جانے کیسا ”سال“ تھا، برسوں بیت گئے

نئے برس کی دستک سنائی دے رہی ہے اور گزرے ہوئے کی چاپ کسی رخصت ہوتے مسافر کے دور جاتے ہوئے قدموں کی طرح مدھم ہو رہی ہے۔ کچھ برسوں سے زندگی ایک ہی طرح سے گزرتی تھی۔ ہسپتال، مریض، گھر، بچے اور ماں۔ جانے کیسا برس تھا یہ کہ سب بدل گیا۔ آغاز ہوا…

Read more

سعودی عرب سے اچھی خبر: کلیوں سے پھول بننے تک تحفظ کا سائبان

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ہنسیں یا روئیں اور اس سمجھ، ناسمجھ میں ممکن ہے کہ کپڑے چاک کر کے جنگلوں کو نکل جائیں، نیرنگی زمانہ پہ غور کریں اور گنگنائیں، جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے اور اگر طبعیت میں انتشار کچھ زیادہ ہی ہو تو اس گیت کی گت…

Read more

بے نظیر بھٹو: “ہماری بیٹی کی ہم جماعت اور دوست…”

دبی دبی آہ اور کرب میں ڈوبے الفاظ!  ہمارے گھر میں یہ جملہ بہت بولا گیا اور سنا گیا۔ کہنے والے یا اخبار پڑھ رہے ہوتے یا ٹی وی دیکھ رہے ہوتے، آنکھ میں نمی ہوتی، لہجے میں اضطراب اور درد۔ یہ اس سے میرا پہلا تعارف تھا جو قلبی تعلق میں بدل گیا کہ…

Read more

آخر جنید حفیظ کے انجام سے افسردہ کیوں ہیں ہم سب؟

یہ تو ہونا ہی تھا! یہ تو نوشته دیوار تھا جو نظر آ رہا تھا۔ یہ نتیجہ تھا کئی برسوں پہ محیط کچھ عقل کل لوگوں کی کاوشوں کا جو ہم اور آپ جیسوں کو سبق سکھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ نفرت اور مذہبی انتہا پسندی کے جو بیج بوئے گئے تھے، ان کی…

Read more

پاکستانی عورت غاروں میں نہیں رہتی

سوا نیزے پہ سورج، لق و دق صحرا، ریتلی زمین کے بیچوں بیچ سیدھی چمکتی سڑک! ٹیکسی دوڑتی جا رہی تھی، ام کلثوم کی آواز اپنا جادو جگا رہی تھی، ڈرائیور جھوم رہا تھا اور وہ چار مسافر کسی بحث میں الجھے تھے۔ پچھلی نشست پر تین مرد اور ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پہ…

Read more

بنگلہ دیش کا یوم آزادی – ہمارے دل میں مگر تیرے غم کے داغ جلے

پیغام تھا یا نیزے کی انی جو جگر سے آرپار ہو گئی، آنکھ سے آنسو ٹپک پڑے! ہمارے ہسپتال میں بہت سے ممالک کے ڈاکٹر کام کرتے ہیں اور جب سے سوشل میڈیا کا چلن عام ہوا ہے، سب وایٹس ایپ پہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عید ہو یا دیوالی، رمضان ہو یا…

Read more

کیا ‘آپ سب’ سوچتے ہیں’ ہم سب’ کے بارے میں؟

'آپ سب' پاکستان میں رہنے والے اور 'ہم سب' پردیس میں بسنے والے! آپ سب کا خیال یہ ہے کہ ہم سب پاکستان سے باہر چین کی بنسی بجا رہے ہیں، ہر دن عید ہے اور ہر رات شب برات، سو ہمیں کسی کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر کسی کی جنم…

Read more

نوترے دیم کا کبڑا اور خواب کی تتلی

عمارتیں، میوزیم، مصوری، کتابیں،موسیقی، فلمیں! محفل گرم ہو تو گفتگو ان کےاردگرد ہی گھومتی ہے ہمارے یہاں۔ " اماں! معلوم ہے نا آپ کو، اس برس نوترے دیم کلیسا میں آگ لگی تھی۔ کیا خوبصورت عمارت ہے! مجھے یاد ہے آگ سے کچھ ہی ہفتے پہلے تو ہم وہاں گئے تھے۔ ہم نے سامنے بیٹھ…

Read more

کیا ضیاالحق بروٹس کا دوسرا جنم تھا؟

اگرچہ ہم تاریخ دان نہیں لیکن تاریخ پڑھنے کا شوق ضرور رکھتے ہیں اور بعض ااوقات انکشاف ہوتا ہے کہ گزری ہوئی تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتے مشہور عالم کردار کہیں نہ کہیں اپنے ارد گرد پھر سے دیکھنے کو مل جاتے ہیں ، پہچاننے کے لئے چشم بینا چاہیے بس! ہمیں سیزیرین ڈلیوری پہ…

Read more

سلیکون ویلی اور پیلی ٹیکسیاں

"اماں میں تو حیرت زدہ تھی! امریکہ کی ایک چھوٹی ریاست کا شہر، کمپنی کے تقریباً چار ہزار ملازمین اور ان میں سے نصف کا تعلق ہندوستان سے۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرت یہ کہ زیادہ تر کا تعلق چھوٹے شہروں سے، دور دراز کے علاقوں سے تھا۔ خواتین ابھی تک تیل چپڑے بالوں…

Read more