مولانا فضل الرحمن کا انتہائی خطرناک بیان

22 جون کو ایپکس کمیٹی نے ملک کے شمال اور جنوب میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا۔ 25 جون کو وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی منظوری دے دی۔ اس کے فوراً بعد پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام سمیت کچھ قوم پرست جماعتوں اور گروہوں نے خیبر پختونخوا میں جرگے شروع کر دیے۔ اسد قیصر کی موجودگی اور عمران خان کی رہائی کے مطالبہ سے اس سیاسی تحرک کی

Read more

میرا داغستان اور عزم استحکام

اتوار کے روز خبر آئی کہ روس کی جنوبی سرحد پر واقع علاقے داغستان کے دو شہروں میں دہشت گردوں نے مسیحی اور یہودی عبادت گاہوں پر مربوط حملے کیے ہیں۔ آخری اطلاعات تک مرنے والوں کی تعداد بیس ہو چکی ہے جن میں ایک پادری سمیت پولیس اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ چھ دہشت گرد بھی مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ روس میں دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ دنیا بھر کے نیوز نیٹ

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (7)

مطالبہ پاکستان کے محرکات اور مقاصد کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کے ارشادات کا بیان ابھی ختم نہیں ہوا۔ تاہم کچھ دستوری نکات وضاحت طلب ہیں۔ علم سیاسیات کا معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ ایک سیکولر حکومت جمہوری بھی ہو سکتی ہے اور غیر جمہوری بھی۔ تاہم ایک جمہوری حکومت کے لیے سیکولر بندوبست لازم ہے۔ سیکولرازم کے دو بنیادی مفروضات ہیں۔ (1) سیکولرازم میں پیشوائیت اور سیاست میں علیحدگی کا اصول 1648 کے معاہدہ ویسٹ

Read more

خدا نے دانیال طریر کی نظم کیوں نہیں پڑھی؟

مختار صدیقی نے لکھا، ’عشق کا نام نشان مٹائے کیسے کارگزاروں کا‘۔ سوال یہ ہے کہ عشق کے ہاتھوں مٹنا بھی کسے نصیب ہوتا ہے۔ کوئی عامی ہو یا نامور، ہست کی گرم بازاری سے نیست کی بے معنی خامشی تک باد فنا کا بے آواز اشارہ ہی کافی ہے۔ فلک کی پہنائیوں میں سرگرداں ان گنت ستاروں میں کون جل اٹھا، کب جل بجھا، کسے خبر ہوتی ہے۔ مختار صدیقی نے عشق کا نشان مٹنے کا شکوہ کیا تھا

Read more

قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی (6)

رواں برس 16 مارچ کو ایک کالم میں بر سبیل تذکرہ قرار داد مقاصد، لیاقت علی خان اور شبیر احمد عثمانی پر بھی ایک آدھ جملہ چلا آیا۔ اس پر برادرم مجیب الرحمن شامی نے اپنا اختلافی موقف رکھا۔ ایں جانب سے بھی کچھ مودبانہ عرض معروض کی گئی۔ اس پر اطراف و اکناف سے بلند ہونے والے غلغلے سے یوں محسوس ہوا گویا گیاہ سوختنی کے ڈھیر پر چنگاری گر گئی ہے۔ اس طرح اپنی خامشی گونجی / گویا

Read more

نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے

’آواز دوست‘ میں مختار مسعود نے لکھا، ’بڑے آدمی انعام کے طور پر دیے اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں‘۔ قیام پاکستان کے بعد حمید احمد خان، شیخ منظور الٰہی، مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر آفتاب احمد اور مختار مسعود کی نثر اس روایت کی توسیع تھی جس کی بنیاد 19ویں صدی میں غالب نے رکھی۔ مختار مسعود کا یہ جملہ بھی تخلیقی صناعی کا عمدہ نمونہ ہے اگرچہ اپنے پیچھے سوال چھوڑ گیا۔ انعام دینے والی مسندِ

Read more

حبس دوام بعبور دریائے خاموشی

نوآبادیاتی حکمرانوں نے حبس دوام بعبور دریائے شور کے عنوان سے عقوبت کی ایک صورت حریت کے ان متوالوں کے لیے خا ص کر رکھی تھی جو غیر ملکی تسلط کی اطاعت سے زبان، قلم اور تلوار کے ذریعے مزاحمت کرتے تھے۔ اس سزا سے متصف ہونے والے قیدیوں کو بحیرہ ہند اور بحیرہ بنگال کے اتصال پر جزائر انڈیمان نکوبار بھیج دیا جاتا تھا۔ جس صعوبت کو علامہ فضل حق خیر آبادی، شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا

Read more

کچھ عشق کسی کی ذات نہیں

برادرم سہیل وڑائچ کا اشہب قلم ان دنوں میدان وغا میں اپنے جوہر دکھا رہا ہے۔ صحافت کی ٹمٹماتی لو کو دونوں ہاتھوں سے حصار کئے بیٹھے ہیں۔ حالیہ کالم میں تین بہادر سیاسی رہنماﺅ ں، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری اور میاں محمود الرشید کا ذکر اس موثر انداز میں کیا کہ مجھ نوحہ گر کو جارج ایلیٹ کے ناول Mill on the Floss کا کردار Edward Tulliver یاد آ گیا۔ ایڈورڈ ایک سادہ دل انسان ہے جو پھیلتے

Read more

رائے ونڈ کا کھمبا اور سرگودھا کا ’نذیر مسیح‘

3 جون کو لاہور میں دن بھر درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس رہا۔ شام ڈھلے گرد و غبار کے ساتھ درمیانے درجے کی آندھی چلی۔ کچھ چھینٹے بھی پڑے۔ بجلی چلی گئی۔ خیال تھا کہ واپڈا نے حسب معمول بادل کا ٹکڑا دیکھتے ہی احتیاطاً بجلی منقطع کر دی ہو گی۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ نصف شب کے بعد معلوم ہوا کہ رائے ونڈ روڈ پر ایک کھمبا آندھی کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین بوس

Read more

قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی (5)

11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناح کی دستور ساز اسمبلی میں تقریر ان کے چالیس سالہ سیاسی موقف سے الگ نہیں تھی۔ ہیکٹر بولائتھو نے لکھا ہے کہ قائداعظم قیام انگلستان کے دوران تمام شہریوں کے لیے یکساں حقوق کی علمبردار لبرل پارٹی سے متاثر تھے۔ قائداعظم 1892 کے برطانوی عام انتخابات میں لبرل پارٹی کے امیدوار دادا بھائی نورو جی کے سیکرٹری رہے۔ ہندوستانی سیاست میں اپنے ابتدائی دور میں وہ گوپال کرشن گوکھلے، سریندر ناتھ بینرجی

Read more

خواب زلیخا کا طلسم اور دام بردہ فروش

ہمارے عہد میں چار شاعر ایسے گزرے جنہیں خود نمائی ، شہرت ، ادبی گروہ بندیوں اور دنیائے رنگ و بو میں نمود سے غرض نہیں تھی۔ مجید امجد، مختار صدیقی، عزیز حامد مدنی اور محبوب خزاں۔ آج رائے پور کے عزیز حامد مدنی یاد آرہے ہیں۔ 1922 میں پیدا ہونے والے عزیز حامد مدنی نے انگریزی ادبیات میں اعلیٰ تعلیم پائی۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں اطلاعات و نشریات کے صیغے سے وابستہ ہو گئے۔ کنٹرولر آف ہوم براڈ

Read more

The 25th Hour ۔ وجاہت مسعود کا فلمی تبصرہ بھی مسترد ہو گیا

آمریت قوم کی ایسی جامع بے حرمتی ہے جس میں کسی ادارے کا وقار، کسی شہری کا کردار اور کسی اصول کی توقیر قائم نہیں رہتی۔

Read more

گھونسلہ جلانے والے

سعدی شیرازی بھی کیا نادر روزگار ہستی تھے۔ بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مجو / در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما۔ آپ سے تو درویش کا کیف و کم پوشیدہ نہیں۔ فارسی کجا، بندہ تو مادری زبان پنجابی ڈھنگ سے نہیں جانتا۔ اردو کی تحصیل میں پچاس برس گزرے۔ اگلے روز سید شاہد بخاری (روز نامہ جنگ کا اداریہ لکھتے ہیں) نے ایک اردو ترکیب کا تلفظ درست کیا تو احساس تشکر سے آنکھ بھر آئی کہ

Read more

قرارداد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی  (4)

قائداعظم 7 اگست 1947 کو دہلی سے پرواز کر کے کراچی پہنچے۔ قائداعظم کے سرکاری سوانح نگار HECTOR BOLITHO لکھتے ہیں کہ نوزائیدہ مملکت کی تفصیلات پر توجہ کے ساتھ ساتھ جناح اپنی زندگی کی عظیم ترین تقریر لکھ رہے تھے۔ ’وہ گھنٹوں اس تقریر کے مسودے پر کام کرتے رہے جو انہیں 11 اگست کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کرنا تھی‘۔ محترم حامد خان نے بھی ’پاکستان کی دستوری اور سیاسی تاریخ‘ کے صفحہ 60 پر

Read more

ہمارے گناہ عورتیں کیوں ڈھوئیں؟

اچھا خاصا مشاعرہ جم رہا تھا۔ قومی تشکیل میں قرارداد مقاصد کی سبز قدمی کا بیان مقصود تھا۔ شمع ابھی قبلہ شبیر احمد عثمانی کے رخ انور کی بلائیں لے رہی تھی۔ تشبیب کی موج ہوائے واقعہ کے ہلکوروں میں دلیل قائم کر رہی تھی کہ گریز نے یوں دخل اندازی کر کے محفل برہم کر دی جیسے کوئٹہ کے لٹریری فیسٹول میں کسی کندہ ناتراش نے محترمہ ماہرہ خان پر کوئی ’نامعلوم شے‘ اچھال دی۔ درویش اسی کارن اخبار

Read more

قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی (3)

مولانا شبیر احمد عثمانی نے 12 ستمبر 1948 ء کی شام قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ پڑھایا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ایلن کائسلر کے حوالے سے ایک روایت بار بار بیان کی جاتی ہے۔ یہاں مناسب ہو گا کہ ڈاکٹر کائسلر کا کچھ تعارف ہو جائے۔ ڈاکٹر کائسلر جولائی 1947 میں برطانوی ہند کے شمالی شہر ڈیرا ڈون (مسوری) میں امریکی نژاد مشنری والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان چلے آئے۔ یہاں

Read more

جماعت اسلامی، جنرل ضیاالحق اور اسلامی نظام کی ناکامی

حالیہ سیاسی اور جمہوری بحران نے ایک دفعہ پھر سے قومی نصب العین کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ ایک طرف قوم افغانستان کے راستے پلٹنے والی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف داخلی قومی سیاست بحران کا شکار ہے۔ ملک میں جمہوری بندوبست کی آزمائش جاری ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک میں کچھ طاقتور عناصر آئین کی بالادستی اور عوام کی حکمرانی کے مخالف ہیں۔ یہ عناصر جمہوریت کی کمزوریاں گنوا کر

Read more

قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی (2)

محترم مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب 1944 میں حیدر آباد دکن کی مکی جامع مسجد میں پیش امام تھے۔ دہلی پہنچ کر قائد اعظم کی سیاسی قیادت قبول کرنے پر سردار شوکت حیات کی گواہی عرض ہو چکی۔ اس ضمن میں ایک مزید شہادت آپ کی نذر ہے۔ عبیدالرحمن کراچی کے ایک معروف وکیل تھے۔ آبائی خطہ سیتا پور تھا، تعلیم لکھنو میں پائی۔ نوجوانی میں تحریک پاکستان میں سرگرم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین اور محترمہ

Read more

قرار داد مقاصد اور مولانا شبیر احمد عثمانی (1)

درویش نے رواں برس 16 مارچ کو ’تالاب گدلا ہو گیا ہے‘ کے عنوان سے ہماری موجودہ سیاسی بے ترتیبی کے بیان میں برسبیل تذکرہ قرار داد مقاصد، لیاقت علی خان کے علاوہ مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کا ذکر کیا تو برادر بزرگ مجیب الرحمن شامی کو سخت اختلاف ہوا۔ انہوں نے 17 مارچ 2024 کو اپنے کالم میں ’قرار مقاصد پر غصہ؟‘ کے عنوان سے اپنا موقف بیان فرمایا اور پھر اپنے زیر ادارت ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کے

Read more

جلال الدین رومی کی بانسری کیا کہتی ہے؟

واقعہ اور حکایت میں رشتہ اتنا ہی قدیم، پراسرار اور بامعنی چلا آ رہا ہے جتنا صاحب اقتدار کے مفاد اور اہل شہر پر گزرنے والی افتاد میں تعلق رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ مہاتما بدھ نے بھوساگر میں تیرتی مچھلیوں اور جنگل پر اترے پت جھڑ میں گرے پیلے پتوں سے ہاتھ آنے والے حکیمانہ نکات کو جاتکوں کا نام دیا۔ یسوع علیہ السلام نے اپنے پیام کو کتھا کے روپ میں بیان کیا۔ خدائے لایزال نے

Read more

درویش کے دانت نمائشی ہو گئے

تنویر جہاں اور درویش میں تعلق در بارہ اعلان بازار چھتیس برس سے تجاوز کر گیا۔ اب رائے، خیال اور زاویہ نظر میں فاصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے جو پنجند کے مقام پر پنجاب کے پانچ دریاﺅں کے پاٹ کے برابر ہوتا ہے۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حد نظر جواب دے جاتی ہے مگر دریا تو وہی ہیں اور یہ کہ گزشتہ زمینوں پر ہوائے اولیں شام کے بہاﺅ کا تعلق بھی باقی رہتا ہے۔ 21 اپریل

Read more

سید حیدر تقی: وہ یادگارِ کمالاتِ شہر امروہہ (مکمل کالم)

ادارہ جنگ کے انگریزی روزنامے سے 1991 کے ابتدائی مہینوں میں وابستگی ہوئی تھی۔ پاؤں میں ایک چکر تھا، زنجیر نہیں تھی۔ ملک کے حالات دگرگوں تھے۔ حکومتیں آج ہی کی طرح حباب بر آب بلا خیز تھیں۔ کبھی خسروان نادیدہ کے اشارہ ابرو پر زیر و زبر ہو جاتی تھیں تو کبھی دل بے خبر کو درون سینہ کوئی آرزو آ لیتی تھی۔ انگریزی زبان کے محاورے سے محدود آشنائی الگ سے پائے لنگ کے طور آبلہ پا تھی۔

Read more

رحمن اینڈ رحمن: دھوپ کا ٹکڑا اور بادل کی چھائوں

شہر تو سب پیارے ہوتے ہیں، زمین کو آسمان سے ملاتی ہوئی لکیر پر اونچی نیچی مانوس عمارتیں، کہیں برسوں سے خاموش کھڑے پیڑ جن کے نیچے کسی تیز رفتار فلم کے منظر کی طرح بے نیازی سے گزرتے چہرے۔ کہیں ٹھنڈے پانی کے شفاف دھارے، کہیں وسیع شاہراہیں، کہیں بل کھاتی گلیاں، آوازوں سے گونجتے گلیارے، بازاروں میں لین دین کی فکر میں غرق دکاندار۔ مٹی سے پیالے صراحیاں، لکڑی سے سامان راحت اور لوہے سے کارآمد اوزار تراشتے

Read more

چیت کے دکھ کون گن سکتا ہے؟

غالب اچھے رہے، سیدھے سیدھے بتا دیا کہ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار نیز یہ کہ چراغاں کا اہتمام بے معنی ہو چکا کیونکہ کارفرما جل چکا ہے۔ یہ خبر لاہور کی شہری انتظامیہ کو نہیں پہنچی، برسوں سے ان مہینوں میں جشن بہاراں کے عنوان سے جیل روڈ کے ایک پارک نما باغ میں چند اجاڑ دکانیں اور ذوق سے عاری آرائشی نمونے کھڑے کر دیے جاتے ہیں جن میں خوشی کی کم مائیگی یوں

Read more

مولانا مودودی نے قیام پاکستان کے بعد بھی قائد اعظم کی مخالفت کی

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کچھ احباب کا موقف ہے کہ جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کے برعکس جماعت اسلامی مطالبہ پاکستان کی مخالف نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کا موقف تو یہ تھا کہ مسلم لیگ کے پاس وہ مردان کار موجود نہیں ہیں جو اس نصب العین کو حاصل کر سکیں۔ انہی دو نکات پر بات کر لیتے ہیں۔ کیا جماعت اسلامی قیام پاکستان کی حامی تھی؟ دوسرے یہ کہ جن مسلم لیگی رہنماؤں کی بصیرت، اہلیت

Read more

دریائے دل کی روانی اور خوابِ بہارِ جاوداں

میر تقی میر نے کیا دماغ پایا تھا۔ ایک ہی وقت میں فریب وجود کا احاطہ بھی پیش نظر ہے اور موجود کی قدر پیمائی میں بھی آنکھ تہ در تہ جاتی ہے۔ جس زمین میں ’لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں‘ جیسی نقد کہی، اسی میں ’میر و مرزا رفیع و خواجہ میر‘ جیسے لعل و گہر بھی گنوا دیے۔ اندوہ دروں تو اس احساس میں گندھا تھا کہ ’ہے خزاں بھی سراغ میں گل کے‘۔ اگلے روز یار

Read more

ناقہ لیلیٰ، اندھیری رات اور تاریخ کا اندھا موڑ

گزشتہ اظہاریے میں ایک جملہ لکھا کہ ’پاکستان کی ریاست اگست 1991 کے سوویت یونین میں کھڑی ہے۔ سابق ہیئت مقتدرہ اور موجودہ ریاستی بندوبست میں خلیج پیدا ہو چکی ہے‘۔ ملفوف اشارہ تھا مگر پڑھنے والے کی نگہ تیز بین سے خبردار رہنا چاہیے۔ ایک عزیز محترم نے اسی بیان پر انگلی رکھ کر وضاحت مانگ لی۔ معیشت اور سیاسی اختیار کی حرکیات میں چند بنیادی نکات سمجھنا ضروری ہیں۔ جس ریاست میں فیصلہ سازی پر عوام کو اختیار

Read more

شبیر احمد عثمانی۔ خواب اور وصیت کے درمیاں

درویش نے ہماری موجودہ سیاسی بے ترتیبی کے ذکر میں برسبیل تذکرہ قرار داد مقاصد اور لیاقت علی خان کا ذکر کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کا حوالہ دیا تو ایک محترم بھائی کو سخت اختلاف ہوا۔ اپنے رد عمل میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قائداعظم نے وصیت کی تھی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ قائداعظم کی اس وصیت کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ دینے کی البتہ زحمت نہیں

Read more

ہوا کا دباؤ اور دباؤ کی دیگر اقسام

سکول کے ابتدائی درجوں میں سائنس اور ریاضی کے نام پر جو پڑھایا گیا، بالکل یاد نہیں۔ اساتذہ بہت اچھے اور شفیق تھے۔ مشکل یہ تھی کہ وہ خود سائنس اور ریاضی سے نابلد تھے۔ کتاب میں جو لکھا تھا، اسے بار بار دہرانے اور حفظ کروانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ایک جگہ ریاضی کی کتاب میں لکھا تھا، صفر کا تیسرا استعمال۔ قسم لے لیجیے جو آج تک معلوم ہو سکا ہو کہ صفر کے استعمال سے کیا

Read more

پھر برق فروزاں ہے سر مارگلہ کوہسار….

شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائے ابھی چار ہفتے مکمل نہیں ہوئے۔ اس مختصر عرصے میں معیشت، خارجہ امور، قومی سلامتی اور سیاسی منظر پر بہت کچھ بدل گیا ہے۔ نئی حکومت کو فوری طور پر 24 ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا تو طے تھا کہ لیکن آئی ایم ایف ذرائع کے مطابق ابھی تو گزشتہ پروگرام کی 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط کے اجرا کا جائزہ وسط اپریل میں آئی ایم ایف بورڈ

Read more

آوازوں کا رزق اور شہر میں قحط صدا

چالیس برس پہلے 20 نومبر 1984 کو فیض صاحب کا انتقال ہوا تو مجید امجد کے بعد ہمارے غالباً سب سے بڑے اردو نظم گو اختر حسین جعفری نے ایک نہایت دل گداز نوحہ لکھا تھا۔ جعفری صاحب کی ذہنی افتاد ترقی پسند، انصاف پسند اور آمریت دشمن تھی لیکن ان کا شعری سانچہ جدید عالمی شعریات کے اجزا سے مرتب ہوا تھا۔ اردو کے ایک عام قاری کے لئے ان کی تفہیم قدرے مشکل تھی۔ وہ استعاروں، علائم اور

Read more

استاد گرامی مجیب الرحمن شامی کی تادیب

برادر عزیز یاسر پیرزادہ علی الصبح دریافت کرتے ہیں کہ آپ نے استاذ الاساتذہ مجیب الرحمن شامی کا کالم دیکھ لیا۔ کیا عرض کرتا۔ ہمارا اپنا ادارتی صفحہ اب سہیل وڑائچ، سلیم صافی اور حامد میر کے طفیل چھپتا ہے۔ یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا۔ محض یہ جاننے کے لئے دیکھ لیتا ہوں کہ آج کس لفظ پر تیغ احتساب چلی۔ بھائی کے توجہ دلانے پہ استاد گرامی مجیب الرحمن شامی کی تحریر نکال کر پڑھ لی۔

Read more

تالاب گدلا ہو گیا ہے

پچھلا کالم جس روز اخبار میں نمودار ہوا، مارچ کی 12 تاریخ تھی۔ یہ تاریخ ہمارے دل پہ اس طرح نقش ہے جیسے کلے (Calais) کا نقشہ ملکہ میری اول کے دل پہ مرتسم تھا۔ 12 مارچ 1949 کو لیاقت علی مرحوم نے دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد منظور کروائی تھی۔ قابل احترام حامد خان سے گواہی لے لیجئے، کل ملا کے 31 ارکان اسمبلی موجود تھے۔ 21 مسلم اور 10 غیر مسلم۔ تمام مسلم ارکان نے قرارداد کی

Read more

فارسی پنجاب کے کھیتوں میں دوڑائی گئی

قابل اجمیری اگست 1931 میں راجستھان کے قصبہ اجمیر میں پیدا ہوئے۔ بچپن درگاہ خواجہ معین الدین چشتی کے نواح میں گزرا۔ گوش سماعت کی تربیت کا سامان موجود تھا۔ فہم سخن کے مقامات طے کر رہے تھے کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ قابل اجمیری لکیر کے اس طرف حیدر آباد میں آن آباد ہوئے۔۔ شعر کے ہنر کو سینچنے کی جستجو میں اکتوبر1962 میں وجود کی سرحد پار کر گئے۔ چھوٹی بحر میں بہت اچھا شعر نکالتے تھے۔ قابل

Read more

تخت سے عیسیٰ کب اترے گا؟

چھ مارچ 2024، بروز بدھ، پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں آویزاں گھڑی پر صبح کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ ٹھیک 44 برس اور گیارہ ماہ قبل چھ فروری 1979 کے روز اسی عدالت کے ایک سات رکنی بنچ نے چار / تین کے منقسم فیصلے سے نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کی تھی۔ نصف صدی کے اس سفر میں سپریم کورٹ کی عمارت ہی پشاور روڈ

Read more

ہمارے ہنر کا کوئی مول لگانے والا بھی نہیں

ہمارے سیاسی رہنما اور خودساختہ قائدین قوم اٹھتے بیٹھتے ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہمارا بنیادی قومی مسئلہ معیشت ہے۔ بات باون تولے پاؤ رتی درست ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ہماری معیشت کی نوعیت دراصل ہے کیا؟ الحمد للہ آج پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی 1992ء میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ تب معیشت کے ماہر ہمیں بتاتے تھے کہ ہم نے افغانستان کی جنگ جیت لی ہے۔ تاہم یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے

Read more

قوم، ملک، سلطنت: علی عثمان قاسمی کا فرض کفایہ

قیام پاکستان کے فوراً بعد تاریخ نویسی نے بٹوارے کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل کر لی تھی۔ یہ محض زمین پر کھینچی گئی لکیر یا مالی اور عسکری اثاثوں کی تقسیم کا سوال نہیں تھا۔ دونوں نوآزاد ممالک کو ایک ہزار سالہ تاریخ کے ملبے سے اپنی ثقافتی میراث، تمدنی روایت، تاریخی بیانیہ اور مخصوص اجتماعی شناخت بھی برآمد کرنا تھی۔ نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی تحریک، ایک مضبوط سیاسی جماعت اور قدیم تہذیبی میراث جیسے عناصر بھارت کے

Read more

اشتعال کے یرغمالی پناہ مانگتے ہیں

حالیہ انتخابات کے دوران خیبر پختونخوا میں طالبان عناصر کا کردار ایک طرف، 8 فروری 2024ء کے بعد تین اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا زیر خط پیغام ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ چیف جسٹس محترم قاضی فائز عیسیٰ بوجوہ پاکستان تحریک انصاف کے نشانے پہ ہیں۔ حسن معاویہ نامی شہری نے 2022ء میں کسی کو نامزد کئے بغیر درخواست دائر کی کہ 2019 میں حفظ قرآن کے احمدی طالب علموں میں ایک کتاب تقسیم کی گئی تھی۔

Read more

نذیر ناجی: چشم تر سے ادھر اور سمندر کے پار

21 فروری کی شام تھی۔ محترمہ یاسمین حمید کا انٹرویو کرنا تھا۔ لاہور کی نہر پہ جیل روڈ کے انڈر پاس سے گزر رہا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ تنویر جہاں کا نام تھا۔ فون اٹھایا۔ مختصر پیغام تھا ’نذیر ناجی نہیں رہے‘۔ گویا کسی نے بدن کے حساس حصے پر نشتر چبھو دیا ہے۔ آنسو میری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے۔ ایبٹ روڈ پہنچا تو ایک عزیز نے کہا کہ غالباً آپ اس خبر کے بعد آج کا

Read more

مرید پور کا پیر اور جرمن چانسلر کی کہانی

مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری کے مضمون ’مرید پور کا پیر‘ کو ان کا بہترین فن پارہ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ اردو مزاح کی بائبل ’پطرس کے مضامین‘ میں کل گیارہ تحریریں ہیں اور کسی ایک تحریر کو بہترین قرار دینا اعتراف بدذوقی کے مترادف ہے۔ یوں ہے کہ اوائل اپریل میں پڑنے والی اماوس کی کسی رات کے شانت آسمان پر جھرمٹ کی صورت گیارہ ستارے ٹنکے ہیں۔ ایسے مختصر زاد راہ کے ساتھ ادب میں ایسا

Read more

تاریخ کا جبر اور معیشت کی منطق

  برادرم یاسر پیرزادہ نے فکاہیہ کالم سے قلمی سفر شروع کیا تھا۔ علم ان کے شجرے میں ہے۔ بے پناہ ذہانت کو ناقابل یقین محنت سے صیقل کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ چھتنار برگد کے سائے میں سر اٹھانے والے اس پودے نے اپنا ایک رنگ پیدا کیا۔ پھر یوں ہوا کہ وطن عزیز پر دہشت گردی کی آفت اتری۔ سارتر نے کہا تھا کہ بدترین حالات میں فرد کے شخصی انتخاب کی آزادی بلند ترین سطح پر ہوتی

Read more

جمہوریت ایک مسلسل امتحان ہے

عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ درپیش ہے۔ حسب توقع 8 فروری کو ایک منقسم قوم کا منقسم مینڈیٹ سامنے آیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت ملی ہے۔ پنجاب میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ مسلم لیگ نواز سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن نواز شریف کے بیشتر قریبی رفقا شکست کھا گئے ہیں۔ رانا ثنااللہ، سعد رفیق، خرم دستگیر، جاوید لطیف اور شیخ روحیل اصغر کی شکست سیاسی بساط پر میاں نواز

Read more

انتخاب 2024 : آنکھ اور شہر دونوں دھندلا گئے

8 فروری 2024ءبالآخر جمہوریت کی شاہراہ پر دھول اور غبار کے دبیز منطقے چھوڑ گیا ہے۔ ہماری انتخابی تاریخ میں یہ کوئی اچنبھا نہیں۔ دسمبر 70ءکے انتخابات کا نتیجہ ماننے سے انکار کرکے ملک دو لخت کیا گیا تھا۔ 77ءکے انتخابات گیارہ سالہ آمریت کی وعید لائے تھے۔ 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات سے دولت، دھونس، فرقہ واریت اور لسانی تفرقے کی ایسی سیاسی روایت شروع کی گئی جس سے سیاست کا تالاب آلودہ ہو گیا۔ 1988ءکے انتخابات کے عقب میں

Read more

سنہ 1958ء: آٹھ ستمبر سے آٹھ دسمبر تک

آٹھ فروری 2024ء کا سورج طلوع ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔ عنوان میں آٹھ فروری کی بجائے ستمبر اور دسمبر نظر آنے پر آپ کی حیرت بے جا نہیں۔ لکھنے والا دراصل 18 فروری 2008ء سے 8 فروری 2024ء کے بیچ گزرے 16 برس کا آشوب لکھنا چاہتا ہے۔ 18 فروری 2008ء کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج کا پہلے سے طے شدہ نقشہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت سے تلپٹ ہو گیا۔ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے

Read more

آمریت کا کچرا اور جمہوریت کا امکان

گزشتہ تیس برس میں دنیا بھر کے اہل دانش و تحقیق نے وطن عزیز کے بارے میں سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جو منفی زاویہ نہ لیے ہو۔ ایک غریب ملک میں ایسی دلچسپی بذات خود قابل تشویش ہے۔ چند اشاریے دیکھئے۔ آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پچیس کروڑ نفوس آباد ہیں جن کی شرح خواندگی 59 فیصد اور فی کس آمدنی 1470 ڈالر ہے۔ انسانی ترقی کی درجہ بندی

Read more

تعصب کی عمر ایک ہزار برس نہیں ہوتی

22 جنوری 2024 کا دن ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمانوں نیز کروڑوں غیر ہندو بھارتی شہریوں کے لیے اس اذیت کا رسمی پیغام لایا کہ ان کے ملک میں جمہوریت کے نام پر ایک مذہبی اکثریت نے اختیار، فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم پر اجارے کا رسمی اعلان کر دیا ہے۔ بھارت کے دستور میں 1976ءمیں منظور ہونے والی 42 ویں ترمیم آج بھی موجود ہے، جہاں لکھا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں ریاست کا کوئی

Read more

سلمان اکرم راجہ کا حلف اور دست بریدہ

شرمائی، لجائی انتخابی مہم میں زندگی کے کچھ آثار پیدا ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میدان میں ہیں۔ 28 جنوری سے تحریک انصاف بھی انتخابی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کی شاید مختصر ترین انتخابی مہم ہو گی۔ ہماری طویل ترین انتخابی مہم دسمبر 1970ءکے انتخابات میں قریب ایک برس چلائی گئی تھی۔ 70ءکے انتخابات اور فروری 2024ءکے انتخابات میں بہت سے مشترک دھارے موجود ہیں۔ دو خبروں پہ توجہ درکار ہے۔ جہلم

Read more

شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی تعبیر کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے اور نہ اس بارے میں جاننے کی خواہش کو مستحسن گردانا

Read more

چپاتی کا انتخابی نشان

کالم لکھنے بیٹھا تھا کہ ایک برادر عزیز کا فون آ گیا۔ عام طور سے درویش کالم لکھتے ہوئے فون نہیں اٹھاتا۔ موسیقی کے اساتذہ اپنے فن کو ہوا میں گرہ لگانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لکھنے والے کو تو گرہ لگانے کو کرہ ہوائی بھی میسر نہیں ۔ کاسہ سر میں رکھے مٹھی بھر مغز میں بچھی باریک شریانوں میں گندھا یاد، احساس، گزرے ہوئے واقعات اور آنے والی فصلوں کے انتظار کا ایک نادیدہ طلسم ہے۔ لکھنے والے

Read more

ساقی فاروقی کا جھوٹ پکڑا گیا

ہر نسل کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ اسی سچ سے اس عہد میں بسنے والوں کی قامت متعین ہوتی ہے۔ وقت کی گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی دھول میں چہرے، آوازیں نیز خوب اور ناخوب کی میزان کے پلڑے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔ تاریخ کی چادر پر مرجان ٹانکنے والے چیدہ چیدہ ساونت اپنے بعد بھی کچھ عمر پاتے ہیں مگر آخر فنا، آخر فنا۔ آج کتنوں کو یاد ہے کہ کس قبیلے کا کون

Read more

اکبر الہ آبادی کا مضمون اور ایک قرارداد

اکبر آلہ آبادی کی شاعری میں بغاوت اور قدامت پسندی کے اجزا کو الگ الگ کرنا ایسا ہی دشوار ہے جیسا ہماری تاریخ میں آزادی کی جدوجہد اور قدیم بندوبست کے احیا میں فرق کرنا۔ 1857 کی جنگ قابض غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف بغاوت تھی یا مقامی باشندوں کے لئے حق حکمرانی کا حصول؟ اگر ہندوستان کے ساحلوں پر اترنے والے گورے اجنبی تھے تو وسط ایشیا سے نازل ہونے ہونے والے سلطان، مغل اور ابدالی حکمرانوں کا وادی

Read more

اداکارہ دیبا کے چلغوزے اور محفوظ صحافت

بہت وقت گزرا، اس بستی کے اک کوچے میں ابن انشا نام کا ایک دیوانہ رہا کرتا تھا۔عاشق ترا، رسوا ترا، شاعر ترا، انشا ترا۔ رواں جنوری کی گیارہ تاریخ کو اس جاں دادہ ہوائے سر رہ گزار کو اس سفر پر نکلے 46 برس پورے ہو جائیں گے، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ 15 جون 1927 کو جالندھر کی تحصیل پھلور میں پیدا ہونے والے شیر محمد خان کا آبائی تعلق راجستھان سے تھا۔ شمال مغربی ہندوستان کے

Read more

اپنے گریبان میں جھانکنے کے حکم کی تعمیل

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ صاحب نے لاہور میں ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں ان شہریوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے بلوچ بہن بھائیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرنے کی جسارت کی تھی۔ نگران وزیراعظم نے فرمایا کہ یہ 1971 ہے اور نہ اب کوئی بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے علیحدگی پسندوں کو دشمن ممالک کا ایجنٹ قرار

Read more

عقاب صفت سفارت کاری کے نتائج

مکرمی نصرت جاوید اس بندہ کم مایہ ہی کے استاد نہیں، ان گنت پاکستانی صحافیوں کے لئے پیشہ ورانہ مہارت، بے خوف خبر رسانی اور ذہنی دیانت جیسے اصولوں کی استقلال کے ساتھ پاس داری پر روشنی دکھانے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے اخباری کالم کا بالاستیعاب مطالعہ قومی معاملات کی تفہیم کے لئے ایک مسلسل درس کا درجہ رکھتا ہے۔ سفارتی زبان کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مثلاً جس صورت حال کو ایک نوآموز صحافی

Read more

بلوچ مائیں، شرباکوف اور میکسم گورکی

اقتدار کے اختیار اور فرد کی آزادی کی جدلیات سے معاشرے کی سمت متعین ہوتی ہے۔ مجھے ہم وطن بلوچ بھائی بہنوں پر اسلام آباد میں ٹوٹنے والی افتاد پر بات کرنا ہے۔ بیرون ملک زیر تعلیم کامنی مسعود ان بلوچ ماﺅں کے بارے میں بے چین ہو رہی ہے جو 20 دسمبر کی شام تربت سے 1965 کلومیٹر سفر کر کے اسلام آباد پہنچی تھیں۔ جوان اولاد کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ سیاست، ریاست اور جرم کے

Read more

بلوچ مائیں، شرباکوف اور میکسم گورکی

اقتدار کے اختیار اور فرد کی آزادی کی جدلیات سے معاشرے کی سمت متعین ہوتی ہے۔ مجھے ہم وطن بلوچ بھائی بہنوں پر اسلام آباد میں ٹوٹنے والی افتاد پر بات کرنا ہے۔ بیرون ملک زیر تعلیم کامنی مسعود ان بلوچ ماﺅں کے بارے میں بے چین ہو رہی ہے جو 20 دسمبر کی شام تربت سے 1965 کلومیٹر سفر کر کے اسلام آباد پہنچی تھیں۔ جوان اولاد کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ سیاست، ریاست اور جرم کے

Read more

ہمارے بیانیے کا خارجہ ایڈیشن

برادرم یاسر پیرزادہ خوب لکھتے ہیں۔ تاریخ اور معاشرت کی پیچیدہ گتھیاں اس سہولت سے کھولتے چلے جاتے ہیں کہ باید و شاید۔ روز مرہ مشاہدات سے ایسے نادر نکات برآمد کرتے ہیں کہ بے ساختہ خواہش ہوتی ہے کہ اسلام آباد کی کسی بیانیہ ساز یونیورسٹی میں صحافت کے ان پیران فرتوت کے لئے ایک خصوصی ڈپلومہ کورس منعقد کر کے انہیں یاسر پیرزادہ کے کالم بطور لازمی نصاب بالجہر پڑھائے جائیں جو عشروں سے کورے کاغذ کی معصومیت

Read more

احمد سلیم: کلاسیکی مارکسسٹ اور جبر و اختیار کی جدلیات

احمد سلیم طویل علالت کے بعد 11 دسمبر کو رخصت ہو گئے۔ 26 جنوری 1945 کو منڈی بہاؤالدین کے قصبے میانہ گوندل میں پیدا ہونے والے محمد سلیم خواجہ کی زندگی تین نکات سے عبارت رہی، علم کی ایسی لگن جس نے بلامبالغہ سینکڑوں کتابوں، تحقیقی مقالوں اور تراجم کی صورت اردو، پنجابی اور سندھی سمیت پاکستان کے ذخیرہ علم کو ثروت مند کیا۔ وہ جمہوریت پسند مارکسسٹ تھے چنانچہ مزدوروں، عورتوں، مذہبی اقلیتوں اور اختیار کی ایک غیرمنصفانہ تقسیم

Read more

کچھ خبر اور صحافت کے بارے میں

اخبار کی صحافت آخری دموں پر ہے۔ رواں صدی کے آغاز پر نجی ٹیلی ویژن چینلز نے سرکاری نشریات کے ملبے سے برآمد ہونے والی نانک شاہی اینٹوں سے جو عمارت اٹھانا چاہی تھی، وہ عدلیہ بحالی کی تحریک میں کارفرما پس پردہ عناصر کے ہاتھوں منہدم ہو گئی۔ سرکار دربار کے بقراطوں نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے مقابلے میں بے چہرہ سوشل میڈیا کا ایسا سیل بے اماں میداں میں اتارا جس نے ذہن سازی کی کھلی سازش

Read more

جمہوریت کی آزمائش کے دن

اکتوبر 1826 میں غالب کانپور کے راستے لکھنو پہنچے۔ غازی الدین حیدر اودھ کے بادشاہ تھے اور معتمد الدولہ آغا میر ان کے وزیر اعظم۔ شعرا کی سرپرستی کے شائق آغا میر نے غالب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ غالب نے امام بخش ناسخ کے مشورے سے آغا میر کی شان میں قریب سو اشعار کا قصیدہ لکھا مگر آغا میر سے ملاقات کے لئے کچھ شرائط بھی رکھ دیں۔ اقتدار بھی کہیں کمزور کی شرائط مانتا ہے۔ سو

Read more

رائے عامہ کے نام پر رائے مخصوصہ

ایک ہم عصر نے پاکستان میں موجودہ رائے عامہ کے بارے میں کچھ گل افشانی کی ہے۔ اس پر کچھ عرض و معروض کرنا ہے لیکن ساغر کہنہ کا ذکر کیے بغیر تناظر واضح نہیں ہو سکے گا۔ فردوسی اسلام، شاعر پاکستان اور قومی ترانے کے خالق محمد حفیظ المتخلص بہ حفیظ جالندھری بیسویں صدی کے آغاز پر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم معمولی تھی لیکن مولانا غلام قادر گرامی سے رشتہ تلمذ نے فن شعر میں صیقل کر

Read more

جمہوریت سے خوف کھانے والے

واللہ! ہماری دعا بھی گویا سپن بالر کی بہت محنت سے نکالی ہوئی گیند بن گئی ہے، جارح مزاج بلے باز کو غچہ دینے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وکٹوں کو چھونے سے انکار کر دیتی ہے۔ اکثر تو عقاب کی طرح لپکتا وکٹ کیپر بھی چکمہ کھا جاتا ہے اور گیند عقبی منطقے میں لڑکھتی ہوئی باﺅنڈری پار کر جاتی ہے۔ ہت تری لیگ سپن گگلی کا جادو اور سرد مرطوب ہوا میں گول گول چکر کھاتی سرخ

Read more

کچھ ضمیر کی موقع شناسی کے بارے میں

فضا میں اگرچہ آلودگی کی سطح بدستور بلند ہے لیکن بکرمی تقویم میں 2080 کا موسم سرما دو خوش رنگ پرندوں کی لاہور کے چشمہ حیواں کے کنارے آمد کی نوید لایا ہے۔ احمد مشتاق نے 1982 میں اول اول ترک وطن اختیار کیا تھا۔ کچھ برس آمد و رفت کا سلسلہ چلا۔ بالآخر 1992 میں امریکا میں مستقل قیام ہی طے پایا۔ عارف وقار قبلہ احمد مشتاق سے عمر میں کوئی بارہ برس چھوٹے ہیں لیکن 1980 ہی میں

Read more

کیا مریم نواز صحافی ہیں؟

اصحاب دانش سے یہی خدشہ تھا۔ عنوان دیکھتے ہی بیشتر مہربانوں کا خیال مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز کی طرف گیا اور کسی قدر حیرانی سے سوچتے ہوئے کہ مریم نواز کو صحافی بننے کی کیا ضرورت ہے۔ درجنوں صحافی ان کے اشارہ ابرو پر قرطاس سیاہ کرنے کی آرزو سینوں میں دبائے پھرتے ہیں۔ غریب صحافی کس برتے پر بام حرم پر آشیاں بندی کا دعویٰ کریں، صیغہ صحافت کے خداوندانِ خود تراشیدہ چونچ میں قفس کی تیلیاں

Read more

پرندوں کی واپسی اور دھوپ کے ٹکڑے

جھوٹی سچی، الم ناک اور مضحکہ خیز خبروں کے ریلے میں ایک خوش کن خبر ایسی ہی ہے، جیسے لشکر غنیم کے سموں تلے تاراج کھیتی میں جہاں تہاں بچ رہنے والی گندم کی بالی۔ احمد مشتاق پاکستان تشریف لائے ہیں۔ اب اگر کسی بچہ شتر نے پوچھ لیا کہ احمد مشتاق کون ہیں؟ تو درویش جواب نہیں دے سکے گا۔ سوشل میڈیا، ٹی وی ٹاک شو اور سرکاری مدرسے کے احتسابی نصاب سے علم، مکالمہ، سیاست، تاریخ اور تہذیب

Read more

یہ اشتہاری کالم نہیں ہے

دلی کے خواجہ حسن نظامی عمر میں علامہ اقبال سے دو چار برس ہی خورد تھے لیکن مزاج میں کئی نوری سال کا فاصلہ تھا۔ علمی زاویے سے دیکھنا ہو تو اقبال اور خواجہ حسن نظامی میں وہی فرق تھا جو پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے حصے میں آیا۔ حالیہ سیاسی تناظر میں سمجھنا ہو تو رضا ربانی اور راولپنڈی کے شیخ رشید کو آمنے سامنے بٹھا لیجیے۔ اقبال ایک فلسفی کا استغراق، صوفی کا

Read more

اترائے ہوئے لوگوں کا شہر

پت جھڑ کی رت ہے، بارش کا نشان نہیں۔ آلودہ دھند نے آسمان سے ابتدائی سرما کی روپہلی دھوپ چھین لی ہے۔ آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ایک نامعلوم پرچھائیں کی چادر تنی ہے۔ بصیرت کا دامن تو مدت ہوئی تار تار ہو چکا، بصارت کا دائرہ بھی چشم حسود کی طرح تنگ ہو رہا ہے۔ صحافت کے پر کٹے طیور کی زبانی خبر ہے کہ رواں سہ ماہی کے اختتام تک عام انتخابات

Read more

صحافی کا ضمیر اور حکم کی ملکہ

شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نویس الیگزینڈر پشکن کو روسی ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو انگریزی ادب میں جیفری چاسر اور امریکی ادب میں والٹ وٹمین کو دیا جاتا ہے۔ ان تینوں ادیبوں نے موضوعات اور تکنیک میں جدید رجحانات متعارف کرا کے اپنے ادب کو اس کے مخصوص قومی خدوخال عطا کیے۔ الیگزینڈر پشکن نے صرف 38 برس کی عمر پائی لیکن آئندہ عشروں میں گوگول، لرمنتوف، ترگنیف، دوستوئیفسکی، ٹالسٹائی اور چیخوف نے پشکن ہی کی روشنی

Read more

میر صاحب کی سادگی اور بے انت رات کا اندھیرا

شاہ جہاں آباد کے شاعر نے تو ’میر کیا سادہ ہیں۔ ‘ کے آب دار ٹکڑے میں اپنی تہ دار شکست تسلیم کر لی تھی لیکن یہاں اشارہ دلی والے میر صاحب کی طرف نہیں۔ ہمارے ہم عصر حامد میر صاحب کا ذکر ہے۔ حامد میر صف اول کی صحافت میں 36 سالہ پیشہ ورانہ تجربہ ہی نہیں رکھتے، تاریخ کا مطالعہ بھی ان کی جولاں گاہ ہے۔ خبر اور تاریخی شعور کے اس گہرے چشمے سے سیاسی حرکیات کا

Read more

آئندہ انتخابات سے کیا امید باندھی جائے؟

مارچ 2022 ءسے اماوس کی رات میں دلدلی جنگلوں میں چلتے ہوئے یہاں تک تو پہنچے کہ اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں انتخابات کی توقع ٹھوس شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ 21 تاریخ کو میاں نواز شریف وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں انتخابی نوک جھونک کی ابتدائی جھلکیاں شروع ہو چکی ہیں۔ کیا یہ انتخابات ہمیں جمہوری استحکام اور معاشی ترقی کی طرف لے جا سکیں گے۔ ایسے گمبھیر سوالات

Read more

بے نامی شب عبور کے پڑاﺅ میں الاﺅ

پون صدی بیت گئی۔ طبع آشفتہ نے انداز شکیبائی نہیں سیکھے۔ پرانی بستیوں سے نکل کر نئے نگر کے لیے عازم سفر ہوئے تو تیز ہواﺅ ں میں ایک خیال کا دیا جلتی بجھتی لو دے رہا تھا کہ تاحد نظر پاپیادہ، بیل گاڑیوں اور رکتی کٹتی ریل گاڑیوں پر آگے بڑھتا یہ قافلہ جہاں لنگر ڈالے گا وہاں جینے اور مرنے کا کوئی دستور تو ہو گا۔ اس خواب کی تعبیر میں 54ءاور 71ءوالے دستور تو سانس ہی نہیں

Read more

بھیڑوں کا باڑہ اور بھوکا بھیڑیا

ہرمن ہیسے 1877 میں جرمن قصبے بلیک فارسٹ میں پیدا ہوا۔ ماں باپ کٹر مذہبی تھے۔ ہرمن ہیسے تعلیم مکمل نہیں کر سکا۔ کتابوں کی دکان پر ملازمت کر لی۔ فارغ وقت میں ہم عمر محفلوں سے الگ تھلگ، موٹے شیشوں والا چشمہ ناک پر جمائے نظمیں اور افسانے لکھا کرتا تھا۔ 1946 میں ہرمن ہیسے کو ادب کا ناول انعام ملا تو عام رائے یہ تھی کہ امریکا نے شکست خوردہ جرمن قوم کی تالیف قلب کا سامان کیا

Read more

اے بے گنہی گواہ رہنا

(عزیز از جان دوست علی افتخار جعفری کے لئے یہ سطریں ان کی حیات مستعجل میں 2011ء میں تحریر کی تھیں۔ 9 فروری 2014 کو علی رخصت ہو گئے۔ دوست رخصت کہاں ہوتے ہیں۔ بس ہمارے شجر حیات کی ایک شاخ سبز کم ہو جاتی ہے۔ رائیگانی کچھ بڑھ جاتی ہے اور غریب الوطنی کا خنجر احساس میں کچھ اور گہرا اتر جاتا ہے۔) علی افتخار پانیوں کا شناور ہے دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے

Read more

چشم نم کا حوصلہ جواب دے گیا

30 ستمبر کو ولادت رسول ﷺ کا تہوار منایا جا رہا تھا۔ مسلم تقویم میں یہ دن مسلمانوں کے لیے کسی بھی دوسرے تہوار سے زیادہ جذباتی معنویت رکھتا ہے۔ کوئٹہ سے پچاس میل جنوب میں مستونگ کے مقام پر بھی عید میلاد النبی کا جلوس نعت اور درود کی آوازوں میں آگے بڑھ رہا تھا۔ کل پونے تین لاکھ آبادی کے ضلع مستونگ جلوس کے شرکا کی تعداد زیادہ سے زیادہ چند ہزار ہو گی۔ اچانک ایک زوردار دھماکے

Read more

سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں

ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بدھ کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2023 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 0.3 فیصد رہی جب کہ آئندہ برس پاکستان کی معیشت ممکنہ طور پر 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکے گی۔ مگر…. اور اس مگر میں چھپے مگرمچھ پر خاص توجہ کی درخواست ہے…. شرط یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو، منڈی پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، موسمی حالات سازگار رہیں اور

Read more

چین کی اعلیٰ قیادت میں اتھل پتھل اور ژی جن پنگ کی حکمرانی

چین کے صدر ژی جن پنگ نے رواں برس مارچ 2023 میں اپنی تیسری میعاد کے آغاز پر چین کے اعلیٰ عہدوں پر اپنے وفادار رہنماؤں کی غیر معمولی تعداد تعینات کی تھی۔ ان رہنماؤں کے بارے میں انہیں امید تھی کہ وہ چین کے لیے ان کے عظیم عزائم کے حصول کا راستہ ہموار کریں گے۔ تاہم، ایک سال سے بھی کم وقت میں، پے در پے ہنگامہ خیز واقعات نے ژی کی انتخاب کردہ حکمران اشرافیہ کی بنیادیں

Read more

حاشر ارشاد اور وسی بابا پر لکھی ایک پانچ برس پرانی تحریر

عجیب قران السعدین ہے۔ یعنی 16 ستمبر کو سائنس کے عالم، فلسفے کے شناور اور تاریخ کے پارکھ حاشر ابن ارشاد کتم عدم سے دنیائے رنگ و بو میں چلے آئے۔ دلچسپ امر یہ ہے ان کے ہم عصر، مرشد دوراں، حبیب صادق وسی بابا نے بھی تہمت وجود کے لئے اسی دن کا انتخاب کیا۔ سال میں 365 دن رکھے تھے۔ ان دونوں احباب نے ایک ہی دن دنیا کو رونق بخشی۔ مقصد یہ کہ کوئی پوچھے کہ یہ

Read more

سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی (2)

گزشتہ اظہاریے میں انتخابات کے 2022 میں قبل از وقت مطالبے سے متعلقہ نکتے کا جواب ہی مشکل سے نمٹ سکا کہ کالم کی سانسیں چھوٹ گئیں۔ بے شمار سخن ہائے گفتنی ابھی باقی تھے۔ اس سے پہلے مگر اک رسم ملاقات پوری کر لیں۔ اپنے عنایت نامے میں محترم حبیب اکرم نے ’قلم کی کاٹ‘ کا ذکر بھی کیا۔ برادرم ایسی قلم نویسی کا کسی اور کو دعویٰ ہو تو ہو، اس درویش کو ہرگز نہیں۔ ہم تو دشمن

Read more

سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

کیا کالم لکھنا توسن خیال کی آوارہ خرامی ہے؟ اس کے لئے تو مگر شعر کی بے کنار کائنات موجود ہے۔ غالب تو ماورائے عدم کی نامعلوم وسعتوں سے یہ کہتے ہوئے نگہ بے نیازی سے آگے بڑھ گئے ’سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی‘۔ فراق فرماتے تھے، ’ارے صاحب، بات کیا کرنا ہے، بس دماغ سانس لیتا ہے‘۔ اخباری کالم نگار کو لیکن اہل زمین کے معاملات سے مفر نہیں کہ اس نے تاریخ کے عذاب دستاویز

Read more

گناہ کی تقریظ

(فروغ فرخ زاد کے نام) دیوی، دیکھو! یہ میں ہوں، ہماچل کی ترائی میں بھٹکتا وارفتہ اور آشفتہ خواہش میری آنکھ میں نرت کرتی ہے بھوگ مری انگلیوں میں برجو مہاراج جیسا ناچتا ہے اندرانی رحمان جیسی سجل کاٹ ہے کامنا کی چھاتیوں میں میں نے گناہ کو تکریم دی اور اعلان کیا گناہ شعور سے کیا گیا فیصلہ ہے پرکھوں کی خجالت سے انکار کرتے ہوئے کائی لگی راہوں سے گریز کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے اندھیروں سے پرے

Read more

آئزن ہاور کی رحم دلی اور عمران خان کی سیاست

لارڈ اسمے دوسری عالمی جنگ میں چرچل کے قریب ترین عسکری مشیر تھے۔ جنگ کے بعد نیورمبرگ ٹرائل شروع ہوا تو شکست خوردہ جرمن رہنماؤں کے خلاف فرد جرم میں حقیقی جرائم (مثلاً جنگی قیدیوں اور شہریوں کا قتل عام، نسل کشی، عقوبت خانے، شہری آبادیوں پر مظالم اور مقبوضہ علاقوں میں دانستہ تباہ کاری وغیرہ) کے علاوہ کچھ لایعنی الزامات بھی شامل تھے۔ لارڈ اسمے نے چرچل سے یہ بات چھیڑی تو بوڑھے چرچل کا جواب معنی خیز تھا،

Read more

میں بزدل کیسے ہوا؟

1978 کا برس تھا۔ آئزک بیشواس سنگر کو ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ درویش ان دنوں پنجاب کے ایک قدامت پسند، نیم خواندہ قصبے میں ایسی نوجوانی سے گزر رہا تھا جیسے آج کل کچھ پرجوش نوجوان سلاخوں کے پار محبوس ہیں۔ منٹو نے باری علیگ کے خاکے میں اس آمادہ بہ جستجو کیفیت کو ایک جملے میں سمو دیا ہے، ’جو اب خلوص دل سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اس وقت اپنے اس جوش کے رخ

Read more

خلا اور تعطل میں کیا فرق ہے؟

عنوان میں تجرید کا عنصر کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ہماری آبادی کے پھیلاﺅ سے واضح ہے، ہم اجتماعی طور پر تجرد طبع نہیں ہیں۔ 3 کروڑ 40 لاکھ سے چلے تھے، شبانہ روز محنت اور یک نکاتی ارتکاز کی مدد سے 24 کروڑ 90 لاکھ کا ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی ہم بوجوہ شمار نہیں کرتے۔ قدرتی سائنس اور ریاضی تو ایک طرف، ہم تو جغرافیے کو بھی

Read more

"کھول دو” پر مقدمہ اس لئے چلا کیونکہ منٹو ڈپٹی کمشنر نہیں تھا

سعادت حسن منٹو کے افسانے "کھول دو” کا ذکر کیا جائے تو کچھ بندگان ریا پر قومی مفاد کی چادر دریدہ کی کوتاہ دامنی نیز تنگی چشم حسود کے باعث تشنج طاری ہو جاتا ہے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ منٹو نے مسلم لیگ کے شاہین بچوں اور راتوں رات تحریک پاکستان کے چھکڑے پر سوار ہونے والے موقع شناس کارکنوں کی کردار کشی کے لئے یہ افسانہ لکھا تھا۔ منٹو جیسے "ننگ ملت” کی تحریر کو اسی زاویے سے

Read more

فسادات پنجاب 47ء کے کچھ کردار

بنگال اور بہار کے بعد فسادات کا دوسرا خوناب دھارا پنجاب کے شمالی علاقوں سے پھوٹا۔ پنجاب کے فسادات میں بھی تقویمی ترتیب پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ خضر حیات کی وزارت 2 مارچ کو مستعفی ہوئی۔ گورنر ایون جین کنز ( Sir Even Jenkins) نے مسلم لیگ کو حکومت سازی کی دعوت دینے کی بجائے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کی دفعہ 93 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ شوکت حیات لکھتے ہیں کہ ”مسلمانوں

Read more

دیار خواب میں طویل رات اور خاک آلود آنکھیں

کچھ روز گزرے، اگست کی ایک حبس آلود شام تھی۔ شہر کی گہماگہمی سے دور بیٹھے دو عمر رسیدہ اور تھکے ہوئے جمہور پسند سپاہی اپنے سفر کے پیچ و خم کا تبادلہ کر رہے تھے۔ شیکسپیئر کی تمثیل کنگ لیئر کے آخری ایکٹ کا وہ حصہ تو آپ کو یاد ہو گا جہاں گلوسسٹر کا بیٹا ایڈگر اسے کنگ لیئر کی شکست اور گرفتاری کی خبر دیتا ہے۔ گلوسسٹر فرار ہونے کی بجائے موت کو بہتر قرار دیتا ہے

Read more

47ء کے فسادات: کیا لیاقت علی سازش سے باخبر تھے؟

مشتاق احمد وجدی اکبر الہ آبادی کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ تقسیم ہند کے دوران ریلوے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ بعد ازاں پاکستان میں آڈیٹر جنرل اور کمپٹرولر جنرل کے عہدوں پر بھی فائز رہے ۔ اپنی خود نوشت "ہنگاموں میں زندگی” میں مشتاق احمد وجدی لکھتے ہیں : "انہی ایام میں سردار شوکت حیات نے مجھے طلب کیا اور کہا کہ سخت فسادات ہونے والے ہیں۔ ان کے لیے ہتھیار جمع کرنے ضروری ہیں۔ یہ صوبہ

Read more

اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

اقبال کی عظمت سے کوئی کور مادر زاد ہی انکار کرے گا الا یہ کہ سنہ 1978 ہو، ضیا الحق کا عہد بے اماں ہو، اسلامی نظام کے نام پر قوم کا مردہ خراب ہو رہا ہو اور ہفت روزہ ’زندگی‘ میں عبدالغنی فاروق نامی کسی صحافی کی ایک تحریر اس مضمون کی شائع ہو کہ علامہ اقبال کے کلام سے مسلمہ دینی عقائد کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں لہذا نصاب سے اقبال کی نظمیں خارج کر

Read more

پرانی فائلوں میں کیا لکھا ہے؟

غالب نے ’مقطع میں سخن گسترانہ بات‘ چلی آنے پر معذرت کی تھی۔ یہاں مشکل یہ ہے کہ کلام امروزہ کے لئے روئے سخن طے پا چکا تھا لیکن چرخ فلک نے مطلع ہی میں آن لیا۔ سو، پہلے اس سے نمٹ لیں۔ ٹھیک پانچ برس پہلے اگست کی 18 تاریخ تھی۔ صاحبان ذی قدر کے من بھاؤنے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانا تھا۔ یہ ذمہ داری صدر ممنون حسین کے سپرد تھی۔ حلف کی عبارت دستور

Read more

طویل گرم مرطوب شام اور قافلہ جمہور

 5 اور 6 جون 1944 کی درمیانی شب تھی۔ چار برس قبل ڈنکرک سے انخلا کے بعد اتحادی فوج کو پہلی بار مغربی سرحد سے یورپ پر حملہ آور ہونا تھا۔ آئزن آور نے ایک برس اس حملے کی تیاری کی تھی۔ سات ہزار بحری جہازوں اور عارضی بجروں کے ذریعے 156000 اتحادی فوجیوں کو خوفناک سمندری طوفان میں آبنائے انگلستان عبور کر کے نارمنڈی کے 80 کلومیٹر طویل ساحل پر اترنا تھا۔ جرمن عقب میں 24 ہزار چھاتہ بردار

Read more

افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (6)

پاک افغان مجادلے کا قصہ آج نبیڑ دیتے ہیں۔ پچاس برس پر پھیلی یہ دیوار گریہ تو جہالت، سازش، جرم، ناانصافی اور تشدد کے بدصورت پتھروں سے اٹھائی گئی ہے- قتل و غارت کی اس لہو آلود کہانی پر سینکڑوں کتابیں اور لاکھوں اخباری مضامین لکھے گئے ہیں۔ کاغذ پر کھنچے یہ بے معنی حروف مگر 19 سالہ رخشندہ کے درد کا احاطہ نہیں کر سکتے جسے 2015 میں طالبان  نے صوبہ غور کے قصبے فیروز کوہ میں سنگسار کیا

Read more

افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (5)

پاکستان کی افغان پالیسی پر تحریروں کے اس سلسلے کا مقصد محض یہ واضح کرنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ریاستی جرم افغان معاملات میں مداخلت رہی ہے۔ اس فضیحتے میں پاکستان کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ داخلی سطح پر سیاسی اور معاشی بدھیا بیٹھ گئی۔ سرکاری سطح پر ہمارا افغان موقف ہر چند ماہ تبدیل ہوتا رہا۔ نتیجہ یہ کہ ایک طرف ہماری خارجی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی، دوسری

Read more

افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (4 )

اخباری کالم تحریر کی دنیا کا عجیب الخلقت بچہ ہے۔ عبدالمجید سالک اور چراغ حسن حسرت کے قلم کی بدولت کتم عدم سے عالم ہست میں نمود ہوئی لیکن اسے صنف ادب نہیں کہہ سکتے۔ جو گرا پڑا ادیب کہیں بقیة السیف سانس لیتا ہے وہ اسے ادب قرار دینے پر بھڑک اٹھے گا اور صنف کی اصطلاح پر کشور ناہید نے کلیم داخل کر رکھا ہے۔ خدا خدا کر کے تانیثی ادب تک آئی ہیں ورنہ بھلے وقتوں میں

Read more

افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے  (3)

1947 میں بیرونی حکمرانوں کی رخصتی کے بعد ہمارے ملک کا بنیادی المیہ عوام اور ریاست میں ایسا نامیاتی اور جمہوری تعلق پیدا کرنے میں ناکامی رہا ہے جس میں عوام کو ریاست پر اعتماد ہو کہ انہیں معاشی وسائل کی تقسیم پر فیصلہ سازی میں بامعنی طور پر شریک کیا جائے گا، وفاق کی اکائیوں کو ان اصولوں کے تحت حقوق مل سکیں گے جن کا ان سے مطالبہ پاکستان کے دوران وعدہ کیا گیا تھا۔ انہیں قانون کے

Read more

افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے ( 2 )

انیسویں صدی کے دوران روس اور برطانیہ کی ’گریٹ گیم‘ کے تناظر میں بحیرہ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا مفروضہ روسی ہدف بیسویں صدی میں سرد جنگ کے دوران غیر متعلقہ ہو چکا تھا۔ زار شاہی کے آخری برسوں میں تعمیر ہونے والی Murmansk کی بندرگاہ بھی اس زاویے سے غیر اہم ہو چکی تھی کہ سوویت بحریہ کے پاس ایسے نیوکلیئر جہاز موجود تھے جو برفانی منطقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے

Read more

افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے (1)

12 جولائی کی صبح بلوچستان کے شمال مشرقی ضلع ژوب میں مذہبی دہشت گردوں کے قابل نفرین حملے کی مزاحمت کرتے ہوئے نو فوجی جوانوں نے وطن پر جان نچھاور کر دی۔ اسی روز صوبے کے مشرقی ضلع سوئی میں ایک اور حملے میں تین جوان شہید ہوئے۔ دونوں واقعات میں 5 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گرد کارروائیوں میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کل ملا کے 280 حملوں میں

Read more

پھٹے ہوئے جوتے اور بے داغ دستار

یاسر پیرزادہ ایسے دوست ہیں جنہیں جاننا عمر رواں کا تشکر ٹھہرتا ہے۔ تخلیقی تحریر تیز رو دریا میں خالی ہاتھوں مچھلی پکڑنے جیسا مشکل کام ہے۔ یاسر پیرزادہ پورے انہماک سے یہ کار گراں انجام دیتے ہیں۔ متعین لفظ اور مکمل ابلاغ سرگراں سنگی دیوتا ہیں مگر یاسر کی انگلیوں میں مٹی کا لوندا بن جاتے ہیں۔ اعلیٰ سرکاری افسر ہیں مگر منصب کو نخوت کی پوستین سمجھ کر اوڑھ نہیں رکھا۔ یہ تو رہی حبیب لبیب کی تشبیب۔

Read more

ہمارا جمہوری تذبذب اور معاشی تزلزل

علامہ اقبال اپنی فضاو¿ں کے طائر خوش پرواز تھے، گاندھی جی اپنی روایت کے مہاتما تھے۔ کسی تقابل کا شائبہ ہی نہیں۔ اقبال نے 1924 میں اشاعت پذیر ہونے والی بانگ درا میں گاندھی جی پر چوٹ کی۔ ’یہ آیہ نو جیل سے نازل ہوئی مجھ پر‘ ۔ آپ سے کیا پردہ۔ یہ طالب علم کیسے جان پاتا کہ ’آیہ نو‘ فارسی ترکیب ہے اور اگلا لفظ جیل تو زنداں کا سیدھا انگریزی ترجمہ ہے۔ ہمیں اپنے نیم خوابیدہ قصبے

Read more

نو مئی حادثہ نہیں، طویل تمثیل ہے

ماہ مئی کی کیا تخصیص ہے؟ پون صدی پر پھیلی قومی تاریخ میں کون سا مہینہ ہے جس میں کوئی منحوس منظر نہ کھلا ہو؟ ان دنوں نو مئی کا منتر زبان زد عام ہے تو مئی کی تقویم ندامت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ 3 مئی 1950 کو وزیراعظم لیاقت علی خان دورہ امریکا پر روانہ ہوئے تھے۔ اس دورے نے پاکستان کو سرد جنگ میں مغربی بلاک سے وابستہ کر دیا۔ غیر جمہوری قوتیں اور دائیں بازو

Read more

وش کا پیالہ رانا جی نے بھیجا

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ دلچسپ شخصیت ہیں۔ سیاست کی ابتدائی منزلیں پیپلز پارٹی کے ساتھ طے کیں۔ 1993 میں مسلم لیگ (نواز) میں شامل ہو گئے۔ پرویز مشرف کی آمریت میں بدترین ایذا رسانی کا نشانہ بنے۔ قریب ڈیڑھ دہائی بعد عمران خان کی یک ورقی حکومت نمودار ہوئی تو محترم ثنااللہ یکم جولائی 2019 کو منشیات کیس میں گرفتار کئے گئے۔ یہ ابتلا 26 دسمبر 2019 کو ضمانت پر رہائی تک جاری رہی۔ دسمبر 2022 میں رانا صاحب

Read more