کیپٹن صالح جنجوعہ کی ننھی بچیاں


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

حادثہ ہوا۔ اندوہ ناک تھا۔ یہ معلوم ہونے پر کہ اس میں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے، لوگ باقی چھیالیس افراد کو بھول گئے۔ ابھی تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق، سب سے زیادہ دکھی کر دینے والا معاملہ جہاز کے کپتان صالح جنجوعہ کا ہے۔

صالح جنجوعہ، جہلم کے قریب چکری راجگان کے رہنے والے تھے۔ اسی گاؤں سے جنرل آصف نواز جنجوعہ کا تعلق بھی تھا، جو کہ صالح جنجوعہ کے رشتے دار بھی تھے۔ صالح جنجوعہ مرحوم کی چار ننھی پھول جیسی بچیاں ہیں جو اب ساری زندگی باپ کے سائے سے محروم رہیں گی۔ باپ کھونے کا دکھ تو ہر بچے کے لئے ہی بہت کرب انگیز ہوتا ہے، مگر پسماندگان میں صرف بچیاں ہی ہوں تو دکھ سوا ہو جاتا ہے۔

\"salehyar-janjuha-family-3\"

کیا پی آئی اے ان کا مستقبل محفوظ بنانے کی ضمانت دے گا؟ باپ کا تحفظ تو وہ کھو بیٹھی ہیں، کم از کم معاشی تحفظ انہیں مل پائے گا؟ کیا ان کی تعلیم کا خرچہ پی آئی اے کو اٹھانا چاہیے؟ پی آئی اے کی اس ضمن میں کیا پالیسی ہے؟ انشورنس کی کچھ رقم تو ملے گی، کچھ پی آئی اے کے واجبات بھی ممکن ہیں، مگر چار ننھی بچیوں کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک ان کی دیکھ بھال کی مکمل ذمہ داری پی آئی اے کو ہی اٹھانی چاہیے۔

ان ننھی بچیوں کی ایک تصویر سامنے آئی ہے۔ یہ ایک دو سال پرانی لگتی ہے۔

تینوں بچیوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھوٹی پڑ رہی ہے۔ اسے زبردستی دبانے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے۔ چھوٹی کے چہرے پر بچپنے کی خوشی ہے۔ منجھلی کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی ہے۔ بڑی کے چہرے پر بڑوں کی سی متانت ہے۔

\"salehyar-janjuha-family-2\"

دوسری تصویر دکھائی دیتی ہے۔ اس میں ان تین بچیوں کے ساتھ ان کے والدین بھی موجود ہیں۔ کسی پرفضا پہاڑی مقام پر پورا خاندان سیر کے لئے گیا ہوا ہے۔ بچیاں اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت خوش دکھائی دے رہی ہیں۔ اتنی ہی خوش جتنے ہمارے اپنے بچے ان پہاڑوں کی سیر پر ہوتے ہیں۔ حیرت سے نئے اور خوشگوار ماحول کو دیکھتے ہوئے۔ میدانوں کی گرمی سے پہاڑوں کی سردی میں آ کر حیران ہوتے ہوئے۔ ارد گرد اڑتے بادلوں کو اپنے ہاتھ سے چھوتے ہوئے۔ سڑک کے ساتھ موجود بندروں کو اپنے حصے کا کھانا کھلانے کی ضد کرتے ہوئے۔ باپ کے ساتھ شاید یہ ان کی آخری ایسی سیر تھی۔

تیسری تصویر شاید کسی شادی بیاہ کے فنکشن کی ہے۔ کیپٹن صالح جنجوعہ کی اہلیہ اور تینوں بچیوں نے خوب زرق برق کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر اب تصویر میں ایک ننھی بہن کا اضافہ ہو گیا ہے۔ بڑی لڑکی اب بھی نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری کا تاثر چہرے پر لئے ہوئے ہے۔ لبوں پر مسکراہٹ ہے، مگر آنکھیں کہے دیتی ہیں کہ وہ اپنی تینوں ننھی بہنوں کے بارے میں شدید احساس ذمہ داری رکھتی ہے۔ اب ساری زندگی وہی ان کا خیال رکھے گی۔

\"salehyar-janjuha-family-1\"ہم ان کے لئے کچھ زیادہ نہیں کر سکتے ہیں مگر ان کا یہ خیال تو رکھ ہی سکتے ہیں کہ جہاز کے بارے میں افواہیں مت پھیلائیں۔ یہ افواہ مت پھیلائیں کہ جہاز خراب تھا اور پھر بھی پائلٹ کو اسے اڑانے پر مجبور کیا گیا۔ پائلٹ بھی اپنی زندگی سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا ہم سب کرتے ہیں۔ ان کے سر پر تو درجنوں دوسرے لوگوں کی زندگیوں کی اضافی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ کون جانے بوجھتے موت کے منہ میں جاتا ہے۔

جہاز دو انجنوں والا تھا۔ دو انجن والے جہاز، پورا بحر اوقیانوس پار کر کے امریکہ سے یورپ جانے کے لئے بھی موزوں سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ایک انجن خراب ہونے کی صورت میں دوسرے انجن کے بل پر سفر مکمل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بدقسمت جہاز تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا کہ ایک انجن فیل ہوا اور کیپٹن صالح جنجوعہ نے اس کی خبر کنٹرول ٹاور کو دی۔ اے ٹی آر 42 اس بلندی پر دونوں انجن بند ہونے کی صورت میں بھی پندرہ سے پچیس کلومیٹر تک گلائیڈ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک انجن خراب ہونے کی صورت میں اسے آہستگی سے بند کیا جاتا ہے اور جہاز کی بلندی کم کی جاتی ہے تاکہ دوسرا انجن پورے جہاز کا بوجھ آرام سے اٹھا لے۔ مگر اس بدقسمت جہاز کے انجن میں آگ لگ گئی، اور وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔

\"salehyar-janjuha-family-4\"

ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دھماکے کی وجہ سے جہاز کے پر کو بھی نقصان پہنچا اور وہ گلائیڈ کرنے کے قابل بھی نہیں رہا اور اس نے تیزی سے زمین کی طرف رخ کیا۔ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق جہاز کا رخ ایک آبادی کی طرف تھا کہ آخری لمحات میں کیپٹن صالح جنجوعہ نے موت کو سامنے دیکھتے ہوئے بھی آبادی کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے بے قابو جہاز کا رخ بھی پہاڑ کی طرف کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

آئیے اس بہادر شخص کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ اس کی ان ننھی بچیوں کی خاطر جو کہ اب ساری زندگی اپنے یتیمی کے غم کو اپنے باپ کے اس آخری بہادرانہ کارنامے سے بھلانے کی کوشش کریں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1503 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments