اٹلانٹس میں تحفظ عیسائیت کے قانون کا نفاذ کیوں؟

’ہیلو وزیراعظم صاحب‘ ’ہیلو ڈونلڈ کیسے آنا ہوا، مجھے محسوس ہورہا تھا کہ کوئی بہت ضروری بات ہے۔‘ وزیراعظم کے چوڑے ماتھے کا ہر بل تشویش تشویش پکار رہا تھا۔ موٹے خدوخال کے حامل ڈونلڈ اینڈرسن نے ذرا آگے ہو کر آہستہ سے کہا۔ ’آپ کو تو پتا ہے کہ حالات کتنے خراب ہیں اور وقت کے ساتھ اور خراب تر ہو رہے ہیں۔ چار ستمبر سے ہمارے خلاف تحریک شروع ہو جائے گی۔‘ وزیراعظم نے ایک لمبا سانس لیا۔

Read more

وہ آخری بت

میرے جیون ساتھی،
آؤ! اب تم واپس آ جاؤ!

میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی معبود ہو گا۔

تم جب میرے پاس ہوتے ہو تو میرا ذہن تمہارے بارے میں منفی خیالات سے بھرا رہتا ہے کہ تمہاری سوچ منفی ہے اور زبان شکر سے محروم اور شکایت سے پر، ماضی کی گٹھڑی میں سے سب اچھے واقعات کہیں پھینک کر تم گندگی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہو، اور یہ کہ تمہیں لکھنے پڑھنے سے دلچسپی نہیں، فنون لطیفہ کے ذوق سے عاری ہو، تفریح میں دائمی خوشی کو ڈھونڈتے ہو۔ تمہیں اپنی پیشہ ورانہ ترقی پہ غرور، اور فٹبال ٹیم میں بہترین کھلاڑی ہونے پر گھمنڈ۔

Read more

شام میں رات: جنرل، باپ اور بیٹی

’میں تمہیں کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں۔ تم تہہ خانے میں رات گئے اندھیرے میں گڑگڑا کر کیا دعا مانگ رہے ہو؟ تم تو نماز ہی شاذ و نادر پڑھتے ہو۔‘ خالدہ سے رہا نہ گیا۔ مبارک نے اپنی بھیگی آنکھیں اٹھائیں اور خالدہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ ’مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ تم مجھے ڈھونڈتی ہوئی نیچے آ گئی ہو۔‘ ’بتاؤ مجھے کہ خدا کے حضور کیا مانگ رہے تھے۔‘ اب خالدہ کی آواز میں زور

Read more

جنت سے رہائی

نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ نور نے اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی تتر بتر کر دیا۔ نور پچھلی تین راتوں سے بہت کم سویا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے نیند اس سے ناراض ہو گئی تھی۔ نور نے اپنی ماں کو پچھلے چند ماہ میں کئی خط لکھے تھے اور ان

Read more

تمہیں خدا پر بھروسا نہیں!

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقعے کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں کھویا ہوا لگ رہا تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟‘ دبلے پتلے عتیق نے کرسی ڈھلتی ہوئی دھوپ کی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔ ’نہیں نہیں صاحب جی کوئی بات نہیں۔ میں تو ایسے ہی دیکھ رہا تھا کہ آپ پر اب دھوپ نہیں آ رہی۔‘ ’جو بات

Read more

میری کھڈیاں کہاں گئیں؟

سنہ 1972۔ حقیقی واقعے پر مبنی افسانہ

دبلے پتلے دراز قد کے حامل وقار نے جب دیکھا کہ کھڈیوں پہ سے اس کا نام مٹا دیا گیا ہے تو وہ دیوانہ وار دوڑ کر ان سے لپٹ گیا۔ ’یہ میری کھڈیاں ایں، انہیں کوئی اور نہیں لے سکتا۔‘ پھر اس نے چاروں طرف دیکھا۔ ’تم لوگ چپ کیوں ہے؟ عمر بھائی کہاں ہے؟‘
یہ شور سن کر نحیف جسامت کا خان کمرے سے باہر آیا اور اس نے چوکیدار کو اشارہ کیا۔ لمبا چوڑا چوکیدار وقار سے نمٹنے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔

’اپنے نام کو صاف صاف لکھو اور اس گوند سے اچھی طرح اپنی اپنی کھڈیوں پر چپکانا۔ بڑی زبردست گوند ہے یہ!‘ ہفتہ بھر پہلے کی بات ہے کہ عمر بڑے رعب سے احکامات جاری کر رہا تھا۔ اس کی پیشانی پہ ایک عجیب و غریب چمک تھی۔ باقی سب مزدور خوشی خوشی اس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

Read more

قیدی کا ورثہ

(1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام) میں قید میں تھا، بہت ہی تاریک قید۔ اپنی قید میں رکھنے والی مجھے سارا دن ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتی۔ پھر ایک رات کچھ فوجی آئے اور اس کو ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ اس کو ایک عمارتی قید خانے میں بند کر دیا گیا۔ چند ہفتوں کے بعد میں اس کی قید سے باہر آگیا۔ میں نے اس نئے قید

Read more

شرمیلی کی روح، شرمیلی کا جسم، پر شاہ جی کی مرضی

جیپ شرمیلی کے پاس آ کر رکی تو وہ گھبرا گئی۔ چھوٹے قد اور چوڑے شانوں والا منیر جیپ سے باہر نکلا اور مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہؤا شرمیلی کے سامنے آ کھڑا ہو گیا۔ ’اور جوان ہو گئی ہے تُو! میں نے تو کافی دنوں سے تجھے دیکھا ہی نہیں۔‘ ’میرا راستہ نہیں روکو چھوٹے شاہ جی، میں ابا کو کھانا دینے جا رہی ہوں وہ میرا انتظار کر رہا ہوگا۔‘ ’میں بھی تو تیرا انتظار کر رہا

Read more

قدرت کا رقص

جب کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں ایک کھیلوں کے پارک میں گیا مجھے کو ئی انسان نظر نہیں آیا سنسان پارک کو دیکھ کر میں گھبرا گیا چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی تھی پھر ایک چڑیا میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی مجھے احساس ہوا کہ میں وہاں اکیلا نہیں تھا میں نے ماضی کی تلخیوں اور مستقبل کی فکر کو ذہن سے نکال کر پورا دھیان اُس موجودہ لمحے پرلگا دیا میں نے جو کچھ سنا اور

Read more

ایک میٹر کے سمندر

چاروں اطراف ہو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہؤا تھا۔ شلوار قمیص میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ ”مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے بارے میں سوچنے کے بجائے رابعہ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ پتا نہیں کیوں میرے خواب و خیال پر رابعہ کا مکمل قبضہ ہے۔ حالانکہ مجھے اس سے ملے ہوئے چالیس سال گزر چکے ہیں۔ میں خدا

Read more

جے ماتا جے

درمیانے قد اور بھاری وزن کے ڈاکٹر شرما نے الٹراسونک کمرے سے نکل کر دفتر کی طرف مڑ کر زورسے کہا۔ ”جے ماتا جے“ اور سب گھر والوں کے چہرے لمبے ہو گئے۔ میرے سسر کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ مجھے بتایا گیا کہ بچہ صحیح نہیں تھا اور حمل گرانا ضروری تھا۔ پھر نرس نے مجھے ایک گندے اور اندھیرے کمرے کی طرف لے جانا شروع کر دیا اور میرے اندر کی جیتی جاگتی ہستی کو، میرے

Read more

پھول والی لڑکی

نوید کیفے سے باہر نکل کر موٹر رکشہ میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرایا۔ نوید نے دور سے آنے والے کھمبے کے ٹمٹماتے ہوئے بلب کی روشنی میں غور سے دیکھا تو ایک لڑکی گلاب کے پھول ہاتھ میں لئے کھڑی تھی، ہر پھول ٹہنی کے ساتھ تھا اور الگ الگ پلاسٹک میں لپیٹا ہوا تھا۔ ”بابو جی پھول لے لیں۔ “ ”راستے سے ہٹو مجھے نہیں چاہیئں۔ “ ”بابو جی پھول لے لیں کھانے کے

Read more

ان کے اندر کے انڈین کو مار دو

انتساب: کنیڈا اور امریکہ کے اصلی باشندوں کے بچوں کے نام جنہیں بیسوی صدی میں ’انسان‘ بنانے کے لئے جبراً خصوصی رہائشی اسکولوں میں رکھا گیا۔ ”تم لوگ کہاں ہو؟ میری پکار کو کیوں نہیں سنتے؟ اماں، ابا، تالا مجھے بچا لو۔ میں تہہ خانے میں بند ہوں۔ یہ قریب آتی ہوئی قدموں کی چاپ خاموشی سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ اب یہ پادری استاد میرے پاس آئے گا اور میرے جسم کو نوچے گا۔ اس کے چھونے سے پہلے

Read more

اچھوت مسلمان

’ارے بھئی تم اُدھر بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔ ‘ نوجوان کارندے نے سختی سے کہا۔ ’اِدھر بھی تو لوگ بیٹھے ہیں میرے اِدھر بیٹھنے میں کیاحرج ہے۔ بھئی اب تو میں مسلمان ہوں۔ میں اور میرا بھائی ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔ ‘ اُس نے ڈرتے ڈرتے ہمت کی۔ ’تم کو پتا نہیں کہ تم اِدھر نہیں بیٹھ سکتے! سب ہلا جاتیوں کو الگ بٹھایا ہے۔ ‘ ’میرے کو بھی تو چودھری صاب نے کھانے کی دعوت دی

Read more

کیا چینی گویَن گن نے پاکستان پر بھی حملہ کردیا ہے؟

گویَن گن کون ہیں؟ یہ چینی زبان کی ایک اصطلاح ہے۔ اس کی پرانے زمانے میں مراد اُن مردوں سے تھی جو پیسہ، ہنر یا کسی اور کمی کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے تھے۔ اس اصطلاح کا استعمال مذاق اڑانے یا کسی کا درجہ کم کرنے کے لئے کیا جاتا تھا۔ لیکن آج کل اس کا مطلب محض کنوارا ہے اور اس میں کوئی منفی معنی پنہاں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب کئی لڑکے

Read more

بے لوگ: ہم جو ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں

پہلے پہل سب نے میری تعریفوں کے پل باندھے۔ مجھے زراعت کی ترقی میں ایک سنگ بنیاد قرار دیا گیا۔ بعضوں نے یہ دعوے بھی کر دیے کہ میں اور میرے کچھ ساتھی اس خطہ ارض سے بھوک کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں گے۔ اور کپاس کی پیداوار اتنی بڑھ جائے گی کہ دنیا میں کوئی ننگا نہیں رہے گا۔ جب میں پچاس برس کی ہوئی تو کچھ لوگوں نے مجھ پر نکتہ چینی شروع کر دی اور

Read more

خاموش صحن

یہ کیسی کشیدگی، یہ کیسا کھچا کھچا سا ماحول، ان دیواروں کے پیچھے کچھ چھپا ہوا خوف؟ کیا اس عمارت کا وہی حال ہو گا جو رام باغ کا ہوا تھا؟ کیا میرے بچے یہاں محفوظ ہیں؟ سیتا کچھ دنوں سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتی جا رہی تھی۔ رام باغ بھی تو پہلے کتنا اچھا تھا، کئی دہائیوں سے پرسکون اور محفوظ، جیتا جاگتا سانس لیتا ہؤا محلہ۔ شام کو پرانے درختوں میں سے ہزاروں پرندوں کے چہچہانے

Read more

ریشماں اور ریشم بیگم

عارف بند گیٹ کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ ’یہ گیٹ کا دروازہ نہیں ہے یہ میری قسمت کا دروازہ ہے جو ابھی کھل جائے گا۔ اگر ریشماں خود باہر آئی تو میں اسے کھینچ کر درختوں کی اوٹ میں لے جاؤں گا۔ اگر اس کا شوہر آیا تو میں اس کو ایک لاکھ روپئے دے کر ریشماں کو آزاد کرا لوں گا۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی نہیں آیا تو میں یہیں کھڑا رہوں گا۔ ریشماں شاید

Read more

اومارسکا کی اسٹرابیری

یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی۔ بہشت نما خوبصورت ہرنچی شہرمیں سرب دوسری نسل کے لوگوں کی مار دھاڑ کر رہے تھے اور ان کو اٹھا اٹھا کر کیمپوں میں لے جا رہے تھے۔ سلام اور عذرا گھر چھوڑ کر شہر سے باہر ایک رشتے دار کے فارم میں چھپ گئے۔ لیکن ایک رات سرب دونوں کو وہاں سے اٹھا کر اومارسکا کے کیمپ میں لے گئے اور انہیں الگ الگ حصوں میں ڈال دیا۔ اس کیمپ میں بھوک،

Read more

شکست کی قیمت

ولیڈن کی زندگی کا اب ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح وہ نطاشہ کو ڈھونڈ نکالے اور دوبارہ وہ دن واپس آجائیں جب وہ دونوں اکٹھے تھے۔ اس نے ہر فوجی کیمپ، پولیس اسٹیشن، اور جیل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ شہر کے سب با اثر اشخاص سے ملا۔ سرکاری ملازموں، فوجی افسروں اور وزیروں کی منت سماجت کی اور بعض دفعہ ان کے سامنے بے اختیار بلک بلک کر رویا۔ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ نطاشہ نے

Read more

فتح کی قیمت

”انگلیاں! انُ کے نشانات! میں کہاں سے لاؤں؟ انہی کو بچانے کے لئے مجھے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ کب تک فتح کا جشن منائیں گے؟ “ حارث فٹ پاتھ پر نا جانے کب سے کھڑا خود سے باتیں کر رہا تھا اور اس کی نظر بار بار اپنی انگلیوں پر جا کر ٹک جاتی تھی۔ یہ تین روز پہلے کی بات ہے جب شہر پر فوج نے حملہ کر دیا تھا۔ لوگ امید کر رہے تھے کہ فوج

Read more

67 الفاظ کے وزن کے نیچے دبی ہوئی دنیا

جب یہ 67 الفاظ لکھے گئے تو لکھنے والے کو بھی یقیناً اس کا اندازہ نہیں ہوگا کہ اس مختصر تحریر کا نتیجہ اس کی سوچ کی وسعتوں سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اگر ہم دنیا کی سیاست اور معیشت پر ان 67 الفاظ پر مشتمل اعلامیہ کا اثر دیکھیں تو اس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکے گی۔ اس تحریر پر عمل کرنے کے نتیجے میں ان گنت لوگ مارے جاچکے ہیں، اس سے کئی گنا زیادہ معذور

Read more

آزاد نگاہیں

رشیدہ کو نقاب پہننے سے سخت نفرت تھی لیکن وہ اپنے شوہر عمران کے اصرار پر گھر سے باہر برقعہ اور نقاب کی پابندی کرتی تھی۔ آج اچانک عمران نے رشیدہ کو بتایا کہ اسے نقاب سے منہ ڈھانکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن رشیدہ نے جواب دیا کہ وہ نقاب پہن کر ہی باہر جائے گی۔ کل اس کو نقاب نے جو آزادی بخش دی تھی اسے وہ کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔ پھر رشیدہ کو ایک دم خیال آیا کہ شاید کل عمران نے اس کی حرکت کو نوٹ کر لیا تھا۔

Read more

سوال بستی میں چھپے مفرور شخص کی حکایت

’کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟ ‘ ’آ جاؤ آ جاؤ کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟ ‘ ’ہاں، انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔ ‘ ’یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں۔ لیکن تم تو ابھی بالکل نوجوان ہو تمہیں کیوں نکال دیا؟ ‘ ’میں نے اسکول میں ایک سوال پوچھا تھا۔ ‘ ’پھر؟ ‘ ’جب میرے استاد نے اور میرے گھر والوں نے اس کا جواب نہیں دیا تو میں نے بھرے بازار میں

Read more

کیا میں ایک شخص ہوں؟

”اگر میں شخص نہیں ہوں تو کیا ہوں؟ “آٹھ سالہ منیر کے ذہن میں ایسے سوالات نے مستقل ڈیرا ڈالا ہوا تھا اور جب وہ سارے دن کی تھکن کے ساتھ بستر پر لیٹتا تو یہ الجھنیں اس کو نیند کی آغوش میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتیں۔ لیکن آج اسے اتفاقاً اس سوال کا جواب مل گیا تھا کہ وہ اگر ایک شخص نہیں ہے تو کون ہے۔

Read more

پنجرہ

1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام۔دو دن سے قلقیلیہ میں کرفیو عائد تھا۔ عبدالعزیز نے دوسرے روز شام کو کلثوم اور دونوں بچّوں کے ساتھ کھانا کھایا اور سوچ میں پڑ گیا کہ چڑیا گھر میں اس کے دوسرے بچّے دو دن سے بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ اس کو ہر صورت میں چڑیا گھر پہنچنا ہے۔ اگلی صبح پو پھوٹنے سے پہلے ہی کلثوم کو بتاے ٔ بغیر وہ گھر سے نکل گیا۔ اس کو پتہ تھا کہ اگر کسی فوجی نے دیکھ لیا تواس کو وہیں گولی مار دی جاے ٔگی۔ لیکن آج وہ چڑیا گھر ضرور جائے ٔ گا پچھلی گلیوں سے چھپتے چھپاتے۔

Read more

جنگل کی ادی واس دیوی کالارتری کیوں نہ بن سکی؟

آج صبح تک میں نیلم تھی اور میں روز جنگل کی دیوی کالارتری سے ہم ادیواسیؤں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے پوجا کرتی تھی۔ پھر میں خود کالارتری بن گئی، درگا کا ساتواں اور پرتشدّد روپ۔ لیکن کیا میں اس دیوی کا منصب نبھا سکتی ہوں؟ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جب کچھ لوگ وردیوں میں بندوقوں کے ساتھ آئے اور زبردستی ہمیں ہمارے گھر سے بے دخل کر دیا۔ انھوں نے ہمیں گھسیٹ کر

Read more

چترال کی ٹافی

دلشاد کو اپنی ماں اور بھائی بہن بے انتہا یاد آ رہے تھے۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں سے لپٹ کر خوب روئے اور اتنا روئے کہ یہ دنیا اس کے آنسوؤں میں ہمیشہ کے لئے بہ جائے۔ گیٹ بند ہونے کی آواز نے اس کے انگ انگ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ سیدھا گھر جانا چاہتا تھا لیکن وہاں جا کر وہ کیا کرے گا! کہاں سے سب کے اخراجات پورے کرے

Read more

پروانہ

پچھلے ہفتے جب شمع کی میت کو مسجد لے جایا گیا تو عقیلہ سے نہ رہا گیا۔ وہ بے اختیار بھاگ کر مسجد پہنچ گئی۔ بال بکھرے ہوئے اور سر سے دوپٹّہ سِرکا ہوا۔ اسے دیکھ کر مسجد کا امام مولوی امین الدّین گھبرا گیا۔ عقیلہ نے بڑھ کر امین الدّین کا گریبان پکڑ لیا۔ ’میری بچّی، میری شمع کے قاتل تم ہو! اگر تم یہ کلینک بننے دیتے تو شمع آج زندہ ہوتی، وہ ٹھیک ہو چکی ہوتی۔ ‘

اب وہی عقیلہ یہ تہیّہ کر رہی تھی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہفتے میں دو بار امین الدّین کو اچھا کھانا بنا کر بھیجے گی۔

Read more

تیل کی قیمت

جراہ جلوس میں پیچھے کی طرف رہنا چاہتا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ اس کی ماں دوسری سمت سے آنے والے جلوس میں پیش پیش ہو گی۔ یہ مخالف سمت سے آیا ہو ا جلوس قدرے چھوٹا تھا مگر زیادہ پر جوش تھا۔ جراہ کی آنکھیں بیتابی سے ماں کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ”وہ تو ان سب لوگوں کی لیڈر ہے کہاں غائب ہو گئی ہے! “ وہ اور انتظار نہ کر سکا۔ اس نے اپنے ٹرک کو اسٹارٹ کیا اور ماں کے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ گھر کیا تھا ایک ویرانہ تھا۔ دروازے کو زور سے کھولتے ہوئے وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ آج ماں کے چہرے پر کتنا سکون تھا۔ وہ کتنی گہری نیند سو رہی تھی۔

تقریباً دو سال سے جراہ کی ماں جس کا نام میکاک تھا اور جراہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی۔ لیکن یہ دو باشعور لوگوں کی بحث تھی جس سے ماں اور بیٹے کی محبت میں ذرا سا بھی خم نہیں آیا تھا۔

Read more

آری

سنتوش درختوں کے انسپکٹر کو بہت بے بسی اور غصے سے واپس جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ پتا نہیں اسے اس درخت کو کاٹنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ ادھر اس کی بیوی بضد تھی کہ یہ ساری رکاوٹیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ درخت ان کے لئے پَوِترہے اور وہ اس کو نہیں کٹوانے دے گی۔ سنتوش کے ذہن میں یہ خیالی تصویر گھوم رہی تھی کہ دہلی میں اس کے بھائی سد ہیر نے پولیس کے ساتھ مل کر اپنے دشمن کو ایک دن کے اندر قتل کروادیا تھا اور یہاں درخت کا کٹوانا اتنا بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔

سنتوش کو ٹورونٹو کے اس مکان میں رہتے ہوئے تیس سال گزر چکے تھے۔ اس کے تینوں بچے یہیں بڑے ہوئے۔ ابتدائی، ثانوی اور یونیورسٹی کی تعلیم اسی علاقے میں حاصل کی اور اب وہ شادی کر کے الگ رہ رہے تھے۔ سنتوش بھی اب ریٹائر ہو گیا تھا اور تقریباً سارا وقت گھر ہی میں رہتا تھا۔ اگر سردی زیادہ نہ ہو تو مکان کے اگلے لان میں وقت گزارنا پسند کرتا تھا۔ اگلے لان میں میپل کا بہت بڑا درخت تھا۔ موسم گرما میں یہ درخت پتوں سے بھر جاتا اور اور لان اور مکان کو اپنے سائے میں رکھتا۔ مگر یہ درخت اب کسی بیماری کا شکار تھا اور بہت ہی کم پتّے دیتا تھا۔

Read more

کٹھ پتلی کے بہت روپ ہوتے ہیں

دہلی میں بارش شروع ہوئی تو تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ گرج چمک بھی زوروں پر تھی۔ دفعتاً کٹھ پتلیوں کے فنکار شرجیل کے مکان کے پچھلے حصّے کی دیوار گر گئی اور اس کی نازک نازک کٹھ پتلیاں اس دیوار کے نیچے دب گئیں۔ وہ دیوانوں کی طرح کٹھ پتلیوں کو ان کے ناموں سے پکار رہا تھا ! پھر اسے شنکر کے دو فلیٹ کی پیشکش کا خیال آیا۔ "میں صبح ہوتے ہی اس کے

Read more

بدیسی ادب: انگوری شکنجہ

چارلس ڈی گریوز Charles de Gruse جب بھی پیرس میں میز بانی کرتا تو اپنے غیر ملکی مہمانوں سے یہی کہتا ”آپ کو ایک اعلی ریڈ وائن red wineسے لطف اندوز ہونے کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن ایک عمدہ وائن کی پہچان کے لئے فرانسیسی ہونا ضروری ہے“ وہ یہ مسکرا کر کہتا تاکہ اس کے مہمان اس کی بات سے ہتک نہ محسوس کریں۔

فرانسیسی سفارتی عملے میں زندگی بھر کام کرنے کے بعد، کاؤنٹ چارلس ڈی گریوز اپنی بیوی کے ساتھ قوے وولٹیر میں ایک خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ وہ ایک قابل ِپسند شخص تھا، پر وضع بھی اور اپنی میزبانی اور دل نوازی کے لئے مشہور تھا۔

Read more

”دانائی کی تلاش میں“ پر ایک غیر دانا تبصرہ

دانائی کیا ہے؟ مفکّر کسے کہتے ہیں؟ دانشور کی کیا خصو صیات ہونی چاہئیں اور کوئی دانشور کیسے بن سکتا ہے؟ کیا کچھ لوگ پیدائشی دانشور ہوتے ہیں؟ اگر چہ یہ بہت سادہ سوالات ہیں لیکن ان کے جوابات اتنے ہی کٹھن اور پیچیدہ ہونگے۔ اور شاید مختلف لوگوں کے یہ جوابات بھی ایک دوسرے کے لیے ناتسلی بخش اور بہت مختلف ہوں۔ خالد سہیل کی کتاب ” دانائی کی تلاش میں” نے براہِ راست ان سوالوں کے جوابات نہیں دئے

Read more

غریبوں کی عالی شان مسجد اور کافر مسافر

اس چلتی ہوئی ریل گاڑی کے باہر ایک ہجوم محسن کو کافر قرار دے کر اس کی جان کے درپے تھا۔ مگر اس کی نظریں سڑک کے اس پار مسجد کے خوبصورت گنبد اور میناروں پر پیوست تھیں جہاں اس نے آدھ گھنٹہ پہلے نماز ادا کی تھی۔ محسن کی یہ محسور کن کیفیت دیکھ کر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے اس شہر کے لوگوں کی تعریف کی۔ اس کے ردّ عمل کے طور پر محسن بے ساختہ کچھ بڑبڑایا۔ ساتھ بیٹھا ہو ا نوجوان اور اس کے دو دوست فوراً کھڑاے ہوگئے۔ محسن نے مڑ کر دیکھا تو وہ نوجوان غصے میں آگ بگولہ ہوئے اسے گھور رہے تھے جیسے کہ وہ اس پر حملہ کرنے والے تھے۔ محسن کے اندر ایک عجیب و غریب اضطراب پیدا ہوا جیسے اس پر دل کا دورہ پڑنے لگا ہو۔ پھر اس کے اندر کی شعوری قوت اس کے اضطراب پر حاوی ہو گئی اور مسکرا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

Read more

کل اور آج

”میں تم سے تنگ آ چکا ہوں۔ اب اسی سوچ میں ہوں کہ کس طرح تم سے جان چھڑاؤں۔ “
” وہ کیوں؟ “

” تمہارے پاس انسانوں کو دینے کے لئے کیا ہے؟ جنگ، ظلم، بھوک، جہالت، بیماری۔ تم کس بات پر اتنا اکڑتے ہو؟ “
” میں حقیقت ہوں اور تم صرف فریب ہو۔ میں تمہارے بغیر زندہ رہ سکتا ہوں لیکن تمہارا وجود میرے بنا ممکن نہیں۔ “

” اس فریب کے ذریعے ہی تو انسان جی رہا ہے۔ تمہاری حقیقت میں تلخی کے علاوہ کچھ بھی نہیں! “
” تمہارے پاس جھوٹے وعدے، جھوٹے خواب ہیں۔ کیا کسی کو دھوکا دینا اچھی بات ہے؟ “

Read more

درویشوں کا ڈیرا پر تبصرہ

خط لکھنے کی روایت اگرچہ بہت قدیم ہے لیکن ا س کو اردو ادب میں شامل کرنے کی اہمیت مرزا غالب کے خطوط سے شروع ہوئی ہے۔ میں نے ثانوی اسکول میں غالب کے ادبی خطوط پڑھے تھے۔ اس کے بعد کچھ اور ادیبوں کے بھی اکا دکا خطوط پڑھنے میں آئے۔ چند سال پہلے رتن بائی کے انگریزی میں لکھے ہوئے خطوط پڑھے جو انہوں نے محمد علی جناح کو پیرس سے لکھے تھے جہاں وہ اپنی عمر کے

Read more