خوش گلو مہناز کی پانچویں برسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دل کش اور سریلی آواز رکھنے والی پاکستان کی نام ور گلوکارہ مہناز بیگم کی آج پانچویں برسی منائی جا رہی ہے۔

مہناز بیگم کا اصل نام کنیز فاطمہ تھا۔ وہ مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں 1958ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر نے انھیں مہناز کا نام دیا۔ مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ امیر امام نے انھیں پاکستان ٹیلیوژن کے پروگرام ”نغمہ زار“ کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایت کار نذرالاسلام کی فلم ‘حقیقت’ مہناز کی بطور پلے بیک سنگر ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد جلد ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کے ہر موسیقار نے مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز جانا۔ مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات رِکارڈ کروائے۔ اس کے علاوہ مہناز نے لاتعداد گیت اور غزلیں بھی گائیں جو آج بھی بے حد مقبول ہیں۔

حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انھیں ان کی گائیکی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں۔ مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک منفرد اعزاز ہے۔

مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کے لیے پاکستان سے امریکا جا رہی تھیں کہ اچانک راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین کے شہر مانامہ میں اتارا گیا اور انھیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکیں اوراپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

وہ کراچی میں وادئی حسین کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).