سال نو کے آغاز پر ہی ملک کے شمال میں واقع ضلع غذر کی تحصیل اشکومن میں ایک چودہ سالہ طالب علم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعہ نے اس پر امن اور پر سکون وادی میں ہیجان پرپا کر دیا ہے۔
اس سال ہونے والی بے پناہ برف باری اور پڑنے والی شدید ترین سردی کے باوجود لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اب تک آٹھ ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مقدمہ درج ہوچکا ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، تفتیش جاری ہے اور فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اس لیے اس تحریر کا مقصد حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اثر انداز ہونا نہیں بلکہ اس بحث کو آگے بڑھانا ہے جو بڑھتے ہوئے تشدد کے اسباب، عوامل اور سد باب کے بارے میں وقتاً فوقتاً جاری رہتی ہے۔ چونکہ اس واقعے کے خلاف ایک شدید عوامی رد عمل بھی موجود ہے جس کو اجتماعی مثبت سوچ کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے جو ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ اور جائزہ کے بغیر ممکن نہیں۔
Read more