مشال خان کا قاتل کون ؟


سننے میں آ رہا ہے کہ مشال خان کے قاتلوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ہم سب ہی قانون کے مطابق ان کو سزا ملنے کے منتظر ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا مشال خان کے قاتل صرف اس وحشی جتھے کے وہ چند انسان نما بھیڑیے ہیں؟ اور کیا ان کو سزا دینے سے کل کوئی اور مشال اس بربریت کا شکار نہیں ہوگا؟ اور پھر کون جانتا ہے کہ ان کو بھی سزا ہوگی یا نہیں؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کے وحشیانہ رویے کی وجوہات کے خاتمے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ جس معاشرے میں قاتل کی قبر پر مزار کھڑا کیا جائے، اسے مذہبی ہیرو کے طور پہ پیش کیا جائے، عاشق جیسے القابات دیے جائیں اور اس کی شان میں قصیدے پڑھے جائیں اس معاشرے میں اس قسم کے واقعات کسی تعجب کا باعث نہیں۔ جہاں اس رویے کی سخت تردید کی جانی چاہیے تھی وہاں ہمارے مذہبی علما نے نہ صرف اس کی بھرپور حمایت کی بلکہ ایک قاتل کی جنت کے ضامن بھی بن بیٹھے۔

اس ردِ عمل نے اس قسم کی شدت پسندی کو مزید فروغ دیا ہے۔مذہب ہمیشہ سے ہی اس خطے کا جذباتی مسئلہ رہا ہے،مذہبی عقیدت کے تحت لوگ اپنے علما کی باتوں کو بے حد سنجیدہ لیتے ہیں اور اس طرح کا رویہ یقیناً لوگوں کے دلوں میں شدت پیدا کرتا ہے جس کا نتیجہ یہی یا اس سے بھی بد تر ہو سکتا ہے۔ مذہب کے نام پہ قتل و غارت روز بروز بد ترین شکل اختیار کر رہی ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کے اقدام تو دور، بات کرنا بھی محال ہو چکا ہے- بلاسفیمی کے قانون میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں بتائی جاتی۔ علما منظر عام پر آ کر ایسے رویے کی تردید نہیں کرتے، ایسے کسی شخص کے خیالات کی مذمت نہیں کرتے، ہر کوئی آواز اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگلا شکار وہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سب کے درمیان کیا محض قاتلوں کی گرفتاری کوئی بہتری لا سکتی ہے؟

قاتلوں کو سزا دینا بے شک اس شدت پسندی کے خلاف ایک مثبت قدم ہے مگر کیا یہ کافی ہے؟ اگر ہاں تو سلمان تاثیر کے بعد مشال خان    کیوں؟ اگر نہیں تو اگلا کون؟ آئیےجون ایلیا  کو پڑھتے ہیں۔۔۔

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے

دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے

یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات

ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے

ہے عجب کچھ معاملہ درپیش

عقل کو آ گہی سے خطرہ ہے

شہر غدار جان لے کہ تجھے

ایک امروہوی سے خطرہ ہے

ہے عجب طورِ حالتِ گریہ

کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے

حال خوش لکھنو کا دلّی کا

بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے

آسمانوں میں ہے خدا تنہا

اور ہر آدمی سے خطرہ ہے

جون ہی تو ہے جون کے درپے

میر کو میر ہی سے خطرہ ہے

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
مہک فاطمہ کی دیگر تحریریں
مہک فاطمہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں