دوست پبلیکیشنز اسلام آباد نے لکھاریوں کے سینوں میں خنجر اتار دیے

مجھ نگوڑی پر تو وہی مثال صادق آ رہی تھی کہ تیرا لٹیا شہر بھنبھور نی سسیئے بے خبرے جمعے کی شب طاہرہ اقبال کو ان کے نئے ناول ہڑپہ جسے جہلم بک کارنر نے چھاپا ہے پر مبارک باد دینے کے لیے فون کیا۔ شکریہ کہتے ہوئے طاہرہ نے کہا ”تمہیں کچھ معلوم ہے دوست پبلیکیشنز اسلام آباد نے اپنا کاروبار سمیٹ کر ہماری کتابیں ردی والوں کو اٹھوا دی ہیں اور خود امریکہ چلے گئے ہیں۔“ ”کیا کیا؟

Read more

کچھ کہہ سکتی ہوں؟

گھر کا بڑا بچہ سرمد بھاگتا ہوا دادی کے پاس آیا تھا۔ سرمد اے لیول کا ذہین طالب علم ہے جسے ملکی و عالمی سیاست سے گہری دلچسپی ہے جس کے حصول کے لیے وہ مختلف چینلز کو ہی نہیں دیکھتا بلکہ نیٹ سے اردو، انگریزی کے کالم بھی پڑھنے لگا ہے۔ اس وقت اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ میرے پاس بیٹھتے ہوئے مضطرب لہجے میں بولا۔ ”دادو آپ جانتی ہیں کیا کہ اسلام آباد بنگلہ دیش کے پیسوں

Read more

پرانے بیجنگ کے گلی کوچوں کا حسن

کچھ کھو گیا تھا۔ کیا؟ کہوں گی بہت کچھ۔ شاید وہ وقت، وہ حسن، وہ روایات جو بہت قدیم شہروں کے اندر اس کے قدیمی حصے کا ہار سنگھار ہوا کرتی تھیں۔ اس کی خوبصورتی تھی۔ اس کا حسن تھی۔ جدت اور ماڈرن ازم کے ہتھوڑے اگر بے رحمی سے چل پڑیں اور کچھ بڑوں کو انھیں مٹانے کا جنون سوار ہو جائے تو پھر شہر کا بیش قیمت سرمایہ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ میرے لاہور کے ساتھ ایسا

Read more

عمران خان اور مسولینی تاریخ کے آئینے میں آمنے سامنے

وہ سب پڑھی لکھی تھیں صحیح معنوں میں۔ ڈگریاں تو تھیں ہی ان کے پاس پر سیاسی اور سماجی علم کی بھی بہتیری بہتات تھی ان کے ہاں۔ ہر ماہ میں دو بار ملنا ضروری تھا جہاں وہ دل کھول کر حالات حاضرہ پر باتیں کرتیں۔ تاہم کچھ عرصے سے انہوں نے طے کیا تھا کہ چونکہ اب ان کے دل کمزور ہو گئے ہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں بھی گلے پڑ گئی ہیں تو انہیں دکھی اور

Read more

گورباچوف: امریکہ کا پٹھو؟

31 اگست کی اخبارات میں چھوٹی سی ایک خبر گورباچوف کے انتقال بارے تھی۔ کبھی کی سوویت یونین کی سیاسی و نظریاتی سرگرمیوں کا اہم رہنما اور اسے ریشین فیڈریشن بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والا گورباچوف ایک متنازع شخصیت کے طور بہت نمایاں ہوا تھا۔ امریکہ کا کڑچھا چمچہ ہے، اس کا آلہ کار ہے۔ بورس پاسٹرنک کی طرح اسے بھی نوبل پیس ایوارڈ دلوانے میں امریکہ اور مغربی ممالک کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ سب قصے کہانیاں

Read more

جلے دلوں کے پھپھولے

عورتیں پڑھی لکھی ہوں، ماڈرن ہوں اور سیاسی و سماجی شعور بھی رکھتی ہوں اور سوئے اتفاق سے ایک کمرے میں اکٹھی بیٹھی بھی ہوں تو پھر باتیں کچھ سیاسی، کچھ ملکی حالات حاضرہ پر ہونی تو ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ لعن طعن، کچھ تبروں، کچھ دکھ اور بے حسی کے اظہار کی صورتیں اندر سے پھوٹ کر ہونٹوں پر تو آتی ہیں۔ مسز کوثر جمال کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ صدر عارف کی بے حسی

Read more

"فریدہ حفیظ کی ”بات ابھی باقی ہے

فریدہ میری پیاری، جانتی ہو تمہاری کتاب مجھے کہاں لے گئی؟ اس دنیا میں جو تمہاری، میری اور ہمارے ہم عصر ادیبوں اور صحافیوں کی تھی اور جو وقت کے دھندلکوں میں کہیں کھو گئی ہے۔ میری چشم تصور میں ایکا ایکی وہ منظر ابھرا ہے جہاں تم نسبت روڈ کی اس زرد رنگی عمارت جو مشرق کا دفتر تھی کے دروازے جو باہر سڑک کی جانب کھلتے تھے میں ایک کے عین درمیان میں کھڑی سڑک پر عورتوں کے

Read more

”سب رنگ“ کو زندہ کرنے والے جیالے

اپنے تئیں تو اب تک یہی سمجھتی تھی کہ میں ”سب رنگ“ کی بڑی جیالی اور سچی عاشق ہوں۔ ایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہ تھا کہ خمیر میں کہانی کا رچاؤ ماں کے پیٹ سے ہی تھا۔ جنجال پورہ جیسے باڑے میں چچی، پھوپھی بازار کا کوئی کام کرنے کا کہتیں اور میرے ہاں الکسی سے بھرے انکار پر چھوٹی خالہ اونچی آواز میں چلاتیں۔ اری موری والا پیسہ اس کی تلی پر رکھ۔ یہ بازار سے دو طلسمی

Read more

قاسم! میں کس کے ہاتھ پر تیرا لہو تلاش کروں

5جون اتوار کی رات کا پہلا پہر وقت یہی کوئی آٹھ بجے، مقام F 9 پارک اسلام آباد جب اس بے حد ہونہار ستائیس سالہ قاسم نے لاہور میں اپنی ماں کی کال سنتے ہوئے کہا تھا۔ ”امی میں واک کے لیے ایف نائن پارک میں آیا ہوں۔ دس بجے آپ سے تفصیلی بات کروں گا۔“ جواباً ماں نے قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔ ”تم تو اس وقت جم جاتے ہو۔ یہاں پارک میں کیا کرنے آئے ہو؟

Read more

ماسکو کی ایک خون آلود سہ پہر

ماسکو میں تیسرے ہی دن سر منڈواتے ہی اولے پڑنے والی بات ہو گئی تھی۔ تین گھنٹوں میں قیامت ہی تو گزر گئی۔ میٹرو سٹیشن سے باہر آئے۔ چلتے چلتے دفعتاً میری ساتھی مہر النساء نے کہا۔ ”میرے دانتوں سے خون آر ہا ہے۔“ ٹشو پیپر پر لعاب اور لہو کے ملے جلے آمیزے کو دیکھ کر اسے تسلی دی۔ ” ابھی ہوٹل چل کر غرارے کرنا۔“ کمرے میں آ کر وہ واش روم میں گئی اور میں لیٹ گئی۔

Read more

 عفت نوید کی ”دیپ جلتے رہے“ بچیوں کو جہیز میں دی جائے

ارے بھئی مبالغے والی کوئی بات نہیں۔ بہشتی زیور جیسے ہدایت ناموں والے زمانے تو لدلدا گئے ہیں۔ وقت آگے نکل گیا ہے۔ اب نوجوانوں نے محبتیں تو کرنی ہیں اور شادیاں بھی۔ مسلکی اختلاف، سماجی اور معاشرتی مسائل سبھوں سے ان کا واسطہ پڑنا ہے تو وقت اور ماحول کے پیش نظر ہدایت ناموں کی بھی تو ضرورت ہے جو جوڑوں کو گھر ٹوٹنے، بچوں کی دربدری، کورٹ کچہریوں کے جھنجھٹ سے دور رہنے کا درس دیں۔ زندگی میں

Read more

سکول میں ایک بچی سے جنسی ہراسانی کا معاملہ اور ماؤں کی ذمہ داری

بات ہے یہ 1968 کی جب استاد کے طور پر میری تقرری پی اے ایف لاہور بیس کے اسکول میں ہوئی۔ اس وقت یہ مڈل لیول پر تھا۔ اس بیس کے منتظم اعلیٰ ایر مارشل اصغر خان کے بہنوئی ونگ کمانڈر ایاز خان تھے جو بعد ازاں ایر مارشل کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد بطور سفیر شام میں متعین ہوئے۔ جہاں انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر رضاکارانہ طور پر پاکستانیوں کے لیے ایک شاندار اسکول کھولا

Read more

اب میں بولوں کہ نہ بولوں: بولو بولو

قصور کے قریب بھتیجے اسامہ عثمان کے فارم ہاؤس پر افطاری تھی۔ اور کزن کو والٹن سے لینے کا حکم ملا تھا۔ ایک گرمی، رش اوپر سے خالدہ کی عمران خان پر ہونے والے سازشی ظلم پر رقت بھری تقریریں۔ اس پر ستم یہ بھی کہ ہاں میں ہاں ملاؤ۔ ہاتھ جوڑے کہ بخشو بی بی ووٹ دے کر ہم نے تو محبت نبھائی تھی۔ اس بلے کو ہی سمجھ نہ آئی کہ بھرم کیسے رکھنا ہے؟ اب پھر گولہ

Read more

یہی چراغ جلیں گے تو چھٹے گا اندھیرا

اوائل مارچ کی اس شفق جھلملاتی شام میں گورنمنٹ کالج لاہور کی گوتھک طرز کے برج اور عمارتوں کی چوٹیاں طلائی رنگوں میں نہاتی کس قدر فسوں خیز لگتی تھی۔ باد بہاراں اس کے بوٹوں اور سبزہ زاروں پر تیرتی پھرتی نوخیز چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی خوبصورت لگتی تھی۔ اس عظیم الشان درسگاہ میں آنے کا مقصد RIWAیعنی Ravians Iqbalians Welfare Amityکے بینر تلے اسی کالج کے 1970 بیچ کے ایک بے حد ہونہار راوین جناب زاہد شمسی کی کتاب

Read more

بشری رحمٰن ایک عہد تمہارے ساتھ رخصت ہوا

کیسے من موہنے سے ہنستے مسکراتے لوگوں سے ہماری ادبی دنیا خالی ہوتی جا رہی ہے۔ ممتاز احمد شیخ کے لیے ابھی تو ہونٹوں پر یہ لفظ نوحہ خواں ہی تھے کہ شیخ صاحب آپ کے ابھی جانے کے دن تو نہیں ہیں۔ ”لوح“ کو جس جذبے اور شوق سے آپ نے اٹھایا تھا اسے آپ کی ضرورت ہے۔ مگر موت کے سامنے سوال کرنے کی کس کی جرات ہے؟ لتا جی اگر بلبل ہند تھیں تو ہماری بشری رحمٰن

Read more

ہائے یہ تفریح کو ترستے ہوئے میرے لوگ

کتنے دن ہو گئے ہیں مجھے اپنے ”ہم سب“ سے ملے ہوئے، باتیں کیے ہوئے، دل کے پھپھولے پھوڑے ہوئے۔ کرتی کیا؟ سیاپوں میں پڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے آنکھ کی سرجری کرنے کے بعد کہا تھا۔ ”چھوٹے بچے کی طرح حفاظت کرنی ہوگی۔“ بستر پر لیٹی تو وہ یاد آیا۔ ماتھے کے دائیں بائیں جلتے چراغوں سے محروم، لاٹھی ٹیکتا، بلاروک ٹوک عوامی گاڑیوں اور بسوں میں چڑھتا، اترتا اور اپنی پاٹ دار آواز میں ترنم سے گاتا۔ ۔

Read more

دسمبرسٹ سکوائیر کا’’ دی برونز ہارس مین ‘‘،بے نظیر بھٹو، حبیب جالب اور پُشکن کا ایوگینی

دسمبر سٹ سکوائر پیٹرز برگ جیسے اہم ترین سکوائیر میں جس پہلی چیز نے میری بھرپور توجہ کو کھینچا وہ کانسی کے گھوڑے پر سوار مجسمہ ہے جو کیتھرائن دی گریٹ کی طرف سے اپنے نانا سُسر پیٹر دی گریٹ کو خراج ہے۔ کیتھرائن غیر رُوسی ہونے کی وجہ سے اپنا تعلق رومانوف خاندان سے جوڑنے کی بُہت خواہشمند رہتی تھی۔

Read more

میرے خان اعظم بندی کچھ عرض کرنا چاہتی ہے

میرے پیارے وزیر اعظم Seeds of Hopeکے دنوں والی سرگرمیوں کے بعد میں آج ایک بار پھر تمہیں دیکھ رہی ہوں۔یہ اکادمی ادبیات اسلام آباد کا فیض احمد فیض ہال ہے۔جہاں 4نومبر کی اس سہ پہر جو لوگ موجود ہیں ۔انہیں قسموں اور خانوں میں بانٹوں تو پہلے نمبر پر70 ستر سال سے اوپر میری طرح کے لوگوں کی ایک بھاری اکثریت ہے۔دوسرے نمبر پر 50سے اوپر کی اقلیت نظر آتی ہے۔بیس سے اوپر کے ٹانواں ٹانواں دانے بھی کہیں

Read more

چین کی پہلی فیمینسٹ: چھوئے چن

یہ اس کے آبائی گاؤں Shanyin کا پھانسی گھاٹ میدان تھا۔ 15 جولائی 1907 کا دن۔ گراؤنڈ میں مقامی لوگوں کا ہجوم تھا۔ شاہی فوج اور مقامی پولیس کے سپاہی تھے۔ اس نے تفتیشی افسر کو دیکھا اور جو اباً کہا۔ خزاں کی ہوائیں خزاں کی بارشیں انسانی روح کے ٹکڑے کر دیتی ہیں اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا تھا۔ اکتیس سالہ دل کش چھوئے چن مٹی کے فرش پر دو حصوں میں کٹی پڑی تھی۔

Read more

فاسٹ یونیورسٹی کے زمینی پھولوں کو شاخوں میں سجانے والا ڈاکٹر ایوب علوی۔

جون 1870 ڈھاکہ یونیورسٹی کے ویسٹ پاکستانی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اجلاس میں ایک نئے نوجوان کو سنا جس نے بڑے مدلل انداز میں ہم طلباء کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایسے نازک حالات میں ہمیں کیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پوچھنے پر جانا کہ ایوب علوی انجنئیرنگ کے لیے آیا ہے۔ میری ماہ بعد واپسی تھی۔ بہت وقت گزر گیا تھا۔ ایک دن ایک عزیز نے اپنے بچے کے فاسٹ یونیورسٹی میں داخل نہ ہو سکنے

Read more

میرے وطن کے کسی لیڈر کی بھی یہ سوچ ہے؟

پیٹرز برگ کے سمولینی میوزیم جاکر مجھے احساس ہوا تھا کہ انقلاب ایسے نہیں آتے۔ حقوق کے لئے شعور و آگہی کا ادراک بنیادی ضرورت ہے۔ اس ادراک کے لئے جاننے کی لگن اور تڑپ چاہیے۔ روسی عوام نے اس کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ روس پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ سیاست سے اس کی دلچسپی تاریخ اور فلسفہ میں اس کا انہماک، سماجی و معاشی نظریات کو جاننے میں اس کا شوق بے پایاں تھا۔ جان ریڈ کی ایک تحریر

Read more

پیٹرزبرگ کے عظیم موسیقار میں تم سے وداع ہوتی ہوں ہاڑ کے مہینے میں

تو بس اب کوئی دم میں رخصت ہوا چاہتی ہوں۔ اس شہر سے کہ جہاں میرے قیام کا ایک ہفتہ یعنی آٹھ دن جو آٹھ لمحوں کی مانند دکھتے اور محسوس ہوتے ہیں۔ میں اس وقت واستانیئے یا پلوشد (Vosstaniya Ploshehad) (بغاوت کا چوک) ریلوے سٹیشن کی عمارت کی بیرونی سیڑھیوں کے ایک کونے میں بیٹھی اپنے سامنے بکھری رونقوں کو دیکھتے ہوئے خود سے کہتی ہوں۔ تو جانے سے قبل اس عظیم بوڑھے موسیقار کے ساتھ چند لمحے نہ

Read more

مجلس ترقی اردو ادب اور منصور آفاق کے عزائم

شہر کی مرکزی شاہراہ پر بلند و بالا درختوں سے گھری بوسیدگی کی طرف تیزی سے سفر کرتی کلاسیکل طرز کی عمارتوں کا چھوٹا سا جھنڈ آج بھی اسی انداز میں کھڑا تھا۔ جیسا ہم اسے اسی نوے کی دہائی میں دیکھتے آئے تھے۔ اک ذرا رکی تھی کہ اس ابر آلود سہ پہر نے بہت کچھ یاد دلایا تھا۔ سامنے برآمدے سے آگے کمرے میں قاضی جاوید بیٹھتے تھے۔ رخ بدل کر تھوڑا آگے جانے پر احمد ندیم قاسمی

Read more

ارے میاں میں نے کوئی نکاح کرنا ہے تم سے

علی مدد اور ہنزہ ان ناموں سے میرے کان پہلی بار 1958ء کی اس شب آشنا ہوئے تھے۔ جب میرے ماموں علی حسن غضنفر نے بڑے کمرے میں افراد خانہ کے درمیان بادام بھری ان خوبانیوں کو تقسیم کیا تھا جو ان کا وفادار ملازم ہنزہ سے لایا تھا۔ انہوں نے ہمیں علی مدد اور اس کے آبائی گاؤں ہنزہ کے بارے بتا یا۔ پہاڑوں ’جھرنوں‘ گلیشیئروں اور لوگوں کی ایسی پر تحیر باتیں سنائیں کہ ان پر الف لیلوی

Read more

ہندوستان کے رونے اور افغانستان کے شاخسانے

لگتا ہے جیسے ہندوستان کی شہ رگ کو کسی نے آہنی انگوٹھے سے دبا دیا ہے کہ اس کی تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ”ارے بھئی صبر سے سکون سے۔“ چھوٹے چھوٹے چینلز اور یو ٹیوب والوں نے ٹاک شوز اور ٹاکروں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں مسلمان عورتوں اور مردوں سے بحث کا جو انداز اپنایا گیا ہے وہ اس قوم کی بیمار ذہنیت کا عکاس ہے۔ ایک شو میں مدعو مسلمان خاتون کا کہنا

Read more

قابل، مخلص بندوں کا سوال ہے، دان کر مولا

یہ اگست 2021 ہے اور پاکستان اپنی چوہترویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اللہ اسے سدا آباد و شاد رکھے۔ اس کے چہرے سے وہ سیاہی اتار دے جس نے اسے گہنا دیا ہے۔ یہ دراصل میری عمر کے لوگوں کا وطن ہے جن کا جنم ضرور ہندوستان میں ہوا تھا مگر جنہوں نے ہوش اس آزاد سرزمین میں آ کر سنبھالا۔ یہ ہماری ماؤں کا کسی حد تک مگر ہماری نانیوں اور دادیوں کا وطن نہیں تھا کہ ایک آہ

Read more

الوداع ماسکو، الوداع اے شہر بے مثال

اور جب سنبل کے بلند و بالا درختوں سے روئی کے گالے فضاء میں اڑتے اور بکھرتے تھے۔ جب میں سونے رنگی دھوپ کو وسیع و عریض میدان میں بکھرے اور ہواؤں کی میٹھی سی خنکی میں خود کو نہال ہوتے، گلیارے کے اوپر ریل کی پٹڑی پر مال گاڑی کو گزرتے اور لڑکوں لڑکیوں کی ٹولیوں کو مارکیٹ کے کونے والی دکان پر بجتی موسیقی کی تال پر جھومتے واڈکا پیتے دیکھتے تھی۔ میں نے داشا Dashaکو سنا تھا

Read more

وہ سات فٹا پیٹر اعظم بھی کیا شے تھا

یہ پیٹرز برگ تھا۔ اور میں اس کے شہرہ آفاق محل پیٹر ہاف کے گریٹ پیلس کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ کچھ یاد آیا تھا۔
Peter hof is the Russia ’s answer to versailles.

ابھی میں نے فرانس کے لوئی پائنز دھم کاورسائی محل نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے میرے لئے تقابل کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ہاں البتہ روسیوں کے ہاں جس اعتماد کا اظہار تھا وہ یقیناً حقیقت سے لگا کھاتا ہوگا۔

Read more

ماں صدقے سپر پاور تیرے شوق وی بربادیاں والے نے

سچی بات ہے پچھلے چند دنوں سے میں تو اپنی اس چہیتی سپر پاور کی اداؤں پر سوچ و بچار کی گتھیوں میں ہی الجھتی پھر رہی ہوں۔ خیر سے ہم ایشیائی غریبڑوں کی ہمدرد و غم خوار یہ بڑی طاقت ہمارے غربی ہمسائے ملک جس کے باسی کچھ ہم سے بھی زیادہ جاہل، گنوار اور اکھڑ ہیں انہیں دہشت گردوں سے بچانے کے لیے وہاں داخل ہوئی تھی۔ دراصل اس کا بھی تو کچھ قصور نہیں۔ بیچاری نے سارے

Read more

اردن میں ضیاالحق: نئی نسل کے لیے تاریخ کی یاد دہانی ضروری ہے

پاکستانی تاریخ میں اس کی قابل ذکر شخصیات سے وابستہ اہم واقعات جنہوں نے ملک پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں یوں جڑے ہوئے ہیں کہ جونہی شمسی کیلنڈر کی سوئی تلے ان مہینوں کے وہ مخصوص دن آتے ہیں۔ تو فی الفور وہ دن، واقعات اور کردار نوک زد قلم آ جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا دن ملکی تاریخ کا ایسا ہی دن تھا جب جمہوریت پر ڈاکا پڑا تھا۔ مارشل لا لگا تھا۔ نوے دن کا وعدہ ہوا تھا

Read more

ایک ترقی پسند فیمنسٹ بیٹی کے نام ماں کا خط

دختر من۔ پیار۔ کہا تھا نہ میں نے کہ جب تک تمہارا یہ من چلا دل اور بھس بھرا بھیجا اس نتیجے پر نہ پہنچے کہ تم اس کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو تب تک اس بچے والے کھٹراگ کی ضرورت نہیں۔ پر تم تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھیں۔ اس وقت وہ تمہیں خوبیوں کا مجسمہ نظر آتا تھا اور تم لمحہ بھر کے لیے بھی یہ سننے کے لیے تیار نہ تھیں کہ انسان خوبیوں خامیوں

Read more

کسی سپر پاور نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا

تھین آن من سکوائر کو حیرت بھری آنکھ نے اسی انداز میں دیکھا اور اظہار کیا تھا جو اس کے ہاں ان دنوں ہر دوسرے قدم پر خوبصورت، انوکھی اور منفرد چیزوں کے نظر آنے پر ہوتا تھا۔ شناسائی کا کوئی ہلکا سا رنگ کسی منظر کی صورت میں بھی اس کے ہاں نہ تھا۔ یادوں کی گٹھڑی میں مطالعہ کی صورت محفوظ کسی تحریر کا کوئی ٹوٹا بھی نہ تھا۔ عمران (داماد) آفس سے آیا۔ کھانا، ظہر کی نماز

Read more

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا؟

یہ 28 مارچ کی صبح تھی جب وہ میرے آفس میں داخل ہوئی۔ میں اسے جانتی تھی ۔ بردبار اور متین سی عورت جو گزشتہ چار سال سے مشقت کی چکی میں پس رہی تھی۔ شوہر کی ناگہانی بیماری، اس کی موت، سسرال کا سرد مہر رویہ، تین بیٹیوں کا ساتھ۔ اس کی تینوں بچیاں ہمارے پاس پڑھتی تھیں۔ پانچویں، تیسری اور دوسری میں۔ یقیناً اس وقت وہ ان کا ہوم ورک لینے آئی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ ہوا

Read more

راگنی کی کھوج

”راگنی کی کھوج“ نجیبہ عارف جیسی بلند پایہ ادیب اور شاعرہ کے کمال فن کا شاہکار ہے۔ کتاب کوئی تین ماہ پہلے ملی۔ سچی بات ہے نام کچھ کچھ پراسراریت لیے ہوئے تھا۔ گو میں اس عنوان کے تحت مبین مرزا کے جریدے ”مکالمہ“ میں اس کی دو قسطیں پڑھے بیٹھی تھی۔ ایک آپ بیتی سے متعلق دوسرے میں نجیبہ کے اندر کی بے چینی اس کا اضطراب، تجسس اور کھوج کی خواہش نمایاں تھی۔ میری پرورش وہابی گھرانے کی تھی مگر ایک تو میں بڑی باغی قسم کی لڑکی دوسرے گھر والوں میں بھی کچھ معاملات میں کٹر پن نہیں تھا۔

تاہم بابوں وابوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ”شہاب نامہ“ میری پسندیدہ ترین کتاب ہوتے ہوئے بھی اس کا نائٹی والا قصہ مجھے ہمیشہ ایک افسانہ ہی لگا۔ ہاتھ نے جب کتاب تھامی۔ ٹائیٹل متوجہ کرنے والا تھا۔ کچھ سوال اٹھاتا تھا۔ پشت پر بلند قامت ادیب کی تحریر تھی۔ ”قوسین“ نے اسے چھاپا تھا۔ کاغذ طباعت ہر چیز بولتی تھی کہ اندر کچھ بہت خاص ہے۔ میری ایک گندی عادت ہے کہ میں کتاب کو مرحلوں میں پڑھتی ہوں۔

Read more

چین کی قومی زندگی میں روشن ستارہ: یان فونگ شینگ

ماہ و سال تو یہی کوئی 1978کے ہی تھے۔ خزاں کا آغاز تھا۔ ا یک مضطرب،دکھ دینے والی اور گھائل کرتی اُداسی شمالی چینی گاؤں شیاؤ گینگ (Xiaogang ) کے درودیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت دوپہر ڈھل رہی تھی جب اِس گاؤں کا ایک باسی تیس سالہ یان فونگ شینگ( Yan Hong Chang) اپنے گھر سے باہر نکلا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ بیجنگ ریڈیو سے چئیرمین ماؤ کی موت کی دو سالہ برسی کی تفصیلات کا بیانیہ

Read more

ہماری نسل کا بچپن صوفی غلام مصطفی تبسم کی چھتر چھاؤں میں

ماہ فروری کے اختتامی دنوں میں گٹے گوڈوں کو اپاہج کرنے والی سردی کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ اس سہ پہر جب فضاء میں بہار کے رنگ امنڈتے دکھائی دیتے تھے۔ بھاٹی دروازے کی طرف جاتے ہوئے مجھے دفعتاً لوگوں کے چلتے پھرتے، بھاگتے دوڑتے ہجوم نے ان تہواروں کی یاد دلائی تھی جو ان موسموں سے جڑے ہوتے تھے ، جو لاہور کی پہچان اور اس کے ثقافتی کلچر کا طرۂ امتیاز تھے۔ اب بھلا ان کے ساتھ جڑے ہوئے صوفی تبسم کیوں نہ یاد آتے۔ وہ آئے اور میری آنکھوں کو نم کرتے ہوئے میرے ہونٹوں کو بھی متحرک کر گئے کہ میں ان کی وہ خوبصورت نظم ”میلہ شالامار کا“ گنگنانے لگی تھی جو اسی سلسلے کی ایک خوبصورت لڑی تھی۔

Read more

ملکوں کی قابل قدر مثالیں اپنانے کی ضرورت ہے

کولمبو میں ہمارا قیام وائی ڈبلیو سی اے میں تھا۔ یہ سری لنکا کی ورکنگ خواتین اور طالبات کا ہوسٹل تھا۔ صبح ڈائننگ روم میں ناشتہ کرتے ہوئے جب میں نے لڑکیوں سے پوچھا کہ ہمیں کولمبو میں کیا کیا چیزیں دیکھنی چاہیں۔

”ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں جائیں۔“ موبائل سے کھیلتی ایک چلبلی سی لڑکی بولی۔
”Slave Island کو ذہن میں رکھیں۔ بیرا Beira Lake کے نظارے لوٹنے ہیں یاد رکھیں۔“

Read more

خوبصورت آنکھوں میں بولتی خاموشی اور کتاب سے پیار کرنے والا زاہد ڈار

رات کا آخری پہر تھا جب آنکھ کھل گئی۔ ہم بڈھے لوگ بھی اب کچھ دعائیں پڑھنے کی بجائے موبائل کو ہاتھ مارنے لگتے ہیں۔ زاہد ڈار کی تصویر تھی۔ نیچے اس کی ایک نظم۔ ”یا اللہ خیر“ بے اختیار ہونٹوں سے نکلا۔ تاہم کوئی خبر نہیں تھی۔ سوچا کسی چاہنے والے  نے یہ پوسٹ لگائی ہو گی۔ دن میں موبائل سے کھیلنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ سو رات کو یہ خبر مل گئی کہ شہر ادب کا

Read more

میں پنجابن، اردو کے ساتھ اپنے ملک میں کہیں اجنبی نہ تھی

مقام ایلیفینٹ روڈ دھان منڈی ڈھاکہ کا ایک خوبصورت گھر۔ وقت نومبر 1969ء کے آخری دن۔ اہتمام ملاقات میری یونیورسٹی فیلو کے بچے کی سالگرہ کی تقریب۔ مشکی رنگت والے امریکہ پلٹ ایک نوجوان جس کے بارے ابھی پتہ چلا تھا کہ مرکزی ڈائریکٹریٹ میں کسی اہم کلیدی پوسٹ پر ہے ، نے دفعتاً میرے قریب آ کر مجھ سے پوچھا تھا کہ میری مادری زبان اردو ہے یا پنجابی؟ میں نے جواباً پنجابی کہا۔ ”یہ تو بتائیے ذرا۔“ نوجوان

Read more

سعدی یوسف کا جنت سے جو بائیڈن کے نام خط

جو بائیڈن آپ کو چٹھی لکھنے کی وجہ بڑی خاص ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ہم عراقی، فلسطینی، شامی اور مصری شاعر عالم بالا میں اپنی ال شابندر کافی شاپ میں باقاعدگی سے اکٹھے ہو رہے ہیں اور سچی بات ہے کہ ان دنوں آپ ہمارے درمیان کچھ زیادہ ہی زیربحث رہے ہیں۔ محمود درویش اور نازک الملائیکہ آپ کی بہت وکالت کر رہی ہیں۔ میں نے انہیں تنبیہہ کی ہے کہ وہ زیادہ جذباتی نہ بنیں۔

Read more

تھین آن من اور ریڈ سکوائر کے موازنے میں نئے انکشاف

سکوائر کی وسعت حیران کن ہے۔ تاریخ بھی بڑی قدیم، ساتھ ساتھ جدید زمانے کے نئی نسل پر ظلم و ستم، ٹینک توپوں کے چڑھاوے اور لہو رنگ کہانیاں بھی اس کی ناموری کا ایک بڑا حوالہ ہیں۔ جگہ بھی بڑی مرکزی۔ سکوائر کی ایک سمت چینی کمیونسٹ انقلاب کے بانی ماؤ اور قوم کے جیالے اور سر بکف مجاہدوں سے سجی کھڑی ہے۔ ماؤ کا خوبصورت مقبرہ، شیشے کے شوکیس میں لیٹا سرخ چادر میں لپٹا ابدی نیند سو تا ماؤ، پھول، مدھم سی روشنی اور اٹن شن کھڑے گارڈ سب بندے کو ایک مسمریزم کے ماحول میں لے جاتے ہیں۔

Read more

پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس

یہ بتانا مشکل ہے کہ سات سمندر پار اس رومانوی کلاسیکل شاعر کیٹس سے میرا عشق کب شروع ہوا؟ بلکہ اس میں اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس دوڑ میں اس کے دوست شیلے اور بائرن بھی شامل تھے۔ گو کیٹس ہمیشہ میری کمزوری رہا۔ تاہم شیلے بھی کم نہیں۔ ہاں البتہ اس رومینٹک تکون نما مثلث کا تیسرا سرا لارڈ بائرن کہیں تھوڑا سا پیچھے ہے۔ روم اور یہیں وہ سپینش سٹیپ

Read more

ڈاکٹر تھانگ منگ شنگ سے ملاقات

بیجنگ میں مجھے کس ادیب اور کس شخصیت سے ملنے کی ضرورت ہے؟ شعیب بن عزیز سے بہتر بھلا میرا کون صلاح کار ہو سکتا ہے؟ مدعا گوش گزار کیا۔ ”ظفر محمود سے بات کرو۔ چین پر اتھارٹی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔“ ظاہر ہے اب ظفر محمود کو ہی آواز دینی تھی۔ سو دی۔ انہوں نے ایک فون نمبر لکھوایا۔ تھانگ منگ شنگ کا نام بتایا۔ یہ بھی کہا کہ موصوف شعبہ پاک چین سٹڈیز پیکنگ یونیورسٹی کے سربراہ

Read more

اک معجزہ میری زندگی کا

ہاتھ کی لکیریں دیکھنے کا عشق کب شروع ہوا؟ ماضی کو کھنگالنے اور اس میں اوپر نیچے دبی یادوں کی گٹھڑیوں میں پھولا پھرولی سے وہ صبح آنکھوں کے سامنے آ گئی تھی، جب ہم نصف درجن لفنگی دوستوں کا ٹولہ کالج گراؤنڈ میں بیٹھا تھا۔

مجھے یاد نہیں۔ شاید کسی بات پر ہاتھ لہرایا ہو گا۔ صوفیہ نے یک دم میرے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر آنکھوں کے سامنے کیا اور صرف چند لمحے اسے بغور دیکھنے کے بعد گویا ہوئی۔

”کمبخت یہ تو آئن سٹائن کی ماں کہاں سے پیدا ہو گئی ہے؟“

اس کے چہرے کی سنجیدگی اور اس کے انداز اس درجہ ڈرامائی سے تھے کہ پورا ٹولہ بشمول میرے سنجیدہ ہو کر اس کا چہرہ تکنے لگا۔ ”دیکھو! دیکھو! اس کی دماغ کی لکیر۔“ اس نے میری ہتھیلی ان سب کے سامنے پوری طرح کھول دی۔ صاف ستھری، گہری اور سرخی سے بھری ہوئی اوپر کی انتہا سے شروع ہو کر نیچے کی انتہا میں گھس گئی ہے۔

Read more

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ابھرتے ہوئے امکانات اور چلینجز

اگر کسی نے پال کینڈی کی کتاب The Rise & Fall of Great Powers کی عملی تشریح دیکھنی ہو تو امریکہ کو دیکھ لیجیے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک مسلمہ سپر پاور جس کی بنیاد نہایت ہی مضبوط اور مستحکم آئینی ڈھانچوں پر کھڑی ہے۔ اس کی دوسو سال قدیم بنیادوں کو جن کی تعمیر میں ابراہام لنکن اور تھامس جیفریسن جیسے نابغوں نے اللہ جانے کتنا وقت اور کتنی توانائیاں صرف کی ہوں گی۔ جسے ایک لالچی، خود

Read more

میرا محسن، میرا مربی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی

1962 کا اوائل تھا۔ گھر میں اردو زبان میں ریڈرز ڈائجسٹ کے رنگ ڈھب کا ایک پرچہ آیا۔ بڑا دلچسپ اور منفرد سا لگا۔ گو میرے فکری شعور میں ابھی وہ پختگی نہیں تھی جہاں میں اداریے کی سیاسی تجزیاتی تحریر کو پرکھتی تاہم میرے لیے دلچسپی کا خاصا سامان بھی تھا کہ بڑے لکھنے والوں کی کہانیاں، نامور شخصیت کا انٹرویو، شکاریات، جاسوسی کہانی، کسی دوسری دنیا کا سفر نامہ، شعر و ادب، غرض کہ ہر نوع کا ذائقہ موجود تھا۔ الطاف فاطمہ سے محبت کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔

ادارتی ٹیم سے تعلق ذرا بعد میں پیدا ہوا۔ الطاف حسن قریشی چونکہ ہر دفعہ کسی بڑی سیاسی یا سماجی شخصیت سے تعارف کرواتے۔ تحریر اور پیش کش کا انداز بھی بڑا منفرد، جذباتی اور وطن کی محبت و سرشاری میں بھیگا ہوا ہوتا۔ ان سے عقیدت اور محبت کا رشتہ ذرا جلدی استوار ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی کبھی کبھی کوئی تحریر نظر سے گزرتی۔

Read more

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

سچی بات ہے یہ دنیا عالم حیرت تو ہے ہی لیکن کمال یہ ہے کہ اس عالم حیرت میں جہاں ستاروں پہ کمند ڈالی جا چکی ہیں ہماری مقتدرہ و اشرافیہ اپنی کوتاہ کوشی، کم فہمی اور ذہنی و فکری افلاس کے ایسے ایسے نمونے اور مظاہرے پیش کرتی ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ دور کیا جانا اب یہ جذباتی و غیر جذباتی والے معاملے کو ہی دیکھ لیں بندہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے نا۔

Read more

میکرون، تھیوڈور ہرتزل کی طرح مسلم امہ کی بیداری کا باعث بنے گا؟

ایمانوئل میکرون اور فرانسیسی لوگوں کی حکومت نے جو کیا اس پر بات ذرا بعد میں۔ پہلے ذرا ایک اہم تاریخی واقعے کی جھلکیاں آپ لوگوں کو دکھا دوں۔ یہ انیسویں صدی کے آخری ماہ و سال ہیں۔ اڑتیس، انتالیس سالہ نوجوان تھیوڈور ہرتزل صحافت کی دنیا کا ایک بڑا نام ویانا سے ہی نکلنے والے اخبار Nelle Freie Presse کا نمائندہ۔ پیدائش یہودی گھرانے کی مگر رجحان یہودیت کی بجائے انسانی اقدار سے محبت پر تھا۔ یہی وہ دن تھے جب فرانسیسی فوج کے ایک یہودی کیپٹن الفریڈ ڈریفس پر جرمنوں کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگا۔

Read more

بلتستان کے مسائل اور پھول شہزادی

یہ روٹی اتنی کالی اور بے ذائقہ سی۔ کیوں؟ یہ آٹا کہاں سے آ رہا ہے۔ بہو بولی شاید روسی یا یوکرائنی گندم ہے۔ مجھے تو ان دنوں کاموں کے اژدہام میں اخبارات کے مطالعہ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔ ”ہائیں“ آنکھیں پھٹیں۔ اس زرعی ملک کی سونے رنگی میٹھی گندم کہاں گئی؟ بہو ہنسی وہیں جہاں پہلے چینی گئی تھی۔ اس جذباتی بوڑھی عورت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ابھی دو دن پہلے بیٹی چین سے آئی تھی۔ پی آئی اے کی تباہی کے دکھڑوں نے ہمارے دکھ کو دو چند کر دیا تھا۔

بیجنگ سے پہلے لوکل فلائٹ سے پہلے چندو گئی۔ جہاں پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے اسلام آباد آئی۔ ہمارا قومی سمبل چاند تارے کا علمبردار ساری دنیا میں اڑانیں بھرتا ہمارے دیس کی نمائندگی کرتا کیسے پاتال میں گر گیا ہے؟ لائق باپ کی نالائق اولاد کتنے فضول فروعی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔ جاہل عورتوں کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر مخالف کو چھبیاں دیتی ہے۔ چلو لندن جاکر اس گولو مولو کو لے بھی آیا اسے بندی خانے میں بھی ڈال دیا تو؟ غریب کو روٹی دال سبزی سے واسطہ۔ پھل اس کی بساط سے باہر۔ نگوڑا کیلا چلو وہ کھا سکتا ہے مگر پچاس روپے درجن بکنے والے کیلے کو دیکھا ہے کسی نے؟ اس بیچارے پر جانے کون سی زہریلی ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کہ پکتا بعد میں ہے اندر سے سڑ پہلے جاتا ہے۔

Read more

ناگورنو کراباخ کی حسین شہزادی کیا کہتی ہے؟

چیختی دھاڑتی ناگورنو کراباخNagorno Karabakh پر حملے کی خبر نے جیسے مجھے آناً فاناً کچھ یاد دلایا تھا۔ ہوش اڑا دینے والا وہ حسین چہرہ جس نے مجھے مبہوت کر دیا تھا اور جو لمحہ یاداشتوں میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا تھا۔ نیر ایگوپین Nare Agopian ناگورنوکراباخ کی رہنے والی۔ رات کٹنی مشکل ہو گئی تھی۔ صبح کمپوزر سے کہا وہ ای میل ڈھونڈے۔ ڈیڑھ دو سال کی برقی خط وکتابت کے بعد بند ہونے کا سلسلہ کوئی

Read more

شارلٹ برونٹے = اے آر خاتون جین آئیر، شرلی، ویلیٹ=شمع، تصویر، افشاں صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لئے

شارلٹ برونٹے کے ناول بے شک جین آئیر ہو، شرلی یا ویلیٹ ہوں سب انگریزی ادب میں کلاسیک کاجو مقام حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے انگریزی ادب پڑھنے والا کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا۔ شارلٹ برونٹے اور ان کے فن پاروں پر تفصیلی بات کرنے سے قبل مجھے اپنے قارئین کے سامنے ایک سوال اٹھانا ہے کہ کیا ہمارے اردو ادب میں بھی کسی خاتون کے تحریر کردہ ایسے ناول ہیں جنہیں ہم بھی اردو ادب میں کوئی مقام دے سکیں۔ معذرت کے ساتھ قرۃ العین یا ان کا آگ کا دریا یا عصمت چغتائی اور ان کے ناول افسانے یا اور بڑے نام میرے سامنے نہیں۔

میرا مسئلہ جین آئیر جیسے ناول اس کے پلاٹ، اس کی تھیم اور اسے ملنے والی بے پایاں شہرت کے حوالے اور ساتھ ہی کم و بیش اسی نسبت سے تعلق رکھنے والے ناولوں اور ان سے جڑے اپنے لوگوں کے رویوں اور تعصبات سے ہے۔ جنہیں اپنی چیزوں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی تاآنکہ باہر کی دنیا کا کوئی بندہ اس کا احساس نہ دلائے۔ نصرت فتح علی خان کی مثال وضاحت کے لئے کافی ہے۔

Read more

راجند ر سنگھ بیدی کے آخری ماہ وسال

راجندر سنگھ بیدی اردو ادب کا ایک بے مثال نام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا حقیقت پسند افسانہ نگار ہے جس کے ہاں قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ دونوں جواہر اپنی بھرپور توانائی اور شدت سے موجود ہیں۔ انسانی ذات کی جتنی پرتیں اور تہیں ہیں، اس کی شخصیت میں نفسیاتی مسائل کی جو کجیاں اور گرہیں ہیں۔ وہ بیدی کی ایکس رے مشین میں فٹ آنکھ کی طرح اس کے اندر اتر کر

Read more

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔ ۔ ۔

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پر چھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں سانس لینے والی کم ظرف حکومتی عہدہ داروں کے بھونڈے اعتراضات کی سان پر چڑھی ہے۔

رات کے ایک بجے اکیلی عورت کو گھر سے نکلنے کی ضرورت؟ پیٹرول کیوں نہیں چیک کیا گیا؟ سنسان راستے پر کیوں چڑھی؟

ابھی حادثے کا پہلا دوسرا دن تھا۔ مظلوم خاتون کے بارے میں کچھ تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔ ہاں گوہر تاج نے میری ٹائم لائن پر اپنا نوحہ لکھا تھا۔ ”سنتی ہو ان محافظوں کی باتوں، کو دیکھتی ہوں ان کے کاموں کو ۔“ اور بوجھل روح سے میں نے اسے مخاطب کیا تھا۔ ”گوہر میری جان ہوگی کوئی میرے جیسی جنونی آوارہ، گرد، من موجی سی عورت جو ایڈونچر اور تھرل کے شوق میں کچھ زیادہ سوچتی نہیں اور کتنی سر پھری لڑکیاں ہیں جو گواچی گاں کی طرح منہ اٹھا کر چل پڑتی ہیں۔ ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ تحفظ دینے والی۔ مگر کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ ساری زندگی میرے تو اپنے لچھن بس ایسے ہی رہے۔

Read more

میرے درد کا کوئی درماں ہو

بیل بجی تھی۔ 40 کے پیٹے میں ایک سنجیدہ سی لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا۔ دروازے پر ادھیڑ عمر کے ایک اے ایس آئی کے ساتھ ہیڈ کا نسٹیبل کو کھڑے دیکھ کر گھبرائے ہوئے تاثر اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے آنے کی غرض و غایت کا پوچھا۔ ”آپ کوئی اکیڈیمی چلارہی ہیں؟“ اے ایس آئی نے سوال کیا۔ خاتون نے تھوڑے سے تذبذب بھرے لہجے میں کہا۔ ”کہہ لیجئیے۔ باقاعدہ اکیڈیمی تو کرونا سے پہلے تھی۔

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار اور رؤف کلاسرہ

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اس شہر کا لینڈ مارک بننے جا رہا ہے۔ خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور ان سے متعلق تمام انتظامی معاملات و امور کو حسن و خوبی سے نمٹانا جناب شاہد حمید کے سعادت مند بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد پر ختم ہے۔ ہماری معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے ملک کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کی حالیہ چھپنے والی فرانسیسی ادیب بالزاک کی کتاب کا تذکرہ کیا۔ ہم پرانے لوگ اچھی کتابوں کے تو رسیا ہیں۔ فوراً اسے لکھا کہ سعدیہ پبلشر کا لکھو۔ کرونا کا خوف بھی اب کم ہو گیا ہے خریدتی ہوں۔ اسے گگن نے بھی کہیں پڑھ لیا۔ سعادت مند بچہ فوراً ہی بیچ میں کودا۔ ”ارے نہیں آپا میں بھیج رہا ہوں آپ کو“ ۔

Read more

مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔ ”خدا کی راہوں میں شہادت پانے والے لوگ کبھی فنا نہیں ہوتے۔“ حضرت زینب۔ عفت و عصمت کی تصویر۔ صبر ورضا کا پیکر۔ خاتون جنت کی لخت جگر، علی المرتضیٰ کی آنکھوں کا نور۔ زینب

Read more

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔ یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔ رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔ بہتیرا ہڑپ کر بیٹھے ہو فلسطین کو، مزید آگے بڑھو گے تو اچھا نہ ہوگا۔ مگر یہ اپنے؟ متحدہ عرب امارات اور اس کے حالی حوالی سب، کچھ اندر خانے ملے ہوئے اور کچھ اب کھل کھلا کر

Read more

پاسٹرناک، اوسپ مینڈل سٹام اور سٹالن کی ہجو

انتونینا روسی جرنلسٹ پاکستانی نژاد انجنیئر منصور کی بیوی ہے۔ ماسکو جاتے ہوئے منصور مجھے جہاز میں ملا تھا۔ دونوں میاں بیوی سے دوستی ہوگئی۔ انتونینا پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہوئے اس کے کلچر اور لوگوں سے لے کر اس کی سیاست کے اسرارو رموز سے بھی آگہی رکھتی ہے۔ اکثر اس سے گپ شپ رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک بات چیت کے دوران بورس پاسترنک جسے میں ہزار بارہ سو لفظوں میں پھنسانے کی سر توڑ کو

Read more

اردوان کے لیے مسلم امہ کا لیڈر بننے کے امکانات

ان دنوں اردوان کی انتظامیہ اعتراضات، سوالات اور ڈھیر سارے خدشات کی زد میں ہے۔ عالمی اور داخلی دونوں سطح پر محاذ کھل گئے ہیں۔ معترضین کا پہلا اعتراض ڈیڈ کے جعلی ہونے پر ہے۔ دوسرا مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر علی ایرباش کا ایا صوفیہ کے متنظم اعلیٰ (Pastors ) اور سلطان محمد فاتح کے درمیان ہونے والی ڈیڈ کی دستاویزات ٹی وی پر دکھانے، ایاصوفیہ میں خطبہ دینے اور سلطان محمد فاتح سے منسوب یہ بیان کہ ایا

Read more

ہماری عیدیں ہماری یادیں

”ہمارے وقتوں کی عیدیں چھوٹی عید جو ہم بچوں کی میٹھی عید، بڑی عید نمکین عید پھر محرم اور رمضان کی رونقیں بھئی کیا بات تھی ان کی۔ وائے افسوس کہ ان خوبصورت تہواروں سے وابستہ ثقافتی قدروں پر جھاڑو پھر گیا ہے۔ تب لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے مگر ایک دوسرے کے لئے خلوص اور محبتیں تھیں۔ پڑوسی رشتے داروں سے بڑھ کر سمجھے جاتے تھے۔ دکھ سکھ اور خوشیاں سانجھی تھیں۔ روزے رکھنا ضروری اور

Read more

بغداد میں شراب، شباب اور شیش کباب کے شاعر ابو نواس سے ملاقات

بغداد کی رات کے اس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس دیکھنے میں گم تھی۔ مجھے تو معلوم بھی نہ ہوا تھا کہ کب ایک وجہیہ عراقی بو ڑھا میرے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کا روایتی لباس، اس کی مخمور آنکھیں، اس کی سنہری رنگت، اس کا بانکپن سبھوں نے میری توجہ کھینچ لی تھی۔ میں نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا یقیناً آنکھوں کی زبان اس نے پڑھ لی تھی۔ گھن گرج

Read more

ایا صوفیہ میں سجدہ دینے اڈی اڈی جاواں

تو پھر ترکی کی کونسل آف اسٹیٹ نے دس جولائی کو اپنا فیصلہ سنا دیا جو عین طیب اردگان کی توقعات اور وعدے کے مطابق تھا۔ فیصلے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد اس نے بڑی جی داری سے اس کا اعلان بھی کر دیا۔ بین الاقوامی سطح پر اس بارے جتنے بھی تحفظات، خدشات اور تنبیہی انداز اس کے سامنے تھے اس نے انہیں پرکاہ برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے یونیسکو کی اس بات کو بھی قطعاً نظرانداز کیا کہ

Read more

سوشل میڈیا کا طوفان اور شہرت یافتہ تعلیمی ادارے

سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ دور جدید کی یہ سوغاتیں ہمیں ویسٹ سے ملی ہیں۔ ان کے ساتھ جو اچھائیاں اور غلاظتیں لپٹی ہوئی ہیں وہ ویسٹ کی لیے تو قابل قبول ہیں کیونکہ یہ ان کی چیزیں ہیں۔ ان کے ہاں کے کھلے ڈلے معاملات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ بڑے رجے پجے سے لوگ ہیں۔ خود کو اپنے حالات اور ماحول کے مطابق چوڑا کرنے اور تنگ کرنے کا شعوری ادراک رکھتے ہیں۔

Read more

چٹھی مانے کے نام، چٹھی میرے خان کے نام

وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اظہار کا طریقہ کیا ہوگا؟ اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں کہا۔ ”ٹویٹر، فیس بک بہتر رہیں گے“ ۔ ”ارے نہیں برقی خط بھیجو“ ۔ ایک اور بولی۔ ”چٹھی لکھو لمبی چوڑی سی کچھ تو ہمارے احساسات کی ترجمانی ہو۔“ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑی دلکش

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

ابن عربی: اسلامی تھیالوجی کا مستند نام

اس تحریر کو لکھنے کا محرک حسن نثار کا، 16 جون کا کالم ہے۔ ان کے قارئین ان سے ابن عربی کے بارے کچھ جاننے کے خواہش مند تھے۔ ”ارے“ خود سے کہا میں تو اس عظیم ہستی کے مزار پر حاضری کی سعادت حاصل کیے بیٹھی ہوں۔ کیوں نہ اپنے ”ہم سب“ کے قارئین کو تھوڑی سی سیر اور تھوڑی سی معلومات دوں۔ شام میں پندرہ دن گزارنے کے بعد عراق جانے سے ایک دن پہلے جبل قاسیون Mount

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر محفوظ ہے

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔ کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔ جدھر دیکھتی ہوں ادھر کرونا کی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ اسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پینا والا معاملہ ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس قوم کو پاگل کر دینا ہے۔ فضول لایعنی خبروں کو اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سات آٹھ بار دہرانا لازمی ہے۔ ذرا دیکھئیے اور سر دھنیے۔ شہروز سبزواری نے بالآخر ماڈل صدف کنول سے نکاح کر لیا۔ کتنا بڑا کام؟

پہلی شادی کی خبر، طلاق کا ذکر۔ ایک بار دو بار دل پر پتھر آنکھوں پر جبر کر کے گنتی کی۔ سات بار۔ ہائے جی چاہتا تھا اختیار میں ہو تو لتروں سے وہ ٹھکائی کروں کہ نانی یاد آ جائے۔ نواز شریف ریسٹورنٹ میں چائے پیتے دیکھے گئے۔ پورے چھ بار ایک بوریت کن تسلسل کے ساتھ۔ نواز شریف اپنے بیٹے حسن کے ساتھ واک کر رہے ہیں۔ تو بھئی ہم شادیانے بجائیں۔ آخر کیا کریں۔

Read more

ناں! آصف مسکرانے پر تمہارا کچھ خرچ ہوتا ہے

اپنی اب تک کی زندگی میں ایسا وقت تو کبھی نہیں آیا تھا جب ہر صبح آنکھ کھلنے کے ساتھ ایک اندوہناک سے دکھ، مایوسی، نا امیدی اور خوف کی لہریں سارے شریر میں سر تا پیر دوڑنے لگتی ہوں۔ صبح صادق کی سپیدی بدترین حالات میں بھی اکثر امید کا پیغام ہی دیتی ہے۔ یکم جون کی رات کوئی تین بجے آنکھ کھل گئی۔ رات کے اس پہر کی اذیت کو کم کرنے کے لیے موبائل کھولا۔ جیسے کلیجے پر گھونسہ پڑا۔ آصف فرخی کے دنیا سے چلے جانے کی خبر تھی۔ ”نہیں نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے کون سے مرنے کے دن تھے۔ ہم جیسے بوڑھے لوگ بیٹھے ہیں۔“ اب اضطراری حالت میں حمید شاہد کی پوسٹ پر لکھ رہی ہوں۔ ”حمید یہ کیسے ہوا؟“ سعدیہ قریشی سے پوچھ رہی ہوں۔

Read more

نیپلزسے خط: گریٹ پیپل ٹو فلائی ود

ایک اور المناک حادثہ۔ کتنے اور ستم میرے دیس میری اس نیم بسمل جسم و جان پر۔ وہ بھی کس کمال کا تخلیق کار تھا۔ وہی عمر قریشی، جس نے اسے گریٹ پیپل ٹو فلائی ود کا سلوگن دیا۔ اور وہ بھی کیا عظیم مسافر تھی اپنے وقت کی ورلڈ کورٹ سوسائٹی کی جان، سپر پاور کی خاتون اول جیکولین کینڈی جس نے اس میں سفر کیا اور اختتام سفر پر پائلٹ اور عملے کو گلے لگا کر اس سلوگن پر اپنی مہر ثبت کی۔ یہ کتنا بڑا اعزاز تھا۔

ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا۔ نوے کی دہائی کی نامور انگریزی کی جرنلسٹ زرقا بشیر نے مایہ ناز کینسر سپیشلسٹ پاکستانی ڈاکٹر طارق شفیع کی لندن میں کرونا سے موت کی اطلاع دی تھی۔ ڈاکٹر طارق بہت خوبصورت لکھاری اور ہماری دوست بیگم ممتاز شفیع کے صاحب زادے تھے۔

Read more

اماں جس پر لکھتے لکھتے یہ دن آ گیا

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی صبح اگر پانی پت کا میدان گرم ہوتا تو شام کو ہم گھنٹے سے گھٹنا جوڑے اپنا ”کیتھارسس“ سیشن جاری کرتیں پھر دل کی چال چلتی اماں کو برین ہیمرج ہو گیا اور میں نے پورے پچیس دن ان کا

Read more

ہم تین نمبرئیے، ہمارا کرونا بھی تین نمبریا

یقین کیجیے یہ میرا بیانیہ ہرگز نہیں۔ اس لیے عنایت ہوگی اگر لعن طعن کی سان پر چڑھائی نہ جاؤں۔ سچی یہ تو چند دن پہلے کی مکالمہ بازی ہے ان پانچ نوجوان ڈاکٹر بچیوں سے جو لاہور کے نامی گرامی اسپتالوں میں کام کرتی ہیں۔ لڑکیاں سنجیدہ بھی تھیں اور شوخ و شنگ و زندہ دل بھی۔

پیاری سی لڑکی کا سارا چہرہ تو ماسک اور سکارف میں چھپا ہوا تھا۔ میرے سوال پر پردے میں چھپے ہونٹوں کے ساتھ سرمگیں آنکھیں بھی بولی تھیں۔ کرونا مریض آتے ہیں مگر ان کی اکثریت صحت یاب ہوتی ہے۔ مرنے والوں کا نمبر بہت کم ہے۔ سوال ہے کہ کیا پہلے اسپتالوں میں اموات نہیں ہوتی تھیں۔ اب پروپیگنڈا، شور شرابا اور غل غپاڑہ زیادہ مچا رکھا ہے۔ اس میڈیا نے قوم کو ریٹنگ کے چکروں میں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔

Read more

انور مسعود نے سونا نہیں، ہیرا سپرد خاک کیا ہے

میں نہیں جانتی تھی لینا حاشر صدیقہ آپا کی صاحبزادی ہیں اور حاشر ارشاد ان کے بھانجے اور داماد۔ نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کے کتاب میلے میں ہم لاہور سے کچھ ادیب لوگ بھی شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میلے کے دوسرے دن شام کو نیلم احمد بشیر نے کہا ”بھئی رات کو لینا سے ملنے چلنا ہے۔ وہ بہت اصرار سے بلا رہی ہے۔“ کافی پلینٹ کے نام سے جانا جاتا ان کا گھر اور کیفے ادیبوں،

Read more

دمشق کی مونا عمیدی کا اور میرا رمضان

میرا پاکستانی رمضان تو ہمیشہ ہی ڈھول ڈھمکوں، نعتوں، گیتوں اور رمضانی تہذیبی رکھ رکھاؤ سے لدا پھندا ہوتا تھا۔ دمشق کی مونا عمیدی کا رمضان بھی اپنے رنگ ڈھنگ میں بڑا رنگ رنگیلا اور خوبصورتیوں سے مزین ہوتا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب شام جنگ میں جل رہا تھا۔ ایسے میں مونا نے جو نوحے لکھے وہ میں آپ کو سناتی ہوں۔ پر پہلے تو کچھ مونا عمیدی بارے جانئیے۔ دمشق میں چم  پیلس ہوٹل کے بالمقابل

Read more

پیاری بیبیو! اب پیچھا چھوڑ دو میرے مولانا کا

دل کے بہت بڑے تو نہیں پر کہیں کسی چھوٹے سے گوشے میں مولانا کے لیے تھوڑی سی محبت ضرور ہے۔ یقیناً اس میں اُن کے انداز بیان کی نرمی، اس میں گھلی مٹھاس، لہجے کا دل کو گرفت میں لیتا اُتار چڑھاؤاور نفسِ مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی محبوبیت کا ذکر بے تحاشا وبے بہا۔ یوں میں کچھ اتنی مذہبی نہیں۔ تھوڑی باغی اور من موجی سی عورت ہوں۔ عمرہ اور حج مخصوص دعاؤں اور سورتوں

Read more

نکولس دوم کا روس، راسپوٹین کی روحانیت اور آج کا پاکستان

چٹھی ملی ہے۔ پرانی ڈاکیے والی نہیں۔ بجلی والی۔ گکھڑ منڈی سے۔ چٹھی پیٹرزبرگ کی انستاسیا کی ہے۔ وہ اپنے پاکستانی سسرال آئی ہوں۔ ماشاء اللہ سے سسرال سیاست میں بڑا نام رکھتا ہے۔ لکھتی ہے۔ گذشتہ ڈھائی ماہ سے یہاں ہوں۔ پاکستانی سیاست کی شعبدہ بازیاں سُن سُن کر مجھے تو کچھ یوں لگتا ہے جیسے میں پیٹرز برگ یونیورسٹی کے طلبہ کو نکولس دوم کے عہد کو پڑھا رہی ہوں۔ راسپوٹین کی خود ساختہ روحانی علمیت کی قصہ

Read more

ہمارے گھر کا اہم ٹاک شو

سوچتی ہوں گلزار کو الہام ضرورہوتا ہے جو وہ آنے والے وقت کی چاپ سُن لیتا ہے۔ آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا گہرہ سبزہ، سُرخ، بسنتی، نیلے، پیلے پھول اور گھاس پر بیٹھا دلفریب پروں والا اجنبی سا پرندہ جسے کہیں بچپن میں دیکھتے تھے۔ اندر کہیں ہوک اٹھی تھی۔ آنکھیں گیلی ہوئی تھیں۔ خوشی اور دکھ دونوں کیفیات کی بیک وقت زد میں تھی۔ میرے خوبصورت پرندے واپسی کا کتنا بڑا تاوان لیا ہے تم نے؟ آسمان انسانوں سے ہوائیں

Read more

غرناطہ کی چھتوں پر اذان نہیں، اذانیں

ہم پاکستانیوں کے لیے کرونا کی یہ افتاد کچھ اتنی نئی تو نہیں ہاں البتہ اس کی سنگینی بہت گمبھیر ہے۔ دہشت گردی جیسے عفریت کو کِس طرح اِس قوم نے بھگتا ہے، یہ کوئی ہم ماؤں سے پوچھے، جن کے دلوں کی ہر دھڑکن اور سانسوں کی ہر تار میں عافیت اور خیر کی دعائیں پروئی ہوتی تھیں۔ بات کو طول کیا دوں، اِن بڑی طاقتوں کے مفادات غلبے اور حرص و ہوس کے ہتھکنڈے کیسے ہم کمزور ملکوں

Read more

اِس مشکل گھڑی میں ملک کے ساتھ کھڑے ہوں

یہ لاک ڈاؤن ہوئے تیسرے دن کی شب کا پہلا پہر ہے۔ ڈی ایچ اے فیز 5 کے ایک گھر میں ایک نوجوان صنعت کار اسامہ عثمان ایک فون کال سُننے میں مصروف ہے۔ بات کرنے والے نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پلان نائن سے بول رہا ہے۔ تکلیف دینے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ دراصل انہیں وینٹی لیٹرز سپلیٹرز  کے لیے اس کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اس پرزے کی ہنگامی بنیادوں پر تیاری چاہیے۔ وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کو وہ اِس پرزے کی مدد سے بہت آسانی سے چار مریضوں کو ہینڈل کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

Read more

وبا کے دنوں میں خود سے ملاقات

ان دنوں کرونا کے حوالے سے رنگا رنگ موضوعات کی بہار آئی پڑی ہے۔ کرونا وائرس کے وبائی دنوں میں محبت، پھر تجدید محبت۔ پھر خود سے ملنے کے دن، اپنے آپ کو پہنچاننے کے دن وغیرہ وغیرہ۔ آمنہ مفتی نے بھی لکھا۔ ان وبائی دنوں میں گھر پر رہئیے اور خود سے ملئے۔ اب اپنے آپ سے باتیں کرتی اور پوچھتی ہوں بھئی یہ خود سے ملنا کیا ہوا؟ ہم جیسے اجڈوں نے تو ساری زندگی خود کا نہیں

Read more

اٹلی کے شہر میلان کی بالکونی میں بیٹھی ریٹا اسمتھ کی یاد

اِن وبائی دنوں میں وہ مجھے یاد آتی ہے۔ دروازے کا پٹ ہاتھ میں تھامے نرم و ملائم نقش و نگار سجے چہرے اور نیلی کچور آنکھوں والی جو مجھے دیکھتے ہی چنبیلی کی طرح مسکراتی تھی۔ اٹلی میں کرونا وائرس کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔ خوفناک بیماری اور ہلاکتیں تو اپنی جگہ مگر یہ رویہ کہ بوڑھوں کو مرنے دو بڑا سنگدلانہ ہے۔ ایسے میں مجھے وہ یاد ہی نہیں آتی بلکہ میری آنکھوں کو بھی گیلا کرجاتی ہے۔

Read more

ہم اللّے بللّے پاکستانیوں کا رب وارث

اب اس میں تو دو رائے نہیں پاکستانی جیالے اور جی دار ہیں۔ یہ آپ کی مرضی ہے کہ انہیں احمقانہ صف میں گھسیٹ لیں۔ دلیل کے ساتھ چلیں گے تو پھر اتفاق کرنا پڑے گا۔ پر جیالے پن کا بھی تو ایک اپنا حسن ہے۔ برصغیر کے دو ماں جائے جو ہمسائے بن گئے تھے کوئی پچپن سال قبل جب پہلی بار لڑے تو دنیا نے دیکھا۔ لاہور کاآسمان جنگ وجدل کا پانی پت بنا ہوا ہے۔ اور لاہوری

Read more

کرونا وائرس، روم اور ویٹی کن سٹی

کرونا وائرس کے بادلوں نے اٹلی پر بھی اپنی نحوست کی چادر تان دی ہے۔ سیاحت کے موسم کا آغاز ہے اور بندہ قید ہوگیا ہے۔ کہاں جائے۔ نہ مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ محفوظ اور نہ کیتھولک عیسائیوں کا ویٹی کن سٹی۔ چلیے ایسے میں کچھ میری سیر سے اپنی پیاس بجھا لیں۔ میں روم میں ہوں اور اکیلی ہوں اور خود سے ہم کلامی کے انداز میں گویا ہوں۔ تو آج کیتھولک عیسائیوں کے مکے مدینہ کا دیدار

Read more

مایون ہم چترالیوں کے لیے کرونا وائرس نہیں لانا

مُبارکاں، ودھائیاں تمہاری سہیلی ثمینہ کے شوہر کو۔ ہاں تو وہ شاہکار وارد ہوگیا ہے جس کی آمد کے لیے فارموسیوٹیکل کمپنیاں چُھرے تیز کررہی ہیں۔ ان کی بیویاں سنہرے خواب بن رہی ہیں۔ چارارب، پانچ ارب کے تخمینے لگ رہے ہیں۔ چلو تمہاری ثمینہ کا ایک اور شاندار وِلا تیار سمجھو۔ فوزیہ ہماری مشترکہ دوست میری تواضع کررہی تھی۔ میرے کان تپنے لگے تھے۔ موبائل کانوں سے لگا جیسے آگ چھوڑ رہا تھا۔ گاڑی سگنل پر رش میں پھنسی

Read more

میرے محبوب سے ملاقات

”اتوار کو اپنے محبوب سے ملیں۔ “ یاسر پیر زادہ کی تحریر۔ خوشی سے باچھیں چر گئیں کہ کیا ہی حسن اتفاق ہے کہ میرا اور اُن کا محبوب ایک ہی نکلا۔ لیجیے کچھ لوگ بڑے معترض ہوگئے ہیں کہ چلو یہ اچھی ایکٹویٹی رہی۔ بھتیجے نے تو محبوب کا ذکر ہی کیا۔ پھوپھی تو مل مار بیٹھ گئی۔ بھئی یہ ہمارا بھی تو ہے۔ ارے ارے سو بسم اللہ۔ ہمیں کب انکار ہے؟ جیتا جاگتا رہے، آباد شادرہے یہ

Read more

استنبول کی سلیمانیہ لائبریری اور خوبصورت ترک شاعری

سچ تو یہ ہے کہ سلیمانیہ لائبریری میں جانا اور ایک ہزار سال سے زیادہ کے ترک اسلامی کلچر کے فکری و علمی خزانوں کے مخطوطوں اور مسودات کو دیکھنا گویا اپنے آپ کو اس علمی ماحول میں تھوڑی دیر کے لئے محسوس کرنا اور سانس لینا ہی خدا کی ہمارے اوپر ایک بڑی عنایت تھی۔ اس عظیم الشان ورثے کے سامنے جب میں کھڑی تھی ایک تلخ اور حقیقت پسندانہ سوچ بھی ذہنی دروازہ کھولتی اندر آئی تھی۔ قومیں

Read more

چین پر ہمیشہ کی طرح اب بھی اعتماد کی ضرورت ہے

سچی بات ہے شورش کا یہ شعر ”طوائف گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں“ اِن دنوں مجھے خود پر اور ملکی حالات پر بڑا فٹ بیٹھتا نظر آتا ہے۔ گذشتہ کچھ دنوں سے ایکا ایکی ذاتی مسائل کے اژدہام نے یو ں طنابیں چاروں اور کَس دیں کہ ارد گرد بکھرے چیختے چنگھاڑتے واقعات کہیں پس منظر میں چلے گئے تھے۔ چلو کچھ سانسیں درست ہوہیں تو احساس ہواملک میں آٹے کا بحران ہے اور خیر سے ایف آئی اے

Read more

علی شیر نوائی، ازبکستان کا قومی شاعر

تاشقند کی اِس میٹھی سی دھوپ میں یہ سنتے اور نوائی کے چمکتے مجسمے پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں نے قدرے تعجب سے اپنی گائیڈ آریانا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ارے تمہارا شاعر کیسے ہوگیا۔ یہ تو افغانستان کے مغربی شہر ہرات جیسی تہذیبی اور علمی جگہ کا جم پل اور وہیں دفن بھی ہے۔ “ نوجوان آریانا نے فخر وغرور سے پُر لہجے میں تُرت جواب دیا تھا۔ ”ہرات ہمارا ہی تو حصہ تھا۔ ہمارے تیمور جیسے عظیم شہنشاہ

Read more

قصّہ ایک افسانہ لٹنے کا

بنیادی طور پر میں ایک اُستاد ہوں۔ عرصے سے میری خواہش ایک اچھا ادارہ کھولنے کی رہی تھی۔ 1990 میں قدرت نے موقع فراہم کیا۔ تیرہ سال تک مخلوط تعلیمی سلسلہ چلتا رہا۔ گرلز سکول کا جب سیکنڈری بورڈ کے ساتھ الحاق ہوا تو لڑکوں کو الگ کرنا ضروری ٹھہرا۔ یوں بھی ہمہ وقت بچے بچیوں کی نگرانی مسائل پیدا کررہی تھی۔ والدین کا بھی پریشر تھا۔ چنانچہ چار کنال کی جگہ خرید کر اس پر عمارت کی تعمیر شروع

