غیروں کی نگاہیں لے کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کردار:) فرضی نام اور ان کی اجازت سے تحریر)
پروفیسر مائر (جرمنی یونیورسٹی سے، ماہر ریاضی دان )
پروفیسر بیکر (سویٹزرلینڈ سے، فزکس)
ڈاکٹر سادات ( عرب، جرمن یونیورسٹی میں ریسرچر)

(منظر: لاہور کی نجی یونیورسٹی سے مینار پاکستان اور پرانے لاھور کا دورہ۔ میں بحیثیت گائیڈ اور ڈرائیور۔ کانفرنس انتظامیہ کی درخواست پر چونکہ ان کی نظر میں مجھے کچھ جرمن آتی ہے تو ان کی مدد میں آسانی ہوگی، تینوں پروفیسرز سے ہیلو ہائے کے بعد گاڑی میں بٹھایا اور روانہ ہوئے۔ معزز پروفیسرز اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ میں تھوڑا بہت جرمن سے مانوس ہوں ماسوا ڈاکٹر سادات کے۔ ان کی باہم گفتگو جرمن زبان میں رہی ماسوائے جب مجھ سے مخاطب ہوئے)۔

اس روئیداد کا آغاز استاد محترم عالی صاحب کے ایک شعر سے کروں گا۔
جی چاہتاہے غیروں کی نگاہیں لے کر
اپنی آمد کا تماشا سرمحفل دیکھوں
ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے رنگ روڈ کی طرف راستے میں پروفیسرز کو عالیشان بینگلوز نظر آئے۔
پروفیسر مائر: میں نے سنا تھا یہ بہت غریب ملک ہے؟

پروفیسر بیکر: آپ نے صحیح کہا اتنے عالیشان محل، لگژری گاڑیاں، گھروں کے باہراسلحے سے لیس گارڈز کی سمجھ نہیں آئی؟

ڈاکٹرسادات: شاید چوری سے بچنے کے لیے، آپ نے سیکورٹی چیک پوائنٹ نہیں دیکھے؟

پروفیسرز: ہاں، ہاں۔ مگر یہ پولیس افسرز صرف موٹر سائیکلسٹ اور بائیسکل والوں ہی کو کیوں چیک کر رہے ہیں؟

پروفیسر بیکر: حقیقی کالونی ازم کی با قیات ہے۔ تقریباً دو صدیوں تک استحصال پر مبنی معاشرہ رہا۔ جو استحصال نہ کرے اس کا استحصال شروع ہو جاتا تھا اور ہے اور شاید ایک صدی اور رہے گا۔

میں : اندر ہی اندر ان کی باتوں سے کڑھ رہا تھا۔ حقیقتیں بہت تلخ ہوا کرتی ہیں۔ اکثر ایک نسل کی کرنی کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔ خیر!

ایک لگژری کار انٹرچینج کے پاس ریڑھی بان سے مکئی کے دانے لیتے دیکھی۔
پروفیسر بیکر: ڈاکٹر یہاں رک سکتے ہیں مجھے ایک تصویر لینی ہے۔

میں :یہاں رکنا مشکل ہوگا سو انہوں نے گاڑی سے ہی تصویر لے لی۔ حیرت زدہ باہم گفتگو ہوئے۔ بہت متضاد معاشرہ ہے۔ جی جی مگر ہمیں اتنی جلدی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔

پروفیسر بیکر: مجھے نہیں لگتا کہ تعلیم یہاں کے طلبا کی اور ملک کی کسی بھی حد تک ترجیح ہے۔
پروفیسر مائر، سادات: وہ کیسے؟ سمجھے نہیں!

پروفیسر بیکر: آپ لوگوں نے غور نہیں کیا کہ کانفرنس میں طلبا کی شمولیت سپیکرز کی تعداد سے کم ہی رہی اور ادارے کی بھی کوئی خاطر خواہ دلچسپی نظر نہیں آئی۔ طلبا کے زیادہ طرح سوالات یہ تھے کہ وہ یہ ادارہ اور ملک چھوڑ کر کیسے یورپ یا امریکہ پرواز کر سکتے ہیں۔ شاید میں غلط ہوں؟

پروفیسر مائر، سادات: آپ شاید درست فرما رہے ہیں۔ اسی طرح کی صورت حال کا ہم کو بھی سامنا رہا۔ 35 روپے رنگ روڈ نواز شریف انٹرچینج ٹال فیس ادا کی اور طرف راوی دریا، مینار پاکستان روانہ ہوئے۔ میں اب ذہنی طور پر تیار تھا سوالات کے جوابات دینے کے لیے۔

پروفیسر مائر: ڈاکٹر یہ کون سا اور کن لوگوں کا علاقہ تھا اور یہ بائیں جانب کن لوگوں کی آبادیاں ہیں؟

میں :سر! یہ ہاؤسنگ سوسائٹی تھی، وثوق سے نہیں کہ سکتا براہ راست کس کے ماتحت ہے۔ اور یہاں ہر طرح کے لوگ آباد ہیں صرف آرمڈ فورسز کے نہیں۔ اور ساتھ میں پرانی آبادیاں ہیں جو کبھی گاؤں ہوا کرتے تھے۔ تسلی بخش جواب نہ سن کر ہلکا سا مسکرا دیے۔

پروفیسرسادات:جانتے ہوئے کہ مجھے جرمن سمجھ آتی ہے موضوع بدلتے ہوئے۔
ڈاکٹر: مجھے علی ہجویر ضرور جانا ہے۔
میں : تھوڑا سوچتے ہوئے۔ اوہ ہاں آپ کا مطلب ہے داتا دربار علی ہجویری؟
پروفیسرسادات: دربار نہیں روضہ ڈاکٹر!
میں : فرق کیا ہے؟
پروفیسرسادات: بعد میں بتاؤں گا، جب کبھی کافی پلاؤ گے۔ ہا ہا۔ ۔ ۔ لمبی نشست درکار ہے۔

لاہور ائر پورٹ تک پہنچتے میرے چودہ میں سے کچھ طبق روشن ہو چکے تھے۔ (ابھی اسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلسطین کی طرح قید آبادی، مینار پاکستان، علامہ سے حاضری اور گورنمنٹ کالج کے واقعات تحریر طلب ہیں۔۔۔ جاری ہے )

FM ریڈیو پر عطا اللہ نیازی وطن عزیزکے بارے میں فرما رہے تھے۔ ۔ ۔ (جگر مراد آبادی)
یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں، یہاں سب کا ساقی امام ہے۔
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی، یہاں پارسائی حرام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پے کوئی کرے بھی کیا، یہ تو مے کدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ، ہے عجیب سارے جہاں سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر مدثر رزاق کی دیگر تحریریں