فرزانہ ناز کا تعزیتی ریفرنس: ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے


سب کچھ وہی تھا۔۔۔ تاریخ، وقت، جگہ، مہمان، ناظم  اور تبصرہ نگار۔۔۔ بس فرزانہ ناز کی کمی تھی۔ جس کرسی پر فرزانہ کو بیٹھنا تھا وہاں اس کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ شہنائیاں ماتم میں ڈھل گئی تھیں۔ ہر دل سوگوار تھا۔ ہر آنکھ آشک بار تھی۔ سارے لہجے رندھے ہوئے تھے۔ خوشی کی تقریب سسکیوں سے شروع ہوئی اورسسکیوں پر ختم ہوئی۔

خوش قامت اور خوش خیال فرزانہ ناز کے شعری مجموعے ”ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے” کی تقریب 3 مئی 2017 کو ہونا تھی لیکن فرزانہ ناز 24 اپریل کو کتاب میلے میں حادثاتی موت کا شکار ہو گئی۔ ہجرت لپٹنے اور  شوق سے مرنے کی بات کرنے والی آخر بچھڑ گئی اور کتاب کی  تقریبِ رونمائی کو تعزیتی ریفرنس میں بدل گئی۔

جانے سرگودھا کی مٹی میں کیا خاصیت ہے کہ وہاں کھلنے والے اکثر پھولوں میں شعر کی خوشبو ہوتی ہے۔ بھلوال کی  فرزانہ شاعری میں دیوانہ وار آگے بڑھ رہی تھی۔ ایک ڈیڑھ سال میں اس نے کافی سنگ میل عبور کر لیے تھے۔ وہ ہر ادبی تقریب میں شرکت کرتی تھی، اپنی کتاب پیش کرتی اور  یادگاری تصاویر بناتی۔ آخر خود تصویر بن کر اپنے شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں  صدارت کی کرسی پر جا بیٹھی۔

اپنے مختصر سے ادبی سفر میں اس نے لوگوں کے دلوں میں  اتنی جگہ بنا لی کہ تقریب میں حاضرین کی قابلِ رشک تعداد بیٹھی ہوئی تھی۔  راولپنڈی اسلام آباد کی زیادہ تر تنظیموں کی نمائندگی  موجود تھی۔ تقریب میں سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی نے بھی شرکت کی۔

فرزانہ کے شریکِ حیات بشیر اسماعیل بتا رہے تھے کہ ”وہ رات بھر جاگتی رہتی تھی” کہ کہیں نیند خوش گمانی کی تتلیوں کو بے موت نہ مار دے۔ اسے کیا خبر تھی کہ یہ خوبصورت آنکھیں مستقل بند ہونے والی ہیں۔

تقریب کی ناظم محبوب ظفر کی اس یاددہانی کے باوجود  کہ کسی غیر  مناسب بات  سے اجتناب کیا جائے، نیشنل  بُک فارنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹرانعام الحق جاوید کےاظہار خیال کے  موقع پر بہت سے شرکاء ہال سے باہر چلے گئے۔ جہاں ان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

کہتے ہیں کہ انت بھلا سو بھلا، لیکن بدقسمتی سے کتاب میلہ 2017 کا اختتام ٹھیک نہیں ہوا۔ اچانک منظر بدل گیا تحسین تنقید میں بدل گئی اور کتاب میلے کا  سارا حسن گہنا گیا۔

ایک گل کے مضمون کو سو رنگ  سے باندھنے والوں سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ  کسی بڑے ایونٹ کے انعقاد سے پہلے کسی بھی ممکنہ حادثے سے نمٹنے  کے لیے سو تدابیر اختیار کریں گے۔ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے مجھے  ”ریپبلک” میں شاعروں کے بارے میں افلاطون  کے نظریات رہ رہ کر یاد آ رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حبیب گوہر کی دیگر تحریریں
حبیب گوہر کی دیگر تحریریں