روشن مستقبل کے راستے میں رکاوٹ کیا ہے؟

ہم ڈیجیٹل دور کے لوگ ہیں۔ ڈیجیٹل دور کو انفارمیشن دور بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل دور پوری دنیا کے لیے کوئی نیا دور نہیں ہے۔ بنیادی طور پر ستر کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا آغاز دنیا کے کچھ ممالک میں ”پرسنل کمپیوٹر“ متعارف کروانے سے ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پرسنل کمپیوٹر کے علاوہ ٹیکنالوجی کے دیگر جدید ذرائع متعارف ہوتے رہے، جن کے ذریعے معلومات کو آسانی اور تیز رفتاری سے منتقل کیا

Read more

فلسطین پر نئی امریکی پالیسی میں نیا کیا ہے؟

صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آخری دنوں میں عجلت میں جو چند ایک کام کیے۔ ان میں ایک اہم کام یہ تھا کہ اس نے اسرائیل کے کچھ عرب ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کروا نے میں مدد دی۔ ان ریاستوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش وغیرہ شامل ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس ”کارنامے“ کو فلسطین اسرائیل تنازعے کے حل کی طرف ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا۔ اس ”تاریخی قدم“ میں فلسطینی کئی نہیں تھے۔ اس تاریخی قدم میں نہ توان کا کوئی ذکر آیا اور نہ ہی کردار تھا۔ ظاہر ہے اس عمل سے فلسطین امریکی تعلقات خراب ہوئے۔ مگر یہ خرابی صرف اس حد تک ہی محدود رہی، جتنی فلسطینی اس کی استطاعت رکھتے تھے۔ ٹرمپ اپنے اس کارنامے پر فخر کرتے ہوئے واشنگٹن سے رخصت ہو گیا۔

Read more

کیا جنسی جرائم کا جواز ممکن ہے ؟

وزیراعظم کا بیان باعث ِ افسوس تھا۔ یہ بیان پریشان کن بھی تھا ‘ مگر اس میں میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حیرت کی اس میں کوئی بات اس لیے نہیں ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں جس قسم کا اخلاقی کلچر پروان چڑھ رہا ہے ‘ اس میں اس طرح کی سوچ کا غلبہ ایک لازمی اَمر ہے۔ جنسی زیادتی کے بارے میں وزیر اعظم نے یہ بیان گزشتہ دنوں جاری کیا۔ وزیراعظم کے اس بیان

Read more

کیا یہ خوشحالی کی نوید ہے؟

ارباب اختیار اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو یقین دلا دیا گیا کہ عوام پر آئندہ مالی سال میں ٹیکسوں کا اضافی بوجھ دال دیا جائے گا۔ یہ اضافی بوجھ بارہ سو بہتر ارب کی خطیر رقم ہو گی۔ عام آدمی کو اگر کوئی چھوٹی موٹی آسانیاں میسر ہیں تو وہ چھین لی جائیں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن اشیاء سے ٹیکس کا استثنا ختم کر دیا جائے گا، ان میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور تعلیم سرفہرست ہوں گی۔

گویا پہلے سے ہی بھوک و ننگ کے شکار عوام کے لیے دو وقت کی روٹی بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ ادویات ان کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ اور بچوں کی تعلیم غریب کے لیے محض خواب بن کے رہ جائے گا۔ آئی ایم ایف اور حکومت کے اس سمجھوتے پر بحث ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کچھ دانشور اسے اچھی خبر اور ترقی و خوشحالی کی نوید قرار دے رہے ہیں۔ سیمینار اور فورم منعقد ہو رہے ہیں، جن میں ارباب اختیار کی دانش اور آئی ایم ایف کی سخاوت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ نایاب لمحے ہوتے ہیں جب عشق بے خطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے اور عقل کے پاس محو تماشا رہ جانے کے سوا چارہ نہیں ہوتا۔

Read more

پرانی پالیسی نئے نتائج؟

ماحولیاتی تحفظ ہمارے عہد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت دنیا کے ہر سنجیدہ فورم پر زیر بحث ہے۔ امریکہ اپریل میں ماحولیات پر ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے۔ یہ ”ورچول“ کانفرنس ہو گی۔ کانفرنس میں دنیا کے چالیس ممالک مدعو ہیں۔ ان میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ پاکستان میں اس پر شدید رد عمل ظاہر ہوا ہے۔ رد عمل کا لب لباب یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو مدعو نہ کر کے

Read more

جمہوری عرب کا خواب !

تبدیلی ایک پرانا خواب ہے‘ یہ خواب تاریخ کے ہر دور میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ خواب کئی بار ایک جاندار نعرہ بن کر اُبھرا۔ اس نعرے کی بنیاد پر کئی لوگ اقتدار تک پہنچے مگر یہ خواب اب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ موجودہ حکومت کا تو منترہ ہی تبدیلی تھی مگر تین سال ہونے کو ہیں عوام کسی تبدیلی کی جھلک دیکھنے کے لیے دم سادھے بیٹھے ہیں۔ آج کل یہ خواب مشرقِ وسطیٰ کی

Read more

گلگت بلتستان کے مستقبل کا سوال

گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے مستقبل کے سوال پر قومی اسمبلی میں جائزہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ جائزہ کمیٹی کے سربراہ قومی اسمبلی کے سپیکر ہوں گے اور کمیٹی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو برابر نمائندگی دی جائے گی تاکہ گلگت بلتستان کے سوال پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی کی حالیہ قرارداد کے فوراً بعد یہ اس باب میں

Read more

ایک ناخوشگوار منظر جو باعثِ حیرت نہیں!

وہ ایک نا خوش گوار نظارہ تھا‘ جو گزشتہ دنوں ملک کے لیے قانون بنانے والے سب سے اہم ادارے کی عالی شان عمارت کے سامنے دکھایا گیا۔ اس نظارے میں حصہ لینے والے دونوں طرف کے کرداروں کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی، جن کو عوام نے ایک جمہوری عمل میں منتخب کر کے اس مقتدر عمارت تک رسائی کا اعزاز بخشا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اور عوام نے ان کے ذمے کتنا اہم کام لگایا

Read more

مشرق وسطیٰ کے پردہ نشین اور فرسودہ امریکی پالیسی… (2)

بات ہو رہی تھی مشرق وسطیٰ میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں کی اور ان کے اس خطے کی معیشت‘ معاشرت اور سیاست پر مرتب ہونے والے اثرات کی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکہ نے ان معاملات پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کے اخراجات اور فوائد پر نظر ثانی کرنا ایک اچھی شروعات ہو گی کیونکہ اس طرز پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی موجودگی بڑے پیمانے پر انتشار کا باعث

Read more

انسانی حقوق کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت!

سن انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہیومن رائٹس کے عالمی اعلامیہ کو اپنایا تھا۔ اس بات کو اب تہتر برس سے ہو چکے ہیں۔ اس دستاویز کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ تھا۔ اس تحفظ کے حق دار تمام انسان قرار پائے تھے‘ قطع نظر اس کے کہ وہ کون ہیں‘ کہاں رہتے ہیں‘ کیا کرتے ہیں؛ تاہم اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں

Read more

معاشی انصاف کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا!

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، یہ کوئی ساکت و جامد شے نہیں۔ یہ مسلسل بدلتی اور نشوونما پاتی ہے۔ دنیا میں کوئی نظام، نظریہ یا خیال دائمی نہیں ہوتا۔ ہمارے ارد گرد کی ہر چیز بدلتی ہے، اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہے۔ نظریے اور نظام بدلتے ہیں، لیکن کچھ نظریات و نظاموں میں کچھ ایسے بنیادی اصول ہوتے ہیں، جو ہر تبدیلی کے بعد بہتر اور ترقی یافتہ شکل میں اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت

Read more

معاشی و سیاسی آزادی: کون سا نظام چاہیے؟

”سرمایہ بذات خود برا نہیں ہے‘ اصل برائی اس کا غلط استعمال ہے۔ سرمایہ داری کی کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ ضرورت رہے گی‘‘ یہ الفاظ موہن داس کرم چند گاندھی کے ہیں، جو انہوں نے سرمایہ داری نظام کی اچھائیاں بیان کرتے ہوئے کہے تھے۔ مہاتما گاندھی کے ان خیالات کی وجہ سے بائیں بازو کے کچھ دانش ور ان کو عالمی سرمایہ داری کا ایجنٹ قرار دیتے تھے، جس کو ہندوستان میں سوشلزم کا راستہ روکنے کے

Read more

عالمی تعلقات میں حقیقت پسندی کیا ہے

سیاست میں ”حقیقت پسندی“ کیا ہے؟ سیاسی و سفارتی میدان میں حقیقت پسندی کے تقاضے کیا ہیں؟ کیا ہماری خارجہ پالیسی متروک اخلاقی ضابطوں، فرسودہ فلسفوں اور آئیڈیلزم کا شکار ہے۔ ان تلخ سوالات کا جواب حکمران اشرافیہ اور ان کے سفارتی ماہرین دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن خارجہ پالیسی کی مخدوش حالت زار میں ان سوالات کے جوابات پوشیدہ ہیں۔ ان سوالات کا مزید تفصیلی جواب ڈھونڈنے والوں کو یہ جواب ایک پرانی کتاب میں مل سکتا ہے۔

”قوموں کے درمیان سیاست“ نظریہ حقیقت پر مبنی ایک کتاب ہے۔ حقیقت پسندوں کا ماننا ہے کہ انسان خود غرض اور انا پرست ہے، اور اس کا حتمی مقصد اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ اس کتاب کا مصنف ہنس جے مورجینٹھا ایک امریکی شہری تھا۔ اس نے پچھلی صدی کے سیاسی و سفارتی حالات میں یہ کتاب لکھی، مگر یہ کتاب آج بھی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے۔ امریکہ کے سفارتی حلقوں میں مصنف کو سیاسی حقیقت پسندی کا جد امجد سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں بین الاقوامی سیاست کا نیا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نظریہ نے سفارتکاری کے میدان میں امریکی سوچ میں عالمی جنگ کے بعد ایک نئے ماڈل کو متعارف کروایا۔

Read more

سچی جمہوریت اور تبدیلی کا خواب

ہمارے دور میں جمہوریت روبہ زوال ہے۔ جمہوریت کی عالمی درجہ بندی میں کوالٹی کے اعتبار سے انڈیکس کا رخ نیچے کی طرف ہے۔ حالیہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے امریکہ جیسا ملک ”خراب جمہوریت“ کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکہ کو اس فہرست میں رکھنے کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر سجتا ہے۔ ایک اچھی جمہوریت سے خراب جمہوریت تک کا یہ سفر صدر ٹرمپ نے ایک ہی جست میں مکمل کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے باب میں پاکستان کو بدستور ہائی برڈ ممالک کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا۔

Read more

نظام نو کی تعمیر کون کرے گا؟

یہ ایک بے مثال سخاوت تھی۔ حکومتوں کی سطح پر اتنی بڑی سخاوت اور فیاضی کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال موجود ہو۔ دنیا میں کورونا بحران کے دوران مختلف خوشحال ممالک نے سرکاری خزانے سے خطیر رقوم نکال کر خرچ کیں۔ اگر اتنی بڑی رقوم عام حالات میں سرکاری خزانوں سے نکال کر عوامی فلاح وبہبود پر خرچ ہوتیں، تو شاید دنیا میں بنی نوع انسان کو درپیش بیشتر مسائل کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ وبا کے دوران

Read more

آنگ سان سوچی اور ٹوٹے پھوٹے خواب

دو سال پہلے میں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی۔ میں اس اجلاس میں کنیڈین وکلا کی ایما پر ان کے ”ڈیلیگیٹ“ کے طور پر اس اجلاس میں شریک ہوا تھا۔ اس اجلاس میں نے جو رپورٹ پڑھ کر سنائی تھی اس میں دوسرے ممالک کے علاوہ میانمار یعنی برما کا بھی ذکر تھا۔ برما کو ایسے ممالک کی صف میں شامل کیا گیا تھا، جن میں انسانی حقوق

Read more

کمیونسٹ منشور کے بارے میں معلومات اور اس کے اثرات

آج تک کی انسانی تاریخ طبقاتی جہدوجہد کی تاریخ ہے۔ آزاد اور غلام، اعلی طبقے اور ادنی طبقے، مالکان اور خانہ زاد غلام، دستکار اور آقا یعنی دوسرے الفاظ میں ظالم و مظلوم طبقات تاریخ کے ہر دور میں ایک دوسرے کے خلاف مستقل طور پر کھڑے رہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل ایک خفیہ اور کھلی لڑائی لڑتے رہے۔ اس لڑائی کا خاتمہ ہر دفعہ یا تو سماج کی انقلابی تنظیم نو میں ہوا یا دعوے دار طبقات کی مشترکہ بربادی پر ہوا۔ یہ اس پیغام کا مفہوم ہے، جو کارل مارکس اور فریڈرک انگلس نے اپنی مشہور تخلیق کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دیا۔

اس منشور کو دنیا کی سب سے زیادہ با اثر سیاسی دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ پیٹر آسبارن جیسے دانشور نے اس دستاویز کو انیسویں صدی کی سب سے اہم ترین تحریر قرار دیا ہے۔ کچھ دانشور اسے اکیسویں صدی کا منشور بھی قرار دیتے ہیں۔ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اس تحریر کو ان معدودے چند سیاسی دستاویزات میں شامل کیا جاتا ہے، جن کو پوری دنیا میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ ”زوم ریڈنگ روم“ کی گزشتہ مطالعاتی نشست میں ہم نے سیاسی تاریخ کی اس اہم ترین دستاویز پر گفتگو کی ہے۔

Read more

عوام کی تاریخ کون لکھتا ہے؟

پاکستان میں دانشوروں کو تاریخ نویسوں سے شکوہ ہے۔ کچھ دانشورں کا خیال ہے کہ تاریخ لکھنے والوں نے تاریخی نویسی کا فریضہ درست طریقے سے نہیں سرانجام دیا۔ انہوں نے تاریخ نویسی کا حق ادا نہیں کیا۔ ان تاریخ نویسوں نے تاریخ کو ٹھوس مادی حقائق کی روشنی کے بجائے اپنی خواہشات کے آئینے میں دیکھا۔ تاریخی واقعات کو اپنے نظریات اور خواہشات کے تناظر میں بیان کیا۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ تاریخی حقائق و واقعات

Read more

ہم تاریخ میں کہاں کھڑے ہیں؟

روسو کے خیال میں جمہوری حکومتوں میں عوام باقاعدہ وقتاً فوقتاً اسمبلیوں میں اجلاس کر کے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہیں۔ عام طور پر تمام شہریوں کو ان اسمبلیوں میں شرکت کے لئے راضی کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، لیکن ریاست کی فلاح و بہبود کے لئے یہ حاضری لازم ہے۔ جب شہری اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں تو اس وقت عوام کی مرضی کا احترام ضروری ہے۔ اگر عوام کی مرضی کا احترام نہیں کیا جائے گا تو ریاست خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسمبلیوں میں ووٹ ڈالتے وقت لوگوں کو اپنے ذاتی مفاد یا پسند کے مطابق ووٹ نہیں دینا چاہیے بلکہ مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ ایک صحت مند ریاست اور جمہوریت میں ان ووٹوں کے نتائج پر اتفاق ہونا چاہیے، ان کو بلا چوں و چراں تسلیم کیا جانا چاہیے۔

Read more

ہم آزادی سے کیوں ڈرتے ہیں

جمہوریت کے ساتھ بھی ایک بڑا مسئلہ اکثریت کی استبدادیت یا مطلق العنانیت کا ہے۔ مل کے نزدیک ایک اکثریت کی جابرانہ حکومت کا جبر حکومت کے جبر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں کہ یہ ظلم، جبر یا استبدادیت صرف سیاست تک محدود نہیں ہوتی، اس کا دائرہ کار سماجی و معاشی سطح تک پھیل جاتا ہے۔ کسی بھی سماج کے اندر ایک شخص کو حکمران اشرافیہ کے جابرانہ سلوک سے بچایا جا سکتا ہے، لیکن اس کو اس سماج کے مروجہ خیالات و احساسات کے جبر سے نہیں بچایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان خیالات کی روشنی میں اس سماج میں جو قانون بھی بنائے جائیں گے وہ بھی اکثریت کی حمایت میں ہوں گے۔

Read more

کیا طاقت کا سرچشمہ دولت ہے؟

جدید ٹکنالوجی اور کتاب کا آپس میں رشتہ جوڑنے کے لیے ہم چند احباب نے فیصلہ کیا ہے کہ انفرادی طور پر کتاب پڑھنے کے بجائے ”زوم“ کے ذریعے محفل سجا کر اجتماعی طور پر کتابیں پڑھی جائیں اور ان پر سنجیدہ گفتگوہ بھی کی جائے۔ یعنی جو روایتی ”بک کلب“ ہوا کرتا تھا، اس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن کر دیا جائے۔ اس عمل کی بیک وقت کئی برکات ہیں۔ اس سے کتاب پڑھنے، پرانے سماجی تعلقات بحال کرنے، یا نئے سماجی تعلق قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی راہ نکلتی ہے۔

Read more

عوامی ویکسین کیسے بن سکتی ہے؟

کورونا نے عالمی سطح پر ناقابل تصور تباہی پھیلادی ہے۔ معاشی بحران اورعالمی قرض بڑھتا جا رہا ہے۔ اس قرض کے جلد ہی تین سو ٹریلن تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق یہ رقم عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کے 365 فیصد کے برابر ہے۔ قرضوں کا اصل بوجھ غریب ترین ممالک پرہے۔ اس طرح اس معاشی بحران اور ناقابل برداشت بوجھ کا فوری شکار دنیا کے غریب ترین عوام ہو رہے ہیں۔ اور اس بوجھ کے کم

Read more

چین سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

ہمارے خطے میں کئی ممالک نے غربت کے خاتمے کے لیے اس باب میں بہت سخت قدم اٹھائے ہیں، چین اس کی مثال ہے۔ وزیر اعظم چین کو ماڈل تو قرار دیتے ہیں لیکن چین کے ان حیرت انگیز اور دلیرانہ اقدامات کا کوئی ذکر نہیں کرتے جو انہوں نے ملک کی آبادی پر قابو پانے کے لیے کیے ہیں۔ جہاں خاندانی منصوبہ بندی کی خلاف ورزی پر سنگین سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔ اس باب میں پاکستان کی روایتی حکمران اشرافیہ سخت غفلت اور شعوری لاپروائی کی مرتکب ہوئی ہے۔

Read more

آزادی اظہار رائے اور زوال کا سفر

آزادی اظہار رائے اور زوال کا سفر
بیرسٹر حمید بھاشانی
’’یہ حکومت آپ کی اپنی ہے، اور سابقہ حکومت سے بالکل مختلف ہے۔ لہذا جب کوئی اچھی بات ہو تو اس کی تعریف کیجیے۔ اور جب کوئی غلط کام ہو تو بلا کھٹکے اس پر نکتہ چینی کیجیے۔ میں نکتہ چینی کو پسند کرتا ہوں، لیکن ایسی نکتہ چینی جو ایمانداری اور تعمیری جذبے سے کی گئی ہو۔ اچھی طرح سن لیجیے :اگر آپ یہ طریقہ کار اختیار کریں گے تو آپ ملک کے معاملات و حالات بہت جلد بہتر بنا لیں گے۔‘‘

آزادی اظہار رائے کے باب میں یہ باتیں قائداعظم محمد علی جناح نے اپریل انیس سو اڑتالیس میں ایڈورڈز کالج پشاور کے طلبہ کے سپاسنامے کے جواب میں کہی تھیں۔

Read more

جمہوری مستقبل کا خواب بے تعبیر کیوں ہے؟

گزشتہ صدی کے اختتام پر نئی ٹیکنالوجی کی ایجادات نے شہریوں کو نئی امید دلائی تھی۔ یہ امید اجاگر ہوئی تھی کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے عام شہریوں کو ضروری معلومات تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہو سکے گی۔ اور عام لوگوں کے لیے سیاسی اور سماجی سطح پر نئے رابطے قائم کرنے اور نئی برادریوں سے جڑنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ یہ ایک جمہوری مستقبل کا خواب تھا۔ لیکن بد قسمتی سے زیادہ جمہوری مستقبل کا

Read more

اب فلسطینی کیا کریں؟

پچھلے ہفتے مراکش نے متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کی صفوں میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ چوتھی اسلامی ریاست بن گئی، جس نے اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی بدلی۔ ترکی نے بھی طویل تعطل اور بحث و مباحثے کے بعد بالآخر اپنا سفیر اسرائیل میں تعینات کر دیا۔ گزشتہ ماہ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو ولی

Read more

عدم مساوات: رہاست مدینہ سے ناروے تک؟

نئے پاکستان کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ دھیمے لہجے میں ہی سہی، مگر اب بھی گاہے یہ بات سنائی دیتی ہے۔ ںئے پاکستان کے نام پر کبھی ہم رہاست مدینہ کے قیام کی قسم کھاتے ہیں۔ اور کبھی سویڈن و ناروے جیسی مساوات اور انصاف کا دعوی کرتے ہیں۔ ان نیک خواہشات اور بلند عزائم کے باوجود مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں دن بدن امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ معاشی

Read more

جمہوری دور میں مزدور کسان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

ہم جمہوری دور کے لوگ ہیں۔ ہمارے اس دنیا میں اب شاید ہی کوئی ایسا ملک بچا ہو جہاں حکومت کرنے کے لیے عوام کی مرضی اور رضامندی نہ لی جاتی ہو۔ الگ بات ہے کہ یہ مرضی معلوم کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں۔ پاکستان سمیت اکثر ملکوں میں اس مقصد کے لیے معروف جمہوری طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ لیکن چین کی طرح کچھ ایسے ممالک بھی ہیں، جن میں عوام کی رضا جاننے کے بالکل ہی منفرد

Read more

سوشل میڈیا کس کو بے نقاب کر رہا ہے؟

ایک وقت ایسا تھا کہ جب دنیا میں یہ مانا جاتا تھا کہ آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت کی بقا ناممکن ہے۔ اس بات پر بڑے پیمانے پر اتفاق موجود تھا کہ آزاد میڈیا کے بغیر اور آزادی اظہار رائے کے بنا جمہوریت خاموشی سے مر جاتی ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی کو جمہوریت کی بنیادی شرط قرار دیا گیا۔

لیکن جوں جوں سوشل میڈیا سماج کے اندر اپنی جگہ بناتا جا رہا ہے، توں توں دنیا بھر میں حکمران اشرافیہ کے میڈیا کی آزادی کے بارے میں تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، لیکن سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا تک عام آدمی کی رسائی اور دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ وقت پہلے دنیا میں ایسے لاکھوں کروڑوں افراد تھے، جو عام دھارے کے میڈیا پر انحصار کرتے تھے، جن کو حکمران اشرافیہ آسانی سے سرکاری اثر و رسوخ کے ذریعے اپنے کنٹرول میں رکھ سکتی تھی۔

Read more

ٹرمپ کے بعد امریکہ کا کیا بنے گا

ٹرمپ ہار گیا۔ بائیڈن جیت گیا۔ اس بات پر کچھ لوگ ماتم کناں ہیں، کچھ جشن منا رہے ہیں۔ مگر بوڑھے بائیڈن نے جن حالات میں امریکہ کی قیادت کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ کوئی بہت زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ اسے بہت ہی خوفناک اور مایوس کن حالات کا سامنا ہے۔ وبا کی تباہ کاریاں ناقابل یقین ہیں۔ وبا کے شکار لوگوں کی تعداد دس ملین سے گزر چکی ہے۔ معاشی بدحالی کا جو منظر ہے، وہ انیسویں صدی کی تیسری دہائی کے عظیم ڈپریشن سے کم نہیں۔

Read more

جیسے عوام ویسے حکمران کا کلیہ کیا ہے؟

ہمارے ہاں آج کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں کہ حکمران دراصل عوام کا پرتو ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ تاریخی تجربہ یہ ہے کہ قوموں پر عموماً ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں، جیسی قومیں خود ہوتی ہیں۔ ماضی میں میں شاید اس اصول پر کچھ اعتراض کیا جا سکتا ہو، مگر دنیا میں جوں جوں جمہوریت کا رواج بڑھتا گیا توں توں اس بات پر پر یقین بڑھتا گیا کہ ”جیسے عوام ویسے حکمران“ والی بات درست ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جہاں سچی جمہوریت نہیں ہوتی وہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوام پر جو حکمران مسلط ہوتے ہیں وہ سوچوں اور خیالات کے اعتبار سے عوام کے بالکل برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی ایک مثال مارشل لاز اور اس کے نتیجے میں اقتدار پر قابض ہونے والے حکمران رہے ہیں۔ مارشل لا کے علاوہ بھی پاکستان کے عوام بار بار اس تجربے سے گزرے ہیں، اس لیے وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ عالمی سطح پر اس کی ایک بڑی مثال نازی جرمنی اور ہٹلر کی ہے۔

Read more

امریکی انتخابات کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

کیا صدر ٹرمپ کی ہار یا جیت سے امریکہ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں میں کسی قابل ذکر تبدیلی کے امکانات ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو تین نومبر کے انتخابات کے تناظر میں بہت لوگوں کے ذہن میں آ رہا ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک امریکی دانشور بیٹسے ہارٹمین نے لکھا ہے کہ جب صدر ٹرمپ پہلی بار منتخب ہوئے تو کچھ لوگوں نے امریکہ میں فاشزم کے فروغ کے خطرات کا اظہار کیا۔ اس وقت میں نے جرمنی اور اٹلی کی تاریخ پر دوبارہ ایک نظر ڈالی۔

ہٹلر اور مسولینی تقریباً ایک صدی پہلے ابھرے تھے۔ اس وقت کے حالات کی آج سے کافی مشابہت تھی، لیکن اس کے باوجود اس وقت کے حالات میں اور آج کے حالات میں کافی فرق بھی ہے۔ جن چیزوں میں مشابہت ہے، ان پر ایک نظر دلچسپی سی خالی نہیں ہوگی۔ دونوں میں ایک مشترکہ چیز خوف اور ڈر کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

Read more

اگلی تبدیلی کیا ہوگی؟

تاریخ حکمرانوں کے قصے کہانیوں کا نام نہیں۔ یہ اسباق کا مجموعہ ہے۔ سیاست میں اسباق بہت ہیں، مگر ان پر غور و فکر کسی کو گوارا نہیں۔ ایک شخص جس نے ایک مدت اقتدار کی راہداریوں میں گزاری ہے۔ وہ تین عشروں کے دوران مختلف شکلوں میں وقتاً فوقتاً طاقت کی راہداریوں میں چہل قدمی کرتا رہا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے کوئی سبق نہ سیکھا ہو گا؟ مگر اس سبق کے اظہار میں اتنی دیر کیوں۔ اتنی طویل خاموشی کیوں؟

پی ڈی ایم کے جلسوں میں جو کچھ ہوا، جن خیالات کا اظہار ہوا، ان میں کچھ نیا نہیں ہے۔ مگر جو پیغام دیا گیا اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ جلسوں اور احتجاج کے ان مظاہرے کے کہیں پہلو ہیں۔ ہر پہلو غور طلب ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین عشروں میں میں اقتدار کے ایوانوں میں جو کھیل کھیلا جاتا رہا، ان کے شرکا ہوں یا شکار، انہوں نے اس پر اتنی طویل خاموشی کیوں اختیار کی۔

Read more

اظہار رائے اور نئے زمانے کے تقاضے

اظہار رائے کا سوال پرانا ہے۔ اتنا ہی پرانا جتنی خود جمہوریت ہے۔ مگر پاکستان میں حزب اختلاف کے حالیہ جلسوں کے دوران میں اظہار رائے کی آزادی کا سوال ایک نئے طریقے سے سامنے آیا۔ اس دوران میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اگر چہ حکومت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عام دھارے کے ذرائع ابلاغ کو مخصوص مواد نشر کرنے سے روک سکتی ہے۔ مگر اس پابندی سے اس مواد کی تشہیر کم نہیں ہوتی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تشہیر کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

یہ صورت احوال دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب عام دھارے کے میڈیا پر حکومت کے کنٹرول کی کوئی منطق باقی ہے؟ اظہار رائے پر پابندی کا مقصد کسی خاص بات کو عام لوگوں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ مگر اگر اس پابندی سے یہ بات عوام تک پہنچنے سے رکنے کے بجائے اور زیادہ زور و شور سے پھیلے تو گویا پابندی اپنا مقصد پورا کرنے میں نا کام ہے، جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اور اس پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ روایتی طور پر جمہوریتیں اظہار رائے پر پابندی سے گریز ہی کرتی رہی ہیں۔

Read more