پانچواں بچہ

پانچواں بچہ تھا یہ۔ مریضہ کی شوگر بہت ہائی تھی۔ پہلے دواؤں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن پر انسولین پر جانا پڑا۔

خاتون کا سانس پھولا ہوا تھا۔ پاؤں سوج کر جوتوں سے باہر تھے۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے۔ جسم میں خون کی شدید کمی تھی۔

آپ پانچوں بچہ کیوں پیدا کر رہی ہیں؟ ہم نے پوچھا۔

جی بس۔ شوہر۔ وہ کہتے کہتے رک گئیں اور ہمارا دل چاہا۔ خیر کیا کہیں آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا دل چاہا ہو گا۔

خیر مریضہ کے نو ماہ اس طرح گزرے کہ کبھی ہسپتال میں داخل، کبھی چھٹی۔ کبھی انسولین کی بڑھتی ہوئی ڈوز تو کبھی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے والی دوائیں۔

Read more

آنول ( placenta) کو سمجھیے!

چار مہینے کا حمل ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ آنول نیچے ہے۔ بہت پریشان ہوں۔ بتائیے کیا کروں؟
کچھ نہیں۔ ہمارا جواب۔
کیا مطلب؟
یہ کیا جواب ہوا؟
کچھ نہیں۔ ہماری ڈاکٹر نے تو اتنا ڈرایا ہے۔ ہماری جان پر بنی ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ کچھ نہیں۔
اگر آپ کا شوق ہے کہ ڈر ڈر کر حمل گزارا جائے تو پھر شوق سے۔
اور اگر حمل گزرنے کے باقی ساڑھے پانچ ماہ سکون سے گزارنے ہیں تو پھر خواہ مخواہ کے ہول کیوں؟
لیکن دیکھیے آنول نیچے ہے۔ یہ نارمل تو نہیں۔

Read more

چالیس برس پہلے کا فروری!

سال کا آغاز تو جنوری سے ہوتا ہے مگر ہمیں اچھا لگتا ہے فروری۔ بہت بہت اچھا۔ آج نہیں بلکہ زمانوں سے۔ آپ سوچیں گے شاید سرما کی شدت ختم ہونے کے آثار سے؟

یا شاید بسنت کے تہوار سے؟
کسی کا جنم دن؟
شاید۔ ؟ شاید۔ ؟
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں۔ پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ زندگی کا آغاز فروری سے ہوا تھا۔

وہ فروری کا وسط تھا۔ دن آہستہ طویل ہو رہے تھے۔ سرمئی شام کچھ دیر سے سامنے آتی تھی۔ سورج کی تمازت میں تیزی آنے لگی تھی۔

گھر میں سب روزمرہ کے دن گزار رہے تھے۔ ابا دوپہر کو دفتر سے گھر آتے۔ شام کو کتابیں پڑھتے۔ امی دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنی سلائی مشین پر بیٹھ جاتیں۔ گھرر گھرر کی آواز گھر میں گونجنے لگتی جب تک شام کی اذان نہ ہو جاتی۔

Read more

آخری ماہواری، خالی رحم اور پیٹ درد کی تکون

اگر حمل ابتدائی مرحلے میں ہو اور پیٹ میں ناقابل برداشت درد اٹھے تو فوراً کسی بڑے / سرکاری ہسپتال جانا چاہیے۔

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائیں، ایک مریضہ کی کہانی پڑھیے ؛

کل ہم پر نہایت کڑا وقت تھا۔ ہماری نوجوان بھتیجی موت کی دہلیز سے جس طرح پلٹی ہے ناقابل یقین تھا۔ پیٹ درد کی شکایت لے کر ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں گئی تو انھوں نے محض ڈرپ لگا کر اسے ٹھیک قرار دے دیا اور گھر لے جانے کا کہا مگر وہ خود اتنی تکلیف محسوس کر رہی تھی کہ اس نے گھر جانے سے انکار کر دیا اور ایمبولینس منگوا کر ایم ایچ پنڈی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی جہاں سارا دن مختلف ٹسیٹوں کے بعد بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔

Read more

جنسی تلذذ ؛ کیوں؟ کب؟ کیسے؟

صاحب، اگر آپ نابینا نہیں تو ہو سکتا ہے ان لوگوں میں شامل ہوں جو مرد کے جذبات میں تلاطم کی ذمہ داری عورت پر ڈالتے ہیں۔ قطع نظر اس بات کے کہ وہ عورت ان صاحب کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ چلیے فرض کرتے ہیں کہ سگنلز بھیجنے کے نظام میں کوئی گڑ بڑ ہو گئی۔ مرد کی آنکھ نے عورت کو دیکھا مگر دماغ کو سگنل بھیجا کہ یہ عورت نہیں، لان میں پڑی کرسی

Read more

استانی طاہرہ کی کہانی (2)

سکول میں پہلا دن ہمارے لیے تو دل چسپ تھا ہی، بچوں اور دوسری ٹیچرز کے لیے بھی انوکھا تھا۔ ٹیچرز انٹرویو کرتی رہیں کہ اس لڑکی پہ کیا بپتا آن پڑی جو اس طرف آ نکلی اور مختلف کلاسوں کے بچے بچیاں شرما شرما کر ہمیں دیکھتے رہے۔ ہمیں دوسری جماعت کا کلاس ٹیچر لگایا گیا اور ساتھ میں دو اور کلاسوں کی انگریزی بھی پکڑا دی گئی۔ گو کہ ٹیچنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن پچھلے بارہ

Read more

ہزار راتیں، ہزار کہانیاں!

ایک تھی شہر زاد! ایک ہے شہر زاد! زندگی کہانی سے پوچھتی ہے۔ ”کون ہے؟ میں ہوں۔ تمہارا کیا نام ہے؟ میں کا نام نہیں ہوتا۔ ” ( آگ کا دریا: قرۃ العین حیدر) موت کے منڈلاتے سائے اور ظالم بادشاہ کی موجودگی میں عورت کا کہانی بننا، کہانی کہنا اور ایسے کہنا کہ بادشاہ مسحور ہوئے بنا رہ نہ سکے اور سنانے والی کو جینے کے لیے ایک اور دن مل جائے۔ کہانی میں زندگی کی وعید تھی، بوند

Read more

نومولود بچی کے پیٹ میں بچہ!

امی کیا میں جڑواں تھی؟ جی بیٹا۔ پھر میرے ٹون Twin کو کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ کیسے ختم ہوا؟ آپ ہی آپ۔ وہ کیسے؟ تم نے کھا لیا۔ پاس سے ہی بھائی کہتا ہے۔ دیکھیے امی۔ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ وہ چلاتی ہے۔ بہن کو تنگ مت کرو۔ ہم اسے گھرکتے ہیں۔ کھا لیا۔ کھا لیا۔ بھائی آہستہ سے گنگناتا ہے تاکہ ہم نہ سن سکیں۔ آواز سنتے ہی وہ پھر تنک کر کہتی ہے، دیکھیے نا امی۔

Read more

استانی طاہرہ کی کہانی

میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست لاہور بھیجی جا چکی ہے۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ لیکن یہ چین ان محترمہ کو پسند نہیں جو بے چینی سے انگلیوں پر دن گن رہی ہیں۔ کب آئے گا جواب؟ کب فہرست لگے گی؟ کب پتہ چلے گا کہ کہ کون سا کالج؟ انٹر نیٹ اور فون کا زمانہ تو ہے نہیں۔ ساری کتابیں پڑھی جا چکی ہیں۔ ٹی وی صرف شام کو چلتا ہے۔ کوکنگ سیکھنے کا نہ بیٹی کو

Read more

گائنی فیمینزم: کیا اور کیوں؟

عورت کے ( خفیہ) معاملات میں دلچسپی کب شروع ہوئی، صحیح سے یاد نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ تجسس نے انتہائی چھوٹی عمر سے ہی برا حال کر رکھا تھا۔ ذہن میں لاوا سا پکتا رہتا اور سوالات کی بھرمار رہتی: کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟ اور کب؟ ہر وقت نوک زبان پہ دھرے رہتے اور لوگ عاجز نظر آتے۔

بہت سی باتیں ایسی تھیں جو سمجھ سے باہر تھیں اور چھوٹی سی عقل کو حیران و پریشان کرتی تھیں۔ اگر سب کچھ خدا کی ترتیب ہے، اگر سب کچھ صدیوں سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے، اگر یہ سب زندگی کا حصہ ہے، اگر ہر بات کی سب کو خبر ہے اور کسی بھی کمی سے زندگی سوالیہ نشان بن جاتی ہے تو پھر ان سب باتوں کا ذکر سرگوشیوں اور اشاروں کنایوں میں کیوں؟

ہمیں زندگی یوں بسر کرنے کے پیچھے چھپی منافقت تب ہی سے چبھنے لگی۔

سکول میں لڑکیاں شرما شرما کر ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتیں، کن اکھیوں سے خود کو دیکھ دیکھ کر لجاتیں اور ہمیں سمجھ نہ آتا کہ بھئی کاہے کی شرم اور کس بات کی شرم؟ نہ یہ جسم ہم نے خود بنایا ہے اور نہ اس کے نشیب و فراز۔ ایسا تو نہیں ہوا نا کہ ہم لڑکیوں نے فرمائش کی ہو کہ اللہ میاں پلیز ہمارے سینے کا ابھار ایسا بنائیے گا، کمر میں خم رکھیے گا اور چال میں لٹک۔ جب ایسا کچھ بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں اور ہماری روح بنا کسی چوائس یا انتخاب کے اس جسم میں ڈالی گئی ہے تو ہم اس بن خواہش لگی لاٹری جسم کے ساتھ اتنی شرمندہ اور ہچکچاہٹ زدہ زندگی کیوں گزاریں؟ اس کا ذکر چھپ چھپ کر کیوں کریں اور اس کے مسائل سے آنکھیں کیوں چرائیں اور کیوں بیماریوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھیں؟

Read more

حاملہ خواتین میں ہائی بلڈ پریشر سے کیا پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں؟

دنیا بھر میں بلڈ پریشر اور اس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے مرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ بلڈپریشر سے ہونے والی پیچیدگیوں میں فالج، گردے فیل ہونا، نابینا پن، ہارٹ اٹیک، بچے کی پیٹ میں موت اور مرگی جیسے دورے شامل ہیں۔

جب بلڈ پریشر کے ساتھ ان میں سے کوئی بھی پیچیدگی ہو تو اس صورتحال کو پری اکلیمسیا یا اکلیمپسیا کہا جاتا ہے جن کے بارے میں ہم تفصیلات لکھ چکے ہیں۔

ہم سوچتے ہیں کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ہر عورت چاہے وہ گاؤں میں رہتی ہو یا شہر میں بلڈپریشر اور ان پیچیدگیوں کے بارے میں نہ صرف جانتی ہو بلکہ اپنی جان کی حفاظت کر سکے۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! (18) / آخری قسط!

آخر میں ‏‎سب سے بڑا سوال کہ یہ سب عورتیں بانو کے قلم سے آزاد کیسے ہوئیں؟ ‏‎اس کا جواب ان طنزیہ جملوں میں ہے جو بانو نے تعلیم یافتہ عورت کے لیے سوچے اور لکھے۔ ان جملوں کی تپش جب ان عورتوں تک پہنچی، تب ان سب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بھی سیمی کی طرح آزاد زندگی گزاریں گی۔ ‏‎یہ پڑھی لکھی لڑکیاں کتنی ضدی ہوتی ہیں اپنی ضد کی راہ میں وہ اپنے آپ کو بھی

Read more

مائے نی میں کنوں آکھاں؟

میں کون ہوں؟ پتہ نہیں۔ یاد کریں نا میں کون ہوں؟ پتہ نہیں۔ بتائیں نا میں کون ہوں؟ پتہ نہیں۔ سوچیں تو؟ پتہ نہیں۔ میں بتاؤں؟ بتاؤ۔ آپ میری امی ہیں۔ اچھا۔ میں آپ کی بیٹی۔ اچھا۔ یاد آیا؟ نہیں۔ کوشش کریں۔ نہیں۔ آپ کون ہیں؟ پتہ نہیں۔ میری امی۔ پتہ نہیں۔ مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی مائے نی۔ مائے۔ * دسمبر میں ڈیپارٹمنٹ میں سب کی چھٹی لکھی جاتی۔ اوشا جائے گی مارچ اور

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! سترہویں قسط!

‏‎اس سے پہلے کہ کہانی ختم ہو، بانو قاری کو واپس اس تھیسس پر لے جانا چاہتی ہیں جو انہوں نے ناول کے شروع میں آفتاب کے منہ سے کہلوایا تھا اور جو ناول کی اساس ہے۔ ‏‎ ”میں جس پاگل پن کا ذکر کر رہا ہوں وہ میر تقی میر کا پاگل پن ہے، فرہاد کا پاگل پن ہے، وہ سائیڈ جہاں دیوانہ پن مقدس ہو جاتا ہے۔“‏‎پروفیسر سہیل کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ ‏‎ ”یعنی ہم اس نتیجے پر

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! سولہویں قسط!

بھابھی ؛ قیوم اپنے بھائی کے گھر رہتا ہے۔ بھابی اور قیوم کے تعلقات میں بے تکلفی کا عنصر عنقا ہے۔ ‏‎ ”ان کا میرا بھابھی دیور کا رشتہ نہ تھا۔ چور سپاہی کی طرح ہم دونوں ایک دوسرے سے بھاگتے تھے۔“ دونوں آپس میں بہت ہی سرسری قسم کی گفتگو کرتے ہیں۔ ‏‎ ”وہ ہمیشہ مجھ سے ایسے بات کرتیں جیسے نامحرموں سے کی جاتی ہے نگاہیں جھکا کر، آواز میں سختی پیدا کر کے۔ بار بار کھانس کر۔

Read more

اکلیمپسیا جو حاملہ عورت کو موت کے منہ میں بھی لے جاسکتا ہے

’ڈاکٹر صاب۔ ایکلیمپشیا آیا جے! ‘
لیبر روم کی آیا کی پکار سنتے ہی کھلبلی مچ جاتی، جو جہاں ہوتا بھاگ اٹھتا۔

سامنے اسٹریچر پر ایک عورت دنیا و مافیہا سے بے خبر آڑی ترچھی لیٹی نظر آتی۔ منہ سے بہتے ہوئے جھاگ، بھنچے ہوئے دانت، اوپر کو پھری ہوئی آنکھیں، جھٹکے کھاتا جسم، بازو اور ٹانگیں بندھی ہوئی، پیشاب اور پاخانے میں لتھڑے ہوئے کپڑے۔

’ماسی اسے ڈارک روم میں شفٹ کرو جلدی‘ ۔ ’سسٹر جی کینولا پاس کریں‘ ۔ ’انجیکشن ویلیم لگائیں جلدی‘ ۔ ’منہ میں ماؤتھ گیگ دیں‘ ۔ ’بلڈ پریشر چیک کریں‘ ۔ ’پیشاب کی نالی بھی ڈال دیں‘ ۔ ’البومن چیک کر کے بلڈ انویسٹی گیشنز بھیج دیں ارجنٹ‘ ۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر (15)

‏‎روشن؛ ‏‎قیوم شدید اینگزائٹی کا شکار ہو کر رات رات بھر جاگتا رہتا ہے۔ ایک دن بھابی خوشخبری سناتی ہیں کہ قیوم کے حسب منشاء لڑکی ڈھونڈ لی گئی ہے۔ ‏‎ ”ستاروں نے بھی اسے بے نقاب نہیں دیکھا صوم و صلوۃ کی پابند، سلائی کڑھائی جانتی ہے، کھانا اچھا بناتی ہے۔“ ‏‎دیکھیے بانو کے نزدیک نقاب، باورچی خانہ اور سلائی مشین کس بات کی نشانیاں ہیں؟ ‏‎ماڈرن اور پڑھی لکھی بے نقاب لڑکی تو اس لئے بے اعتبار ٹھہرے

Read more

اے زمانے والو، میں ہوں تاڑو ماڑو!

دو واقعات سنانا چاہتے ہیں ہم! ماموں بھانجی کے بیچ گفتگو ؛ بلوغت کو پہنچتی بھانجی کو ماموں بہت کچھ سمجھانا چاہ رہا ہے اور بھانجی کے پاس بہت سے سوال ہیں۔ کیا تم جانتی ہو کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر لڑکے آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں؟ نہیں۔ تو سنو باتوں ہی باتوں میں وہ لڑکی کے لباس سے لے کر اس کے خد و خال سے ہوتے ہوئے نو گو ایریاز تک پہنچ کر وہ سب کچھ

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! چودہویں قسط

”امتل سے مل کر میں نے سیمی کی یادوں کو قفل لگا کر رکھ دیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں میرا دل چاہتا تھا کہ امتل کے کشادہ سینے پر سر رکھ کر رونے لگوں۔“ امتل قیوم کو لارنس گارڈن لے جاتی ہے جہاں وہ قیوم کو ایک شاعر سے اپنی پرانی محبت کا قصہ سناتی ہے۔ ایک طوفانی رات جب وہ گھر سے نقدی اور زیورات لے کر شاعر کے ساتھ چلی گئی۔ دونوں نے رات اکٹھے ایک ہوٹل میں

Read more

نیلے والی تیری، پیلے والی میری!

فیس بک پہ ایک صاحب نے یہ لکھا اور ملت اسلامیہ کے صاحبان نے جس نوعیت کے کمنٹس کیے وہ پڑھ کر یہ سمجھ آ گئی کہ یوتھ کلب والوں نے یہ کیوں کہا تھا کہ آپ خواتین ہم مردوں کو نہیں جانتیں۔ ہم بھیڑیے ہیں بھیڑیے۔

”کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے مزے ہیں، بندے کو تنخواہ ٹھیک ملے نہ ملے، ششکے اخیر ملتے ہیں۔

ہماری قسمت کے تارے البتہ آج کل گردش میں ہیں، پچھلے سال انہی دنوں بھی ہم آفیشل وزٹ پہ اسلام آباد تھے، تب روٹ تھوڑا چینج تھا۔

ہم دو لوگ لاہور سے اسلام آباد ڈرائیور کے ساتھ آئے تھے، پلان یہ تھا کہ ڈرائیور ہم دونوں کے ساتھ اسلام آباد جائے گا، ہم پہلے دن اسلام آباد کام کریں گے اور یہیں رک جائیں گے، اگلے روز صبح 10 بجے ڈرائیور ہمیں ائر پورٹ پر ڈراپ کر کے واپس چلا جائے گا اور ہم کراچی چلے جائیں گے، واپسی کی فلائٹ لاہور کی ہو گی۔

وہ پروفیشنل لائف میں کسی کرئیر کانشیئس لڑکی کے ساتھ ہمارا پہلا سفر تھا، جو اس قدر حسین اور رومانوی ثابت ہوا کہ کیا بتائیں۔

لاہور سے نکلے تو ہم ڈرائیور کے ساتھ آگے اور مس۔ پیچھے بیٹھی تھیں، لاہور اسلام آباد رستے میں بس ایک سٹے کیا اور سفر خاموشی سے کبھی کبھار کی ہوں ہاں میں گزرا۔ اپنے لیپ ٹاپ پر اور ہم موبائل میں مصروف رہے۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! تیرہویں قسط!

امتل : دیکھیے پہلی ملاقات۔ ”سب سے پہلی بار جب میں نے اسے دیکھا تو وہ قاضی کے کمرے میں بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی۔ اس نے فل میک اپ کر رکھا تھا۔ برقعے کا نچلا سیاہ کوٹ جسم پر تھا اور نقاب کرسی پر لٹک رہا تھا۔ اس نے کوئی تازہ لطیفہ سنایا تھا جس کی وجہ سے کمرے میں بیٹھے ہوئے قاضی کے تین حواری ہنس رہے تھے۔“ امتل اور قیوم کی دوستی کا آغاز ریڈیو سٹیشن کے

Read more

’پری اکلیمپسیا‘ حاملہ خواتین کے لیے ڈراؤنا خواب

پری اکلیمپسیا (Pre Eclampsia) ایک ایسی بیماری ہے جس میں حاملہ عورت کا ہر ایک دن تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر اس کی تشخیص کی دو علامات ہیں، ایک ہائی بلڈ پریشر اور دوسرا گردوں سے خارج ہونے والی پروٹین البیومن۔

لیکن بات اتنی بھی آسان نہیں۔ پری اکلیمپسیا میں کچھ ایسے مادے جسم میں خارج ہوتے ہیں جو حاملہ عورت کے تمام اعضا کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دماغ کو برین ہیمرج کا خطرہ ہوتا ہے تو آنکھ کی بینائی بھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح پھیپھڑوں میں پانی بھر جانا، ہارٹ فیل ہوجانا، جگر میں انزائمز بہت زیادہ بڑھ جانا گردوں کا فیل ہوجانا، خون میں پلیٹلیٹس کم ہوجانا، بچے کی نشوونما کم ہونا اور پیٹ میں ہی مر جانا یا آنول کا بچے کی پیدائش سے پہلے ہی پھٹ جانا اور خون خارج ہونے جیسے خطرات بھی لاحق رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید پیچیدگیوں میں ہیلپ سنڈروم اور مرگی جیسے دورے (Eclampsia) بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! بارہویں قسط!

عابدہ بے اولاد تھی اور اپنے شوہر سے برگشتہ بھی، لیکن کیا یہ خیال تعلقات کے آغاز سے ہی اس کے لاشعور میں پنپ رہا تھا کہ اسے بچہ ہر قیمت پر چاہیے؟

اس مرحلے پر بغیر نکاح کے جنسی تعلق اور گدھ کی مردار سے رغبت کے تھیسس کو سامنے رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا مصنفہ ناول کے بنیادی موضوع کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے قیوم کی گدھ سے مماثلت کے خیال میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتی ہیں؟ عابدہ کی اپنے شوہر سے اولاد نہ ہونا اور اس کمی کو قیوم کے نطفے سے مکمل کرنے کی کوشش کا بیان پڑھتے ہوئے قاری اس منطق کو کیسے بھول سکتا ہے جو سیمی اور قیوم کے تعلق پر منطبق کی گئی تھی۔

خود کو راجہ گدھ سمجھتا قیوم مصنفہ کے تھیسس کا دفاع کرتے ہوئے عابدہ کی پیش قدمی روکنے سے قاصر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو عابدہ بانو کے قابو میں نہیں یا بانو کو عابدہ کے اس فیصلے بلکہ سب فیصلوں اور حرکات سے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ قیوم کو راجہ گدھ بنانے میں اس قدر محو ہیں کہ بہت سی تفصیلات یا ناول میں ترتیب دیے گئے ماحول کی نزاکت فراموش کر دیتی ہیں۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر – گیارہویں قسط

یہاں سیمی کا کردار ایک بار پھر مصلوب۔ سیمی جو ماڈرن لڑکی، گلبرگ کی رہائشی اور بہت سے لڑکوں سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس موڑ پر سیمی کا کردار بانو کے قلم پر حملہ آور ہو کر عابدہ کو اس روپ میں ڈھل جانے پر مجبور کرتا ہے جس بنیاد پر بانو سیمی کو بری عورت دکھانا چاہتی ہیں۔ نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا حرام جنسی تعلق۔ عابدہ ایک اجنبی مرد کی طرف اسی طرح بڑھتی ہے

Read more

حاملہ خاتون کے لیے خطرے کی گھنٹی کب بجتی ہے؟

بات نکلی تھی ہیلپ سنڈروم (HELLP SYNDROME) کی تو سوچا کیوں نہ بات شروع سے سمجھائی جائے۔

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ حاملہ عورت کو ہر ماہ اپنا معائنہ کیوں کروانا ہوتا ہے؟ شاید آپ کا جواب ہو کہ ماہانہ الٹرا ساؤنڈ کے لیے۔ الٹراساؤنڈ کے بارے میں ہم بات پھر کبھی کریں گے مگر ماہانہ وزٹ کا مقصد یہ نہیں۔

حمل بہت سی ایسی بیماریوں کا نقطہ آغاز ہوتا ہے جو پہلے سے موجود نہیں ہوتیں اور حاملہ عورت کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہوتا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا شکار حمل کی وجہ سے ہوگی لیکن حقیقت یہی ہے۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! – 10

یہ وہ منزل ہے جب قیوم کو پتہ چلتا ہے کہ سیمی بیمار ہے۔ بخار کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں پیلی ہو رہی ہیں۔ اس وقت سیمی اسے کہتی ہے کہ جب کبھی وہ آفتاب سے ملے، اسے بتائے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جسمانی تعلق میں تھے۔ ”اگر تم مجھ سے محبت نہ کرتے، یہ جسمانی محبت تو یہ میرا کانفیڈنس کیسے بحال ہوتا؟“ اب سمجھ آئی بات آپ کو؟ آفتاب کے یک لخت چھوڑ دینے

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! نویں قسط!

کیا اس کے بعد بھی یہ سمجھا جانا چاہیے کہ سیمی نے قیوم سے جو تعلق جوڑا، اس میں قیوم کی طرف سے کسی قسم کا جبر، زبردستی یا سیمی کی مرضی شامل نہیں تھی؟ مصنفہ قاری کو یہ تسلیم کروانا چاہتی ہیں کہ سیمی لارنس گارڈن کے درخت کے نیچے دنیا و مافیہا سے بے فکر ہو جاتی تھی اور قیوم بد فعلی میں مصروف رہتا تھا۔ دیکھیے قیوم کی رائے کیا ہے؟ ”سیمی آسانی سے قابو آنے والی

Read more

ایشوریا رائے جیسی یا دیدار جیسی؟

ہمیں عبدالرزاق سے مکالمہ کرنا ہے۔ اس خواہش کے پیچھے ہماری نیت ہے جو جاننا چاہتی ہے کہ ”جیسی“ کے کیا معنی ہوتے ہیں ان جیسے مردوں کے ذہن میں۔ آئیے پوچھتے ہیں ان سے کہ کیسی ہوتی ہے ”ایشوریا رائے جیسی“ عورت؟ خوبصورت؟ اس میں تو شک ہی نہیں۔ سمارٹ؟ مس ورلڈ کو سمارٹ تو ہونا ہی چاہیے۔ اداکارہ؟ یہ تو ایک صلاحیت ہے جس طرح کرکٹ۔ عورت؟ اس جیسی کئی عورتیں رزاق کے گھر میں ہوں گی سو

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! آٹھویں قسط!

دیکھیے آفتاب سیمی کی محبت کو کیا معنی دے رہا ہے۔ ”محبت چھلاوا ہے۔ اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے۔ کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں۔ کچھ آپ کی روح کے لئے تڑپتے ہیں۔ کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں۔ اس لئے لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضروریات پوری کر دے، یہ ممکن نہیں۔ انسان جامد نہیں ہے بڑھنے

Read more

ماں کی زندگی بچائیں یا بچے کی؟

فائنل ائر کے طلبہ ہمارے لیکچر کے انتظار میں تھے لیکن لیکچر دینا ہمیں پسند نہیں تو ہم نے اپنے پسندیدہ انداز سے ٹیچنگ شروع کی۔

’ 28 سالہ ایک مریضہ اسپتال آتی ہے جو کہ 32 ہفتے کی حاملہ ہے۔ پچھلے تین دن سے اسے سر میں شدید درد ہے اور چکر بھی آ رہے ہیں۔ ڈیوٹی ڈاکٹر آپ ہیں، بتائیے آپ کیا کریں گے؟‘

لیجیے جناب، ہمارا یہ پوچھنا تھا کہ آنے لگے دھڑا دھڑ جواب میں چھپے سوالات۔
’سر درد پورے سر کا ہے یا آدھے سر کا؟‘
’کیا پہلے بھی ایسا درد ہوا؟‘
’خاندان میں ایسے سر درد کی ہسٹری موجود ہے کیا؟‘
’کیا دوا لی ہے اب تک؟‘
’سر کا ایم آر آئی کروایا کہ نہیں؟‘
’کیا جسم میں کوئی حصہ ایسا ہے جو نم ہو گیا ہو؟‘
’درد آنکھوں میں بھی ہے یا نہیں؟‘
’تین دن سے مسلسل؟ یعنی کوئی وقفہ نہیں؟‘
اگر 32 ہفتے کی حاملہ خاتون سردرد کی شکایت لے کر اسپتال جائے تو ڈاکٹر کو کیا کرنا چاہیے؟

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! ساتویں قسط

سیمی احتجاجاً کالج چھوڑ کر پنڈی جانے کا فیصلہ کرتی ہے جانے سے پہلے قیوم سے مل کر اپنے گھر کی تلخیوں کا ذکر کرتی ہے۔ قیوم سمجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اپنے فیصلے سے دستبردار نہیں ہوتی۔ یہاں یہ ذکر اہم ہے کہ لاہور میں بھی وہ ہوسٹل میں رہ کر آزادی اور بے فکری کی زندگی گزار رہی ہے کہ مالی اخراجات اس کے والدین ہی اٹھاتے ہیں۔ یہاں قاری کو سیمی میں فیصلہ کرنے کی قوت

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! چھٹی قسط

کہانی اور کرداروں کے بعد ضروری ہے کہ مصنفہ کے تھیسس پر بات کی جائے اور یہ تھیسس ایک نہیں کئی ہیں۔ حلال و حرام، سماجی طبقات، وفا اور بے وفائی، جنس اور کردار، آزادیِ نسواں کی خرابیاں، گدھ کی مردار کھانے کی خصلت، حرام و حلال اور پاگل پن کا فلسفہ، جینی ٹیکس، ماڈرن تعلیم یافتہ عورت کی بے چارگی، اپّر کلاس کی ناکامی، مڈل کلاس عورت کی وفا، طوائف کا حرام رزق، شادی، روحانیت، وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ ہمارا

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! پانچویں قسط

چوتھی عورت، روشن؛ راوی قیوم (یعنی مصنفہ) کی زبانی۔ ”موتیا رنگت ہلکا زرد لباس پھیکے پھیکے ہونٹ اور بہت خوبصورت ہاتھ۔ پیلی موم کا بت، پلکیں رخساروں سے پیوست۔ سخت پردے میں پلی، ماموں زاد، چچا زاد، پھوپھی زاد بھائیوں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں، آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی“ اندرون شہر لاہور کی رہائشی، معمولی تعلیم۔ لیکن محلے کے لڑکے پر مر مٹی، گھر والوں اور بھائیوں نے لڑکے سے وہی کیا جو نام نہاد غیرت مند کرتے

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! چوتھی قسط!

”وہ آرام سے میری چارپائی پر بیٹھ گئی۔ عمر میں وہ مجھ سے چھوٹی ہو گی لیکن جسم کی ساخت سے لگتا تھا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اسی رعایت سے اس کی باتوں میں ایک کھلا ڈلا پکا پن تھا۔ وہ دھنسنے والی عورت تھی اس کے ہاتھ پاؤں اتنے گندمی تھے جیسے ابھی ابھی ڈبل روٹی کا میدہ گوندھتے ہوئے آئے ہوں۔ جسم سے وہ مضبوط نظر آتی تھی اس کی گالوں میں گڑھے پڑتے تھے وہ رسم و رواج، محاورے، شگون کی جکڑ بند عادتوں کی سخت تربیت میں پلی لگتی تھی۔ اس کی ساری سوچ میں اپنی سوچ کا شائبہ تک نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ جیسے وہ کبھی دبدھا، دہرے راستے اور بلاوجہ فکر کرنے سے آشنا ہی نہ رہی ہو۔ میرے لئے ایسی شخصیت تباہ کن حد تک بورنگ اور نئی تھی۔

میرے سامنے متوسط طبقے کی ایک گرہستن بیٹھی تھی جس کا جسم چوکی پر بیٹھ کر لکڑی کی ڈوئی چلانے کا عادی تھا۔ اس کے گھٹنے ٹخنے ہاتھ اور پاؤں سب آٹا گوندھنے کی غمازی کرتے تھے۔ حالانکہ وہ دبلی تھی لیکن اس کا جسم جائز جگہوں پر ایسے بھرا ہوا تھا کہ وہ گول گول چربیلی دکھائی دیتی تھی۔ اس کے کندھے کولہے ٹخنے کلائیاں سب بھاری تھے، پیٹ نہیں تھا لیکن پشت سے کمر چوڑی تھی۔ عابدہ کو ماڈرن لباس کا سلیقہ نہیں تھا وہ جب بھی تیار ہوتی، کثرت سے ہوتی اور اس کثرت کی وجہ سے بے ہودہ لگتی۔

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر! تیسری قسط!

چار حصے، بے شمار کردار، نظریے، فلسفے، سوشیالوجی، جنس، اور کلاس سسٹم، تصوف، نیم مذہب، پیرا سائیکالوجی، سائیکالوجی، اور توہم پرستی کے فریم ورک میں بنا یا گیا یہ ناول؛ پڑھنے میں خاص طور پر نوعمروں اور کچے ذہنوں کے لیے ایسا پر کشش کہ صفحے پر صفحہ پلٹتے جائیں۔ ضروری سے ضروری کام کے لیے اٹھتے اٹھتے بھی دو چار صفحے پڑھ جائیں اور ختم ہونے کے بعد بھی ناول ذہن میں گردش کرتا رہے۔ کیوں نہ مزید سمجھنے

Read more

پروفیسر شیر علی، بہت سستے چھوٹ گئے آپ!

بنوں، علما، بیالوجی، عورت، ڈارون اور معافی نامہ۔ یہ کہانی اب تک سب جان ہی چکے ہیں سو کیا فرق پڑے گا اگر ہم کچھ لکھیں؟ چلیے چھوڑیے آپ کو ایک فلم کے متعلق بتاتے ہیں۔ نہیں دیکھی تو فوراً سے پیشتر دیکھ ڈالیے۔ دیکھ چکے ہیں تو ایک بار پھر۔ ہم اس فلم کو ڈاؤن لوڈ کیے بیٹھے ہیں۔ بار بار دیکھتے ہیں، اداس ہو کر پہروں چپ رہتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ عین وقت پر کمند کیوں

Read more

چالیس برس پہلے کا اکتوبر

شام ہو رہی ہے۔ چھت پہ چڑیاں دانہ دنکا چگنے کے بعد اڑنے کی تیاری میں ہیں۔ پس منظر میں ابا کا ریڈیو بج رہا ہے۔ ابا کے کمرے میں بچھی میز کے سامنے ہم ایک کرسی رکھ چکے ہیں۔ میز پہ پین، پینسل، ربر اور کچھ کاغذات کے ساتھ ہماری بے صبری بھی موجود ہے جو سوچتی ہے آخر ابا کی نماز کیوں ختم نہیں ہو رہی؟ یہ اکتوبر 1983 ہے۔ میز پر رکھے کاغذات کل دوپہر ہی سر

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر – دوسری قسط

راجہ گدھ کے دوسرے حصے کا عنوان، دن ڈھلے اور لامتناہی تجسس اس حصے کا آغاز جنگل میں گدھ کانفرنس سے ہوتا ہے، جس میں گدھ اپنے خلاف پرندوں کے محاذ کا دفاع کرنے کا فریضہ راجہ گدھ کو سونپتے ہیں۔ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد سیمی خودکشی کر لیتی ہے۔ قیوم اس کی موت کے بعد بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔ ایسے میں پروفیسر سہیل اسے یوگا کی مشقوں کا مشورہ دیتا ہے۔ قیوم اپنے بڑے

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر!

راجہ گدھ انیس سو اکیاسی میں چھپا اور چھپتے ہی مقبولیت کی سب سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر والی منزل پر جا پہنچا۔ ان دنوں ہم فرسٹ ائر پری میڈیکل سے دو دو ہاتھ کرنے میں اس طور مشغول تھے کہ راجہ گدھ کی ان بے شمار سیڑھیوں پر چڑھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ میڈیکل کالج کی تنگنائیوں سے مانوس ہونے تک ناول کا تیسرا ایڈیشن آ چکا تھا لیکن تب تک ہمیں بھی گہرے پانیوں میں مشاقی

Read more

بچے کا وزن کم کیوں ہے؟

بچے کا وزن کم کیوں ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ بچے کی نشوونما کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے۔

32 ہفتے کی حاملہ عورت ڈاکٹر کے پاس گئی۔ اب ڈاکٹر کو اس کے پیٹ پر سے رحم کا سائز ناپنا ہے۔ پرانا طریقہ ہاتھ کی انگلیوں کی چوڑائی ہے جو ناف کے اوپر رکھ کر دیکھی جاتی تھیں۔ نیا طریقہ درزی کی انچ اور سینٹی میٹر والی ٹیپ ہے۔ بتیسویں ہفتے پر اگر 32 سینٹی میٹر اونچا رحم ہو تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔ تھوڑا بہت مارجن دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر 32 ہفتوں بعد رحم کی اونچائی 28 یا 36 سینٹی میٹر نکل آئے تو اب گائناکالوجسٹ کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ رحم چھوٹا یا بڑا کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے الٹراساؤنڈ اہم ہوتا ہے جس میں بچے کا وزن دیکھا جاتا ہے۔ 32 ہفتوں کے حمل میں بچے کا وزن 1.7 کلو ہونا چاہیے۔ باقی ہفتوں پر کتنا وزن ہونا چاہیے، یہ بھی ہم آپ کو بتا دیتے ہیں۔

Read more

کیا نکلا ویجائنل ڈلیوری کے اٹھارہ برس بعد

دو ہزار گیارہ کا لاہور؛ لاہور پہنچتے ہی ہم ان کے گھر جا پہنچے۔ دو ہزار ایک سے دو ہزار گیارہ تک ہمارے درمیان استاد شاگرد کا رشتہ انتہائی مضبوط ہو چکا تھا۔ چاہے ہم دنیا کے مختلف حصوں میں ہی کیوں نہ ہوں، بات ہو ہی جاتی تھی۔ لیکن گفتگو ابھی بھی زیادہ طرف یک طرفہ۔ جواب میں ہوں ہاں ہی سننے کو ملتا تھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر کبھی ہم ان سے قصہ یوسف پوچھتے تو جواب

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! سترہویں / آخری قسط

سارتر وجودیت کے لیے اپنے تصور کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آزادی، اختیار اور انتخاب ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر اس دنیا میں کوئی انسان ان حقوق کو حاصل کیے یا آزمائے بغیر رہتا ہے تو گویا وہ موجود ہی نہیں۔ ذرا اس تصور کا اطلاق ذلتوں کے اسیر کے مرکزی کردار پر ہی نہیں تمام کرداروں پر کر کے دیکھیں، یہی نہیں اپنے ارد گرد پر بھی کر کے دیکھیں۔ ذرا دیر کو آنکھیں بند

Read more

جب نارمل ڈلیوری میں مقعد ( Anus) پھٹ جاتا ہے !

  سلطان سے ہم پہلی بار دو ہزار نو میں ملے اور ملتے ہی ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ یہ دو ہزار نو کا ابو ظہبی تھا۔ گرینڈ پیلس میں رائل کالج انگلینڈ کے زیر اہتمام گائنی کی کانفرنس تھی اور دنیا کے ہر کونے سے بھانت بھانت کے ڈاکٹر جمع تھے۔ انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سلطان کا نام ہم نے سن رکھا تھا لیکن اس دن انہیں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔

سن کر کانوں سے دھواں نکلنے لگا، اوہ خدایا جن باتوں کی ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ یک دم مجسم ہو کر سامنے کھڑی ہو گئیں۔ ویجائنل ڈلیوری میں مقعد کو پہنچنے والے نقصان پہ سلطان کا پہلا ریسرچ پیپر 1993 میں چھپا اور ہماری ویجائنل ڈلیوری بھی اسی برس ہوئی۔ ہائے ٹوٹی کہاں کمند۔ سلطان نے پچھلے تیس برس میں مقعد اور ویجائنل ڈلیوری پر سو سے اوپر ریسرچ پیپرز لکھ ڈالے ہیں، کتابیں چھپ چکی ہے، سی ڈی دستیاب ہے، دنیا بھر سے ٹرینیز ان کی ورکشاپ اٹینڈ کرتے ہیں غرض سلطان مقعد کو پہنچنے والے نقصان پہ بات کرنے کی اتھارٹی ہیں۔

Read more

آپریشن کروانا ہے مگر کس سے؟

تکلیف بڑھتی چلی جا رہی تھی اور گائناکالوجسٹ ہونے کے ناتے ہم جانتے تھے کہ کچھ بہت ہی عجیب سی صورت حال تھی۔

Rectocele ( مقعد کا ویجائنا میں آ جانا ) تو تھی ہی مگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی جو ہم تشخیص کرنے سے عاری تھے۔ صبح اٹھتے تو مقعد کے ایک طرف ایک تھیلی باہر کو ابھری ہوتی جس میں پاخانہ بھرا ہوتا۔ تھیلی سے پاخانہ خارج کرنے کے لیے ہمیں انگلی سے دبانا پڑتا۔ کیا ہے بھئی یہ؟ ہم نے تو آج تک ایسا کوئی مریض نہیں دیکھا، نہ پاکستان میں نہ پاکستان سے باہر، ہم زچ ہو کر خود سے پوچھتے۔ ساتھ کام کرنے والے ایرانی، ہندوستانی، عراقی، شامی ڈاکٹروں کو بھی دکھا لیا مگر کسی سے تشخیص نہ ہو سکی۔ ہماری طرح ہماری بیماری بھی عجیب و غریب تھی۔

جب پانی سر سے اوپر ہو گیا تب سوچا کہ اب کیا کریں؟ ذہن میں ایک خیال بار بار آتا، انہیں دکھاؤ۔ انہیں؟

ہاں انہیں۔ جو اپنی مثال آپ ہیں، آپریشن کرتے ہیں یا تصویر بناتے ہیں، انسانی جسم کی سب پرتیں ان کے ہاتھ میں آ کر بولنے لگتی ہیں۔

لیکن ان کا مزاج؟
ان کا موڈ؟
ناک کی پھننگ پہ رکھا غصہ؟
وہ کون سہے گا؟

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! سولہویں قسط

‏‎ثانیہ کا دردناک انجام پڑھنے والے کو دکھی کر دیتا ہے لیکن سوچ کے بہت سے دروازے وا کر کے غور کرنے پہ مجبور کر دیتا ہے کہ تیرہ برس کی بچی کا سولہ برس اس دنیا میں گزار کر اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کن عوامل کے نتیجے میں ہوا؟ ‏‎وہ جن راہوں پر چلی، اسے اس طرف دھکیلنے کا ذمہ دار کون تھا؟ ‏‎فہرست تو طویل نظر آتی ہے لیکن سر فہرست ثانیہ کا باپ رشید کوچوان

Read more

ویجائنا کا چھوٹا آپریشن، بڑا کیسے ہو گیا؟

 ہماری صاحبزادی دنیا میں تشریف لا چکی تھی، مبارک سلامت کا شور تھا۔ دوست، رشتے دار، نانی، دادی سب نہال مگر ماں نہ جانے کیوں منہ سر لپیٹے نڈھال پڑی تھی۔ نہ بچی دیکھنے کا چاؤ، نہ گپ شپ، نہ بھوک نہ پیاس۔ ڈلیوری کہنے کو نارمل یا ویجائنل تھی لیکن دوسری سٹیج میں بچی کا سر سٹیل کے بنے دو بڑے چمچوں نما اوزار (forceps) کی مدد سے نکالا گیا تھا۔ چھوٹا آپریشن بھی ہوا تھا جس میں شدید تکلیف تھی۔

ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اوزار لگانے کی وجہ سے چھوٹا آپریشن نارمل سے کچھ بڑا تھا۔ احتیاطی تدابیر میں قبض سے بچاؤ اور ڈیٹول ملے پانی میں صبح شام بیٹھ کر زخم خشک کرنے کے بعد اینٹی سیپٹک کریم لگانی تھی۔ ہماری بڑی بہن ہمیں باتھ روم لے جا کر ڈیٹول ملے پانی میں بٹھاتیں، پھر بستر پہ لٹا کر زخم پہ کریم لگاتیں۔ بیٹھنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ ہم نے نوٹ کیا کہ جب بھی وہ کریم لگاتی ہیں، ان کی پیشانی پہ فکر بھری سلوٹ پڑ جاتی ہے اور وہ کافی دیر آپریشن والی جگہ کو گھور گھور کر دیکھتی رہتی ہیں۔

Read more

ویجائنا یا پتھر کی دیوار؟ کیا کریں؟

نوجوان جوڑا کلینک میں داخل ہوتا ہے۔ نئے شادی شدہ نظر آتے ہیں لیکن دونوں کا چہرہ بجھا بجھا سا۔ ہم سامنے بٹھا کر ادھر ادھر کی بات کرنے کے بعد آنے کا مقصد پوچھتے ہیں۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہتے ہیں۔ آخر شوہر ہمت کرتا ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب، بہت پرابلم ہے۔ یہ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ جی، جی کہیے؟ جی، اصل میں ہماری شادی کو ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے لیکن ابھی تک ہم کچھ۔ میرا مطلب ہے،

Read more

دادا، امی کو مت مارو۔ میں نے بدتمیزی کی، سو مار کھائی!

کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہم ہوتے؟ کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہماری بیٹی ہوتی؟ کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہماری بہن ہوتی؟ کیا ہوتا اگر یہ ہماری ماں ہوتی اور ہم ان ننھے منوں میں شامل ہوتے جو بے قرار، بے چین اپنی ماں کو ایک شقی القلب شخص سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان بچوں کا دادا بھی ہے۔ دادا۔ کیسا پیارا لفظ ہے یہ۔ ابا کے ابا! ہم اپنے دادا دادی کو نہ دیکھ سکے، ابھی تک اس حسرت کو دل میں چھپائے بیٹھے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر ابا ایسے تھے تو ابا کے ابا کیسے ہوں گے؟

کتنے شفیق، کتنے محبت کرنے والے؟ یہ بد قسمتی ہمارے بچوں کے حصے میں بھی آئی ہے، نہ دادا دیکھنے کو ملے نہ نانا۔ وہ بھی ہمارے جیسے محروم۔ مگر پھر خیال آتا ہے، کیا ہوتا اگر یہ دادا ان بچوں کے دادا جیسے ہوتے جو اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اپنے دادا کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی ماں کو لاتیں، تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ بیلن سے بلا دریغ پیٹ رہا ہے۔ صاحب ہمارے ساتھ ایک مشکل ہے۔ ہم ہر صورت حال میں یا خود کو ڈال دیتے ہیں یا بچوں کو۔

Read more

اندلس اجنبی نہیں تھا! چوتھی قسط

فرینکفرٹ کی ایک صبح! جہاز سے باہر نکلے تو وہی سب کچھ تھا جو ائرپورٹ پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ سکیورٹی، وہیل چئیرز، بیگج بیلٹس، ادھر سے ادھر بھاگتے مسافر، کچھ کو اگلا جہاز چھوٹنے کی فکر، کچھ امیگریشن سے خوفزدہ۔ کچھ دیر تو سائن بورڈز کے سہارے چلے پھر سوچا پوچھ ہی لوں کہ کس اوکھلی میں سر دینا ہے؟ ایک صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے، بی بی اگلے جہاز میں گھسنے سے پہلے امیگریشن کے حساب کتاب

Read more

بزنس کلاس؟ ایہہ میں کتھے آ گئی؟ قسط نمبر تین

ائرلائن کے کاؤنٹر پہ ایک دبلی پتلی معصوم شکل والی لڑکی ہمارا پاسپورٹ لے کر کافی دیر الٹتی پلٹتی رہی۔ پھر پوچھنے لگی، کیا تمہارے پاس شینگن ویزا ہے؟ ہمیں ہنسی آ گئی، جھلی نہ ہو تو۔ بغیر شینگن ویزا کے کیا ہم جھک مارنے یہاں آ پہنچے ہیں؟ ارے بٹیا رانی یورپ کی طرف ڈنکی لگانے کا کوئی شوق نہیں۔ بالی عمریا ہوتی تو بات بھی تھی، اب اس عمر میں یورپ کی سڑکوں پہ غیر قانونی تارک وطن

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! پندرہویں قسط

ثانیہ کی یہ خود کلامی اس عورت کی آہ و بکا ہے جو جسم فروشی کے کاروبار میں جھونک دی جاتی ہے اور ساری عمر جیتے اور مرتے گزار دیتی ہے۔ مشہور افسانہ و ناول نگار حسن منظر  ایسی ہی ایک عورت کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”وہاں ٹربیونل کے سامنے مجھ سے ایسے سوال کیے گئے جن میں سے اکثر میری سمجھ سے باہر تھے۔ مثلاً قوانین اور شرع کے بارے میں، میں کہنا چاہتی تھی

Read more

مینوپاز؛ ویجائنا میں شدید جلن کیوں ہے!

”میری عمر پچپن برس ہے۔ پانچ برس ہو گئے ماہواری ختم ہوئے۔ مجھے اندر جلن ہوتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب شوہر جنسی تعلق قائم کریں۔ مجھے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ کیا بتاؤں؟ یہ جلن دو تین دن تک رہتی ہے۔ پیشاب کرتے ہوئے پانی تک لگتا ہے۔ کیا کروں؟“ آہ ہا۔ کیا کہیں؟ یہ عورت جس کی ساری عمر ویجائنا کے گرد گزرتی ہے لیکن جس کا نام لینا سختی سے منع۔ انتہائی مضر اخلاق۔ لیکن

Read more

میں کیوں زندہ رہوں؟ بائیس سالہ زچہ کا سوال!

کل دو باتیں ہوئیں۔ امی، امی، بہت اداس ہوں میں۔ کہاں ہیں آپ؟ جب سو کر اٹھیں گی تو کال کیجیے گا۔ miss you loads۔ سو کر اٹھیں اور بائیس سالہ لاڈلی بیٹی کا یہ پیغام پڑھیں تو کلیجہ اچھل کر منہ ہی میں آئے گا نا۔ ہائے میری بیٹی، ٹھیک بھی ہے کہ نہیں؟ نہ جانے ماں کو اور اپنے گھر کو کتنا یاد کر رہی ہے۔ یونیورسٹی سے گھر آتی ہے تو ماں کے بستر میں دبک کر

Read more

بچے کے گرد پانی کم یا زیادہ؟ تشخیص کیا ہے

ہمیں ایسا لگا کہ بچے کے گرد کم پانی والے مضمون نے آپ خواتین و حضرات کو کافی پریشان کیا ہے۔ اکثریت سمجھ نہیں پا رہی کہ حاملہ عورتوں کو ڈرپ لگانے کے پیچھے پیسے کمانے کے سوا کچھ حقیقت نہیں۔ چلیے بات شروع کرتے ہیں پانی سے جو آپ پیتے ہیں۔ منہ کے راستے معدے اور انتڑیوں سے ہوتا ہوا یہ پانی جذب ہو کر خون کی نالیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ جسم میں پانی

Read more

اندلس اجنبی نہیں تھا (2)

تیس اگست تھی نزدیک تر اور ہمیں بس اتنا ہی علم تھا کہ تیس کو ہماری سواری باد بہاری نے چلنا ہے۔ اس سے آگے۔ کچھ خبر نہیں۔ وہ جو لکھا ہوتا ہے نا بسوں اور رکشے پر۔ جانے یا علی۔ تو بس وہی ورد ہمارے پاس بھی تھا جانے یا علی۔ پیکنگ کرنے میں ہم انتہائی پھوہڑ ہیں۔ سوٹ کیس نکلوا کر دس دن پہلے رکھ چھوڑتے ہیں پھر الماری کھولتے ہیں۔ کون سے کپڑے لے کر جاؤں؟ شلوار

Read more

ذلتوں کے اسیر؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ: چودہویں قسط

اسی میں ثانیہ کو دوسرا حمل ہو گیا۔ دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد اس نے ارشد کو اپنے ہی گھر کے دوسرے کمرے میں ایک مہمان عورت کے ساتھ مباشرت کرتے دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ اپنے ہوش گم کر بیٹھی لیکن جب اس نے ارشد سے بازپرس کی تو ارشد نے اسے بری طرح جھاڑ دیا اور نقصان پہچانے کی دھمکی دی۔ اسے لگا کہ اس کے جسم میں پھر سے آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ناول میں یہ

Read more

سفر کی مشکلات اور سپین کا ویزا

چچا سام نہیں، چچا لفتھانسا! چچا لفتھانسا کا بس نہیں چلتا تھا کہ بڑھیا کو کچا چبا جائیں۔ بھئی حد ہوتی ہے۔ دن مہینے گزرتے چلے جا رہے ہیں اور بڑی بی کے مزاج ہی نہیں ملتے کہ معاملہ ختم کریں۔ چچا کی بڑبڑاہٹ ہم تک پہنچ رہی تھی ان خطوں کے ذریعے جو ہر دوسرے دن کمپیوٹر کے لیٹر بکس میں پائے جاتے تھے۔ جب کسی بھی طرح ہم نے کان نہ دھرا تو وارننگ کا خط آ گیا

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! تیرہویں قسط ;

ثانیہ کی زندگی میں ایک اور موڑ تب آیا جب ثانیہ اور امثال نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن کچھ ہی ہفتوں میں اس تعلق کی بدصورتی سامنے آ گئی۔ امثال کی محبت اپنی جگہ مگر اس کے گھر والوں کو ثانیہ کے رہن سہن پر سخت اعتراض تھا۔ اس کے سگریٹ پینے، گھر سے باہر نکلنے اور ملنے ملانے پر پابندی تھی۔ والدہ اور بہنیں تو بدسلوکی کرتی ہی تھیں، امثال کا رویہ ”ایک گال پہ بوسہ ایک گال پہ تھپڑ“ جیسا تھا۔

یہ شادی کچھ عرصہ چلنے کے بعد علیحدگی پر ختم ہو گئی۔ اور ثانیہ امثال اور اس کے خاندان کو یوں یاد کرتی ہے :

”اس کے گھر والوں کے نزدیک میں انسان نہیں تھی، شادیاں کرنے والی، داشتہ، بچے چھوڑنے والی اور شوہر چھوڑنے والی ایک ایسی عورت جس نے ایک اور عورت کا بیٹا اور دوسری کا بھائی چھین لیا تھا۔

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! بارہویں قسط

”میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، مجھے لگتا ہے تمہیں صرف میرے ساتھ رہنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا لیکن ہمیں ایک دوسرے سے ملنے میں دیر ہو گئی اب ہمیں ایک دوسرے کو اپنانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے“ ان ملاقاتوں میں امثال کی کوشش ہوتی کہ بوس و کنار کیا جائے جس پہ ثانیہ کبھی مزاحمت کرتی اور کبھی ہتھیار ڈال دیتی۔ ڈراپ سین تب ہوا جب ایک دن چھت پہ نبیل نے یہ سب اپنی

Read more

ڈاکٹر بیٹی کی کنپٹی پر گولی !

 ” ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے ۔
 بابا ، کس سے ؟
 تمہارے تایا کے بیٹے سے ۔
 وہ .. وہ .. بابا وہ تو پڑھا لکھا نہیں ہے ۔
 تو ؟ کیا فرق پڑتا ہے ؟
 اچھا کماتا ہے … تمہیں خوش رکھے گا ۔
 بابا … میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، ہمارے درمیان کچھ بھی ایک جیسا نہیں …
 ذات برادری میں یہ سب نہیں دیکھا جاتا … کمانے والا مرد ہو … کافی ہے ۔
 نہیں بابا … پلیز اپنی بیٹی کو زندہ دفن نہ کریں ۔
 میرا فیصلہ اٹل ہے .. میں زبان دے چکا ہوں …

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! (11)

ثانیہ شادی کو کچھ اس نظر سے دیکھتی ہے : ”جب تک نکاح نامہ ایجاد نہیں ہوا ہو گا، عورتوں کو آگ سے داغا جاتا ہو گا اور جب تک آگ ایجاد نہیں ہوئی ہو گی، عورتوں کو نشان زدہ کرنے کے لیے خنجر اور تلواریں استعمال ہوتی ہوں گی۔ اور جب تک خنجر اور تلواریں ایجاد نہیں ہوئی ہوں گی عورتوں کے جسم پتھر سے کچلے جاتے ہوں گے۔ اور جب مرد نے پتھر کا استعمال ایجاد نہیں کیا

Read more

رانی پور کی فاطمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ!

(انگریزی سے ترجمہ ) بیرونی زخم ؛ 1۔ گہرا نیل ماتھے کے دائیں طرف، دونوں آنکھوں اور ناک کے گرد 2۔ چھاتی کے دائیں حصے میں ایک سرخ و سیاہ مائل نیل، 3 * 2 سینٹی میٹر 3۔ پشت کے درمیانی حصے پہ اوپر کی طرف، سرخی مائل سیاہ نیل، 5 * 2 سینٹی میٹر 4۔ پشت کے درمیانی حصے پہ نیچے کے طرف، سرخی مائل سیاہ نیل، 6 * 2 سینٹی میٹر 5۔ پشت کے بائیں طرف، سرخی مائل

Read more

رانی پور کی کم سن فاطمہ!

طیبہ، ارم، رضوانہ، زہرہ شاہ، ایمان فاطمہ، عندلیب فاطمہ، سونیا، شبانہ۔ اور اب فاطمہ! ہائے فاطمہ۔ وہ دل خراش وڈیو جس میں فاطمہ بار بار فرش سے اُٹھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اُٹھ نہیں پاتی۔ نہ جانے کتنی ہڈیاں ٹوٹی ہیں؟ نہ جانے کہاں کہاں سے خون بہہ رہا ہے؟ بے سدھ سویا ہوا نیم برہنہ مرد اٹھتا ہے، بے دردی سے فاطمہ کا بازو پکڑ کر کھینچتا ہے اور مردہ پا کر پھر سے فرش پر پھینک دیتا

Read more

امی کی سلائی مشین!

” امی میں چاہتی ہوں کہ ایک سلائی مشین خرید لوں۔ کئی کپڑے پہن کر ٹھیک نہیں لگتے، جی چاہتا ہے میں اپنے لباس کی کتر بیونت اپنی مرضی سے کیا کروں“ مغرب میں تیز رفتار زندگی کے ساتھ بھاگنے دوڑنے والی بیٹی کا خیال سن کے ہم ہک دک تھے۔ کیا یہ کوئی آواگون کا مسئلہ ہے؟ ہم نے متعجب ہو کے سوچا اور یادوں کے دبستان میں برسوں پہلے کی ایک دلگداز آواز کی گونج سنائی دی۔ ”سنیے

Read more

ذلتوں کے اسیر؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! دسویں قسط

ثانیہ راکھ سے بنی ہوئی عورت ہے جسے کریدنے سے چنگاریاں نکلتی ہیں جو سامنے والے کو جلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ثانیہ کی ہر بات میں اس کے ماضی اور دکھ کا شدید اظہار ہے۔ وہ لوگوں سے مل کر ان کے درمیان رہ کر وہ کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے جو وہ بچپن میں کھو بیٹھی تھی۔ اسے لگتا ہے کہ شاعری کے ذریعے وہ سب کچھ کہہ سکتی ہے جو اس کے اندر شور

Read more

آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کی کہانی

بھیا راجہ اور بھابھی رانی ایک مہینے بعد ہی آ پہنچے۔ دونوں کا منہ کچھ لٹکا ہوا۔ کیا ہوا؟ ہم نے ہنس کر کہا۔ وہ آپی۔ ۔ ۔ بھابھی رانی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ اوہ بتاؤ تو۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ وہ یہ تو ٹھیک ہیں۔ مطلب ان کا ٹیسٹ نارمل۔ ۔ ۔ چلو اچھی بات۔ وہ۔ وہ میرے ہارمونز ٹھیک نہیں ہیں اور اووری میں سسٹ بھی ہے۔ cyst بس۔ اتنی سی بات؟ ہم نے ایک

Read more

زندگی تماشا بنی، دنیا دا ہاسہ بنی!

ابا کے کمرے میں پڑی میز پہ پڑا ریڈیو سارا دن بجتا رہتا۔ اماں کھانا بنا رہی ہیں، ابا نماز پڑھ رہے ہیں، چڑیاں ابا کا ڈالا ہوا باجرہ چگ کر خوشی سے چہچہا رہی ہیں، آپا کتاب پڑھ رہی ہیں، بھائی کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں، چھوٹی ابا کی سائیکل ٹانگوں کی قینچی ڈال کر چلا رہی ہے اور منجھلی گنگنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وے سب توں سوہنیا، ہائے وے من موہنیا۔ میں تیری ہو گئی، پیار

Read more

’کاش انیتا نے ماں بننے کے حکم پر سر نہ جھکایا ہوتا‘

وہ 8 ماہ تک ہر ہفتے ہمارا ہاتھ پکڑ کر چلی۔ اور اب جب سب کچھ ختم ہونے کو تھا تو یکایک وہ ہاتھ چھڑا کر چل دی۔ دور۔ کسی اور ہی دیس میں۔ پہلی بار جب وہ ہمیں ملنے آئی تو وہ ہمیں اپنی بیٹی جیسی ہی لگی، وہی عمر، وہی بھول پن۔ اس کی فائل دیکھ کر ہم چونک گئے، ہمیں یاد ہے کہ ہم نے اس کے ماں باپ کو خوب ڈانٹا (عام طور پر ہم ایسا

Read more

ہر وقت پیشاب خطا۔ زندگی عذاب!

اٹھوں، بیٹھوں، کھانسوں، تیز چلوں، چھینک ماروں۔ ہر بات میں زندگی عذاب ہے۔ کیا کروں؟

ادھیڑ عمر خاتون کی آنکھ میں آنسو تھے۔ وہ ایک دعوت میں ہمارے پاس بیٹھی تھیں اور ہماری گائناکالوجی سے مستفید ہونا چاہتی تھیں۔

آپ کے کتنے بچے ہیں؟
چھ۔
کیسے پیدا ہوئے
نارمل طریقے سے
ایسا کب سے ہے؟
چار پانچ برس ہو گئے
پھر کیسے گزارہ کرتی ہیں؟

Read more

بچے، غریب والدین اور سنگدل مالک!

تکون پرانی ہے اور بات بھی پرانی! لیکن جج صاحب کی بیوی کے ہاتھوں بچی پہ ظلم نیا ہے سو پھر سے زخم ادھیڑے لیتے ہیں۔ کہاں سے آتے ہیں امیر لوگوں کے گھروں میں بچے؟ غریب علاقوں سے۔ ماں باپ کیوں بھیجتے ہیں؟ اس لیے کہ ماں باپ کے پاس انہیں پالنے پوسنے کا انتظام نہیں۔ پیدا کیوں کرتے ہیں؟ پتہ نہیں۔ اور ماں باپ کو بھی پتہ نہیں۔ امیر لوگ بچے کیوں رکھتے ہیں؟ جیب بھاری ہے۔ علم

Read more

ذلتوں کے اسیر؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! نویں قسط

ثانیہ ہسپتال میں مردہ بچے کو جنم دیتی ہے اور اکیلے ہی اس کی تدفین کر دیتی ہے۔ بچے کی موت پہ اس کا ظاہری اطمینان اس کے اندر موجود درد کے طوفان کی عکاسی کرتا ہے، جب وہ کہتی ہے اگر وہ بچ جاتا تو اس کا زندہ رہنا بڑا مشکل ہوتا۔ زندہ رہنے کے لئے اسے پتہ نہیں کتنی بار مرنا پڑتا۔ یہ جملے ثانیہ کے کرب کی تصویر ہیں اور ان کے مطابق وہ خود زندہ تو

Read more

جنسی فطرت اور تدریس کا پل صراط!

چلیے بات کرتے ہیں اسلامیہ یونی ورسٹی کی۔ بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ لعن طعن، گالیاں، کس کا قصور؟ کون جابر؟ کون مجبور؟ کون ظالم؟ کون مظلوم؟ کبھی استاد مجرم نظر آتا ہے، کبھی لڑکیاں؟ کیا لڑکیاں کہنا کافی ہو گا؟ کیوں نہ پہلے ہم کچھ بنیادی باتوں پر بات کرنے کی کوشش کریں۔ سب سے پہلا نکتہ ہے طاقت۔ کمزور اور طاقتور کا ٹکراؤ۔ یہ مانا جا چکا ہے کہ جب بھی کمزور اور طاقتور کی جنگ ہو

Read more

ڈھیروں بچے پیدا کرنے کے سائیڈ ایفیکٹس!

زیادہ بچے پیدا کرنے کے سوال پر بہت سے لوگ اچھل کر کہتے ہیں، کیوں نہ کریں زیادہ بچے پیدا؟ گھر میں زیادہ بچے اچھے لگتے ہیں، رونق رہتی ہے، ہمیں زیادہ بچے پیدا کرنا پسند تھا وغیرہ وغیرہ۔

کچھ کا بس نہیں چلتا کہ ہمارا منہ نوچ لیں۔ کچھ تو کہہ بھی دیتے ہیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ کیا مزہ زندگی کا؟ کیوں بچے کم پیدا کریں؟ کچھ بھی نہیں ہوتا؟ ہمیں نہ حمل کا پتا چلا نہ زچگی کا، آپ نہ جانے کیوں ڈراتی رہتی ہیں؟

ہم چپ رہتے ہیں اور ہنس دیتے ہیں، پردہ بھی تو رکھنا ہے۔

شاید درست بھی کہتی ہیں وہ خواتین کیونکہ زیادہ تر کو جوانی میں کچھ پتا نہیں چلتا۔ گھر میں دائی کے ہاتھوں بچہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

Read more

عورت بغض ! (مسوجنی)اور وہ دوسرا

”عورت کی عزت جس قدر ہمارے یہاں ہے وہ کوئی اور تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہم عورت کی خاطر جان دے دیتے ہیں۔ عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ عورت ہماری نسل کی امین ہے۔ عورت گھر کی ملکہ ہے۔ ” سنا یہ سب کچھ۔ سنتے چلے آ رہے ہیں زمانوں سے۔ ہر بار کبھی ہنس دیتے ہیں کبھی منہ پھیر لیتے ہیں، منظور تھا پردہ تیرا۔ اگر آپ وہ نہیں جو ہم سمجھتے اور لکھتے ہیں تو پھر

Read more

ذلتوں کے اسیر: اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ (8)

”میں نے آئینے میں کھڑی ہوئی عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا، تیرا پیٹ اتنا پھولا ہوا کیوں ہے؟ وہ ہنس دی، زہر میں بجھی ہوئی ہنسی۔ کمرے میں میرے سوا کوئی نہیں تھا، میں تھی اور بلب میں سے نکلتی زرد ویران روشنی۔ میں جاننا چاہتی تھی وہ کسے دیکھ کر ہنسی تھی؟ یہاں تو کوئی نہیں تھا کیا وہ ویرانی دیکھ کر ہنسی تھی؟ نہیں ویرانی دیکھ کر کون ہنس سکتا ہے؟ تو پھر وہ کسے

Read more

’ہر حمل ایک پل صراط ہے جس پر چلتی عورت ہر قدم پر ڈگمگاتی ہے‘

ہانپتی کانپتی، قدرے فربہ، معصوم چہرے پر ہوائیاں اور ساتھ میں مرنجاں مرنج صاحب!

’میں بہت پریشان ہوں، مرنا نہیں چاہتی میرے تین بچے ہیں۔ سب ڈاکٹروں نے بہت ڈرایا ہے۔ کوئی میرا کیس نہیں لے رہا۔ کیا آپ مجھے لیں گی؟‘

’آپ بیٹھیے تو سہی، پھر دیکھتے ہیں‘ ۔

’پچھلے تینوں بچے سیزیرین سے ہوئے۔ اب یہ چوتھا بچہ ہے۔ الٹرا ساؤنڈ میں نظر آیا کہ آنول نیچے ہے (placenta pevia) لیکن اس کے ساتھ کچھ اور شک بھی ہوا میری ڈاکٹر کو۔ انہوں نے ایم آر آئی کروانے کو کہا۔ ہم نے فوراً کروایا۔ ان کا شک ٹھیک نکلا، جڑوں والی آنول نکلی جو بچے دانی سے باہر تک جا چکی ہے‘ ۔ وہ چہکوں پہکوں رونے لگیں۔

’دیکھیے روئیے نہیں، بات پوری کیجیے‘ ۔ ہم نے دھیرے سے کہا۔

’میں جس ڈاکٹر کو بھی دکھاتی ہوں وہ کیس لینے سے انکار کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پرائیویٹ اسپتال میں ہمارا کیس نہیں ہو سکتا‘ ، وہ روتے ہوئے بولیں۔

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ!

ساتویں قسط ثانیہ اب تک جتنے مردوں سے ملی ہے اس کی روشنی میں اس کے پاس مرد کو پرکھنے کی ایک ہی میزان ہے کہ وہ مرد و عورت کے درمیان جنسی کشش پہ ہر کسی کو تولتی ہے۔ اس کے مطابق وہ انور سن رائے کو مرد سمجھنے سے انکاری ہے۔ اس کے خیال میں انور سن رائے جنسی طور پہ کمزور شخص ہے اور اسی لئے ثانیہ کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جو جنسی کشش کا

Read more

ویجائنا کو تالہ لگا ہے!

امی آپ نے اپنی شادی پر نتھ پہنی؟ نہیں۔ کیوں؟ میرا ناک چھدا ہوا نہیں تھا۔ کیوں نہیں چھدوایا؟ کیوں کہ مجھے اس سے وابستہ تصور سے گھن آتی تھی۔ وہ کیا؟ نتھ اتروائی اور نتھ ڈلوائی۔ نتھ اتروائی کیا ہے؟ ایک اشارہ کہ نتھ پہنے ہوئے عورت کنواری ہے اور نتھ اتروائی سے مراد یہ ہے کہ نتھ اتارنے والا اس عورت سے جنسی تعلق قائم کرنے والا پہلا مرد ہے۔ نتھ ڈلوائی کیا ہے؟ نتھ ڈال کر رکھنا

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! چھٹی قسط :

نبیل کو ثانیہ کی شاعری پسند آتی ہے اور وہ اسے نہ صرف صوفی قرار دیتا ہے بلکہ اس کے مطابق اردو میں ثانیہ سے بڑی شاعرہ اب تک پیدا نہیں ہوئی۔

اس تعریف کے پیچھے بھی نبیل اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے۔ بیوی کے شاعرہ ہونے کی صورت میں شوہر کی واہ واہ تو ہو ہی جاتی ہے۔ شاعری کرنے والا جوڑا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

شاعری کرنے کے بعد ثانیہ کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے۔ اب اسے معاشرے کے پڑھے لکھے دانشور شاعر مردوں کا سامنا ہے۔ یہاں ایک نئی صورت جنم لیتی ہے۔

Read more

ذلتوں کے اسیر؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ (5)

نبیل کا مذہب کی طرف رحجان اسے فیملی پلاننگ کی نوکری خلاف شرع اور حرام سمجھنے پر اکساتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ شرع کا حوالہ نبیل کے لئے ایک ایسا ہتھیار ہے جو نبیل جہاں چاہے  استعمال کرلیتا ہے اور جہاں  چاہے اس کو بھول جاتا ہے۔ ان حالات میں شادی کے بعد وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ نبیل کے ہوائی قلعے، جھوٹی انا، مذہبی رحجانات اور اپنی پسند کی گردان نے اس عشق کے غبارے سے

Read more

ہم نے کیوی کپ لگانا اس کے موجد سے سیکھا ہے

طویل قطار تھی۔ لیکن ہم کہاں ہمت ہارنے والے تھے۔ ہر کوئی اپنی باری آنے پر میز تک پہنچتا جہاں ایک صاحب یہ تماشا سجائے بیٹھے تھے۔ امیدوار ہاتھ میں دستانے پہنتا اور وہ صاحب ایک پمپ سا ہاتھ میں پکڑا دیتے جسے سامنے رکھی ڈمی کے اوپر لگا کر کھینچنا ہوتا۔ آر یا پار کے مصداق امیدوار الٹا سیدھا کھینچتا مگر وہ صاحب بڑی خوش مزاجی سے ہاتھ پکڑ کر سمت درست کرواتے ہوئے ساتھ میں ہدایات دیتے جاتے۔

Read more

اناڑی سے بچیں!

”میں بچے دانی نکلنے کے بعد سے بہت سی تکالیف کا شکار ہوں۔
1۔ پتے میں پتھری ہو گئی ہے ہارمونز امبیلنس سے۔
2۔ جسم میں تھکان اور سستی بہت زیادہ۔
3۔ سٹیمنا نہیں رہا۔
4۔ جسم کے مسلز اور رگیں کمزور ہو گئی ہیں
4۔ پٹھوں میں کھنچاؤ
5۔ جوڑوں میں درد رہتا ہے
6۔ گھٹنوں اور پاؤں کی ہڈیوں میں شدید درد

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! چوتھی قسط

ثانیہ کے ساتھ فیملی پلاننگ کے دفتر میں کام کرنے والی عورتیں بھی حالات کے جبر کا شکار ہیں۔ نوکری برقرار رکھنے اور ترقی پانے کے لئے انہیں افسروں تک رسائی رکھنی پڑتی ہے۔ رسائی یا حاضری میں افسروں کو وہ سب کچھ دینا شامل ہے جو وہ مانگیں۔

ثانیہ معاشرے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے اور ہر طرف سے مرد کے اندر پائی جانے والی کجی منعکس ہو کر ثانیہ کے سامنے منہ پھاڑے کھڑی ہے۔

ثانیہ کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والی رضیہ کا باپ مر چکا ہے۔ باپ کے مرنے کے بعد جب ماں نے گھر چلانے کے لئے کام شروع کیا تو محلے والوں نے بیوہ عورت اور اس کی تین بیٹیوں کا جینا دو بھر کر دیا۔ یہ سوال کسی کے لئے اہم نہیں تھا کہ چار افراد کے پیٹ میں روٹی کہاں سے آئے گی؟ اہم تھا تو یہ کہ ایک عورت نے گھر کی بقا کے لئے ملازمت شروع کر دی تھی۔ عورت کا گھر سے نکلنا پدرسری نظام کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے جو اس کے بنیادی مہرے مرد کو کسی طور پسند نہیں۔

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! تیسری قسط :

یہی بات اسے اس کا دوست سرور اکرام آئینہ دکھاتے ہوئے کہتا ہے۔

” مسئلہ یہ ہے کہ خواہشات کا یہ طوفان ثانیہ نے نہیں آپ نے خود ثانیہ کے نام پر اپنے اندر پیدا کر لیا ہے۔ آپ ثانیہ اور رضیہ دونوں کو الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اگر ثانیہ نہ ہو تو رضیہ ہو“

سرور اکرام کی طرح ثانیہ بھی نبیل کی نام نہاد محبت کا تجزیہ کرتی ہے۔

”کیا محبت کے بغیر کوئی کسی کا خیال نہیں رکھ سکتا؟ اگر میں آپ کا خیال نہ رکھتی تو آپ کو مجھ سے محبت نہ ہوتی؟ اور اگر میں لڑکی نہ ہوتی اور ایک لڑکا ہوتی تو آپ کا خیال رکھنے کے باوجود آپ کو مجھ سے محبت نہ ہوتی۔

اور اگر محبت ایسے ہی ہوتی ہے تو کل جو بھی آپ سے ہمدردی کا رویہ رکھے گا، آپ کو اس سے محبت ہو جائے گی اور جب آپ کو اس سے محبت ہو جائے گی تو آپ اس سے بھی کہیں گے کہ وہ آپ سے شادی کر لے۔

Read more

کیوی، جس نے زچگی میں اوزار لگانے کو آسان بنایا

’پہلی ڈلیوری آپریشن سے تھی یا نارمل؟‘ ہم نے پوچھا۔
’نہ آپریشن، نہ نارمل۔‘ مریضہ نے تنک کر جواب دیا۔
’کیا مطلب؟‘

’اوزاری ڈلیوری تھی میری اور اس کے بعد سے یہ سب تکلیفیں شروع ہوئیں‘ ۔ آخر اس قدر مہلک اوزار ڈاکٹر کیوں استعمال کرتے ہیں؟

 
مہلک اوزار بامعنی مہلک ہتھیار۔ ہم نے سوچا۔
کیا واقعی؟
سوچا یہ سوال آپ سب سے پوچھا جائے کہ اگر گھنٹوں درد زہ کے بعد بھی بچہ پیدا نہ ہو تو کیا کریں؟

Read more

مردانہ بانجھ پن!

بچہ چاہیے تو صاحب کے ٹیسٹس پہلے ہوں گے۔

یہ ہے وہ جملہ جو بانجھ پن کے شکار میاں بیوی سے کہا جاتا ہے۔ وجہ واضح ہے۔ ایک ہی ٹیسٹ کرنا ہے، اگر وہ نارمل تو صاحب کی چھٹی۔

سیمن یا تولیدی مادہ چیک کروانے سے پہلے کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
سیمن چیک کروانے اور جنسی تعلق یا ماسٹر بیشن میں تین یا چار دن کا وقفہ ہو۔
سیمن جس لیبارٹری سے چیک کروانا ہو، اسی میں ماسٹربیشن سے لیا جائے۔
اگر پہلا ٹیسٹ ابنارمل ہے تو نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ایک بار اور سیمن کا ٹیسٹ کروانا لازم۔
سیمن ہے کیا؟

Read more

ٹھنڈا مرد

”کبھی ان شادی شدہ عورتوں کے بارے میں بھی لکھیے جن کی شادی میں جنسی تعلق کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

کیوں کرتے ہیں ایسے مرد شادی؟ اپنی کمزوری کو جانتے بوجھتے ہوئے ایک عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرنا اور پھر یہ سوچنا کہ ٹھیک تو ہے سب کچھ۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر جنسی تعلق بہت پرجوش نہیں۔ بھلا عورت کو کیا فرق پڑتا ہے؟

وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ فرق پڑتا ہے عورتوں کو۔ بیوہ نہ ہوتے ہوئے بھی بیوگی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور عورتیں۔ شوہر کے انکار پر جنسی خواہش کو قتل کرتی ہوئی عورتیں۔ عزت نفس اور ایمان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی ضرورت کے لیے کسی اور رستے پر نہ جانے والی عورتیں!

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ!

دوسری قسط : سوال یہ ہے کہ ان سب کو ثانیہ مختلف اور عجیب کیوں محسوس ہوئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ثانیہ خود کو انسان سمجھتی ہے، مرد کے برابر کا انسان۔ وہ بضد ہے کہ وہ معاشرے کے اسی سلوک اور طرز عمل کی مستحق ہے جو مرد کو ملتا ہے۔ ایک علیحدہ دائرے میں عورت کو رکھ کر کمتر اور کم عقل مخلوق سمجھے جانے کا لیبل اسے قبول نہیں۔ وہ ہر چیز کو گہری نظر سے

Read more

’لیبر روم میں ایک کیوی ہے‘

’سسٹر کیوی پلیز‘ ہاہ ہاہ ہاہ! ہم بری طرح ہانپ رہے تھے اور بچہ تھا کہ نکلنے کا نام نہ لے۔ یا اللہ، کیوں یہ انوکھا لاڈلا ضد پکڑے بیٹھا ہے؟ ہماری اسسٹنٹ کبھی مریض کا لٹکتا ہوا پیٹ اوپر اٹھاتی، کبھی پیٹ کو اوپر سے دباتی۔ ’سسٹر کیوی پلیز‘ ، ہم نے ہانپتے ہوئے کہا۔ سسٹر نے فوراً پلاسٹک کا بنا ہوا کیوی ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ دائیں ہاتھ سے بچے کے سر کو قابو کرتے ہوئے بائیں

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! پہلی قسط :

اگر انور سن رائے سے ہم مل نہ چکے ہوتے تو ہم سے دو غلطیاں ضرور سرزد ہو جاتیں۔ ایک ناول پڑھنے سے پہلے اور دوسری بعد میں۔

ذلتوں کے اسیر ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔

ایک ایسا ناول جس کا بنیادی کردار ایک ایسی عورت سے متاثر ہو کر بنایا گیا جو اپنے متعدد جنسی معاشقوں، شادیوں، بے راہ روی اور پراسرار موت کی وجہ سے آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ ایک ذلت آمیز زندگی گزار کر رخصت ہو جانے والی ہی تو ذلتوں کی اسیر تھی۔ پھر عنوان ذلتوں کے اسیر کیوں؟ کیا یہ کتابت کی غلطی ہے، طباعت کی یا انور سن رائے سے چوک ہو گئی؟ کیونکہ ناول کے نام کا صیغہ واحد نہیں۔

ناول پڑھ چکے تو خیال یہ آیا کہ اس ناول کا مصنف مرد نہیں ہو سکتا۔ آخر کوئی مرد فاحشہ سمجھی جانے والی عورت کے اندر بھڑکتی ہوئی آگ کو کیسے الفاظ کا روپ دے سکتا ہے؟ وہ کیسے جان سکتا ہے کہ وہ عورت زخموں سے چور، سسکیاں بھرتے ہوئے موت کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ جیسے جیسے موت کی آرزو شدید ہوتی ہے، زندگی ایک اور امتحان میں ڈال دیتی ہے۔

Read more

معجزوں والی سرکار اور چار درویش!

