عظیم روسی شاعر الیگزینڈر پشکن کی شادی اور موت کی دلچسپ کہانی

الیگزینڈر پشکن نے ماسکو میں نتالیا کو پہلی بار دیکھا۔ نتالیا گنچارووا۔ سولہ سال کی بالی عمر کی چنچل وشوخ وشنگ لڑکی جس کے حسن اور اداؤں کی رُوس کی ایلیٹ کلاس میں دُھوم مچی ہوئی تھی۔ یہ کس قدردلچسپ بات ہے کہ اس کی محبت کا آغاز اگر نتالیا کے نام سے ہوا تو اختتام بھی نتالیا کے نام سے ہو رہا تھا۔ ”نتالیا میرے دل میں ہی نہیں دماغ میں بھی گھس گئی ہے۔“ اُس نے اپنی ساس

Read more

میں کاٹھی شہزادی شارلٹ اپنے ننہال لنڈے کی عاشق

گذشتہ ڈیڑھ دو سالوں سے ایک تصویر مجھے مسلسل ہانٹ کرتی ہے۔ یہ مجھے ایک ایسی گم گشتہ دنیا میں لے جاتی ہے۔ جو اب کہیں میرے خوابوں اور یادوں میں دفن ہے۔ یہ آنکھیں ہی نہیں بھگوتی جذبات کا طوفان بھی اٹھاتی ہے۔ کوئی شدت سے یاد آنے لگتا ہے۔ جب بھی یوٹیوب کا بٹن کلک ہوا۔ سامنے ایک پیارا سا، معصوم سا، سنجیدہ سا، قدرے پھینی سی ناک والا چہرہ نمودار ہوتا ہے۔ ہلکی آسمانی زمین پر ذرا

Read more

معاملہ تو اہم ہے۔ تھوڑی سی توجہ اگر ہوجائے

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود لاہور کے ادیبوں اوردانشوروں سے ملاقات کرنے آئے تو سوچا معاملہ تو بڑا اہم ہے گوش گزار ہوجائے اور شاید اس پر کچھ نوٹس بھی لے لیا جائے تو ملک کے بچوں کا ہی بھلاہوجائے۔ اب بھاگم بھاگ ایوان اقبال جا پہنچے اور جب تقریب کے انعقاد کی ضرورت اور اہمیت پر مختصر سے تعارفی کلمات کے بعد حاضرین کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو ہمارا ہاتھ سب سے لمبا تھا۔ آواز بھی

Read more

ہمیں معلوم ہے ہم کربلا میں ہیں

تو آج کربلا کے لئے روانگی تھی۔ بغداد سے کربلا، کوفہ اور نجف اشرف کے شہر دراصل میسوپوٹیمیا کے علاقے ہیں۔ دجلہ و فرات سے مستفیذ ہونے اور اِن کی زرخیزی سے بھرپور فائدہ اٹھانے والے۔ ایک تو جگہ جگہ چیک پوسٹوں کا سیاپا۔ گاڑی رک جاتی۔ پولیس کا پورا جتھا چیکنگ کے جدید ترین آلات کے ساتھ اندر آتا۔ پہلا مرحلہ تو گھور گھور کر دیکھنے کا ہوتا یوں جیسے القاعدہ کے لوگ ہوں۔ صحرا کا نخلستان دیکھنے کا

Read more

پیٹرز برگ میں میخائل وینرا لیوچ کی کھٹی میٹھی باتیں

پیٹرز برگ کے پیٹر ہاف میں میری میخائل سے ملاقات ہوئی۔ وہ ریلنگ کے ساتھ کھڑا فن لینڈ کے پانیوں کو دیکھتا تھا۔ گورا چٹا، اُونچا لمبا، موٹا تازہ، جس نے بڑی شُستگی سے میرے پاس آ کر مجھ سے میری وطنیت کا سوال کیا تھا۔ حیرت و مُسرت سے میں نے پلکیں جھپکاتے ہوئے اُسے دیکھا اور اُس کا سوال اُسی کو لوٹا دیا۔ ”میں تو رُوسی ہوں۔ “ وہ ہنسا۔ ”ارے تو اُردو اتنا خوبصورت بولتے ہو۔ میں

Read more

لُٹنا میرا استنبول کے کیپلی کارسی میں اور ترک پولیس کو ”سیلوٹ“۔

توپ کاپی سرائے میوزیم کی آرمینیائی طرز تعمیر کی خوبصورتیوں، پچی کاری و تزئین کاری کی ہوش رُبا رنگینیوں سے طلسم زدہ سے باہر آئے توکسی اور طرف منہ مارنے کی بجائے گرینڈ بازار کا رُخ کیا کہ لیرے ختم تھے اور گرینڈ بازار سے ملحقہ منی چینج آفس کا لڑکا انگریزی سمجھتا تھا۔

سو ڈالر کا نوٹ سوراخ سے اندر گیا۔ پیسے لئے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ہو ٹل آ گئے۔ ادائیگی کے لئے تہہ کیے ہوئے سارے لیرے کھولے۔ ٹیکسی ڈرائیور نے ہلکے نیلے رنگ کے ایک نوٹ کو چُھوا ”یہ تو متروک ہو چکا ہے۔ “

Read more

کشمیر اور فلسطین: یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا

 کشمیر کے بدن پر زخم لگانے والے لوگ پہلے تو خود کشمیریوں کے سرکردہ لوگ ہیں۔ اسی طرح جیسے فلسطین کو بیچنے والے پہلے لوگ خود اس کے اپنے کھاتے پیتے فلسطینی تھے۔ جو صہیونیوں کے اِس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے تھے کہ یہ بنجر بے آباد زمین بھلا کس کام کی؟ ان زمینیوں کے مالک فلسطینیوں نے پل بھر کے لیے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ آخر یہ صہیونی ایسی زمینیں اتنے مہنگے داموں اُن سے

Read more

کشمیراور فلسطین کے بدن پر پہلے زخم اپنوں کے

کشمیر کے بدن پر زخم لگانے والے لوگ پہلے تو خود کشمیریوں کے سرکردہ لوگ ہیں۔ اسی طرح جیسے فلسطین کو بیچنے والے پہلے لوگ خود اس کے اپنے کھاتے پیتے فلسطینی تھے۔ جو صہیونیوں کے اِس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے تھے کہ یہ بنجر بے آباد زمین بھلا کس کام کی؟ ان زمینیوں کے مالک فلسطینیوں نے پل بھر کے لیے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ آخر یہ صہیونی ایسی زمینیں اتنے مہنگے داموں اُن سے

Read more

طالبان کو منانا کون سا خالہ جی کا گھر ہے

لاؤنج میں گھر کی عورتیں جو عمران خان کی عاشق، صادق اُس کی سر گرم سپوٹرز، اس کی ووٹرز، ٹرمپ کے ساتھ اُس کی میٹنگ کا حال احوال دیکھنے بیٹھی تھیں۔ اس کرشماتی لیڈر کا حامی یہ تعلیم یافتہ مڈل کلاسیا طبقہ اس کے حالیہ متعدد فیصلوں، حکومتی طورطریقوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں پر یشان اُس سے قدرے خفا سا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا پڑھا ہوا عالمی سطح پر جانا پہچانا یہ شخص دنیا کی سپر پاور کے

Read more

گم شدہ بغداد کی کہانی: مرے بچے یہاں پر کھیلتے تھے

کاظمین کے ٹیکسی سٹینڈ پر حسب وعدہ میرا ٹیکسی ڈرائیور منتظر تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے منتدرل الزیدی Muntader۔ al۔ zaidi کی بش پر جُوتا پھینکنے والی شہرہ آفاق نظم کو پھر سُننے کی خواہش کی۔ افلاق ہنسا۔ ” بس اسے ہی سنتے جانا ہے۔ نہیں آج آپ نئی چیزیں سُنیں گی۔ “ پھر گاڑی میں ایک دلکش آواز گونجی تھی۔ کیا آواز تھی اور کیا گیت تھا؟ معلوم ہواتھا کہ یہ Give me love کے Songs of

Read more

عراقی تیل کو طوائفوں اور فاحشاؤں سے کیوں نہ بچایا جا سکا؟

یہ 2008 ہے۔ جنگ ختم ہونے کے باوجود امریکی افواج عراق کے چپے چپے پر بیٹھی اِسے خون میں نہلا رہی ہے۔ میرا جنون جیسے مجھے اڑا کر وہاں لے گیا تھا۔ دعاؤں کے پلندے ساتھ تھے۔ شاید اسی لیے افلاق جیسا کیمیکل انجنئیر جنگ کا زخم خوردہ ٹیکسی ڈرائیور کی صورت خدانے مجھے ٹکرا دیا تھا۔ گزشتہ رات جب ہم سعدون سٹریٹ سے گزرتے تھے۔ دفعتاً وہ سوال لبوں پر آیا کہ آخر عراقی فوج پیشہ ورانہ تربیت کے

Read more

افغان: جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

کیاکروں۔ ساغر صدیقی اور اس کی اس مصرعے کی حامل یہ شہرہ آفاق غزل بہت شدت سے یاد آئی ہے کہ گذشتہ رات جو کچھ اور جس صورت میں دیکھا ہے۔ اس کی اِن اشعار سے بہتر ترجمانی ہوہی نہیں سکتی۔

ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی انداز وفا یاد نہیں

Read more

ہیکل سلیمانی کی تعمیر، الاقصیٰ کی بربادی اور خفیہ خزانے کی تلاش

سچی بات ہے شدید ڈپریشن والی ملکی صورت حال ہے۔ نہ اخبار پڑھنے پہ دل مائل، نہ ٹی وی دیکھنے پر آنکھیں راضی۔ ایسے میں ایک حیرت انگیز کتاب آپ کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ ”دیوار گریہ کے آس پاس“ کیا پڑھی کہ میرے تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ تب سوچا کہ یہ تو ”ہم سب“ قارئین سے شئیر کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے مختصر سا تعارف پاکستانی ڈاکٹر کاشف مصطفی کا جو اِس وقت دنیا کے بہترین ہارٹ

Read more

بڑی طاقتوں کے حکمرانوں کو تاریخ کون پڑھائے؟

صدقے جاؤں کیسے ہیں یہ بیچارے راندۂ درگاہ فلسطینی۔ اِن بڑی طاقتوں اور ان کی حلیف چھوٹی چھوٹی ترقی یافتہ طاقتوں سے کیسی کیسی امیدیں باندھتے ہیں۔ اپنے موقف کو دنیا کے سامنے زندہ رکھنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے رہتے ہیں۔ ابھی ایک دن قبل کی خبر بڑی خوش آئند تھی اُس کاز جس کے لیے یہ بدقسمت قوم لگ بھگ پون صدی سے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ جیلوں میں سالوں پر پھیلے ایام میں نوخیز جوانیوں کو گلتے سڑتے دیکھتے، ذلت کے نئے رنگ اور انداز سہتے، بیٹے سے باپ، باپ سے دادا اور دادا سے پردادا بنتے ہوئے ایک زمانہ گزار بیٹھے ہیں۔خبر تھی کہ جمہوریہ چیک نے اپنا سفارت خانہ یروشلم سے واپس تل ابیب منتقل کرنے کے فیصلے کے اعلان کردیا ہے۔

Read more

وادی بابو سر کے گھر میں دیواروں پر لٹکتی بندوقیں اور محفلِ شعر و سخن

آوارگی تو جسم کے ہر خلیے میں رچی ہوئی تھی۔ شادی کے پہلے سات سال دانتوں تلے زبان دے کرگزار لئے تھے۔ تو اب جی رائیڈر ہیگرڈ کے میکو میزن اور ہنسیں کا روپ دھارنے کو چاہنے لگا۔ شمالی علاقہ جات کے پھلوں، سوغاتوں اور پر اسرار دنیا ؤں کی نمک خوار تھی۔ گرمائی تعطیلات میں بچوں کی انگلی پکڑی اور چھوٹی خالہ کے پاس اسلام آباد جا دھمکی۔ ”چھوٹی خالہ میرے بچے تیرے حوالے۔ بس پریوں کے دیس لکھنے

Read more

سچ بتائیے، کبھی کبھی شوہر کو پھینٹی لگانے کو جی چاہتا ہے نا؟

اللہ مجھے معاف کرے۔ میری بتیسی اونچے ٹبوں پر اُگی کپاس کے پھولوں کی مانند کھلی پڑ رہی ہے۔ مارے خوشی کے دل میں لڈو سے پھوٹ پڑے ہیں۔ بھئی کیا کروں خبر ہی ایسی ہے کہ دل شاد ہوگیا ہے۔ ارے ایک میرا تھوڑی، یقین جانیں ہر اُس بی بی کا جو ریت روایت اور رواج کی گھمن گھیریوں میں پھنسی، کہیں اولاد کی زنجیروں میں جکڑی اور کہیں رشتوں کی لڑیوں میں پروئی اس گھریلو زندگی میں ہونے

Read more

مادام، عمران خاں کیا پیسے مانگنے آیا ہے؟

یہ میرا چینی ڈرائیور تھا۔ جس نے اپنے پتلے ہونٹوں اور تکونی آنکھوں میں شرارت نما پھیلے طنز سے مجھے دیکھتے ہوئے یہ جملہ بولا تھا۔ گاڑی کے ادھ کھلے دروازے پر دھرا ہاتھ اُس وقت اک ذرا لرزا ضرور تھا۔ جی بھی میرا اُسے ایک زور دار اور کرارا سا جھانپڑ لگانے کو چاہا تھا۔ مگر سچائی سے جملے میں چھلکتی حقیقت نما تلخی کا تجزیہ کروں تو گویا مجھ پاکستانی کو میری اوقات یاد دلانے کی ایک معصومانہ

Read more

سری لنکا: آج ہمارے آنسو کون خشک کرے گا؟

A Land like no other سالوں بعد ایک بار پھر خون میں نہا گئی ہے۔ دنیا کے نقشے پر کسی نازنین کے رخسار پر گرے خوبصورت آنسو کی صورت دکھائی دینے والے اِس قدرتی حسن سے مالامال ملک سری لنکا کا مغربی ساحلی شہر نگمبوNegomboاس کا دارلخلافہ کولمبو جن کے خدوخال کے حُسن پر کہیں پُرتگیزوں اورکہیں انگریزوں کے عکس انھیں بہت دلکش بناتے ہیں۔

نگمبو کاSt۔ sebastianچرچ آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔ مہرالنساء اور میں ڈچ فورٹ خوبصورت رومن کیتھولک چرچوں اور سی سٹریٹ کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے کرتے نڈھال ہوچکی تھیں۔ چرچ سامنے تھا۔ عبادت ہورہی تھی۔ اندر داخل ہوکر چوبی بینچوں پر بیٹھ گئیں۔ معصوم صورت بچے، عورتیں، مرد گیت گارہے تھے۔ کِسی نے نہیں روکاٹوکا۔ کِسی نے ہم سے کچھ نہیں پوچھا۔ بس مسکراہٹیں بکھیریں، ہیلو ہائے کیا۔

Read more

بیجنگ نے تو مجھے تتّے توے پر بٹھا دیا

بیجنگ میں میرا حال تتّے توے پر بیٹھنے جیسا ہوگیا تھا۔ پہلی حیرت اسلام آباد سے بیجنگ کے لیے جانے والے مسافروں کو دیکھ کر ہوئی۔ ان میں اکثریت تو نوعمر بچیوں اور بچوں کی تھی۔ جن کی بہار آئی پڑی تھی۔ دوسری پختہ عمر کے لوگوں کی تھی جن کے چہرے مہرے، لباس اور حال احوال انہیں کہیں جنوبی پنجاب اور کہیں خیبر پختون سے تعلق کا بتاتے تھے۔ اب کچھ جاننے کا تجسّ کشاں کشاں اُن کے پاس

Read more

دمشق اور بغداد کے گھروں، کیفوں میں ہمارے فائٹر پائلٹوں کی کہانیاں

حامد میر کے کالم ”عزت چاہیے یا ذلت“ نے مجھے کیا کیا نہیں یاددلایا۔ تین کہانیاں جو دمشق کے گھروں، دجلہ کے پانیوں، بغداد کے کیفوں اور مسجدوں میں بکھری مجھے ملی تھیں۔ فخرو عزت کی داستانیں جنہیں سُن کر میرے دل نے آصیل مرغ کی اپنے پر پھیلائے تھے اورذلت کا سُن کر میرا سر ندامت سے جُھک گیا تھا۔توآیئے پہلے آپ کو دنیا کے کلاسیکل حُسن رکھنے والے شہر دمشق لے کر چلتی ہوں۔ جنگ سے پہلے کا دمشق جسے ابدیت کا شہر کہا جاتا تھا۔ جس کا جادوئی حُسن کا سحر آنکھوں میں رقصاں پتلیوں کو منجمند کرتا تھا۔ جس کے بارے مارک ٹوئن نے کہا تھا۔ دمشق کو کبھی ماہ و سال کے پیمانوں سے مت ماپنا۔ اس کی صورت گری صرف سلطنوں کے عروج و زوال کے آئینوں میں ہی ممکن ہے۔

Read more

بھئی ہم نے ایف سولہ کا کوئی اچار ڈالنا تھا

لو بھئی یہ بھی خوب رہی۔ یعنی اُلٹے بانس بریلی کو۔ بجائے اس کے کہ زیادتی کرنے والے کو لعن طعن کیا جاتا کہ ڈوب مرو۔ نہتے اور معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہو۔ ہمسائے کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہو۔ اب رات کے اندھیرے میں اس کے گھر پر چڑھ دوڑے ہو۔ تو اب وہ اپنے دفاع میں کوئی ہتھیار اٹھائے تو پہلے یہ سوچے کہ بیچنے والے نے اس کے استعمال پر کون سی شرطیں عائد کی تھیں۔

میں بات کررہی ہوں دنیا کے اِس بڑے تھانیدار کی۔ کوئی اُس سے پوچھے تو سہی کہ بھئی ایف سولہ کیا ہم نے اچار ڈالنے کے لیے خریدے تھے یا انہیں سجانے کا چاؤ تھا۔ ہماری ساکھ، ہماری عزت داؤ پر لگی ہو اور ہم ہینگروں میں سجے کھڑے اِن سوپر سونک کو بس للچائی نظروں سے دیکھتے رہیں اور خوش ہوتے رہیں کہ یہ ہمارے پاس ہیں۔ اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں۔ سچی بات ہے ذرا اِن سامیوں کو تو دیکھو اور سُنو۔ سارے جہان کا درد ہمارے جگر میں ہے کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔

Read more

درویشوں کا ڈیرہ

ڈاکٹر خالد سہیل سے ہلکی پُھلکی شناسائی ان کے مضامین کے حوالے سے ہی تھی۔ یہ امیر حسین جعفر ی تھے۔ اردو ادب کے مایہ ناز شاعر اختر حسین جعفری کے منفرد شاعر اور دانش ور بیٹے جنہوں نے کینیڈا میں اُن کی قربت میں بارہ تیرہ سال کا عرصہ گزارا۔ پاکستان آئے اور ہمارا اُن سے مکمل غائبانہ تعارف کروایا۔ کہیں اُن کے ایک خواب کا بھی ذکر ہوا۔ تو پہلی مبارک باد ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ آپ کوئی

Read more

چلو شکر دہشت گرد ملک کی کالک تھوڑی سی تو چھٹی

عثمان امجد بھٹی کی فیس بک پر لگائی گئی د نیا کے نمبر ون انٹرنیشل بزنس میگزین فوربز کی رپورٹ ہمارے لیے جہاں ایک طرف خوشی و مسرت کا باعث ہے وہیں حکومتی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اس فوربز نے 2019 ء میں جن دس ممالک کو عالمی سیاحت کے لیے منتخب کیا ہے اُن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

سچی بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی سیاحت کے لیے کچھ سنجیدہ ہی نظرآتی ہے۔ اخبارات کی بیان بازیاں اپنی جگہ مگر اِس ضمن میں عملی طور پر سمجھداری سے بھرپور جو اقدام سامنے آئے ہیں اُن میں پہلا اور اہم تو دربار صاحب کرتار پور کا ہے۔ مذہبی سیاحت کے پیش نظر اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس پر فوری عمل کرنا اہم تھا اور وہ کیا گیا۔

Read more

آئیے دوستووسکی اور اینا سے ملیں

میری طرح پاکستانیوں کی ایک اکثریت آج کل ملکی حالات کی وجہ سے ڈپریشن میں ہے۔ سوچا کہیں چلتے ہیں۔ کراچی سے فون پر میرے ویزا اور ٹکٹ ایجنٹ کی آواز حیرت وتعجب میں ڈوبی سنائی دیتی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں اتنے دن؟ کوئی آپ کا ہے وہاں؟ وہاں میرا گُرو رہتا ہے۔ یہ جملہ میرے ہونٹوں نے نہیں میرے دل نے کہا تھا۔ ہم لکھنے والوں کے جو بندھن اجنبی سرزمینوں کے کاغذ، قلم اور فن سے رشتہ جوڑنے والوں سے ہوتے ہیں وہ عام لوگوں کی سمجھ میں کب آتے ہیں؟

بھلا دوستو وسکی سے بڑا کون اپنا ہوسکتا ہے۔ تو میں زاروں اور انقلابیوں کے محبوب شہر میں ہوں۔ پرانی یم سکایا سٹریٹ جو اب دوستو وسکی کہلاتی ہے۔ یہیں کونے پر وہ چار منزلہ عمارت کھڑی ہے جس کے ایک اپارٹمنٹ میں اکتوبر 1878 ء میں وہ میرا محبوب لکھاری اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہوا اور یہی وہ گھر تھا جہاں 1846 ء میں بھی اس نے کچھ وقت کرایہ دار کی حیثیت سے گزارا تھا۔ گویا یہ گھر اس کی تخلیقی زندگی کی ابتداء اور انتہا تھا۔

Read more

الطافِ صحافت

”الطافِ صحافت“ کے لیے پہلا شکریہ تو مجھے ڈاکٹر طاہر مسعودصاحب کا ادا کرنا ہے۔ مگر ٹھہریے کتاب پر بات کرنے سے پہلے کچھ کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے ابھی تک میری براہ راست ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ٹیلی فونک رابطہ بھی بس دو تین کالوں تک ہی محدود رہاہے۔ مگر اِن کالوں یا ملاقاتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دراصل میں اپنے طور پر سمجھتی ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان ایک گہرا ناتہ اور واسطہ اُس درد کے حوالے سے ہے جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور جہاں کی وہ جم پل تھے اور جس کے فراق کا اظہار مجھے کہیں کہیں اردو ڈائجسٹ میں اُن کی تحریریں پڑھنے سے ملتا تھا۔ مشرقی پاکستان جو میری بھی محبت تھی اور جس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے میں بھی وہاں گئی تھی۔

Read more

لینن کی بیوی کرپسکایا کیسی شخصیت تھی

انیس ہارون کی آپ بیتی میں فہمیدہ ریاض کا بہت ذکر ہے۔ دوستی تھی دونوں میں۔ ترقی پسند نظریات میں بھی دونوں ہم رائے اور ہم نوا تھیں۔ لینن سے بڑی عقیدت اور روس سے وابستگی تھی۔ ایک جگہ انیس لکھتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر سے بہت محبت تھی۔ میاں کا کام کرنے سے وہ خوشی محسوس کرتی تھیں۔ یہاں فہمیدہ انہیں لتاڑتی تھیں۔ ستی ساوتری جیسے طعنوں سے نوازتی تھیں۔

دراصل یہ سوچ فہمیدہ کے ہاں ہی نہیں بلکہ بیشتر ترقی پسند خواتین کے ہاں غالب نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں یہ بچگانہ سوچ ہے۔ انسانوں میں محبت کا جذبہ اُن کی بنیادی جبلت ہے۔ اگر جوڑے میں پیار ہے تو ایک دوسرے کا کام کرنے میں کیا شرمندگی اور کیا توہین۔ چلئے عظیم مسلمان عورتوں کا اس ضمن میں کیا کردار تھا اُسے تو چھوڑئیے۔ اُن کے اپنے لیڈرلینن کی بیوی کرپسکایا جو رول ماڈل کی صورت میں ان عورتوں کے سامنے ہے۔ اُس کی ازدواجی زندگی کی جھلکیاں دیکھئیے کہ وہ بطور بیو ی کس قدر محبت کرنے والی، کتنی باوفا، ہمدرد، کتنی غم گسار، غریبی اور دُکھ کے دنوں میں ہر لمحہ ساتھ دینے والی شوہر کی طبیعت اور مزاج کی نرمی گرمی برداشت کرنے والی۔ کیسی عظیم عورت تھی۔

Read more

سندر بن کے جنگلات، عید اور میں

یہ دسمبر 1969 کا رمضان ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بندہے۔ رقیہ ہال میں بشمول میرے خال خال لڑکیاں رہ گئی ہیں۔ کچن کی بوڑھی دادیوں کو میری سحری افطاری کا بڑا فکر رہتا ہے۔ اُنہیں میری عید کی بڑی فکر ہے۔ یہ جاننے پر کہ میں عید منانے اپنی دوست کے ساتھ باریسال سے بیس میل دور صاحب رائے گاؤں جارہی ہوں اُن کے چہروں پر طمانیت بھری مسکراہٹ پھیل گئی ہے۔ یہ ممتا سے بھری بوڑھیاں جنہیں بنگالی، بہاری، پنجابی کی سیاست سے کچھ سروکار نہیں۔ بس محبت میں لُتھڑی انسانیت کے ماتھے کا جھومر کیسے اس وقت بے طرح یاد آرہی ہیں۔

اس بوڑھے ڈرل ماسٹر کی یاد نے بھی آنکھیں بھگو دی ہیں۔ عصر سے افطاری تک آڈیٹوریم کے چکنے فرش پر میری دھواں دھار قسم کی اسکیٹنگ اُسے مضطرب کیے رکھتی۔ ”بس کرو۔ روزہ ہے تمہارا اور ہاں عید کرنے گھر جاؤ گی۔ “ نہیں تو۔ اپنے گھر ہی تو عیدیں کرتے کرتے اتنی بڑی ہوئی ہوں۔ اس بار تو پوربو دیس میں عید ہوگی۔ ”میری بات پر وہ کھل اٹھتا ہے۔ لفٹ مین نورالزماں، گیٹ کے دربان نومی اور مونو، دھوبی، موچی جن سب سے میری محبتیں تھیں۔ میری پوربو پاکستان میں عید منانے کو مسرت بھرے جذبوں سے سراہ رہے ہیں۔ شوق وارفتگی کے جذبات میرے بھی انگ انگ سے پھوٹ رہے ہیں۔

Read more

مشرقی پاکستان اور دادی امّاں کی کھٹی میٹھی یادیں

پاکستان کی نئی نسل کی ایک اکثریت شاید یہ جانتی ہی نہ ہو کہ آج کا بنگلہ دیش کبھی اِس ملک کا حصّہ تھا۔ اس کا بازو تھا۔ اس کا مشرقی پاکستان تھا۔ ہماری جوانی میں یہ ہمارا پوربو پاکستان تھا۔ جہاں خوبصورت جزیرے تھے۔ حسین آبشاریں گنگناتی ندیاں اور دریا تھے۔ جس کے بے کراں بہتے پانیوں پر مانجھیوں کے نغمے تیرتے تھے۔ بانسری کی مدھر تانیں کانوں میں رس گھولتی تھیں۔ پوکھروں میں کنول کھلتے تھے ۔ ناریل

Read more

بگڑیاں تگڑیاں دا یار ڈنڈا

کچھ رولا رپا تو اِس جہالت کا تھا جو اکہتر سالہ اِس پاکستانی وجود پر ابھی بھی آکٹوپس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ کچھ کو برصغیر کے صدیوں پرانے طبقاتی تقسیم کے اُس نظریے کے کھاتے میں ڈال دیں جہاں شودر اور دلت جیسی ذاتیں برھماکے پاؤں سے نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔ پچاس برس قبل کی اپنی دادی کے گاؤں پر گزاری ہوئی گرمائی چھٹیوں کی تفصیل میں جاؤں تو یاد آتا ہے کہ جون جولائی کی دوپہروں میں اُن

Read more

افغان عورتوں کی رومانی اور مزاحمتی شاعری

افغانستان میں عورتوں کی شاعری کبھی قابل قبول نہیں رہی۔ اِسے ماننا یا سراہنا یا اس کی حوصلہ افزائی کر نا تو بہت دور کی بات ٹہری یہ اُن کے لئے شجر ممنوعہ ہی نہیں اسے ایک جرم اور گناہ گردانا جاتا رہا ہے۔ یہ کوئی طالبان دور کی بات نہیں ایسا صدیوں سے ہو رہا ہے۔ حکومتی و ریاستی یا معاشرتی جبر تو رہا ایک طرف شاعرہ کے اپنے والدین اور عزیز و اقارب بھی اِس سلسلہ کی سب

Read more

اورنج ٹرین والے تمہیں ہم یاد کرتے ہیں

ہاں میں تمہیں یاد کرتی ہوں۔ ہر روز باقاعدہ صبح 8اور 9بجے کے درمیان۔ تم نے کام ہی ایسا کیا ہے؟ کہ جب میں ملتان روڈ پر چڑھتی ہوں۔ بے ساختہ میری نظر یں اوپر اٹھتی ہیں۔ اونچے اونچے دیوہیکل کالموں پر بچھی ناک کی سیدھ میں چلتی ٹرین کی پٹڑیوں کی سلیبیں دور تاحد نظر جاتی بہت سے منظروں کے راستے بند کرتی نظروں سے ٹکڑاتی ہیں۔ جابجا پڑے مٹی، اینٹوں کے ڈھیر، سریے کے ٹکڑے طبعیت پر گراں

Read more

مساجد میں عورتوں کا داخلہ، ان کی امامت اور امام ابو حنیفہ

زکریا ورک نے اپنے حالیہ مضمون میں مغربی ممالک کی مساجد میں عورتوں کے مسجدوں میں داخلے پر مساجد کی انتظامیہ کی طرف سے ردّعمل اور عورتوں کی امامت بارے جس طرز عمل اور فکر کے بارے لکھا ہے اس نے تحریک دی ہے کہ کچھ لکھوں۔ جہاں تک پہلے حصّے کا تعلق ہے یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک میں ہی نہیں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشائی ممالک میں بھی اسی شدت سے نظرآتا ہے۔ بلکہ اکثراوقات یہ رویہ نفرت

Read more

ہم جیسے ماٹھے لوگوں کی توقعات

ہم چھوٹے ناکارہ ماڑ ے موٹے اور ماٹھے سے لوگ، جو اس ملک کی کرسیوں پر نئے بیٹھنے والوں سے کیسی کیسی انقلابی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ خواب بننے لگتے ہیں۔ ہتھیلی پر سرسوں اُگانا چاہتے ہیں۔ ہماری تمنا ہوتی ہے کہ ہر رات جب آنکھیں بند کریں اور صبح دم جب یہ کھلیں تو ملک کے لیے کی جانے والی کسی نئی اصلاح کی آواز کانوں میں پڑے۔اخبار اٹھائیں تو امید افزا خبریں پڑھنے کو ملیں۔ الیکڑونک میڈیا

Read more

سوویت انقلاب، سٹالن اور اس کی بیٹی سوتلانہ

پیٹرز برگ میں میرے حسابوں خریدنے کی اگر کچھ چیزیں تھیں تو وہ کتابیں تھیں۔ اور وہ میں نے خریدیں ”Stalin Russia“بھی انہی میں سے ایک تھی۔ عید کی چھٹیاں تھیں۔ ایک نیا وزیراعظم ملک پر براجمان ہوا ہے نئے عزائم کے ساتھ۔ گو دونوں میں کچھ ایسی مماثلت بھی نہیں ہے۔ تاہم کتاب میرے ہاتھوں کھل گئی ہے۔ لیجئیے آپ بھی میرے ساتھ شامل ہوں۔ میں کیمونسٹوں کے دور میں ہوں۔ 1928ء سوویت یونین کے ایک گاؤں کا گھر

Read more

نواز شریف طیب اردوان بننا چاہتا تھا

اُس کے ہاں سیاسی بصیرت کی کمی تھی؟ واقعات و حالات کو ان کے گہرے تناظر میں دیکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے عاری تھا؟ یا پھر ضدی ہے۔ انا کے خول میں نرمی اور لچک کی گنجائش نہیں رکھتا۔ پاکستانی بدن میں رچی بسی آمرانہ ذہنیت کو ذہانت، سمجھ داری، حوصلہ مندی اور تیل دیکھ تیل کی دھار دیکھ جیسے فارمولے پر عمل کرنے کی بجائے اناً فاناً اُسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی عجلت کا شکارتھا۔ طیب

