پوکیمون چاچا: کھیل کے لیے 11 فونز استعمال کرتے ہیں


پوکیمون گو

EPA
چین سان یوان نے یہ گیم اپنے پوتے سے سیکھی تھی

تائیوان کے ایک بڑے میاں نے اپنی سائیکل سے 11 سمارٹ فون منسلک کر آگمینٹڈ ریئلٹی گیم پوکیمون گو کھیلنا شروع کر دی ہے۔

یہی نہیں، چین سان یوان کا ارادہ ہے کہ وہ چار مزید فون منسلک کر کے اپنی گیم کو مزید پرلطف بنا دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آس پاس کے علاقے میں وہ ‘پوکیمون چاچا’ کے نام سے مشہور ہیں اور مسلسل 20 گھنٹے تک کھیلتے رہتے ہیں تاوقتیکہ ان کے موبائلوں کی بیٹریاں جواب دے جائیں۔

وہ اپنی اس لت پر ماہانہ 13 سو ڈالر کے قریب خرچ کرتے ہیں۔

پوکیمون چاچا پورٹیبل بیٹریاں بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ تائی پی شہر میں رات کے وقت پوکیمون پکڑ سکیں۔

ان کی شہرت اپنے علاقے تک محدود تھی، لیکن پھر تائیوان کے ایک چینل کو ان کی عادت کی بھنک مل گئی اور اس نے کا انٹرویو کیا جو راتوں رات وائرل ہو گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس گیم سے انھیں الزہائمرز بیماری سے چھٹکارا پانے اور نئے دوست بنانے میں مدد ملتی ہے۔

پوکیمون گو

EPA
یہ سارے فون بیٹری پیک سے منسلک ہیں

پوکیمون گو 2016 میں متعارف کروائی گئی تھی اور ساری دنیا میں مشہور ہو گئی تھی۔ اس گیم میں کھلاڑی اپنے فون کی مدد سے اصل دنیا میں فرضی جانور پکڑتے ہیں۔ تاہم اس گیم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین سان یوان
چین اب سارے علاقے میں مشہور ہو گئے ہیں
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6001 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp