پولیو کے قطرے اور شربت تلقین شاہ

آمریت کیا ہے؟ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال سے عوام کو ان کے بدیہی حق حکمرانی سے محروم کرنا، انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے بے دخل کرنا اور ان کے وسائل ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے غصب کرنا۔ آمریت کی مزاحمت ہر محب وطن شہری کا بنیادی فرض ہے۔ آمریت قوم کے سیاسی امکان کو ختم کرنے کے حیلے دریافت کرتی ہے اور قومی اپنے سیاسی شعور کی روشنی میں ان حربوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ پرویز مشرف

Read more

پاکستان کا انتخاب: امریکا یا چین؟

ہم میں سے کون ہے جس نے منٹو کا افسانہ ٹھنڈا گوشت نہیں پڑھا۔ بڑے ادب کی نمود ایک سہ نکاتی قوس بناتی ہے، استرداد، قبول عام اور پھر ضرب المثل۔ سنسر کے محتسب، صحافت کے متحجر کتبے اور کور ذوق مدرس البتہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں، تخلیقی عمل اور تہذیب کا سفر ان حیاتیاتی حادثات سے بے نیاز ہوتا ہے۔ چوہدری محمد حسین اور میر نور احمد کو کون جانتا ہے؟ لمحاتی پذیرائی کے غلغلے میں لکھے

Read more

پی ٹی وی میں توسیع مبارک

جرنیلی سڑک پر اٹک پنجاب کا آخری ضلع ہے۔ اس سے آگے ضلع نوشہرہ سے خیبر پختون خوا کی حدود شروع ہوتی ہے۔ ان دو اضلاع کے زمینی اتصال ہر ہمارے آبی نظام کا ایک اہم سنگ میل واقع ہے۔ یہاں دریائے سندھ میں دریائے کابل آن ملتا ہے۔ دونوں دریاؤں کی آبی کثافت میں فرق کے باعث کچھ دور تک دونوں دریائی دھارے الگ الگ دکھائی دیتے ہیں اور پھر یک رنگ ہو جاتے ہیں۔ ہماری قوم نے اس

Read more

مزاحمت، تخلیق اور سیاسی شعور میں تعلق

کچھ حلقوں میں ان دنوں مزاحمتی ادب کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ غالباً تقاضا یہ ہے کہ ان احباب کے حالیہ سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کی جائے۔ گویا تخلیقی عمل بھی کسی خانہ ساز لیڈر کی میز پر رکھی نیلی پیلی پنسلوں کا فرومایہ ڈھیر ہے جو کسی کاٹھ کے ارطغرل کی خواہش کے تابع حرکت میں آئے اور اس کے کاسہ سر کے خلائے بسیط میں اٹھتے ہذیانی بخارات کو جنبش کلک سے حسب ضرورت خد و

Read more

سامری کا بچھڑا اور ہمارا سیاسی شعور

ہم خوش نصیب قرآن پاک کی تعلیم کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈ کے "لازمی نصاب” کے محتاج نہیں تھے، ہم نے اپنے گھروں پر والدین اور دوسرے بزرگوں کی شفقت کے سائے میں کتاب مبین سے آگہی پائی۔ بڑے ابا شوکت علی خان (بھاجی) درویش کو آداب تلاوت بھی سکھاتے تھے، تلفظ درست کرتے تھے، اکثر کسی آیت کا پس منظر بھی آسان لفظوں میں بیان کر دیتے تھے۔ یہ نعمت ملائے مکتب کے سامنے بزاخفش کی طرح سر ہلاتے

Read more

ماسکو ٹرائل اور ہماری برساتی حب الوطنی

معاف کیجئے گا، قیامت کے ان دنوں میں میرا دماغ چل بچل ہو گیا ہے۔ قلم سے سطر مستحکم برآمد نہیں ہو رہی۔ زبان بے سبب بہک رہی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ابن انشا اور ابراہیم جلیس کی شوخ رنگ ارواح میرے اندر حلول کر گئی ہیں۔ آج کی زبان میں بات کرنا ہو تو سمجھیے کہ عطاالحق قاسمی اور محمد حنیف نے میرا دماغ ہیک کر کے اس میں اپنی گستاخ بیانی کا سافٹ ویئر رکھ دیا ہے۔

Read more

زمان پارک کی خالی گلیاں اور قومی خزانہ

کسی قوم کے سیاسی شعور کی پختگی کا ایک بنیادی پیمانہ شہریوں کے مابین پرامن سیاسی اختلاف رائے کے حق پر غیر مشروط اتفاق ہوتا ہے۔ اختلاف رائے کی اسی روایت سے جمہوری ثقافت کا یہ پہلو بھی برآمد ہوتا ہے کہ شہری سے کسی سیاسی رہنما، سیاسی جماعت یا سیاسی نصب العین کی غیر مشروط حمایت یا مخالفت کی توقع نہیں کی جاتی۔ شہری اپنے علم، مشاہدے، فکر، معاشی سوچ، سماجی ترجیحات اور سیاسی تجزیے کی بنیاد پر کسی

Read more

مصر کا بازار اور صحافی کا قلم

ہماری سیاست پر ایک اور عشرہ زیاں گزر گیا۔ پیدا کرنے والے کی قسم، ہمیں گزرنے والے ناٹک پر کوئی اختیار تھا اور نہ آنے والے مناظر میں کوئی دخل ہے۔ گزشتہ عہد میں بھی راہ جفا کے اندھے موڑ اور پاتال کی خبر لانے والی کھائیوں کی نشاندہی کرتے رہے، کبھی گوش شنوائی نصیب نہیں ہوا۔ آئندہ بھی کسی نگہ نیم باز سے پرسش احوال کی توقع نہیں۔ ایک موسم کے گزر جانے اور اگلے موسم کی نمود کے

Read more

جناح ہاﺅس اور سلیم احمد کی تقریر

اس ملک کی تاریخ کا ایک اور باب ختم ہوا۔ کل تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے نامزد چھٹن نواب کے سرکاری دسترخوان پر قطار اندر قطار جمع ہونے والے ’صاف دامن‘ پوربیے ٹھگ اب چور نظروں سے دائیں بائیں دیکھتے کھسک رہے ہیں۔ فون پر گفتگو میں نام تک لینے کے روادار نہیں۔ مداری کا تماشا دیکھنے والے تاریخ اور سیاست کی ابجد سے ناواقف بچے حوالات کی رونق ہیں۔ کچھ لیڈر نما ’حقیقی اثاثے‘ چند روز عدالت کی راہداریوں

Read more

اندھیری رات کی امانت اٹھانے والے

برادر عزیز طاہر یوسف سے ملاقات کم کم لیکن نیاز مندی قدیمی ہے۔ گزشتہ شام فون اسکرین پر ان کا نام جگمگایا تو خوشی ہوئی۔ درویش نے گزشتہ اظہاریے میں غریب بچوں کی تعلیمی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے فارسی محاورے ’این خانہ ہمہ آفتاب است‘ میں آفتاب کو ’خوناب‘ میں بدل دیا تھا۔ طاہر بھائی کو شکوہ تھا کہ پاکستان کے ایسے قابل احترام شہریوں کی مساعی کو نظر انداز کر دیا ہے جو کم وسائل رکھنے والے گھرانوں

Read more

فلمی ہیرو کے لاٹھیاں کھاتے پرستار اور بازوئے قاتل

لاہور میں وسط مئی کے اتوار کی دھوپ خاصی روشن ہے مگر ابھی اس میں وہ خنجر ایسی چبھن نہیں ہے جسے مولوی اسماعیل میرٹھی نے ’مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ‘ میں بیان کیا تھا۔ ادارتی صفحات کے لئے اتوار کو لکھے جانے والے کالموں میں از جھنگ ثم مقیم کراچی والے ایک بزرگ عموماً ابتدائی سطروں میں اس روز اپنے پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کے ساتھ خوش وقتی کے امکان کا التزام سے ذکر کرتے ہیں۔ عمر

Read more

2035ءکس نے دیکھا ہے؟

ثروت حسین کا ایک مصرع دیکھئے، ’رزم گہ وجود میں آنکھ جھپک نہیں سکی‘۔ ثروت حسین نے 47 برس عمر پائی۔ شاعر کی زندگی ماہ و سال کی اکائیوں میں شمار نہیں ہوتی، اس کی بصیرت اور حد نظر سے متعین ہوتی ہے۔ ثروت حسین نے 1971 کے قیامت خیز دنوں میں ’ایک انسان کی موت‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی تھی، ’دھان کی پنیری فوجی بوٹ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے…. مجھے مردہ آدمی کی ہنسی سے خوف

Read more

جنگ اقتدار اور بارودی سرنگوں کی صفائی

عمر عزیز میں کسی مستقل روزگار کی صورت سے واسطہ نہیں رہا، کسی نے پرسش حال چاہی تو نگہ نیم باز سے طوطی ہند خسرو کا مصرع پڑھ دیا۔ آوارہ و مجنونے و رسوا سربازارے۔ آوارگی اختیاری تھی، ’شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش‘ اور رسوائی میں مرزا ہادی رسوا سے سند پائی۔ ’آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی‘۔ خیال رہے کہ آشفتگاں کی آوارگی بھی سیاحت کی دریافت اور تحیر کی مہمیز سے خالی ہوتی

Read more

شاہ بلوط کے کٹے ہوئے پیڑ اور قومی بحران

یہ سطریں تحریر کرتے ہوئے اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بنچ قومی انتخابات کے ایک ساتھ معاملے پر سماعت کر رہا ہے۔ کمرہ عدالت سے لمحہ بہ لمحہ خبروں کی لین ڈوری بندھی ہے۔ آج کی سماعت میں کسی نتیجہ خیز پیش رفت کا امکان نہیں۔ فریقین اپنی طاقت دکھانے کے لئے ایک آدھ قدم بڑھاتے ہیں مگر پھر میدان وغا کی گمبھیرتا دیکھتے ہوئے کندے تول تول کر رہ جاتے ہیں۔ ہم نے مشرف آمریت کے

Read more

پیپلز پارٹی اور جمہوریت کی میزان

صحافت سیاسی منصب نہیں اور نہ ریاستی ملازمت ہے۔ صحافت تو عمومی معنوں میں کسی کاروباری ادارے کی ملازمت بھی نہیں۔ اس لئے کہ اپنے آجر ادارے کے قانونی اور جائز مفادات کا محافظ ہونے کے باوجود صحافی کی بنیادی وابستگی درست خبر کی ترسیل ہے۔ یہی اصول ادارتی صفحے یا برقیاتی ذرائع ابلاغ میں تجزیے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ البتہ خبر رائے کی بجائے واقعاتی حقیقت کا غیر جانب دارانہ بیان ہوتی ہے۔ صحافتی ادارے کی طے شدہ

Read more

شہری کا لہو اور لیڈر کا پسینہ

ڈینیئل شیکٹر ہارورڈ یونیوسٹی میں نفسیات کے استاد ہیں۔ 1952 میں پیدا ہونے والے پروفیسر شیکٹر کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ افرادی اور اجتماعی یاد داشت متعدد عوامل کے زیر اثر اصل واقعات کو از سرِنو مرتب کر لیتی ہے۔ فرد لاشعوری طور پر اپنی عزتِ نفس کی نفی اور احترام ذات کی جسمانی شکست کے بہت سے پہلو فراموشی کے تاریک حجرے میں بند کر کے انہیں کسی قدر قابلِ قبول بیان میں ڈھال لیتا ہے۔

Read more

سول سوسائٹی …. حق مغفرت کرے

آندھی دھاندی کے دن ہیں۔ خوب اور ناخوب میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جائز حکومت اور ریاستی عمل داری کا سنجوگ ہم نے اس ملک میں کم کم ہی دیکھا۔ البتہ سپہ سالاروں کی آمد و رفت میں تاریخ کی تلپٹ ہم نے بہت دیکھ رکھی ہے۔ در عدالت پر آویزاں میزان کے پلڑوں میں توازن بھی ہمارا تجربہ نہیں رہا۔ اب مگر عجب بجوگ پڑا ہے۔ سرکاری خزانے میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ عوام دانہ گندم کے

Read more

خواب کی پوشاک پہننے والے

پنجابی افسانہ نگار اکبر لاہوری سے تو شاید آپ آشنا ہوں گے، غالباً منیر لاہوری کو آپ نہیں جانتے۔ کوئی چالیس بیالیس برس گزرے، خاکسار نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ بی اے میں اختیاری مضمون کے ضمن میں فارسی، عربی اور پنجابی کی فہرست موجود تھی۔ عربی میں مجھے دلچسپی نہیں تھی۔ عام تاثر تھا کہ فارسی زیادہ نمبروں کے لالچ میں چنی جاتی ہے۔ درویش مشکل پسند تھا۔ پنجابی کا انتخاب کیا۔ وائس پرنسپل کے دفتر کے

Read more

خواب کی وحشت میں گزاری ہوئی شبِ عمر

انتظار حسین نے رات کے اندھیرے میں گزرتی ریل گاڑی کو چراغوں کی قطار سے تشبیہ دی تھی۔ ہمارے مقدرات کی محضر میں اپنے عہد کے روشن چراغوں کو یکے بعد دیگرے بجھتے ہوئے دیکھنا لکھا تھا۔ آئی اے رحمان 12 اپریل 2021 کو رخصت ہوئے۔ محمد ضیا الدین نے 29 نومبر 2021 کو رخت سفر باندھا۔ 15 مارچ 2023 کو مسعود اللہ خان بھی اوجھل ہو گئے۔ کیا قافلہ جاتا ہے تو بھی جو چلا چاہے۔ مگر تمنا کی

Read more

10 اپریل: دستور زندہ دستاویز ہے

گزشتہ کل اپریل کی دس تاریخ تھی۔ 50 برس قبل اسی تاریخ کو قائد اعظم کے بچے کھچے پاکستان کے منتخب نمائندوں نے قومی دستور منظور کیا تھا۔ آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کی مناسبت سے قومی اسمبلی ہال میں دستور کنونشن منعقد کیا گیا جس میں اراکین پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ سمیت ممتاز قومی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر 10 اپریل کو یوم دستور قرار دیا گیا نیز قرارداد منظور ہوئی کہ آئین پاکستان کو

Read more

نہر پر چل رہی ہے پن چکی

بچپن حیرت اور معصومیت کا زمانہ ہے۔ گھر میں ماں باپ کی شفقت ہو، بہن بھائیوں سے شرارتیں ہوں یا سکول میں ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود۔ کوئی معمولی کھلونا ہو یا پیڑ پر بیٹھے پرندے کا گیت، پاﺅں پاﺅں چلنا سیکھنے سے سائیکل چلانے تک کی مسرت، بارش کا چھینٹا ہو یا گرما کی کسی تپتی ہوئی شام میں اچانک نمودار ہونے والی آندھی اور پھر کچھ وقفے سے امڈتے بادلوں کی ٹھنڈک۔ سرما کی دھوپ ہو یا

Read more

4 اپریل: مقتلوں میں فاتحہ خوانی کا دن

پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچنے والے پہلے قومی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر 44 برس بیت گئے۔ بھٹو صاحب کو 3 اور 4 اپریل 1979 کی درمیانی رات جیل قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علی الصبح 5 بجے کی بجائے دو بجے ہی راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ بھٹو صاحب کو رخصت ہوئے نصف صدی ہونے کو آئی، پاکستان کے

Read more

دودھ والی گاڑی گزر چکی

اپنے ملک کی تحقیر کا خیال بھی کسی ذمہ دار شہری کو زیب نہیں دیتا۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں ادیب اور فنکار اپنے بندوبست حکومت اور طرز معاشرت پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنی زمین سے دشمنی نہیں ہوتا بلکہ اپنی دھرتی کو مزید روشن کرنا ہوتا ہے۔ اپنے لوگوں کے لئے خوشی، انصاف، تخلیقی صلاحیت اور پیداواری توانائی کا خواب دیکھنا ہوتا ہے۔ 67 برس کی عمر میں پاسٹرناک کا ناول ڈاکٹر ژواگو

Read more

سیاست میں گالی کیسے داخل ہوئی؟

آپ تو جانتے ہیں کہ بات مشاہدہ حق ہی کی کیوں نہ ہو، گو سب کو بادہ و ساغر بہم نہیں بھی ہو، اردو شعر و ادب سے چراغ شب حزیں روشن کرنے کے قرینے سے اغماض کم سے کم ہم سے نہیں ہو گا۔ اب دیکھیے گالی گفتار کا موسم ہے، مرد و زن، پیر و جوان، بدنام اور گمنام سب بد زبانی کے جوہر دکھا رہے ہیں، علم مسہری کی تفصیلات میں اپنے درک کا نقارہ سر بازار

Read more

کیا نواز شریف کی نا اہلی کے خاتمے کی ابتدا ہو گئی؟

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم سے نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر ترین کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا۔ قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی کرلی گئی جو ماضی کی سزاؤں کو ایک بار چیلنج کرنے کے لیے ہے۔ سزاؤں کے خلاف اپیل کے لئے ایک ماہ کا وقت ملے گا۔ اس ترمیم کی حمایت پیپلز پارٹی نے بھی کر دی۔ With respect, the Chief

Read more

شفاف قیادت اور نچلی سطح پر اتفاقیہ نا انصافی

ہم بندگان خاکی آمریت کو دار و گیر، عقوبت خانوں، قتل و غارت، اداروں کی بے توقیری، ناجائز رسوخ کی دراز دستی اور عوام کی بے دست و پائی جیسے حوالوں سے جانتے ہیں۔ آمریت میں انسانوں کا تخلیقی اور پیداواری امکان مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس سے بڑی نا انصافی یہ کہ بہترین انسانوں کی نادرہ روزگار صلاحیتیں علم، تخلیق اور تعمیر کی بجائے آمریت کی سنگین دیوار سے لڑائی میں ضائع ہو جاتی ہیں۔ بیسویں صدی کا پہلا

Read more

 23 مارچ: کومل اور تیور سروں کی تاریخ

برادر بزرگ کی تجویز ہے کہ 23 مارچ کی تاریخی اہمیت پر خامہ فرسائی کی جائے۔ بہت بہتر حضور! تعمیل فرمان سے سرتابی کی مجال نہیں لیکن ایک الجھن ہے۔ 23 مارچ تو ہر برس آتا ہے اور اس موسم میں آتا ہے جب دن اور رات قریب قریب برابر ہوتے ہیں۔ ادھر اردو محاورے کے مطابق کبھی کے دن بڑے، کبھی کی راتیں۔ ہماری تاریخ میں بھی 23 مارچ ایک بار نہیں، بار بار گزرا ہے اور ہر بار

Read more

غلطی بانجھ نہیں ہوتی

منیر نیازی ہر اچھے تخلیق کار کی طرح اٹھتے اور گرتے پردوں کی تیز رفتار آنکھ مچولی میں روپ بہروپ کی حیرت میں ڈال دینے والی تمثیل تھے۔ ان کی لفظیات محبت کی نرم رو ہواﺅں میں جھکورے لیتی ہے، ان کا طرز احساس یاد کی باز آفرینی میں ڈوبی گہری اداسی سے عبارت ہے۔ منیر کی آرزو مندی میں ایک خوبصورت شہر کے امکان کی جھلک ہے ۔ اس کے شب و روز کا اشاریہ مرتب کریں تو وارفتگی

Read more

چاند، محبت اور امید سے خالی رات

ہم ایک طوفان کی زد میں آئے گھر کے مکین ہیں۔ نیند آتی ہے مگر جاگ رہے ہیں سرِ خواب۔ لرزتی دیواروں، تیز ہوا کے جھکڑوں میں وقفے وقفے سے سر پیٹتے کواڑوں اور بوسیدہ کڑیوں پر ٹکی چھت کے نیچے شاید یہ رات بھی گزار لی جاتی لیکن آئندہ صبح کے ویرانے کا امکان الگ سے خاک اڑا رہا ہے۔ ہمیں تو ان حالوں پہنچنے کے مکمل حقائق بھی معلوم نہیں، آگے کا منظر کیسے بیان کریں اور یہ

Read more

لاجونتی اور دستور پاکستان کی نصف صدی

بٹوارے کے برسوں میں اردو ادب اپنے نقطہ کمال پر تھا۔ ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور سرحد کے آرپار تبادلہ آبادی جیسے موضوعات سے حساس تخلیق کاروں کا لاتعلق رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ فیض، منٹو، کرشن چندر، بیدی، احمد ندیم قاسمی اور اشفاق احمد، کون تھا جس نے کائناتی سطح کے اس انسانی المیے پر قلم نہیں اٹھایا۔ اس ہنگامے کا ایک نہایت حساس حصہ ان مظلوم عورتوں سے تعلق رکھتا تھا جنہیں فسادات کے دوران اغوا کر لیا

Read more

یہ زمین کرائے پر دستیاب نہیں

شہر کے جنوب میں ٹھکانے کے ایک مقام پر خواجگان کی حویلی ایستادہ ہے۔ اچھے وقتوں میں بنی عمارت کے اونچے دروازے، کشادہ دالان، عقبی صحن، ہوادار کمرے اور چوبی دریچوں سے ترتیب پانے والا نقشہ بتاتا ہے کہ کبھی یہ گھرانہ خوشحال رہا ہو گا۔ یہ مگر گزرے زمانے کے قصے ہیں۔ عمارتیں بنانے والے تہ خاک آسودہ ہیں۔ بعد میں آنے والوں نے کارخانے، دکان اور کھیت کھلیان کے بکھیڑے کو اپنی شان سے فروتر جانا۔ سکول کالج

Read more

عدل کے ایوانوں میں سیاسی دھند

جدید سیاست کی بات 1789 کے انقلاب فرانس سے شروع ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دنیا کا دروازہ کھولنے والے اس اہم سیاسی سنگ میل کی شعوری بنیادیں رکھنے والے فرانس کے کم و بیش تمام اہم فلسفی اور ادیب انقلاب سے چند برس پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ مانٹیسکیو 1755، والٹیئر 1778، روسو 1778 اور دیدرو 1784 میں انتقال کر گئے تھے۔ ان میں مانٹیسکیو فلسفہ قانون میں بھی درک رکھتا تھا۔ عوام کی

Read more

دلی کے امیر زادے اور فقیروں کی کمائی

دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو جرمن افواج یکے بعد دیگرے مغربی یورپ کے ممالک فتح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں۔ یہ واضح تھا کہ نازی عفریت سے آزادی کے لیے اٹلی اور فرانس کے راستے یورپ پر حملہ آور ہونا پڑے گا۔ میدان جنگ میں جان کی بازی لگانے والے فوجیوں اور عوام کو شاید خبر نہیں تھی لیکن ہارورڈ یونیورسٹی میں کچھ اساتذہ کو یہ فکر بھی لاحق تھی کہ اٹلی اور فرانس میں فنون عالیہ، نوادرات

Read more

باغبانی اور تنویر جہاں سے نظریاتی اختلاف

بہت دن ہوئے، گھر کے مختصر سبز قطعے کی ترتیب پر تنویر جہاں سے اختلاف ہو گیا تھا۔ مجھے ان گھڑ پتھروں کی بے ترتیب ٹیکری بنانے میں چند در چند خدشات تھے۔ بے اختیار فریق کے تحفظات حسب معمول مسترد کر دیے گئے۔ خاموش ہو رہا۔ کچھ عرصے بعد جب ناقابل رسائی منطقے سے ضرر رساں حشرات الارض برآمد ہونا شروع ہوئے تو یہ روکری (Rockery) کسی رسمی اعلان کے بغیر ختم کر دی گئی۔ جمہوریت کا بنیادی مفروضہ

Read more

بالشتیا ذہن کی بلبلاہٹ

رت بدل رہی ہے، موسم بدلنے کا کہیں کوئی اشارہ نہیں۔ اٹھارہویں صدی میں رفیع سودا دود مان چغتائی کے دور انتزاع میں بھی ساکنان کنج قفس کے لئے کم از کم امید کا ایسا کنایہ تو رکھتے تھے کہ صبح کو صبا سوئے گلزار جائے گی۔ ہمارے فیض صاحب اسکندر مرزا اور ایوب خان کے بچھائے دام میں زندانی ہوئے تو غنچہ و گل، حبیب عنبر دست اور مے گلگوں سے محرومی کے عالم میں بھی گویا زیر لب

Read more

محل سرا خاموش مگر قبریں بولتی ہیں

ہمارے ملک میں شرمناک انکشافات کا موسم ہے۔ انکشاف مگر گزرے دنوں اور سابق اقتدار کے غبار میں اوجھل ہونے والوں کے بارے میں ہیں۔ اب کیا ہو رہا ہے؟ کوئی نہیں بتا رہا اور بتائے گا بھی نہیں۔ 25 فروری 1956 کو بیسویں کمیونسٹ کانگرس میں خروشچیف کی نام نہاد ’خفیہ تقریر‘ سے پہلے کوئی سٹالن کے 30 سالہ اقتدار کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔ کچھ برس بعد کسی میں خروشچیف سے سوال کرنے کا یارا بھی

Read more

آدھی بھوک اور پوری گالیاں

یادداشت کی تختی پر جگہ جگہ کچھ نقش مٹنے لگے ہیں۔ چہرہ جگمگاتا ہے تو نام بجھ جاتا ہے، واقعہ یاد آئے تو سنہ اور مقام خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ بڑھوتری کی منزل پر ایسا ہونا غیرمعمولی نہیں لیکن آپ کے نیاز مند کے لئے یہ مرحلہ بھی کچھ تیز قدمی سے آن پہنچا۔ خیر، گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا۔ اور وہ جو ’اک حسرت تعمیر‘ کا قصہ تھا، وہ بھی اب آنے والوں

Read more

75 برس پرانی عمارت کی دیوار پھلانگنے والے

انسانی قافلے پر ایک نظر ڈالیے۔ پہلی صف میں متخلیہ سے متصف فنکار ہوتے ہیں۔ خیام، ڈاﺅنچی، موزارٹ، دستوئیوفسکی سے لے کر کافکا، پکاسو اور لینورڈ برنسٹائن تک ایک قافلہ سخت جان ہے جہاں انسانی ذہن کی رسائی مقتدی ہجوم سے بہت آگے نظر آتی ہے۔ دوسری صف میں فنکار نے جو حدود دریافت کر رکھی ہیں، انہیں منضبط اصولوں سے مطابقت پیدا کرنے والے انسانوں کی صف ہے۔ یہ سماجی اور فطری علوم کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھائے

Read more

سیاستدان اور بلھے شاہ مرا نہیں کرتے

یاد کی باز آفرینی کا موسم آن پہنچا ہے۔ گزری صدی کی کسی غیرمتعین رات میں ایک نادانستہ حادثے سے جنم لینے والے سفر کا بڑا حصہ کٹ چکا۔ زندگی کا احسان ہے کہ اس نے بن مانگے اپنا آپا دکھایا۔ خوشی کے رنگ دیکھے۔ موسموں کے بھید پائے، سبز پتوں سے لدی تہ در تہ شاخوں سے گزرتی ہواؤں کی سمپورن سرگم سے سرشار ہوئے۔ تیز رفتار آبی دھاروں کے بیچوں بیچ دوستی کے استوار پتھروں پر پاؤں دھرتے

Read more

کیا بھارت میں قرار داد مقاصد منظور ہوئی؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد منظور کی۔ یہ قرار داد پنڈت جواہر لال نہرو نے 13 دسمبر 1946ء کو پیش کی اور چھ ہفتے کے بحث مباحثے کے بعد 22 جنوری 1947ء کو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس وقت پاکستان قائم نہیں ہوا تھا۔ مسلم لیگ کے 73 ارکان دستور ساز اسمبلی کا حصہ تھے تاہم انہوں نے اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ آئیے ہندوستان کی

Read more

ہمارے نوجوان پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہتے؟

کچھ روز ہوئے، آپ کے نیاز مند نے عرض کی تھی کہ اس نے جوانی میں پاکستان کیوں نہیں چھوڑا اور اب بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اخبار کا صفحہ ذاتی مکتوب نہیں ہوتا نیز یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ممکنہ حد تک متنازع نکات سے گریز کیا جائے۔ اس احتیاط سے مراد سچائی کی پردہ پوشی یا جھوٹ بولنا نہیں بلکہ کسی ممکنہ دل آزاری سے گریز ہوتا ہے۔ اب مگر کچھ ایسی صورت حال آن پڑی ہے

Read more

دل مضطر اور ہماری معاشی نادانیاں

اندھیری رات میں بجلی کی لپک لمحے بھر کو منظر روشن کرتی ہے مگر اسے دن کا اجالا تو نہیں کہہ سکتے۔ درد مند ذہن امید اور نا امیدی کی دبدھا میں یوں گرفتار ہیں جیسے دن اور رات کے آنے جانے میں زنجیر کی کڑیوں ایسا اٹوٹ تعلق۔ نا امید ہوں تو جینے کا جواز کیا باقی رہے گا اور امید کی کرن ڈھونڈنے نکلیں تو سیاسی قیادت کی زنبیل میں مغلظات بھری جملے بازی، عدالتی چک پھیریوں اور

Read more

ادھوری تاریخ کا کارخانہ اور ناکارہ مصنوعات

چوہدری نثار علی خان ہماری سیاسی تاریخ کا طرفہ کردار ہیں۔ ایچی سن کالج سے تعلیم پانے والے 68 سالہ چوہدری نثار 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے۔ مئی 2018 تک مسلسل آٹھ بار قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ کم از کم پانچ مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ جولائی 2018 کے انتخاب میں قومی نشست پر شکست کھائی لیکن صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے کے باوجود 26 مئی 2021 تک پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا

Read more

میں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

آج قلم میں اعتراف کی بوند ہنگامہ آرا ہے۔ فیض صاحب نے فرمایا تھا، ’آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے‘ ۔ ہماری روایت میں میرؔ صاحب بہت بڑے آدمی گزرے ہیں۔ اردو شعر میں کمال ہنر، نزاکت احساس اور کائناتی شعور کے امتزاج کا معجزہ میرؔ ہی کے حصے میں آیا۔ انہیں خود رائی اور طنازی زیب دیتی تھی۔ تجھے میرؔ سمجھا ہے کم یاں کسو نے۔ ہم خاک نشینوں کو یہ درجہ نصیب نہیں ہوا۔ البتہ ہمارے حصے

Read more

عمراں خان کی مون واک سیاست

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، پاکستان کے عوام امریکا سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔ اس میں دائیں بازو کے قدامت پسند طبقے اور بائیں بازو کے ترقی پسند طبقے کی تمیز نہیں۔ قدامت پسند پاکستانی امریکا کو اخلاق باختگی اور اسلام دشمنی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ ہمیں شکوہ ہے کہ امریکا نے کشمیر حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد نہیں کی۔ دوسری طرف ترقی پسند پاکستانی امریکا کو عالمی سامراج اور سرمایہ دارانہ استحصال نیز چھوٹی قوموں کے

Read more

بھٹو صاحب نے 93000 جنگی قیدی کیسے رہا کروائے؟

2 اور 3 جون 1947 ءکی درمیانی شب محمد علی جناح نامی ایک سیاست دان نے وائسرائے ہاﺅس دہلی میں ماﺅنٹ بیٹن سے مذاکرات کی میز پر پاکستان کی آزادی حاصل کی تھی۔ 24 برس بعد ایک فوجی حکمران یحییٰ خان نے اپنی غاصبانہ حکومت کی طوالت کے لالچ میں آدھے سے زیادہ ملک گنوا دیا۔ 13 سالہ آمریت کے اختتام پر 13 روزہ جنگ کے نتیجے میں 57320 مربع میل پر محیط مشرقی پاکستان جاتا رہا اور 93000 پاکستانی

Read more

اسلم ملک ریٹائر ہو گئے

اگر ایک سرکاری اہلکار کی ریٹائرمنٹ مع خطیر پنشن اور بے پناہ پرکشش مراعات ایسی خبر بن سکتی ہے کہ 23 کروڑ عوام کی روزمرہ زندگی صاحب بہادر کی سبکدوشی یا ممکنہ توسیع نیز مسائل جانشینی کی پاڑ سے بندھ جائے، افواہوں کی دھند نو لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر اس طرح چھا جائے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے، سازشوں کے پیچ در پیچ سلسلوں پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جائیں، ملک کے آئین میں ترمیم کی

Read more

کرائے کا تانگہ اور ہانکے کی سواریاں

پارلیمانی جمہوریت میں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کو معمول کی سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ برس 9 اور 10 اپریل کی درمیانی رات عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پہلے اور بعد ملک ایک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ڈالر کی قیمت 227 روپے اور افراط زر 24.5 فیصد ہے۔ مہنگائی کی شرح 35 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان کے بیرونی قرضے

Read more

پیسہ اخبار سٹریٹ سے بازار صحافت تک

پشاور سے کلکتہ تک 1500 میل لمبی جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی کے وسط میں تعمیر کرائی تھی۔ اس شاہراہ پر وزیر آباد سے لاہور کا فاصلہ نوے میل سے زیادہ نہیں لیکن اس مختصر سے منطقے نے اردو صحافت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیرآباد کے مولوی محبوب عالم نے 1887ءمیں ہفت روزہ پیسہ اخبار جاری کیا۔ بیسویں صدی میں لاہور منتقل ہو کر اسے روز نامہ اخبار کی شکل دی۔ پیسہ اخبار کی مقبولیت کا

Read more

24 کروڑ کردار مصنف کی تلاش میں

سویرے کے جھٹپٹے میں سفر آغاز کیا تو گفتہ غالب توشہ آرزو تھا۔ ’کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ‘۔ اب شام اس طور ہو رہی ہے کہ میر کی حیرت بار دوش ہے، ’جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں‘۔ گزرے برس کی آخری رات رائیگانی اور خسارے کی بے قراری سے عبارت تھی۔ سرسید احمد خان کی نثر کا ایک ٹکڑا خدا معلوم کہاں سے یاد آ گیا۔ ’برس کی اخیر رات کو ایک بڈھا اندھیرے

Read more

آمریت ادیب سے کیوں ڈرتی ہے؟

پاکستان پر عظیم عسکری رہنما ایوب خان کے نزول کی تفصیلات خاصی عجیب و غریب ہیں۔ جنوری 1951 میں پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مقرر ہونے سے قبل ایوب خان مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نا اہل سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہیں برما کے محاذ پر 1945 میں ’میدان جنگ میں بزدلی‘ دکھانے پر کمان سے ہٹا کر معطل کیا جا چکا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد عبدالرب نشتر کی رپورٹ پر قائداعظم محمد علی جناح نے ایوب خان

Read more

رندان قدح خوار پھر جیت گئے

دسمبر کے آخری دن آن لگے۔ مٹھیوں سے پھسلتی لمحوں کی ریت کے لئے زیاں کی چبھن تو اب واقعہ نہیں، طبیعت ہو چلی ہے۔ کیوں نہ ہو، ہمیں تاریخ انسانی کا ایسا زرخیز منطقہ میسر آیا جس میں دنیا نے منزلوں پر منزلیں سر کیں۔ جولائی 1969 میں چاند پر قدم رکھنا تو محض ایک استعارہ تھا جسے نیل آرمسٹرانگ نے ’فرد کا چھوٹا سا قدم اور انسانیت کی عظیم جست‘ کی آفاقیت بخش دی۔ اس سے کہیں اہم

Read more

میں نے حب الوطنی سیکھ لی

میرے کچھ مہربان دوستوں کو شدید اعتراض ہے کہ ہر وقت اپنے وطن پر تنقید کرتا ہوں۔ کچھ دوست تو میری عدم موجودگی میں مجھے یوگنڈا ، منگولیا ، یوراگوئے اور قبرص وغیرہ جیسی عالمی طاقتوں کا درپردہ ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ پاکستان پر اندھا دھند تنقید کرنے سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے۔ سرمایہ کار ہمارے ملک کا نام سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ دنیاوی عیش و عشرت کے

Read more

پگڈنڈی شاہراہ نہیں ہوتی

ابوالکلام آزاد کے نیک ذکر سے بات شروع کرتے ہیں۔ قصے کا اختتام تو بہرصورت لدھیانہ کے لندن پلٹ سردار جی کی واردات ہی پر ہو گا جس کی تفصیل پنجابی احباب خوب جانتے ہیں اور اگر کچھ تسمہ لگا رہ گیا تھا، وہ حالیہ سیاست میں آڈیو ویڈیو ٹکڑوں کی بدولت ایک پوری نسل کے رگ و پے میں اتر گیا۔ معلوم ہوا کہ قومی مہربان پون صدی سے قوم کے ساتھ جو کوکا پنتھی فرما رہے تھے، آج

Read more

فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے

کان کو ہاتھ لگا کر کہتا ہوں کہ کالم کے عنوان میں فیض نامی جس شخص کا ذکر آیا ہے اس کا تحصیل چکوال کے گاؤں منگوال سے کوئی تعلق نہیں۔ خطہ پوٹھوہار کی اس مردم خیز دھرتی منگوال کو محکمہ مال کے شہرہ آفاق تحصیلدار نجف حمید جیسی اعلیٰ انتظامی شخصیت کا وطن مالوف ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ہمارا ممدوح فیض احمد خان المتخلص بہ فیض تو نارووال کے ایک گمنام گاؤں کالا قادر کا جاٹ تھا۔ اس

Read more

فصیل دہشت سے ہاتھ بھر فاصلہ

جون 1959 کا بھوبل مہینہ تھا۔ یوں تو بکرمی مہینہ اساڑھ آسمان سے برستی آگ، لو کے تند خو تھپیڑوں اور بگولوں کا استعارہ ہوتا ہے مگر چھ دہائیاں پہلے یہ مہینہ منقسم پنجاب کی سرحد کی دونوں طرف آباد زخم زخم روحوں کے لئے ٹھنڈک کا پیغام لایا تھا۔ تقسیم کو بارہ برس گزر چکے تھے، لکیر کے دونوں طرف ابھی لہو رنگ یادوں سے دکھ رس رہا تھا۔ ایسے میں امرتسر سے لاہور آنے والے کہانی کار اور

Read more

ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

بادشاہوں کی دنیا ہم ایسے درویشوں کی جہان فانی میں آمد و رفت سے مختلف ہے۔ مجید امجد نے کہا تھا۔ ’میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے / میں کل ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا‘۔ بادشاہ لوگوں کا جلوس شاہی مبارک سلامت کی ہما ہمی میں برآمد ہوتا ہے۔ کچھ برس بعد سفر آخرت کا لمحہ آن پہنچتا ہے۔ پھر ایک نیا عہد شروع ہوتا ہے۔ پرانے زمانے کے قصے کہانیاں برآمد ہوتے ہیں۔

