پاکستان کا سوامی اوم جی


\"\"چند دن پہلے ہمسایہ ملک کا سوشل اور الیکٹرانک میڈیا سوامی اوم جی کے زیر اثر تھا۔ سوامی جی جو کہ ایک ریالٹی شو میں بطور مہمان شریک ہوئے اور اپنی کچھ غیر مہذب حرکات کی وجہ سے بے دخل کئے گئے۔ پروگرام سے بے دخل ہوتے ہی سوامی جی نے عجیب وغریب انکشافات کا سلسلہ شروع کیا، کبھی فلمسٹار سلمان خان کو تھپڑ مارنے کی بات کی، تو کبھی سونیا گاندھی کی پٹائی کرنے کا دعویٰ کیا، خواتین پر منشیات استعمال کرنے کے الزام بھی لگایا، اور تو اور بہت سی ہندی، تامل اور انگریزی فلموں کی کامیابی کا سہرا بھی اپنے سر رکھ لیا۔ خبروں اور ٹاک شوز میں سوامی جی کے دعوؤں اور الزامات نے بہت پزیرائی حاصل کی۔ سوامی جی گاہے بگاہے براہ راست شوز میں لوگوں کی تفریح کا سامان بھی کرتے۔ کبھی پانی کا گلاس میزبان پر انڈھیل دیتے تو کبھی رونا شروع کر دیتے۔ کبھی لغو گوئی سے حاضرین و ناظرین کی دلجوئی کرتے تو کبھی لڑائی جھگڑا کرتے۔ ایک پروگرام میں تو خاتوں مہمان کے ساتھ ہاتھا پائی ہو گئی۔ غرض سوامی اوم جی میڈیا کی جان بنے رہے۔ مگر مکافات عمل سے بچ نہ سکے، ان پر سائیکل چوری سمیت کئی الزامات لگے۔ ان کی اپنی مذہبی برادری نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ڈھونگی بابا کا لقب عطا کیا۔

چلئے اب ملتے ہیں پاکستان کے سوامی اوم جی سے۔ یہ صاحب بھی مذہب کا سہارا لے کر الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بنے۔ انہوں نے مذہبی اور تفریحی دونوں طرز کے پروگراموں میں مقبولیت حاصل کی۔ یہ صاحب بھی براہ راست پروگراموں میں لغویات سے حاضرین و ناظرین کے لیے کوفت کا سامان بنے رہے۔ جس چینل کو چھوڑتے اس کے خلاف الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیتے۔ آپ بھی طبیعت کے کافی جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ چند روز پہلے تک تو آپ مختلف چینلز پر پاکستان کے خلاف نعرے بلند کرنے والوں کا دفاع کر رہے تھے کہ اچانک آپ نے ایک نئے ٹی وی چینل کے ساتھ وابستگی اختیار کر کے مشرف بہ پاکستان ہونے اعلان کیا اور صدا بلند کی \”ایسا نہیں چلے \"\"گا\”۔ آپ نے صحافت کے عالی اصولوں کو پاؤں میں روندھتے ہوئے دائیں اور بائیں دونوں بازؤں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر الزامات کی بارش کی۔ اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آپ نے صحافیوں کی تضحیک کی غرض سے ان کے نام بھی بگاڑے (گوگل بابا، رل گئے بابا، چڑی بابا اور چوہدری بابا وغیرہ)۔ مگر دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والوں کے اپنے کپڑے کب صاف رہتے ہیں۔ آپ پر بھی گستاخی کے الزامات آپ کی اپنی مذہبی برادری کی طرف سے لگائے جا چکے ہیں۔ پیمرا کی طرف سے بھی آپ کا پروگرام بند کر دیا گیا ہے۔ صحافتی دنیا میں تنہائی کا شکار ہیں مگر مذہبی لبادہ ابھی بھی آپ کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے ہے۔

آزادیِ رائے آپ کا بنیادی حق ہے۔ مگر آپ کی آزادی کی حد میری ناک کی حد تک ہے، آپ چاہے میڈیا پر مذہبی تبلیغ کریں یا سیاسی شعور کی بیداری کے لئے آواز اٹھائیں آپ کو آزادی ہے مگر کوئی مذہب یا قانون آپ کو بے بنیاد الزامات اور تضحیک کا حق نہیں دیتا۔ خیال رہے آخر میں یہی نہ ہو جائے کہ سوامی اوم جی کی طرح آپ بھی اکیلے رہ جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد مدثر کی دیگر تحریریں
محمد مدثر کی دیگر تحریریں