کیا آپ نے کبھی خود کشی کے بارے میں سوچا ہے؟


پچھلے ہفتے جب میری مریضہ KAREN اپنے گھر آئی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کا بوائے فرینڈ SHAWN، جس کے ساتھ وہ چند مہینوں سے رہ رہی تھی، اپنے کپڑے، کتابیں اور سامان لے کر جا چکا ہے۔ چار دن کے جانگسل انتظار کے بعد شون کا پیغام آیا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ کیرن شون سے اتنی شدید محبت کرتی تھی کہ اس کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے سوچا شون کے بغیر زندگی سے موت بہتر ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی تمام نیند کی گولیاں کھا کر خود کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن اس نے ابھی وہ گولیاں نہ کھائی تھیں کہ دروازے پر خلافِ توقع دستک ہوئی۔ کیرن نے دروازہ کھولا تو اس کی بڑی بہن JENNY کھڑی تھی۔ جینی کوجب پتہ چلا کہ کیرن خود کشی کرنا چاہتی ہے تو اس نے ہمیں فون کیا اور کیرن کو مجھ سے ملوانے میرے کلینک لے آئی۔ میں نے کیرن سے تفصیلی بات کی، اسے امید دلائی اور اسے قائل کیا کہ وہ چند دنوں کے لیے ہسپتال میں داخل ہو جائے۔ وہ مان گئی۔ میں نے اسے ایمرجنسی ڈاکٹر کے لیے خط لکھ کر دیا اور وہ ہسپتال میں داخل ہو گئی۔ اس طرح جینی نے تو اپنی بے پناہ محبت اور دانش مندی سے اپنی بہن کو خود کشی سے بچا لیا لیکن ہر روز نجانے کتنے لوگ ایسے ہیں جو مدد ملنے سے پہلے ہی خود کشی کر لیتے ہیں۔

پچھلے ایک ہی ہفتے میں دو مشہور شخصیتوں: امریکہ میں فیشن ڈیزائنر KATE SPADE اور فرانس میں مشہور CHEF ANTHONY BOURDEIN کی خود کشی کی وجہ سے بین الاقوامی خبروں اور سوشل میڈیا پر لوگ اس موضوع پر بڑے زور و شور سے تبادلہِ خیال کر رہے ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟

کیا خود کشی کرنے والے مرد اور عورتیں ذہنی مریض ہوتے ہیں؟

یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ ساری دنیا میں ہر روز سینکڑوں مرد اور عورتیں خود کشی کرتے ہیں۔ خود کشی کی تحقیق کئی حوالوں سے مشکل ہے کیونکہ بہت سے رشتہ دار خود کشی کو چھہپاتے ہیں۔ ایک زمانے میں عیسائی پادری خود کشی کرنے والے کے لیے چرچ کی سروس کرنے سے انکار کر دیتے تھے کیونکہ ان کا موقف تھا کہ خود کشی حرام ہے اس لیے خود کشی کرنے والا گنہگار ہے۔ اب اکثر پادریوں کے دل میں خودکشی کرنے والوں کے لیے ہمدردی پیدا ہو رہی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اسلامی دنیا میں مسلمان علما کا خود کشی کرنے والے کے نمازِ جنازہ کے بارے میں کیا موقف ہے؟

ماہریں نفسیات اور سماجیات جانتے ہیں کہ خود کشی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ خود کشی میں بہت سے سماجی، معاشی، مذہبی اور نفسیاتی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سے کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ میں اس کالم میں صرف چند ایک نفسیاتی عوامل پر اپنی توجہ مرکوز کروں گا۔

میں چونکہ ماہرِ نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر اور ادیب بھی ہوں اس لیے میں ان ادیبوں کی سوانح عمریاں پڑھتا رہتا ہوں جنہوں نے خود کشی کی۔ ان ادبی شخصیتوں میں ورجینیا وولفّ، سلویا پلاتھ، ارنسٹ ہیمنگ وے اور ونسنٹ وین گو شامل ہیں۔ ورجینیا وولف ڈیرپریشن کا شکار تھیں۔ ان پر زندگی کے مختلف ادوار میں ڈیپریشن نے چھ بار حملہ کیا تھا جن سے وہ زندہ بچ نکلی تھیں۔ ان پر جب ڈیپریشن نے ساتویں دفعہ حملہ کیا تو انہوں نے اپنے شوہر LEONARD کو ایک خط لکھا، اس کی محبت اور پیار کا شکریہ ادا کیا اور پھر اپنے کوٹ کی جیبوں کو پتھروں سے بھر کر سمندر میں چلنا شروع کر دیا۔ وہ تھوڑی ہی دیر میں اتنی دور چلی گئیں کہ زندہ واپس نہ آ سکیں۔

ماہرینِ نفسیات جانتے ہیں کہ خود کشی سے پہلے بہت سے مریض ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ کھانا پینا کم کر دیتے ہیں

انہیں نیند نہیں آتی

ان کا وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے

وہ زندگی کے کاموں میں دلچسپی لینا کم کر دیتے ہیں

وہ اداس ہو جاتے ہیں

وہ زندگی اور مستقبل کے بارے میں یاسیت کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور

وہ اپنی قیمتی چیزیں لوگوں میں بانٹنا شروع کر دیتے ہیں

یہ سب ڈیپریشن کی علامات ہیں۔ اگر مریض کے رشتہ دار یہ تبدیلی محسوس کریں تو انہیں چاہیے کہ مریض سے پوچھیں کہ کیا وہ خود کشی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسے کسی ڈاکٹر یا ہسپتال لے جانا چاہیے تا کہ اسے بروقت نفسیاتی مدد مل سکے۔ اکیسویں صدی میں اب سائنس، طب اور نفسیات نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ڈیرپریشن کا ادویہ اور تھیریپی سے علاج ممکن ہے۔

مغربی دنیا میں اب ہر شہر میں DISTRESS CENTRES AND CRISIS LINES بن گئی ہیں جہاں نفسیاتی مسائل کے شکار لوگ چوبیس گھنٹے فون کر کے نفسیاتی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ مغرب میں اب سکولوں اور کالجوں میں بچوں اور نوجوانوں کو نفسیاتی مسائل کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

کینیڈا میں ہماری ایک ڈوکومنٹری میکر دوست صائمہ فیاض نے حال ہی میں فیس پک پر ایک پیج بنایا ہے جس کا نام

 HEAL THY MIND

https://www.facebook.com/Heal-thy-mind-2006026476093860/

رکھا ہے۔ اس فیس بک پیج پر لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ شیر کریں تا کہ نفسیاتی مسائل کے بارے میں ٹیبو ختم ہو اور ہم اس موضوع پر کھل کر بات کر سکیں ۔ اس مکالمے اور بروقت مدد سے بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اس پیج پر ہم مریضوں کے نفسیاتی مسائل اور ان کے علاج کی کہانیاں بھی پیش کر رہے ہیں تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔

جرمن فلافر شوپنہار سے جب کسی نے پوچھا تھا کہ لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے اپنی بصیرت اور دانائی کا ان الفاظ میں اظہار کیا تھا۔

WHEN THE HORRORS OF LIVING OUTWEIGH THE HORRORS OF DYING PEOPLE COMMIT SUICIDE

(نوٹ: مریضوں کے نام فرضی ہیں)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 144 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail