دبئی میں انسان بنانے کا طریقہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخری واقعہ کا ذکر پہلے کرنے کی غلطی کروں گا، پاکستان واپس آنے کی رات دس بجے دوستوں کے ہمراہ ائیر پورٹ پہنچے تو فلائیٹ میں ابھی تین گھنٹے کا انتظار تھا، پاکستانی بھائیوں (تقریباً تمام صوبوں کے لوگ ) کو بورڈنگ اور سامان لوڈ کروانے کے لیے لائنوں میں لگا، صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے، معاف کیجیے گا، سر مہربانی سے پہلے آپ اور لفظ شکریہ کا کثرت سے استعمال دیکھ دل و دماغ خوش بھی تھا اور حیران بھی۔ خیال آیا کہ اگر صرف دوسرے ملک میں آکر ہی آدمی کو میسر ہو جاتا ہے انساں ہونا تو ساری قوم کو دبئی کا چکر لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔

مگر دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے جیسے ہی کراچی ائیر پورٹ پر پہنچے تو وہی انسان جو دو گھنٹے پہلے انسانی تہذیب کے عروج پر تھے، ایسے لگے جیسے حیوانی طور پر زندہ ہو گئے، پتہ نہیں اپنے گھر آنے کی خوشی تھی یا اپنے ملک میں قانون کی بے بسی کا احساس۔ کوئی قطار نہیں، کوئی اخلاقیات نہیں ایک دوسرے کو دھکے دے کر لفٹرز حاصل کر رہے حالانکہ ائیر پورٹ پر سامان لفٹر وافر مقدار میں موجود تھے۔ نسوار کی گولیاں بغیر دیکھے چل رہی ہیں۔ اور اپنا سامان حاصل کرنے کے چکر میں اتنے اتاولے کہ چاہے دوسرے کا سامان گم جائے۔

سفر دلدادہ ہونے اور دنیا گھومنے کے خواب کی تعبیر کے لئے زندگی کا پہلا غیر ملکی سفر کیا اور جیسے ہی دبئی ائر پورٹ پر اترے تو عالمگیر اقوام کے باشندوں نے ہاتھوں میں فون، آئی پیڈ، ہیڈ فون، ہینڈ کیری کو دیکھا تو احساس ہوا کہ ساری دنیا کہ انسانوں کو ملنے کی اسسے اچھی جگہ اور نہیں ہو سکتی۔ معلوم کیا تو پتا چلا کہ تقریباً 105 ملکوں کے باشندے اس ملک میں موجود ہیں جو کچھ کاروبار، کچھ سیر و تفریح، کچھ اپنی اگلی فلائیٹوں کا انتظار کرنے، کچھ ڈسٹینیشن میرج، کچھ اپنے پیاروں سے ملنے، کچھ ہنی مون، کچھ نیشنل انٹر نیشنل ٹرینگز کے لئے، کچھ ملازمتوں اور کچھ اپنے ملکوں سے اس خطہ زمین کی ترقی کا مشاہدہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔

ہم بھی گلف ایجوکیشنل ایکسپو اینڈ ٹریننگ میں پاکستانکی نمائندگی کر رہے تھے، ایکسپو ورلڈ ٹریڈ سینٹر دبئی میں تھی جس میں تقریباً دنیا کے تقریباً 26 ملکوں کی بہترین یونیورسٹیوں نے اپنی اپنی یونیورسٹی کے بہترین نمائندوں کے ذریعے سٹال لگائے تھے جہاں وہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کو اپنی اپنی یونیوسٹی کے دور جدید اور قدیم تعلیمی کورسز آفر کر رہے تھے۔ پاکستان سے یوای ٹی یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کا سٹال دیکھ کر خوشی دیدنی ہو گئی۔

اس کے علاوہ قابل ذکر کینیڈا، آسٹریلیا، انڈیا، سر ی لنکا، مالٹا، سائپرس، ملائیشیا اور دبئی کی یونیورسٹی کے سٹال متاثر کن تھے۔ مارننگ سے لنچ سٹالز کا وزٹ تھا اس کے بعد انٹر نیشنل سٹوڈنٹس کے لئے انٹرنیشنل تعلیمی کورسز سے متعلقہ ٹریننگز اور سیمینار کا اہتمام تھا۔ ایجوکیش ایکسپو میں شمولیت کے بعد فیصلہ ہوا کہ دبئی دیکھا جائے اور خواہش اٹھی کہ دبئی کی ترقی کے راز جاننے کی کوشش کی جائے۔

جیسے ہی دبئی کی سڑکوں پرنکلے تو احساس ہوا کہ ہم کوئی وی آئی پی ہیں۔ جیسے ہی سڑک پر پاوں رکھا سڑک پر آنے والی گاڑیاں رک گئیں، اور جب تک ہم نے سڑک پار نہ کر لی گاڑیاں رکی رہی۔ اوور ہیڈ برج پر سڑک پار کرنے گئے تو لوگ خوشی خوشی راستہ دینے لگتے ہیں۔ ویسے تو جہاں ہم رہ رہے تھے وہاں تقریباً ہر دوسری بلڈنگ میں کوئی نہ کوئی شاپنگ مال تھا جس مال میں بھی گئے اچھی سے اچھی پراڈکٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی ہی اچھی کسٹمر سروس ملی۔

اخلاقی اقدار دیکھ کر احسا س ہوا اگرچہ لوگ مختلف ملکوں کے ہیں مگر اخلاقی اقدار میں سب ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ سوری، ایکسکیوز می، شکریہ، برائے مہربانی اور پہلے آپ جیسے الفاظ سب لوگوں کا تکیہ کلام لگ رہے تھے۔ ، لوگ پبلک پوائنٹ پر سگریٹ نہیں پی رہے نہ کوئیکسیجگہ نسوار پھینکتا نظرآیا نہ پان تھوکتا تما م لوگوں کا ٹریفک رولز، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، سلیقہ مندی اور اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مگن دیکھ کر احساس ہوا جیسے لوگ دبئی سے اپنے گھر جیسی محبت کرتے ہیں۔

دبئی کا رول آف لاء دیکھنے کے بعد دبئی کی ترقی سمجھ میں آتی تھی، چند ایک واقعات جو ہمارے ساتھ ہوئے۔ جب ہم دبئی میں ہوٹل پہنچے تو پتا چلا کہ ہمارا کچھ ضروری سامان ٹیکسی میں رہ گیا اور ہم اپنے ملک کی روایت کے مطابق پریشان ہو گئے، ریسیپشن پر کھڑے بنگالی لڑکے نے پریشانی کی سبب دریافت کرنے کے بعد کہا کہ سر پریشان نہ ہوں کہ کیونکہ آپ کا سامان آپ تک پہنچ جائے گا۔ اور ابھی ہم اپنے کمروں میں پہنچ کر فریش ہو رہے تھے کہ ریسیپشن سے فون آ یا کہ آپ کا سامان آ گیا ہے۔

میں تو فون سن کر ساکت ہو گیا، کہ کتنا ایماندار اور ذمہ دار ڈرائیور ہے۔ سامان وصول کرنے کے بعد ڈرائیور کا شکریہ کیا اور میں ریسیپشن والے لڑکے سے پوچھا کہ کیا سب لوگ یہاں ایسے ہی ایماندار ہیں۔ تو اس نے بتایا کہ سر ہو سکتا ہو ایسا ہی ہو، مگر یہاں پولیس کی تحقیق و تفتیش اور سزا جزا کا نظام بڑا فعال ہے جس وجہ سے لوگ ایمانداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہم ایک رات سنیما دیکھنے گئے تو رات تقریباً 11 بجے ایک سڑک پر پیدل چلنے کا اشارہ توڑا، ہم چار لوگ تھے، وہاں ڈیوٹی پر مامور سول کپڑوں میں موجود پولیس مین نے ہمیں سائیڈ پر بلا کر اپنی شناخت کروائی اور ہم سے شناختی کارڈ طلب کیے، ہم دو لوگوں نے بتایا کہ ہم ٹورسٹ ہیں مگر ہمارے دوستوں سے پولیس مین نے کارڈ لے کر ہمیں 800 درہم جرمانہ کیا۔

اگرچہ یہ بہت بڑی رقم تھی اور اس نے ہمارے فلم کے مزے کو کرکرا کر دیا۔ مگر اس غم سے نکلنے کے بعد وہاں کے مقامی دوست نے ہمیں بتایا کہ یہاں کی انتظامیہ رول آف لاء پر کو ئی کمروپائز نہیں کرتی، لوگ کہتے ہیں کہ دبئی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان جرمانوں سے چلتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ دبئی انتظامی ادارے نے اپنے رول آف لاء اور سزا جزا کے نظام سے دنیا کے ”لوگوں“ کو ”انساں“ بنایا ہوا ہے۔

یہ سب دیکھنے کے بعد دل سے سوال اٹھا کہ ہم دبئی جا کر تو قوانین کی بڑی پاسداری کرتے ہیں مگر اپنے ملک میں کیوں نہیں؟ تو جواب ملا ہمیں جہاں بھی موقع ملتا ہے ہم انساں سے جانور بننے میں سیکنڈ کا بھی انتظار نہیں لگاتے، ہم اخلاقی طور تباہی کی طرف جارہے ہیں، کسی میں بھی اتنی اخلاقی ہمت نہیں کہ چھوٹے مفادات کو چھوڑ کر ملکی قوانین پر عمل کرئیں، بلکہ قانون توڑ کر ہم اپنے آپ کو وقتی لذت سے تسکین دیتے ہیں۔ اب جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے پر پاکستان میں اپنی حکومت کی بنیاد رکھ چکی اور الیکشن کے تما م تر مراحل مکمل ہوچکے ہیں۔

تو ہم بطور شہری حکومت سے درخواست کرتے ہیں اور تجویز دیں گے کہ آ پ ہمارے ملک میں یکساں تعلیم اور قانون کا نظام، سزا و جزا کا فوری نظام، ٹریفک رولز پر سختی سے عمل اور جرمانوں کی شرح میں اضافہ، صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر کرکے اور انسانیت پر مبنی اخلاقی اقدار کوفروغ دیں۔ کیونکہ یکساں قوانین اور ان پریکساں عمل درآمد ہی ہم انسانوں کی جبلت کو ٹھیک کر سکتا ہے اور ہمیں ”انساں“ بنا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •