میں اور اندیشہ ہائے سود و زیاں

’پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام روز اول سے ہمارا مقصد اولیٰ رہا ہے‘۔ 50 برس قبل یہ جملہ ہمیں سرکاری سکولوں میں رٹایا جاتا تھا۔ تعلیم کے نام پر تلقین سے سرشار درویش کے ہم عمر اب اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ اس آموختے کی علمی اصابت اور تاریخی حقیقت سے قطع نظر، سوچنا چاہیے کہ اس ’نظریاتی تعلیم‘ سے لیس اذہان کی فیصلہ سازی کا درجہ کیا ہو گا؟ 9 نومبر 2022 کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق

Read more

پت جھڑ کا ایک اور موسم

مقبولیت اور احترام دو الگ الگ لفظ ہی نہیں، دو مختلف تصورات ہیں۔ قبول عام تو لمحہ موجود میں گلی کوچے کا ہنگامہ ہے، خام، ناآزمودہ اور سیماب صفت۔ احترام وہ نقد خالص ہے جو آزمائش کی بھٹی سے کندن کی صورت برآمد ہوتا ہے، تکمیل اور افادیت کے اوصاف سے مملو۔ افسوس ہے اس قوم پر جس کے تعلیم یافتہ افراد بھی بار بار آمریت کا فریب کھاتے ہیں اور وقتی مفاد کے تعاقب میں جمہوریت کو گالی دیتے

Read more

شہر غریب کیسے ہوتے ہیں؟

پڑھنے والے گیان کے دیوتا ہیں۔ میں کم ہنر معافی چاہتا ہوں کہ آج کی نوحہ گری میں صیغہ متکلم کا عیب شامل ہو گا۔ اگر اخبار لفظوں کی بستی ہے تو کالم کو گلی سمجھنے میں کیا ہرج ہے۔ لکھنے والا ایک کے بعد دوسرے دروازے پر خبر پہنچاتا ہوا نکڑ پار کر جاتا ہے۔ خبر اہم ہے، نامہ بر کو تو بہرصورت گزر جانا ہے۔ بھلے ساقی امروہوی کا مصرع ہی زیر لب کیوں نہ ہو، ’چل رہے

Read more

The long and short of a March

عمران خان صاحب کا لانگ مارچ آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اس مارچ میں شرکا کی تعداد توقعات سے خاصی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران صاحب اس لانگ مارچ کو وقفے وقفے سے شارٹ کر رہے ہیں۔ لاہور کے لبرٹی چوک میں عمران خان کی تقریر کے دوران 8 سے دس ہزار افراد موجود تھے لیکن اس کے بعد کہیں بھی ہجوم دو تین ہزار سے نہیں بڑھ سکا۔ اس

Read more

ضمیر (قریشی) کیوں قتل ہوتا ہے؟

28 جنوری 1965 کی سرد شام تھی۔ گلبرگ کے ایک بنگلے سے دو افراد برآمد ہوئے اور باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ستاون برس قبل گلبرگ لاہور کے نواح میں اشرافیہ کی کسی قدر غیر آباد سی بستی تھی۔ یہ عوامی لیگ کے صوبائی رہنما ملک غلام جیلانی کا گھر تھا اور ان کے دونوں مہمانوں میں ایک مغربی پاکستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے بے باک رکن عبدالباقی بلوچ اور دوسرے لاہور کے معروف صحافی ضمیر قریشی تھے۔

Read more

حادثہ ٹائی راڈ کھلنے سے نہیں ہوا

محمد خالد اختر نے اردو ادب میں جو مقام پایا، ان کے بارے میں تعارفی پیرایہ بیان اختیار کرنا بذات خود سوئے ادب کے زمرے میں شمار ہو گا۔ جس لکھنے والے نے سعادت حسن منٹو اور فیض احمد فیض سے داد پا رکھی ہو، اسے ہماری شکستہ پا، لکنت زدہ نسل سے توصیف کی کیا حاجت؟ ناول لکھا تو چاکیواڑہ میں وصال، مزاح پر توجہ دی تو چچا عبدالباقی، طنز کا نشتر اٹھایا تو مکاتیب خضر، ترجمے پر نظر

Read more

لاوارث لاش، معلق شہری اور گم گشتہ ریاست

مولانا ابوالکلام آزاد فروری 1922 میں بغاوت کے الزام میں کلکتہ کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ انگریز مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیتے ہوئے ایک ایسا تراشیدہ اور ٹھکا ہوا جملہ کہا کہ قول فیصل قرار پایا۔ ’’تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں۔‘‘ مولانا واقعتاً مرد آزاد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم کا ہزار پا مطلق العنانی کی دلدل میں پلتا ہے اور نا انصافی کا

Read more

ایک بہادر بیٹی اور خانہ بدوش عورت کی مامتا

کچھ برس پہلے اوائل سرما کی ایک سہ پہر گہرے بادل گھر کر آئے اور پھر ایسی برکھا برسی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ اب تو خیر دل و دماغ پر ایک مسلسل اداسی طاری رہتی ہے۔ ’دن گزرتے جا رہے ہیں، ہم چلے‘۔ چند سال پہلے جمہوریت کے شکستہ حال تجربے کی ایک دہائی مکمل ہوئی تو ایسی صورت نہیں تھی۔ گرما کی صبحوں میں بھیروں کی سمپورن سپتک اور سرما کی شاموں میں امید کے دیے لو

Read more

جمہوریت ریڈ لائن نہیں، صف بندی ہے

5 اکتوبر بروز بدھ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی آبادی 23 کروڑ 5 لاکھ 57 ہزار قرار پائی۔ اس آبادی میں 60 سے 64 برس کی عمر کے شہریوں کی تعداد صرف 2.4 فیصد ہے۔ آج 7 اکتوبر ہے گویا ٹھیک 64 برس قبل آج ہی کے دن ایوب خان اور سکندر مرزا نے آئین منسوخ کر کے شخصی حکمرانی کی بیاد رکھی تھی جس کے بعد جمہوریہ باقی رہی اور نہ یوم جمہوریہ۔ پاکستان کو 75 برس کی

Read more

چیک پوائنٹ چارلی اور ریڈ لائن کے دکھیارے

1955 میں پیدا ہونے والے انیس اشفاق ہمارے زمانے میں اردو فکشن کی امید ہیں۔ لکیر کے اس پار لکھنو کے گلی کوچوں میں جنم لیا اور اسی شہر کی مرقع گلیوں میں بسنے والی سادھارن زندگیوں کی تصویریں کھینچتے ہیں۔ مشاہدے کی نکتہ رس تفصیل، احساس کا سوز دروں اور بیان میں جوہر تراش ایسا ضبط، اردو نثر نے ایسے معجزے کم دیکھے ہیں۔ مصحفی نے لکھا تھا، اب دیکھو تو قلعی سی ان کی ادھڑ گئی ہے /

Read more

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن، پلٹنا تھا….

 بے رنگ مایوسی کے طویل برسوں کے بعد تاریخ کی ٹہنیوں پر زرد پتوں نے ذرا سا رنگ بدلا تو اس خوف نے آ لیا کہ ہمارے تجربے میں کتنے ہی ایسے موڑ آئے، جب امید کے مختصر وقفے دیکھتے ہی دیکھتے سازش کے طویل صحرائی منطقوں میں بدل گئے۔ 80ءکی دہائی کے نصف آخر میں، عزیز دوست ضیا الحسن نے لکھا تھا، ’مگر اک غم پس عمر رواں ٹھہرا ہوا ہے‘۔ اس سے بہت برس پہلے منیر نیازی

Read more

بیانیہ تبدیل نہیں ہوا

ہر نسل کے وقفہ حیات میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جسے خاموش خود کلامی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے خیالات جو احاطہ سماعت میں آ بھی جائیں تو گوش سماعت نہیں ملتا۔ جن سے مکالمہ ممکن تھا، ان کے تودہ ہائے خاک پر گھاس اگ آئی ہے۔ نئی دنیا کے اپنے رنگ، اپنے اطوار اور اپنے خواب ہوتے ہیں۔ اقبال گیانی تھے۔ ”آتش رفتہ کے سراغ“ اور ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ کے رموز سمجھتے تھے لیکن انہیں بھی اکتوبر

Read more

ہمارے نظام تعلیم میں کیا خرابی ہے؟

ایسا نظام تعلیم جو بچوں میں تنقیدی شعور بیدار نہیں کرتا، انہیں معلومات، مہارت اور تجزیے کی سطح پر دنیا بھر میں اپنے ہم عمر بچوں سے مقابلے کے قابل نہیں بناتا، وہ ملک کی معاشی ترقی اور تمدنی توانائی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

Read more

تاریخ کا کوئی اسکرپٹ نہیں ہوتا

< p dir=”rtl”> ہماری نسل ابھی دونوں ہتھیلیوں سے سیاسی شعور کی ادھ کھلی آنکھیں مل رہی تھی کہ جنرل ضیا الحق آن پہنچے۔ خدا مرحوم کے درجات دستور کے آرٹیکل چھ کی حد تک بلند فرمائے، انہوں نے قوم کے ساتھ جو کیا، سو کیا، ہم پر ایک احسان عظیم فرما گئے۔ انہوں نے ہمیں کم عمری ہی میں آمریت کی پیچ دار اندھیری گلیوں اور مذہب فروش سیاست کے مکر و فریب سے شناسا کر دیا۔ 1977 میں

Read more

الزبتھ دوم کا انتقال اور ہمارے بادشاہ

8 ستمبر 2022 کو انگلستان کی ملکہ الزبتھ دوم 70 برس اور 214 روز تک برطانیہ عظمیٰ کی آئینی حکمران رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ اپنے دور حکمرانی کے دوران ملکہ الزبتھ مختلف ادوار میں دولت مشترکہ کی 32 سے 15 خود مختار ریاستوں کی آئینی سربراہ بھی رہیں۔ انہیں برطانیہ میں ونسٹن چرچل اور مارگریٹ تھیچر سمیت 15 منتخب وزرائے اعظم سے واسطہ رہا۔ اس پون صدی میں دنیا بدل گئی۔ اب نہ کمیونزم کی یورش ہے اور

Read more

دو شاخہ ترجیحات کی زیاں کاری

اس میں کیا شک کہ علم ایسی طاقت ہے جسے ہزاروں برس تک زنجیر بند کر کے انسانوں کے استحصال اور ناانصافی کو یقینی بنایا گیا۔ کہیں علم کے گرد اوہام، نامعلوم کے خوف اور ننگے استبداد کی دیواریں اٹھائی گئیں تو کہیں علم کے حصول پر مخصوص طبقات کا اجارہ قائم کیا گیا۔ تجسس، دریافت، ایجاد اور تخلیق کے دھارے مگر جنگلوں میں اپنی بقا کی لڑائی لڑنے والی نسل انسانی کی وجودی بنت کا حصہ چلے آ رہے

Read more

گاندھی جی اور دہلی کے مسلم سبزی فروش

محمد حسن عسکری کا تنقیدی مجموعہ ’انسان اور آدمی‘ 1953ء میں شائع ہوا۔ یہ عنوان ’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘ سے ماخوذ نہیں تھا بلکہ عسکری صاحب کی فکر اس زمانے میں غالب کے برعکس ’آدمی‘ کو ’انسان’ سے برتر سمجھتی تھی۔ ان کے نزدیک آدمی وہ تھا جو کچھ حیاتیاتی ضروریات اور نفسیاتی تقاضوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی روشن خیالی او ر ’انسان دوستی’ کے رجحانات

Read more

عمران خان اور منٹو کا افسانہ ’ننگی آوازیں‘

ادب ہو یا فنون عالیہ کی کوئی دوسری شاخ، تخلیقی عمل زندگی کی کلیت کا احاطہ کرتا ہے۔ فن کے پیچاک نام نہاد شرفا کی منافقت زدہ اخلاقیات کے متحمل نہیں ہوتے۔ روایات کہنہ کی کتر بیونت سے تیار کی گئی قبا زندگی کی نہاں گہرائیوں اوربسیط آفاق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ وکٹورین اخلاقیات کے علمبردار ڈپٹی نذیر احمد کا کردار نصوح شیخ سعدی کی گلستان کو سوختنی قرار دیتا ہے، دوسری طرف امیر مینائی فرماتے ہیں، ’پسند آئی

Read more

خطرناک (1974) کے مکالمے …

View post 1974ء کا برس ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس سال 22 سے 24 فروری تک لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ لاہور کی بادشاہی مسجد میں اسلامی سربراہان نے نمازِ جمعہ ادا کی۔ اسلامیانِ پاکستان نے مسلم امہ کی قیادت کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ کانفرنس کے آغاز سے قبل وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ گویا پاکستان رسمی طور

Read more

محسن لغاری کے لئے چند اچھے لفظ

قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی یا دوسرے رہنما سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ان کی شخصیت روشن خیالی، دستور پسندی اور حریت فکر و عمل کا یگانہ روزگار مظہر تھی۔ بابائے قوم اور لیاقت علی خان کی سیاست کے اجزائے ترکیبی مختلف تھے لیکن قائد اعظم کے بعد مسلم لیگ کی صفوں میں کوئی لیاقت علی خان بھی نہیں تھا۔ 1946 میں عبوری حکومت قائم ہوئی تو ولبھ بھائی پٹیل کے ایما پر لیاقت

Read more

ڈوبنے والوں کی ’حقیقی آزادی‘ اور عمران خان کی بے خبری

بالآخر عمران خان نے 27 اگست کو جہلم جلسے میں سیلاب کی خوفناک صورت حال پر لب کشائی کی زحمت فرمائی۔ انہوں نے فرمایا کہ غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے باوجود وہ ’حقیقی آزادی‘ کے لئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس سے ایک روز قبل وہ سرکاری جاہ و حشم کے مکمل تام جھام کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک بھی تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے عوامی تکالیف کے حقیقی احساس کا

Read more

عمران خان، سینیٹر میکارتھی اور اقتدار کے تضادات

ایک خوش نصیب شاعر نے لکھا، ’اے دوست میں نے تجھ بن لگاتار دو سردیاں دیکھ لیں‘۔ گویا کل ملا کے دو برس۔ ہمارا امتحان طویل ہو گیا۔ کم عمری کے بعد سے غبار ملال کی دریدہ چادر اوڑھے فصل آئندہ کے لاحاصل تعاقب میں نصف صدی گزر گئی۔ دو صدیوں کے سنگم پر غیر مزروعہ زمین کو دو برابر ٹکڑوں میں تقسیم کرتی رائیگانی۔ تاریخ کی گاڑی منزلیں مارتی کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہمیں خبر نہیں ہوئی کہ

Read more

طاہر محمود چوہدری کی قابل اعتراض تحریر اور مدیر کی معذرت

طاہر محمود چوہدری ’ہم سب‘ کے باقاعدہ لکھنے والے ہیں۔ آبائی طور پر گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے اندازے کے مطابق طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کی بیشتر تحریریں اپنے آبائی شہر کی شخصیات کے بارے میں ہوتی ہیں۔ لب و لہجہ شائستہ اور زبان صاف ستھری استعمال کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ زبان وبیان کی روانی اور دلچسپ بیانات کی کشش میں ان کی سب تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ ’ہم سب

Read more

نوجوان نسل کا مردہ کیسے خراب ہوا؟

ملک کی ٹھیک دو تہائی آبادی یعنی 66 فیصد شہری اقوام متحدہ کی طے کردہ تعریف ( 15 سے 33 برس) کی روشنی میں نوجوان شمار ہوتی ہے۔ قریب پندرہ کروڑ کی اس نوجوان آبادی کے عقب میں 15 برس سے کم عمر بچوں کا ایک لشکر جرار بھی کمیں گاہوں سے روانہ ہو چکا ہے۔ اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری۔ علم معاشرت کے ماہرین کہتے ہیں کہ کسی ملک میں نوجوان آبادی ایک اجتماعی

Read more

بے یقینی کا ایک اور برس جو گزرتا ہی نہیں

ساون اور بھادوں کو جدا کرتی لکیر کے یہی امس بھرے دن تھے۔ برساتی پانی کے چھوٹے بڑے جوہڑوں کے گرد فسادات کے جہنم سے بچ نکلنے والے بے گھر انسان ٹولیوں کی صورت ہیضے کی وبا میں جانیں دے رہے تھے۔ یہ آزادی نہیں، مفادات کی تقسیم کا تاوان تھا۔ یہ وہ آزادی نہیں تھی جس کا مطالبہ دادابھائی نورو جی نے 1886 میں کانگرس کے کلکتہ اجلاس میں کیا تھا۔ یہ وہ کامل آزادی نہیں تھی جس کا

Read more

فرانز کافکا کی حکایت اور گرینڈ ڈائیلاگ

اوسط درجے کے ذہن کا ایک نشان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اکثریت کی رائے کو سچ کی دلیل سمجھتا ہے، ایسا شخص اختلاف رائے کی ممکنہ تنہائی سے خوفزدہ ہوتا ہے اور بے چہرہ ہجوم کے جذباتی ردعمل سے نفسیاتی اعتماد کا حصول چاہتا ہے۔ ہجوم کی اطاعت محض وضع قطع تک محدود نہیں رہتی بلکہ سیاسی خیالات اور علمی رجحانات تک سرایت کر جاتی ہے۔ اس ہاﺅہو کا انجام بہرحال تاریخ کے دھارے میں گمنامی ٹھہرتا ہے۔

Read more

یوم آزادی اور آﺅٹ آف کورس سوالات

پاکستان کو آزادی حاصل کیے 75 برس مکمل ہو گئے۔ آج سیاسی رہنما حب الوطنی میں نچڑتے بیان جاری کریں گے۔ ملازمت پیشہ صحافی بیزاری کے عالم میں فیچر اور ادارتی مضامین لکھنے کی مشقت پوری کریں گے۔ میڈیا کی قومی وابستگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برسوں سے یوم پاکستان، یوم آزادی اور یوم دفاع کے موقع پر اخبارات میں چھٹی کی رسم ختم ہو چکی ہے۔ مذہبی تہواروں پر چھٹیوں کی تعداد البتہ بڑھتی

Read more

آزادی اور بے وطنی کے بیچ پون صدی

آپ کا نیاز مند پیدا ہوا تو لہو کی لکیر کھنچے 17 برس گزر چکے تھے، بے گھری کے نشان ابھی باقی تھے۔ منٹو نے پہلے سے آزادی اور بٹوارے کی حکایت لکھ رکھی تھی، کچھ کے لئے سب لٹ گیا تھا اور کچھ کے لئے ’کھول دو‘ کی سکینہ تک رسائی کا پروانہ مل گیا تھا۔ پنجاب ہی نہیں، بنگال میں بھی بٹوارہ ہوا تھا۔ شرمندگی ہے کہ بنگال کے بٹوارے کی چبھن بہت بعد میں امیتابھ گھوش کو

Read more

گیارہ اگست: نکالے ہوئے، پھینکے ہوئے لوگوں کی عید غریباں

ہمارا باپ ایک نیک شخص تھا۔ زندگی بھر بچوں کی بہتری کے لیے دن رات کام کرتا رہا یہاں تک کہ صحت جواب دے گئی۔ اس حالت میں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے مقدمہ لڑا، ڈاکٹر ہمارے باپ کی صحت سے مایوس تھے۔ مگر وہ عظیم شخص اپنی صحت کی خرابی کا ذکر نہیں کرتا تھا۔ بالاخر ہمارے باپ نے مقدمہ جیت لیا اور اپنا کل اثاثہ بچوں کے سپرد کر دیا۔ اس روز ہمارے باپ نے بچوں کو

Read more

بُرا حال ہویا پنجاب دا….

مہنگائی عام لوگوں کی آمدنی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تناسب کا نام ہے۔ مہنگائی کا واویلا بڑھنے لگے تو جان لیجئے کہ عام شہریوں کی آمدنی جامد ہو گئی ہے جبکہ منڈی میں اجناس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان دنوں بھی غریب اور سفید پوش طبقہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے۔ وسائل کم ہیں اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ 2016ءمیں افراط زر کی شرح 3.8 فیصد تھی

Read more

محمود درویش: سلطانوں سے ٹکرانے والا درویش

(یہ تحریر 9اگست 2008ءکو محمود دوریش کے انتقال پر لکھی گئی تھی،) سُلطان بہت خوش ہے۔ جدید عربی شاعری میں سلطان کے باجبروت لفظ کو جبر ، ظلم ، استحصال اور نا انصافی کے استعارے کا درجہ دینے والا محمود درویش جا چکا ہے۔ پینتیس برس پہلے چلّی کے شاعر پابلو نیرودا کی وفات کے بعد 9اگست 2008ءکی صبح امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں فلسطین کے ممتاز ترین شاعر محمود درویش کی موت دنیا بھر کے ان سب ادیبوں کے

Read more

نااہل پیادہ اور نالائق گھڑسوار

ملک عزیز میں ان دنوں پھر سے نااہلیوں کا موسم ہے۔ کہیں عدل کی غلام گردشوں میں نااہلی کے سرٹیفکیٹ بٹ رہے ہیں تو کہیں سیاسی زعما آئینی نکتے تراش رہے ہیں۔ کچھ معاملات اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ چکے اور باقی راستے میں ہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہے۔ بے یقینی کی ان ہواﺅں میں درویش معمولی تصرف کے ساتھ غالب نکتہ سنج سے رجوع کرتا ہے۔ ’میں غریب پرچہ نویس برسوں سے فکاہات اور مطائبات لکھنے پر مامور ہوا

Read more

لولے لنگڑے انصاف کی کہانی

جب ہدایت اتری تو سب سے پہلا حکم آیا ’پڑھو‘۔ اس کے بہت بعد سورة القلم نازل ہوئی اور قسام ازل نے قلم کی قسم اٹھانے سے پہلے حروف مقطعات میں سے ایک حرف رکھ دیا۔ حروف مقطعات کا قطعی معنی معلوم کرنا فانی انسانوں کا منصب نہیں۔ آپ کا نیاز مند مذہبی علوم میں درک نہیں رکھتا اس لئے زمینی معاملات بیان کرتا ہے اور نازک موضوعات پر رائے زنی سے گریز کرتا ہے۔ آج کچھ ایسی ہی مشکل

Read more

کچھ باتیں ظہیر کاشمیری کی

دسمبر 1994 کا دوسرا ہفتہ ختم ہو رہا تھا۔ موسم سرما کی پھیکی دھوپ میں لاہور کی لٹن روڈ کی سمت سے ایک جنازہ میانی صاحب کے قبرستان کی طرف آ رہا تھا۔ غم نصیبوں میں وہ نیاز مند بھی بوجھل قدموں سے شریک تھا جس نے جانے والے کی بزم طرب سے حیات کا سبق لیا تھا۔ ظہیر کاشمیری رخصت ہو رہے تھے۔ وہی ظہیر کاشمیری جس نے لکھا تھا، ’موسم بدلا، رت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘۔

Read more

یو ٹرن نہیں، اباﺅٹ ٹرن

پنجاب میں 28 مارچ کو عثمان بزدار کے استعفے کے بعد سے جو سیاسی عدم استحکام اور انتظامی تعطل پیدا ہوا تھا، امید کرنی چاہیے کہ آج شام یعنی 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے اس میں کسی حد تک ٹھہراو ¿ پیدا ہو جائے گا۔ غالب امکان یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی تحریک انصاف کی مدد سے وزیراعلیٰ منتخب ہو جائیں گے۔ تاہم اس خوش گمانی کے لیے زیادہ جگہ نہیں کہ صوبائی وزیراعلیٰ کا انتخاب

Read more

منگھو پیر کے مگر مچھ اور معلق شہر

نیاز مند کے انکسار کی لاج رہ گئی۔ گزشتہ کالم تحریر کیا تو پنجاب کے ضمنی انتخابات کی پولنگ شروع ہو رہی تھی۔ ’چپکا‘ رہا اگرچہ اشارے ہوا کئے۔ ہم تو سدا سے بے خبرہیں۔ اب کے کوئی پیش گوئی بھی نہیں کی۔ ابہام کی اس حکایت کو صنعت ایہام ہی راس ہے۔ انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے تو معلوم ہوا کہ سیاست زیر و زبر ہو گئی ہے۔ باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا۔ مصرع اولیٰ اس

Read more

ضمنی انتخابات: آفتِ فالِ نظر نہ پوچھ….

استاد نے شاعر اور شعر کی پہچان یہ بھی بتائی تھی کہ ہاتھ پتھر تلے آ جائے یا سرخوشی کا عالم ہو تو شاعر ققنس کی مانند زندہ ہو جاتا ہے اور اس کا شعر برسات کی پروائی کی طرح دلوں پر رم کرتا ہے۔ اب دیکھیے، غالب کے غیر متداول کلام کا یہ ٹکڑا کس قیامت کی گھڑی میں یاد آیا۔ آج جولائی 2022 کی سترہ تاریخ ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بیس نشستوں پر ضمنی

Read more

انصاف نامعلوم اور احتساب لاپتہ ہو گیا

نظریہ پاکستان، اسلامی نظام اور غداری کی طرح احتساب کی اصطلاح بھی ہماری تاریخ میں ایک پرچھائیں کی طرح ساتھ ساتھ چلی ہے۔ حیدر آباد ٹریبونل میں مرحوم ولی خان نے عدالت سے نظریہ پاکستان کی تعریف دریافت کی تھی۔ یہ سوال آج بھی تشنہ جواب ہے۔ اسلامی نظام کے بارے میں جنرل ضیاالحق اور ان کے عسکری رفقا کی حقیقی رائے جاننا ہو تو مرحوم ضیا شاہد کی کتاب ’باتیں سیاست دانوں کی‘ دیکھ لیجئے۔ غداری کا الزام عبدالغفار

Read more

ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا

برادر محترم فاروق سلہریا کی اشتراکی نصب العین سے وابستگی قابل رشک ہے۔ ایک حالیہ تحریر پر مزے کا عنوان جمایا ہے۔ ’ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے، نام چے گویرا کا لے رہے ہیں۔ ‘کشاں کشاں یہ جملہ درویش تک بھی پہنچا۔ عاجز نے رائے دی کہ ’چے گویرا اور ہٹلر میں یک گونہ مناسبت پائی جاتی تھی۔ فکر و عمل میں ایک کو شیطان اور دوسرے کو فرشتہ سمجھنا درست نہیں‘۔ خبر دینے والے دوست آزردہ ہو

Read more

دکھ کی تصویر کیسے بنائیں؟

آج چار جولائی ہے۔ ٹھیک 45 برس گزر گئے۔ 4 جولائی 1977 کی رات ہمارے ملک کی تاریخ، معیشت اور تشخص، سب بدل گیا تھا۔ امریکی عوام کے لئے چار جولائی یوم آزادی ہے۔ چار جولائی ہمارے لئے ایسی طویل رات کا آغاز تھا جس کی سحر ابھی نمودار نہیں ہوئی۔ ایک برس میں کل ملا کے 365 دن ہی تو ہوتے ہیں۔ وقت اور مقام بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ ستمبر کی 11 تاریخ سنہ 2001 میں اہل

Read more

ظہیر عباس اور گورنمنٹ کالج لاہور کا زوال

یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی۔ 1982 کا برس تھا اور دسمبر کا مہینہ۔ قومی تاریخ میں رائیگانی کے عہد سوم کو پانچواں سال گزر رہا تھا۔ خالق نے سورہ المزمل کی آیت 17 میں گمراہ دلوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، ’تم اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا‘ ۔ بے شک یہ اس روز قیامت کی طرف اشارہ تھا جو ’لوح ازل میں لکھا ہے‘ ۔ ہم فانی

Read more

پاکستان کیسے ترقی کرے؟

مرزا محمد سعید دہلوی دو زمانوں کا سنگم تھے۔ 1886 میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں علامہ اقبال سے تعلیم پائی اور اسی کالج میں احمد شاہ پطرس بخاری کو تعلیم دی۔ 1905 میں انیس برس کی عمر میں "خواب ہستی” کے عنوان سے ناول لکھا۔ اتفاق سے اسی برس مرزا ہادی رسوا کا ناول "امرائو جان ادا” بھی شائع ہوا۔ دونوں کی عمر اور علم میں جو فاصلہ تھا وہی دونوں تصانیف میں بھی ہویدا تھا۔ مرزا سعید

Read more

روشن آرا بیگم…. من ڈولے ہولے ہولے

پہلی لام کا ہنگام اپنے انت کو بڑھ رہا تھا۔ ہندوستان میں تحریک خلافت کی گونج تھی مگر کلکتہ کی گلیوں میں خیال کی سرگم بسی تھی۔ چتر وینا کی لے تھی۔ ستار کے تاروں کی جھانجھ تھی۔ وحشت کلکتوی کی غزل تھی۔ نذر الاسلام کا گیت تھا۔ ٹیگور بانی کا جادو بولتا تھا۔ محی الدین ابوالکلام آزاد کا خطبہ سنائی دیتا تھا۔ یہیں1917 میں ایک متوسط گھرانے میں وحیدالنسا پیدا ہوئیں۔ والد چوب کار تھے۔ لکڑی پر نقش و

Read more

بے بے، فیر آیا ای

اشارہ تو سالانہ بجٹ کی طرف ہے لیکن اس جملے کا حقیقی مفہوم جاننا ہو تو کسی بدیہ گو پنجابی دوست سے رابطہ کیجئے۔ آپ کے نیاز مند کو اردو نثر میں پنجابی نگینے جڑنے کا وہ ہنر ودیعت نہیں ہوا جو استاد مکرم عطا الحق قاسمی نے مبدا فیض سے بدرجہ اولیٰ پایا ہے۔ عابد علی عابد نے کہا تھا، اس بستی کے باغ اور بن کی یارو لیلا نیاری ہے۔ باوقار قوموں میں انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے

Read more

وزیر اعظم کی ہمالیائی غلطی

ہماری تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ عوام ادھر ادھر کے تماشوں میں الجھے تھے اور اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی سے کسی قانون، پالیسی یا محض انتظامی حکم کی مدد سے قوم کی تقدیر لکھ دی گئی۔ ایسی خبر ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہے تو صحافی اسے بڑی احتیاط سے غیر نمایاں انداز میں بیان کر کے اپنے فرض سے فارغ ہو جاتا ہے۔ برسوں بعد ببول کی ان شاخوں پر کانٹے نمودار ہوتے ہیں تو قوم کا دامن

Read more

’نمبردار کا نیلا‘ پھر کھل گیا

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد جو علاقے بھارت کے حصے میں آئے، 1941 ء کی مردم شماری میں وہاں مسلمانوں کی تعداد چار کروڑ 24 لاکھ تھی جو کہ 1951 ء میں تین کروڑ چون لاکھ رہ گئی۔ گویا ستر لاکھ مسلمان اپنی جنم بھومی سے رخصت ہوئے یا فسادات کی نذر ہو گئے۔ اس سے بڑا نقصان یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی مسلم آبادی اپنی سیاسی

Read more

یوم تکبیر سے متصل 29 مئی

بھائی یاسر پیرزادہ کا ظرف بڑا اور علم وسیع ہے۔ زندگی نے انہیں مشاہدات کی سیربین عطا کی تھی، انہوں نے ذاتی ریاضت سے اسے مقامات تدبر اور افادات عصر کی سطر مستحکم بخش دی۔ انہیں زیب دیتا ہے کہ قلم اٹھائیں اور کل دو کروڑ بیس لاکھ آبادی کے سری لنکا سے اپنے ملک کا موازنہ انیس و دبیر لکھ دیں۔ جی میں لہر اٹھے تو ہم ایسے مرغان قفس کو یورپ کی سیر کرائیں، خوبان مغرب کی ایسی

Read more

بیوہ ماں کے سوتیلے بچے اور…

عنوان میں ایک لفظ حذف کر دیا ہے۔ ایک ہندی نژاد لفظ استعمال کئے بنا بات نہیں بن رہی تھی اور اخبار اس لفظ کی اشاعت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اودھ کی تہذیب مٹ چکی۔ اب تو شاید کلکتہ میں دریائے ہگلی کے بائیں کنارے پر مٹیا برج کے آثار بھی کھنڈر ہو چکے ہوں گے۔ ایسے میں لکھنؤ کے محاورے کون سمجھے گا۔ کندہ ناتراش اکثریت کے جبر تلے سانس کا تاوان ادا کرنے والے کس کس کو

Read more

ایک پیج اور پتنگ بازی کے پیچ

مئی کی پچیس تاریخ ہے اور دن آدھے سے زیادہ نکل چکا ہے۔ ابھی تصویر کے خد و خال دھندلے ہیں۔ عمران خان خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے ہیلی کاپٹر میں پشاور سے کوئی 77 کلومیٹر کے فاصلے پر نوشہرہ ولی انٹر چینج پہنچ رہے ہیں جہاں سے وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کی قیادت فرمائیں گے۔ ولی انٹر چینج سے اسلام آباد کا فاصلہ 70 کلومیٹر ہے۔ (نوے کی دہائی میں پاکستان کی سیاست کو

Read more

اندھے کباڑی کے خواب

پرندے اس برس کتنے کم نظر آئے ہیں۔ بہار کے رنگ ماند ہوئے تو گرما کی صبحوں کا جادو بھی گویا کہیں کھو گیا ہے۔ انجیر کا پھل گرمی کی شدت سے شاخوں ہی پر ٹھٹھک گیا ہے۔ خوش رنگ سبز خوشوں نے گہرا کاسنی جامہ نہیں اوڑھا، دیس کے نوجوانوں کی طرح خوشی کی ناتمام آرزو میں سبزہ نودمیدہ سے محروم ہوئے اور پھر دیکھنے میں بے رنگ اور بھیتر میں بے رس ہو گئے۔ انگور کی شاخوں میں

Read more

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

حکومت میں کسی ذمہ دار عہدے دار نے ماحولیاتی تبدیلی اور موسم گرما کی غیر معمولی شدت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس برس ہم بہار کی رت سے گزرے بغیر ہی موسم گرما میں داخل ہو گئے ہیں۔ بات تو موسمیاتی تناظر میں کہی گئی تھی لیکن ہماری حالیہ سیاست کے پیچ و خم پر بھی پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ 1978 کے اکتوبر میں فیض صاحب نے لکھا تھا، ”اب کہ تو خزاں ایسی ٹھہری وہ

Read more

فوری انتخابات کیوں نہیں… دس وجوہات

ٹھیک ننانوے برس پہلے یعنی مئی 1923 ءمیں روس سے ہجرت کر کے نیویارک آنے والے ایک غریب یہودی جوڑے کے ہاں جوزف ہیلر (Joseph Heller) پیدا ہوا۔ انیس برس کی عمر میں امریکی ائر فورس میں شامل ہوا۔ اطالوی محاذ پر جوزف ہیلر نے ساٹھ سے زیادہ فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا لیکن اس کے جذبات جنگ مخالف ہی رہے۔ اس کا ذاتی احساس یہ تھا کہ جنگ میں شریک سپاہی گھر واپس لوٹنے کی شدید خواہش رکھتا ہے

Read more

پلکوں سے کرچیاں اٹھانے کا وقت

غالب خوش نصیب تھے کہ خواب ہی میں سہی، خیال کو خوشی سے معاملہ تو رہا۔ ہماری خاک پریشاں تو بیدل دہلوی کی لحد سے اٹھائی گئی۔ ہر کجا رفتم، غبار زندگی در پیش بود۔ درویش ایک مدت سے بے خوابی میں مبتلا ہے۔ ضمیر کا بوجھ اور کوتاہ قدمی کا ملال اپنی جگہ مگر آدھی درجن خواب آور دوائیں پھانک کے رات کے آخری پہر تکیے پر سر رکھتا ہوں تو دن بھر کی کلفت نیند کے منطقے میں

Read more

منقسم معاشرے کی نفسیات

جون کی 16 تاریخ تھی اور 1858 کا برس۔ امریکہ میں سینٹ کے انتخابات منعقد ہو رہے تھے۔ وسط مغربی ریاست الینوائے کے دارالحکومت سپرنگ فیلڈ میں ری پبلکن پارٹی کا کنونشن ریاستی امیدوار چننے کے لیے جمع تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ابراہم لنکن ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیفن ڈوگلس کا مقابلہ کرے گا۔ اس زمانے میں غلامی کا سوال امریکی سیاست کا محور تھا اور ابراہم لنکن کو غلامی کا دوٹوک مخالف سمجھا جاتا

Read more