Read more

میرا مزدور باپ، بھٹو اور میں

میرا باپ مزدور آدمی تھا اور ایک ایسے گھر میں رہنے پر مجبور تھا جس پر اس کے پڑھے لکھے افسر سالوں نے تقسیم کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔ علم کی دولت پاس نہ ہو، مقدر بھی ڈھیلا ڈھالا ہو اور ماں باپ کے روکڑے، ڈھور ڈنگر اور پکے گھر سب پیچھے رہ جائیں۔ تو پھر نصیب میں مزدوریاں رہ جاتی ہیں۔ اور وہ ایسا ہی مزدور تھا۔ ماحول، سگے رشتوں، اُن کے رویوں اور رہن سہن کے تضادات کی

Read more

اسیں کون جمّعے جنج نال

اب نیتن یاہواور محمد بن سلمان کے درمیان عمان کے شاہی محل میں خفیہ ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ تاج دار اردن کہیں ان ملاقاتوں میں دکھتے ہیں اورکہیں غائب ہیں۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ بھلا تمہارے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں؟ تم کون؟بھئی میں خوامخواہ۔اب یہ خواہ مخواہ اس مسلم اُمّہ سے اپنے تعلق اور ناطے واسطے کی جذبایتت کو تو ذرا ایک طرف رکھے کہ جو بار بار کچو کے دیتی ہے کہ یہ کچھ سوچ ہی

Read more

آصف زرداری سے آپ کی کیا رشتہ داری ہے؟  

روم کا مضافات شروع ہو رہا تھا۔ کتنی تمنا تھی اِس عظیم الشان، سفاک اور اندھی طاقت کے مظہر شہر کو دیکھنے کی۔ یورپین تہذیب کا ایک شوکیس جس کے قدیم ترین ورثے حیران کرنے والے ہیں اور ماڈرن سانچے اِسے توانائی سے مالا مال کرتے ہیں۔ گاڑی کی رفتار کم ہوتے ہوتے رُک گئی۔ اسٹیشن لابیاں ٹرین ٹریکوں کے لیول سے روم میں بھی جڑی ہوئی تھیں ۔ مجھے یہ سسٹم بہت اچھا لگا تھا۔ میں انسانوں کے اِس

Read more

میلانیوں اور رومیوں کی نوک جھونک کراچی اور لاہور والوں جیسی ہے

”دی لاسٹ سپر“ دیکھنے کے بعد اب باہر بینچ پر بیٹھی گھونٹ گھونٹ دودھ پیتے، کبھی لوگوں پر نگاہیں ڈالتے اور کبھی نقشے کو دیکھتے، سوچوں کی گھمن گھیریوں میں تھی کہ آگے کیا دیکھنا ہے؟ وہیں بیٹھے بیٹھے نقشے کو کھولا ضرور، مگراگلا آئٹم ”لیونارڈو کا گھوڑا“ دیکھنے سے انکاری ہوگئی۔ ’’بس بھئی بس! بہت خراج تحسین پیش کر دیا ہے، میں نے۔ وانچی کے علاوہ بہت کچھ اور بھی ہے میلان میں۔‘‘ ’’میلان کے ڈاؤن ٹاؤن چلتی ہوں۔

Read more

جاگ بنگالی جاگ

وجاہت مسعود کے کالم جاگ پنجابی جاگ کا عنوان ہی ایسا تھا کہ جو مجھے پل جھپکتے میں اُس دیس لے گیا جو کبھی میرا تھا۔ ہم سب پاکستانیوں کا تھا۔ ہمارا پوربو پاکستان تھا۔ جہاں ناریل، تاڑ، سپاری اور کیلوں کے درختوں کے جھنڈوں تلے بانس کی جھونپڑیاں اور اُن پر لہراتی بل کھاتی مختلف رنگوں کی بیلیں گھروں کو آرٹسٹک اور مکینوں کو آرٹ لورر بتاتی تھیں۔ جس کے پوکھروں میں کھلنے والے کنول اپنی خوبصورتی اور سرخی

Read more

شام ایک بار پھر نشانے پر

آہ بدقسمت شام ایک بار پھر اِن بڑی طاقتوں کے نشانوں پر۔ آگ اور خون کے طوفان سے ابھی نکلا بھی نہیں تھا کہ پھر نشانے کی زد پر رکھ لیا گیا ہے۔ میرے خدا صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت میں پورپور گندھا ہوئے خوبصورت ملک کا کیسے اِن لوگوں نے ناس ماردیا ہے۔ شامیو تم نے جبر اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر تم ہار گئے۔ شاید تم نے اِن ظالموں کی اُس سفاکی کا سوچا ہی

Read more