوئی ذہین آنکھوں والی اصباح نے مجھے بھی بتایا کہ وہ جلد ہی امریکہ میں پی ایچ ڈی کی غرض سے آنے والی ہے۔ اس کا موضوع تعلیمی نفسیات ہو گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے

Read more

معذوروں کی خاموش اور اندھیری دنیا میں روشنی کا مینارہ۔ ہیلن کیلر

مہینہ تھا مارچ کا اور سال 1887۔ ہیلن کیلر کو اپنے گھر میں عام دنوں سے زیادہ گہما گہمی محسوس ہو رہی تھی۔ باورچی خانہ سے مزے دار کھانے کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس کی ماں نے بھی اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ شاید کوئی آ رہا ہے، کوئی مہمان۔ اتنی دیر میں گھوڑے کے ٹاپوں اور ویگن کے رکنے کی آواز آئی۔ کون آ رہا ہے؟ ہیلن نے سوچا۔ اس کو پتہ نہیں تھا کہ آج آنے والی مہمان

Read more

سبزی فروشی سے پدما شری ایوارڈ تک ناممکن کو ممکن بنانے والی سبھاسنی مستری

مجھے وہ لوگ دل کے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں جو شعور کی کھلی آنکھوں کے ساتھ خواب بنتے ہیں۔ انسانیت کی بھلائی اور امن و آشتی کے جن کے آدرشوں میں وسعت اور زندگی میں مقصدیت ہوتی ہے۔

سبھاسنی مستری (Subhasini Mistry) کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ جنہوں نے نوجوانی میں سپنوں کی جوت جگائی اور بڑھاپے میں انہیں تعبیر ہوتے دیکھا۔ ان کا یہ خواب تھا غریبوں کے لیے مفت چیریٹی ہسپتال کی تعمیر کا۔ گو خواب اور تعبیر کے درمیان سینتالیس سال کا طویل عرصہ تھا مگر سبھاسنی کی ثابت قدمی، اولوالعزمی اور انسانیت کے درد نے ناممکن کو ممکن بنایا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018 میں پدماشری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جو بھارت کا چوتھا بڑا شہری ایوارڈ ہے۔

سبھاسنی مستری کی زندگی کا سفر بچپنے سے ہی بڑا کڑا تھا۔ وہ بنگال کے قحط کے زمانے میں پیدا ہوئیں جب ملک میں بھوک اور موت کا بسیرا تھا۔ ان کے ماں باپ کلکتہ سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پہ واقع گاؤں میں اپنے چودہ بچوں اور بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی ایک معمولی زمین کے ٹکڑے پر اگنے والی کھیتی غربت کو دور کرنے اور اتنے افراد کی بھوک مٹانے کے لیے کافی نہ تھی۔ سبھاسنی کی ماں چرچ آشرم، سرکاری اداروں اورکچھ زمینداروں کے گھروں سے چاول مانگ کر بچوں کا پیٹ بھرتی۔ اس حالت میں سات بچے مر گئے۔ غربت کی وجہ سے سبھاسی بھی بارہ سال میں اپنے سے بارہ سال بڑے مزدور ”چندرا۔ “ کو بیاہ دی گئی۔ جو دو سو روپے تک کما لیتا تھا۔ تئیس سال کی عمر میں سبھاسی کے چار بچے تھے جن کا وہ ذمہ داری سے خیال رکھتیں اور بمشکل گھر چلاتیں۔

Read more

پردیس میں معمر مہاجرین کے مسائل

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا (اسلم کولسری ) بچپن میں سنا کسی شاعر کا یہ شعر باوجود کم عمری کے میرے حافظہ میں محفوظ ہو گیا۔ شاید اس لیئے کہ عورت ہونے کے ناطے ماں بننا میرا اعزاز بھی ٹھہرا تھا۔ اولادوں سے ماؤں کی بے غرض ایثار وقربانی کی مثالیں عہد و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ہر دور میں راتوں کو نیندیں حرام کر کے اپنی گود

Read more

پردیس میں مردوں کے ہاتھوں عورتوں پر گھریلو تشدد

جب سعیدہ کو اس کے شوہر ریاض نے لاتیں گھونسے مارے اور پھر دھکے دے کر گھر سے نکالا تو سرمئی شام اترنے ہی کو تھی۔ ”خبردار جو دوبارہ اس گھر میں قدم رکھا۔ “ ریاض نے غصے سے ڈھارتے ہوئے دیارِ غیر کے اس واحد گھر کا دروازہ بند کر دیاجس سے وہ آشنا تھی۔ سعیدہ خاصی دیر تک باہر کھڑی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ آنسو بہاتی رہی۔ تکلیف خوف اور بے بسی سے اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ نہ وہ اس ملک سے آشنا تھی اور نہ ہی زبان سے واقف۔

پاکستان سے امریکہ آئے اسے ابھی اسے بمشکل سات ماہ ہی گزرے تھے۔ پنجاب کے ایک گاؤں سے آٹھویں پاس سعیدہ کا شوہر یونیورسٹی کے کیمپس میں بطور پی ایچ ڈی طالبعلم رہتا تھا۔ امریکہ اس کی خوابوں کی سرزمین تھی اور خود وہ سعیدہ کے خوابوں کا شہزادہ۔ اس کے بچپن کے ٹھیکرے کی مانگ اس کا چچا زاد۔ سعیدہ جو بمشکل سال بھر پہلے اس کی بیوی بنی تھی۔ آج اپنے گھر سے باہر بے بسی کے عالم میں کھڑی تھی۔ اسی پریشانی میں اس نے اپنی کوکھ میں پلنے والے بچے کی حرکت سے ایک امید سی بندھی کہ شاید دروازہ کھل جائے اور ریاض کہے ”مجھے معاف کر دو میں غصہ میں بھول گیا تھا کہ تمہاریے جسم میں پلنے والا بچہ میرا بھی تو ہے۔

Read more

بیگم اختر کی گائیکی میں درد اور تنہائی

ناک میں ہیرے کی چمکتی لونگ، لبوں پہ سنجیدہ مسکراہٹ، ساڑھی میں لپٹا باوقار جسم، غزل، ٹھمری اور دادرا کی تانیں الاپتی، سروں کے دریا میں غرق بھلا کون ملکہ غزل بیگم اختر کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔ جن کی گائیکی میں ایسا جادو تھا۔ کہ اس کا توڑ کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ انکے پرستار اس بات پہ متفق ہیں کہ بیگم اختر کی گائیکی کی انفرادیت ان کی پرسوز آواز میں پنہاں تھی۔ گہرے درد اور

Read more

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر اور جان ایلڈر رابینسن

( جان ایلڈر کی کتاب ’’ لک می ان دی آئی‘‘ نے اسے معذوری کو سمجھنے میں مدد دی ۔) ’’آپ وہیل چئیر پر ہوں تو لوگ آپ کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں گے ۔ با آسانی ( آپ کی معذوری کو) قبول کریں گے ، لیکن آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا لوگوں کے لیئے ہینڈی کیپ پارکنگ اسپاٹ( معذوروں کی پارکنگ کی جگہ ) نہیں کیونکہ یہ ایک نہ نظر آنے والی معذوری ہے ‘‘ یہ جملے

Read more

قانون توہین مذہب اور اقلیتی خواتین

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہے کہ جہاں باوجود اکیسویں صدی میں سانس لینے کے آج بھی نمناک آنکھوں کے ساتھ لڑکیاں بالیاں یہ بول دھراتی ہیں۔ اب جو کہو ہو داتا ایسا نہ کیجیو اگلے جنم موہے بیٹا نہ کیجیو اس اداس خواہش کی وجہ کوئی انہونی نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دنیا کے ترقی پذیر معاشروں کی طرح پاکستان کے جاگیردارانہ نظام کی چکی میں پسنے والی عورتوں کی حیثیت بھیڑ بکریوں کے

Read more

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد پسندی

وہ سال تھا 1984 کا۔ سندھ مدرسہ الاسلام (ایس ایم سائنس) کالج کراچی کے عین مقابل کا گنجان علاقہ۔ وہیں جہاں مشہور و معروف روڈ کے کشادہ مضبوط سینے پر ہر لمحہ سینکڑوں گاڑیاں گزرتی تھیں۔ یہ اسی شہرِ کراچی کا ذکر ہے جس کی آغوش پاکستان کے ہر خطے سے آنے والے مختلف النسل، قوم،مذہب اور زبان بولنے والوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ وہیں ایک ذہنی توازن سے عاری بوڑھا راہگیر ان لڑکیوں کو فحش گالیاں دیتا

Read more

پرویز ہود بھائی کا انٹرویو

چند برس قبل کی بات ہے 11 اور 13 مئی 1998 کو گوتم بدھ کی زمین پوکھرن (ہندوستان) میں چھ جوہری دھماکے ہوئے۔ پھر 27 اور 29 مئی چاغی بلوچستان میں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وہ ممالک ہیں کہ جہاں کے کڑوروں عوام بھوک، غربت اور جہالت کے آسیب سے نبرد آزما ہیں۔ لیکن ان کا دفاعی بجٹ اربوں ڈالرز ہے۔ اربوں ڈالرز کے ایٹمی دھماکوں

Read more

بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم

چالیس سالہ شاہد نے جو پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر اور کراچی کے ایک متمول گھرانے کا فرد ہے، بتایا ”میری زندگی خصوصاً نوجوانی کا بیشتر حصہ یاسیت کی کیفیت میں گزرا۔ ہر صبح کالج جانا میرے لئے محال ہوتا، زیادہ تر ناغہ ہوجاتا۔ میرے ملنے والے کہتے تم بہت ”موڈی“ ہو، کبھی مزاج آسمان پر چڑھا رہتا ہے اور کبھی نارمل۔ میں تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور باوجود اپنی بدمزاجی کے اماں ابا کا لاڈلا۔ انجینئرنگ

Read more

مشہور رقاصہ شیما کرمانی سے گفتگو

کراچی جہاں عرصے سے بدامنی نے اپنا ڈیرہ ڈالا ہوا ہے وہیں پہ امن کی پیامبر ایک ایسی فنکارہ بھی رہائش پذیر ہے جو پچھلی چار دھائیوں سے بڑی جراتمندی اور استقامت کے ساتھ انصاف، انسانی حقوق اور سچائی کے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس کے ہتھیار ڈرامہ، رقص، شاعری، تھیٹر اور موسیقی ہیں۔ جو دل کے تاروں کو چھوتے، دل و دماغ روشن کرتے ہیں۔ اور جو سماجی تبدیلی کے غماز اور امن و آشتی سے مہکتی صبح

Read more

آنسو بہانا کیا شرمساری کی بات ہے؟

پچھلے دنوں میرے پاس ایک ایسے صاحب کی جانب سے خط آیا جو اپنی حساس طبیعت اور آنسو بہائے جانے کی عادت کے ہاتھوں پریشان بلکہ پشیمان تھے اور مشورہ چاہتے تھے، لکھتے ہیں: ”میں اصل زندگی ہو یا فلمی منظر کی جذباتی صورتحال، جلد ہی رو پڑتا ہوں۔ میری یہ عادت محفلوں میں تمسخر کا باعث بنتی ہے۔ کیا آپ مجھے اس کیفیت پر قابو پانے کا طریقہ بتاسکتی ہیں؟ ‘‘ میرے استفسار پر انہوں نے مزید یہ بھی

Read more

’’سورج پہ کمند‘‘ ڈالنے والے آشفتہ سروں کی داستان

اس وقت میرے ہاتھ میں 592 صفحات پر مبنی ضخیم کتاب ’’سورج پہ کمند‘‘ ہے جس کو برطانیہ میں رہنے والے ڈاکٹر حسن جاوید اور ماہر تعلیم محسن ذوالفقار نقوی نے تالیف کیا۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے لاشعوری طور پر میں اپنے بچپن میں پہنچ گئی ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے اپنے مختصر سے مکان کے احاطے میں وہ چھپر نما کمرہ آرہا ہے کہ جسے میرے انقلابی نوجوان بھائی نے چٹائی، ٹہنیوں اور گھانس پھونس سے بنایا تھا۔ اس

Read more

قریبی رشتہ داروں میں شادیاں اور موروثی بیماریاں، معذوری اور موت کی اہم وجہ

شبانہ اور شاہد حسن نے یونیورسٹی تعلیم کے چار سال ساتھ گزارے۔ ادب، فلسفہ، شاعری و سیاست جیسے موضوعات میں دلچسپی اور طبیعت میں مماثلت کے سبب وہ دوستی کے اس مقام پہ تھے کہ جہاں اکثر گفتگو الفاظ کی محتاج نہیں رہتی۔ لیکن ان دونوں کے بیچ ایک دیوار ضرور حائل تھی۔ مذہب اور ثقافت کی۔ شبانہ مسلکاً سُنی اور بہار کی تھی۔ اور شاہد ہزارہ سے تعلق رکھنے والا شیعہ نوجوان۔ دونوں کے ہی گھرانے خاندان میں رشتہ

Read more