کالم منڈی اور ہیروں کی سٹاک ایکسچینج


پہلی خبر تو یہ ہے کہ کالم نگاروں کی منڈی میں مندا آوے ہی آوے۔ محترم شہباز شریف بھرے مجمعے میں شعر سنائیں گے۔ خواجہ سعد رفیق ہاتھ کے ہاتھ دو غزلہ، سہ غزلہ سنا کر مجلس کو گرمائیں گے اور پھر میاں نواز شریف نئے نویلے عاشق کی طرح تھوڑا رک کے، ذرا جھجکتے ہوئے شعر میں دل کا حال کہیں گے تو خدا لگتی کہیے، کالم نگاروں کا بھاو تو گر جائے گا۔ وفا بھی حسن ہی کرتا تو آپ کیا کرتے؟ رستم کیانی کے اہلمند نے اس کے جواب میں کہا تھا ’میں حضور کے اقبال کو دعائیں دوں گا‘۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہماری کوئی دوسری برانچ نہ ہے۔ بازار میں بہت سی دکانیں ہیں جہاں اندر کی خبر بلیک مارکیٹ کے مول ملتی ہے۔ حالی نے اپنی الگ دکان کھولی ہے۔ اچھا مال یوں الگ باندھ کے رکھا ہے جیسے اوچھے کے گھر تیتر۔ سچ پوچھیے تو درویش خبر کی دنیا کا آدمی نہیں، نظر کے بارے میں البتہ کچھ اندیشہ سا پیدا ہوا تھا۔ کوئی نصف صدی پہلے ناک پہ عینک دھر لی۔ معلوم ہو گیا کہ بصارت معدوم کی حدود میں ہے۔ ہوش سنبھالا تو معلوم ہوا کہ بصیرت سرے سے مفقود ہے۔ ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق شعر کے پرانے خزانوں کو دوبارہ قابل استعمال بناتا ہوں۔ ن م راشد کا ’اندھا کباڑی‘ آواز لگاتا تھا، ’خواب لے لو، خواب…. اور لے لو ان کے دام بھی….‘ ہمارے بجوگ کا حال البتہ مختار صدیقی نے لکھ دیا۔

اپنے حال کو جان کے ہم نے فقر کا دامن تھاما ہے

جن داموں یہ دنیا ملے ہے، اتنے ہمارے دام کہاں

آمریت گلی کوچوں میں اترتی ہے تو نالیوں پر چونا چھڑکا جاتا ہے، دکانوں پر اشیا کی ریٹ لسٹ آویزاں کی جاتی ہے۔ زخموں پر نمک چھڑکنا مقصود نہیں ، لیکن تجربے نے بتایا کہ ریٹ لسٹ میں قیمت کچھ لکھی جاتی تھی اور دام کچھ اور وصول کئے جاتے تھے۔ دام کی دنیا کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ فانی بدایونی نے کیا سادگی سے یہ بات کہ دی

جان سی شے بک جاتی ہے، ایک نظر کے بدلے میں

آگے مرضی گاہک کی، ان داموں تو سستی ہے

اور عزیزان من، درویش کی کیا پوچھتے ہیں۔ بہتی ہوئی آب جو کے کنارے باہیں پھیلائے پکارتا ہے، ’لیکن وہ مرے خواب، مرے خواب، مرے خواب‘…. خوابوں کا قصہ تو یہ ہے کہ ہم نے بیس کروڑ مخلوق میں سے ڈھونڈ کے جے آئی ٹی کے لئے پانچ ہیرے چنے تھے۔ معلوم ہوا کہ سٹاک ایکسچینج غوطہ کھا گئی ہے۔ واللہ عجیب قسمت پائی ہے، سونے کو ہاتھ لگاتے ہیں تو مٹی ہو جاتا ہے۔ غلطی ہم سے یہ ہوتی ہے کہ منڈی اور سٹاک ایکسچینج کا فرق نہیں جانتے۔ سٹاک ایکسچینج تو بلبلہ ہے۔ 1929ءمیں پھٹ گیا۔ 1997ءمیں پھٹ گیا، 2008ءمیں پھٹ گیا۔ سیاست کی منڈی میں حباب کے برابر سے حباب نکلتا ہے۔ فراق گورکھپوری نے کہا تھا، کس قدر کس اس حباب میں دم ہے….

اسی بارے میں: ۔  اوریا، عورتیں اور مرغیاں

اس حباب کا دم دیکھنا ہو تو مصر کے بازار میں چلتے ہیں۔ دور کی بات نہیں، یہی کوئی پچپن برس پہلے کا واقعہ ہے۔ چار ستمبر 1962 کو کراچی میں کنونشن مسلم لیگ قائم ہوئی تھی۔ بہت سے نام تھے۔ چوہدری خلیق الزماں، راجہ غضنفر علی خان، بیگم شاہ نواز اور فدا محمد خان…. مقصد کنونشن مسلم لیگ کا فیلڈ مارشل ایوب خان کی سہرا بندی تھا۔ چھ ہفتے بعد 27 اکتوبر 1962 کے روز کراچی ہی میں مسلم لیگ کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ خواجہ ناظم الدین مسلم لیگ (کونسل) کے سربراہ چنے گئے۔ تھوڑا سا غور کیجیے، کیا 3 اکتوبر 2017ءکو کنونشن سنٹر اسلام آباد کی چھت کے نیچے مسلم لیگ کونسل نہیں بیٹھی؟ 16 اکتوبر 1951 ءکو جو کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی، اسے اٹھا کر، اس کے دھبے صاف کر کے، اسے جمہور کے نصب العین کا درجہ نہیں دیا گیا؟ کیا آمر کی بوئی ہوئی بارودی سرنگیں پلکوں سے نہیں اٹھائی گئیں؟ تاریخ کا دریا آگے کی طرف بہتا ہے۔ اس دریا میں دوسری دفعہ پاو ¿ں رکھنا کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ اپنی پشت پر خواب کا بوجھ اٹھانے والے گھاٹ کے پار اترتے ہیں۔ جو چاہو لگا دو، ڈر کیسا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں….

ادھر ادھر سے موجہ ¿ صبا نے کچھ افسانے سنائے ہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی کہتے ہیں کہ انتہائی اقدام سے پہلے پاکستان سے بات کریں گے۔ عسکری قیادت سات گھنٹے تک سر جوڑ کے بیٹھی۔ کوئی خبر نہیں دی گئی۔ گویا گھمبیر معاملات ہیں۔ ایک مجلس کنونشن سینٹر میں سجی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے چند سو افراد کا ایک مجمع اشتعال پھیلا رہا تھا۔ یہ سب ایک ہی روز میں ہوا ہے۔ تصویر کے ان ٹکڑوں کو جوڑ کر دیکھیے۔ خارجی خطروں کا مقابلہ داخلی استحکام سے کیا جاتا ہے۔ ہم اشتعال کی چنگاریوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ گھر کی صفائی کے دن آتے ہیں تو ہم بارود کی ایک اور بوری پنجاب اسمبلی کے چوک میں رکھ آتے ہیں۔ رواں برس فروری کی تیرہ تاریخ (تیرہ و تاریک لکھنا چاہیے) کو ہم نے اسی چوک سے ڈی آئی جی احمد مبین سمیت درجنوں شہید اٹھائے تھے۔ دیکھئے، محشر بدایونی نے کیسی حشر بداماں سطر لکھی ہے…. دامن دامن آگ لگا دی اور چراغ جلاو ¿ گے؟

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر عبد السلام اور پانی سے چلنے والی کار ....

شیکسپئیر لفظوں کا بادشاہ تھا۔ وہ جب سٹیٹ کا لفظ استعمال کرتا ہے تو بیک وقت ریاست اور کیفیت مراد لیتا ہے۔ شیکسپئیر کے ڈرامے ہیملٹ میں مقتول بادشاہ کا ہیولہ غلام گردشوں میں ظاہر ہوتا ہے تو پہرے دار کہتا ہے،

Something is rotten with the state of Denmark

ڈنمارک کی عالی شان ریاست کے قابل احترام شہریو، کچھ دیر رک کے سوچ لو، ہم نے اپنے ارمانوں کو کس مٹی میں بونا ہے۔ لفظوں کا بیوپاری سب کی سلامتی کا خواہاں ہے۔ پنجابی زبان میں سلامتی کے لیے خیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی میں خیر کا مفہوم نیکی کے ضمن میں آتا ہے۔ ہمیں سلامتی کو نیکی کی راہ دکھانی چاہئیے۔ 21 کروڑ باشندوں کی سلامتی نیکی میں ہے۔ مملکت کا دستور نیکی کی اعلی ترین قدر ہے۔ اس دستور کو تین نسلوں نے اپنی اجتماعی فراست بخشی ہے۔ اس دستور سے جمہوریت کا زمزمہ بلند ہوتا ہے۔ خواب کا نغمہ اٹھتا ہے، آپ اسے ہنگامہ کہتے ہیں؟ ہنستے بستے گھروں سے آوازیں سنائی دیتی ہیں، قبرستان میں خاموشی ہوتی ہے۔ منڈی میں مکالمہ کیا جاتا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں زور لگا کر اپنی بات سنانا پڑتی ہے۔ امام عالی مقام حضرت حسینؓ کی شہادت پر 1380 برس گزر چکے۔ حسینؓ کی حریت کی شہادت ابھی دی جا رہی ہے۔

دل نہ چھوٹا کرو، سوکھا نہیں سارا جنگل

ایک جھنڈ سے ابھی پانی کی صد اآتی ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