بے راہ روی یا آزادی فکر کا عروج

ہمارے ہاں پرانے دوست ملتے ہیں تو جب تک روز ابر و شب ماہ تاب میں اٹھائے سبو اور کسی مہ جبین سے جانے انجانے میں ٹکرائی نظر کا ذکر نہ ہو لگتا ہے حال احوال ہوا ہی نہیں۔ مگر پردیس بالخصوص یورپ اور امریکہ میں جب کسی لنگوٹیے سے ملاقات ہوتی ہے تو ہاتھ کی جنبش تو دور کی بات ساغر و مینا کی طرف نظر التفات سے بھی اجتناب کا شکرانے اور تفاخر کے ساتھ ذکر موضوع سخن

Read more

جشن امروز کا غلغلہ اور فکر فردا کی تنبیہ

تخت ہندوستان کے آخری تاجدار ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازی کی رسم تاج پوشی 1837ء میں قلعہ دہلی میں ادا کی گئی تو حسب روایت شاہ کا سایہ تا قیامت سلامت رہنے کی دعا دی گئی۔ خدام، مصاحب، امراء، خواص، عوام، شعراء، بھانڈ، میراثی، سائل، مساکین سب ہی لال قلعہ کے اندر باہر موجود تھے۔ غربا میں لنگر تقسیم ہوا اور امراء میں خلعتین اور خطابات۔ جشن امروز میں فکر فردا کس کو تھی۔ عالم پناہ اور ظل

Read more

تھانے جہاں جرم اور مجرم دونوں بکتے ہیں

دنیا کے کئی ممالک مسلح ا فواج کے بغیر تو ہیں مگر کوئی ملک ایسا نہیں جو پولیس کے بغیر ہو۔ ہماری پولیس کی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ برطانوی راج کے دور میں متشکل ہوا جس کا بنیا دی مقصد ریاستی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔ بندوبستی علاقے جہاں اینگلو سیکسن قانون کا نفاذ تھا لوگوں کی جان کی محافظ پولیس اور مال کا ذمہ دار محکمہ مال کو بنا دیا گیا تھا۔ موجودہ پاکستان میں پنجاب سابقہ برطانوی راج کے بندوبستی علاقے کا حصہ رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کا محکمہ مال اور پولیس دوسرے صوبوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے قانون کے تحت تمام اختیارات کا منبع م قبائلی سردار بذریعہ مجسٹریٹ قرار دیے گئے تھے اور نیم قبائلی علاقوں میں جاگیردار وں اور تمنداروں کو مضبوط کردیا گیا تھا۔

Read more

میرے والد کا ریڈیو اور بدلتا زمانہ

ریڈیو ایک ایجاد ہی نہیں بلکہ بیسویں صدی میں رونما ہونے والے ابلاغی انقلاب کا نام ہے جب ریڈیائی لہروں نے جغرافیائی سرحدوں کو پاٹ کر ہر کان تک رسائی حاصل کی جو اس سے پہلے ممکن نہ تھی۔ یہ ریڈیو ہی تھا جس نے دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی انقلابات کے پیغامات ایک سے دوسرے کونے تک پہنچائے۔ شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کا پیغام روس کے پسے ہوئے طبقات تک پہنچانے اور عظیم جنگوں کی بے پناہ تباہ کاریوں سے دنیا کو با خبر بھی ریڈیائی مواصلاتی نظام کی بدولت ہی ممکن ہوسکا تھا۔

Read more

کشمیر پر ہماری بات کیوں نہیں سنی جاتی؟

کشمیر کو بزور شمشیربذریعہ جہاد حاصل کرنے کی حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوئی اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ 1947 ء میں قبائلیوں کے ذریعے سری نگر پر قبضے کی کوشش کے بعد 1965 ء کا اپریشن جبرالٹر اور 1999 ء میں کارگل پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی سے کیا حاصل ہوسکا اس پر مزید تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ما سوائے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے کہ

Read more

گلگت بلتستان جہاں قلم پابند اور بندوق آزاد ہے

ویسے تو ہم جیسے تلاش معاش میں غریب الوطن ہونے والے گھر سے دور ہی رہتے ہیں مگر سالانہ چھٹیوں پر پہاڑوں کی یاترا زندگی کے معمول کا حصہ رہی ہے۔ چھٹیوں کے دوران سال بھر میں ہوئی دائمی جدائیوں کی تعزیتوں، دنیا میں نئے آنے والوں کی مبارکبادوں اور عزیز و اقارب سے میل ملاقاتوں کے بعد جو وقت بچتا ہے اسے کسی پہاڑ دیوتا کی آغوش میں گزارنے کی کوشش ہوتی ہے۔ کوہ پامیر میں واقع قرمبر کی

Read more

یہ غلطی ہے تو فاش ہے اگر مذاق ہے تو سنگین ہے

ہمارے ہاں مذاق سر سے گزر جائے تو طوفان اور طوفان سر سے گزر جائے تو مذاق کا چلن تو عام ہے لیکن مذاق مذاق میں پیٹ پھاڑنے کی ریت بالکل ہی نئی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شکایت کرے تو کبھی مذاق غلطی اور کبھی غلطی مذاق بن جاتے ہیں مگر اس کا خمیازہ تو کسی نہ کسی کو بھگتنا ہی ہوتا ہے۔

Read more

سیاست کا گھن چکر

جمہوری جماعتی سیاست میں لوگ اپنے تمام دلدر سے نجات کسی خاص جماعت کے برسر اقتدار آنے میں دیکھتے ہیں اور اس جماعت کی ناکامی کے بعد دوسری جماعت سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک سے دوسری جماعت اور ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور یہ ساراعمل سیاست کا ایک گھن چکرسا بن جاتا ہے۔ امید اور نا امیدی کا یہ سلسلہ برطانیہ جیسے قدیم جماعتی پارلیمانی سیاست میں صدیوں سے جاری ہے اور بعض ہماری جیسی جمہوریتوں میں اقتدار کی بساط کے کھلاڑی اپنی بے صبری اور عدم برداشت کی وجہ سے کھیل کو بگاڑ بھی دیتے ہیں۔

Read more

مجھے خوف کس بات کا ہے؟

میں ایک عام نامعلوم شہری ہوں جس کا کوئی ایسا کاروبار نہیں جو اس کی شناخت ہو جیسا کہ منڈی والا، دانہ والا یا پھر کوئی ایسا برانڈ جو اس کے خاندان کے ساتھ منسوب ہو۔ نہ میں کوئی تاجر ہوں اور نہ کوئی زمیندار۔ مجھ پر بھی مہنگائی اور ٹیکس کے بڑھنے اور گھٹنے کا اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا سب لوگوں پر تو پھر میں پریشان کیوں ہوں ؟ میں کوئی سیاست دان بھی نہیں جو اقتدار

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کا انداز سیاست اور مزاحمت

تحریک بحالی جمہوریت کی طویل جدوجہد کے بعد جب 1988ءمیں انتخابات منعقد ہوئے اورنئی حکومتیں بنیں تو بلوچستان میں حکومت سازی کے سوال پر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت اور نواب اکبر خان بگٹی کی قیادت میں بننے والے بلوچستان نیشنل الائنس کے درمیان ٹھن گئی۔ پیپلز پارٹی کی پسپائی کے بعد بگٹی صاحب نے جو حکومت تشکیل دی اس میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ بڑے حصہ دار کے طور پر سامنے آیا۔

Read more

کوئے ملامت میں آرزوئے آبرو کیسی

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرار دادِ استحقاق پر یہ فیصلہ صادر ہوا کہ اسمبلی کے فلور پر وزیر اعظم کو ’سلیکٹیڈ وزیراعظم‘ نہ کہا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اچھی بات ہی نہیں بلکہ بہت اچھی پارلیمانی روایت بھی ہوگی اگر اپنے منتخب نمائندوں کی کم از کم ان ایوانوں میں توہین نہ کی جائے جہاں وہ منتخب ہوکر آتے ہیں پھر وہاں سے اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتے ہیں۔ منتخب ہونا اور پھراکثریت کا اعتماد حاصل کر کرنا کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ وہ کر ہی نہیں سکتے جو ایک گھنٹہ بغیر بجلی کے اور ایک دن بغیر روٹی کے نہیں گزار سکتے۔ مگر اسی ایوان میں بیٹھے لوگ جب ان منتخب لوگوں کو طعنے دیتے ہیں اور ان کی بے عزتی کرتے ہیں تو یہ صرف ایک شخص کی توہین نہیں بلکہ اس ایوان اور اس جمہوری نظام کی توہین بھی ہے جہاں لوگوں کے منتخب نمائندے جمہور کی ننمائندگی کرتے ہیں۔

Read more

غلام جیلانی برق کا انتباہ اور آج کا پاکستان

اپنی زندگی میں ہی راز مسرت پانے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق ایک شخص نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔ چالیس کے لگ بھگ کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ عربی زبان کے مستند استاد بھی تھے۔ ان کو نہ صرف قران و حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ زبور، تورات اور انجیل کی بھی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ ان کو مغربی فلسفے کے علاوہ گوتم بدھ کی تعلیمات پر بھی مکمل دسترس حاصل تھا۔ اس وقت

Read more

سیاسی گرفتاریاں: ہوا کسی کی نہیں

سنہ 1988ء میں ضیالحق کی ناگہانی موت کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں چلائے گئے جھرلو کی باز گشت آج بھی نہ صرف گونجتی ہے بلکہ سپریم کورٹ میں چلے اصغر خان کیس کی شکل میں ایک بد نما داغ کی طرح ہمیشہ کے لئے باعث عبرت و ندامت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ ہم کبھی تاریخ سے شرمسار ہوئے اور نہ ہم نے غلطیوں سے سیکھنے کی زحمت گوارا کی کیونکہ ہم بزعم خویش ایک عظیم

Read more

ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا (کیسے) بنا دیتا ہے

مچھر نے نمرود کو بمع اس کی فوج صرف اساطیر میں ہی تباہ نہیں کیا بلکہ انسانی تاریخ میں مچھروں نے جس قدر تباہی سے دوچار کیا ایسا کو ئی اور جاندار انسانوں کے ساتھ نہ کرسکا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو تمام تر دانائی اور حکمت کے باوجود انسان بے بسی کے ساتھ آج تک اس زرہ برابر مخلوق کے سامنے تالی ہی بجا تا رہا ہے۔ شاید اس لئے نانا پاٹیکر کا فلمی مکالمہ ضرب المثل بن گیاکہ ”ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے“ ۔

دن کو گرمی ستاتی ہے تو رات کو مچھر بے سکون کر دیتے ہیں۔ دن بھر غائب رہنے کے بعد شام کو گھر کے اندر ایسے گھس جاتے ہیں جیسے لڑکے بالے دن بھر کی آواراہ گردی کے بعد، مجال ہے ان کو کوئی روک پائے۔ دروازے کھڑکیاں بند، اسپرے مار کر جب تمام تدابیر کر ڈالی تو رات کے کسی پہر چادر سے باہر نکلے جسم کے حصے پر ایسا انجکشن لگ جاتا ہے کہ نیند تو گئی ایک طرف باقی رات زخم سہلاتے، کھجاتے، مچھر کو کوستے اور اپنی بے بسی پر ماتم کرتے انکھوں میں کٹ جاتی ہے۔

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کا ایک اور گناہ جو قابل قبول نہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر لگے دو الزامات یا یوں کہیے ان سے منسوب دو شکایات سے تو آپ سب ہی واقف ہیں ۔ ایک شکایت یہ ہے کہ انھوں نے کوئٹہ کے وکلاء پر خود کش حملے کی تحقیقاتی رپورٹ لکھتے ہوئے سرخ لکیر کو عبور کیا ہے اور دوسرا الزام ان پر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں پس چلمن پردہ نشینوں کو طشت ازبام کرکے حد فاصل کا خیال نہ رکھنے کا ہے ۔ مگر میں

Read more

مرغ کی بانگ، نقارہ کی نوبت، جنتر منتر سے موبائل ایپ تک سب چلتا ہے

جب آپ دلی شہر میں کتابوں میں پڑھے تاریخ کے گوشوں کو تلاش کرکے مطمئن نہ ہوں اورکچھ اور تلاش کرنے کے متمنی ہوں تو ایک اور نام سننے کو آتا ہے جو میری طرح آپ نے بھی کبھی پہلے نہ سنا ہو۔ ٹیکسی والا کہتا ہے ًجنتر منتر دیکھئے صاحب۔ یہاں بہت گورے لوگ دیکھنے آتے ہیں ً۔ جنتر منتر کا نام سنتے ہی پہلا خیال تو کسی جادو نگری کا آتا ہے جہاں نظروں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے چیزیں چھومنتر سے غائب ہو جاتی ہوں۔ مگر دراصل یہ ریاست جے پور کے مہاراجہ جے سنگھ دوم کی 1724 ء میں شہنشاہ ارنگزیب کے زمانے میں بنائی ہوئی پانچ رصد گاہوں میں سے ایک ہے جو زمانے کے دھول میں دبنے سے بچ گئی ہے۔

Read more

عبدالحمید خان بھارت کا ایجنٹ ہے یا پاکستان کا؟

یہ اگست 1997 ء کا واقعہ ہے گلگت شہر میں گلگت بلتستان میں آئینی و قانونی حقوق کی عدم فراہمی پر مقامی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر احتجاج کیا اور بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر نعرے لگائے۔ مظاہرین پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور ان میں سے کئی ایک کو گرفتار کیا گیا جن میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چئیرمین نواز خان ناجی، مرکزی راہنما عبدالحمید خان، انجنئیر شجاعت علی، قراقرم نیشنل فرنٹ کے راہنما انجنئیر جمعہ گل، محمد جاوید سمیت کئی ایک راہنما اور کارکن شامل تھے۔

گرفتار شدگان کو گلگت شہر کے نزدیک شروٹ پولیس چوکی میں منتقل کرکے تفتیش شروع کی گئی۔ 14 دن کی تفتیش 21 دنوں تک بڑھا دی گئی اور عبدالحمید خان کو اس وقت کے ایک مشہور اور حکام بالا کے روایتی چہتے پولیس آ فیسر نے اس حد تک تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کے گردے متاثر ہوئے۔

Read more

ماہ صیام میں سعودی خیرات۔ ہم خرما و ہم ثواب

ماہ رمضان کے آغاز پر امدادی خورد و نوش کی اشیا کے پیکٹوں کواپنے سامنے عقیدت سے رکھے باد شاہ عرب کو دعائیں دیتی گلگت بلتستان کے خواتین کی تصاویر یہاں کے مکینوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ان علاقوں کو جاننے والوں کے لئے بھی تعجب کا باعث بنیں۔ وہ علاقہ جہاں شہریوں نے رضاکارانہ طور پلاسٹک کی تھیلیوں سے پاک کرکے حال ہی میں نہ صرف پورے ملک کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں بھی پہلا ایسا علاقہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

Read more

سائنس اور روحانیات کو معاف کر دیا جائے

انڈین سائنس کانگریس ایسوسی ایشن ایک صدی قبل وجود میں آئی تھی تب سے اب تک اس کے ممبران کی تعداد تیس ہزار سائنسدانوں سے بڑھ گئی ہے۔ اپنے وجود میں آنے کے بعد سے کانگریس اپنا سالانہ اجلاس کا بلا تعطل انعقاد کرتی آئی ہے اور اس سال جنوری میں منعقد ہوئے 106 ویں اجلاس میں بھی دنیا بھر سے سائنسدانوں نے شرکت کی۔ اس سال کے اجلاس میں بچوں کے لئے بھی ایک سیشن کا انتظام کیا گیا

Read more

عورتوں کے لئے توہین آمیز رویے میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟

ایک سیاست دان کا دوسرے سیاست دان کو گالی دینا، الزام لگانا یا دشنام دینا اتنا ہی غلط ہوسکتا ہے جتنا ایک مہذب معاشرے کے دیگر افراد کا ایسا کرنا۔ مگر کسی جمہوری ملک کے وزیر اعظم کا کسی طنز کو دنیا کی آدھی آبادی کی جنس سے منسوب کرنا جن کا ووٹ اس کو اقتدار تک پہنچانے میں بھی شامل ہو شاید نئی بدعت ہے جو ٹرمپ، مودی کے بعد اب عمران خان سے شروع ہوئی ہے۔

بات عمران خان کے بار بار زبان پھسل جانے کی ہو تو اس کو انفرادی نفسیاتی مسئلہ یا یا پرسنالٹی ڈس آرڈر سمجھ کر بھلا دیا جا سکتا ہے مگر دفاع میں ایک دم سے جو سماجی رابطے کی فوج سامنے آتی ہے تواس سے معلوم ہو تا ہے کہ اب یہ ایک اجتاعی قومی نفسیاتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی ان پڑھ، جاہل کہلانے والے نا خواندہ لوگ بھی نہیں ہوتے بلکہ پڑھے لکھے، اردو اور انگریزی زبان میں مہارت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بادی النظر میں دنیا دیکھی بھالی بھی ہوتی ہے۔

Read more

سلسلہ ایک اسد عمر تک ہی موقوف نہیں

اسد عمر ہمارے حلقے سے منتخب نمائندہ بھی ہیں اس لئے اس کی وزارت کے جانے کا ہمیں زیادہ دکھ ہونا چاہیے مگر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صاحب صرف انتخابات کے موقع پر ایک آدھ بار جلوہ دکھانے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ووٹ کون دے گا اور کیوں دے گا۔ حلقے کے لوگ بھی ان سے کوئی امید نہیں رکھتے کیونکہ کوئی بھی براہ راست ان سے شناسائی نہیں رکھتا اور جو ان کے شناسا ہیں وہ وہ بھی شاکی ہیں پر چپ رہنے پر مجبورہیں کیونکہ ان کو بھی چپ چاپ ووٹ دینے کے احکامات کہیں اور سے آتے ہیں جہاں شکایت کرتے ہوئے ان کے بھی پر جلتے ہیں۔

اسد عمر کے بڑی توپ ہونے کی خبر یں پچھلی حکومت کے دوران ہی گرم ہوئی جب وہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کی حکومت کو اسمبلی میں اپنی شستہ اردو اور صاف انگریزی زبان کے ساتھ نشانے پر رکھتے تھے۔ بغل میں فائلیں دبائے جب اسمبلی کے فلور پر آتے تھے تو بغیر داڈھی اور گھنی مونچھوں کے کلین شیو اسد عمر ہمارے روایتی سیاستدانوں کے برعکس ایک لائق فائق شائستہ اور مخلص صاحب بصیرت معلوم ہوتے تھے جن کی موٹے عدسوں والی نظر کی عینکوں کے پیچھے سے عقابی نگائیں پس پردہ حقائق کا بھی ادراک رکھتی ہیں۔

Read more

اندھیر نگری کا پھندا اسد عمر کی گردن میں۔۔۔

اسد عمر ہمارے حلقے سے منتخب نمائندہ بھی ہیں، اس لئے ان  کی وزارت کے جانے کا ہمیں زیادہ دکھ ہونا چاہیئے، مگر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صاحب صرف انتخابات کے موقع پر ایک آدھ بارجلوہ دکھانے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ووٹ کون دے گا اور کیوں دے گا۔ حلقے کے لوگ بھی ان سے کوئی امید نہیں رکھتے کیونکہ کوئی بھی براہ راست ان سے شناسائی نہیں رکھتا

Read more

تحفظ نہیں دے سکتے تو غم ہی بانٹ لو

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے اپنے شہریوں کو گلے لگاتے تصویریں انگریزی کے اس محاورے کو سو فیصد درست ثابت کرتی ہیں کہ اظہار کے لئے ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر ہوتی ہے۔ ان تصویروں میں کالی شال اوڑھے اس باوقار خاتون کے چہرے پرمتانت اور آنکھوں سے چھلکتی سچائی کو دیکھنے والی ہر آنکھ نے محسوس کیا۔ اپنی راہنما کو شہریوں کی ہمدردی اور محبت کے سمندر میں غوطہ زن دیکھ کر نیوزی لینڈ کے شہریوں نے بھی جب بڑھ چڑھ کر دوگنی اور چوگنی محبت کا اظہار کیا تو ایسا لگا کہ نیوزی لینڈ ایک ملک نہیں بلکہ محبت اور خلوص کا ایک نخلستان ہے جہاں نفرت کی خزاں کا گزرکبھی ہوا ہی نہیں ہے۔

Read more

ہم الف لیلیٰ کی کہانی سننا چاہتے ہیں

الف لیلیٰ یا ہزار داستان ایک کہانی ہے جس میں ایک حسینہ ہر رات ایک نئی داستان سنا کر اپنی جان ایک ظالم بادشاہ کے عتاب سے ایک ہزار راتوں تک بچائے رکھتی ہے۔ نہ الف لیلیٰ کی اپنی کہانی کی صداقت کی کوئی سند ہے اور نہ اس میں سنائی جانے والی کہانیاں مصدقہ ہیں مگر صدیوں تک ہر ملک میں یہ کہانی اور اس میں سنائی جانے ولی داستانیں مختلف انداز میں سننے والوں کا دل بہلاتی رہی

Read more

آٹھ مارچ کا مارچ۔ اب کارواں رکنے والا نہیں

آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن سالانہ آکر گزر بھی جاتا اور پتہ بھی نہیں چلتا تھا مگر اس بار ایسا طوفان برپا کر گیا ہے کہ لگتا ہے ہر شے تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر طرف ایک شور برپا ہے کہ خواتین نے ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کچھ تو قرب قیامت کی نشانی سمجھ کر اپنی عاقبت کی فکر میں پڑ گئے اور کچھ نے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی ٹھانی ہے۔قبائلی اور جاگیر دارانہ سماج میں عورت کی حیثیت زرخرید غلاموں جیسی یا اس سے تھوڑی بہتر ہوتی تھی جہاں نہ صرف بازار میں کنیزیں اور غلام بیچے اور خریدے جاتے تھے بلکہ عام عورتیں بھی رشتے ناطے کے نام پر استحصال کا شکار ہوتی رہتی تھیں۔ صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ دنیا میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میں ایک تو جمہوریت ہے اور دوسری تبدیلی انسانوں کے برابری کو بطور بنیادی حق تسلیم کرنا ہے۔ غلاموں، مزدوروں کی طرح عورتوں کی برابری کے سماجی حقوق کی جدوجہد کا آغاز بھی ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ہی ہوا اور

Read more

جنگ کوئی کھیل نہیں

ہمیں ٹیلی ویژن پر ہی حافظ سعید صاحب کو دیکھنے کا شرف حاصل ہے جو ضلع شیخوپورہ کے علاقے مرید کے میں اپنے گھوڑوں پر سواری کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ دشمن کے خلاف جنگ کے لیے ہمیشہ اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے۔ کچھ ایسا ہی پچھلے عشروں میں پوٹھوہار سے محترم اکرم اعوان صاحب بھی کرتے اور کہتے دکھائی دیے تھے۔ ان کے تیار کردہ گھوڑوں اور تلواروں کا کیا بنا اس کے بعد ہمیں بھی نہیں معلوم۔ ہمارے قومی سیاسی منظر نامے میں ایسے کردار عموماً منظر عام پر آتے رہتے ہیں جو شکسپئیر کے کسی ڈرامے کے کرداروں کی طرح وقت کے ساتھ بدل بھی جاتے ہیں۔ مگر ان کرداروں کے تخلیق کار اور ہدایت کار تسلسل کے ساتھ اپنی فخریہ پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Read more

دیدار حسین کا قاتل کون؟

سال نو کے آغاز پر ہی ملک کے شمال میں واقع ضلع غذر کی تحصیل اشکومن میں ایک چودہ سالہ طالب علم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعہ نے اس پر امن اور پر سکون وادی میں ہیجان پرپا کر دیا ہے۔

اس سال ہونے والی بے پناہ برف باری اور پڑنے والی شدید ترین سردی کے باوجود لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اب تک آٹھ ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہوچکا ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، تفتیش جاری ہے اور فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اس لیے اس تحریر کا مقصد حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اثر انداز ہونا نہیں بلکہ اس بحث کو آگے بڑھانا ہے جو بڑھتے ہوئے تشدد کے اسباب، عوامل اور سد باب کے بارے میں وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہے۔ چونکہ اس واقعے کے خلاف ایک شدید عوامی رد عمل بھی موجود ہے جس کو اجتماعی مثبت سوچ کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے جو ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ اور جائزہ کے بغیر ممکن نہیں۔

Read more

پاکستان میں بنتی نئی تاریخ

جب سے یہ حکم صادر ہوا ہے کہ بھلے بھلے اور سب اچھا کی خبریں دے کر اگلے دو تین تین سال تک ملک کا روشن چہرہ دکھایا جائے اس کے بعد ہم نے بھی اچھا اچھا سوچنا شروع کیا ہے تاکہ شبھ شبھ بول سکیں۔ پاکستان ریلوے کی دور مار میزائل بنانے کی پوشیدہ صلاحیت سے لے کر اگلے کچھ سالوں میں پاکستانیوں کی خلا میں گھومنے پھرنے کی ایسی خوشخبریاں ہیں کہ ہم خوشی سے کہیں مر ہی نہ جائیں۔

ملک میں ہر کام تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کے منتخب ہونے سے پہلے ہی اس کے احکامات پر عمل در آمد کرتے ہوئے ان کے حلف لیتے ساتھ ہی ہندوستان کے ساتھ ملحقہ کرتار پور کا بارڈر کھول کر سکھ یاتریوں کو گورو نانک کی جنم بھومی تک رسائی دی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے افتتاح کے انتظامات بھی وزیر اعظم کے دفتر پہنچنے سے پہلے ہی ہوچکے تھے۔ فیتہ کاٹنے کے لیے صرف وزیر اعظم کے شیروانی پہننے کا انتظار تھا۔

Read more

بیٹی کو مارنے والی شکیلہ کی سب سے بڑی سزا اس کا زندہ بچ جانا ہے

شکیلہ قاتل نہیں بلکہ مقتول ہے، وہ جسمانی طور پر تو اپنی جان نہ لے سکی مگر اس کی روح اس کی بیٹی کے ساتھ سمندر کے کنارے دو دریا کی ریت میں دفن ہوچکی ہے۔ اس کی روح کی موت اس وقت ہی ہو چکی تھی جب اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں نے اس کے وجود کو اپنے لئے بوجھ سمجھا۔ اس کے احساس کا اس روز ہی قتل ہوا تھا جب اس شوہر نے جس کے لئے وہ سب چھوڑ آئی تھی اس کوبیٹی سمیت گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔ آج تو شکیلہ کا بے روح لاشہ ہی ہے جو اس کی بیٹی کے ساتھ ریت میں دفن نہ ہو پایا۔ ہم جس شکیلہ سے بات کر رہے ہیں وہ اس سماج کی ہزاروں لاکھوں دیگر نیم مردہ چلتی پھرتی لاشوں کی طرح ایک بے روح لاش ہے۔

Read more

گلگت بلتستان پر سپریم کورٹ کا ادھورا فیصلہ

17 جنوری 2019 ء کو پاکستان کے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے بارے میں مختلف درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے نہ صرف ایک فیصلہ صادر فرمایا بلکہ اس فیصلے کا ذکرجاتے جاتے اسی روز اپنے کارہائے نمایاں میں بھی کیا جو انھوں نے بطور منصف اعلیٰ انجام دیے تھے۔

ناچیز نے ان ہی صفحات پر اس کیس کے آغاز ہی میں عرض کیا تھا کہ کوئی عدالت کسی علاقے کو کسی ملک میں شامل نہیں کرسکتی اور نہ علیحدہ کرسکتی ہے ہاں البتہ کسی ملک کے زیر انتظام علاقے میں بسنے والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شہری آزادی دینے اور ان کو برابری کا درجہ دینے میں کوئی قانون اور آئین مانع نہیں ہوتا۔ ہم نے عرض بھی یہی کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی دنیا کے دیگر انسانوں کے برابر بنیادی انسانی اور شہری حقوق دینے کا یہ بہترین راستہ اورموقع موجودہے۔

Read more

گلگت بلتستان کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے توقعات

چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے نجی تفریحی دورے پر جب دیامر بھاشا ڈیم کے مسکن گلگت بلتستان گئے تو لوگوں نے حسب روایت جگہ جگہ پھول نچھاور کیے ، ڈھول بجائے، چوغے اور ٹوپیاں پہنائیں تو وہ بھی یہاں کے مکینوں کے اخلاق اور مہمان نوزی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ پاکستان کے منصف اعلیٰ نے وہاں کئی سالوں سے پابند سلاسل سیاسی راہنما بابا جان کی ماں کے بہتے آنسو بھی دیکھے اور ان کی بہنوں کی دہائی بھی سنی۔ وہاں ان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ کئی دوسرے ایسے ضمیر کے قیدی بھی ہیں جن پر پاکستان کے قوانین کے مطابق پر غداری، دہشت گردی اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات ہیں۔

Read more

ہیپی نیو ائیر۔ مگربدلا کیا ہے؟

جب زمین سورج کے گرد اپنا طواف مکمل کرتی ہے تو نئے سال کا آغاز نئے سفر کے ساتھ ہوتا ہے جو ان ہی روز و شب کی گردشوں میں ان ہی موسموں سے گزر تا ہے تو بظاہر یہ معمول ہی نظر آتا ہے مگر حقیقت میں بہت کچھ بدل گیا ہوتا ہے جس میں سے ایک زندگی ہے جو پہلے جیسی نہیں رہتی۔ ماہ و سال کی اسی گردش میں بچے جوان ہوتے ہیں، جوان بوڑھے ہوجاتے ہیں اور بوڑھے بزرگ راہی عدم سدہار جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں نیا سال کا آغاز نئے ارادوں اور خوشی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بسنت، وسطی ایشیا میں نوروز اور مغربی ممالک میں نیو ائیر کی خوشیاں منانے کی رسومات ہماری قدیم ثقافت کا حصہ ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانوں میں زندگی ایسی آسان نہ تھی جو آج ہماری ہے۔ بیماری، بھوک، موسمی حالات اور حادثات پر ایسے قابو نہیں پایا گیا تھا جو آج کے زمانے میں ہے۔

Read more

انسانی معاشرت کا ضابطہ اور خدا کا تصور وحدانیت

جنگلوں، بیابانوں، صحراؤں اور غاروں میں رہنے والے اولین ادوار کے انسان کے لیے سب سے مہیب شے رات کا اندھیرا تھا جب وہ دیکھ نہیں پاتا تھا جس کی وجہ سے اس کا چلنا پھرناممکن نہیں رہتا اور وہ جہاں ہو وہیں تک محدود ہوجاتا تھا۔ ایسے میں چاند کی روشنی اس کے لیے دن کے اجالے کی نعم البدل بن کر اس کی مشکلات آسان کر دیتی یا پھر آسمان پر پر ٹمٹماتے ستارے اس کا سہارا بن جاتے۔ فطرت کے یہ مظاہر انسان کے لیے باعث تحیر و رحمت دونوں تھے۔ وقت کے ساتھ حیرت کو انسان نے تجسس، تعقل اور تفکر سے نئی دریافتوں میں بدل دیا اور رحمتوں کی تاویلات کو وسعت دے کر الیٰہات کے درجات تک پہنچا دیا۔

Read more

احساس عدم تحفظ کا شکار اکثریت ہے، اقلیت نہیں

امریکا بہادر کا موجودہ صدر بھی یکتائے روزگار ہے۔ایسے لوگ بھی صدیوں میں کہیں ایک آدھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ سو سال کے مستقبل کی پیشگی منصوبہ بندی کی شہرت رکھنے والے امریکا کی ترقی کے عروج کا کمال ہے کہ ان کو ایک ایسا شخص ملا ہے جس کے دوسرے لمحےکے فیصلے کا پتہ نہیں چلتا۔ صدر ٹرمپ کبھی صبح ناشتے کی میز پر شمالی کوریا کے میزائل بوائے کو یاد کرتے ہیں تو کبھی آدھی رات کو پاکستان

Read more

گلگت بلتستان کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے توقعات

پاکستان کے نامور وکیل سلمان اکرم راجا نے گلگت بلتستان کے وکلاء کی نمائندگی کرتے ہوئے فاضل عدالت کو جب بتایا کہ کسی بھی آئین اور قانون کی ضمانت کے بغیر یہاں کے شہری ملک میں درجہ دوئم کے شہری بن چکے ہیں اور یہاں قانون سازی اور بنیادی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کا کوئی طریقہ کار موجود ہی نہیں۔ اس پر فاضل عدالت طیش میں آگئی اور سلمان اکرم راجا کو فوراً عدالت سے معافی مانگنے کا حکم صادر ہوا۔

سلمان اکرم راجا نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس کی معافی مانگنے سے گلگت بلتستان کے حالات میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ حکومت صدارتی حکم نامہ مجریہ 2018 ء میں ترمیم کرکے اس کے سامنے پیش کرے تاکہ تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا جا سکے۔

Read more

معذور معاشرے کا عالمی دن کون منائے گا؟

معذوری جسمانی ہی نہیں نفسیاتی بھی ہوتی ہے اور یہ انفرادی ہی نہیں اجتماعی بھی ہوتی ہے۔ جسمانی معذوری پر تو متبادل صلاحیتوں سے قابو پایا جاسکتا ہے اور انفرادی معذوری بھی ختم کی جا سکتی ہے مگر نفسیاتی اور اجتماعی معذوری آسانی سے دور نہیں ہوتی۔ اگر انفرادی طور پر افراد اچھے اور برے میں تمیز کرنے سے معذور اور فہم و فراست سے عاری ہوں اور یہ رویہ جب اجتماعی نفسیات کا حصہ بن جائے تو پورا معاشرہ

Read more

تاریخ تفخر نہیں، تفکر کا نام ہے

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہمارے کرہ ارض کو اپنے سورج سے ٹوٹ کر جدا ہوئے کم و بیش ساڑھے چار ارب سال کا عرصہ ہوا ہے۔ سورج سے ٹوٹ کر جدا ہونے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا ہو کر پہلے برفانی دور میں داخل ہوئے بھی ڈھائی ارب سال سے زیادہ بیت گئے اور کئی برفانی ادوار کے آخری دور کو اختتام پذیر ہوئے بھی گیارہ ہزار سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔ ہر برفانی دور کے آغاز اور اختتام کے دوران انواع قسم کی مخلوقات کا جنم ہوا اور مٹ گئیں۔ مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے ہڈیوں کے ڈھانچے اور کھوپڑیاں ہی ان مخلوقات کے قد و قامت اور انواع کا پتہ دیتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے انسان نما مخلوق کی کھوپڑیاں جو پہلے کے برفانی ادوار کی ملی ہیں وہ بھی ہماری نوع سے مختلف ہیں اور ہماری نسل انسانی بھی موجودہ دور کی پیداوار ہے اور شاید اسی دور کے اختتام پر مفقود ہوجائے۔

Read more

ایک ٹیلی گرام کی کہانی جس کے جواب کا آج بھی انتظار ہے

گلگت میں موجود انگریز فوجی آفیسر میجر براؤن نے اپنی حکمت عملی کے تیسرے حصے پر عمل کرتے ہوئے ہنزہ، نگر، پونیال، یاسین، گوپس اور اشکومن کے راجوں سے اپنے علاقوں کی نئے وجود میں آنے والی مملکت پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویزات حاصل کیں اور حکومت پاکستان کو اس خطے کے فوری الحاق کے لئے ایک ٹیلی گرام بھیجا۔ 16 نومبر 1947 ء کو پاکستان سے ایک تحصیلدارمحمد عالم خان نے گلگت آکر ڈوگروں سے نوآزاد اس علاقے کے انتظامی امور سنبھال لئے لیکن الحاق کے لئے دیے جانے والے اس ٹیلی گرام کے جواب کا ابھی تک انتظار ہے۔

Read more

آسیہ نورین کا مسئلہ صرف توہین رسالت کا ہی نہیں ہے

پاکستان کے سب سے خوشحال اور آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے پنجاب کے ایک گاؤں اتانوالی کے فالسے کے کھیت میں ہونے والے خواتین کے آپس میں جھگڑے نے اب تک ایک گورنر، ایک وفاقی وزیرکے قتل کے علاوہ کئی عام شہریوں کی جانیں لینے، اربوں کی املاک کو تباہ کرنے، کھربوں روپے کا معاشی نقصان پہنچانے کے علاوہ ملک کا سماجی اور سیاسی منظر نامہ بدلنے میں کردار بھی کردار ادا کیا ہے۔ معاملہ اب بھی رکا نہیں

Read more

تبدیلی کی امیدیں مایوسی میں بدل سکتی ہیں

لاہور کے سول سیکرٹیریٹ میں خواتین کو بغیر سر پر دوپٹہ رکھے داخل ہونے سے روکنے والے پولیس آفیسر کو اس ڈیوٹی پر آئے کوئی دو چار دن نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی وہ نیا نیا کسی مذہبی نظریے سے متاثر ہو کر اپنی سوچ یا فکر کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ سب وہ لاہور شہر کی ہر دلعزیز خاتون سیاسی راہنما اور صحت کی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے احکامات بجا

Read more

گلگت بلتستان کا مقدمہ اور لوگوں کے توقعات

گلگت بلتستان کا قانونی اور آئینی مقدمہ دوسری بار پاکستان کے سپریم کورٹ میں سنا جائے گا۔ پہلی بار 1999 ء میں آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی صورت میں سنا گیا تھا اور اب گلگت بلتستان کے اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج کے اس فیصلے کی نظر ثانی کے لئے سننے کےلئے مقرر ہوا ہے جس میں گلگت بلتستان کے لئے صدر پاکستان کے 2018ء کے حکم نامہ کو معطل کردیا

Read more

مفروضے پر اعتقاد انا کا معاشقہ ہے

مفروضہ حقیقت کا کندن بن سکتا ہے اگر اس کو تشکیک کی بھٹی میں تنقید کی آنچ سے گذارا جائے وگرنہ استرداد کے کوڑے دام میں چلا جاتا ہے یا تیقن سے اعتقاد کا جوہڑ بن جاتا ہے جس سے تعفن پھیل کر اگلی نسلوں کے لیے بھی سانس لینا دشوراکر دیتا ہے۔ آج کے جتنے سائنسی حقائق ہیں وہ کبھی مفروضات تھے جن کو تجربات اور مشاہدات، تشکیک اور تنقید کے پل صراط سے گذار کر آفاقی حقائق کے

Read more

کرکٹ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ریکارڈ بن رہا ہوتا ہے

ہمارے ہاں فٹ بال ، والی بال ، ہاکی اور دیگر ایسے کئی فرسودہ کھیل اس لئے بھی ختم کئے گئے کہ ایک تو ان میں بھاگ دوڑ زیادہ کرنی پڑتی ہے اور پھر ڈیڑھ گھنٹے میں یہ کھیل جیت یا ہار کے ساتھ اختتام پذیر ہوجاتے ہیں۔ کرکٹ جیسے شرفا کے کھیل میں ایک تو پورا دن فرصت سے تبصرے کا موقع ملتا ہے اور پھر تماشائی ہی نہیں آدھے کھلاڑی بھی پویلین کی ٹھنڈی چھاوں میں باری باری

Read more

ڈیم بنانا کیوں ضروری ہے ؟

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں مخالفت اور موافقت دونوں نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ڈیم بنانے کے حق میں دلائل جتنے مضبوط ہیں اتنی ہی مضبوط اس کی مخالفت میں دی جانے والی تاویلیں بھی ہیں۔ ماہرین کے درمیان عمومی طور پر اس امر پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ کسی ڈیم کی تعمیر کے لئے صرف اس کے معاشی و اقتصادی فوائد و نقصانات کو ہی دیکھنا کافی نہیں بلکہ

Read more

حیاتیاتی تنوع اور فکری رنگا رنگی ہی زندگی کی ضمانت ہے

یلو سٹون نیشنل پارک نہ صرف امریکا کا قدرتی وسائل کے تحفظ کا سب سے پرانا علاقہ ہے بلکہ اس کو دنیا کا سب سے قدیم نیشنل پارک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ درحقیقت کسی خاص علاقے کو محفوظ کر کے وہاں کے قدرتی وسائل کو تحفظ دے کر اس کو تحقیقی، تفریحی اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کاوش کی ابتدا بھی یلو سٹون نیشنل پارک کے 1878ء میں کے قیام کے بعد ہی ہوئی۔ دنیا

Read more

ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا ہوں گی

سیاست دانوں کے چور ہونے، سیاست چوری، بے ایمانی، اور کرپشن کا نام ہونے کی گردان سنتے سنتے گزشتہ بائیس سالوں میں ایک نسل جوان ہوگئی ہے جس نے اپنی ہتھیلی میں پکڑے سمارٹ فون کو نہ صرف دوسروں تک اپنے پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا بلکہ وہ خود بھی اس نئے ابلاغی آلہ سے مستفید ہوتی رہی ہے۔ اس نوجوان نسل کو اس بات پر پر بھی گھمنڈ ہے کہ اس کی جدوجہد اور کاوشوں سے نہ صرف

Read more

گلگت بلتستان کی محرومیاں اور دانشوروں کی ہرزہ سرائی

تقسیم برصغیر کے بعد اگر پاکستان ریڈ کلف کی باونڈری کمیشن کے نقشے تک محدود ہوتا تو آج شاید دنیا کا نقشہ بھی وہ نہ ہوتا جو اس وقت ہے۔ سوویت یونین میں شامل ملک تاجکستان کے شہر دوشنبہ اور سوشلسٹ نظریات کے زیر اثر بھارت کے دارالحکومت دہلی کے درمیان زمینی رابطہ نہ صرف روس کو ہندوستان کے گرم پانیوں تک رسائی دیتا بلکہ افغانستان میں سرخ فوجیوں نے جو دھول چاٹی وہ نوبت بھی نہ آئی ہوتی۔ مگر

Read more

بر صغیر کی جمہوریت اور عدلیہ کا سیاست میں عمل دخل

ویسے تو جمہوریت کا اپنا کوئی رنگ نہیں جہاں ہے وہی کا رنگ ڈھنگ اپنا لیتی ہے۔ دنیا کی سب سے پرانی کہلانے والی جمہوریت روایت پسند برطانیہ میں بغیر کسی لکھت پڑھت کے بلا تعطل جاری ہے تو ہمارے ہاں قوانین و دساتیر کے انبار تلے دم گھٹ کر بار بار مرجاتی ہے۔ افریقہ میں جمہوریت جس کے ہاتھ آتی ہے اسی کی باندی بن جاتی ہے تو چین میں مزدوروں اور محنت کشوں کے نام پر ایک خاص

Read more

دیامر میں سکولوں کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کون؟

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ایک ہی رات میں 13 گرلز سکولوں کو تباہ یا جزوی طور پر نقصان پہنچایا گیا ۔ کچھ میں توڑ پھوڑ کرکے آگ لگادی گئی اور کچھ کو بارودی مواد سے اڈادیا گیا۔ پولیس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ سارے سکول زیر تعمیر اور تکمیل تعمیر کے قریب تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہ کیے جانے والے سکولوں میں سے 9 فعال تھے جن میں آج کل گرمیوں

Read more

بھٹو کا نواسا لیاری سے ہار گیا: آخر کیوں؟

فاتح کپتان عمران خان صاحب کی فتح کے بعد وکٹری سپیچ میں ملک میں غربت کے خاتمے کئے چین کے ماڈل کو اپنانے والی بات سن کر مجھے 1980ء کی دہائی میں پڑھا ایک واقعہ یاد آگیا۔ پشاور کے ایک خان صاحب اس زمانے میں روس اور اس کی سرپرستی میں متحرک پاکستانی سرخوں سے ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو درپیش خطرات کو لیکر بہت زیادہ فکرمند تھے۔ ایک غیر ملکی صحافی نے ان سے انٹرویو میں پوچھا

Read more

میں ووٹ کس کو دوں گا؟

میں سیاسی نظریات کے اعتبار سے خود کو ایسا ترقی پسند اور جمہوریت پسند سمجھتا ہوں جو ملک کو سیاسی، فکری، سائنسی، معاشی اور معاشرتی بنیادوں پر ترقی کی راہ میں دنیا کےساتھ ہمقدم رہتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتے دیکھتا ہے۔ میں اس خوش فہمی میں کبھی نہیں رہا کہ میرے ووٹ سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی یا میرا ووٹ لینے والا انقلاب لائے گا۔ میں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں کہ ووٹ سے آنے والی

Read more

نواز شریف کی کایا کلپ کیسے ہوئی؟

مغرب میں جمہوریت اور صنعتی انقلاب کی پروان ایک ساتھ ہوئی ہے جو ایک دوسرے کی باہم ضرورت ہیں۔ صنعتی ترقی مسابقت اور برابری کی متقاضی ہے جو جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں تو دوسری طرف جمہوریت کی بیل روشن خیالی اور برداشت کے بغیر منڈے نہیں چڑھتی جو صرف جمہوری اقدار کے تحت ہی ممکن ہے ۔ ایک صنعتی معاشرہ عدم استحکام او ر افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی قسم کی شخصی اور انفرادی آمرانہ

Read more

دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے چندے اور گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کی پاکستان میں ایک منفرد حیثیت صرف اس لئے نہیں کہ یہاں سیاح آتے ہیں، یہاں کے ٹو سمیت دنیا کی کچھ بلند و بالا چوٹیاں ہیں، دریائےسندھ یہاں سے گزر کر وادی مہران کے ساحلوں میں گرتا ہے یا پھر سی پیک یہاں سے گزر کر گوادر کو کاشغر سے ملاتا ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کے زبانی بیانیے کے مطابق ایک صوبہ ہوتے ہوئے بھی اس کی مقننہ کے لئے منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں

Read more

سنہ 2018 ء کے انتخابات کے بعد تبدیلی کیسی ہوگی

سال 2018 ء میں تبدیلی کی منادی ہوچکی ہے۔ ایک بار پھرانتخابات میں لوگ اپنی حق رائے دہی سے تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے۔ ویسے تو ہر بار تبدیلی کی نوید سنادی جاتی ہے مگر ظلمت شب کی طوالت کبھی کم نہ ہو پائی۔ ایک نئی سحر کی امید پر رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد صبح پھر داغ داغ اجالا دیکھ کر لب و لہجہ پھر شاکی ہوجاتا ہے کہ یہ وہ سحر تو نہیں۔ فلک کے دشت

Read more

ناتواں جمہوریت اور دشنام و الزام کی سیاست

جمہوریت ہمارے ہاں اس بے اولاد اور لاوارث بیوہ عورت جیسی ہے جو شوہر کے انتقال کے بعد سوتیلے بچوں کے گھر میں رہتی ہے جہاں گھر میں ہونے والی ہر خرابی کا الزام اسی کے سرہے۔ گھر کی کوئی چیز گم ہو جائے یا کسی کی الماری کا دروازہ کھلا ملے، فوراً انگل اسی پر اٹھائی جاتی ہیں۔ نہ صرف گھر کے اندر بلکہ گھر سے باہر بھی کوئی کام نہ ہو پائے یا بگڑ جائے تو ذمہ دار

Read more

گلگت بلتستان آرڈر 2018: قومے فروختند ۔۔۔

پورے ملک میں جمہوریت کے علم بردار، اپنی مظلومیت کا رونا رونے والی اور ثنا خوان تقدیس ووٹ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جاتے جاتے گلگت بلتستان کے لوگوں پر صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک ایسا حکم نامہ نافذ کردیا، جس کے تحت اب یہ علاقہ عملی طور پر ایک نوآبادی بن گیا ہے؛ جہاں انگریز استعمار کے وقت میں متحدہ ہندوستان اور جنوبی افریقہ سے زیادہ استبدادی قوانین نافذ ہوچکے ہیں۔ جس میں تمام اختیارات کا منبع وزیر اعظم پاکستان

Read more

گلگت بلتستان کے لوگوں کی اہل پاکستان کو مبارکباد اور کچھ سوال

گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تسلسل کے ساتھ دو سری بار کسی منتخب حکومت کا ’میرے عزیز ہموطنو‘ کی صدا پر بستر گول ہو نے کے بجائے خود ہی اپنے خیمے اکھاڑ کر پھر سے انتخابی معرکے میں اترنے پر ملک کے عوام کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اورمستقبل میں اس تسلسل کے تسلسل کے لئے دعا گو ہیں ۔ گو اپنے دور اقتدار میں جمہوری حکومتیں اپنی مدت بھی ایک عدت کی

Read more

ہماری نہیں تو آئی اے رحمان، فرحت اللہ بابر اور تاج حیدر کی بات تو سنی جائے

مسلم لیگ کی حکومت کو پانچ سال مکمل ہوگئے اور اب چل چلاؤ کا وقت ہے بقول شاعر جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا ۔ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں پاکستان کی خالق کہلانے والی جماعت نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایسے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں جو ملک کی آئندہ سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔ خاص طور پر اس جماعت کے اپنے حلقہ نیابت وسطی پنجاب پرخصوصی توجہ سے

Read more

داستان ضمیر فروشوں کی

صحافیوں اور قلمکاروں کے نام پر قلم اور ضمیر فروشوں کی فصل کا ہر دور میں اگنا اور بکنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، مگر اس فصل کی آبیاری کرنے والوں کی ہمت اور دیدہ دلیری پر حیرت ہے کہ بار بار بگیا لہو لہان ہونے کے باوجود ہر دور میں ایسی فصل کی ایک کھیپ تیار ملتی ہے۔ ایسے قلم فروشوں اور ضمیر کے سوداگروں کی قیمتیں بیت المال اور قومی خزانے سے چکانا اور ان کی خرافات کو

Read more

کوئٹہ کی جلیلہ حیدر آخر چاہتی کیا ہیں؟

جلیلہ حیدر تادم مرگ بھوک پڑتال پر ہے اور اس نے سب کے سامنے مرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کسی کا عقیدہ، اس کی سوچ، اس کی زبان، اس کا لباس اور سب سے بڑھ کر اس کا چہرہ موت بن جائے تو اس سے مفر کیسا۔ نام، عقیدہ، سوچ، زبان اور لباس چھپایا بھی جا سکتا ہے مگر چہرہ تو بدلا نہیں جا سکتا۔ سکول کی بس سے اتار کر ماردیا جاتا ہے، دوکان میں گولی ماری جاتی

Read more

گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کا محافظ کون

1973 ء کے آئین کی شق نمبر 2 میں بیان کیے گئے ملک کے دائرہ سے باہر دو علاقے ہیں جو آئینی اور قانونی طور پر ریاست پاکستان کے لئے اجنبی ہیں وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ داخلی طور پرآزاد جموں و کشمیر کی حیثیت ایک نیم خود مختار ریاست جیسی ہے جس کا اپنا آئین، صدر وزیر اعظم اور مقننہ موجود ہے۔ گلگت بلتستان کو 2009ء میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے سے ایک

Read more

کرم ایجنسی سے خوف اور بے یقینی کب ختم ہوگی

دریائے کرم کے ساتھ کشادہ مگر پر پیچ راستوں پر ٹل سکاؤٹس کی چیک پوسٹ سے گزر کر جب برف پوش پہاڑ نظر آجائیں تو سڑک کے کنارے چنار کے درخت اپنے نام کی نسبت سے موسوم پارا چنار میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ حد نگاہ لہلاتے کھیتوں میں اپریل کے آخری عشرے میں جانوروں کو گھاس چرتے اور لوگوں کو کام کرتے دیکھ کر ان کی خوشی وہی محسوس کر سکتا ہے جوخود بھی طویل برفانی سردیاں

Read more

ریاست کے ستونوں میں توازن ضروری ہے

آج کے جدید دور کی جمہوری ریاست علم حساب کی منطق پر مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ پر قائم تکونی ڈھانچے پر کھڑی ہے جس کے تینوں ستون ایک دوسرے کے ساتھ ہم پلہ ایستادہ رہ کر عمارت کی چھت یعنی اقتدار اعلیٰ کو سہارا دیتے ہیں۔ ان ستونوں کا اپنی جگہ سے ہلنے، کسی ایک ستون کے دوسرے سے بلند یا پست ہونے یا کمزور ہونے سے عمارت مخدوش اور کسی بھی ایک ستون کی شکست و ریخت سے بالآخر

Read more

چھوٹے صوبوں کے بڑے لوگ

مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ہندو مسلم تقسیم کے علاوہ جس بات پر اختلاف تھا وہ ہندوستان کی اشرافیہ کے استحقاق پر تھا۔ مسلم لیگ ہندوستان کی نیم خودمختار نوابی ریاستوں، جاگیروں اور راجواڑوں کے بارے میں وہ موقف نہیں رکھتی تھی جو نہرو کی کانگریس کا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو ایسی بیشتر ریاستوں کے والیان کا مسلمان ہونا تھا اور پھر ا ن ریاستوں سےمسلم لیگ کو ملنے والی امداد بھی ایک وجہ تھی۔ پاکستان بننے

Read more