محبت کے سروں میں گندھی لوریاں اور ان کے سماجی اثرات
اب تو وقت یاد نہیں شاید رات آٹھ یا نو بجے کا عمل رہا ہو گا۔ بہن کا گھر کہ جہاں میں اپنی آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ دو دن کے لیے رہنے آئی تھی۔ اور اس کو سلانے کی کوشش میں مصروف۔ ملگجے اندھیرے میں پھولوں اور دوسرے درختوں سے لدے گھر کے سامنے والا حصہ، اور میرے دونوں بازوؤں کے گھیرے میں، نیند سے بے چین، بے سکون آٹھ ماہ کی بیٹی اور میری لوری۔ گو میں ایسی سریلی نہیں مگر مامتا کا تو اپنا ہی سر ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ اس دن میرا انتخاب ایسی لوری تھا کہ جو میں اسے بہت زیادہ نہیں سناتی تھی۔ یہی وجہ ہوگی کہ بیٹی پہ لوری اثر نہیں کر رہی تھی۔ اس کی نیند سے بے کل آنکھیں، خوابوں کی وادی میں جانے سے گریزاں اور بے چین تھیں۔ تب اچانک مجھے خیال آیا دوسری لوری کا۔ جو اکثر میرا انتخاب رہی تھی اور جس کا آغاز اس طرح ہے۔
Read more














