اُردو افسانے کا ایک تابندہ نام… ہاجرہ مسرور


\"\" پاکستان کے وجود میںآنے سے کچھ عرصہ قبل دو بہنیں اردو افسانے کے منظر پر نمودار ہوئیں۔ ان بہنوں نے انگریزی ادب کی برونٹے سسٹرز (شارلٹ اور ایملی) کی طرح ادبی دنیا میں زبردست ارتعاش پیدا کر دیا۔ یہ دونوں بہنیں برقعے اوڑھ کر انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں شرکت کرتیں جو بمبئی میں سید سجاد ظہیر کی رہائش گاہ پر منعقد کیے جاتے تھے۔ یہ برقع پوش بہنیں تھیں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور۔
ہاجرہ مسرور نے 17 جنوری 1929ء میں لکھنؤ میں ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان سرکاری ملازم تھے اور ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ والدہ بھی اُس عہد کے خواتین کے مشہور رسالہ ’’عصمت‘‘ کی مضمون نگار تھیں۔
والد سرکاری ملازمت کے سلسلے میں اُترپردیش (یوپی) کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں تعینات رہے۔ اہل خانہ کو ہر شہر میں اپنے ساتھ رکھتے۔ چنانچہ ہاجرہ مسرور اپنی بڑی بہن خدیجہ مستور کے ہمراہ مختلف سکولوں میں زیر تعلیم رہیں۔ ہاجرہ مسرور ابھی آٹھ برس کی تھیں کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کی اچانک رحلت کے سبب تعلیمی سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ مگر گھریلو علمی ، ادبی ، تعلیمی ماحول کے سبب علمی آبیاری میں کمی نہ آئی۔
ان مشکل حالات میں نہ صرف قریبی عزیز و اقارب نے بھی منہ پھیر لیا بلکہ ان کی خاندانی جائیداد پر بھی قبضہ کر لیا۔ چنانچہ ہاجرہ مسرور کی والدہ اپنی چھ بیٹیوں اور ایک بیٹے کو لے کر اپنے والد کے پاس لکھأو چلی آئیں۔ وہ بڑی باہمت، صابر، خوددار اور دور اندیش خاتون
\"\"تھیں۔ انھوں نے نہایت جانفشانی اور ہمت و استقلال کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کی۔
گھریلو علمی ماحول میں ہاجرہ مسرور اور بڑی بہن خدیجہ مستور کو ادب سے فطری لگاؤ پیدا ہو گیا۔ ابتدا میں شاعری کی طرف توجہ دی مگر جلد ہی افسانہ نگاری کی جانب آگئیں۔ خدیجہ مستور نے تو ناول نگاری بھی کی۔ ’’آنگن‘‘ ان کا اہم اور بڑا ناول ہے جس پر انھیں انعام بھی ملا۔ البتہ ان کے بھائی خالد احمد نے شاعری میں نام کمایا۔
ہاجرہ مسرور (اور خدیجہ مستور) نے کم عمری ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ بقول مسعود رضا خاکی’’اُن کی سب سے پہلی تخلیق ’’لاوارث لاش‘ ‘ تھی، جو 1941ء میں بچوں کے ایک رسالہ میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر صرف تیرہ یا چودہ برس کی تھی۔ اس کہانی پر جو حوصلہ افزائی ہوئی اس نے انھیں پورے انہماک سے افسانہ نگاری کی جانب مائل کر دیا‘‘۔۔۔۔۔۔سولہ سال کی عمر میں ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔
ایک ہی سال بعد اُن کے افسانوں کی مقبولیت سے متاثر ہو کر بمبئی کے ایک ناشر نے انھیں یہ پیش کش کی کہ اگر وہ مہینے میں چار افسانے اس کے ہفت روزہ اخبار کے لیے، ایک افسانہ ماہنامہ کے لیے لکھا کریں تو انھیں پندرہ روپے ماہوار پیش کیے جائیں گے۔
قیام پاکستان کے بعد اہل خاندان کے ہمراہ لاہور آ گئیں ۔۔۔۔۔۔ نامور شاعر اور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی وہ منہ بولی بہن تھیں۔ چنانچہ انھوں نے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ’’نقوش‘‘لاہور کی ادارت سنبھالی اور ’’نقوش‘‘ کے پہلے دس شمارے مرتب کیے۔ گویا ’’نقوش‘‘ کی بنیاد قاسمی صاحب اور ہاجرہ مسرور نے رکھی۔ نقوش کی ادارت سے الگ ہونے کے بعد احمد ندیم قاسمی نے الطاف پرواز کے پرچے ’’سحر‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ اس کی مجلسِ ادارت میں فیض ، ممتاز حسین اور حمید اختر کے علاوہ ہاجرہ مسرور بھی شامل تھیں۔
دونوں بہنیں (خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور) لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ہفت روزہ اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتی تھیں۔ حلقۂ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بھی انھوں نے شرکت کی۔
ہاجرہ مسرور کی شادی ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر احمد علی خان سے ہوئی۔ وہ ایک شریف النفس انسان تھے۔ دونوں نے بڑی خوشگوار زندگی گزاری۔ احمد علی خان کے انتقال اور بڑی بہن خدیجہ مستور کی وفات کے بعد ہاجرہ مسرور کی زندگی بے کیف سی ہو گئی تھی۔ یہ صدمات ان کے لیے جانکاہ تھے۔ بہت عرصہ سے انھوں نے قلم سے ناطہ توڑ رکھا تھا اور ادبی تقریبات سے الگ ہو گئی تھیں۔ 2005ء میں انھیں ’’فروغ اردو ادب ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔ ہائے اللہ، چھپے چوری، اندھیرے اجالے، تیسری منزل، چاند کے دوسری طرف، وہ لوگ اور \"\"چرکے ان کے افسانوی مجموعوں کے نام ہیں۔ ’’سب افسانے میرے‘‘ کے عنوان سے مرتبہ کتاب میں ان کے تمام افسانے یکجا کر دیے گئے ہیں۔ ہاجرہ نے ایک فلم کا اسکرپٹ بھی لکھا اور ریڈیو کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ٹیلی ویژن کے لیے بھی ایک ڈراما تحریر کیا۔
اردو افسانہ کی دنیا میں ہاجرہ مسرور کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ’’اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ‘‘ میں ڈاکٹر انوار احمد نے ہاجرہ مسرور کے فن کا تجزیہ جس مضمون میں کیا ہے اسے ’’ہاجرہ مسرور، تاریخِ افسانہ کا ایک بڑا حوالہ‘‘ کا عنوان دیا ہے۔
ڈاکٹر انوار احمد لکھتے ہیں ’’ہاجرہ کے ابتدائی افسانوں میں جذباتیت ، کڑواہٹ اور جھنجھلاہٹ کا غلہ ہے۔ تاہم صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھی افسانہ نگار کی اٹھان ہے‘‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں ’’قیام پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ ہاجرہ کے فن میں ٹھہراؤ پیدا ہوا۔ عام طور پر انھوں نے توازن اور تحمل سے کہانیاں لکھیں‘‘۔
امجد اسلام امجد ان کے بارے میں لکھتے ہیں ’’ہاجرہ مسرور سے کچھ ہی پہلے اردو ادب میں عصمت چغتائی ، قرۃ العین حیدر اور خدیجہ مستور کا ظہور ہوا اور ان سے کچھ ہی عرصہ بعد بانو قدسیہ، جیلانی بانو، خالدہ حسین اور واجدہ تبسم وغیرہ نے لکھنا شروع کیا لیکن ہاجرہ مسرور کی تحریریں ایک ایسی انفرادیت ، گہرائی، معنویت اور دلچسپی کی حامل ہیں کہ وہ اس کہکشاں میں بھی سب سے الگ اور منور دکھائی دیتی ہیں‘‘۔
ہاجرہ مسرور کی تخلیقات میں درد کی ایک لہر محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے ماحول سے مواد اور موضوع منتخب کرتی ہیں اور اپنے کرداروں کے میلانات و رجحانات کی خوبیوں اور خامیوں کی عکاسی بڑی ہنرمندی سے کرتی ہیں۔ گھریلو عورتوں اور گھریلو مسائل کے بارے میں ان کا مشاہدہ وسیع اور گہرا ہے۔ چنانچہ وہ خواتین کے نفسیاتی اور جذباتی مسائل کا تجزیہ بڑی مشاقی سے کرتی ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے ان مسائل کی ترجمانی اور عکاسی پر انھیں بھرپور گرفت حاصل ہے۔
ان کے افسانوں کے موضوع اگرچہ عام زندگی سے حاصل کردہ ہیں لیکن فن میں کہیں بھی عمومیت نہیں ہے۔ حیاتِ انسانی کے تاریک گوشوں اور معمولی اور چھوٹے چھوٹے حقائق کو فنی سلیقے سے اہم اور جاذب نظر بنا دیتی ہیں۔ اسلوب میں درد مندی کا جذبہ ان کی تحریر کو اثر پذیری بخشتا ہے۔ چنانچہ غیر اہم اور معمولی موضوعات بھی اہم اور موثر بن جاتے ہیں۔ ان کے بعض افسانوں میں واضح مقصدیت بھی نظر آتی ہے۔ ان کا سبب یہ ہے کہ وہ ادب میں افادیت کی قائل تھیں۔\"\"
ڈاکٹر مرزا حامد بیگ لکھتے ہیں ’’تکنیکی اعتبار سے ان چاروں افسانہ نگاروں (رحمان حدتب، ہاجرہ مسرور، واجدہ تبسم اور خدیجہ مستور) کا ابتدائیہ عصمت چغتائی کی طرح جزئیات نگاری کے سبب خاموشی کے ساتھ رفتہ رفتہ پھیلتا ہے اور آخر میں منٹو کے افسانوں کی طرح یکلخت سکٹرکر یا نئی تربیتی ہیئت اختیار کر کے چونکا دیتاہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہاجرہ اور خدیجہ کے افسانوں کی مقصدیت احتجاج سے بغاوت تک آ جاتی ہے‘‘۔
ڈاکٹر انوار احمد لکھتے ہیں ’’بہرحال ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں عورت کی مظلومیت کا اس طور ذکر ہوتا ہے کہ بے اختیار افسانہ نگار کی صنف کا احساس نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مردانہ سماج میں عورت کے بارے میں ابھی تک بہت سی زنجیریں زنگ آلود نہیں ہوئیں لیکن آج سماجی اور جذباتی تعلقات پیچ در پیچ اور تہہ در تہہ ادراک پر منکشف ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے پیشِ نظر عورت کی مظلومیت کا ہی تھیسس پیش کیے جانا تعصب سے خالی نہیں‘‘۔
ہاجرہ مسرور کے فکروفن نے بہت کم عرصے میں درجہ بدرجہ ارتقائی منازل طے کی ہیں۔ ابتدائی افسانوں میں چونکہ زندگی کا تجربہ کم ہے ۔ اس لیے نسبتاً ہلکا پھلکا انداز ہے لیکن ان کہانیوں میں عورت کی بے نوائی اور بے بسی نمایاں ہے۔
جب شعور اور تجربے میں پختگی اور گہرائی آئی تو اس کی جھلک ان کے افسانوں میں نظر آنے لگی۔ آپ عصمت چغتائی سے متاثر نظر آتی ہیں مگر اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتی ہیں۔ عصمت کی طرح نوجوان لڑکیوں کے جنسی مسائل کے اظہار میں بے باکی سے کام نہیں لیتیں بلکہ اشاروں کنایوں سے ترجمانی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر صادق لکھتے ہیں ’’ان کے افسانوں میں متوسط اور ادنیٰ طبقوں کے مسلمانوں کی جنسی اور معاشرتی زندگی کو زبان ملی ہے۔ ہاجرہ کے افسانوں میں گہرائی اور وسعت ہے۔ انسانی زندگی میں جنس کی اہمیت اس کی پیچیدگیاں، الجھنیں اور ا س کے نازک رشتوں کو وہ خوب سمجھتی ہیں۔ اسی لیے ان کے افسانوں میں جنس کبھی سطحی انداز اختیار نہیں کرتی‘‘۔
اس سلسلے میں پطرس بخاری رقمطراز ہیں ’’ہاجرہ کے کرداروں کا جنسی شعور جسمانی مظاہر سے بہت آگے نکل جاتا ہے اور ہاجرہ کے احساس میں کئی نزاکتیں اور پیچیدگیاں ہیں جن کی وجہ سے ان کی جنسی افسانے اوروں سے زیادہ دقیق اور عمیق معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے جنسی تعلقات میں تنوع اوروں سے زیادہ اور تعلقات کی رنگتیں بھی زیادہ لطیف اور نگاہ فریب ہیں‘‘۔
اسی سلسلے میں ڈاکٹر نگہت ریحانہ خان لکھتی ہیں ’’ہاجرہ مسرور کے ابتدائی دور کے افسانوں پر عصمت کی گہری چھاپ ہے۔ عصمت کی تقلید میں انھوں نے اپنے افسانوں میں قاری کو جنس کی بدنام گلیوں کی سیر بھی کرائی ہے۔ یہاں رومانس کی لہریں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ عصمت کے فکروفن کے زیر اثر ان کے اندازِ بیان میں تیزی، تندی، شوخی اور طنز بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’ہائے اللہ‘ کے بیشتر افسانے جنسی موضوعات پر لکھے گئے ہیں (یاد رہے کہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’ہائے اللہ‘ نہیں بلکہ ’چرکے‘ ہے جو 1944ء میں شائع ہوا۔ ’ہائے اللہ‘ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے جو 1946ء میں شائع ہوا۔ ا۔ع۔د)۔۔۔ لیکن ان افسانوں میں تحلیل نفسی نہیں ملتی بلکہ یہ جنسی میلان صرف ہیجانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ البتہ بعد میں لکھے گئے جنسی افسانے دقیق اور عمیق ہیں‘‘۔
ہاجرہ مسرور کے افسانے زندگی، فن اور شخصیت کے معتدل اور متوازن امتزاج کے عکاس ہیں۔ ان کی کہانیوں میں حیاتِ انسانی کی معمولی سی تبدیلی کی بھی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ وہ فرد کی ذہنی اور جذباتی کیفیتوں سے بھی غافل نہیں ہیں۔ وہ پورے اخلاص کے ساتھ زندگی سے رشتہ جوڑتی ہیں۔ ہاجرہ انسانی فکرو عمل کے ان پہلوؤں کا انتخاب کرتی ہیں جن پر دوسروں کی نظر نہیں پڑتی۔\"\"
ڈاکٹر مسعود رضا خاکی کہتے ہیں’’مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو ہاجرہ مسرور نے ہمارے ماحول کی دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھی ہیں۔ انھوں نے موضوع کی جزئیات اور فنی تربیت کو یکساں اہمیت دی ہے اور اس اعتبار سے ان کے اکثر افسانے افسانوی فن کے بڑے اچھے نمونے بن گئے ہیں۔ ان کے افسانوں میں نفسیاتی ژرف بینی بھی ہے اور معاشرتی شعور کی گہرائی بھی۔ ان کے فکروفن پر یہ حیثیت مجموعی ترقی پسند عناصر کا غلبہ ہے لیکن ان میں کہیں پروپیگنڈے کا رنگ پیدا نہیں ہوا‘‘۔
انھیں نچلے طبقے اور متوسط طبقے کی محرومیوں اور ناآسودگیوں کی خوبصورت تصویریں بنانے پر بڑی قدرت حاصل ہے کیونکہ انھوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ اسی لیے حقیقت نگاری کا رجحان غالب دکھائی دیتا ہے۔
ان کے افسانوں کے پلاٹ کَسے ہوئے ہوتے ہیں اور سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ ۔ فن پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔ زبان و بیان پر انھیں مکمل عبور حاصل ہے۔ وہ ثقیل اور بوجھل الفاظ کے استعمال کی بجائے سادگی اور روانی کی قائل ہیں۔ ڈاکٹر ش۔اختر نے ان کے اسلوب کو ’خواب سے بیداری‘ کا اسلوب کہا ہے۔
ہاجرہ مسرور اردو افسانے کا ایک بڑا نام ہے۔ جسے کوئی بھی نقاد نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ہاجرہ نے اردو افسانے کو اعتبار اور وقار عطا کیا۔ انھوں نے متوسط اور نچلے طبقے کی زندگیوں کے دکھوں، غموں اور مسئلوں کو اُجاگر کیا۔ معصوم اور الہڑ لڑکیوں کے سینے میں جنم لینے والے خاموش جذبات کو زبان عطا کی۔ فن کی تحریر میں مشاہدے کی گہرائی ، شعور کی پختگی اور تجربے کی وسعت شامل تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر اسلم عزیز درانی کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر اسلم عزیز درانی کی دیگر تحریریں