کبوتر اُڑا کیسے؟ شہزادے کا سوال۔ یوں۔ بند مٹھی کھول کر کبوتر اُڑاتے ہوئے جواب۔ اس ادا پہ شہزادہ مر مٹا۔ ہیروں کی داستان سن کر آپ سب نے پوچھا کہ دکھائیے تو وہ مال و متاع؟ سوچ میں پڑ گئے ہم کہ کیا کہیں؟ کیسے بتائیں کہ۔ ۔ ۔ واللہ اگر وہ ہیرے مٹھی میں ہوتے تو اسی ادا سے بتاتے کہ یہ۔ ۔ ۔ مگر نہ ہم نورجہاں اور نہ آپ شہزادہ سلیم۔ سو بہتر ہے صاف صاف

Read more

فاصلہ رکھ مگر پیار سے!

آپا کچھ ہے؟ امی کے پاس بیٹھی ہمسائی نے پوچھا۔
کچھ؟ کیا مطلب؟ امی حیران ہو کر بولیں۔
کوئی خوشخبری؟ وہ آنکھیں پھیلائے بیٹھی تھیں۔
کہاں؟ کس کو؟ اماں کی معصومیت عروج پہ تھی۔
ارے آپا، کیا بہو نہیں لائیں گھر میں؟
او ہاں اچھا۔ ناں بہن میں بہوؤں سے ایسی باتیں نہیں پوچھتی۔
کیوں بھلا؟

Read more

ماں شکریہ کہتی ہے!

مدرز ڈے پہ کیا لکھیں؟ ماں کی شفقت، مہربانی، پیار، ان تھک محنت، ایثار۔ سب اپنی تعریفیں؟ ان کے لیے کچھ نہیں جن کے طفیل ماں بنے؟

دوسری طرف ایک اور سوچ سرسراتی ہے۔ ہر وہ عورت جو ماں بنتی ہے، کیا بے غرض، بے لوث اور مہربان ہوتی ہے؟
شاید ہاں، شاید نہیں۔
انسانی فطرت کی کجی تو شخصیت کا حصہ ہے پھر ماں کیوں غلط نہیں ہو سکتی؟

Read more

کچھ ہوا کہ نہیں؟

آگ لگے اس ڈاکٹری کو جب ہماری کوئی بات ہی نہ سنے۔ پڑھایا لکھایا، بڑی ڈاکٹر بنایا کہ بھئی کم ازکم گھر والوں کو تو آرام ہو گا۔ اب کیا کہوں کہ یہ عالم کہ بی بی ساری دنیا کا درد اپنے جگر میں سمیٹ کر بیٹھی ہیں اور اپنے جائیں بھاڑ میں۔

کتنی بار کہا کہ بھئی مجھے تو آتی ہے شرم ایسی باتیں کرتے ہوئے۔ بیٹیوں سے کبھی نہیں پوچھا تو بہو کی کرید کیوں؟ بچی بے چاری، سوچے گی بڑھیا قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی اور شرم و حیا نام کو نہیں۔ سوال کرتی ہے کچھ ہوا کہ نہیں؟

ویسے تو بھیا یہ سب اللہ کے کام ہیں، ہم نے بڑی بہوؤں کو بھی نہیں پوچھا کبھی۔ منجھلی کی ایک ہی بیٹی رہی بہت عرصہ جم جم جیے۔ بارہ برس گزرے تب دوسری آئی۔ دو بیٹیاں۔ ماں باپ کی نور العین، بس اور کچھ نہیں چاہیے، کبھی نہیں کہا کہ بیٹا کیوں نہیں؟ بیٹی ہو یا بیٹا بس زندگی والے ہوں، نیک نصیب۔

Read more

چچا سام کا بھیجا ہوا کوٹ!

امی، دیکھیے میں آپ کے لیے کیسا زبردست کوٹ لے کر آئی ہوں۔ بیٹی سامان کھولے بیٹھی تھی۔
ہاتھ میں لش لش کرتا، قیمتی دکھتا کوٹ، واہ اتنا خوبصورت۔
پسند آیا؟
بہت۔ بہت۔
مما بہت گرم ہے پہن کر تو دیکھیں۔
پتہ ہے مجھے، امریکہ سے لائے ہوئے کوٹ بہت گرم اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
کیسے پتہ آپ کو؟
ارے بیٹا سارا بچپن گزرا یہی کوٹ پہنتے پہنتے۔
بچپن میں؟ وہ کیسے؟ تب کون تھا باہر؟
تھے ہمارے ایک چچا؟
کون سے چچا؟ آپ کے تو کوئی چچا تھے ہی نہیں۔

Read more

ابا اور منی آرڈر!

ٹھک ٹھک ٹھک۔ طاہرہ کاظمی۔

ہر ماہ کی تیسری تاریخ ایک مخصوص دستک کے ساتھ جب نام سنائی دیتا تو ہمارے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ چارپائی کے نیچے رکھی جوتی پہن کر دروازہ کھولتے تو بلاک کا چوکیدار کہہ رہا ہوتا، ڈاکیہ بلا رہا ہے جی آپ کو۔

بلاک کے دروازے سے داخل ہوتے ہی مین لابی تھی اور وزیٹر وہیں تک آ سکتے تھے۔ وزیٹر آ کر چوکیدار کو کمرہ نمبر اور لڑکی کا نام بتاتا اور چوکیدار کمرے تک جا کر اطلاع پہنچاتا۔

ڈاک آنے کا سلسلہ کچھ یوں تھا کہ ہر روز رنگا رنگ لفافوں کا انبار ہوسٹل تک پہنچتا۔ شہر شہر سے آئے ہوئے محبت نامے۔ ڈاکیہ لفافوں کی چھانٹی کرتا اور ہر بلاک کی ڈاک لابی میں پڑے ہوئے ایک بنچ پر رکھ جاتا۔ لڑکیاں جب کالج سے واپس آتیں، بے تابی سے بنچ کی طرف بڑھتیں۔ جس کسی کا نام نظر آتا وہ کھلکھلا کر لفافہ اٹھا لیتی۔ باقی چپ چاپ ڈائننگ روم کی راہ لیتیں۔

Read more

’ڈیوٹی ڈاکٹرز سے کہہ دیجیے مریضہ کی حالت دیکھ کر زیادہ شور نہ مچائیں‘

’آپ لوگ غلط سیزیرین کرتے ہیں، کمائی کے لیے‘ ، ایک ڈاکٹر دوست کا الزام۔

’نہیں ایسا نہیں ہے، سرکاری اسپتالوں میں تو صرف ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے لیکن پرائیویٹ اسپتالوں کا مفاد اور سہولیات کی کمی ایک علیحدہ مسئلہ ہے‘ ، ہمارا جواب۔

’یہ تو بہانے ہیں محض۔ ہمارے دوست کی بیگم کا اپنا اسپتال ہے اور ان کی پورے علاقے میں شہرت ہے کہ وہ نارمل ڈلیوری کرواتی ہیں اور شاذ و نادر ہی کسی کو سیزیرین کی ضرورت پڑتی ہے۔ لوگ دور دور سے ان کے اسپتال میں آتے ہیں‘ ۔

’کتنی ڈلیوریاں کرواتی ہیں وہ مہینے کی؟‘ ہم نے پوچھا۔

’تقریباً 400 سے 500۔ ‘
’اور ان میں سیزیرین کی شرح؟‘ ہمارا سوال۔
’تقریباً ایک فیصد۔‘ جواب۔

Read more

یوتھ کلب کے بھولے بھالے مردوں عرف بھیڑیوں کے نام ایک خط!

پیارے بھائیو۔ میرا مطلب ہے بھیڑیے بھائیو۔

یوتھ کلب کے نام سے بنائی ہوئی آپ کی ایک وڈیو نظر سے گزری، عنوان تھا، عورت کو دیکھ کر مرد پہ کیا اثر ہوتا ہے؟ وڈیو میں آپ سب قوم کی عورتوں کے غم میں بے حال ہو کر انہیں مردوں یعنی بھیڑیوں سے محفوظ رہنے کے لیے دانش و حکمت کا شربت پلا رہے تھے۔

” آپ سب نے وہ وڈیو دیکھی ہے نا پاور آف وژوول والی نا کہ مین کے اوپر کیا ایفکٹ ہوتا ہے وژوول آف وومن کا۔

یس یس۔
یہ والا کونسیپٹ ہمیں اپنی بہنوں کو بیٹیوں کو سب کو بتانا چاہیے۔
کاش سمجھ جائیں، کاش سمجھ جائیں۔
عورت نہیں سمجھ سکتی کہ آدمی کا ذہن کتنا گندا ہوتا ہے۔

ہمارا یہ کام ہے کہ اپنی بیٹیوں کو، بہنوں کو بیویوں کو بتائیں کہ یہ سب بھیڑیے ہیں سارے، انہیں یقین دلائیں۔

Read more

پانچ سو یا پانچ سو ایک؟

سمجھ نہیں آ رہا کس پہ بے اختیار اچھلیں؟ پانچ سو پہ  یا پانچ سو ایک پہ؟ ( گرچہ اچھلنا ہمیں شدید منع ہے کہ پچھلے برس ہی پاؤں کی ہڈی تڑوا کر کچھ سکون سے بیٹھے ہیں ) کسی زمانے میں جب دولہا دلہن کو سلامی دی جاتی تھی تو حساب کتاب کچھ یوں ہوتا تھا۔ ہمسائی انوری خالہ۔ اکیاون روپے لاہور والی پھوپھی۔ ایک سو ایک اسلم دوست۔ اکیس روپے بڑے ماموں۔ پانچ سو ایک ہم جو دولہا

Read more

میل شاؤنزم کی عینک اور himpathy!

ع کی شادی بیس برس کی عمر میں اپنے سے پندرہ برس بڑے شخص سے ہوئی جب وہ بی اے کی طالبہ تھی۔ اپنے گھر کو خیر باد کہنے اور شادی کی ذمہ داری لینے کے لیے وہ ذہنی طور پہ تیار نہیں تھی۔

ش کی شادی پندرہ برس کی عمر میں کر دی گئی۔ آئندہ پانچ برس میں وہ چار بچوں کی ماں بن گئی۔ ش نے اپنی زندگی کے بارے میں بہت سے منصوبے بنا رکھے تھے۔ وہ ان میں سے کسی پہ بھی عمل نہ کر سکی۔

ف کو کبھی بھی گھریلو زندگی اچھی نہیں لگتی تھی لیکن ماں باپ نے شادی طے کر دی اور بقیہ زندگی اسے شادی شدہ ہو کر گزارنا پڑی۔

ک کی شادی میٹرک کرنے سے پہلے ایک رنڈوے شخص جو کہ تین بچوں کا پہلے سے باپ تھا کر دی گئی کہ سوتیلی ماں اسے زیادہ عرصہ گھر نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔

Read more