Read more

یاسر پیرزادہ کے اتباع میں

ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامن دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر ایک معجزہ یہاں گزرا ہے مگر صاحبو میرؔ سا کوئی کیا ہو گا۔ انیسویں صدی اٹھا کر دیکھیے، رام موہن رائے، اسداللہ غالب، لالہ دین

Read more

بے خبر صحافی کے غیر سیاسی خیالات

وطن عزیز میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کاروبار کی دنیا میں گرمی بازار کا یہ عالم ہے کہ دکاندار دھڑا دھڑ نئی تجوریاں خرید رہے ہیں۔ امن و امان کی یہ کیفیت ہے کہ قصہ کہانیوں کی وہ عورت پاکستان کا ویزہ لینے کے لئے قطار میں کھڑی ہے جسے کراچی سے پشاور تک بے خوف و خطر سونا اچھالتے ہوئے چلے جانا ہے کیونکہ اس نے ن م راشد کو پڑھ رکھا ہے اور جانتی ہے کہ

Read more

سراور دھڑ کی رکھوالی کے قصے

عین اس لمحے جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، راولپنڈی میں فوجی کمان کی چھڑی ہاتھ بدل رہی ہے۔ یہ مرحلہ ہم نے بارہا دیکھ رکھا ہے اور ہر مرتبہ ایک نئے رنگ میں۔ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ نئے کماندار کی تعیناتی سے قبل ایک ہزار میل کے فاصلے پر دومختلف تقریبات میں دستخط ہونے کی شرمساری اٹھانا پڑی۔ پہلی تقریب رمنا ریس کورس ڈھاکہ میں ہوئی اور چار روز بعد دوسری تقریب اسلام آباد کے

Read more

پراجیکٹ عمران: وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

نومبر کا آخری ہفتہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پوری قوم قریب ایک برس سے مسلح افواج میں چوٹی کے عہدوں پر نئی تقرریوں کے ہیجان میں مبتلا تھی۔ معمول کے ایک انتظامی اقدام پر ایسی اٹھا پٹخ اور کھینچا تانی بذات خود دنیا میں ہمارے قومی وقار کے لئے نقصان دہ تھی۔ خیر گزری کہ گزشتہ ایک ہفتے میں گویا ہمیں انتشار کے کنارے سے واپس کھینچ لیا گیا۔ 23 نومبر کو یوم شہدا کی تقریب میں فوج کے سربراہ

Read more

24 نومبر: ترکماں حجرت ِاکبر آئیو

زوال بادل کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت نمودار نہیں ہوتا۔ افق پر چاروں طرف غبار کی ایک تہ نظر آتی ہے جو آہستہ آہستہ سیاہ دبیز چادر کی طرح ہر سمت پھیل جاتی ہے۔ زوال زندگی کے ہر شعبے میں گراوٹ اور رسوائی کا ہمہ جہتی مظہر ہے۔ سیاسی مکالمہ ہو یا معیشت کے رنگ، صحافت کی ساکھ ہو یا درس گاہ کے آداب، گلی کوچوں کا طرز گفتار ہو یا مشترک اخلاقی اقدار، زوال، لمحہ افسوس کا ایسا

Read more

برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس (2)

اردو پڑھنے والوں میں کوئی کم نصیب ہو گا جس نے مشتاق احمد یوسفی کی تصنیف ’آب گم‘ نہ پڑھ رکھی ہو۔ بہتیرے ایسے ہیں جنہیں یہ ’ماورائے صنف‘ کتاب حفظ ہے۔ کہنے کو اردو مزاح کے درجات بلند کئے ہیں، حقیقت میں ایک تہذیب کے داغوں کی بہار مصور کی ہے۔ مزاح اپنے اعلیٰ ترین درجے پر لفظی الٹ پھیر، منظر کے مضحک اور کردار کی ہیت کذائی سے قہقہہ برآمد کرنے کا نام نہیں، بلکہ صورت حال کے

Read more

برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس

اٹھارہویں صدی میں اہل یورپ کی آمد سے پہلے ہندوستان ایک اقلیم تھا۔ حملہ آوروں کی مسلسل یلغار اور داخلی جنگ و جدل سے سکڑتی پھیلتی مغل سلطنت کی مجموعی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 24.4 فیصد تھی۔ نئی دنیا یعنی امریکہ کے وسائل کا استحصال کرنے، غلاموں کی تجارت اور ابتدائی صنعتی ایجادات کے باوجود 1700ء میں پورے یورپ کی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 23.3 فیصد تھی۔ 1947ء میں انگریز رخصت ہوا تو عالمی معیشت میں ہندوستان کا

Read more

خلا میں تیرتے 23 کروڑ بے وزن اجسام

نومبر کا نصف آن پہنچا۔ آئندہ دو ہفتوں کی ٹھیک ٹھیک پیش بینی ممکن نہیں ۔ قیاس کے گھوڑے دوڑانے والے البتہ بہت ہیں۔ اگر کوئی اس جم غفیر سے نکل کر قیافہ آرائیوں کی دھول پر غور کرے تو کیا مضائقہ ہے۔ آئیے، پندرہویں صدی کے ڈچ مصور ہائیرونیمس بوش (Hieronymus Bosch) اور بیسویں صدی کے سلواڈور ڈالی (Salvador Dali) کی باتیں کرتے ہیں۔ ان دو مصوروں میں ممکنہ نکتہ اشتراک کا نصابی جواب تو یہ ہے کہ ڈالی

Read more