یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر6)۔

آرٹ سے لے کر ہیلتھ کیئر تک ہر فیلڈ میں روایتی ملازمتوں کو جزوی طور پر نئی انسانی ملازمتوں کی تخلیق سے پورا کیا جائے گا۔ آج جو میڈیکل ڈاکٹر بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج پر توجہ دیتے ہیں، شاید ان کی جگہ مصنوعی ذہین ڈاکٹر لے لیں۔ خاص اسی امر کی بدولت انسانی ڈاکٹروں اور لیب معاونین کو اہم تحقیقات کرنے، نئی ادویات کی تیاری اور جراحی کے جدید طریقہ کار وضع کرنے کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوگی۔

مصنوعی ذہانت مختلف انداز میں نئی انسانی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں مصنوعی ذہانت سے مقابلہ کرنے کی بجائے، اس سے خدمات لینے اور فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر ڈرون کی وجہ سے بہت سے انسانی پائلٹوں کی ملازمت ختم ہو گئی ہے، لیکن ڈرونوں کی مرمت کرنا، انہیں ریموٹ کنٹرول سے قابو کرنا، ان کے مہیا کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور سائبر سکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں ملازمت کے بہت سے مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کو شام میں اڑنے والے ہر بغیر پائلٹ ’پرڈیٹر‘ یا ’ریپر ڈرون‘ کو چلانے کے لیے تیس افراد کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب

Read more

اکیسویں صدی کے اکیس سبق: موزارت بمقابلہ مشین

کم ازکم فی الحال مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی سے ساری صنعتوں کے مکمل طور پر ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ صرف چند ایک نوکریاں جنہیں چلانے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے بس انہیں ہی خود کار کیا جا ئے گا۔ لیکن انسانوں کو معمول کی ایسی نوکریوں میں مشینوں سے…

Read more

لبرل ازم کا زوال اور امرا شاہی حکومت: یووال نوح ہراری

بیسویں صدی کے اختتام پر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ فاشزم، کمیونزم اور لبرل ازم کے درمیان لڑی جانے والی عظیم نظریاتی جنگوں کا نتیجہ لبرل ازل کے بے پناہ غلبے کی صورت میں نکلا ہے۔ جمہوری سیاست، انسانی حقوق اور فری مارکیٹ کیپٹل ازم بظاہر ساری دنیا کو فتح کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن حسب معمول تاریخ نے ایک غیر متوقع موڑ لیا اور فاشزم اور کمیونزم کے انہدام کے بعد اب لبرل ازم ایک مشکل میں گرفتار ہے۔ تو ہم کس سمت جا رہے ہیں؟

سنہ 1938 میں انسان تین عالمی کہانیوں سے انتخاب کر سکتے تھے، 1968 میں صرف دو، 1998 میں ایک واحد کہانی رائج ہوتی دکھائی دی، اور 2018 میں ہمارے پاس کوئی کہانی نہیں بچی۔

Read more