افتاد کی افواہ اور لہو کی ایک بوند

ہوائیں سنگ دل ہیں، شاخوں پر کوئی پتہ سبز نہیں رہا، باغ میں زردی کھنڈ گئی ہے۔ ایسی خزاں کہ کھلیانوں میں کھڑی فصلوں کو ٹڈی دل نے آ لیا۔ گلیاں اجڑ گئی ہیں، بازار نخاس میں مندے کی ہولناک خاموشی ہے، گھروں کے چراغ بے نور ہیں، سہاگنوں کے دوپٹے میلے ہو گئے ہیں۔…

Read more

جمہوری حکمرانی اور میعادی سرکار کے دوراہے پر

نومبر 2019 کا پہلا دن ہے۔ عمر رواں نے اک جھٹکا سا کھایا، اور اک سال گیا۔ اس برس کے جھٹکوں کی کیا پوچھتے ہیں۔ دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ 14 مئی 2006 ء کو ملک کی جمہوری قوتوں میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس سے زیرزمین قوتوں میں بنیادی تناؤ ایک جوہری تبدیلی…

Read more

ماں، سیاست دان اور قلم ریٹائر نہیں ہوتے

درد اور انبساط کی حدیں جہاں ملتی ہیں، وہاں گیان جنم لیتا ہے۔ عورت اذیت کی آزمائش سے گزر کر ماں کے درجے کو پہنچتی ہے۔ ماں ہونا محض ایک حیاتیاتی فعل نہیں، یہ رشتہ جذبے، شعور اور پیچ در پیچ تعلق کی باریک نسوں کا ایک جال ہے جسے بازار کی بھیڑ میں پہچانا…

Read more

ڈیلفی کے شہید دیوتا اور کاٹھ کے گھڑ سوار

ہم محبت اور موت کے دوراہے پر ہیں۔ اسکرپٹ اور واقعے کی منجدھار میں ہیں۔ سفر کی حکمت اور مہم جوئی کے جنون کی کشمکش فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خواب اور منصوبے کے اس بحران میں تجزیے کے نصابی آلات کام نہیں دیتے کیونکہ کتاب طاق میں رکھ دی گئی ہے…

Read more

راجہ صاحب شرط ہار گئے

بات یہ ہے کہ راجہ صاحب کو اپنی عزت کا بہت خیال رہتا ہے۔ کرپشن سے بوجوہ دور رہتے ہیں۔ جو شخص دوستوں کے ساتھ گھنٹوں خوش گپیاں کرے، خوش ذائقہ خوراک کی تلاش میں شہر کے دوسرے سرے تک پہنچے، بھلے دوپہر کا کھانا شام ڈھلے نصیب ہو۔ ایسا شخص کرپشن نہیں کرسکتا۔ کچھ…

Read more

طاقت کے شجرے میں فی کیسے آتی ہے؟

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ درویش لاہوتی ایک دوست سے مل کر پنج ستارہ ہوٹل کی لفٹ سے نیچے اتر رہا تھا۔ کانچ کا شفاف عمودی کابک زمیں تک پہنچا تو عین سامنے وہ صاحب کھڑے تھے۔ ارے وہی جن کے بارے میں گزشتہ برس 26 جنوری کو سپریم کورٹ کو بتایا گیا…

Read more

صحافت کی شب فتنہ اور الہ دین کے چراغ

علامہ اقبال نے کیا زمانہ اور کیا مقام پایا۔ تیز بیں، پختہ کار اور سخت کوش انسانوں کی وادی لولاب کشمیر سے خمیر اٹھا تھا۔ جموں سے ملحقہ شمال وسطی پنجاب کے قصبے سیالکوٹ میں آنکھ کھولی تو ہندوستان پر غیر ملکی استعمار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ چھ عشرے بعد اس درویش صفت…

Read more

مجھے سیکولر ازم کیوں پسند ہے؟

انسانی معاشرے کو منظم کرنے کے لیے تاریخ میں مختلف ریاستی نظام اختیارکیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی کسی خاص خاندان کو حقِ حکمرانی بخشا جاتا تھا، کبھی کسی مخصوص نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کو حقِ حکمرانی ودیعت کیا جاتا تھا اور کہیں کسی خاص عقیدے کے پیشوا منصبِ حکمرانی کے اہل قرار…

Read more