آج کے اس جدید دور میں بلاغ کا کوئی بھی ذریعہ چاہے جتنابھی پرانا کیوں نہ ہو گیا ہواس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی صورت حال ریڈیو کے بارے میں بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ نجانے کتنی ہی نسلوں کا ریڈیو سے نوسٹیلجیا وابستہ ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔
ان سطور میں یہ زمین زاد ریڈیو کے حوالے سے اپنے بچپن کے رومانس کو آپ سے شیئرکرنا چاہے گا۔ ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں ڈاک خانہ سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اباجی (رسول بخش نسیم) اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے۔ اس دور میں ہمارا گھر کچا تھا۔ کچے آنگن میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھرجہاں سرشام ہی صحن میں چھڑکاؤ کرکے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتاجو دن کو ابو کے کمرے میں میز پر دھرا رہتا۔
Read more