Read more

بغداد یار تو نے کتنا اور جلنا ہے؟

ہماری آنکھ کے لیے یہ منظر بڑی تقویت والا تھا۔ چشم فلک تو خیر بڑی رجی پُجی ہے۔ صدیوں سے ایسے منظر دیکھتی چلی آئی ہے۔ اسی لیے بڑی بے حس سی ہے۔ بڑی کمینی سی خوشی اندر سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ گاؤں کے بڑے چودہری کو لتّر پڑ جائیں تو کمی کمینوں کی باچھیں قابو میں نہیں آتی ہیں۔ منظروں کی کیا تفصیل سناؤں۔ آپ سبھوں نے ہی دیکھے ہوں گے۔ دنیا کی عظیم سلطنت کے عظیم اور

Read more

ترکی کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم ناول نگار اورحان پامُک

اورحان پامُک کو اس کے ناول بینم ادم قرمزی Benim Adim Kirmizi پر ملنے والا نوبل ایوارڈ کا سال وہی تھاجس سال میں استنبول گئی تھی یعنی 2006۔ کیا تکسیم میدان اور کیا استقلال سٹریٹ کی کتابوں کی شاندار دکانیں اس کی کتابوں اور اس کی بچوں جیسی معصوم ہنسی والے پوسٹروں سے سجی پڑی تھیں۔ کتابوں کی دکانیں تو سدا کی کمزوری ہے ہماری۔ اب بھلا تکسیم میدان میں کتابوں کی وہ بک شاپ توجہ کیوں نہ کھینچتی کہ

Read more

پاکستانی جاسوس اور بنگالی حسینہ کی کہانی جو آج تک نہ لکھ سکی

بنگال کی جادوئی خوبصورتی والے کردار توڈھاکہ کے لیے روانہ ہوتے ہوئے ساتھ ہی چلے تھے۔ مگر پہلے کچھ دنوں تک تو نسوانی حُسن میں مجھے وہ کچھ نظر نہیں آیا تھا جسے دیکھنے کا اضطراب بے چین کیے ہوئے تھا۔ وہ سب بس قصّے کہانیوں والا ہی لگا۔ گو نمکینی بہتیری تھی۔ ملاحت کی بھی کمی نہ تھی۔ تاہم ایک تشنگی ضرور تھی۔

ایک دن جب میں چٹاگانگ کی اردو اسپیکنگ لڑکی سے ملنے پانچویں تلے پر گئی اور دروازہ کھولا۔ لگا جیسے پاؤں میگنٹ بار پر پڑے ہوں اور چپک گئے ہوں۔ کمرے کے آخری کونے میں پانچ فٹ سات انچ کی قامت پر اودی رنگی ساڑھی اور کمرسے بہت نیچے تک جاتے سیاہ کھلے بالوں میں لشکارے مارتے ایک چنبیلی رنگے چہرے نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھیں نہیں تھیں دو روشن چراغ تھے۔ ناک، ہونٹ، ماتھا۔ قدرت کا ایک شاہکار چند فٹ پر کھڑا تھا۔ کرسی پر بیٹھی تمکنت آرا نے یوں مبہوت دیکھ کر کہا۔

Read more

ڈھاکہ: مسجد بیت المکرم سے دھان منڈی تک

چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیارِ حبیب ہیں انتظار میں "پچھلی” محبتوں کے مزار محبتیں جو فنا ہو گئیں ہیں میرے ندیم! اگلی نہیں کہوں گی۔ مجھے تو پچھلی محبتوں کا ماتم کرنا ہے۔ یہ دسمبر ہے۔ یادوں کی انیاں قلب و جگر میں اُتر آئی ہیں۔ یاد کرتی ہوں مصری سفارت خانے کے قومی دن پر میں اور بشری رحمن بھی مدعو تھے۔ سرینا ہوٹل کے ہال میں بنگلہ دیشی سفیر اور اُن کی بیگم بارے جاننے پر

Read more

کچھ ستم وقت کے اور کچھ ہمارے

اب یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ ہمارے کالم نویس ایاز امیر بھی کیا دبنگ آدمی ہیں۔ پاکستانی جیسے منافقت سے بھرے معاشرے میں جودرست سمجھتے ہیں اُسے ڈنکے کی چوٹ پر کرنے اور برملا کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ چند دن پہلے میں رؤف کلاسراکا کالم پڑھ رہی تھی جس میں اُنھوں نے اسمبلی کے اُس سیشن کا ذکر کیا جس میں تمام اسمبلی نے یک آواز ہو کر طالبان سے معاہدے کی منظوری دی تھی۔ اس اسمبلی

Read more

ہمارے چارہ گروں کو تماشا گری سے فرصت نہیں

ہائے یہ کیسی حسرت ہے میرے دل میں کہ کوئی معجزہ ہوجاتا۔ ہمارے پیارے جنرل صاحب اپنا استعفیٰ لکھ کر اِن سبھوں کے منہ پر مارتے اور کہتے ”لو سنبھالو اپنی یہ عنایت۔ مجھے نہیں چاہیے۔ نالائق لوگو تم لوگوں نے تو مجھے تماشا بنا دیا ہے۔ میری جگہ لینے والے کا حق کیوں مار رہے ہو۔ غلط روایات نہیں پڑنی چاہیں۔ مگر آرزوئیں تو خاک ہونے کے لیے ہی ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ ایک تو داد دینی پڑے گی

Read more

چیئرمین ماﺅ پر ایک حیرت انگیز کتاب

کرپشن کرپشن سُنتے کان پک گئے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے تو لگتا ہے کوئی اور سبق پڑھا ہی نہیں بس اسی کا ڈھنڈورا پیٹے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہمارے وزیر اعظم کا دورئہ چین بھی اسی تذکرے کے گرد گھوما اور اس کا چرچا بھی خوب رہا۔ وہاں اُن کی کرپشن کے خلاف کی گئی حسرت آمیز تقریر بھی ہائی لائٹ ہوئی۔ قطع نظر اس کے کہ وہ تقریرصحیح تھی یا غلط۔ برسر موقع تھی یا نہیں اہم

Read more

بابری مسجد اور رام مندر تاریخ کے آئینے میں

تو بابری مسجد کا بالآخر فیصلہ سُنا دیا گیا۔ فیصلہ غیر متوقع بھی نہیں تھا۔ ردّعمل بھی کچھ اسی نوع کا ہی ہونا تھا جو سُن اور پڑھ رہے ہیں۔ پہلی بات کہ کیا یہ فیصلہ منصفانہ ہے۔ اگر آرکیالوجیکل سروے انڈیا کی رپوٹس کو دیکھا جائے تو وہاں متنازع زمین پر صدیوں قدیمی مندر کی باقیات کے کوئی آثار نہیں ملتے ہیں۔ اس ضمن کا دوسرا بڑا حوالہ ہندوستان کی مشہور تاریخ دان رومیلا تھاپر Romila Thaparکا ہے جس

Read more

زندہ باد ٹرمپ، زندہ باد امریکہ

خلق خدا کو مبارک ہو۔ صدر ٹرمپ کے لیے تھری چیئرز۔ امریکی فوج کی دلیری اور شجاعت کو سلام۔ کتنا بڑا کارنامہ اُس نے انجام دیا۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو مقابلے میں ہلاک ہی نہیں کیا بلکہ کُتے جیسی ذلیل موت مار دیا اور دیکھیں تو ذرا اِس آپریشن کو صدر ذی وقار نے خود دیکھا۔ بعنیہٰ اِسی طرح جیسے باراک اُبامہ نے ہیلری کلنٹن کے ساتھ اسامہ بن لادن آپریشن آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تھا۔ اپنے

Read more

اک ذرا ملتان روڈ سے الحمرا تک

وقت یہی کوئی ساڑھے نو کا تھا اور ملتان روڈ بیچاری اورنج ٹرین کے پروجیکٹ میں ملوث ہونے کی سزا بھگت رہی ہے۔ سزا تو اُسے بھگتنی ہی تھی کہ شہباز شریف کے ساتھ جو نتھی ہو بیٹھی تھی۔ اب بھلا نیا پاکستان بنانے والوں کی ترجیح میں کیسے آتی۔ تُرک کمپنی البراق کا ٹرک راستہ روکے کوڑا ڈھونے میں جتا ہوا تھا۔ سڑک پر کھڑی میرے جیسی عورت دانت پیستے ہوئے کِسی جرمن سفارت کار کی اس بات کو

Read more

ہم جو عمران خان کی حمایت پر مجرم ٹھہرے

اسکول کے گراؤنڈ میں سینئر کلاسوں کی بچیاں دھرنا دینے کے انداز میں بیٹھی تھیں۔ وائس پرنسپل نے مجھے بتایاتھا کہ بچیوں کی عدالت میں آپ کو حاضر ہونا ہے۔ بھونچکی سی ہوکر میں نے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ یہ تو آپ کو عدالت میں حاضر ہونے سے پتہ چلے گا۔ لائبریری میں احتسابی عدالت کا پورا سین سجا ہوا تھا۔ اور میں ملزموں کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ بچوں کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کی

Read more

واقعی 1973ء کے بعد پہلی مرتبہ؟

جناب محمد اظہار الحق ہمارے بڑے اعلیٰ پائے کے منجھے ہوئے کالم نگار ہیں۔ اُن کا کالم ”1973 کے بعد پہلی مرتبہ“ پڑھا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر کو 1973 کے شاہ فیصل کے واقعے سے جوڑتے ہوئے مغرب کے لیے دوسری بار یہ سب سے زیادہ حیران کن واقعہ قرار دیا۔ اس میں تو بہرحال کوئی مبالغے والی بات ہے ہی نہیں کہ وزیر اعظم کا خطاب مُدّلل، پُراعتماد، ادائیگی اور جسمانی تاثرات کے اعتبار سے بڑا

Read more