ملالہ یوسف زئی کی امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے اپیل


\"\" ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین پر پابندی عائد کرنے سے ان کا ’دل ٹوٹ گیا ہے‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں کیوں کہ یہ بے گھر افراد دنیا کا ’سب سے زیادہ بے کس طبقہ‘ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ امریکا میں مہاجرین پر لگائی جانے والی پابندی پر دکھی ہیں اور چاہتی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

جمعے کے دن ایک نشریاتی انٹرویو میں ملالہ نے کہا، ’’آج میرا دل ٹوٹ گیا ہے کیوں کہ صدر ٹرمپ نے تشدد اور جنگوں سے فرار ہونے والے بچوں اور والدین کے لیے اپنے ملک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔‘‘

انیس سالہ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا، ’’دنیا میں پھیلی بے یقینی اور بے امنی کے اس دور میں صدر ٹرمپ سے کہوں گی کہ وہ دنیا کے بے کس بچوں اور والدین کو نظر انداز نہ کریں۔‘‘

ملالہ نے مزید کہا کہ امریکا نے ماضی میں ہمشیہ مہاجرین اور تارکین وطن کو خوش آمدید کہا، جنہوں نے امریکا کی ترقی میں اہم کردار بھی ادا کیا۔ تاہم اب معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اپنے قابلِ فخر ماضی سے منہ موڑ رہا ہے۔

پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی ملالہ یوسف زئی کو اکتوبر دو ہزار بارہ میں طالبان نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اب بھی وہ اس مقصد کی خاطر اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی کوششوں کے اعتراف میں انہیں سنہ 2014 میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