فردوس عاشق اعوان نے کلبھوشن یادیو کی کبھی مذمت نہیں کی: ہم سب خصوصی تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے آج (9 اگست 2019) کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کسی رہنما نے آج تک بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی مذمت نہیں کی۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ نواز شریف وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی شرماتے رہے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی بے باک قیادت کھل کر بھارت کا مقابلہ کر رہی ہے۔

ہم سب کی خصوصی تجزیہ ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے بیان کا تجزیہ کرتے ہوئے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے میں فردوس عاشق اعوان کے موقف پر اہم سوال اٹھایا ہے۔

فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے والی فردوس عاشق اعوان نے 2002 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر خواتین کے لئے مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی تھی۔ وہ 2007 تک پرویز مشرف کی سرپرستی میں مسلم لیگ (ق) کی رکن رہیں۔ اس دوران ان کا موقف تھا کہ انہیں سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ زچہ بچہ کی بہبود کے لئے اپنے طبی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے سیاست میں داخل ہوئی ہیں۔ تاہم ان کے مبینہ طبی منصوبوں کے بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

محترمہ فردوس عاشق اعوان نے 2008 کے انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے امیر حسین کو شکست دی۔ انہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں یوسف رضا گیلانی اور بعد ازاں راجہ پرویز اشرف کی کابینہ میں وفاقی وزارت اطلاعات سمیت مختلف وزارتوں سے نوازا گیا۔ اس دوران محترمہ فردوس عاشق اعوان نے 25 دسمبر 2011 کو اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنا استعفیٰ بھی پیش کیا جسے مسترد کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ دسمبر 2011 میں میمو گیٹ اسکینڈل کا بحران اپنے عروج پر تھا اور یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمیٰ کی متنازع ترین تقریر 25 دسمبر 2011 ہی کو پارلیمنٹ میں کی تھی جس میں ناہوں نے “ریاست میں ریاست” کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی پنجاب کی صوبائی نائب صدر کے عہدے پر فائز رہیں تاہم وہ سیاسی طور پر غیر فعال ہو گئیں۔ اس دوران ان کے پیپلز پارٹی کی “مفاہمانہ سیاست” سے اختلاف کی اطلاعات آتی رہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے بالآخر 16 مئی 2017 کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ بنی گالہ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی ملاقات میں جہانگیر ترین بھی شامل تھے۔ فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جولائی 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن مسلم لیگ نواز کے امیدوار سے شکست کھا گئیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے 18 اپریل 2019 کو انہیں معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے پر فائز کر دیا۔ یہ ایک غیر منتخب عہدہ ہے تاہم اس کا رتبہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔

تفصیلات کے مطابق کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی میں غیر فعال ہو چکی تھیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ مارچ 2016 سے اگست 2019 تک فردوس عاشق اعوان نے کب اور کہاں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے میں کوئی موقف اختیار کیا؟ کیا اس موقع پر ان کا کلبھوشن یادیو کے بارے میں اعلان سیاسی موقع پرستی کے ذیل میں نہیں آتا؟

فردوس عاشق اعوان بھارت میں کنڈوم مشین کا معائنہ کرتے ہوئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •