یہ 6 دسمبر 1992ء کا ذکر ہے

وہ 6 دسمبر 1992 ء کی ملگجی اور اداس دوپہر تھی۔ اتوار کا دن۔ جب اوچ شریف کے متروک ریلوے لائن کے ساتھ واقع ماسٹر احسان انجم صاحب کے سکول میں دوسری جماعت کا آٹھ سالہ طالب علم نعیم احمد ناز جو اہل و عیال اور ہم جماعت دوستوں میں نومی کی عرفیت سے جانا جاتا تھا، درگاہ حضرت محبوب سبحانی کے کُپ (مقبرہ موسیٰ پاک شہید کے اندر) میں دسمبر ٹیسٹ کے سلسلے میں ماسٹر مرید احمد صاحب کے

Read more

آج پاکستان کے پہلے دستور کے خالق، چوتھے وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی 39ویں برسی ہے

پاکستان کے پہلے سیکرٹری جنرل، 1956 ء کے پہلے دستور پاکستان کے خالق، سابق وفاقی وزیر خزانہ، چوتھے وزیراعظم چوہدری محمد علی کی 39 ویں برسی یکم دسمبر کو منائی جا رہی ہے، چوہدری محمد علی 15 جولائی 1905 ء کو ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 1928 ء میں انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے

Read more

ریاست بہاول پور کا پہلا صاحب دیوان شاعر: ”ارمغان اوچ“کا مطالعاتی جائزہ

ارمغان اوچ انیسویں صدی میں خانوادۂ سادات گیلانی کے بزرگ اوردرگاہ قادریہ عالیہ کے سجادہ نشین مخدوم سید شمس الدین (خامس) گیلانی کے اردو، فارسی اور سرائیکی کلام کا انتخاب ہے، جسے بہاول پور کے بلند فکر ادیب و مصنف، نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی خامس کے اے ڈی سی بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ نے مرتب کر کے سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور کے زیراہتمام 1966 ء میں گردیزی پرنٹنگ پریس بہاول پور سے شائع

Read more

پی ٹی وی کو کیسے زندہ رکھا جائے؟

یادش بخیر، یہ 1988 ء کے سنہرے سجیلے دنوں کی دلستاں یادوں کی بازآفرینی ہے۔ شاید ہمارے ”محبوب“ جنرل کے ”بلیک اینڈ وائٹ“ دور حکومت کی نزعی ساعتیں تھیں جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ اداسی اور خموشی میں ملبوس ایک سہ پہر ابو لکڑی کے ڈبے کا چار فٹ طویل بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر جب گھر آئے تھے تو ہمارا گھر پوری شمس کالونی میں وہ واحد ”خوش قسمت“ گھر قرار پایا جو ٹی وی

Read more

ماضی کے بوجھ تلے دفن ایک مسجد کی کہانی

یہ جون کی ان تپتی اور خوابیدہ دوپہروں کی یاد ہے جب ہم نے یک شنبہ کی تعطیل میں تاریخ کے کسی قدیم باب میں جھانکنے کا قصد کیا تھا۔ عزیزم دیوان سید ذیشان حیدر بخاری کی دعوت اور یاران طرح دار تنویر احمد عطاری اور ارشاد احمد شاد کی معیت میں ہماری منزل اوچ شریف کے نواحی موضع نور پور جدید کی بستی دیوان میں ایستادہ اس تاریخی مسجد کی شکل میں متعین ہوئی جہاں تاریخ نے اپنے انمٹ

Read more

دو ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ٹیچر کے نام کھلا خط

میرے پیارے دوست سید تحسین عباس بخاری صاحب!

آداب!

تم پر رب رحمن کی بے کنار رحمتیں اور بے شمار برکتیں۔ امید ہے عمر رواں کے سارے فسانے شاندار ہوں گے۔ لیکن یار! شاندار کہاں ہوں گے؟ پانچ دن پہلے تک شاید شاندار ہوں لیکن اب تو زیست کے اوراق ہی بے ترتیب ہو گئے ہوں گے۔ یقین کرو جب سے تمہارے ہاتھوں کو ہتھکڑی میں جکڑے دیکھا ہے، دماغ ماؤف سا ہے اور دل اداسی کی لپیٹ میں۔ تم پرریاست کے ”بے داغ لوگوں“ نے ”داغ“ لگایا ہے کہ تم نے دو ہزار روپے رشوت لی ہے۔

Read more

نعیم احمد ناز کو اب کوئی خط نہیں لکھتا!

”ڈاک“، ”ڈاکیا“، ”ڈاک خانہ“ اور ”خط“ کے ساتھ سرود رفتہ کی کتنی ہی خوش رنگ یادیں وابستہ ہیں۔ جن کے بارے میں سوچتے ہوئے نوسٹیلجیا دل و دماغ میں ہمکنے لگتا ہے۔ خط کی لذت وہی جان سکتے ہیں جنہوں نے خطوط لکھے اور وصول کیے ہوں۔ یہ ان روشن زمانوں کا ذکر ہے جب ابا جان اوچ شریف سے باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں امی اور ہم بہن بھائیوں کو خطوط لکھتے، عید کارڈ اور اخبارات و رسائل بھیجتے۔

Read more

اسلام کی تجربہ گاہ میں یہ "ملیچھ” پاکستانی ایسے ہی مرتے رہیں گے

میں نے دیکھا کہ ایک ہوسٹل کے دروازے پہ پولیس کھڑی ہے اور ایک نوجوان ہندو لڑکی نمرتا کی بے بس لاش پنکھے سے جُھول رہی ہے۔ انتہائی ڈھٹائی اور بے حیائی سے قتل کو خود کشی سمجھا جا رہا ہے۔ پھر یوں ہوا کہ میں چشم تصور سے اس عظیم اسلامی مملکت کے سبز ہلالی پرچم کا اقلیتوں کے لئے مخصوص سفید حصہ سکڑتے سکڑتے ختم ہوتے یا خاکم بدہن سرخ رنگ میں ڈھلتے دیکھنے لگا۔ عدم برداشت اور

Read more

کیا لیجنڈ بھارتی اداکار راج کمار کا تعلق احمد پورشرقیہ سے تھا؟

سوشل میڈیا پر ان دنوں برصغیر کے لیجنڈ اداکار، شہنشاہ مکالمات راج کمار کو ان کی وفات کے 23 سال بعد ”زبردستی“ احمد پوری بنانے کی تحریک زور و شور سے جاری ہے، بلکہ تحصیل احمد پور شرقیہ میں کرنیل والی مسجد کے ساتھ ان کی رہائش گاہ کے علاوہ ”ماجد خان“ نامی ایک بھائی کو بھی ”دریافت“ کر لیا گیا ہے، جو اب بھی زندہ حیات ہیں بلکہ برصغیر کے کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے راج کمار سے

Read more

1990ء میں پی ٹی وی کی نشریات سے بے لگام چینلزکی میراتھن نشریات تک

آج صبح ”نور حضور ویلے“ اچانک ہونے والی بارش کی رم جھم نے نیند سے بیدار کیا تو مشکبو فضاؤں میں اذانوں کی الوہی آوازیں گونج رہی تھیں۔ کسی مسجد کے ایک موذن صاحب ہیں، وہ اتنے خوبصورت انداز میں اذان اور درود و سلام کہتے ہیں کہ دل و دماغ پر جمی ساری کثافتیں آنسووں کی صورت آنکھوں کے راستے سے بہہ نکلتی ہیں۔ روح ”ہولی“ ہو جاتی ہے۔ یہ اذان اور یہ درود و سلام ہم بچپن سے

Read more

پاکستانی گلابی نمک اور بھارتی ایکسپورٹ کا گھن چکر

یادش بخیر: گزشتہ چند ماہ سے ہمارے کچھ فیس بکی محب الوطن گلابی نمک کا چورن بیچ کر قومی حمیت کی بیچ چوراہے پھوٹنے والی ہنڈیا کو جہالت کا تڑکا لگائے جا رہے ہیں۔ سادہ اور مختصر مگر جامع بات یہ ہے کہ ہم اپنے ”لون“ کے ساتھ ساتھ ”خون“ میں بھی ”نمک حلالی“ کی تاثیر پیدا کر لیں تو دہلی کے لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرا سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا گلابی نمک

Read more

صلاح الدین جیسے سیاہ بخت تو محض تاریخ کا "چھان بورا” ہوتے ہیں

لیجیے صاحب! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ناپاک عزائم رکھنے والے ایک اور ملزم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ ایک بندوق بردار ریاستی ادارے نے اپنے زیر حراست ایک مجہول نہتے ملزم کو فوری اور سستی ”سزا“ دے کر جہاں ماں جیسی ریاست کو سرخرو کیا۔ وہاں ہم جیسے افتادگان خاک کو فیض احمد فیض جیسے ”غدار“ کی یاد دلا دی جس نے کہا تھا ”میرے وطن تیرے دامان تار تار کی خیر“۔ یقین ہے کہ صلاح الدین جیسے

Read more

آئیے پاکیشیا سیکرٹ سروس اور ایکسٹو کو یاد کرتے ہیں

زمان و مکان کی کائناتی بندشوں، غم جاناں اور غم روزگار سے جب زیست گاہے جان سے گزر آتی ہے اور گاہے جان سے گزر جاتی ہے، تو اس ہمہ رنگ یکسانیت سے طبیعت اوبھ سی جاتی ہے۔ اس سمے تھوڑی سی تنہائی چاہیے ہوتی ہے اور محض لب دوز و لب ریز چائے کا ایک پیالہ۔ اس دل ستاں ساعتوں میں ہمارا بہترین رفیق عمران سریز کا ناول ہوتا ہے۔ ابن صفی کے بعد صفدر شاہین، ایم اے راحت اور ظہیر احمد نے عمران سیریز کے تسلسل کو اپنے اپنے انداز سے آگے بڑھایا اور مقبولیت حاصل کی لیکن لیجنڈری مظہر کلیم ایم اے کا رخش قلم جب قرطاس پر بگٹٹ دوڑتا تھا تو سربلندیوں اور سرشاریوں کو چھو لیتا تھا۔

Read more

اپنی محبوب سڑک کی یاد میں

پانچ دریاؤں والے پنجند سے ذرا آگے جہاں سندھ، چناب کا ہاتھ پکڑتا ہے، سیت پور کا صدیوں پرانا قصبہ موجود ہے۔ تھوڑا آگے بڑھیں تو دو دریاؤں کے بازوئی حصار میں موضع سرکی ہے جو آدھا یہاں اور آدھا اندر ہے یعنی دریا برد ہو چکا ہے۔ پانیوں کی اسی آغوش میں ایک پرانی بستی ٹبہ برڑہ کی بھی ہے جس کا واحد سرکاری پرائمری سکول صدر ایوب خان کے عشرہ ترقی کی برکات کا ہم عصر و امین

Read more

آہستہ بولیں۔۔۔۔ مسلم امہ سو رہی ہے

عظیم ”برادر“ اسلامی ملک متحدہ عرب امارت کے عالی نسب حکمرانوں کی طرف سے گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم کو اعلی ترین شہری ایوارڈ سے نوازنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم امہ دراصل وہ مسلم ”اماں“ ہے جس کے 57 بیٹے ہی نافرمان ہیں۔ امت کے خواب دکھانے والے یہ عالمی بازی گر خود او آئی سی کی سطح پر بھی متحد نہیں ہو سکے۔ اب یو اے ای کے شاہی حکمرانوں کو چندری رن کی طرح کوسنے سے

Read more

ایک الف لیلوی قصبہ جہاں تاریخ اپنی معدومی سے پہلے آخری ہچکی کی صورت کسی مسیحا کی منتظر ہے

گزشتہ دنوں ہمیں اپنے شہر اوچ شریف کے پڑوس میں واقع اوچ موغلہ کے گلیوں کوچوں کی طرف جانے کا اتفاق ہوا۔ یا حیرت! شنیدنی مناظر دیدنی ہوئے تو طلسم ہوشربا نگارستان کو اپنے سامنے پایا۔ پہلے پہر کی رات کے خواب جیسا ماحول، بغداد کی گلیوں کی طرح پراسراریت، مزاروں جیسے پر شکوہ مگر خاموش در و دیوار، درختوں کی شاخوں پر بندھے مٹی کے برتنوں سے بے فکری کے ساتھ دانہ چگتی چڑیوں کی دلپذیر چہچہاہٹ، کوئل کی کوکو، نیند کے ہلکورے لیتے صوفی مزاج کبوتر، گلہریوں کی معصوم شرارتیں، دو رویہ گھنے درختوں کے بیچوں بیچ کچا راستہ، مصنوعی تالاب اور کئی سو سال قدیم لگنے والے برگد کی مہربان چھاؤں میں بیٹھ کر ایسے محسوس ہوا جیسے ہم الف لیلوی دھرتی پر آ گئے ہوں کہ شہر زاد کی کہانیوں کو قرات کرتے کرتے نیند کے گھونٹ بھرنا شروع کر دیں گے۔

Read more

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

بھادوں بڑا نرم و گداز سا مہینہ ہے۔ نہ گرمی سے دہکتا نہ سردی سے ٹھٹھرتا ہوا۔ نہ راتیں طویل نہ دن لمبے۔ برسات کی ہریالی پہنے ہوئے شاداب منظروں کا مہینہ۔ میری زندگی میں اس بکری مہینے کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ سو بھادوں طلوع ہوتے ہی یادوں کا ایک دبستان سا کھل جاتا ہے اس ملائم مہینے کی چاندنی راتوں میں دل اداسی کی خوشبو سے بھر جاتا ہے۔ یادش بخیر؛ 1996 ء میں یہی بھادوں کے دن

Read more

17 اگست 1988ء: ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا۔۔۔

یادش بخیر: 31 برس پہلے سترہ اگست کے دن بہاول پور کے قریب بستی لال کمال میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا تھا جس کی ہولناک گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کی طیارے کے اندوہناک حادثے میں ناگہانی موت نے ملک بھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ جب یہ حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا، اس وقت اس زمین زاد کی عمر محض چار سال چھے دن کی تھی اور اوچ شریف میں موجودہ رہائش گاہ پر رہائش پذیر ہوئے ہمیں چار مہینے ہی ہوئے تھے۔ اس قومی سانحے سے چند روز قبل ہی ابا جی ایک بڑا سا ڈبہ نما بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر آئے تھے، جسے پوری شمس کالونی میں واحد ٹیلی ویژن سیٹ ہونے کا ”اعزاز“ حاصل تھا۔

Read more

یہاں "سارتر” ہمیشہ اٹھائے جاتے رہیں گے

یادش بخیر: جدید جمہوریت کے اس دور میں ریاست کو ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جو طاقتور کے مقابلے میں ہمیشہ اپنے کمزور بیٹے کی فلاح، سلامتی، صحت، تعلیم جیسے بنیادی حقوق پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ جبکہ جمہوری تقاضوں سے نابلد تیسری دنیا کی ریاستیں اکثر سوتیلی ماں جیسی ہی نکلتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا وطن بھی اسی منطقے میں واقع ہے۔ وہ جو فیض نے فرمایا تھا۔ زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے درد کی

Read more

نیا پاکستان، جرم سخن اور عرفان صدیقی کا داخل زنداں ہونا

یادش بخیر، اس زمین زاد نے اخباری دنیا میں زبان و بیاں کا سلیقہ دو شخصیات سے سیکھا ہے۔ ایک والد گرامی نسیم صاحب ہیں۔ ان سے تو براہِ راست کسب فیض کیا۔ سکول سے واپسی پر نسیم صاحب کو ”نوائے وقت” کا فکاہیہ کالم ”سر راہے” پڑھ کر سنانا ہماری ذمہ داری تھی۔ لہذا اسی وجہ سے زبان و بیاں کے معاملے میں سب سے زیادہ گوشمالی ہماری ہی ہوا کرتی۔ دوسری شخصیت جناب عرفان صدیقی کی ہے۔ ان

Read more

سید محمد سلیم ریاض: ریڈیو پاکستان کی طلسمی آواز پیوند خاک ہو گئی

گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ سرودِ رفتہ کے گل رنگ یاد باغ میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھر ابھی تک آباد ہے جہاں سر شام ہی صحن میں چھڑکاؤکر کے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر

Read more

زندگی میں ایک بار تنویر احمد عطاری سے ضرور ملیئے

جگنو اس لیے بھی اچھے ہوتے ہیں کہ یہ اندھیرے میں دور سے نظر آتے ہیں اور دور تک نظر آتے ہیں۔ تنویر احمد عطاری بھی ایک جگنو کی مانند ہیں جو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں علم اور تحقیق کی روشنی بکھیر کر جمود زدہ معاشرے میں اپنے ہونے کا یقین دلا رہے ہیں۔ تنویر احمد کو آپ میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔ اس لئے کہ وہ لاہور اور اسلام آباد نہیں، ایک چھوٹے سے

Read more

نفسانفسی کے مارے اس عہد میں اب عید کارڈ کون بھیجے گا؟

گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں۔ عید کارڈ ان میں سے ایک ہے۔ اب جہاں ہم ترقی یافتہ بن چکے ہیں، وہاں اپنی خوبصورت روایات کے حوالے سے قحط الرجالی بھی ہمارے مقدر میں آئی ہے۔ عیدالفطر کو منانے کے لیے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی تیاریاں شروع ہو جاتیں ہیں۔ ماضی میں اپنے پیاروں، رشتے داروں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو عید کارڈز ارسال کرنے کی دل ستاں روایت بھی انہی تیاریوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، جسے اب جدید ٹیکنالوجی کا اژدھا نگل گیا۔

Read more

پاکستان اپنے محسن نواب صادق عباسی کی بے پایاں خدمات کا اعتراف کب کرے گا؟

14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو وہ طاغوتی طاقتیں جو اس کے قیام کے خلاف تھیں روز اول سے ہی اس کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئیں۔ ریڈ کلف کی غیر منصفانہ جغرافیائی اور اثاثہ جات کی تقسیم کے باوجود ہندوستان پاکستان کو اس کے حصے کا ساز و سامان دینے سے صاف انکاری ہو گیا۔ اس کی اس گھٹیا حرکت کا مقصد نوزائیدہ مملکت پاکستان کو معاشی لحاظ سے نقصان پہنچانا تھا۔ ایسے نازک حالات میں جس شخص نے دامے، درمے، سخنے اور قدمے پاکستان کی مدد کی وہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی (پنجم) تھے جنہوں نے اپنا تخت و تاج پاکستان پر نچھاور کر دیا۔

Read more

پرچے کی طوالت ناپ کر نمبر دینے والے اساتذہ اور ”پیاز“ دے کر پاس ہونے والے شاگرد

پاکستان کے نظام تعلیم میں مارچ، اپریل اور مئی کا مہینے سالانہ امتحانات کے حوالے سے سیزن کے ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں قائم انٹر میڈیٹ کے امتحانی سنٹر میں جانے کا اتفاق ہوا تو بے اختیار اپنے سکول کے درخشاں زمانے کی یاد دل و دماغ میں ہمکنے لگی اور ایک ایک کر کے تمام کلاس فیلوز اور اساتذہ کرام کے روشن چہرے خوشبو بن کر آسودگی دینے لگے۔ خیال آیا کہ شاید ہم گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں ”اداس نسلوں“ کی آخری خوش قسمت کڑی تھے جنہوں نے سکول کے عروج، بہترین تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اپنے فضیلت مآب اساتذہ کرام کی شفقت، ان کے وقار اور ان کی مشفقانہ مار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برداشت کیا۔ ”پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ“۔ اب تو سکول کی حالت اور استادوں کا رویہ اور ”مار نہیں پیار“ مارکہ شاگردوں کا برتاؤ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کے مستقبل میں بس ”ویرانی سی ویرانی ہے“۔

Read more

پاکستان میں آزادی صحافت: کاہے کو ٹینشن لینے کا، رے بابا!

تین مئی کو پاکستان سمیت دنیا میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991 ء کی اپنی 26 ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذ کرتے ہوئے 1993 ء سے ہر سال 3 مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادئی صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت صحافتی تحریروں پر پابندی لگانے، انھیں سنسر کرنے، جرمانہ عائد کرنے نیز صحافیوں کو زدوکوب کیے جانے، ان پر جان لیوا حملہ

Read more

پی ایچ۔ ڈی اسکالر کہلوانے والے "پیاسے کوے”

گزشتہ دنوں ایک جان پہچان والے صاحب ہمارے ہاں تشریف لائے، چہرے بشرے سے قدرے معقول لگے تھے۔ نظام تعلیم پر بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ انہوں نے پی ایچ۔ ڈی کر لی ہے اور اب ایک گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول میں اپنی اضافی قابلیت کا مبلغ پانچ ہزار روپے ماہانہ ”محنتانہ“ بھی وصول کر رہے ہیں۔ موصوف زمانے کے ساتھ ساتھ تعلیم کی ناقدری کا بھی رونا رو رہے تھے۔ اسی طرح ایک پرائمری سکول میں تعینات ہماری

Read more

پاکستان میں کتاب کلچر کا زوال

گزشتہ روز ( 23 اپریل کو) پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتاب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن منانے کا مقصد قاری کو اچھی اور معیاری کتاب دینے والے تخلیق کار کی عظمت کو سلام پیش کرنا، معیاری کتاب کے مطالعے کو قاری میں جس قدر ممکن ہو سکے عام کرنا اور معیاری کتب کی اشاعت کو فروغ دینا تھا۔ کتاب جہاں انسان کے علم اور ذہنی استعداد میں اضافہ کرتی ہے وہاں یہ اس کی بہترین دوست اور تنہائی کی رفیق بھی ہے اور آدمی کی روحانی تسکین کا باعث بھی بنتی ہے۔

پاکستان میں کم شرح خواندگی اور مہنگائی کے علاوہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بھی کتاب کی اہمیت متاثر ہوئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں محض 27 فیصد عوام کتب بینی کے شوقین ہیں۔ یوں تو بڑی سرعت کے ساتھ سوشل میڈیا نے کتاب کا مرتبہ ختم کرکے اپنی جگہ بنا لی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ BOOK (Best Object Of Knowledge) کی اہمیت ہمیشہ دائم آباد رہے گی کیونکہ سوشل میڈیا پکا پکایا اور بنا بنایا مواد فراہم کر رہا ہے جس سے طالب علم میں تحقیق، سوچ بچار، تلاش ذرائع، تجسس اور تنقید کی فیکلٹی کمزور ہو کر رہ گئی ہے۔

Read more

دیو گڑھ، سکندریہ، چچ اور اوچ: تجھے کس نام سے پکاروں

ازمنہ گزشتہ سے انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں انسان کا سب سے موثر ہتھیار ماحول سے مطابقت ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ جس ذی روح نے ماحول سے بہتر تطبیق کی وہ باقی رہی۔ اسی طرح تعمیر اور تخریب بھی انسانی فطرت میں شامل ہے اور اس کا سلسلہ انسان کے زمین پر آنے کے بعد سے جاری ہے۔ وقت بہت سے حقائق پر پردے ڈالتا رہا اور جب کسی خطے میں جنگ ہوئی تو باقی صرف کھنڈرات بچے۔ انہی جنگ و جدل کے نتیجے میں دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور کہیں کہیں ان کے آثار باقی رہ گئے۔”مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے“۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اوچ شریف کی بھی ہے۔

Read more

چلتے ہوتو ”اوچ“ کو چلئے کہتے ہیں کہ ”میلہ“ ہے

میلے کسی بھی سماج کے تہذیبی و ثقافتی نقوش اور سماجی روایات و ارتباط کا عکس ہوتے ہیں، موسم تبدیل ہوتے ہی مٹی کی قدیم روایات سے جڑے ہر شخص میں محبت کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور ہر سو رنگ وخوشبوکا ایک سیل رواں نظر آنے لگتا ہے۔ زندگی کے مختلف رنگ جب محبت کی لڑی میں پروئے جائیں تو وہ اس علاقے کی ثقافت بن جاتے ہیں۔ ثقافت زندگی کے مختلف دیدہ زیب رنگوں کا مجموعہ ہے جو لوگوں میں کبھی جھومر کی شکل میں نظر آتا ہے تو کبھی میلے کی صورت میں لوگوں کو تفریح مہیا کرتا ہے۔مقامی رنگ و روپ سے آراستہ میلے جہاں ثقافتی روایات کے امین ہوتے ہیں وہاں مذہبی رنگ ان کی افادیت میں دو چند اضافہ کر دیتا ہے۔ ان میلوں ٹھیلوں کا موسم اکثر موسم بہار کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں ان میلوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وہ کسی نہ کسی طور پر اولیائے کرام کی پاکیزہ محفل کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ بکرمی مہینے چیت کے پہلے جمعتہ المبارک سے شروع ہو کر چوتھے جمعتہ المبارک تک جاری رہنے والا اوچ شریف کا تاریخی میلہ بھی بزرگان دین کی بابرکت محفلوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

Read more

ریڈیو کے عالمی دن پر ”پرانے پاکستان“ کے بوسیدہ شہری کی ریڈیو کتھا

آج کے اس جدید دور میں بلاغ کا کوئی بھی ذریعہ چاہے جتنابھی پرانا کیوں نہ ہو گیا ہواس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی صورت حال ریڈیو کے بارے میں بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ نجانے کتنی ہی نسلوں کا ریڈیو سے نوسٹیلجیا وابستہ ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔

ان سطور میں یہ زمین زاد ریڈیو کے حوالے سے اپنے بچپن کے رومانس کو آپ سے شیئرکرنا چاہے گا۔ ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں ڈاک خانہ سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اباجی (رسول بخش نسیم) اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے۔ اس دور میں ہمارا گھر کچا تھا۔ کچے آنگن میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھرجہاں سرشام ہی صحن میں چھڑکاؤ کرکے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتاجو دن کو ابو کے کمرے میں میز پر دھرا رہتا۔

Read more

تحصیل احمد پور شرقیہ کے سرکاری سکولوں کی پکار اور آئین

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار اداکرتی ہے۔ اس لئے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں کو تعلیمی سہولیات اورمعیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔ اپریل 2010 ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کی پارلیمان نے دستور میں آرٹیکل 25 (اے ) کا اضافہ کیا۔ جس کے تحت معیاری تعلیم کو کسی بھی شہری کا بنیادی حق قرار دیا گیا مگراسی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہی تعلیم کے اہم ترین شعبے کوصوبوں کے سپرد کرکے اس بنیادی حق کی فراہمی کو کاغذی کارروائی تک محدود کر دیا گیا۔

Read more

سرائیکی وسیب کے فنکارکس دیوار گریہ سے سر پھوڑیں؟

کسی بھی مہذب معاشرے میں فنکار، ادیب، شاعر، موسیقار، گلوکار اور اداکار کو عام انسان کے سانچے سے مختلف سمجھا جاتا ہے کیونکہ مہذب دنیا سمجھتی ہے کہ یہ لوگ وہ ”میوٹیٹیس“ ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے میں اس لئے پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ اس معاشرے کے لوگ کہیں اپنی زندگیوں کی بے رنگی سے تنگ آکر مر ہی نہ جائیں لیکن پاکستان میں یہ روایت قائم ہوتی جا رہی ہے کہ جب تک فنکار اپنے فن

Read more

بیادرفتگان رسول بخش نسیم

کئی بار قلم اٹھایا اور رکھ دیا، آنکھیں دھندلا جائیں تو لکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کوئی زندگی کی رعنائیوں کا مرثیہ بے نم آنکھوں سے لکھ کر دکھائے تو مانوں، آخری قدم قبرستان سے باہر رکھنے لگا تو ایک بار پھر مڑ کر دیکھا، مٹی کا ایک ڈھیر سامنے تھا، تو کیا وہ رعنائی خیال، وہ تبسم، وہ تکلم، وہ علم، وہ بصیرت، وہ حسن خلق، سب پیوند خاک ہو گئے؟ کیا ان سے دائمی محرومی ہی انسان کا مقدر ہے؟ لگا دل اچھل کر سامنے آگیا ہے، دل نے چاہا کہ میں اس خاک سے مخاطب ہو کر غالب کے الفاظ میں شکوہ کروں کہ تو نے ”یہ“ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟ اداسی نے پاؤں جکڑ لئے، اللہ کا شکر کہ مرشد اقبال ؒ آگئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں سنبھل گیا، جکڑے ہوئے قدم اٹھنے لگے، انہوں نے سرگوشی کی

Read more

ریاست ایک معاہدہ کیلے بیچنے والے بچے کے ساتھ بھی کرے

نئے پاکستان کے معماروں سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کے سامنے اتنی آسانی سے گھٹنے ٹیک دیں گے۔تین روز تک ریاست کی رٹ سولہ سنگھار کئے شاہراہ دستور پر جھانجریں چھنکاتی رہی ۔ مذہب کے نام پر” فساد فی سبیل اللہ” کے علمبردار مرصع و مسجع دین فروشوں نے ریاست کر یرغمال بنائے رکھا اور تبدیلی فیم حکومتی وزراء اپنے کھوکھلے پن کے ساتھ شاخ گل پہ زمزموں کی دھن تراشتے رہے۔ جب خطرہ ٹل

Read more

جمہوریت رے جمہوریت تیری کون سی کل سیدھی

جمہوریت کی تعریف کے حوالے سے دیکھا جائے تو کچھ کچھ، جتنے منہ اتنی باتیں، قسم کی صورتحال سامنے آتی ہے۔ پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں سابق امریکی صدرمسٹر ابراہام لنکن کے الفاظ میں اسے کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ Democracy is a government, of the people, by the people, for the people. یعنی جمہوریت میں حکومت عوام کی ہوتی ہے، عوام پر کی جاتی ہے اور عوام کے لئے کی جاتی ہے۔ تاہم یہ جمہوریت کی

Read more

ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کی تین سالہ بندش کے ”منصوبے“ سے عوام کیوں خوش ہیں؟

برصغیر میں تاریخی۔ روحانی اور تہذیبی حیثیت کے حامل شہر اوچ شریف سے شمال کی جانب 12کلومیٹر کے فاصلے پر ہیڈ پنجند کا وہ تفریحی مقام واقع ہے جہاں پانچ دریاچناب۔ ستلج۔ بیاس۔ جہلم اور راوی مل کر حسین سنگم بناتے ہیں۔ ہیڈ پنجند کا افتتاح 8جون 1929ء ایجنٹ ٹو گورنر جنرل پنجاب کرنل اے بی منچن صاحب بہادر نے کیا تھا۔ چارسال کے عرصے میں مکمل ہونے والے ہیڈ پنجند کی تعمیر پر اس دور میں بیس کروڑ روپے

Read more

یتیم مملکت کے یتیم وزیر اعظم کے نام، ایک یتیم پاکستانی کا خط

عالی مرتبت جناب عمران خان صاحب وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان آداب! ڈھیروں دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ بارگاہِ ناز میں کچھ معروضات گوش گزار کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ جناب وزیر اعظم! بطور وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان قیادت کے جس مقام پر آج آپ کھڑے ہیں، وہاں آپ کو قوم کے ہیرو کا تشخص حاصل ہو چکا ہے، آپ کو یہ بات ہر لمحہ یاد رکھنی ہو گی کہ قوم اپنے ہیرو کو ایک معجزاتی اور طلسماتی

Read more

ہم وہ ٹین کے ڈبے ہیں جو بس شور ہی مچاتے رہ جاتے ہیں

مگر اک عمر۔ ۔ ۔ ہم نے زندگی کو زندگی محسوس کرنے کی طلب میں۔ رائیگاں کر لی ! عشق کی داستان آج گلی گلی پھیلی ہوئی ہے، ہر دوسرا انسان اس بیماری میں مبتلا ہے، کچھ سمجھ دارایسے بھی ہیں جو دوسروں کو دیکھ کے عبرت حاصل کرتے ہیں اور یہ ’دوسرے‘ وہ لوگ ہیں جو ’دولت‘ کے عاشق ہوتے ہیں، ایسے چھپا کے رکھتے ہیں جیسے ’سیپ میں موتی‘۔ عشق کی داستان ’صحرا‘ سے بھی شروع ہوتی ہے

Read more

تذکرہ ”شہرآشوب” اوچ شریف

سوالاکھ اولیائے کرام کی نگری اوچ شریف برصغیر کی ان تاریخ ساز بستیوں میں سے ایک ہے جہاں اگر ایک طرف سلطنتوں کے عروج وزوال کی داستانیں مرتب ہوتی رہیں تو دوسری طرف تہذیب و ثقافت کے ان گنت نقوش ابھرتے اور مٹتے رہے۔ اسلامی تصوف و شریعت کی شمعیں جو کفروضلالت کے تاریک گوشوں کو منور کرنے کے لئے خطہ پاک اوچ میں جلائی گئی تھیں ایک دنیا نے ان سے اکتساب نور کیا۔ بہاول پور سے جنوب مغرب

Read more

’پرانے پاکستان‘ کی ’متروک‘ یادداشتیں

1991 ء میں جب پہلی بار اوچ شریف کو ٹیلی فون کی سہولت نصیب ہوئی تو پہلے مرحلے میں ہمارا گھر بھی ان دو سو خوش قسمت گھروں میں شامل تھا جس کو ٹیلی فون کا کنکشن ملا، ہمارا ٹیلی فون نمبر 192 تھا، ڈائریکٹ ڈائلنگ کا نظام تھا نہیں سو پہلے ٹیلی فون آپریٹر سے بات کر کے اپنا مطلوبہ نمبر ملانے کی درخواست کرنا پڑتی تھی۔ دوسرے شہر بات کرنے کے لئے ایڈوانس بکنگ کرانا پڑتی تھی، کیا

Read more

صحافت کی قبائے دلفریب اوڑھ کر حریمِ لفظ کا تقدس پامال کرنے والے

وطن عزیز میں یوں تو ایوان اقتدار سے لے کر منبر ومحراب تک ہی افراتفری، نارسائی، بدعنوانی اورلوٹ کھسوٹ خودروجڑی بوٹیوں کی طرح اگی ہوئی ہیں، مگر جس قدر صحافت جیسے مقدس اور محنت طلب شعبے میں کالی بھیڑیں دَر آئی ہیں،یہ بجائے خود المناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے، صحافت کو آزاد جمہوری ریاست میں چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور قومی اخبارات ہمیشہ جمہوریت کا ایک پایہ رہے ہیں، ہمارے ملک میں قومی ذہن کی

Read more

”پرانے پاکستان” کے ایک بوسیدہ شہری کی ”متروک” وصیت

میرے بچو! ’پرانے پاکستان‘ کا ایک بوسیدہ شہری، جو اداس نسلوں کے تسلسل کی آخری کڑی ہے، عمر رواں کی بے اعتبار سانسوں کی مالا جپتے جپتے جسے کہولت نے آ لیا ہے۔ نئے پاکستان کے قیام پر تمہیں وصیت کرتا ہے۔ یاد رکھنا کہ تم اس ملک کے شہری ہو جس ملک میں علیل قائداعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہو جایا کرتی ہے اور یہاں آئین بنانے والے سولی چڑھ جایا کرتے ہیں جبکہ مقبول عوامی قیادتیں کبھی جلاوطن، کبھی

Read more

جاسوسی ناول نگاری کے تاجدارِ فن مظہر کلیم (ایم اے) جہانِ ادب کو سُونا کر گئے

’’مرنے والے تجھے روئے گا زمانہ برسوں‘‘ 26مئی کو آسمان ادب کا یہ درخشاں ستارہ تین نسلوں پر محیط اپنے لاکھوں قارئین کو سوگوار کر کے دورکہیں افق میں ڈوب گیا میں نے اتنی بڑی تعداد میں ناول اپنی قوت خیال کے زور پر تحریرکئے ہیں کیونکہ جب خیال کو قوت مل جاتی ہے تو جیسے آپ کو پر لگ جاتے ہیں، اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کہاں تک اڑ سکتے ہیں، قوت خیال خدا کی دین ہے،

Read more