آسٹریا کا سات ’سیاسی مساجد‘ کو بند اور اماموں کو ملک بدر کرنے کا اعلان


آسٹریا

آسٹریا نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی سات مساجد کو بند اور اماموں کو ملک بدر کر دے گا۔ چانسلر سیباسٹین کروز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’سیاسی اسلام‘ کے خلاف کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق انھیں شک ہے کہ کچھ مساجد کا تعلق ترکی کے قوم پرستوں سے ہے۔ اپریل میں سامنے آنے والی تصاویر میں بچوں کو ترک فوج کے لباس میں تقریباً ایک صدی پہلے لڑی جانے والی گیلی پولی جنگ کے مناظر کو دہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے دفتر نے آسٹریا کے اس اقدام کو ‘اسلام و فوبیا’ یا اسلام سے وحشت، نسل پرست اور امتیازی‘ قرار دیا ہے۔ ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالن نے ٹوئٹر پر آسٹریا کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے 60 سے 260 اماموں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ان میں سے 40 کا تعلق اے ٹی آئی بی نامی ایک مسلم گروہ سے ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ترک حکومت کے قریب ہے۔ آسٹریا کے چانسلر سیباسٹین کروز نے جمعے کو کہا کہ ’متوازی برادریوں،سیاسی اسلام اور انتہا پسند رحجانات کی اپنے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘ آسٹریا کی حکومت عرب مذہبی کمیونٹی کے نام سے قائم ایک تنظیم کو تحلیل کر رہی ہے۔

یہ تنظیم بند ہونے والی چھ مساجد کو چلا رہی ہے۔ ان میں تین مساجد ویانا، دو اپر آسٹریا جبکہ ایک کارتینیا میں واقع ہے۔ آسٹریا کے چانسلر سیباسٹین کروز نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم میں امیگریشن اور مسلمانوں کے پھیلاؤ کے بارے میں تشویش پر زور دیا تھا۔ سیباسٹین کروز کی جماعت کنزرویٹو پیپلز پارٹی نے آسٹریا میں فار رائٹ فریڈم پارٹی کی مدد سے مخلوط حکومت بنائی تھی۔

آسٹریا کے چانسلر چاہتے ہیں کہ یورپی یونین ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دینے کے بارے میں جاری مذاکرت ختم کر دیے۔ ترکی کے صدر طیب رجب اردوگان نے آسٹریا کے اس موقف پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ ترکی نے مئی سنہ 2017 میں آسٹریا کے نیٹو کے ساتھ تعاون کو ویٹو کر دیا تھا۔اس اقدام نے نیٹو کی 41 ممالک کے ساتھ شراکت داری کی سرگرمیوں کو متاثر کیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4841 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp