ہمارا سماج اور جنسی گھٹن


qurb e abbasایک افسانے ’پرانا بیڈ‘ میں میں نے لکھا تھا، ”فطرت…. بہت کمینی گھوڑی ہے۔ لاکھ لگام کو ہاتھ میں رکھو، مگر کسی مقام پر تو ایسے منہ زور ہو جاتی ہے کہ اپنی مرضی کی راہ پر سر پٹ بھاگنے لگتی ہے۔ روکے نہیں رکتی۔ مارو چابکیں…. نہیں رکتی۔“

اہل دانش اتفاق کریں گے کہ ہم جنس کو اپنی زندگی سے کسی طور بھی ختم نہیں کرسکتے، اور نہ اس کو ہم ایک عرصہ تک پاکدامنی کے اسباق پڑھا کر فطرت میں سے نکال سکتے ہیں کیونکہ بھوک اور جنس دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ وقت پر انسان کے اندر احساس پیدا کرتی ہیں اور لمحہ بہ لمحہ یہ احساس شدت پکڑتا جاتا ہے۔ یہ بہت عام ہی بات ہے اور ہر ایک کے مشاہدے میں بھی رہی ہے کہ بھوک لگنے پر ہم کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر اس کا کچھ ہی دیر میں انتظام کر لیتے ہیں، اگر کھانا میسر نہیں ہے تو پھر اس کی شدت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا حالت بری ہوتی جائے گی اور ’بھوک‘ ہمارے ذہن پر پوری طرح سے مسلط ہو جائے گی، کسی قسم کا دوسرا کام ہم ٹھیک طرح سے نبھا نہیں پائیں گے اور اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک کچھ کھا نہ لیں۔ جنس کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

اگر ہم اس کو المیہ کہہ لیں تو کچھ زیادہ غلط نہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں ایک بچے کو جو اخلاقیات دی جاتی ہیں ان میں شروع سے ہی جنس کو شجر ممنوعہ کی طرح بتایا جاتا ہے۔ بچے کی ابتدائی عمر کے دو سے تین سال کے درمیان ہی اس کو اندازہ ہونے لگتا ہے کہ اپنے ہی جسمانی اعضا کو چھونا انتہائی غیر اخلاقی ہے۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی ہے تو ان اخلاقیات میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن میں انسان کی پیدائش، ماں باپ کے مابین تعلق اور اپنی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں سوالات ابھرنے لگتے ہیں۔ لیکن ستم یہ کہ ان کے جوابات کے لیے کسی سے رجوع کرنا اس کے لیے ناممکن ہے لیکن والدین کی توقع سے پہلے ہی بچے ان میں سے بیشتر باتیں جان جاتے ہیں اور پھر اس کا اطراف میں مشاہدہ بھی کرنے لگتے ہیں۔ والدین کے مابین تعلق،انسان کیسے پیدا ہوا، جسمانی تبدیلیاں یہ سب تصورات اس کے ذہن میں ان تمام زاویوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے جو والدین یا اساتذہ نے متعارف کروائے ہوتے ہیں نتیجتاً اس کے ذہن سے کسی گوشے میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ والدین اور اساتذہ یا اس کے بڑے اس سے جھوٹ بولتے ہیں اور غلط بیانی کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جنس کے حوالے سے کوئی بھی سوال، کسی قسم کا خیال ان کے سامنے رکھنے کی بجائے اس کو خود ہی ڈھونڈا اور سمجھا جائے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جنس پر مبنی ان خیالات کے لیے وہ دوسرے راستوں پر غور کرنے لگتا ہے۔ جہاں اس کی ملاقات بے سر و پا قسم کی توہمات سے ہوتی ہے۔ ان تضادات میں الجھنے کی وجہ سے اس کی نفسیات پر غیر معملولی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ طے کر لیتا ہے کہ؛

جنسی موضوعات پر بات کرنا گناہ ہے اور یہ ایک فحش اور انتہائی غیر اخلاقی افکار ہیں۔

نامعلوم سا ڈر اور دہشت اس کے سر پر ہمہ وقت مسلط رہتے ہیں۔

باتوں کو منطقی انداز میں سوچنے کی اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے۔

رویے میں دوغلہ پن اور منافقت پیدا ہوجاتی ہے۔

ان سب باتوں سے زیادہ منفی اثر یہ کہ وہ اپنا بیشتر وقت جو کہ تخلیقی صلاحیتوں کے نشونما پر صرف ہونا چاہیے تھا، جنس کے بارے میں سوچنے میں گزار دیتا ہے جس کے باعث اس کی ذہانت صحت مند انداز میں زیادہ آگے نہیں جاسکتی۔

اس کے بالغ ہونے اور شادی کرنے کے درمیان ایک طویل عرصہ ہے اور اس عرصہ کے دوران اس کی نفسیات میں جنس کے حوالے سے کئی تجربات توہمات کو مکمل طور پر راسخ کر دیتے ہیں، اس کا جسم اپنے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دباﺅ ڈالتا ہے۔ یہ وہ عرصہ ہے کہ جس میں وہ مجبوراً اپنی اس بڑھتی ہوئی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے راستوں کی تلاش پر نکلتا ہے۔ ہمارے سماج میں عام طور پر اس کے پاس دو راستے زیادہ آسان ہیں، ہم جنس کے ساتھ تعلقات قائم کر لینا اور خود لذتی ۔ یہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ بہت کم ایسے لڑکے لڑکیا ں ہوتے ہیں کہ جنہیں ایسے دور میں مخالف جنس کے لوگ مل جائیں اور وہ ان کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کر سکیں۔گو کہ خود لذتی بھی اس قدر خطرناک یا مضر نہیں ہے جتنا اس کے ساتھ جڑی توہمات بتاتی ہیں۔بلکہ یہ ان توہمات کی وجہ سے لڑکوں کو جسمانی سے زیادہ نفسیاتی مریض بنا دیتی ہیں۔

ہم جنسی تعلقات ہوں ، مشت زنی یا مخالف جنس کے ساتھ تعلقات…. تینوں صورتوں میں اس کے ذہن میں جنس کے حوالے سے موجود توہمات ڈر اور احساسِ گناہ کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ وہ جیسے جیسے جنسی خیالات کے اس جھکڑ کی زد میں آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی شخصیت میں ندامت کا اضافہ اور خود اعتمادی میں کمی آتی جاتی ہے جس کی بنا پر وہ والدین اور دیگر قریبی لوگوں سے فاصلہ بنائے رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اپنی افکار اور حرکات سکنات سے خود بھی اتنا غیر مطمئن ہوتا ہے کہ دوسروں سے ان کو چھپانے کی کوشش میں عجیب طرح سے ری ایکٹ کرتا ہے۔ اور یہاں پر اس کی شخصیت میں منافقت سب سے زیادہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔

یہی راستے اس کو جسم فروشوں تک بھی لے کر جاتے ہیں اور ایسے تجربات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہوا کرتے۔ ایک تو بیماریوں کا خطرہ ہے دوسرا یہ کہ وہ جنس اور پیسے میں کوئی ایسا رشتہ بنا لیتا ہے کہ اسے شادی کے بعد بیوی بھی کسی بیسوا جیسی یا اس کے قریب قریب دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب لڑکیاں تمام عمر پاکدامنی کے تقاضے نبھاتے نبھاتے شادی کے بعد بھی جنسی لذت سے محرومی جیسا استحصال سہتی ہیں اور اپنے وجود کو خوشی سے خالی کر کے بنجر بنا لیتی ہیں…. ان کے ہاں اس فطری جذبے کے حسن کی موت واقع ہوجاتی ہے صرف سیکس رہ جاتا ہے جو کہ وقتی رنگینی، گناہ اور فحاشی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھا جاتا۔

والدین کا اپنے بچوں سے یہ توقع رکھنا غلط ہے کہ ان کی اولاد مکمل طور پر پاکدامن بن جائے اور ہر طرح سے جنسی خواہشات کو ختم کر دے اور ان کے بارے میں بات تک بھی نہ کرے۔ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ غلط فہمی بھی بہت بڑی ہے کہ ان کے بچے ایسا کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہیں۔جنسی خواہشات ہر صورت اپنی تکمیل کے لیے راستہ تلاش کر ہی لیتی ہیں، وہ راستہ درست ہے یا غلط یہ نہ بچے جانتے ہیں نہ فطرت…. اور بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ابھی تک اس سطح پر آکر سوچنے کے قابل نہیں ہوا کہ جو کام منافقت کے اندھیرے کمرے میں کیے جاتے ہیں ان کا کھل کر اعتراف کیسے کیا جائے یا کس مناسب انداز میں ان کو اپنی راہ ہموار کرنی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ بھوک ختم کرنے کے لیے کھانے کے عمل سے تو بہرحال گزرنا ہی پڑے گا۔ ہم اس مقام پر بھی نہیں ہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کو آزادی دیں کہ وہ بلوغت کے بعد ایک دوسرے سے جنسی تعلق رکھ سکیں۔

لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ہم جنس کے ساتھ جڑے گناہ، فحاشی یا بد فعلی کے تصورات کو ختم کردیں۔

اس کے لیے سب سے پہلا قدم والدین کی جانب سے اٹھنا ضروری ہے۔ وہ جنس پر عام موضوع کی طرح بات کرنے کی جرات پیدا کریں۔ بالکل ایسے جیسے وہ زندگی کے عام معاملات پر ہلکے انداز میں بات چیت کرتے ہیں۔تاکہ بچوں کے لیے جنس کسی الجھن کی بجائے نہایت غیر پیچیدہ اور سادہ سا موضوع بن کر رہ جائے۔ ایسا کرنے سے جنسی گھٹن میں کمی آئے گی اور بچوں کا وہ وقت بچ جائے گا جس میں اس کے ذہن کو کسی تخلیقی صلاحیت کے پالش ہونے میں صرف ہونا ہے۔ ہمیں بچوں سے پیدائش کے عمل، ماں باپ کے مابین تعلق اور بچوں کی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کے سوالات کو کسی صورت بھی غیر اخلاقی، فحش یا غیر مہذب کہہ کر رد کرنے کی بجائے مناسب انداز میں جواب دینے میں ہی بہتری ہے۔ یہ احساس ان کے اندر زندہ رہنا چاہیے کہ جنس قطعی طور پر کوئی گندا موضوع نہیں ہے اور اس پر بات کرنا بالکل ایک فطری امر ہے۔

تعجب ہے کہ تعلیمی اداروں کے عام نصاب میں تصورِ گناہ کے باعث جنسی معلومات کا کہیں ذکر نہیں، جبکہ میڈیکل سٹوڈنٹس کو عام تشریح الاعضا (Human Anatomy) کی تفصیل مہیا کی جاتی ہے تاکہ بطور ڈاکٹر متاثرہ افراد کا علاج کر سکیں۔ کیا میڈیکل سٹوڈنٹس لڑکے لڑکیاں زیادہ گمراہ یا جنسی بدکاری میں ملوث پائے جاتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو صحت مند جنسی معلومات اتنی ہی اہم ہیں جتنی آنکھ، ناک، کان، دل، گردے، پھیپھڑے جگر کے لیے ضروری ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ان معلومات سے محروم بچے غلط طریقے اپنا کر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، یہ احساس گناہ ان ان کی شادی شدہ فیملی لائف کو بھی ناکام و بے سکون کیے رکھتا ہے۔ اسی لیے آج کل میڈیا پر جنسی کمزوری کا شرطیہ علاج، ایک ہفتے میں جوانی واپس، عربی طلا، سات پٹیاں جیسے اشتہارات تواتر کے ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں اور ان پر فحاشی کا کوئی الزام بھی نہیں لگتا۔

انٹرنیٹ کی آمد نے پورن سائٹس بھی مہیا کر دی ہیں جو اسٹوڈنٹس کے موبائلز پر بہ آسانی دستیاب ہیں، آج کے تیزی سے بدلتے دور میں حکومتی قائدین اور ماہرین تعلیم کے لیے زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ ٹیکنالوجی سے جنگ آزماہونے کی بجائے جنس کو باقی زندگی کی طرح قدرت کا عطیہ تسلیم کریں۔ اسے نارمل سمجھیں اور نصاب کے ذریعے بچوں کی رہنمائی کریں کہ اس سے ایڈز اور ہیپٹائٹس جیسی ناقابل علاج مہلک بیماریاں لگ سکتی ہیں، سکینڈل بن سکتے ہیں جو خاندانی، معاشرتی زندگی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں بطور ایک معاشرہ اب یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ جنس کو مزید بدصورت بنا کر پیش کرنے میں ہمارا ہی نقصان ہے۔

اگر ہمیں بڑھتی ہوئی جنسی گھٹن، بے راہ روی، جھوٹی اخلاقیات اور منافقانہ ماحول سے آزادی حاصل کرنی ہے تو جنس کی تعلیم کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ادبیات اور منطقی سوچ میں نکھار کے لیے ہمیں جنس کا اصل چہرہ دکھانا ہوگا…. وہ اصل چہرہ جو زندگی میں خوشی پیدا کرتا ہے، جو ادب میں جمالیات کو جنم دیتا ہے، جو المیہ کی گہرائی میں اتر کر سوچنے کی اہلیت پیدا کرتا ہے، جو محبت کو جنم دیتا ہے…. جو گھٹن کو ختم کرتا ہے…. جو انسان کو احترام دیتا ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ہمارا سماج اور جنسی گھٹن

  • 05-04-2016 at 1:06 pm
    Permalink

    بہت خوب۔ بہت اہم مسئلے پر بہت عمدہ تحریر ہے۔ خوش رہئے۔

  • 05-04-2016 at 5:01 pm
    Permalink

    بہت اہم موضوع ہے۔ہمارے مولانا حضرات جو بچوں کو جنس آگاہی کی تعلیم دینے کے مخلاف ہیں، انکے اپنے نصاب میں بہت کچھ موجود ہے-مقامات حریری، درس نظامی کی نصابی کتاب ،جسکو ایک مولوی طالب 16 سال کی عمر میں پڑھتا ہے، اسکا مرکزی کردار، زید سروجی ایک لڑکے کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے-اسی طرح دوسرا لٹریچر بھی ہے-مگر عوام کو گناہ و ثواب کی زنجیروں میں باندھ رکھا ہے-

  • 06-04-2016 at 9:26 am
    Permalink

    Thanks for writing on such an important topic. Although we are part of a society where it is becoming harder and harder to talk about any topic which make a religious clergy suspicious. We can see the stunt growth of our society just because asking question is considered a sin. But I am glad and sure that you and people like you will change the mindset of our society. We need courage to say the truth.

  • 06-04-2016 at 12:29 pm
    Permalink

    جن موضوعات پر بات کو اب شجر ممنوعہ سمجھ لیا گیا ہے ، یہ ہمارے ٹائم پر بھی کانونٹ سکول میں ایک علیحدہ پریڈ میں پڑھائے جاتے تھے ، بچوں کی بے راہروی کا گلہ استاد بھی کرتے ہیں اور والدین بھی انھیں پاکباز بنانا چاہتے ہیں تو یہ دونوں اہم افراد بچوں کے ذہنوں کی گھتیوں کو سلجھانے کا فریضہ ہی ادا کر لیں ۔۔۔تو نہ ہی کوئی خود کشی کرے اور نہ ہی کوئی گھر سے بھاگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.