خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے


\"adnan

واقعی ممدوح مکرم کی خامہ فرسائی کا کوئی جواب نہیں ۔ مشاق تیشہ زن کی طرح قلم کا بسولا یوں چلاتے ہیں کہ قلب ونظر کو چھیل ڈالتے ہیں۔ کلیل میں غلیل ڈالنا موصوف کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جدیدیت اور لبرل ازم کے کھلم کھلا دعویدار ہی نہیں بلکہ اس کے پاسدار بھی ہیں۔صحافتی ذمہ داری اور غیرجانبداری کے پیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہیں، تاہم گاہ بہ گاہ ذمہ داریوں کی کھکھیڑیں اٹھانا بھول جاتے ہیں۔ ذاتی تعلق کی بنا پر ان کا یہ کمال گنوایا جا سکتا ہے کہ برافروختگی ان کے مزاج سے کوسوں دور اورعدم برداشت ان کے مذاق کا حصہ نہیں۔ دوسری جانب ایسے سخن پرور موصوف ہیں کہ جن کی ہر بات اسلام سے شروع ہوکر اسلام ہی پر ختم ہوتی ہے۔ متعدد مرتبہ تن تنہا اسلام کا دفاع کرتے پائے گئے ہیں۔ فحاشی، عریانی اور لچر بازاری سے دلبرداشتہ مذہبی بیانیہ قوم کے سامنے رکھنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ مگر جانبین سے المیہ یہ ہے کہ ایک طرف سے لبرل ازم کا دفاع کیا جاتاہے تو دوسری جانب سے اسلام کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ صدیاں بیت گئیں ملا ومسٹر کی خلیج پاٹنے میں ۔ ملا ومسٹر قریب ہی تھے کہ باہم مل کر کوئی بزم سجاتے کہ یکایک لبرل اور اسلام پسند کے روڑے درمیان میں اٹک گئے۔ چہار سوپھبتیوں کے جلو میں اپنے اپنے نظریات منوانے اور ذوق مسلط کرنے کی سعی لاحاصل ہورہی ہے جو کسی طور بھی ملک وملت کے لیے سود مند نہیں۔

ملک کے کثیر الاشاعت روزنامہ میں قوم کی بازیابی کا سوال اٹھاتے ہوئے ممدوح مکرم نے اسلامی کالم نگار کو لبرل قلم کار کی جانب سے قائد اعظمؒ کے افکار ونظریات کا تحفہ بھیجا ہے جو اس معنی میں تو خوش آئند ہے کہ قوم کو دوسرا زاویہ نگاہ بھی میسر آ گیا ۔ لیکن الجھن ہنوز برقرار ہے کہ صحافتی غیر جانبداری کہاں گھاس چرنے چلی گئی تھی ۔کیا وہ زائد المیعاد ادویہ کی مانند ناقابل استعمال ہوکر پھینک دی گئی یا پھر اسے ہم برتنا بھول گئے ہیں کہ ہر ایک اپنی بولی اور اپنی مسجد ومندر کا دفاع کرتا نظر آتا ہے ۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ 2 نومبر 1941 ءکی تقریر میں قائداعظم نے برملا پاکستان کے مذہبی ریاست ہونے سے انکار کیا تھالیکن ساتھ یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ 1943 ءکو مسلم لیگ کے آخری اجلاس بمقام کراچی میں نواب بہادر یار جنگ نے جلسے کی آخری تقریر میں قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قائد اعظم ! یہ بات آپ واضح طور پر سن لیں کہ اگر پاکستان کا دستور قرآن وسنت کے منبع فیض سے سیراب نہیں ہوگا تو اس کی حیثیت مسلمانوں کے لیے پرکاہ کے برابر بھی نہ ہوگی ۔ اس پر قائد اعظم نے زور سے میز بجاتے ہوئے فرمایا کہ یہ دستور قرآن وسنت کے مطابق ہوگا۔اس میں کوئی دورائے نہیںکہ1946 ءکو اگر بابائے قوم نے ڈون کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاتھا کہ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ (حاکمیت اعلیٰ) عوام ہوں گے تو دوسری طرف اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ 2جنوری 1948ءکو کراچی میں اخباری نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام واصول ہیں۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست ومعاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کرسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام واصولوں کی حکومت ہے ۔4فروری 1948 ءکو سبی بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ ہماری نجات اسوہ¿ حسنہ پر چلنے میں ہیں جو ہمیں قانون عطاکرنے والے پیغمبر اسلام نے بتایا ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ یکم فروری 1948 ءکو امریکی عوام سے ریڈیو خطاب میں بابائے قوم نے فرمایا تھا کہ پاکستان ایک ایسی مذہبی ریاست نہیں بنے گا جس میں ملاو¿ں کو مذہبی نصب العین کی روشنی میں حکومت کرنے کا اختیار ہو۔لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب مشرقی پاکستان کے ابوالہاشم نے قائد اعظم سے دریافت کیا کہ آپ کے ذہن میں مملکت پاکستان کا تصور کیا ہے؟ قائد اعظم نے سوال غور سے سنا اور نہایت ہی اعتماد سے گویا ہوئے کہ یہ مملکت یقینا اسلامی ہوگی اور میرا ایمان ہے کہ قرآن کریم ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ ملاو¿ں سے خط وکتابت اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے قائد اعظم کو تین باتیں لکھیں تھی کہ نماز پڑھا کریں، قرآن پڑھنا سیکھیں اور داڑھی رکھیں ۔بابائے قوم نے جوابی خط میں لکھا کہ نماز تو پڑھتا ہوں ، قرآن بھی استاد سے باقاعدہ پڑھ رہا ہوں ، داڑھی کے متعلق دعا کیجئے ۔

ستمبر 1947 ءمیں بھارتی ہائی کمشنر سری پرکاش اور قائد اعظم کے درمیان ملاقات میں ان تقاریرپر گفتگو ہوئی جن میں پاکستان کے اسلامی ریاست ہونے کا عندیہ دیا گیا تھا جس پر قائد نے سرے سے انکار کردیا ۔ ممکن ہے کہ یہ بھی سچ ہو لیکن یہ بھی تو ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب قائد اعظم بستر مرگ پر تھے تو اس زمانے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سربراہ کرنل الٰہی بخش اور پروفیسر ڈاکٹر ریاض علی شاہ ان کے ذاتی معالج تھے ۔دونوں حضرات ان کے اس بیان کے گواہ ہیں ۔ بیماری کی حالت میں کہنے لگے کہ آپ لوگ اندازہ نہیںلگاسکتے کہ پاکستان قائم ہونے سے مجھے کس قدر اطمینان وسکون ہے۔ اب آگے یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ یہاں اس ملک میں خلافت راشدہ کا نظام قائم کریں۔ 13اپریل 1948 ءکو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔ یکم جولائی 1948 ءکو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔1947 ءکو انتقال اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماو¿نٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں شہنشاہ اکبر کو نمونہ کے طور پیش کیا تو قائد نے بر جستہ کہا کہ ہم پاکستانی حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان کا نظام چلائیں گے۔

مذکورہ بالا تقاریر اور اعترافات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام، لبرل ازم اور ریاست کے متعلق قائد کا ویژن انتہائی واضح تھا۔ ممدوح مکرم کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ قائد اسلامی و مذہبی ریاست نہیں چاہتے تھے ۔ اصل مسئلہ قائد اعظم ؒ کے اسلامی یا لبرل ہونے کا نہیں بلکہ اصل جھگڑا ہمارے اپنے افکار ونظریات کا ہے ۔ ایک طبقہ مذکورہ بالا تقاریر کی بنا پر بابائے قوم کو کٹر اسلامی قرار دینا چاہتا ہے تو دوسرا طبقہ ممدوح مکرم کے دلائل کا سہارا لے کر قائد کو ٹھیٹھ لبرل دیکھنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہونے لگ پڑتے ہیں۔ یہ تو خد اکا شکر ہے کہ پاکستان میں بابائے قوم پر تحقیق ممنوع ہے وگرنہ ہماشما رطب ویابس سے بھر پور ایسے ایسے مقالے تیار کرتے کہ الامان والحفیظ۔ملا ومسٹر کی خلیج پاٹنے کے بعد اب ہمیں سنجیدہ اور پائیدار مکالمے کے ذریعہ اسلام اور لبرل ازم کی خلیج بھی ختم کرلینی چاہیے۔ افراط وتفریط اور جانبین کی انتہا پسندی سے بچتے ہوئے اعتدال والے وصف کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے کہ جو اس امت کا خاصہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

  • 11-02-2016 at 3:53 pm
    Permalink

    آج کل کامریڈ چودھری فتح محمد کی خودنوشت سوانح پڑھ رہا ہوں. اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جیل میں قیام کے دوران انہوں نے فیض صاحب سے علامہ اقبال کی شاعری میں موجود تضادات کے بارے میں پوچھا، تو فیض صاحب نے بتایا کہ علامہ کی شاعری کو سمجھنے کے لئے اس دور کی موچی دروازے کی سیاست کو سمجھنا ضروری ہے. علامہ احرار، کانگریس، مسلم لیگ، جس کسی کے جلسے میں تقریر سے متاثر ہوتے، اسی کیفیت میں نظم لکھ ڈالتے. قائد اعظم سے منسوب درج بالا بیانات کی روشنی میں اس سے کچھ ملتا جلتا تاثر ملتا ہے. ایک جانب گیارہ اگست کی مشہور تقریر اور دوسری جانب اگلے ہی سال سبی کے میلہ مویشیاں کی تقریر.. ایک سے سراپا سیکولرزم متبادر ہوتا ہے، دوسری سے کٹر اسلامی سیاست.. ناطقہ سر بہ گریباں ہے..

  • 11-02-2016 at 9:12 pm
    Permalink

    شکر ہے کہ آپ گیارہ اگست کی تقریر کے علاوہ کہیں اور کی گئی تقریر کو اہمیت دینے پر امادہ تو ہوئے، ورنہ تو ہمیں لگتا تھا کہ شائد قائد مریخ سے گیارہ اگست کی صبح تشریف لائے تھے،اپنی فقید المثال تقریر کے بعد اسی شام کو فلائیٹ پکڑ کر واپس چلے گئے اور پھر کبھی کسی سے کلام نہیں کیا۔ حضور تضادات کا معاملہ نہیں، درست تناظر میں بات کو دیکھنےکا ہے۔

Comments are closed.